Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • پیپلز پارٹی نے ہمیشہ انسانی حقوق اور آزادی صحافت کے تحفظ کے لیے کام کیا ، بلاول بھٹو

    پیپلز پارٹی نے ہمیشہ انسانی حقوق اور آزادی صحافت کے تحفظ کے لیے کام کیا ، بلاول بھٹو

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے حال ہی میں ایک نجی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں شہید بےنظیر بھٹو کی یاد میں کیے گئے وعدوں پر قائم رہنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ انسانی حقوق اور آزادی صحافت کے تحفظ کے لیے کام کیا ہے اور ان حقوق کو حاصل کرنے میں پارٹی کا بڑا کردار رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی اور جے یو آئی نے مل کر تین نسلوں سے کامیاب آئین سازی میں اہم کردار ادا کیا ہے اور آئین کی حفاظت میں دونوں جماعتوں کا کردار یکساں ہے۔بلاول بھٹو نے چارٹر آف ڈیموکریسی کے وعدوں کا ذکر کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ ان وعدوں سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور پارٹی عوام کو فوری انصاف دلانے کے عزم پر قائم ہے۔ انہوں نے موجودہ عدالتی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر لوگوں کو اس نظام سے مطمئن نہیں ہیں تو آئینی عدالت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے حالیہ فیصلے کا بھی خیرمقدم کیا جس میں بھٹو کے خلاف عدالتی کارروائی کو یکطرفہ قرار دیا گیا۔
    چیئرمین پی پی نے عدلیہ کے موجودہ نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عدالتوں کے فیصلوں میں تاخیر کو ختم کرنا ہوگا۔ انہوں نے افتخار چوہدری اور دیگر ججز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کی شفافیت اور عوامی اعتماد کو بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ بلاول بھٹو نے یہ بھی تجویز دی کہ صوبائی سطح پر الگ آئینی عدالتیں بنائی جائیں تاکہ کیسوں کا جلد حل ممکن ہو سکے، اور اس کے لیے ہائی کورٹ ججز اور وکلا کی مشاورت ضروری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہر آمریت کے دور میں اہم کردار ادا کیا ہے اور ان کی جدوجہد کی بدولت جمہوریت بحال ہوئی۔ بلاول بھٹو نے اپنی پارٹی کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے انہیں منتخب کیا ہے اور وہ کسی قسم کی مصلحت پسندی کے بغیر اپنے عزم پر قائم ہیں۔

  • پارلیمنٹ کو قانون سازی سے قبل نہیں روکا جا سکتا: بیرسٹر علی ظفر کا موقف

    پارلیمنٹ کو قانون سازی سے قبل نہیں روکا جا سکتا: بیرسٹر علی ظفر کا موقف

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سینئر وکیل بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کو قانون سازی سے قبل کسی طور پر نہیں روکا جا سکتا، کیونکہ ایسا کرنے سے پارلیمانی نظام متاثر ہو سکتا ہے۔ یہ بیان انہوں نے ایک ٹی وی پروگرام میں دیا جہاں ان سے پوچھا گیا کہ آیا مجوزہ آئینی ترامیم کو پارلیمنٹ میں قانون سازی سے پہلے عدالتوں میں لے جا کر روکا جا سکتا ہے؟بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ "میری نظر میں آپ پارلیمنٹ میں قانون سازی کو قبل ازوقت نہیں روک سکتے، کیونکہ اگر ایسا کیا جائے گا تو ہمارا پورا پارلیمانی نظام ختم ہو جائے گا۔” ان کے مطابق پارلیمنٹ کو اپنے قانونی دائرے میں کام کرنے دیا جانا چاہیے تاکہ جمہوریت کا نظام بخوبی چلتا رہے۔
    اگرچہ سینئر وکلا کی جانب سے مجوزہ آئینی ترامیم کے خلاف عدالتوں میں درخواستیں دائر کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے، بیرسٹر علی ظفر کا موقف ہے کہ کسی کو عدالت سے رجوع کرنے سے روکا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے کہا، "آپ کسی کو یہ نہیں کہہ سکتے کہ آپ ٹرائی نہ کریں۔” ان کے مطابق، وکلا تحریک کو اپنا قانونی حق استعمال کرنے کا پورا حق ہے۔

    بیرسٹر علی ظفر نے ایک حالیہ مثال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے ایک قانون کے حوالے سے اسٹے آرڈر جاری کیا تھا کہ وہ قانون ابھی پارلیمنٹ میں پاس نہ کیا جائے۔ اس وقت وہ قانون بل کی شکل میں تھا اور ابھی تک منظور نہیں ہوا تھا، لیکن عدالت نے اس پر اسٹے لگا دیا تھا۔ ان کے مطابق، سپریم کورٹ کے حکم کی یہ ایک مثال ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ عدالت کی جانب سے قانون سازی کو پہلے سے روک دینا نظام جمہوریت کے لئے پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔اس موقع پر بیرسٹر علی ظفر نے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے چیف الیکشن کمشنر کو لکھے گئے خط کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایک خودمختار ادارہ ہے اور اسے اپنے فیصلے آئین اور قانون کے مطابق کرنا ہوتے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ "اسپیکر اگر کہتا ہے کہ آپ فیصلہ اس قانون کے مطابق کریں تو الیکشن کمشنر اس کے پابند نہیں ہیں، الیکشن کمشنر آئین پاکستان کے آرٹیکل 175 کے مطابق سپریم کورٹ کے حکم کا پابند ہے۔بیرسٹر علی ظفر نے اس بات پر زور دیا کہ سپریم کورٹ کے کسی بھی حکم پر ہر ادارے کو عمل کرنا ہوگا، چاہے وہ فیصلہ پسند آئے یا نہ آئے۔ انہوں نے کہا کہ "اگر سپریم کورٹ آف پاکستان کوئی آرڈر دے گا تو چاہے وہ اچھا لگے یا برا لگے، غلط ہو یا صحیح ہو، ہر ادارہ اس پر پابند ہے کہ اس پر عملدرآمد کرے۔”

    وکلا کی جانب سے آئینی ترامیم کی مخالفت کی تحریک زور پکڑ رہی ہے، اور اس تحریک کے آغاز کا بھی اعلان کر دیا گیا ہے۔ وکلا برادری کا کہنا ہے کہ "سیلاب باہر نکلے گا تو کوئی طاقت نہیں روک سکے گی۔” تاہم، بیرسٹر علی ظفر کا مؤقف ہے کہ آئینی ترامیم کے مسودے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے سے جمہوری نظام میں خلل آ سکتا ہے۔پارلیمنٹ اور عدالتوں کے بیچ جاری اس بحث نے ملکی سیاست اور قانونی معاملات میں ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے، اور دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں اس بحث کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔

  • مولانا طارق جمیل کا ہیئر ٹرانسپلانٹ: ویڈیو وائرل، مداحوں میں خوشی کی لہر

    مولانا طارق جمیل کا ہیئر ٹرانسپلانٹ: ویڈیو وائرل، مداحوں میں خوشی کی لہر

    پاکستان کے معروف مذہبی اسکالر اور شعلہ بیان مقرر مولانا طارق جمیل نے حالیہ دنوں میں ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے ہیئر ٹرانسپلانٹ کروایا ہے۔ مولانا کی اس ویڈیو نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا ہے اور ان کے مداحوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ مذکورہ ویڈیو میں مولانا طارق جمیل کو ایک کلینک میں دیکھا جاسکتا ہے، جہاں ان کے سر پر مختلف نشان بنائے جارہے ہیں۔ اس عمل سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ نشانات ہیئر ٹرانسپلانٹ کے ابتدائی مرحلے کا حصہ ہیں۔ 70 سالہ مولانا کے سر پر ڈاکٹر نشان لگا رہے ہیں، جیسے کہ بالوں کی پیوند کاری کی تیاری ہورہی ہو۔ویڈیو کے ایک حصے میں مولانا طارق جمیل کے سر پر ایک سفید پٹی اور نیلی سرجیکل کیپ بھی نظر آتی ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ طبی عمل سے گزر رہے ہیں۔ مولانا نے اس موقع پر اپنے چہرے پر مسکراہٹ رکھی ہوئی تھی، جس سے ان کی اطمینان کی کیفیت کا اظہار ہوتا ہے۔
    ویڈیو کا ایک اور دلچسپ پہلو مولانا طارق جمیل کے دستخط کا ہے۔ ویڈیو کے آخری حصے میں مولانا کو 100 روپے کے نوٹ پر اپنے دستخط کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ یہ نوٹ انہوں نے کلینک کے ڈاکٹر کو پیش کیا جو انتہائی عقیدت کے ساتھ دونوں ہاتھوں سے اسے وصول کرتے ہیں۔ مولانا کا یہ عمل ان کی سادگی اور عاجزی کا عکاس ہے، جسے دیکھ کر ان کے مداح بھی متاثر ہوئے۔ویڈیو میں کسی قسم کی کمنٹری یا تفصیلی وضاحت نہیں دی گئی، اور نہ ہی مولانا طارق جمیل نے اس حوالے سے اپنے فالوورز کو مزید معلومات فراہم کیں۔ تاہم، ویڈیو کا پیغام خود واضح تھا کہ مولانا نے ہیئر ٹرانسپلانٹ کا عمل مکمل کروا لیا ہے۔مولانا طارق جمیل کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوچکی ہے، اور ان کے فالوورز نے ان کی صحت اور ظاہری شخصیت میں بہتری پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ کچھ مداحوں نے مولانا کے اس قدم کو مثبت انداز میں لیا ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے خود کو بہتر بنانے کے لیے ایک عام طریقہ اپنایا ہے، جبکہ کچھ لوگوں نے ان کے دستخط والے نوٹ کے عمل کو ان کی عاجزی کا بہترین مظہر قرار دیا ہے۔
    مولانا طارق جمیل کی شخصیت کے کئی پہلو ہیں جو انہیں عوام میں مقبول بناتے ہیں۔ وہ نہ صرف ایک معتبر مذہبی اسکالر ہیں بلکہ عوامی حلقوں میں اپنی نرم گفتاری، سادگی اور عوامی خدمت کے جذبے کے باعث بھی جانے جاتے ہیں۔ ان کی تقاریر نے لاکھوں لوگوں کے دلوں کو چھوا ہے اور ان کے نصیحت آموز پیغامات معاشرتی اصلاح میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔مولانا طارق جمیل کی یہ ویڈیو ایک مرتبہ پھر اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ ان کی زندگی کے ہر پہلو کو عوامی دلچسپی حاصل ہوتی ہے، چاہے وہ مذہبی ہو یا ذاتی۔

  • گورنر پنجاب کا وزیر اعلیٰ کی جانب سے تجویز کردہ وائس چانسلرز کی تقرری پر اعتراض

    لاہور: گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے صوبے کی 14 یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کی تقرری کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے بھیجی گئی سمری پر اعتراض اٹھا دیا ہے۔ انہوں نے اس سمری میں تجویز کردہ ناموں پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے سرچ کمیٹی کی شفافیت پر سوالات اٹھائے ہیں۔گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ سرچ کمیٹی کی جانب سے تجویز کردہ کچھ ناموں کے خلاف کرپشن اور انتظامی بدعنوانیوں کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی جانب سے ہر یونیورسٹی کے لیے صرف ایک نام تجویز کیا گیا ہے، جبکہ اصولی طور پر ہر یونیورسٹی کے لیے تین نام بھیجے جانے چاہیے تھے۔ گورنر نے وضاحت کی کہ وزیر اعلیٰ کے پسندیدہ افراد کی تقرری پر زور دینا مناسب نہیں۔
    سردار سلیم حیدر کا کہنا تھا کہ سرچ کمیٹی کی ساکھ پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں، اور ان کے پاس اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ کمیٹی کی سلیکشن شفاف نہیں تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرچ کمیٹی کے عمل سے وہ مطمئن نہیں اور کئی وائس چانسلرز پر کرپشن اور ناقص منیجمنٹ کے الزامات ہیں، جس کے باعث ان کی تقرری پر اعتراضات ہیں۔اس تنازع کے باعث پنجاب کی یونیورسٹیوں میں مستقل وائس چانسلرز کی عدم تقرری کے باعث ملازمین کی تنخواہیں تاخیر کا شکار ہو رہی ہیں، جس سے تعلیمی معاملات مزید مشکلات کا شکار ہونے کا خدشہ ہے۔

  • پاکستان بار کونسل کا مجوزہ آئینی ترمیم کو خفیہ رکھنے پر شدید تشویش کا اظہار

    پاکستان بار کونسل کا مجوزہ آئینی ترمیم کو خفیہ رکھنے پر شدید تشویش کا اظہار

    پاکستان بار کونسل نے مجوزہ آئینی ترمیم کو خفیہ رکھنے اور اس کے منظوری کے لیے پارلیمنٹ کے اجلاس بلانے کے طریقہ کار پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی نے ایک اہم اجلاس کے بعد اعلامیہ جاری کیا جس میں اس معاملے پر حکومت کے اقدامات کو پارلیمانی روایات، اقدار اور قانون کی حکمرانی کے منافی قرار دیا گیا۔اعلامیہ کے مطابق بار کونسل نے آئینی ترمیم کے حوالے سے حکومت کی پالیسی اور اس کی منظوری کے عمل پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی ترمیم، جو کہ ملک کے قانونی اور آئینی ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب کرسکتی ہے، اسے اس طرح خفیہ نہیں رکھا جانا چاہیے۔ عوامی نمائندگان کو اس معاملے پر مکمل معلومات فراہم کی جانی چاہئیں تاکہ وہ اپنی رائے آزادانہ اور دانشمندانہ طریقے سے دے سکیں۔
    اجلاس کے دوران 26 ویں مجوزہ آئینی ترمیم کا شق وار جائزہ لیا گیا۔ بار کونسل نے مجوزہ آئینی مسودے پر کئی سوالات اٹھائے اور اسے مزید گہرائی سے دیکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ بار کونسل کے مطابق آئینی ترمیم جیسے حساس معاملات کو تمام متعلقہ فریقوں کی شمولیت اور مکمل شفافیت کے ساتھ انجام دیا جانا چاہیے، تاکہ ملک کے جمہوری عمل اور آئینی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔پاکستان بار کونسل نے مزید کہا کہ مجوزہ آئینی ترمیم کے حوالے سے دوبارہ اجلاس 25 ستمبر کو ہوگا، جس میں ترمیم کی تجاویز کا مزید تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ بار کونسل نے واضح کیا کہ یہ ترمیم بڑی اہمیت کی حامل ہے اور اس کے قانونی و آئینی پہلوؤں کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ اس حوالے سے بار کونسل حکومت سے مزید وضاحت اور شفافیت کا مطالبہ کرے گی۔
    بار کونسل کا موقف ہے کہ مجوزہ ترمیم کے اطراف میں خفیہ رویہ جمہوری اقدار اور پارلیمانی عمل کے خلاف ہے، اور اسے اس طریقے سے آگے نہیں بڑھایا جانا چاہیے۔ آئینی ترمیمات کو خفیہ رکھنے سے عوامی اعتماد مجروح ہوسکتا ہے اور ملک میں قانون کی حکمرانی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔بار کونسل نے اس معاملے کو قومی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ آئینی ترمیمات کے معاملے میں مکمل شفافیت اختیار کرے اور پارلیمانی عمل کے ذریعے اس کی منظوری کو یقینی بنائے۔

  • قومی اسمبلی کی کمیٹی کو آئی ایم ایف پروگرام پر ان کیمرہ بریفنگ، وزیر خزانہ نے اہم حقائق سے آگاہ کیا

    قومی اسمبلی کی کمیٹی کو آئی ایم ایف پروگرام پر ان کیمرہ بریفنگ، وزیر خزانہ نے اہم حقائق سے آگاہ کیا

    اسلام آباد: انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام سے متعلق اہم بریفنگ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو ان کیمرہ دی گئی۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کمیٹی کے اراکین کو آئی ایم ایف پروگرام کی موجودہ صورتحال اور شرائط سے تفصیلی آگاہ کیا۔ذرائع کے مطابق، وزیر خزانہ نے کمیٹی کو بتایا کہ دوست ممالک نے آئی ایم ایف کو پاکستان کے قرضوں کے رول اوور کی یقین دہانی کرائی ہے، جس کے نتیجے میں آئی ایم ایف مطمئن ہوا ہے۔ ان یقین دہانیوں کے بعد آئی ایم ایف نے اپنے اجلاس کی تیاری شروع کی ہے، جس میں پاکستان کے لیے مزید مالی مدد کی تفصیلات زیر غور آئیں گی۔
    وزیر خزانہ کے مطابق، آئی ایم ایف پاکستان کو قرض کی ساری رقم یکمشت نہیں دے گا بلکہ یہ رقم اقساط میں فراہم کی جائے گی، اور ہر قسط کی ادائیگی کے لیے مخصوص شرائط کو پورا کرنا لازم ہوگا۔ ان شرائط میں سب سے اہم پاور سیکٹر کی اصلاحات ہیں، جو کہ حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔وزیر خزانہ نے انکشاف کیا کہ پاکستان کو اپنی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے 12 ارب ڈالر کی ضرورت ہے، جبکہ آئی ایم ایف کے ساتھ موجودہ پروگرام 7 ارب ڈالر کا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کو 5 ارب ڈالر اضافی فنانسنگ کی ضرورت ہوگی تاکہ دیگر عالمی مالیاتی اداروں سے مدد حاصل کی جا سکے۔
    ذرائع کے مطابق، سعودی عرب پاکستان کو آئل فیسیلیٹی کے تحت 1.2 ارب ڈالر فراہم کرے گا، جس کی شرح سود طے کی جا رہی ہے۔ آئی ایم ایف بھی عالمی مالیاتی اداروں سے 5 ارب ڈالر کی اضافی فنڈنگ کے حصول میں پاکستان کی مدد کرے گا۔یہ بریفنگ اس وقت دی گئی جب ملک معاشی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے اور حکومت کی کوشش ہے کہ وہ عالمی مالیاتی اداروں اور دوست ممالک کے ساتھ مل کر مالی مشکلات پر قابو پائے۔ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت کی جانے والی اصلاحات کا تعلق بجلی کے شعبے سمیت دیگر معاشی ڈھانچوں کی بہتری سے ہے، جو کہ ملک کی مجموعی مالی صحت پر براہ راست اثر ڈالیں گی۔

  • خواجہ آصف کے بیان پر بی جے پی آگ بگولا ، کانگریس پر بھارت مخالف قوتوں کا ساتھ دینے کا الزام

    خواجہ آصف کے بیان پر بی جے پی آگ بگولا ، کانگریس پر بھارت مخالف قوتوں کا ساتھ دینے کا الزام

    نئی دہلی – بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے وزیر دفاع خواجہ آصف کے حالیہ بیان پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے، جس میں خواجہ آصف نے کہا تھا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 اور 35 اے کی بحالی کے بارے میں پاکستان اور نیشنل کانفرنس کانگریس اتحاد ایک پیج پر ہیں۔ اس بیان کے بعد بھارتی حکومت اور بی جے پی کے عہدیداروں نے خواجہ آصف کی تنقید کرتے ہوئے کانگریس پارٹی کو بھارت مخالف قوتوں کا ساتھی قرار دیا ہے۔بی جے پی کے یونین منسٹر امیت شاہ نے خواجہ آصف کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس ہمیشہ بھارت مخالف قوتوں کے دستانے میں رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے ہمیشہ بھارتی فوج کے خلاف باتیں کی ہیں اور سرجیکل اسٹرائیک کے ثبوت مانگنے کا معاملہ ہو یا راہول گاندھی کی باتیں، ان کا لہجہ ہمیشہ پاکستان کے ساتھ ہم آہنگ رہا ہے۔ امیت شاہ نے مزید کہا کہ کشمیر میں آرٹیکل 370 یا دہشت گردی دوبارہ نہیں آئے گی، اور بھارتی حکومت کسی بھی قسم کی ایسی کارروائی کو برداشت نہیں کرے گی۔

    بی جے پی کے عہدیدار امیت مالویا نے بھی اس معاملے پر اپنا موقف پیش کیا، اور کہا کہ راہول گاندھی اور ان کی جماعت ہمیشہ بھارت مخالف بیانیے کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کا موقف ہے کہ بھارت کی داخلی اور خارجی پالیسیوں پر کسی بھی قسم کی غیر ملکی اثراندازیاں برداشت نہیں کی جائیں گی۔ دوسری جانب، پی ٹی آئی نے بھی اس مجوزہ آئینی ترمیم پر اپنی رضامندی کا اظہار کیا ہے، جو کہ خواجہ آصف نے اپنے بیان میں ذکر کی تھی۔ پی ٹی آئی کی طرف سے اس مسئلے پر مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں، لیکن پارٹی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ اس مسئلے پر بات چیت اور مشاورت میں شامل ہے۔وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیان پر بی جے پی اور بھارتی حکومت کی جانب سے شدید ردعمل کے بعد سیاسی ماحول میں مزید تناؤ پیدا ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے کانگریس اور راہول گاندھی کو بھارت مخالف قرار دیتے ہوئے ان کے موقف پر سخت اعتراض کیا ہے۔ دوسری طرف، پی ٹی آئی نے مجوزہ آئینی ترمیم پر اپنی رضامندی کا اظہار کیا ہے، جس سے اس مسئلے پر مزید تبصرے اور ترقی کی توقع کی جا رہی ہے۔

  • دو مالی سالوں میں 5 لاکھ 40 ہزار کلوگرام/لیٹرز منشیات ضبط، 3654 گرفتار

    دو مالی سالوں میں 5 لاکھ 40 ہزار کلوگرام/لیٹرز منشیات ضبط، 3654 گرفتار

    سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے منتقلی اختیارات کا اجلاس، جس کی صدارت سینیٹر زرقا سہروردی تیمور نے کی، میں انسداد منشیات سے متعلق اہم بریفنگ پیش کی گئی۔ اس بریفنگ میں دو مالی سالوں 2022-23 اور 2023-24 کے دوران ملک میں ضبط کی جانے والی منشیات اور گرفتار کیے گئے ملزمان کی تفصیلات پیش کی گئیں۔
    وزارت انسداد منشیات کے افسران نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ مالی سال 2022-23 کے دوران منشیات کے 1645 کیسز درج کیے گئے جن میں 1563 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ بریفنگ کے مطابق اس دوران مجموعی طور پر ایک لاکھ 53 ہزار 373 کلوگرام یا لیٹرز منشیات ضبط کی گئی، جس میں مختلف اقسام کی منشیات شامل تھیں۔ اس سال میں 57 غیر ملکیوں کو بھی گرفتار کیا گیا جو منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث پائے گئے۔

    وزارت کے حکام نے بتایا کہ مالی سال 2023-24 کے دوران منشیات کے کیسز میں واضح اضافہ دیکھا گیا۔ اس سال 2128 کیسز میں 2091 ملزمان کو گرفتار کیا گیا، جن میں 71 غیر ملکی شامل تھے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس عرصے میں مجموعی طور پر تین لاکھ 86 ہزار 649 کلوگرام یا لیٹرز منشیات ضبط کی گئی۔ یہ واضح کرتا ہے کہ اس سال منشیات کی روک تھام کے لیے کارروائیاں اور گرفتاریوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔وزارت انسداد منشیات کے افسران نے کمیٹی کو منشیات کے خلاف جاری کارروائیوں کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ منشیات کی اسمگلنگ اور استعمال کے خلاف سخت کارروائیاں کی جا رہی ہیں، جن میں نہ صرف مقامی بلکہ بین الاقوامی مجرموں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس دوران متعدد آپریشنز کے نتیجے میں بھاری مقدار میں منشیات ضبط کی گئی اور اسمگلنگ کے بڑے نیٹ ورکس کو ناکام بنایا گیا۔

    سینیٹر زرقا سہروردی تیمور نے بریفنگ کے بعد وزارت کو منشیات کی روک تھام کے لیے مزید سخت اقدامات کرنے کی ہدایت کی اور اس مسئلے پر زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنانے پر زور دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ منشیات کی اسمگلنگ اور استعمال سے نہ صرف ملک کی معیشت بلکہ معاشرتی اور خاندانی نظام پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں، اس لیے اس مسئلے کے حل کے لیے سخت قوانین اور مؤثر عملدرآمد کی ضرورت ہے۔یہ اجلاس وزارت انسداد منشیات کی کارکردگی کا جائزہ لینے اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے اہم ثابت ہوا۔ کمیٹی کے اراکین نے وزارت کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے مزید بہتر اقدامات اور عالمی سطح پر تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

  • پی ٹی سی ایل کے گروپ ہیڈ ایچ آر شعیب بیگ کی اچانک برطرفی: کیا وجہ بنی؟

    پی ٹی سی ایل کے گروپ ہیڈ ایچ آر شعیب بیگ کی اچانک برطرفی: کیا وجہ بنی؟

    اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) نے اپنے گروپ ہیڈ ہیومن ریسورسز، شعیب بیگ کو اچانک برطرف کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل کیا گیا ہے، اور اس نے ٹیلی کمیونیکیشن انڈسٹری میں ہلچل مچا دی ہے۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ کافی غور و خوض کے بعد کیا گیا، لیکن شعیب بیگ کی برطرفی کی وجوہات پر پردہ ڈالا گیا ہے۔پی ٹی سی ایل کے صدر کے جاری کردہ بیان کے مطابق، "کمپنی نے یہ فیصلہ بہترین کارکردگی اور معیارات کو برقرار رکھنے کی غرض سے کیا ہے، جو کہ کمپنی کی پالیسی اور مستقبل کی ترقی کے لیے اہم ہیں۔” تاہم، اس بیان میں برطرفی کے اصل محرکات کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔
    شعیب بیگ کی برطرفی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پی ٹی سی ایل خود کو ایک نازک دور سے گزار رہی ہے۔ کمپنی اپنے آپریشنز کو ہموار کرنے اور اپنے صارفین کو بہتر خدمات فراہم کرنے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ اس وقت برطرفی نے نہ صرف کمپنی کے اندرونی حلقوں میں بے چینی پیدا کی ہے بلکہ انڈسٹری کے ماہرین میں بھی قیاس آرائیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ٹیلی کمیونیکیشن سیکٹر میں ماہرین نے اس اقدام کو حیران کن قرار دیا ہے۔ کئی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ شعیب بیگ کی اچانک برطرفی پی ٹی سی ایل کی قیادت میں تبدیلی کی علامت ہو سکتی ہے، جس کے اثرات کمپنی کی پالیسی اور حکمت عملی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
    شعیب بیگ کی برطرفی نے ٹیلی کمیونیکیشن انڈسٹری میں کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ کئی حلقے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ یہ فیصلہ کیوں کیا گیا اور اس کے پیچھے کیا محرکات ہو سکتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ پی ٹی سی ایل کو حالیہ برسوں میں مالیاتی مشکلات اور سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑا ہے، اور یہ برطرفی ممکنہ طور پر ان مشکلات سے نمٹنے کی ایک کوشش ہو سکتی ہے۔
    پی ٹی سی ایل، جو پاکستان کی سب سے بڑی اور معروف ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے، کو حالیہ برسوں میں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان مشکلات میں آمدنی میں کمی اور مارکیٹ میں نئے داخل ہونے والوں کی جانب سے سخت مقابلہ شامل ہے۔ ان حالات میں، پی ٹی سی ایل نے اپنی حکمت عملی کو ازسر نو ترتیب دینے کی کوشش کی ہے، جس میں ڈیجیٹل تبدیلی، سروسز کی بہتری اور تنظیمی تبدیلیاں شامل ہیں۔کمپنی کے ترجمان نے کہا، "پی ٹی سی ایل پیشہ ورانہ مہارت اور دیانتداری کے اعلیٰ ترین معیار کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ اس برطرفی کا مقصد کمپنی کو مضبوط اور مستحکم کرنا ہے تاکہ صارفین کو بہتر خدمات فراہم کی جا سکیں۔
    شعیب بیگ کی برطرفی کے بعد یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا پی ٹی سی ایل اپنی قیادت میں مزید تبدیلیاں لانے کا ارادہ رکھتی ہے؟ کیا کمپنی کی موجودہ قیادت ان مشکلات سے نمٹنے کے لیے تیار ہے؟ اور کیا یہ اقدام کمپنی کی مجموعی حکمت عملی کا حصہ ہے؟ ان سوالات کے جوابات آنے والے وقت میں سامنے آئیں گے۔

    رپورٹ: زبیر قصوری، اسلام آباد

  • خیبرپختونخوا صوبائی اسمبلی کے اراکین اور افسران کا پارلیمنٹ کا دورہ، سپیکر ایاز صادق سے ملاقات

    خیبرپختونخوا صوبائی اسمبلی کے اراکین اور افسران کا پارلیمنٹ کا دورہ، سپیکر ایاز صادق سے ملاقات

    اسلام آباد: خیبرپختونخوا صوبائی اسمبلی کے اراکین اور افسران نے حالیہ دنوں میں پارلیمنٹ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے اہم ملاقات کی۔ اس موقع پر سردار ایاز صادق نے اراکین کو پارلیمانی امور میں مہارت حاصل کرنے کی اہمیت پر زور دیا، جو جمہوریت کی مضبوطی اور عوامی خدمت کے لیے ناگزیر ہے۔سپیکر قومی اسمبلی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پارلیمانی عمل میں تربیت یافتہ اور مہارت رکھنے والے اراکین اسمبلی جمہوریت کے استحکام اور عوامی خدمت میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اراکین کو پارلیمانی طریقہ کار اور مختلف پہلوؤں سے واقفیت حاصل کرنی چاہیے تاکہ وہ اپنے حلقوں کی بہترین خدمت کر سکیں اور وفاقی و صوبائی اسمبلیوں کے درمیان مضبوط روابط قائم ہوں۔
    سردار ایاز صادق نے اس موقع پر "چارٹر آف پارلیمنٹ” کے حوالے سے بات کی، جس کا مقصد تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات کے باوجود ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر اتحاد قائم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر کسی کی بے توقیری نہیں ہونی چاہئے اور تمام اداروں کو آپس میں عزت اور احترام کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ قومی اسمبلی نے خواتین کی ترقی، پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs)، اور دیگر اہم اقدامات کے ذریعے جو رہنما اصول مرتب کیے ہیں، وہ دوسری صوبائی اسمبلیوں کے لیے بھی ایک مثال بن سکتے ہیں۔ اس موقع پر خیبرپختونخوا کے اراکین اسمبلی نے سپیکر قومی اسمبلی کی موجودہ سیاسی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔
    خیبرپختونخوا صوبائی اسمبلی کے 20 سے زائد اراکین پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پارلیمنٹری سروسز (PIPS) کی جانب سے منعقد کردہ تین روزہ تربیتی ورکشاپ میں شرکت کے لیے اسلام آباد میں موجود تھے۔ اس تربیتی سیشن کا مقصد اراکین کو ہاؤس اینڈ کمیٹی بزنس کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنا اور انہیں پارلیمانی عمل میں مزید مہارت دلانا تھا۔پارلیمنٹ کے اس دورے کے دوران اراکین کو قومی اسمبلی کے لیگل ایڈوائزر نے پارلیمنٹ کے طریقہ کار، ہاؤس اینڈ کمیٹی بزنس اور دیگر متعلقہ امور پر تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں اراکین کو قانون سازی کے عمل، کمیٹیوں کی تشکیل، اور پارلیمانی قواعد و ضوابط کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔سردار ایاز صادق نے کہا کہ اس طرح کی ورکشاپس اور تربیتی سیشنز اراکین اسمبلی کے لیے اہم موقع فراہم کرتے ہیں کہ وہ قومی اسمبلی اور دیگر صوبائی اسمبلیوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنائیں، جس سے وفاق اور صوبوں کے درمیان تعلقات میں مزید بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے درمیان ورکنگ ریلیشنز کو مضبوط بنانے سے ملک میں جمہوریت کو فروغ ملے گا۔
    ملاقات کے دوران خیبرپختونخوا کے اراکین اسمبلی نے سردار ایاز صادق کی حالیہ سیاسی کشیدگی کو کم کرنے کی کاوشوں کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی کا کردار حالیہ سیاسی بحران میں پل کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے قابل ستائش ہے، اور ان کی قیادت میں پارلیمان نے ایک بار پھر اپنی حیثیت کو بحال کرنے کی کوشش کی ہے۔ملاقات کے اختتام پر خیبرپختونخوا کے اراکین نے امید ظاہر کی کہ اس طرح کی ورکشاپس اور پارلیمانی دورے مستقبل میں بھی جاری رہیں گے تاکہ اراکین اسمبلی کو مزید مہارت حاصل ہو اور وہ اپنے آئینی کردار کو بہترین طریقے سے ادا کر سکیں۔یہ دورہ اس بات کا عکاس ہے کہ پارلیمانی ادارے وفاق اور صوبوں کے درمیان بہترین تعلقات اور جمہوریت کی مضبوطی کے لیے مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں۔