Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • سعودی وزیر خارجہ عرب اسلامی وزارتی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے لیے عمان پہنچ گئے

    سعودی وزیر خارجہ عرب اسلامی وزارتی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے لیے عمان پہنچ گئے

    سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان عرب اسلامی وزارتی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے لیے عمان پہنچ گئے ہیں۔ اجلاس کا مقصد غزہ تنازع کے حل کے لیے جامع حکمت عملی تیار کرنا اور تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لینا ہے۔عرب میڈیا کے مطابق، اجلاس میں شہزادہ فیصل بن فرحان نے غزہ کی موجودہ صورت حال پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "تمام فریقین کو اپنی کوششوں کو دُگنا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس انسانی بحران کا مؤثر حل تلاش کیا جا سکے۔” انہوں نے مزید کہا کہ علاقائی استحکام کے لیے بین الاقوامی برادری کی مشترکہ کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔اردنی وزیر خارجہ ایمن صفادی نے اجلاس کے دوران اسرائیل کی جانب سے مشرق وسطیٰ کو علاقائی تنازعات کی طرف دھکیلنے پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ "دو ریاستی حل کے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا۔” ان کا کہنا تھا کہ جاری بحران کا مؤثر حل تلاش کرنے کے لیے تمام فریقین کو سنجیدہ کوششیں کرنی ہوں گی۔
    اجلاس میں غزہ کی تازہ ترین صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا، اور جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کوششوں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی رواں ماہ نیویارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں مشترکہ پالیسی پر بھی گفتگو کی جائے گی تاکہ عالمی سطح پر ایک ہم آہنگ حکمت عملی مرتب کی جا سکے۔اجلاس میں فلسطین، اردن، مصر، قطر اور ترکیہ کے نمائندے بھی موجود ہیں، جو اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ تمام متعلقہ فریقین کی آواز سنی جائے اور عالمی سطح پر مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔ یہ اجلاس غزہ کی صورتحال کے حوالے سے بین الاقوامی برادری کی مشترکہ کوششوں کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے اور امن کے قیام کے لیے ایک متحدہ حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔

  • پاکستانی ایئرلائنز کی یورپ میں بحالی کے امکانات: نومبر میں فیصلہ متوقع

    پاکستانی ایئرلائنز کی یورپ میں بحالی کے امکانات: نومبر میں فیصلہ متوقع

    پاکستانی ایئرلائنز کی یورپی ممالک میں پروازوں کی بحالی کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ یورپی حکام نے پاکستان کے کیس کو میرٹ کی بنیاد پر دیکھتے ہوئے بحالی کا فیصلہ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ حالیہ آن لائن اجلاس میں پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) اور یورپی ایوی ایشن حکام کے مابین تبادلۂ خیال ہوا، جس میں پاکستان کے ڈی جی سی اے اے نادر شفیع ڈار سمیت مختلف شعبہ جات کے ڈائریکٹرز نے شرکت کی۔اجلاس میں سی اے اے حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے یورپی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی (EASA) کی طرف سے عائد پابندیوں کو ختم کرنے کے لیے ضروری ریگولیٹری اصلاحات مکمل کر لی ہیں۔ حکام کے مطابق، پائلٹس لائسنسنگ کے شعبے میں امتحانات کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے مکمل اپ گریڈ کیا گیا ہے، جبکہ فلائٹ اسٹینڈرڈ اور ایئروردینیس (Airworthiness) کے شعبہ جات میں انسپکٹرز کی تعداد کو یورپی یونین کے معیار کے مطابق بڑھایا گیا ہے تاکہ ایئر لائنز کی نگرانی اور معیارات پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔
    اجلاس کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستان میں ایوی ایشن سسٹم کی مزید بہتری کے لیے پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی اور سول ایوی ایشن کے ریگولیٹری شعبہ جات کو مؤثر بنایا جا چکا ہے۔ ان اصلاحات کے نتیجے میں سی اے اے حکام نے یورپی ایوی ایشن اداروں سے درخواست کی کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) سمیت تمام پاکستانی ایئرلائنز پر گزشتہ چار سال سے عائد پابندی کو ختم کیا جائے۔یورپی ایوی ایشن حکام کی جانب سے اجلاس میں واضح کیا گیا کہ یورپی ایئر سیفٹی کمیٹی کا اجلاس نومبر میں ہوگا، جس میں پاکستانی ایئرلائنز کی بحالی کا جائزہ لیا جائے گا۔ یورپی حکام نے یہ بھی کہا کہ پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کو نومبر کے اجلاس سے قبل تمام ریگولیٹری اقدامات مکمل کرنے چاہئیں تاکہ بحالی کے عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔پاکستانی ایئرلائنز کی بحالی کے لیے یہ اجلاس اہمیت کا حامل ہے، کیوں کہ یورپی ممالک میں پروازوں کی معطلی کی وجہ سے پاکستانی ایئرلائنز کو شدید مالی نقصان کا سامنا رہا ہے۔ اگر یورپی ایوی ایشن ایجنسی نومبر میں پاکستانی ایئرلائنز کی بحالی کا فیصلہ کرتی ہے، تو یہ نہ صرف ملکی معیشت کے لیے مثبت خبر ہوگی بلکہ پی آئی اے اور دیگر ایئرلائنز کے لیے بھی ایک نئی امید کی کرن ثابت ہوگی۔

  • ایرانی سفیر کی خواجہ آصف سے ملاقات: دوطرفہ تعلقات اور سرحدی انتظامات پر تبادلہ خیال

    ایرانی سفیر کی خواجہ آصف سے ملاقات: دوطرفہ تعلقات اور سرحدی انتظامات پر تبادلہ خیال

    اسلام آباد: اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر ڈاکٹر رضا امیری مغادم نے آج وزیر دفاع، دفاعی پیداوار اور ہوابازی خواجہ محمد آصف سے اہم ملاقات کی۔ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعاون اور مختلف امور پر تفصیلی گفتگو کی۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس موقع پر پاکستان اور ایران کے درمیان صدیوں پرانے مذہبی اور ثقافتی روابط کو اجاگر کیا، اور دونوں ممالک کے خوشگوار اور برادرانہ تعلقات کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تعلقات نہ صرف تاریخ کے پیچھے ہیں بلکہ موجودہ دور میں بھی مضبوط اور مستحکم ہیں۔
    خواجہ آصف نے مشترکہ سرحدی کمیشن کی اہمیت کو بھی نمایاں کیا، اور بتایا کہ پاکستان نے بارڈر مینجمنٹ کے حوالے سے تمام ضروری اقدامات مکمل کر لیے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کو اس معاملے پر مشترکہ کوششیں جاری رکھنی چاہئیں تاکہ سرحدی انتظامات کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ملاقات کے دوران، دونوں فریقین نے دوطرفہ تعاون کی موجودہ سطح پر اطمینان کا اظہار کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ مشترکہ دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے اقدامات کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔اس ملاقات نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط کرنے اور مشترکہ چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے ایک نئے عزم کو اجاگر کیا۔

  • اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی  اگست 2024ء کی بیرونی ادائیگیوں سے متعلق رپورٹ جاری

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی اگست 2024ء کی بیرونی ادائیگیوں سے متعلق رپورٹ جاری

    کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے ماہ اگست 2024ء کے بیرونی ادائیگیوں کے اعداد و شمار پیش کر دیے ہیں، جن سے واضح ہوتا ہے کہ ملک کی تجارتی صورتحال میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، اگست میں پاکستان نے دنیا بھر سے 4 ارب 71 کروڑ ڈالرز کی اشیاء خریدیں جبکہ اس عرصے میں عالمی منڈی کو 2 ارب 48 کروڑ ڈالرز کی اشیاء فروخت کی گئیں۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کا تجارتی خسارہ اگست میں 2 اعشاریہ 22 ارب ڈالرز رہا، جو کہ ملکی معیشت کے لیے ایک اہم چیلنج پیش کرتا ہے۔
    ایس بی پی کے اعداد و شمار کے مطابق، اگست میں تجارت، خدمات، اور آمدن کے خسارے کا مجموعہ 3 اعشاریہ 02 ارب ڈالرز رہا، جو کہ اقتصادی توازن کے حوالے سے تشویش کا باعث ہے۔ دوسری جانب، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے اس دوران 2 اعشاریہ 94 ارب ڈالرز کی ترسیلات زر بھیجیں، جو کہ ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت سگنل ہے۔ اس کے علاوہ، پاکستان کو ماہ اگست میں 15 کروڑ ڈالرز کی دیگر رقوم بھی موصول ہوئیں، جو ملک کی مالی حالت میں مددگار ثابت ہوئی ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق، اگست میں ادائیگیوں اور وصولیوں کے بعد پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 7 اعشاریہ 5 کروڑ ڈالرز کا سرپلس رہا۔ اس کے ساتھ ہی، آئی ٹی برآمدات جولائی کے مقابلے میں 4 فیصد اضافہ کے ساتھ 29 اعشاریہ 80 کروڑ ڈالرز تک پہنچ گئیں، جو کہ ملک کی ٹیکنالوجی اور آئی ٹی سیکٹر کی ترقی کی نشاندہی کرتی ہیں۔
    رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ رواں مالی سال کے ابتدائی دو ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 17 اعشاریہ 10 کروڑ ڈالرز رہا، جو کہ مالی سال کی ابتدائی مدت میں معیشت کی حالت کو بیان کرتا ہے۔ایس بی پی کے اعداد و شمار ملکی معاشی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں اور آنے والے مہینوں میں مالی حکمت عملی کے لیے اہم اشارے فراہم کرتے ہیں۔

  • پاکستانی بحریہ کا خلیج عمان میں "ٹیلون گرپ” آپریشن میں حصہ

    پاکستانی بحریہ کا خلیج عمان میں "ٹیلون گرپ” آپریشن میں حصہ

    پاک بحریہ کے جنگی جہاز پی این ایس شمشیر نے خلیج عمان میں علاقائی میری ٹائم سیکیورٹی پٹرول کے دوران آپریشن "ٹیلون گرپ” میں شرکت کی ہے۔ اس آپریشن میں شراکت دار اور دوست ممالک کے ساتھ مشترکہ مشقوں کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد دوستی اور ہم آہنگی کو فروغ دینا اور خطے میں مشترکہ آپریشنز کی صلاحیت کا مظاہرہ کرنا تھا۔
    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، پی این ایس شمشیر نے برطانیہ کی رائل نیوی کے جہاز ایچ ایم ایس لنکاسٹر کے ساتھ مشقیں کیں۔ اس مشق میں دونوں بحری افواج کے درمیان ہم آہنگی اور باہمی تعاون کو بہتر بنانے پر زور دیا گیا۔پاک بحریہ بحر ہند میں قومی اور بین الاقوامی سمندری راستوں کی نگرانی اور انسداد بحری قزاقی اور انسداد منشیات کے لیے کمبائنڈ میری ٹائم فورسز کے تحت سرگرم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، پاکستانی بحریہ خطے میں سیکیورٹی کی موجودگی برقرار رکھنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

  • فاروق ایچ نائیک نے آئینی عدالتوں کے قیام پر زور دیا

    فاروق ایچ نائیک نے آئینی عدالتوں کے قیام پر زور دیا

    اسلام آباد میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے زیراہتمام اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما فاروق ایچ نائیک نے آئینی عدالتوں کے قیام کی اہمیت پر زور دیا اور مغربی جمہوریتوں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں آئینی عدالتیں موجود ہیں جو جمہوریت کی مضبوطی کے لیے ضروری ہیں۔فاروق ایچ نائیک نے اپنے خطاب میں کہا کہ "ہمیں چاہیے کہ ایک اچھا پروپوزل پیش کریں۔ چارٹر آف ڈیموکریسی میں لکھا گیا تھا کہ آئینی عدالتیں ہونی چاہئیں۔ یہ چارٹر نواز شریف اور محترمہ شہید نے دستخط کیے تھے۔” انہوں نے مزید کہا کہ "حکومت اپنا ڈرافٹ پیش کرے، اور ہم ایک کمیٹی بنا دیتے ہیں جو اس پر غور کرے۔”
    انہوں نے مغربی جمہوریتوں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ "جتنی بھی مغربی جمہوریتیں ہیں، وہاں آئینی عدالتیں موجود ہیں۔ ہمیں اس اچھی چیز کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ 1973 میں آئین میں متفقہ طور پر ترمیم ہوئی تھی، اور اب بھی وقت کی ضرورت ہے کہ آئینی عدالت قائم کی جائے۔فاروق ایچ نائیک نے مزید کہا کہ "آئینی عدالت وقت کی ضرورت ہے۔ مصر اور انڈونیشیا میں بھی آئینی عدالتیں موجود ہیں، اور ان کی موجودگی جمہوریت کی مضبوطی کے لیے اہم ہے۔اس اجلاس میں فاروق ایچ نائیک نے آئینی عدالتوں کے قیام کے لیے ایک متفقہ اور جامع پروپوزل پر زور دیتے ہوئے یہ بات بھی کہی کہ اس سے ملک میں عدلیہ کی مضبوطی اور انصاف کی فراہمی میں بہتری آئے گی۔

  • صدر مملکت سے مقبوضہ کشمیر کے مہاجرین کی ملاقات، بھارتی انتخابات مسترد

    صدر مملکت سے مقبوضہ کشمیر کے مہاجرین کی ملاقات، بھارتی انتخابات مسترد

    اسلام آباد: صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مہاجرین کے ایک وفد نے ایوان صدر میں ملاقات کی۔ اس ملاقات میں صدرِ مملکت نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتخابات کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کا نعم البدل نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کشمیری عوام کے لیے ایسے انتخابات ناقابلِ قبول ہیں اور عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ مودی حکومت کو مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر جوابدہ ٹھہرائے۔صدر آصف زرداری نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیر میں استصوابِ رائے کے انعقاد کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے اسمبلی انتخابات دراصل بھارت کی غیر قانونی قبضے کو مستحکم کرنے کی ایک حکمت عملی کا حصہ ہیں اور اس طرح کے اقدامات کسی صورت میں بھی جموں و کشمیر پر بھارتی قبضے کو قانونی حیثیت نہیں دے سکتے۔وفد نے صدر کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں مودی حکومت کے مظالم سے بھی آگاہ کیا اور بتایا کہ کس طرح سے کشمیری عوام کی آواز کو دبایا جا رہا ہے۔ کشمیری قیادت کو جیلوں میں قید و بند کا سامنا ہے اور بھارت کی جانب سے ظلم و ستم کے نئے حربے اپنائے جا رہے ہیں۔
    اس موقع پر صدرِ مملکت نے واضح کیا کہ پاکستان کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے حصول تک ان کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کو ان کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا اور پاکستان ہر سطح پر ان کی آواز بنے گا۔ وفد نے آزاد جموں و کشمیر میں مقیم مہاجرین کے مسائل پر بھی صدر کو آگاہ کیا۔ اس دوران صدر زرداری نے یقین دلایا کہ آزاد جموں و کشمیر کی حکومت کو مہاجرین کی مالی امداد بڑھانے اور ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کہا جائے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 8 ہزار مہاجر خاندانوں کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے ریلیف فراہم کیا جائے گا تاکہ ان کی معاشی مشکلات کا کچھ ازالہ ہو سکے۔صدر آصف علی زرداری کی جانب سے کشمیری عوام کی حمایت کا یہ عزم اس بات کا عکاس ہے کہ پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہے اور ان کے حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے کسی بھی سطح پر پیچھے نہیں ہٹے گا۔ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور غیر قانونی اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے عالمی برادری سے بھی اپیل کی کہ وہ اس معاملے پر خاموش نہ رہے اور بھارت کو کشمیریوں پر ظلم و ستم کے لیے جوابدہ ٹھہرائے۔

  • وزیراعظم شہباز شریف نے برطانوی بادشاہ کی دعوت پر دولت مشترکہ اجلاس میں شرکت کی تصدیق کر دی

    وزیراعظم شہباز شریف نے برطانوی بادشاہ کی دعوت پر دولت مشترکہ اجلاس میں شرکت کی تصدیق کر دی

    اسلام آباد: وزیرِاعظم پاکستان شہباز شریف نے برطانوی بادشاہ چارلس سوم کی دعوت پر اکتوبر میں ہونے والے دولت مشترکہ اجلاس میں شرکت کی تصدیق کر دی ہے۔ بادشاہ چارلس سوم نے وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے انہیں دولت مشترکہ کے اس اہم اجلاس میں شرکت کی دعوت دی تھی، جو وزیراعظم نے بخوشی قبول کرلی۔اس موقع پر دونوں رہنماؤں کے درمیان دوستانہ اور خوشگوار گفتگو ہوئی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بادشاہ چارلس سوم کی صحت کے بارے میں دریافت کیا اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ برطانوی بادشاہ نے وزیراعظم کی خیریت پوچھنے اور انکی شرکت پر شکریہ ادا کیا۔
    وزیراعظم نے گفتگو کے دوران دولت مشترکہ کے چارٹر پر پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ پاکستان عالمی اداروں اور اتحادوں کے اصولوں اور اقدار پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دولت مشترکہ کے رکن ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات کو فروغ دینا ضروری ہے تاکہ عالمی چیلنجز سے بہتر طور پر نمٹا جا سکے۔دولت مشترکہ اجلاس اکتوبر میں متوقع ہے، جہاں عالمی اور علاقائی مسائل پر غور و خوض کیا جائے گا۔ اس اجلاس میں شہباز شریف کی شرکت سے پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے، جس سے پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات میں مزید مضبوطی کی امید کی جا رہی ہے۔وزیراعظم کا یہ دورہ برطانیہ کی جانب سے پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی ایک علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، سفارتی اور سیاسی تعاون میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

  • آئینی ترامیم پر وسیع تر اتفاق رائے کی کوشش ہو رہی ہے،عطاء تارڑ

    آئینی ترامیم پر وسیع تر اتفاق رائے کی کوشش ہو رہی ہے،عطاء تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے ایک میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں سپریم کورٹ اور آئینی عدالت علیحدہ نہیں ہیں، اور یہاں ایسے مقدمات بھی زیر التواء ہیں جن کا فیصلہ ابھی تک نہیں ہوسکا، جیسے 9 مئی کے واقعات کے مقدمات۔ انہوں نے بین الاقوامی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ میں ہونے والے واقعات کے تمام ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا گیا، لیکن پاکستان میں ابھی تک ان مقدمات کا فیصلہ نہیں ہوا۔
    عطاء تارڑ نے آئینی ترامیم کے حوالے سے کہا کہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئینی ترامیم کا مسودہ تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے پاس موجود تھا، جن میں جے یو آئی اور پیپلز پارٹی بھی شامل ہیں، اور ان ترامیم پر وسیع تر اتفاق رائے کی کوشش جاری ہے۔عطاء تارڑ نے اس تاثر کی تردید کی کہ آئینی ترامیم کا مسودہ مشکوک بنایا جارہا ہے اور کہا کہ اس سلسلے کو آگے بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن کے کردار پر قیاس آرائیوں سے گریز کرنا چاہیے اور سیاسی جماعتوں کے درمیان ایک تازہ مسودہ بھی تیار کیا گیا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ہزاروں مقدمات زیر التواء ہیں اور 9 مئی کے مقدمات پر سیاست کی جارہی ہے۔ انہوں نے این آر او کے حوالے سے وضاحت کی کہ کسی کو این آر او نہیں دیا جارہا اور یہ دعویٰ کہ ‘ہمارے لیڈر کو چھوڑو’ حقیقت میں این آر او مانگنے کے مترادف ہے، جو حکومت دینے کے لیے تیار نہیں۔

  • امریکہ نے لبنان میں پیجر دھماکوں پر ردعمل ظاہر کر دیا

    امریکہ نے لبنان میں پیجر دھماکوں پر ردعمل ظاہر کر دیا

    امریکہ نے لبنان میں حزب اللّٰہ کے ارکان کے پیجر ڈیوائسز میں دھماکوں سے متعلق معلومات اکٹھی کرنے کی تصدیق کی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان، میتھیو ملر، نے کہا ہے کہ امریکہ ان دھماکوں میں براہ راست ملوث نہیں ہے اور نہ ہی اس بارے میں کوئی رائے قائم کی ہے کہ ان دھماکوں کے پیچھے کون ہو سکتا ہے۔ترجمان نے مزید کہا کہ امریکہ اسرائیل اور حزب اللّٰہ کے درمیان تنازع کا سفارتی حل چاہتا ہے اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھانے والے کسی بھی اقدام کو تشویش کے ساتھ دیکھتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ لبنان میں پیجر دھماکوں کا غزہ جنگ بندی مذاکرات پر کس حد تک اثر پڑے گا، اس بارے میں پیشگوئی کرنا ابھی قبل از وقت ہے۔ میتھو ملر نے ایران کو انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کسی بھی واقعے کا فائدہ اٹھا کر عدم استحکام بڑھانے کی کوشش نہ کرے۔