Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • پی ٹی آئی کے پروپیگنڈا نگار وں  رائن گریم اور مرتضیٰ حسین کی نئی جھوٹی کہانی

    پی ٹی آئی کے پروپیگنڈا نگار وں رائن گریم اور مرتضیٰ حسین کی نئی جھوٹی کہانی

    پی ٹی آئی کے وفادار اور آپریشن گولڈ اسمتھ کے سرغنہ امریکہ میں، رائن گریم اور مرتضیٰ حسین ایک بار پھر جھوٹی پروپیگنڈا پر مبنی تحریر کے ذریعے بے نقاب ہو گئے۔ انہوں نے حال ہی میں ایک نیا جعلی ویب پیج "ڈراپ سائٹ” کے نام سے بنایا ہے، جس پر مضحکہ خیز جھوٹ پھیلایا گیا ہے۔ یہ دونوں اپنے پرانے پلیٹ فارم "انٹرسیپٹ” سے نکالے جانے کے بعد اس نئے پلیٹ فارم پر جھوٹی خبریں پھیلا رہے ہیں۔

    یہ دونوں پروپیگنڈا نگار، جن کا تعلق پی ٹی آئی اور گولڈ اسمتھ سے ہے، کئی بار اپنی بے بنیاد اور گمراہ کن خبروں کے ذریعے بے نقاب ہو چکے ہیں۔ ان کی حالیہ تحریر میں بھی، جو کہ اوپن سورس انفارمیشن پر مبنی ہے، عوام کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کی گئی ہے۔ یہ حقائق کو اس انداز میں توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں جو عوام کے سامنے پہلے ہی موجود ہیں اور سرکاری پریس ریلیزز، آف دی ریکارڈ گفتگو اور مختلف ذرائع کی جانب سے وضاحت کے ساتھ بیان کیے جا چکے ہیں۔
    murtaza hussain
    حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ دونوں پروپیگنڈا نگار پھر ایک بار دستاویزی ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہے اور اپنی تحریر میں دعویٰ کیا کہ ان کے پاس "دستاویزات موجود ہیں”، جو کہ کسی بھی جگہ نظر نہیں آتیں۔انتہائی ناقص اور بُری طرح سے لکھی گئی اس تحریر میں اُن باتوں کو دہرا دیا گیا ہے جو اس وقت ہوئی تھیں جب ان کے محبوب قائد عمران خان پاکستان کے وزیر اعظم تھے۔ حیران کن طور پر، ان دو نام نہاد مصنفین کی طرف سے دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان نے اپنے میزائلوں کی رینج کم کر دی ہے اور گوادر کو چین کا بحری اڈہ بنایا جا رہا ہے۔ ان دعوؤں کو پہلے ہی حکومت پاکستان کی جانب سے سختی سے مسترد کیا جا چکا ہے۔

    یہ تمام صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ یہ دونوں پیڈ ٹاؤٹس نے صرف اوپن سورس معلومات سے اقتباسات اکٹھے کر کے ایک فضول تحریر تیار کی ہے، جسے پڑھ کر قارئین کو ہنسی آئے گی۔

  • کوئٹہ : 2 سالہ بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق

    کوئٹہ : 2 سالہ بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق

    پاکستان میں پولیو وائرس کے پھیلاؤ میں تشویشناک اضافہ ہو رہا ہے۔ قومی ادارہ صحت (NIH) کی انسداد پولیو لیبارٹری نے کوئٹہ سے پولیو کے ایک اور کیس کی تصدیق کر دی ہے، جو رواں سال کا 18واں پولیو کیس ہے۔ نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (EOC) کے مطابق، یہ کیس بلوچستان میں رپورٹ ہونے والا 13واں پولیو کیس ہے اور کوئٹہ سے اس سال کا دوسرا کیس ہے۔انسداد پولیو لیبارٹری کی رپورٹ کے مطابق، 2 سالہ بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ اس کیس کی تصدیق کے بعد، وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسداد پولیو عائشہ رضا فاروق نے اس صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے بعض علاقوں میں پولیو مہمات میں خلل نے وائرس کے پھیلاؤ کو موقع فراہم کیا ہے۔
    عائشہ رضا فاروق نے مزید کہا کہ پولیو وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کوششوں کو دگنا کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیو ویکسین کی متعدد خوراکیں ہر بچے تک پہنچانا بے حد ضروری ہے تاکہ بچوں کو پولیو جیسے موذی مرض سے محفوظ رکھا جا سکے۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے پانچ سال تک کے بچوں کی ویکسینیشن کو یقینی بنائیں اور انسداد پولیو مہم میں بھرپور تعاون کریں۔یہ صورتحال پولیو کے خلاف جاری مہم کے لیے ایک چیلنج بن چکی ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ وہ ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں تاکہ اس موذی مرض کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے اور پاکستان کو پولیو سے پاک کیا جا سکے۔

  • وزیراعظم شہباز شریف کی برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ سے اسلام آباد میں ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف کی برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ سے اسلام آباد میں ملاقات

    اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ سے اسلام آباد میں ایک اہم ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر زور دیا گیا۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دیرینہ اور تاریخی روابط کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کی قیادت کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دونوں ملکوں کے تعلقات کو مزید وسعت دی جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے ذریعے تعلقات میں مزید بہتری لائی جا سکتی ہے۔وزیراعظم نے اس موقع پر حکومت کی ترجیحات پر بھی روشنی ڈالی، خاص طور پر ملک کو درپیش معاشی چیلنجز کے تناظر میں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے تجارت اور سرمایہ کاری، موسمیاتی تبدیلی، سماجی روابط، اور باہمی دلچسپی کے علاقائی اور کثیر الجہتی امور پر ہم آہنگی اور تعاون کی ضرورت ہے۔
    شہباز شریف نے مزید کہا کہ برطانیہ میں مقیم لاکھوں پاکستانی دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے ایک پل کا کردار ادا کرتے ہیں اور ان کا کردار دونوں ممالک کے بہتر تعلقات میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔اس ملاقات میں وزیراعظم نے برطانوی بادشاہ چارلس سوم کے لیے نیک خواہشات کا بھی اظہار کیا۔ برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے برطانوی حکومت کی جانب سے پاکستان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ برطانیہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، سماجی، اور سیاسی تعاون کو فروغ دینے کی راہ ہموار کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔

  • بجلی کی قیمتوں میں معمولی ریلیف کی توقع: سی پی پی اے کی نیپرا میں درخواست

    بجلی کی قیمتوں میں معمولی ریلیف کی توقع: سی پی پی اے کی نیپرا میں درخواست

    اسلام آباد: صارفین کو بجلی کی قیمتوں میں معمولی ریلیف ملنے کا امکان ہے۔ سی پی پی اے (سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی) نے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں کمی کی درخواست نیپرا (قومی توانائی کی تنظیم) میں دائر کر دی ہے۔ درخواست کے مطابق، اگست کے ماہانہ فیول چارج ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کے تحت بجلی کی قیمت میں 57 پیسے کی کمی کی توقع ہے۔سی پی پی اے نے نیپرا سے درخواست کی ہے کہ وہ بجلی کی قیمتوں میں کمی کی منظوری دے تاکہ صارفین کو ماہانہ بجلی کے بلوں میں ریلیف مل سکے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اگست کے دوران فیول کی قیمتوں میں کمی اور دیگر عوامل کے پیش نظر یہ کمیشن کی جانے والی ایڈجسٹمنٹ کی تجویز ہے۔
    نیپرا اتھارٹی اس درخواست پر 26 ستمبر کو سماعت کرے گی۔ سماعت کے دوران مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا اور عوامی مفاد میں فیصلہ کیا جائے گا۔ فیصلے کے بعد، سی پی پی اے کی درخواست پر عمل درآمد کرتے ہوئے بجلی کی قیمتوں میں ممکنہ کمی کی جائے گی، جو صارفین کی مالی حالت پر مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔بجلی کی قیمتوں میں کمی کا یہ فیصلہ اگر نافذ ہوتا ہے تو یہ عوامی بجلی کے بلوں میں مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، اور صارفین کو کچھ مالی آرام فراہم کر سکتا ہے۔

  • اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اسرائیلی قبضے کے خلاف قرار داد منظور کرلی

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اسرائیلی قبضے کے خلاف قرار داد منظور کرلی

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اسرائیلی قبضے اور جاری جارحیت کے خلاف ایک اہم قرار داد منظور کی ہے، جس میں 124 ممالک نے اس کی حمایت کی اور 14 ممالک نے مخالفت کی۔ قرار داد میں اسرائیل سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کو اپنی جارحیت بند کرتے ہوئے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کو خالی کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی عالمی قوانین کی پاسداری یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
    یہ قرار داد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی طرف سے ایک واضح پیغام ہے کہ بین الاقوامی برادری اسرائیلی قبضے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر گہری تشویش میں مبتلا ہے۔ جنرل اسمبلی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اسرائیل کو اپنے اقدامات میں فوری تبدیلی لانی چاہیے اور فلسطینی عوام کے حقوق کا احترام کرنا چاہیے۔یہ قرارداد عالمی سطح پر ایک بڑے سیاسی پیغام کے طور پر دیکھی جا رہی ہے اور اس سے اسرائیل پر بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اسرائیل اس قرارداد کا کس طرح جواب دیتا ہے اور عالمی برادری کی طرف سے دیے گئے اس پیغام پر کس حد تک عمل درآمد ہوتا ہے۔

  • آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے روسی نائب وزیراعظم کی اہم ملاقات، دفاعی تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال

    آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے روسی نائب وزیراعظم کی اہم ملاقات، دفاعی تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال

    پاک فوج کے سربراہ جنرل سیّد عاصم منیر سے روس کے نائب وزیراعظم نے اہم ملاقات کی ہے، جس میں دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے، دفاعی تعاون میں اضافے اور علاقائی سلامتی سے متعلق اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان تاریخی دفاعی تعلقات کو مزید وسعت دینے اور نئی جہتوں میں تعاون بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہے.پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، آرمی چیف اور روسی نائب وزیراعظم کی ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، خاص طور پر سیکیورٹی اور دفاع کے شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر زور دیا گیا۔ ملاقات کے دوران علاقائی سلامتی کے مسائل، خاص طور پر افغانستان اور وسطی ایشیائی خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال پر بھی گفتگو کی گئی۔ملاقات میں آرمی چیف جنرل سیّد عاصم منیر نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان روس کے ساتھ اپنے روایتی دفاعی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔ جنرل عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان دفاعی تعاون کئی دہائیوں پر محیط ہے اور موجودہ حالات میں اس تعاون کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔آرمی چیف نے خطے میں سیکیورٹی اور امن کے فروغ کے لیے دونوں ممالک کے درمیان مزید قریبی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان روس کے ساتھ نہ صرف دفاعی، بلکہ معاشی اور تکنیکی شعبوں میں بھی تعلقات کو وسعت دینے کا خواہاں ہے۔
    روسی نائب وزیراعظم نے اس موقع پر دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی مسلح افواج کی قربانیوں اور خطے میں امن و استحکام کے لیے ان کی انتھک کوششوں کی بھرپور تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے خطے میں دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ایک کلیدی کردار ادا کیا ہے اور اس کی مسلح افواج کی کوششیں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ہیں۔روس کے نائب وزیراعظم نے کہا کہ ان کے ملک کو پاکستان کے ساتھ دفاعی اور سیکیورٹی تعاون میں مزید اضافے کی خواہش ہے، اور روس پاکستان کو اس خطے میں ایک اہم پارٹنر کے طور پر دیکھتا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے ملاقات میں مستقبل میں دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے اور مشترکہ فوجی مشقوں کے انعقاد پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ملاقات کے دوران دونوں جانب سے علاقائی سلامتی، خاص طور پر جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کی سیکیورٹی صورتحال پر بھی تفصیلی بات چیت کی گئی۔ افغانستان کی موجودہ صورتحال اور اس کے اثرات پر بھی غور کیا گیا، اور دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے قریبی تعاون جاری رکھا جائے گا۔دونوں ممالک نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عالمی سطح پر تیزی سے بدلتے ہوئے حالات کے تناظر میں مشترکہ طور پر دفاعی اور سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرنے کی ضرورت ہے۔ روس اور پاکستان نے علاقائی امن کے فروغ کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانے اور دیگر شعبوں میں بھی دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔
    آئی ایس پی آر کے مطابق، اس ملاقات میں سیکیورٹی اور دفاعی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کا عزم کیا گیا اور دونوں جانب سے مشترکہ مفادات کے حصول کے لیے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان دفاعی شعبے میں تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کرتی ہے۔اس ملاقات کو پاک-روس تعلقات میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو دونوں ممالک کے دفاعی اور سیکیورٹی تعلقات کو ایک نئی جہت فراہم کرے گی۔

  • مولانا فضل الرحمان کے ساتھ راستے جدا نہیں، تعاون کا عزم برقرار ہے ، خواجہ آصف

    مولانا فضل الرحمان کے ساتھ راستے جدا نہیں، تعاون کا عزم برقرار ہے ، خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو اور وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی آئینی ترامیم کے حوالے سے مولانا فضل الرحمان سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ خواجہ آصف کے مطابق بلاول بھٹو اور محسن نقوی ایک ہی ڈرافٹ کے ساتھ مولانا فضل الرحمان سے ملے ہیں، اور اس معاملے پر حکومتی جماعتیں ایک پیج پر ہیں۔خواجہ آصف نے ایک بیان میں کہا، "بلاول سے ہماری روزانہ کی بنیاد پر ملاقات ہو رہی ہے اور ہم سب کا ہدف ایک متفقہ آئینی مسودہ تیار کرنا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ہمارے راستے جدا نہیں ہیں، بلکہ ہم نے ماضی میں بھی مل کر کام کیا ہے اور آئندہ بھی سیاسی امور میں تعاون جاری رہے گا۔”

    یاد رہے کہ مولانا فضل الرحمان نے بدھ کے روز پی ٹی آئی رہنماؤں سے ملاقات کے بعد آئینی ترامیم کے مسودے کو مسترد کر دیا تھا۔ اس کے بعد محسن نقوی کی سربراہی میں ایک حکومتی وفد فوری طور پر مولانا کے گھر پہنچا اور مختصر ملاقات کی۔خواجہ آصف نے مولانا فضل الرحمان کے ساتھ اپنے قریبی تعلق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مولانا ایک زیرک سیاست دان ہیں اور وہ یقین رکھتے ہیں کہ موجودہ آئینی بحران کا حل تلاش کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی گنجائش ضرور نکلے گی۔مزید بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ میثاق جمہوریت پر بانی پی ٹی آئی نے بھی دستخط کیے تھے اور دنیا بھر کی جمہوری ریاستوں میں آئینی عدالتوں کا وجود ہوتا ہے۔ تاہم، پاکستان میں عدالتوں پر بڑھتا ہوا بوجھ ایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے اور 27 لاکھ کیسز تاخیر کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی ترجیحات میں عوام کو انصاف کی فراہمی اور کیسز کے جلد حل کے لیے موثر اقدامات کرنا شامل ہیں۔حکومت کی جانب سے اس وقت آئینی ترامیم اور قانونی اصلاحات کے حوالے سے کوششیں جاری ہیں تاکہ جمہوریت کو مضبوط کیا جا سکے اور عدلیہ کے مسائل کو حل کیا جا سکے۔

  • پاکستانی چاول کی برآمدات میں تاریخی اضافہ، 3.88 بلین ڈالر کا سنگِ میل عبور

    پاکستانی چاول کی برآمدات میں تاریخی اضافہ، 3.88 بلین ڈالر کا سنگِ میل عبور

    اسلام آباد: پاکستان کے چاول کے شعبے نے اپنی تاریخ میں پہلی بار برآمدات کے شعبے میں ایک تاریخی سنگِ میل عبور کیا ہے، جس نے مالی سال 2023-24 کے دوران 3.88 بلین ڈالر کی برآمدات حاصل کیں۔ اس نمایاں کامیابی کے ساتھ، چاول کی برآمدات میں 78 فیصد کا حیرت انگیز اضافہ ہوا ہے، جو نہ صرف ملکی زرِمبادلہ میں اضافہ کا سبب بنا بلکہ عالمی مارکیٹ میں پاکستان کی اہمیت کو بھی مزید مستحکم کیا۔پاکستان چاول ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق، مالی سال 2023-24 کے دوران چاول کی عالمی مانگ میں اضافے اور پاکستانی چاول کی معیار کی بڑھتی ہوئی شہرت نے برآمدات میں اس زبردست اضافہ کو ممکن بنایا۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں پاکستانی چاول، خاص طور پر باسمتی چاول، اپنی خوشبو، ذائقہ اور معیاری خصوصیات کی وجہ سے ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔
    مالی سال 2023-24 کے دوران عالمی سطح پر غذائی اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور کچھ ممالک میں پیداوار میں کمی کے سبب پاکستانی چاول کی برآمدات میں خاصا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس اضافے کی بڑی وجوہات میں چین، مشرق وسطیٰ، یورپی ممالک اور افریقی خطوں میں بڑھتی ہوئی مانگ شامل ہیں۔پاکستان چاول ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے نمائندے کا کہنا تھا کہ چاول کی برآمدات میں یہ اضافہ حکومت کی بہتر پالیسی سازی، کسانوں کی محنت، اور برآمداتی عمل میں جدید تکنیکوں کے استعمال کی بدولت ممکن ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ کامیابی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ اگر مناسب پالیسیاں اور سہولیات فراہم کی جائیں تو پاکستانی زراعت عالمی منڈی میں مزید کامیابیاں حاصل کر سکتی ہے۔
    چاول کی برآمدات میں ہونے والے اس غیر معمولی اضافے نے پاکستانی معیشت کے لیے ایک اہم تقویت فراہم کی ہے، جو کہ زرعی شعبے کا ایک اہم جزو ہے۔ مالی ماہرین کے مطابق، چاول کی برآمدات میں 78 فیصد اضافہ پاکستان کے زرِمبادلہ ذخائر میں اہم اضافہ کا سبب بنا اور تجارتی خسارے کو کم کرنے میں مدد فراہم کی۔یہ کامیابی پاکستان کے زرعی شعبے کے لئے ایک مثبت پیغام ہے، جہاں اب تک مختلف شعبوں میں مشکلات کا سامنا تھا۔ چاول کی برآمدات میں اس ترقی کے بعد امکان ہے کہ دیگر زرعی اجناس کی برآمدات کو بھی فروغ دیا جا سکے گا۔
    چاول کے برآمد کنندگان اور حکومت اب اس کامیابی کو مزید مستحکم کرنے کے لیے آگے بڑھنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ پاکستان کی چاول ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے چاول کی پیداوار میں مزید اضافے اور معیاری چاول کے فروغ کے لیے اقدامات اٹھانے پر زور دیا ہے تاکہ پاکستان عالمی منڈی میں اپنی پوزیشن کو مزید مستحکم کر سکے۔حکومتی ذرائع کے مطابق، اگلے مالی سال کے دوران چاول کی برآمدات کے نئے اہداف طے کیے جا رہے ہیں، جس میں برآمدات کو 4 بلین ڈالر سے زیادہ تک لے جانے کی کوشش کی جائے گی۔ اس کے لئے کسانوں کی مدد، زرعی تحقیق و ترقی، اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اہم کردار ادا کریں گے۔پاکستان کی چاول کی برآمدات میں اس تاریخی کامیابی نے ملکی زرعی شعبے کے لئے نئے مواقع اور امکانات کے دروازے کھول دیے ہیں، جو مستقبل میں مزید کامیابیوں کا باعث بن سکتے ہیں۔

  • اسلام آباد ہائی کورٹ نے سلمان اکرم راجہ کو حفاظتی ریلیف فراہم کیا

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سلمان اکرم راجہ کو حفاظتی ریلیف فراہم کیا

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما سلمان اکرم راجا ایڈووکیٹ کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے اہم ریلیف ملا ہے۔ عدالت عالیہ اسلام آباد نے سلمان اکرم راجہ کو کل تک کسی بھی مقدمے میں گرفتار کرنے سے روک دیا ہے۔عدالت نے کیس کی سماعت کو کل تک ملتوی کرتے ہوئے سیکریٹری داخلہ سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کیا ہے اور ان سے جواب طلب کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے سلمان اکرم راجہ کے خلاف درج تمام مقدمات کا ریکارڈ طلب کیا ہے اور پی ٹی آئی رہنما کی درخواست پر اٹھائے گئے اعتراضات کو دور کر دیا ہے۔
    درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ سلمان اکرم راجہ کو کل لاہور میں گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور ان کے خلاف گرفتار ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے عدالت سے حفاظتی ضمانت دینے کی درخواست کی اور کہا کہ انہیں یہ معلوم نہیں کہ کس مقدمے میں سلمان اکرم راجہ کو گرفتار کیا جائے گا، لہذا مقدمے کی تفصیلات طلب کی جائیں۔جسٹس حسن اورنگزیب نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مقدمات کی تفصیلات صرف سیکریٹری داخلہ کے ذریعے طلب کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے سلمان اکرم راجہ کی گرفتاری کو روکنے کے حکم کا اعلان کیا، لیکن یہ عمل درآمد صرف اسلام آباد کی حدود تک ہوگا۔یہ فیصلہ پی ٹی آئی کے رہنما کے لیے ایک بڑی قانونی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو کہ حالیہ دنوں میں سیاسی اور قانونی چالوں کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

  • نائب  وزیراعظم پاکستان  کی روسی ہم منصب  سے تاریخی ملاقات: اقتصادی، توانائی، اور بین الاقوامی تعاون پر  اتفاق

    نائب وزیراعظم پاکستان کی روسی ہم منصب سے تاریخی ملاقات: اقتصادی، توانائی، اور بین الاقوامی تعاون پر اتفاق

    اسلام آباد – پاکستان اور روس کے درمیان تاریخی اور دوستانہ تعلقات ایک نئے موڑ پر پہنچ چکے ہیں، جس کی واضح مثال روسی نائب وزیراعظم الیکسی اوورچک کا حالیہ دورہ پاکستان ہے۔ اس اہم دورے میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ، تجارتی و اقتصادی تعاون، توانائی کے شعبے میں شراکت داری، اور باہمی منسلکی کے امکانات پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔روسی نائب وزیراعظم الیکسی اوورچک اپنے وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچے، جہاں ان کا پرتپاک استقبال نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کیا۔ وزارت خارجہ میں ہونے والی اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے نہ صرف اقتصادی اور تجارتی تعلقات پر گفتگو کی بلکہ توانائی، ریلوے، باہمی منسلکی اور بین الاقوامی تعاون کے متعدد شعبوں پر بھی بات چیت کی۔اس ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس بھی کی جس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات تاریخی ہیں اور ان کا سفر کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ہم نے آج گہری دوستانہ بات چیت کی جس میں اقتصادی تعاون کے فروغ پر خاص توجہ دی گئی۔ تجارت، معیشت، ثقافت، توانائی، اور باہمی منسلکی سمیت متعدد شعبوں پر گفتگو ہوئی۔”

    توانائی کے شعبے میں تعاون کے نئے امکانات
    پاکستان اور روس کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون ایک اہم موضوع رہا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ "ہم توانائی کے شعبے میں تعاون کی نئی راہیں تلاش کر رہے ہیں اور رواں برس جولائی میں وزیراعظم کی روسی صدر سے ہونے والی تعمیری بات چیت نے اس سلسلے میں کئی نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔” روس اور پاکستان کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون کی بات پہلے سے جاری تھی، اور اس دورے میں اس پر مزید تفصیل سے بات کی گئی۔
    روسی نائب وزیراعظم الیکسی اوورچک نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان کارگو ٹرکوں کے ذریعے ایران، آذربائیجان، اور افغانستان کے راستے تجارت ہو رہی ہے اور اس میں بہتری کے مزید امکانات تلاش کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ پاکستان کی فرٹیلائزر فیسلٹی کو بڑھانے میں روس تعاون کرے گا۔ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان زراعت کے شعبے میں تعاون کو مزید تقویت دے گا۔

    بین الاقوامی فورمز پر تعاون
    پاکستان اور روس کے درمیان بین الاقوامی فورمز پر بھی قریبی تعاون کی بات چیت ہوئی۔ اس ملاقات میں اقوام متحدہ، شنگھائی تعاون تنظیم (SCO)، اور دیگر عالمی پلیٹ فارمز پر مشترکہ اہداف کے حصول پر بھی غور کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ "ہم نے آج عالمی فورمز پر تعاون کے فروغ پر بات چیت کی، جن میں اقوام متحدہ، ایس سی او سمیت دیگر فورمز شامل ہیں۔روس کے نائب وزیراعظم الیکسی اوورچک نے اس بات کا ذکر کیا کہ روس جلد ہی قازان میں برکس اجلاس کی میزبانی کرے گا، جو کہ عالمی سطح پر ایک اہم فورم ہے جہاں مختلف ممالک آزادانہ طور پر بات چیت کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ برکس اور ایس سی او جڑواں تنظیمیں ہیں، اور پاکستان کی ان میں شمولیت کا فیصلہ اتفاق رائے سے کیا جائے گا۔

    ریل روڈ کنیکٹویٹی اور شمال جنوب ٹرانسپورٹ کوریڈور
    پاکستان اور روس کے درمیان ایک اور اہم موضوع ریل روڈ کنیکٹویٹی کا قیام تھا۔ روسی نائب وزیراعظم الیکسی اوورچک نے اس بات کی وضاحت کی کہ دونوں ممالک ایران، آذربائیجان، اور افغانستان کے ذریعے ریل روڈ کنیکٹویٹی کے امکانات پر غور کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہم نارتھ ساوتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور کی تعمیر پر بھی بات چیت کر رہے ہیں۔نارتھ ساوتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور کا منصوبہ پاکستان، ایران، روس، اور دیگر علاقائی ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی رابطے بڑھانے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اس منصوبے کے تحت ریل اور سڑک کے ذریعے کارگو ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کی جائے گی، جس سے خطے میں تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گا۔

    عوامی سطح پر رابطے اور تعلیمی تعاون
    پاکستان اور روس کے درمیان عوامی سطح پر رابطے اور تعلیمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے بھی بات چیت کی گئی۔ الیکسی اوورچک نے کہا کہ "ہم پاکستان میں روسی زبان سکھانے اور اس کے فروغ کے لیے دلچسپی رکھتے ہیں۔” اس سلسلے میں روسی زبان سکھانے والے اساتذہ کے تبادلوں اور تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے پر بھی غور کیا گیا۔روس پاکستان ٹریڈ فورم کا بھی ذکر کیا گیا، جو ماسکو میں منعقد ہو گا اور اس میں دونوں ممالک کی کمپنیاں شرکت کریں گی۔ اس فورم کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دینا اور عوامی سطح پر رابطے کو بڑھانا ہے۔

    باہمی تجارت اور اقتصادی ترقی کے امکانات
    روسی نائب وزیراعظم نے اپنی گفتگو میں اس بات کی تصدیق کی کہ پاکستان اور روس کے درمیان باہمی تجارت میں اضافہ کے بے شمار امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "ہم نے باہمی تعاون کے شعبوں کی نشاندہی کی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور اقتصادی تعاون کے فروغ پر بات چیت کی گئی ہے۔اس ملاقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ پاکستان اور روس کے درمیان زراعت، تجارت، تعلیم، اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر توانائی کے شعبے میں روس کی تکنیکی معاونت اور تیل کی فراہمی کے امکانات پر تفصیل سے غور کیا گیا۔

    روس کی یوروایشین اکنامک یونین کے ساتھ تعاون
    ایک اور اہم نکتہ جو اس ملاقات میں زیر بحث آیا وہ پاکستان اور یوروایشین اکنامک یونین کے درمیان تعاون تھا۔ روسی نائب وزیراعظم الیکسی اوورچک نے کہا کہ "ہم نے پاکستان اور یوروایشین اکنامک یونین کے مابین آزادانہ تجارت کے معاہدے کے ممکنات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔یوروایشین اکنامک یونین روس، بیلاروس، قازقستان، کرغزستان، اور آرمینیا کے درمیان ایک تجارتی اتحاد ہے، اور اس میں پاکستان کی شمولیت دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کر سکتی ہے۔
    روسی نائب وزیراعظم الیکسی اوورچک کا یہ دورہ پاکستان کے ساتھ روس کے تعلقات کو نئی سمت دینے کا باعث بنا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان نہ صرف باہمی تجارت اور اقتصادی تعاون پر بات چیت ہوئی بلکہ توانائی، زراعت، تعلیم، اور باہمی منسلکی جیسے شعبوں میں تعاون کے نئے امکانات بھی سامنے آئے۔اس دورے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مزید اعلیٰ سطحی ملاقاتوں اور منصوبوں کا سلسلہ جاری رہنے کی توقع ہے، جس سے نہ صرف پاک روس تعلقات مضبوط ہوں گے بلکہ خطے میں اقتصادی ترقی کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔