Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • افغان عہدے دار کی قومی ترانے کی بے ادبی: دستاویزات کی کمی کا انکشاف

    ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ افغان عہدے دار محب اللہ شاکر کی قومی ترانے کی بے ادبی کے معاملے میں ان کی دستاویزات کی مکمل کمی سامنے آئی ہے۔ محب اللہ شاکر کے پاس نہ تو افغانی پاسپورٹ ہے اور نہ ہی کوئی دیگر شناختی دستاویزات موجود ہیں۔ ذرائع کے مطابق، محب اللہ شاکر اور ان کے خاندان نے 2015 میں یو این ایچ سی آر سے ڈالر اور راشن حاصل کرنے کے بعد افغانستان واپس جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس وقت انہیں پی او آر (پروویژنل آفیشل رجسٹریشن) کارڈ جاری کیا گیا تھا، جو کہ اب ایکسپائر ہو چکا ہے۔ یہ واضح ہوا ہے کہ یکم ستمبر 2024 سے پی او آر کارڈ کی معیاد ختم ہونے کے بعد، محب اللہ شاکر سمیت تمام افغان مہاجرین غیر قانونی قیام پزیر ہیں، کیونکہ وزارت داخلہ کی جانب سے ان کی رہائش میں مزید توسیع نہیں دی گئی ہے۔ یہ صورت حال افغان عہدے دار کی قومی ترانے کی بے ادبی کے تناظر میں اہمیت اختیار کرتی ہے، جس نے پاکستانی عوام میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ اس واقعے نے پاکستانی حکومت اور افغان مہاجرین کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھا دیے ہیں، جن پر ابھی تک کوئی واضح ردعمل نہیں آیا۔

  • آئینی ترامیم کی منظوری میں ناکامی، حکومت کا مولانا فضل الرحمان سے مزید مشاورت کا فیصلہ، رانا ثناء اللہ

    آئینی ترامیم کی منظوری میں ناکامی، حکومت کا مولانا فضل الرحمان سے مزید مشاورت کا فیصلہ، رانا ثناء اللہ

    اسلام آباد : وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی امور، رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ آئینی ترامیم کے لیے حکومت کے پاس نمبرز پورے نہیں تھے، تاہم مولانا فضل الرحمان سے مشاورت کے بعد توقع کی جارہی تھی کہ معاملات طے پاجائیں گے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناءاللہ نے بتایا کہ حکومتی جماعت کو 10 سے 11 ووٹوں کی کمی کا سامنا تھا، جس کی وجہ سے عدالتی اصلاحات پر آئینی ترامیم کو منظور نہ کیا جاسکا۔ ان کا کہنا تھا کہ ترامیم کا منظور نہ ہونا کسی کی ناکامی نہیں ہے، بلکہ مزید مشاورت کے بعد انہیں منظور کروا لیا جائے گا۔رانا ثناءاللہ نے مزید کہا کہ حکومت نے مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ترامیم کا مسودہ شیئر کیا، جس پر انہوں نے اعتراضات اٹھائے اور مشاورت کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مولانا فضل الرحمان سے ہونے والی بات چیت میں کوئی ذاتی مطالبہ نہیں کیا گیا، ایسی باتیں ان کی توہین کے مترادف ہیں۔واضح رہے کہ حکومت نے 15 ستمبر کو عدالتی اصلاحات کے حوالے سے آئینی ترامیم کو قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور کرانے کی کوشش کی، لیکن نمبرز پورے نہ ہونے کی وجہ سے یہ معاملہ موخر کر دیا گیا۔

  • مجوزہ آئینی ترامیم پر غور: سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا وکلاء نمائندہ تنظیموں کا ہنگامی اجلاس طلب

    مجوزہ آئینی ترامیم پر غور: سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا وکلاء نمائندہ تنظیموں کا ہنگامی اجلاس طلب

    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے حکومتی مجوزہ آئینی ترامیم پر غور کے لیے تمام وکلاء نمائندہ تنظیموں کا ہنگامی اجلاس کل 18 ستمبر کو شام 5 بجے طلب کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اس اجلاس کے لیے تمام وکلاء تنظیموں کو باقاعدہ دعوت نامہ جاری کیا ہے۔ اجلاس سپریم کورٹ بار ہاسٹل کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوگا۔اس اجلاس میں بنیادی موضوع حکومتی جانب سے مجوزہ آئینی ترامیم پر غور اور اس کے ممکنہ نتائج ہوں گے۔ وکلاء برادری کی جانب سے ان ترامیم کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے، اور اجلاس کا مقصد ان ترامیم پر تفصیلی بحث کے بعد حکومت سے وضاحت طلب کرنا ہے۔
    ذرائع کے مطابق، وکلاء نمائندہ تنظیموں کا یہ اجلاس ایک نہایت اہم موقع پر طلب کیا گیا ہے، جہاں آئین میں متوقع تبدیلیاں اور ان کے اثرات پر وکلاء برادری کی رائے کو سنا جائے گا۔ اجلاس میں آئین کی پاسداری اور آئینی اداروں کے کردار پر بھی بات چیت متوقع ہے۔سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب حکومت کی جانب سے آئینی ترامیم کی تجاویز سامنے آئیں ہیں، جن پر مختلف حلقوں میں بحث جاری ہے۔ وکلاء برادری کے مطابق، یہ ترامیم نہ صرف آئین کے بنیادی ڈھانچے پر اثرانداز ہو سکتی ہیں بلکہ عدلیہ کی خودمختاری پر بھی سوالات اٹھا سکتی ہیں۔
    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا اجلاس ایک موقع فراہم کرے گا جہاں وکلاء برادری نہ صرف اپنے تحفظات کا اظہار کرے گی بلکہ حکومت سے وضاحت اور یقین دہانیاں بھی طلب کرے گی کہ آئینی ترامیم آئین کی روح اور عدلیہ کی خودمختاری کے منافی نہ ہوں۔واضح رہے کہ وکلاء برادری کی جانب سے آئین میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کے حوالے سے محتاط ردعمل دیا جاتا ہے، اور ایسے مواقع پر قومی سطح پر اہم قانونی معاملات میں ان کی رائے کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔

  • اے ڈی بی پاکستان کو اگلے تین سال میں 2 ارب ڈالرز کی امداد فراہم کرے گا

    اے ڈی بی پاکستان کو اگلے تین سال میں 2 ارب ڈالرز کی امداد فراہم کرے گا

    اسلام آباد: ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کے صدر مساتسو گواسا کاوا نے پاکستان کو اگلے تین سالوں میں 2 ارب ڈالرز کی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان اسلام آباد میں صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کے دوران کیا گیا۔ملاقات میں سینیٹر شیری رحمان اور سینیٹر سلیم مانڈوی والا بھی موجود تھے۔ صدر مملکت نے اس موقع پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے مالی وسائل کی شدید ضرورت ہے، خاص طور پر 2022 کے سیلاب نے ملکی معیشت پر گہرے اثرات ڈالے۔
    صدر مملکت نے اے ڈی بی کے صدر کو پاکستان کو درپیش اقتصادی چیلنجز، دہشت گردی کے خلاف جنگ سے ملک کو پہنچنے والے نقصانات اور سماجی و اقتصادی ترقی میں تعاون کے حوالے سے آگاہ کیا۔ انہوں نے ایشیائی ترقیاتی بینک کی 2022 کے سیلاب میں فراہم کی جانے والی مدد پر بھی شکریہ ادا کیا۔صدر ایشیائی ترقیاتی بینک مساتسو گواسا کاوا نے پاکستان کی مشکلات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کے شدید اثرات کا سامنا ہے، اور اے ڈی بی اس چیلنج سے نمٹنے میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اگلے تین سالوں میں بینک پاکستان کو ہر سال 2 ارب ڈالرز کی مالی امداد فراہم کرے گا، جو ملک کی سماجی و معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔

  • ضلع خیبر میں قبیلہ اکاخیل اور قبیلہ متنی کے درمیان اراضی کے تنازع پر فائرنگ، 3 افراد جاں بحق

    ضلع خیبر میں قبیلہ اکاخیل اور قبیلہ متنی کے درمیان اراضی کے تنازع پر فائرنگ، 3 افراد جاں بحق

    ضلع خیبر میں قبیلہ اکاخیل اور قبیلہ متنی کے درمیان اراضی کے تنازع پر ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں تین افراد جاں بحق ہوگئے۔ یہ واقعہ علاقے میں دیرینہ اراضی کے مسائل کے باعث پیش آیا، جس میں دونوں قبیلوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔پولیس ذرائع کے مطابق، ضلع خیبر اور پشاور پولیس کی بھاری نفری فوراً جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر فائرنگ کا سلسلہ بند کروا دیا ہے اور مورچے خالی کرا دیے ہیں۔ جاں بحق ہونے والے افراد کی شناخت ابھی تک نہیں ہوسکی، اور پولیس نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ اس واقعے کی وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔
    مقامی ذرائع نے بتایا ہے کہ اس نوعیت کے جھگڑے علاقے میں معمول بن چکے ہیں، لیکن حالیہ واقعہ کی شدت نے مقامی عوام میں بے چینی اور خوف پیدا کر دیا ہے۔ پولیس نے علاقے میں مزید سیکیورٹی بڑھا دی ہے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔علاقائی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے اس واقعے کی مزید تفصیلات اور تحقیقات کے نتائج کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ یہ واقعہ قبائلی علاقوں میں جاری امن کی کوششوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔

  • افغان قونصلیٹ جنرل کی جانب سے پاکستانی قومی ترانے کی بے حرمتی کی خبروں کی تردید

    افغان قونصلیٹ جنرل کی جانب سے پاکستانی قومی ترانے کی بے حرمتی کی خبروں کی تردید

    افغان قونصلیٹ جنرل نے پاکستان کے قومی ترانے کے احترام میں کھڑے نہ ہونے کے معاملے میں بے حرمتی اور بے توقیری کی خبروں کو مسترد کر دیا ہے۔ افغان قونصلیٹ کے ترجمان نے وضاحتی بیان میں کہا کہ ان کا مقصد پاکستانی قومی ترانے کی توہین کرنا ہرگز نہیں تھا۔ترجمان نے وضاحت کی کہ قونصل جنرل نے قومی ترانے کے دوران کھڑے نہ ہونے کی وجہ یہ بیان کی کہ ترانہ میوزک کے ساتھ چل رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ افغان قونصلیٹ نے اپنے قومی ترانے کے میوزک کے ساتھ چلنے پر بھی پابندی عائد کر رکھی ہے، اور اسی اصول کی پیروی کرتے ہوئے قونصل جنرل نے کھڑے ہونے سے گریز کیا۔
    ترجمان نے مزید کہا کہ اگر قومی ترانہ بغیر میوزک کے چلایا جاتا یا اسے بچے پیش کرتے، تو قونصل جنرل یقینی طور پر کھڑے ہوتے اور اپنے سینے پر ہاتھ بھی رکھتے۔ "پاکستان یا اس کے قومی ترانے کی توہین کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،” ترجمان نے کہا۔یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پشاور میں افغان قونصلیٹ کے قونصل جنرل نے رحمت اللعالمین کانفرنس میں شرکت کے دوران اس معاملے پر احتجاج کا سامنا کیا۔ پاکستان کے اعلیٰ سرکاری حکام نے اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ سفارتی ماہرین کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ افغان قونصلیٹ کے اہلکار کو ناپسندیدہ قرار دے کر پاکستان سے واپس بھیجا جائے، تاکہ مستقبل میں ایسی صورتحال سے بچا جا سکے اور دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید خرابی نہ ہو۔یہ واقعہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نیا تنازعہ پیدا کر سکتا ہے، اور اس کی وجہ سے سفارتی سطح پر مزید پیچیدگیاں پیدا ہونے کا امکان ہے۔

  • دفتر خارجہ کا افغان قونصل جنرل کے رویے پر شدید احتجاج، سفارتی اصولوں کی خلاف ورزی قرار

    دفتر خارجہ کا افغان قونصل جنرل کے رویے پر شدید احتجاج، سفارتی اصولوں کی خلاف ورزی قرار

    اسلام آباد: پاکستان نے افغان قونصل جنرل کی جانب سے پاکستان کے قومی ترانے کے احترام میں کھڑے نہ ہونے کے معاملے پر شدید احتجاج کیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے اس واقعے کو سفارتی آداب اور اصولوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے، اور اس رویے کی بھرپور مذمت کی ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق، یہ واقعہ ایک اہم تقریب کے دوران پیش آیا جب افغان قونصل جنرل نے پاکستان کے قومی ترانے کے احترام میں کھڑے ہونے سے گریز کیا۔ اس رویے کو انتہائی غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ میزبان ملک کے قومی ترانے کی بے عزتی کسی بھی سفارتی اہلکار کے شایان شان نہیں ہے اور یہ سفارتی ضوابط کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
    ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان نے اس واقعے پر افغانستان کے حکام سے باضابطہ طور پر احتجاج کیا ہے اور اس معاملے کو کابل اور اسلام آباد میں افغان حکام کے سامنے اٹھایا جا رہا ہے۔ "ہم نے اپنا شدید احتجاج افغان حکام تک پہنچا دیا ہے اور ان سے مطالبہ کیا ہے کہ اس طرح کے رویے کو فوری طور پر درست کیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسی غیر سنجیدہ حرکتوں سے اجتناب کیا جا سکے،” ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا۔افغان قونصل جنرل کا یہ اقدام دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نیا تنازعہ پیدا کر سکتا ہے، جو پہلے ہی کئی امور پر اختلافات کا شکار ہیں۔ پاکستان نے افغان حکام پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے سفارتی اہلکاروں کو سفارتی آداب کی پاسداری کی سختی سے ہدایت دیں۔یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان کئی سفارتی اور سیکیورٹی امور پر تنازعات چل رہے ہیں، اور اس تازہ معاملے نے تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

  • بلاول بھٹو کا آئینی ترامیم پر ردعمل: پیپلز پارٹی کی اصلاحات اور مولانا فضل الرحمان کی مشاورت ضروری

    بلاول بھٹو کا آئینی ترامیم پر ردعمل: پیپلز پارٹی کی اصلاحات اور مولانا فضل الرحمان کی مشاورت ضروری

    اسلام آباد — آئینی ترامیم کے ڈرافٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بیان دیا ہے کہ میڈیا میں شائع ہونے والا ڈرافٹ اصل نہیں ہے۔ بلاول بھٹو نے وضاحت کی کہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ ڈرافٹ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، اور اس پر مولانا فضل الرحمان سے بات چیت کی گئی ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے اس بات پر زور دیا کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے آئینی عدالت کے قیام کا وعدہ پرانا ہے، اور میثاق جمہوریت کے 90 فیصد نکات پر عملدرآمد کیا جاچکا ہے۔ انہوں نے افتخار چوہدری کے دور میں پارلیمان کو درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کے منشور میں عدالتی اصلاحات شامل ہیں۔
    انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال میں پیپلز پارٹی کے پاس اسمبلی میں دو تہائی اکثریت نہیں ہے، اس لیے مشاورت اور اتفاق رائے کے لیے مولانا فضل الرحمان کی ضرورت ہے۔ بلاول بھٹو نے اس بات کا بھی عندیہ دیا کہ پیپلز پارٹی کا تیار کردہ ڈرافٹ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ شیئر کیا جائے گا، اور مولانا بھی اپنا ڈرافٹ تیار کر رہے ہیں۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ پارٹی کا مقصد یہ ہے کہ آئینی ترامیم مکمل اتفاق رائے سے کی جائیں، اور پی ٹی آئی کو بھی اس عمل میں شامل کیا جانا چاہیے۔یہ بیان اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ پیپلز پارٹی آئینی ترامیم کے حوالے سے ایک جامع اور متفقہ راستہ اختیار کرنے کی خواہاں ہے، جس میں تمام اہم اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت شامل ہو۔

  • آئینی ترامیم: جے یو آئی (ف) کے تحفظات اور سینیٹر کامران مرتضیٰ کی تشویش

    آئینی ترامیم: جے یو آئی (ف) کے تحفظات اور سینیٹر کامران مرتضیٰ کی تشویش

    جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما سینیٹر کامران مرتضیٰ نے آئینی ترمیم کے ابتدائی مسودے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 8 اور آرٹیکل 199 میں مجوزہ ترامیم نے بنیادی حقوق پر عدالتوں کے اختیارات کو محدود کرنے کی کوشش کی تھی۔ سینیٹر مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ عدالتوں کو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پر قانون سازی کالعدم کرنے کا اختیار حاصل ہے، لیکن مسودے میں کچھ استثنائی شقوں کو محدود کر دیا گیا تھا جس سے عدالتوں کے اختیارات متاثر ہو رہے تھے۔پروگرام گفتگو میں سینیٹر کامران مرتضیٰ نے مزید بتایا کہ مسودے میں مسلح افواج سے متعلق شقیں بھی شامل کی گئی تھیں جو انہیں اور ان کی جماعت کے لیے باعث تشویش تھیں۔ انہوں نے کہا کہ "پہلی تکلیف مجھے اس شق سے ہوئی تھی، اور اگر یہ ترامیم پاس ہو جاتیں تو بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں ہمارے لیے مشکلات پیدا ہو جاتیں۔”
    سینیٹر مرتضیٰ کے مطابق، آرٹیکل 199 (3) میں قومی سلامتی کے نام پر عدالتوں کے اختیارات محدود کیے گئے تھے، جس پر جے یو آئی (ف) کو شدید تحفظات تھے۔ انہوں نے کہا کہ "آپ نے آدھی رات کو دستاویز دی اور فوری منظوری کا مطالبہ کیا، حالانکہ یہ سماجی معاہدہ ہے، اور سماج سے چھپا کر اسے منظور کروانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ جے یو آئی (ف) کی ترجیح بنیادی حقوق کے تحفظ پر ہے، اور وہ کسی بھی ترمیم کی مخالفت کرے گی جو ان حقوق کو کم کرتی ہو۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے ان ترامیم کو واپس لینے کا وعدہ کیا تھا، تاہم جے یو آئی (ف) کو ابھی تک نیا مسودہ نہیں دکھایا گیا۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ صرف سیاسی نہیں بلکہ عوام کے بنیادی حقوق کا ہے، اور ان ترامیم پر کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے انہیں عوام کے سامنے لانا ضروری ہے۔

  • عوامی نیشنل پارٹی نے آئینی عہدوں کی مدت ملازمت میں توسیع کی مخالفت کا فیصلہ کرلیا

    عوامی نیشنل پارٹی نے آئینی عہدوں کی مدت ملازمت میں توسیع کی مخالفت کا فیصلہ کرلیا

    پشاور: عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے آئینی عہدوں کی مدت ملازمت میں توسیع کی مخالفت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی کوئی بھی آئینی ترمیم جو شخصی آزادی اور جمہوری اصولوں کے خلاف ہو، اس کی بھرپور مخالفت کی جائے گی۔ پشاور میں پارٹی صدر ایمل ولی خان کی زیر صدارت مرکزی مشاورتی کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں موجودہ سیاسی صورتحال اور دیگر اہم امور پر تفصیلی بحث کی گئی۔ اجلاس کے بعد جاری کیے گئے اعلامیے میں کہا گیا کہ پارٹی خیبر پختونخوا کے نام کو صرف "پختونخوا” میں تبدیل کرنے کی تجویز پر بھی غور کر رہی ہے۔
    اعلامیے کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی سیاسی کارکنان کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کی تجویز کو بھی مسترد کرتی ہے اور وفاقی آئینی عدالت کے قیام کا خیر مقدم کرتی ہے، جسے عدالتی اصلاحات کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے۔ پارٹی نے اس بات پر زور دیا کہ پارلیمان کی بالادستی کے لیے عدالتی اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
    اے این پی نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ وفاقیت اور صوبائی خودمختاری کے خلاف کسی بھی ترمیم کی بھرپور مخالفت کرے گی، بالخصوص ایسی ترامیم جو اٹھارھویں آئینی ترمیم کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔مزید یہ کہ پارٹی آئینی ترامیم کی حمایت کرے گی، بشرطیکہ وہ 1973 کے آئین سے متصادم نہ ہوں اور جمہوری اصولوں کے مطابق ہوں۔