Baaghi TV

Blog

  • جامعہ دارالعلوم یاسین القرآن کا نور ولی محسود سے لاتعلقی کا اعلان

    جامعہ دارالعلوم یاسین القرآن کا نور ولی محسود سے لاتعلقی کا اعلان

    پاکستان کی معروف دینی درسگاہ جامعہ دارالعلوم یاسین القرآن کراچی نے فتنہ الخوارج کے سربراہ نور ولی محسود سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے۔

    انتظامیہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے، تصدیق کی جاتی ہے کہ نور ولی محسود عرف ابو منصور عاصم ولد حاجی گل شاہ سکنہ شمالی وزیرستان (تنظیم فتنہ الخوارج تحریک طالبان پاکستان) کا جامعہ دارالعلوم یاسین القرآن سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں،جامعہ ہذا نے اگر کسی بھی قسم کی سند جاری کی ہو وہ کینسل کی جاتی ہے-

    واضح رہے کہ نور ولی کا تعلق وزیرستان سے ہے، جو اس وقت فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی) کے سربراہ ہیں،مفتی نور ولی کا شمار کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سابق سربراہ بیت اللہ محسود کے قریبی کمانڈروں میں ہوتا تھا، جہاں وہ ڈپٹی کمانڈر کے عہدے پر بھی فائز رہے۔

  • 
کرپشن پرسیپشن انڈیکس 2025: پاکستان کی عالمی درجہ بندی میں بہتری

    
کرپشن پرسیپشن انڈیکس 2025: پاکستان کی عالمی درجہ بندی میں بہتری

    
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے کرپشن پرسیپشن انڈیکس (CPI) 2025 جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق پاکستان کے کرپشن کے تاثر میں واضح بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔
    ‎رپورٹ کے مطابق 2024 کے مقابلے میں پاکستان کا مجموعی اسکور ایک پوائنٹ بڑھ کر 28 تک پہنچ گیا ہے، جبکہ عالمی درجہ بندی میں پاکستان ایک درجہ بہتری کے ساتھ 136 ویں پوزیشن پر آ گیا ہے۔
    ‎ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران گڈ گورننس اور مسلسل ادارہ جاتی اصلاحات کے باعث پاکستان کے مجموعی اسکور میں بہتری کا رجحان برقرار رہا ہے۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان میں نہ صرف پبلک سیکٹر اور انتظامی بدعنوانی کے اشاریوں میں بہتری آئی ہے بلکہ قانون ساز اداروں اور عدلیہ میں بدعنوانی کے تاثر میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔
    ‎رپورٹ کے مطابق 2025 میں کرپشن پرسیپشن انڈیکس کے لیے 182 ممالک کا سروے کیا گیا، جبکہ 2024 میں یہ تعداد 180 تھی۔ نئے اعداد و شمار کے مطابق 2021 سے 2025 کے دوران پاکستان کی عالمی درجہ بندی میں مجموعی طور پر چار درجے بہتری آئی ہے۔
    ‎ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی جانب سے دسمبر 2025 میں جاری کی گئی سالانہ رپورٹ میں بھی بتایا گیا تھا کہ تین میں سے دو پاکستانی شہریوں کو سرکاری اداروں میں کبھی بدعنوانی یا بے ضابطگی کا سامنا نہیں کرنا پڑا، جو کرپشن کے تاثر میں کمی کی عکاسی کرتا ہے۔

  • 
ناسا کی نئی پالیسی، خلا بازوں کو اپنے ذاتی اسمارٹ فون خلا میں لے جانے کی اجازت

    
ناسا کی نئی پالیسی، خلا بازوں کو اپنے ذاتی اسمارٹ فون خلا میں لے جانے کی اجازت

    ‎امریکی خلائی ادارے ناسا نے تاریخ میں پہلی بار خلا بازوں کو اپنے ذاتی اسمارٹ فونز خلا میں لے جانے کی اجازت دے دی ہے۔ اس پالیسی میں تبدیلی کا اطلاق کریو 12 اور آرٹیمس 2 مشنز سے ہوگا۔
    ‎کریو 12 مشن فروری 2026 کے وسط میں انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن روانہ کیا جائے گا، جبکہ آرٹیمس 2 مشن مارچ 2026 میں چاند کے مدار کی جانب روانگی کے لیے شیڈول ہے۔ نئی پالیسی کے تحت خلا باز جدید آئی فون اور اینڈرائیڈ اسمارٹ فونز اپنے ساتھ لے جا سکیں گے۔
    ‎اس سے قبل ناسا خلا بازوں کو صرف ادارے کی جانب سے فراہم کردہ ڈی ایس ایل آر اور گو پرو کیمرے استعمال کرنے کی اجازت دیتا تھا، جن میں سے بیشتر پرانے ماڈلز تھے اور جن سے تصاویر یا ویڈیوز فوری طور پر شیئر کرنا ممکن نہیں تھا۔
    ‎ناسا کے منتظم جیراڈ آئزک مین کے مطابق اس فیصلے سے خلا باز زمین سے باہر اپنے تجربات زیادہ آسانی سے ریکارڈ کر سکیں گے اور تصاویر و ویڈیوز براہِ راست عوام کے ساتھ شیئر کر پائیں گے۔ انہوں نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا کہ یہ قدم خلا بازوں کو اپنے خاندانوں کے لیے خصوصی لمحات محفوظ کرنے کے ساتھ دنیا سے جڑنے کا موقع فراہم کرے گا۔
    ‎ناسا کا کہنا ہے کہ ذاتی اسمارٹ فونز کی اجازت مستقبل میں زمین کے مدار اور چاند پر ہونے والے سائنسی تجربات میں بھی معاون ثابت ہوگی۔ جیراڈ آئزک مین کے مطابق یہ فیصلہ روایتی سوچ سے ہٹ کر جدید ٹیکنالوجی کو خلائی مشنز کا حصہ بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

  • ہم ایران پر اکیلے حملہ کر دیں گے، اسرائیل کا امریکا کو دو ٹوک پیغام

    ہم ایران پر اکیلے حملہ کر دیں گے، اسرائیل کا امریکا کو دو ٹوک پیغام

    اسرائیل نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام اس حد سے تجاوز کرتا ہے جسے وہ ایک حساس سیکیورٹی ریڈ لائن قرار دیتا ہے تو وہ یکطرفہ فوجی کارروائی کے لیے تیار ہے۔

    انڈیا ٹوڈے نے اسرائیلی اخبار دی یروشلم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے اعلیٰ حکام نے اپنے امریکی عہدیداروں کو آگاہ کیا ہے کہ ایران کی بڑھتی ہوئی میزائل صلاحیتیں اسرائیل کے لیے بڑا خطرہ ہیں اور انہیں بغیر کسی نتیجے کے مزید آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اسرائیلی سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے ایران کی میزائل تیاری اور لانچنگ انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے کا اسرائیلی منصوبہ حالیہ ہفتوں میں اعلیٰ سطحی سفارتی اور فوجی رابطوں کے ذریعے امریکا تک پہنچایا گیاحکام نے مبینہ طور پر آپریشنل تصورات بھی پیش کیے، جن میں پروگرام سے منسلک اہم پیداواری اور ذخیرہ کرنے والی تنصیبات پر ہدفی حملے شامل ہیں۔

    ایک ذرائع نے دی یروشلم پوسٹ کے حوالے سے کہا کہ ہم نے امریکیوں کو بتا دیا ہے کہ اگر ایران بیلسٹک میزائلوں کے حوالے سے ہماری مقرر کردہ ریڈ لائن عبور کرتا ہے تو ہم اکیلے حملہ کریں گے اسرائیل کے مطابق ایران ابھی اس حد تک نہیں پہنچا، تاہم وہ مسلسل نگرانی میں ہے۔

    سینیٹ قائمہ کمیٹی، میری ٹائم شعبے میں غیرقانونی زمین الاٹمنٹس کیخلاف کارروائی کی ہدایت

    ایک اور سینئر دفاعی شخصیت نے بتایا کہ اسرائیل تہران کو ایسے اسٹریٹجک ہتھیاروں کے نظام دوبارہ تعمیر کرنے کی اجازت نہیں دے گا جو ملک کی بقا کے لیے خطرہ بن سکتے ہوں، اور اس بات پر زور دیا کہ یروشلم مکمل فوجی آزادیِ عمل محفوظ رکھتا ہے۔

    ایک عہدیدار نے موجودہ صورتحال کو ایران کے میزائل انفراسٹرکچر کو کمزور کرنے اور اسرائیل اور ہمسایہ ریاستوں کے خلاف خطرات کو ناکارہ بنانے کا ایک تاریخی موقع قرار دیا، حالیہ بات چیت کے دوران اس سے منسلک مزید تنصیبات کو نشانہ بنانے کے منصوبے بھی پیش کیے گئے۔

    پاکستان نے بہترین ڈپلومیسی سے کھیل بچا لیا، بھارتی میڈیا کا بڑا اعتراف

    کئی اسرائیلی حکام نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ممکنہ طور پر محدود فوجی ردعمل کو ترجیح دے سکتے ہیں، جیسا کہ یمن میں حوثیوں کے خلاف حالیہ امریکی کارروائیاں تھیں ان کا خدشہ ہے کہ ایسا طریقہ کار ایران کی بنیادی صلاحیتوں کو برقرار رکھے گادفاعی ذرائع کے مطابق جزوی اقدامات اس بڑے اسٹریٹجک خطرے کو ختم کرنے میں ناکام رہیں گے جسے اسرائیل اپنی سلامتی کے لیے مرکزی خطرہ سمجھتا ہے۔

  • سینیٹ  قائمہ کمیٹی، میری ٹائم شعبے میں غیرقانونی زمین الاٹمنٹس کیخلاف کارروائی کی ہدایت

    سینیٹ قائمہ کمیٹی، میری ٹائم شعبے میں غیرقانونی زمین الاٹمنٹس کیخلاف کارروائی کی ہدایت

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے میری ٹائم امور کا اجلاس کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر محمد فیصل واوڈا کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں میری ٹائم شعبے سے متعلق اہم آپریشنل، انفراسٹرکچر اور گورننس کے معاملات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں بندرگاہوں کی کارکردگی، ڈریجنگ آپریشنز، زمین کے انتظام اور برآمدات میں سہولت کاری پر خصوصی توجہ دی گئی۔ چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ تمام زیر التواء زمین الاٹمنٹس کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے اور غیرقانونی الاٹمنٹس منسوخ کی جائیں۔

    اجلاس میں سینیٹر پرویز رشید، سینیٹر دنیش کمار، سینیٹر ندیم احمد بھٹو اور سینیٹر روبینہ قائم خانی سمیت دیگر اراکین نے شرکت کی۔ سینیٹر شہادت اعوان، سینیٹر سید وقار مہدی اور سینیٹر سید مسرور احسن نے بھی ایجنڈا آئٹم کے محرک کے طور پر اجلاس میں شرکت کی۔چیئرمین کمیٹی نے ناجائز قبضہ شدہ زمین خالی کرانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ کراچی انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل (KICT) پر 239 کنٹینرز تاخیر کا شکار ہیں، جس کی بڑی وجوہات کسٹمز میں تاخیر اور بین الاقوامی کمپنیوں کی شمولیت ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ کنٹینر کلیئرنس سے منسلک سالانہ تقریباً 40 ملین امریکی ڈالر کی بدعنوانی ہوتی ہے، جہاں مبینہ طور پر فی کنٹینر تقریباً ایک لاکھ بارہ ہزار روپے وصول کیے جاتے ہیں۔ کمیٹی نے KICT کو ہدایت کی کہ تمام بیک لاگ فوری طور پر کلیئر کیا جائے اور بدعنوانی کا خاتمہ کیا جائے۔

    سینیٹر فیصل واوڈا نے فشریز ہاربر اتھارٹی کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شفافیت کا فقدان ہے اور کورنگی فشریز میں زمین کے انتظام میں سنگین بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ فشریز اتھارٹی کے بعض اہلکار غیرحاضری کے باوجود اپنی تنخواہیں سینئر افسران کے ساتھ غیرقانونی طور پر شیئر کرتے ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے اس معاملے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی۔ کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ متعدد بورڈز خودمختار ہیں جن کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ سینیٹر واوڈا نے غیر مؤثر بورڈ ممبران کی تنظیمِ نو یا ان کے خاتمے پر زور دیا۔کمیٹی نے فشریز سمیت مختلف علاقوں میں زمین کے مجموعی ریکارڈ سے متعلق ڈیٹا مرتب کرنے کی بھی ہدایت کی۔

    وفاقی وزیر برائے میری ٹائم امور محمد جنید انور نے کمیٹی کو یقین دلایا کہ وزارت مثبت سمت میں پیش رفت کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام نظامی مسائل کو ایک ساتھ حل کرنا ممکن نہیں، اسی لیے وزارت مرحلہ وار حکمتِ عملی اپنا رہی ہے۔ انہوں نے سینیٹ کمیٹی کی مکمل حمایت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وزارت اس وقت درست راستے پر گامزن ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان نے حال ہی میں نیشنل ڈریجنگ کمپنی قائم کی ہے جو کم لاگت اور برآمدکنندگان کے لیے زیادہ پرکشش ثابت ہوگی۔

    چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ (KPT) نے آگاہ کیا کہ KPT نے حالیہ عرصے میں دوسری بلند ترین کارگو ہینڈلنگ کی ہے۔ KPT میں کنٹینر ہینڈلنگ میں 9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ گزشتہ سال کے دوران مجموعی طور پر سب سے زیادہ کارگو ہینڈلنگ بھی حاصل کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ بندرگاہ کے ڈرافٹ کی گہرائی بڑھانے پر کام جاری ہے تاکہ 100,000 ٹن تک کے بحری جہازوں کو سنبھالا جا سکے۔ اس کے علاوہ KPT دنیا کی سب سے بڑی بلک ایکسپورٹ سہولت بھی ترقی دے رہا ہے جس کی اسٹوریج گنجائش 80 لاکھ ٹن ہوگی، جبکہ کلنکر کی برآمدات موجودہ 45 لاکھ ٹن سے بڑھ کر 85 لاکھ ٹن تک پہنچنے کی توقع ہے۔ دنیا بھر میں فعال تقریباً 400 بندرگاہوں میں سے KPT اس وقت 90ویں نمبر پر ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بندرگاہ پر ڈریجنگ کی سرگرمیاں تسلسل کے ساتھ جاری ہیں۔

    سینیٹر روبینہ قائم خانی نے نشاندہی کی کہ کنٹینر کلیئرنس میں اب بھی ڈویل ٹائم کے مسائل درپیش ہیں۔ وزیر نے جواب میں بتایا کہ ڈویل ٹائم کے مسائل کے حل کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے اور اس میں نمایاں کمی بھی دیکھنے میں آئی ہے۔سینیٹر ندیم بھٹو نے نیشنل ڈریجنگ کمپنی کے کردار پر سوال اٹھایا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ AD پورٹ کمپنی کو 60 ملین امریکی ڈالر مالیت کا کام دیا گیا ہے جبکہ باقی کام نیشنل ڈریجنگ کمپنی کو سونپا گیا ہے۔ آئندہ تمام ڈریجنگ کا کام نیشنل ڈریجنگ کمپنی کو دیا جائے گا۔

    وزیر نے مزید بتایا کہ بندرگاہی آپریشنز میں سہولت کے لیے لیاری پر علیحدہ سڑک پر کام جاری ہے، جبکہ ملیر ایکسپریس وے بھی زیر تعمیر ہے جس کی تکمیل وسط 2026 تک متوقع ہے۔ یہ سڑکیں 24 گھنٹے کنٹینر ٹرانسپورٹیشن میں معاون ثابت ہوں گی۔ چیئرمین KPT نے بتایا کہ جولائی 2026 تک برآمدات کے لیے چار فریٹ ٹرینیں آپریشنل ہوں گی، جبکہ KPT سے ML-1 کنیکٹیوٹی تیز اور مؤثر کنٹینر نقل و حمل میں مدد دے گی۔
    وزیر نے کہا کہ وزارت زمین کی واپسی، ناجائز قبضوں کے خاتمے اور پراپرٹی ڈیلرز کی مداخلت ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے کمیٹی چیئرمین کا تعاون پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وزارت زمین سے متعلق قانونی مقدمات نمٹانے اور ماضی میں لینڈ گریبنگ میں سہولت کاری کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

    اجلاس کے دوران سینیٹر شہادت اعوان کے سوالات کے جواب میں بتایا گیا کہ گزشتہ 15 برسوں میں 42 جائیدادیں الاٹ کی گئی ہیں۔ سینیٹر اعوان نے نشاندہی کی کہ کورنگی فشریز ہاربر اتھارٹی نے اپنا ماسٹر پلان، زمین الاٹمنٹ پالیسی اور قواعد و ضوابط تاحال اپنی سرکاری ویب سائٹ پر اپ لوڈ نہیں کیے۔ اتھارٹی نے کمیٹی کو یقین دلایا کہ مطلوبہ معلومات جلد از جلد کورنگی فشریز ہاربر اتھارٹی کی سرکاری ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دی جائیں گی۔

  • پی ایس ایل 11: پشاور زلمی نے اوٹس گبسن کو ہیڈ کوچ مقرر کر دیا

    پی ایس ایل 11: پشاور زلمی نے اوٹس گبسن کو ہیڈ کوچ مقرر کر دیا

    پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) سیزن 11 کے لیے پشاور زلمی نے تجربہ کار کوچ اوٹس گبسن کو ٹیم کا ہیڈ کوچ مقرر کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    پشاور زلمی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ وہ آزمودہ اسٹار اوٹس گبسن کو اپنی ٹیم کا ہیڈ کوچ مقرر کرنے پر فخر محسوس کر رہے ہیں،بیان میں انہیں ایک ‘ثابت شدہ رہنما’ قرار دیا گیا جو چیمپئن ذہنیت کے حامل ہیں اور ٹیم کو واضح حکمت عملی، مضبوط قیادت اور واضح مقصد کے ساتھ آگے لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    فرنچائز کے مطابق اوٹس گبسن کی تقرری سے ’ییلو اسٹورم‘ کی مہم مزید مضبوط ہو گئی ہے،پشاور زلمی نے اپنے پیغام میں نئے کوچ کو خوش آمدید کہتے ہوئے انہیں ’زلمی فیملی‘ کا حصہ بننے پر خیرمقدم کیا۔

  • کویتی قیادت کے ساتھ مل کر آگے بڑھنے کے لئے پرعزم ہیں،وزیراعظم

    کویتی قیادت کے ساتھ مل کر آگے بڑھنے کے لئے پرعزم ہیں،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نےپاکستان اور کویت کے سیاسی تعلقات کو سرمایہ کاری، تجارت اور معاشی تعاون میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے دہائیوں پر محیط برادرانہ تعلقات ہیں،ترقی اور خوشحالی کے مشترکہ اہداف کو عملی شکل دینے کے لئے پرعزم ہیں۔

    انہوں نے ان خیالات کا اظہار منگل کو یہاں رقمی اسلامک بینک کو ڈیجیٹل لائسنس کے اجراء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیراعظم نے لائسنس کے اجراء پر رقمی بورڈ کے چیئرمین اور متعلقہ حکام کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ رقمی بینک کو ڈیجیٹل بینکنگ کے لئے لائسنس کا اجراء پاکستان-کویت تعلقات کے لئے بہت اہم ہے، اس سے پاکستان میں بینکاری کے شعبے کو فروغ ملے گا،سیاسی تعلقات کو معاشی تعاون میں تبدیل کرنا اہمیت کا حامل ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کویت کے تعلقات کو سرمایہ کاری، تجارت اور معاشی تعاون میں تبدیل کرنا ہے،اقتصادی شراکت داری کے لئے کویتی قیادت کے ساتھ مل کر آگے بڑھنے کے لئے پرعزم ہیں،ترقی اور خوشحالی کے مشترکہ اہداف کو عملی شکل دینے کے لئے پرعزم ہیں۔

    سی ای او رقمی اسلامک بینک عمیر اعجاز نے کہا کہ شرعی اصولوں کے مطابق بینکاری کا فروغ رقمی بینک کا عزم ہے،رقمی ڈیجیٹل بینکنگ پاکستان میں کیش لیس معیشت کی طرف اہم پیشرفت ہے، رقمی بینک کو تجارتی سرگرمیوں کے لئے لائسنس ملنا اہم سنگ میل ہے، تمام شعبہ زندگی کی مالیاتی نظام میں شمولیت کے لئے پرعزم ہیں،تمام شعبہ زندگی کی ترقی کے لئے مواقع کی فراہمی ترجیح ہو گی۔

    چیئرمین رقمی بورڈ عبداللہ مطیری نے کہا کہ رقمی ڈیجیٹل بینک کو تجارتی سرگرمیوں کے لئے لائسنس کا اجراء تاریخی لمحہ ہے،یہ اقدام پاکستان اور کویت کے درمیان قریبی تعلقات کا بھی عکاس ہے، ترقی اور خوشحالی کے مشترکہ اہداف کے لئے مل کر کام کرنے کے لئے پرعزم ہیں، پاکستان اور کویت کے درمیان قریبی برادرانہ تعلقات ہیں۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی تعلقات کو معاشی ترقی کے لئے بروئے کار لانا ہے،پاکستان سرمایہ کاری کے لئے بہت اہم ملک ہے، رقمی بینک کا آغاز پاکستان کے شاندار معاشی مستقبل پر اعتماد کا مظہر ہے۔تقریب میں وزیراعظم نے چیئرمین رقمی بورڈ عبداللہ مطیری کو رقمی اسلامک بینک کے لئے ڈیجیٹل لائسنس دیا۔

  • بنگلہ دیشی  چیف ایڈوائزر نے شہید عثمان ہادی کے اہلِخانہ کو فلیٹ کی دستاویزات حوالے کردیں

    بنگلہ دیشی چیف ایڈوائزر نے شہید عثمان ہادی کے اہلِخانہ کو فلیٹ کی دستاویزات حوالے کردیں

    بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے منگل کے روز شہید شریف عثمان ہادی کے اہلِ خانہ کو ایک رہائشی فلیٹ کی ملکیت کی دستاویزات اور چابیاں باضابطہ طور پر حوالے کردیں۔

    بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق یہ تقریب اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس جمنا میں منعقد ہوئی، جس میں شہید شریف عثمان ہادی کی اہلیہ اور دیگر اہلِ خانہ شریک تھے،دارالحکومت ڈھاکہ کے علاقے لال متیا میں واقع یہ تیار شدہ فلیٹ نیشنل ہاؤسنگ اتھارٹی کی جانب سے سرکاری سرپرستی کے تحت اہلِ خانہ کو الاٹ کیا گیا۔

    تقریب میں کئی اعلیٰ حکومتی عہدیداران بھی موجود تھے، جن میں ہاؤسنگ و پبلک ورکس کے مشیر عادل الرحمٰن خان، اطلاعات کی مشیر سیدہ رضوانہ حسن، وزارتِ ہاؤسنگ و پبلک ورکس کے سیکریٹری محمد نذرالاسلام، اور نیشنل ہاؤسنگ اتھارٹی کی چیئرپرسن فردوسی بیگم شامل تھیں یہ اقدام قومی مقاصد کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کے خاندانوں کو ادارہ جاتی معاونت اور سرکاری سطح پر اعتراف فراہم کرنے کے حکومتی عزم کا مظہر ہے۔

  • نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کو مسترد کرتے ہیں،حکومت فیصلہ واپس لے،خالد مسعود سندھو

    نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کو مسترد کرتے ہیں،حکومت فیصلہ واپس لے،خالد مسعود سندھو

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ حکمرانوں کی توانائی کے حوالہ سے کوئی مستقل پالیسی نہیں ، آئے روز نئے فیصلے کر کے قوم کو پریشان کرنا اور غریبوں کو دیا گیا ریلیف واپس لینا حکمرانوں کا وطیرہ بن چکا ہے،سولر صارفین سے بجلی سستے داموں خرید کر پھر مہنگی بیچنا حکومت کا عوام دشمن، ظالمانہ فیصلہ ہے، اسےمسترد کرتے ہیں

    ان خیالات کا اظہار انہوں‌نے نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز پر ردعمل دیتے ہوئے کیا، خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ یوں لگتا ہے کہ حکمران خود عیاشیاں کرنے حکومت میں آئے، غریب عوام کی کسی کو کوئی فکر نہیں،سولر سے متعلق نیا فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ موجودہ حکومت عام شہری کو ریلیف نہیں دینا چاہتی،بھاری بھر بجلی کےبلوں نے عوام کی کمر توڑ دی تھی،جس کے بعد عوام مہنگی بجلی، لوڈشیڈنگ اور حکومتی نااہلی سے تنگ آکر سولر کی طرف گئی،اب سولر کا نیا ریگولیشن عوام کے حق پر کھلا ڈاکہ ہے،مرکزی مسلم لیگ عوامی حقوق کے تحفظ کے لئے میدان میں ہو گی، ہم حکومت کے غلط فیصلوں کو مسترد کرتے ہیں،ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام دشمن فیصلہ فوراً واپس لیا جائے، بجلی مافیا کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے بجائے غریب شہریوں کو ریلیف دیا جائے.

  • پاکستان نے  بہترین ڈپلومیسی سے کھیل بچا لیا، بھارتی میڈیا کا بڑا اعتراف

    پاکستان نے بہترین ڈپلومیسی سے کھیل بچا لیا، بھارتی میڈیا کا بڑا اعتراف

    پاکستان کی جانب سے ٹی 20 ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف کھیلنے کے فیصلے کو جہاں دنیا بھر کے کرکٹ شائقین نے خوش آئند قرار دیا، وہیں بھارتی میڈیا بھی پاکستان کی کامیاب سفارتی حکمتِ عملی کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکا۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان نے ایک بار پھر کرکٹ کو سیاست سے بالاتر رکھتے ہوئے دانشمندانہ اور موثر ڈپلومیسی کا مظاہرہ کیا ہے، جس کے باعث عالمی توجہ پاکستان پر مرکوز ہو گئی ہے، بھارتی میڈیا نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کے اس فیصلے نے بھارت کو بھی ایک مشکل سفارتی صورتحال میں لا کھڑا کیا ہے۔

    بھارتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان نے نہ صرف کرکٹ کے عالمی مفاد کو ترجیح دی بلکہ ایک مثبت پیغام بھی دیا کہ کھیل کو کشیدگی کی نذر نہیں ہونا چاہیے بعض بھارتی میڈیا ادارے اپنی ہی حکومت کی سخت پالیسیوں پر تنقید کرتے دکھائی دیے اور کہا کہ ‘پاکستان کے بغیر کرکٹ واقعی ادھوری رہتی ہے’ اور پاکستان کا یہ فیصلہ کرکٹ کے لیے خوش آئند ہے۔

    دوسری جانب ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہائی وولٹیج میچ کے اعلان نے شائقینِ کرکٹ کو جوش و خروش میں مبتلا کر دیا ہے میچ کے اعلان کے فوری بعد ممبئی سے کولمبو جانے والی پروازوں کے ایئر ٹکٹس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے کرایوں میں دو لاکھ پاکستانی رو پے تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ متعدد پروازیں پہلے ہی فل ہو چکی ہیں۔

    پاکستان حکومت کی جانب سے میچ کھیلنے کے فیصلے کے بعد کولمبو کی ہوٹل انڈسٹری میں بھی جان پڑ گئی، ہزاروں شائقینِ کرکٹ نے فوری طور پر ہوٹلز کی بکنگ شروع کر دی، جس کے باعث کئی بڑے ہوٹلز مکمل طور پر بک ہو چکے ہیں۔

    کولمبو کی ہوٹل انڈسٹری کے ترجمان کا کہنا ہے کہ میچ کے دوران ہر سطح پر معیاری سروسز کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ شہر میں سیکیورٹی، ٹرانسپورٹ اور سہولیات کے حوالے سے بھی جامع منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اس موقع پر ٹورزم، ایئر لائنز اور ٹریول انڈسٹری بھی مکمل طور پر فعال ہو چکی ہے تاکہ دنیا بھر سے آنے والے کرکٹ شائقین کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

    ماہرین کے مطابق یہ میچ نہ صرف کرکٹ بلکہ سفارتی، معاشی اور سیاحتی حوالے سے بھی خطے کے لیے ایک اہم ایونٹ ثابت ہو سکتا ہے۔