Baaghi TV

Blog

  • پی ایس ایل 11: پشاور زلمی نے اوٹس گبسن کو ہیڈ کوچ مقرر کر دیا

    پی ایس ایل 11: پشاور زلمی نے اوٹس گبسن کو ہیڈ کوچ مقرر کر دیا

    پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) سیزن 11 کے لیے پشاور زلمی نے تجربہ کار کوچ اوٹس گبسن کو ٹیم کا ہیڈ کوچ مقرر کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    پشاور زلمی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ وہ آزمودہ اسٹار اوٹس گبسن کو اپنی ٹیم کا ہیڈ کوچ مقرر کرنے پر فخر محسوس کر رہے ہیں،بیان میں انہیں ایک ‘ثابت شدہ رہنما’ قرار دیا گیا جو چیمپئن ذہنیت کے حامل ہیں اور ٹیم کو واضح حکمت عملی، مضبوط قیادت اور واضح مقصد کے ساتھ آگے لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    فرنچائز کے مطابق اوٹس گبسن کی تقرری سے ’ییلو اسٹورم‘ کی مہم مزید مضبوط ہو گئی ہے،پشاور زلمی نے اپنے پیغام میں نئے کوچ کو خوش آمدید کہتے ہوئے انہیں ’زلمی فیملی‘ کا حصہ بننے پر خیرمقدم کیا۔

  • کویتی قیادت کے ساتھ مل کر آگے بڑھنے کے لئے پرعزم ہیں،وزیراعظم

    کویتی قیادت کے ساتھ مل کر آگے بڑھنے کے لئے پرعزم ہیں،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نےپاکستان اور کویت کے سیاسی تعلقات کو سرمایہ کاری، تجارت اور معاشی تعاون میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے دہائیوں پر محیط برادرانہ تعلقات ہیں،ترقی اور خوشحالی کے مشترکہ اہداف کو عملی شکل دینے کے لئے پرعزم ہیں۔

    انہوں نے ان خیالات کا اظہار منگل کو یہاں رقمی اسلامک بینک کو ڈیجیٹل لائسنس کے اجراء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیراعظم نے لائسنس کے اجراء پر رقمی بورڈ کے چیئرمین اور متعلقہ حکام کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ رقمی بینک کو ڈیجیٹل بینکنگ کے لئے لائسنس کا اجراء پاکستان-کویت تعلقات کے لئے بہت اہم ہے، اس سے پاکستان میں بینکاری کے شعبے کو فروغ ملے گا،سیاسی تعلقات کو معاشی تعاون میں تبدیل کرنا اہمیت کا حامل ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کویت کے تعلقات کو سرمایہ کاری، تجارت اور معاشی تعاون میں تبدیل کرنا ہے،اقتصادی شراکت داری کے لئے کویتی قیادت کے ساتھ مل کر آگے بڑھنے کے لئے پرعزم ہیں،ترقی اور خوشحالی کے مشترکہ اہداف کو عملی شکل دینے کے لئے پرعزم ہیں۔

    سی ای او رقمی اسلامک بینک عمیر اعجاز نے کہا کہ شرعی اصولوں کے مطابق بینکاری کا فروغ رقمی بینک کا عزم ہے،رقمی ڈیجیٹل بینکنگ پاکستان میں کیش لیس معیشت کی طرف اہم پیشرفت ہے، رقمی بینک کو تجارتی سرگرمیوں کے لئے لائسنس ملنا اہم سنگ میل ہے، تمام شعبہ زندگی کی مالیاتی نظام میں شمولیت کے لئے پرعزم ہیں،تمام شعبہ زندگی کی ترقی کے لئے مواقع کی فراہمی ترجیح ہو گی۔

    چیئرمین رقمی بورڈ عبداللہ مطیری نے کہا کہ رقمی ڈیجیٹل بینک کو تجارتی سرگرمیوں کے لئے لائسنس کا اجراء تاریخی لمحہ ہے،یہ اقدام پاکستان اور کویت کے درمیان قریبی تعلقات کا بھی عکاس ہے، ترقی اور خوشحالی کے مشترکہ اہداف کے لئے مل کر کام کرنے کے لئے پرعزم ہیں، پاکستان اور کویت کے درمیان قریبی برادرانہ تعلقات ہیں۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی تعلقات کو معاشی ترقی کے لئے بروئے کار لانا ہے،پاکستان سرمایہ کاری کے لئے بہت اہم ملک ہے، رقمی بینک کا آغاز پاکستان کے شاندار معاشی مستقبل پر اعتماد کا مظہر ہے۔تقریب میں وزیراعظم نے چیئرمین رقمی بورڈ عبداللہ مطیری کو رقمی اسلامک بینک کے لئے ڈیجیٹل لائسنس دیا۔

  • بنگلہ دیشی  چیف ایڈوائزر نے شہید عثمان ہادی کے اہلِخانہ کو فلیٹ کی دستاویزات حوالے کردیں

    بنگلہ دیشی چیف ایڈوائزر نے شہید عثمان ہادی کے اہلِخانہ کو فلیٹ کی دستاویزات حوالے کردیں

    بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے منگل کے روز شہید شریف عثمان ہادی کے اہلِ خانہ کو ایک رہائشی فلیٹ کی ملکیت کی دستاویزات اور چابیاں باضابطہ طور پر حوالے کردیں۔

    بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق یہ تقریب اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس جمنا میں منعقد ہوئی، جس میں شہید شریف عثمان ہادی کی اہلیہ اور دیگر اہلِ خانہ شریک تھے،دارالحکومت ڈھاکہ کے علاقے لال متیا میں واقع یہ تیار شدہ فلیٹ نیشنل ہاؤسنگ اتھارٹی کی جانب سے سرکاری سرپرستی کے تحت اہلِ خانہ کو الاٹ کیا گیا۔

    تقریب میں کئی اعلیٰ حکومتی عہدیداران بھی موجود تھے، جن میں ہاؤسنگ و پبلک ورکس کے مشیر عادل الرحمٰن خان، اطلاعات کی مشیر سیدہ رضوانہ حسن، وزارتِ ہاؤسنگ و پبلک ورکس کے سیکریٹری محمد نذرالاسلام، اور نیشنل ہاؤسنگ اتھارٹی کی چیئرپرسن فردوسی بیگم شامل تھیں یہ اقدام قومی مقاصد کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کے خاندانوں کو ادارہ جاتی معاونت اور سرکاری سطح پر اعتراف فراہم کرنے کے حکومتی عزم کا مظہر ہے۔

  • نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کو مسترد کرتے ہیں،حکومت فیصلہ واپس لے،خالد مسعود سندھو

    نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کو مسترد کرتے ہیں،حکومت فیصلہ واپس لے،خالد مسعود سندھو

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ حکمرانوں کی توانائی کے حوالہ سے کوئی مستقل پالیسی نہیں ، آئے روز نئے فیصلے کر کے قوم کو پریشان کرنا اور غریبوں کو دیا گیا ریلیف واپس لینا حکمرانوں کا وطیرہ بن چکا ہے،سولر صارفین سے بجلی سستے داموں خرید کر پھر مہنگی بیچنا حکومت کا عوام دشمن، ظالمانہ فیصلہ ہے، اسےمسترد کرتے ہیں

    ان خیالات کا اظہار انہوں‌نے نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز پر ردعمل دیتے ہوئے کیا، خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ یوں لگتا ہے کہ حکمران خود عیاشیاں کرنے حکومت میں آئے، غریب عوام کی کسی کو کوئی فکر نہیں،سولر سے متعلق نیا فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ موجودہ حکومت عام شہری کو ریلیف نہیں دینا چاہتی،بھاری بھر بجلی کےبلوں نے عوام کی کمر توڑ دی تھی،جس کے بعد عوام مہنگی بجلی، لوڈشیڈنگ اور حکومتی نااہلی سے تنگ آکر سولر کی طرف گئی،اب سولر کا نیا ریگولیشن عوام کے حق پر کھلا ڈاکہ ہے،مرکزی مسلم لیگ عوامی حقوق کے تحفظ کے لئے میدان میں ہو گی، ہم حکومت کے غلط فیصلوں کو مسترد کرتے ہیں،ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام دشمن فیصلہ فوراً واپس لیا جائے، بجلی مافیا کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے بجائے غریب شہریوں کو ریلیف دیا جائے.

  • پاکستان نے  بہترین ڈپلومیسی سے کھیل بچا لیا، بھارتی میڈیا کا بڑا اعتراف

    پاکستان نے بہترین ڈپلومیسی سے کھیل بچا لیا، بھارتی میڈیا کا بڑا اعتراف

    پاکستان کی جانب سے ٹی 20 ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف کھیلنے کے فیصلے کو جہاں دنیا بھر کے کرکٹ شائقین نے خوش آئند قرار دیا، وہیں بھارتی میڈیا بھی پاکستان کی کامیاب سفارتی حکمتِ عملی کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکا۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان نے ایک بار پھر کرکٹ کو سیاست سے بالاتر رکھتے ہوئے دانشمندانہ اور موثر ڈپلومیسی کا مظاہرہ کیا ہے، جس کے باعث عالمی توجہ پاکستان پر مرکوز ہو گئی ہے، بھارتی میڈیا نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کے اس فیصلے نے بھارت کو بھی ایک مشکل سفارتی صورتحال میں لا کھڑا کیا ہے۔

    بھارتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان نے نہ صرف کرکٹ کے عالمی مفاد کو ترجیح دی بلکہ ایک مثبت پیغام بھی دیا کہ کھیل کو کشیدگی کی نذر نہیں ہونا چاہیے بعض بھارتی میڈیا ادارے اپنی ہی حکومت کی سخت پالیسیوں پر تنقید کرتے دکھائی دیے اور کہا کہ ‘پاکستان کے بغیر کرکٹ واقعی ادھوری رہتی ہے’ اور پاکستان کا یہ فیصلہ کرکٹ کے لیے خوش آئند ہے۔

    دوسری جانب ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہائی وولٹیج میچ کے اعلان نے شائقینِ کرکٹ کو جوش و خروش میں مبتلا کر دیا ہے میچ کے اعلان کے فوری بعد ممبئی سے کولمبو جانے والی پروازوں کے ایئر ٹکٹس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے کرایوں میں دو لاکھ پاکستانی رو پے تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ متعدد پروازیں پہلے ہی فل ہو چکی ہیں۔

    پاکستان حکومت کی جانب سے میچ کھیلنے کے فیصلے کے بعد کولمبو کی ہوٹل انڈسٹری میں بھی جان پڑ گئی، ہزاروں شائقینِ کرکٹ نے فوری طور پر ہوٹلز کی بکنگ شروع کر دی، جس کے باعث کئی بڑے ہوٹلز مکمل طور پر بک ہو چکے ہیں۔

    کولمبو کی ہوٹل انڈسٹری کے ترجمان کا کہنا ہے کہ میچ کے دوران ہر سطح پر معیاری سروسز کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ شہر میں سیکیورٹی، ٹرانسپورٹ اور سہولیات کے حوالے سے بھی جامع منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اس موقع پر ٹورزم، ایئر لائنز اور ٹریول انڈسٹری بھی مکمل طور پر فعال ہو چکی ہے تاکہ دنیا بھر سے آنے والے کرکٹ شائقین کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

    ماہرین کے مطابق یہ میچ نہ صرف کرکٹ بلکہ سفارتی، معاشی اور سیاحتی حوالے سے بھی خطے کے لیے ایک اہم ایونٹ ثابت ہو سکتا ہے۔

  • ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: سری لنکن بیٹسمین  کے بھارتی کرکٹ ٹیم پر سنگین الزامات عائد

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: سری لنکن بیٹسمین کے بھارتی کرکٹ ٹیم پر سنگین الزامات عائد

    سری لنکا کے بیٹر بھانوکا راجاپکشا نے بھارتی کرکٹ ٹیم پر سنگین الزامات عائد کر دیے ہیں۔

    نیوز وائر سے گفتگو کرتے ہوئے بھانوکا راجاپکشا نے دعویٰ کیا کہ بھارتی کھلاڑی ایسے مخصوص بیٹس استعمال کر رہے ہیں جو دیگر ٹیموں کو دستیاب بیٹس کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقت پیدا کرتے ہیں، ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے بیٹس پر ربڑ کی کوئی تہہ لگی ہو، جو عام طور پر دستیاب نہیں ہوتی، بھارتی کھلاڑیوں کے بیٹس ہمارے بہترین بیٹس سے بھی کہیں زیادہ طاقتور ہیں، یہ بیٹس عام کھلاڑی خرید بھی نہیں سکتے، تمام کھلاڑی اس حقیقت سے واقف ہیں۔

    تاحال اس معاملے پر آئی سی سی کو کوئی باضابطہ شکایت موصول نہیں ہوئی اور نہ ہی بھارتی ٹیم یا عالمی کرکٹ ادارے کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے آیا ہے قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ بھانوکا راجاپکشا خود اس وقت جاری ورلڈ کپ اسکواڈ کا حصہ نہیں ہیں۔

    یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اس سے قبل کچھ پاکستانی صحافیوں اور سابق کرکٹرز نے بھی آئی سی سی پر کولمبو میں پاکستان کے خلاف خصوصی پچز تیار کرنے کے الزامات عائد کیے تھے، جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پچز پر اضافی گھاس رکھ کر پاکستانی اسپنرز کو نقصان پہنچایا گیا۔

    یہ پہلا موقع نہیں کہ بھارتی کرکٹ ٹیم کو آئی سی سی ایونٹس میں ایسے الزامات کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ 2023 کے ون ڈے ورلڈ کپ کے دوران بھی بعض سابق پاکستانی کرکٹرز نے الزام لگایا تھا کہ بھارتی بولرز کو خصوصی گیندیں فراہم کی جا رہی ہیں، جن سے غیر معمولی سوئنگ حاصل ہو رہی تھی، خاص طور پر محمد شامی کی شاندار کارکردگی کے بعد یہ بحث شدت اختیار کر گئی تھی۔

  • اُردُو زبان کے فروغ میں عُلماء و مدارس کا کردار،تحریر : یوسف طاہر

    اُردُو زبان کے فروغ میں عُلماء و مدارس کا کردار،تحریر : یوسف طاہر

    ھماری قومی زبان اردو مختلف عالمی زبانوں جیسا کہ عربی، فارسی اور ترکی وغیرہ کا ایک شائستہ امتزاج ھے۔ اردو برصغیر کی تمام اقوام کے رابطے اور اظہار کی زبان ہے۔

    اس زبان کو ترتیب دینے کا سبب اگر مختلف اقوام کا میل جول بنا۔ اسکی ترقی میں مغلیہ درباروں، ادباء، شعراء اور تخلیق کاروں نے اپنا اپنا حصہ ڈالا تو اسکو پھیلانے میں سب سے مؤثر کردار علماء اور مدارس کا ہے۔ انکی بدولت ہی اردو زبان درباروں، ایوانوں اور کلیات سے نکل کر مجالس تک پہنچی، جہاں اسے تقویت ملی اور اسکے ارتقاء کا سفر جاری ہوا۔جو آج تک عمدگی سے جاری ہے۔
    اس وقت بدقسمتی سے ھمارے ملک میں تعلیمی زبان انگریزی بن چکی ہے جسکا اپنا مستقبل پائیدار نہیں۔ کیونکہ (جدید روابط کی زبان سے ایک نئی زبان گلوبش تشکیل پا رہی ہے) انگریزی زبان، ھر شخص کی نفسیات کو ٹھوس اور جامد طریقے سے منفی طور پر متأثر کر رہی ہے۔اس زبان کے سبب معاشرہ سماجی تفاوت کا شکار ہو رہا ہے۔
    اردو زبان کی ترویج میں انگریز نے سن 1803 میں فورٹ ویلیئم کالج کلکتہ کی بنیاد رکھی جہاں برطانوی افسران کو اردو زبان مخصوص اردو میں سکھائی جاتی مثلاً یہ ایک کتاب ہے۔ Yeh ek kitab hae. جیسا کہ اب ھم موبائیل پہ پیغام یا گفتگو کرتے ہیں۔
    چونکہ اس سے بہت پہلے اردو عوامی زبان کی حیثیت رکھتی تھی۔
    اردو زبان، مادری اور علاقائی زبانوں کے فروغ میں علماء اور مدارس کا کردار ھمیشہ مرکزی رہا ہے۔ نصاب، خطاب اور مکالمے کی زبان اردو ہی مقدم رہی۔ مدارس کا نصاب، تعلم اور دورے (کورسز)عربی، فارسی اور اردو زبان کا مرکب تھے بھی اور ھیں بھی جہاں سے فارغ التحصیل افراد نہ صرف طلباء بلکہ عوام کے درمیان رہ کر کتاب اور خطاب سے اردو اور علاقائی زبانوں میں مختلف علمی و سماجی موضوعات پر عوام کی رہنمائی کرتے ہیں۔ آج بھی ان علماء کی ابلاغ کی زبان نوے فیصد

    اردو جوکہ عربی اور فارسی کا پس منظر رکھتی ہے ھوتی ہے جس میں نو سے دس فیصد علاقائی بولی ھوتی ہے۔ پورے خطاب میں انگریزی کے چند الفاظ ماحول کی مناسبت سے محض بات سمجھانے کی خاطرھوسکتے ہیں۔
    علماء و مدارس کا اردو زبان کے ارتقاء میں تاریخی، سماجی اور دائمی کردار ھے۔ یہ کردار اور قابلِ قدر حصہ تہزیبی، مسالک اور نظریات کی تفریق سے بالاتر ھے۔قومی اور علاقائی زبانوں کا فروغ مزھب، ملک و قوم کی ایک عمدہ ترین خدمت ہے۔

  • کراچی  ایئر پورٹ پر ناقص انتظامات،سحر کامران قومی اسمبلی میں پھٹ پڑیں

    کراچی ایئر پورٹ پر ناقص انتظامات،سحر کامران قومی اسمبلی میں پھٹ پڑیں

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران سمیت دیگر ارکان نے کراچی جناح انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر ناقص انتظامات اور بدانتظامی پر شدید احتجاج کیاہے

    پیپلز پارٹی کی رہنما رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا تھا کہ کراچی جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اس وقت لوگوں کو شدید اذیت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، طویل اور لمبی قطاریں لوگوں کے وقت کے ضیاع اور مشکلات کی وجہ بن رہی ہیں، ایم کیو ایم کے رہنما امین الحق نے کہا کہ کراچی ایئر پورٹ خستہ حالی کا شکار ہو رہا ہے، امیگریشن سسٹم کو اپ گریڈ کیا جانا چاہیے، ایئر پورٹ پر عوام ذلیل ہو رہے ہیں۔پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ مری نے اجلاس میں کہا کہ کراچی ایئر پورٹ پر مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور امیگریشن کلیئرنس اور آمد کے عمل کے دوران مسائل آ رہے ہیں،انہوں نے سول ایوی ایشن کی نااہلی کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے جناح ایئر پورٹ کے نظام کو درست کرنے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا،اختیار بیگ نے کہا کہ ایئر پورٹ پر دستاویزات رکھنے والوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

    ن لیگی رہنما طارق فضل چوہدری نے کہا کہ کراچی ایئر پورٹ معیشت کے لیے اہمیت کا حامل ہے اور ارکان کی تجاویز کو ایڈریس کیا جائے گا، ایئر پورٹس کو آؤٹ سورس کرنے کی ضرورت ہے، اسلام آباد ایئر پورٹ سے متعلق فیصلہ کیا جا رہا ہے، کل متعلقہ وفاقی وزیر اس مسئلے پر جواب دیں گے

  • ٹک ٹاکر علینہ عامر کی مبینہ لیک ویڈیوپراہم پیشرفت

    ٹک ٹاکر علینہ عامر کی مبینہ لیک ویڈیوپراہم پیشرفت

    پاکستانی معروف ٹک ٹاکر علینہ عامر کی مبینہ لیک ویڈیو کے معاملے میں پیش رفت سامنے آئی ہے

    فوٹوز اینڈ ویڈیوز شیئرنگ پلیٹ فارم انسٹاگرام پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے ٹک ٹاکر علینہ عامر نے کہا ہے کہ ویڈیو لیک کرنے والوں کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا،انہوں نے سوشل میڈیا پر ویڈیو پوسٹ شیئر کرتے ہوئے کیپشن میں لکھا کہ الحمدللّٰہ! ایف آئی آر درج ہو چکی ہے، اس معاملے میں ملوث کسی بھی شخص کو نہیں بخشا جائے گا،میں نے یہ اقدام صرف اپنے لیے نہیں بلکہ اس مقصد کے تحت اٹھایا ہے کہ آئندہ کوئی اور لڑکی اس طرح کے استحصال کا شکار نہ ہو،میری فیک ویڈیو بنانے والوں اور اسے شیئر کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی، میں اس کیس کو انصاف کی فراہمی کے لیے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے پُرعزم ہوں۔

    علینہ عامر نے بروقت کارروائی اور ایف آئی آر کے اندراج پر وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز، حنا بٹ اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کا خصوصی شکریہ بھی ادا کیا اور کہا کہ اس کیس میں ملوث تمام ذمے داران کو گرفتار کر کے سزا دی جانی چاہیے تاکہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کے خلاف ایک واضح اور مضبوط مثال قائم کی جا سکے۔

  • کراچی: میری ٹائم سیکیورٹی مشق سی گارڈ-26 کامیابی سے اختتام پذیر

    کراچی: میری ٹائم سیکیورٹی مشق سی گارڈ-26 کامیابی سے اختتام پذیر

    پاکستان نیوی کے زیرِ اہتمام میری ٹائم سیکیورٹی مشق سی گارڈ-26 کراچی میں ڈی بریف سیشن کے ساتھ اختتام پذیر ہو گئی، اختتامی تقریب کے مہمانِ خصوصی چیف آف اسٹاف پاکستان نیوی وائس ایڈمرل راجا رب نواز تھے۔

    ڈی بریف سیشن کے دوران مشق میں شامل اداروں کے نمائندگان کو مختلف منظرناموں کا تفصیلی تجزیاتی جائزہ پیش کیا گیا، جبکہ بحری شعبے میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے معلومات کے تبادلے اور مشترکہ ردِعمل کے نظام کی جانچ بھی کی گئی۔

    وائس ایڈمرل راجا رب نواز نے مشق کے پیشہ ورانہ انعقاد اور بحری شعبے کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ہم آہنگ کرنے میں جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن کوآرڈینیشن سینٹر (JMICC) کے مؤثر کردار کو سراہا انہوں نے اسٹیک ہولڈرز کے مابین مسلسل روابط اور تعاون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ملکی بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پاک بحریہ کے عزم کا اعادہ کیا۔

    سی گارڈ سیریز کی تیسری مشق میں بحری شعبے سے تعلق رکھنے والے مختلف سرکاری ریگولیٹری اداروں، قانون نافذ کرنے والے اداروں، سمندری نجی تنظیمو ں اور تعلیمی حلقوں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ مشق کا مقصد سمندر میں درپیش کثیرالجہتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی کو فروغ دینا تھا، مشق کے دوران بندرگاہوں کی سیکیورٹی، بحری جہازوں اور انفراسٹرکچر کا تحفظ، انسدادِ منشیات کارروائیاں اور سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز شامل رہے۔