Baaghi TV

Blog

  • گل پلازہ آتشزدگی کیس: جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں انکوائری کمیشن قائم

    گل پلازہ آتشزدگی کیس: جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں انکوائری کمیشن قائم

    وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار کی ہدایت پر گل پلازہ آتشزدگی کیس کیلئے ہائیکورٹ کے جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں باضابطہ انکوائری کمیشن قائم کر دیا گیا ہے، جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا۔

    وزیر داخلہ سندھ کے مطابق انکوائری کمیشن گل پلازہ کی تعمیراتی منظوری، لیز کی قانونی حیثیت اور بلڈنگ پلان کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرے گا، جبکہ ایمرجنسی انخلا کے راستوں میں رکاوٹوں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔

    انہوں نے ہدایت کی کہ آگ بجھانے کے انتظامات، فائر سیفٹی آڈٹ میں ممکنہ کوتاہیوں کا تعین کیا جائے، جبکہ کمیشن آتشزدگی کی وجوہات، پیش آنے والے حالات اور ریسکیو آپریشن کی رفتار کا بھی معائنہ کرے گا وزیر داخلہ سندھ نے غفلت کے مرتکب سرکاری افسران اور بلڈنگ مینجمنٹ کے خلاف ذمہ داری فکس کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ کسی کو بھی قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔

    ان کے مطابق جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں انکوائری کمیشن 8 ہفتوں کے اندر اپنی تحقیقاتی رپورٹ مکمل کرے گا، جبکہ کمشنر کراچی کو کمیشن کے لیے مکمل سیکرٹریٹ سپورٹ فراہم کرنے کا حکم دیا گیا ہے،وزیر داخلہ سندھ نے واضح کیا کہ حکومت سندھ متاثرین گل پلازہ کی داد رسی میں کسی قسم کی تاخیر نہیں کرے گی اور سخت اقدامات و مؤثر تحقیقات کے ذریعے حقائق کو منظر عام پر لایا جائے گا۔

  • اورکزئی  ، افغانستان سے دراندازی کی کوشش ناکام، 5 دہشتگرد ہلاک

    اورکزئی ، افغانستان سے دراندازی کی کوشش ناکام، 5 دہشتگرد ہلاک

    اورکزئی ضلع کے حساس سرحدی علاقے واچاپالہ میں سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے دہشتگردوں کے ایک گروہ کو ناکام بنا دیا۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کارروائی کی گئی، جس کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
    ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی کے نتیجے میں 5 دہشتگرد ہلاک ہو گئے جبکہ 3 سے 4 دہشتگرد شدید زخمی حالت میں فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، جن کی تلاش کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔ فائرنگ کے تبادلے کے دوران سیکیورٹی فورسز کے تمام اہلکار محفوظ رہے۔سیکیورٹی حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشتگردوں کا تعلق ایک کالعدم تنظیم سے تھا اور وہ سرحد پار سے پاکستان میں داخل ہو کر تخریبی کارروائیاں کرنے کا منصوبہ رکھتے تھے۔ فورسز نے دہشتگردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر مشتبہ سامان بھی برآمد کر لیا ہے۔

    واقعے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر کلیئرنس اور کومبنگ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا مکمل طور پر خاتمہ کیا جا سکے۔ مقامی آبادی کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ ملک دشمن عناصر کی ہر سازش کو ناکام بنایا جائے گا اور پاکستان کی سرحدوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ دہشتگردی کے خلاف جاری آپریشنز اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک علاقے میں مکمل امن قائم نہیں ہو جاتا۔

    مقامی قبائلی عمائدین اور شہریوں نے سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ فورسز کی قربانیاں علاقے میں امن کے قیام کی ضمانت ہیں۔ عوام نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فورسز کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔

  • پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان اقتصادی و سرمایہ کاری تعلقات کو مضبوط بنانے پر اتفاق

    پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان اقتصادی و سرمایہ کاری تعلقات کو مضبوط بنانے پر اتفاق

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے انڈونیشیا کے وزیر برائے سرمایہ کاری و ڈاؤن اسٹریم انڈسٹری اور خودمختار ویلتھ فنڈ کے چیف ایگزیکٹو روزان روزلانی سے وفد کی سطح پر ملاقات کی۔

    ملاقات میں پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان اقتصادی اور سرمایہ کاری تعلقات کو مضبوط بنانے، ممکنہ مشترکہ منصوبوں اور باہمی مفاد پر مبنی تعاون کے مواقع کا جائزہ لیا گیا صحت سمیت ترجیحی شعبوں میں بہترین تجربات کے تبادلے اور تعاون پر بھی گفتگو ہوئی-

    اجلاس کے دوران وزارتِ خزانہ، اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل (SIFC) اور بورڈ آف انویسٹمنٹ کی جانب سے پاکستان کے سرمایہ کاری ماحول، ترجیحی شعبوں اور سہولت کاری کے نظام پر بریفنگ دی گئی، جبکہ انڈونیشیا کے خودمختار ویلتھ فنڈ اور ڈاؤن اسٹریم سرمایہ کاری کے تجربے سے استفادے پر بھی بات چیت کی گئی۔

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے پاکستان اور انڈونیشیا کے دیرینہ دوطرفہ تعلقات کو باہمی احترام اور تعاون پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ باہمی سرمایہ کاری دونوں ممالک کی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

    ملاقات میں وزیر صحت، معاون خصوصی برائے وزیراعظم طارق باجوہ، چیئرمین بورڈ آف انویسٹمنٹ، نیشنل کوآرڈینیٹر SIFC، سیکریٹری خزانہ، قائم مقام سیکریٹری خارجہ اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

  • فتنہ الخوارج اور نور ولی کے جھوٹے جہاد کا پردہ فاش،ریاستِ پاکستان کی اسلامی حیثیت کی توثیق

    فتنہ الخوارج اور نور ولی کے جھوٹے جہاد کا پردہ فاش،ریاستِ پاکستان کی اسلامی حیثیت کی توثیق

    پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اور اس کی قانون سازی اسلامی تعلیمات پر مبنی ہے۔ اسلامی ریاستِ پاکستان کے خلاف مسلح جہاد کا اعلان دین کا صریح غلط استعمال ہے۔

    پیغامِ پاکستان کے تحت 1,800 علما کی متفقہ توثیق سے جاری فتوٰی قتلِ ناحق واضح کرتا ہے کہ فتنہ الخوارج کی جدوجہد شریعت کی تعلیمات کے خلاف ہے اور ریاستی اداروں کو ان کے خلاف سخت اقدامات کا پابند بناتا ہے۔ پاکستان ایک خودمختار ریاست ہے جو ہر مسلمان کے احترام اور اپنے قومی مفادات کے تحفظ کی ذمہ دار ہے۔نور ولی اسلام کو مسخ کر کے غیر ملکی ایجنڈوں کی خدمت، تشدد کو ہوا دینے اور کمزور طبقات کو استعمال کر کے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ نور ولی کے پاس کوئی جائز دینی اختیار نہیں۔ وہ نہ تسلیم شدہ دینی تعلیم رکھتا ہے، نہ سند اور نہ ہی علمی قبولیت۔ وہ محض ایک خودساختہ مفتی ہے۔ پیغامِ پاکستان کے ذریعے 1,800 سے زائد علما نے نور ولی کے فتنہ الخوارج کے نظریے اور نام نہاد جہاد کو متفقہ طور پر حرام اور غیر اسلامی قرار دیا ہے، بالخصوص معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کے باعث۔ فتنہ الخوارج کے سربراہ کے طور پر نور ولی جدید خوارج کی نمائندگی کرتا ہے جو لالچ اور اقتدار کے حصول کے لیے دین کو ذاتی مفاد میں استعمال کرتا اور محفوظ ٹھکانوں سے تشدد کی ہدایات دیتا ہے۔ یہ طرزِ عمل اسے مجاہد نہیں بلکہ جھوٹا قائد ثابت کرتا ہے۔

    مفتی تقی عثمانی نے واضح کیا ہے کہ اسلامی آئین کے تحت چلنے والی ریاستِ پاکستان جائز اسلامی اختیار کی حامل ہے اور اس کے خلاف بغاوت شرعاً ناجائز اور حرام ہے۔

    پاکستان کے خلاف مسلح جہاد کا اعلان اسلامی فقہ میں بغاوت اور فساد فی الارض کے زمرے میں آتا ہے۔ خوف، بدامنی اور خونریزی پر مبنی تشدد کو مذہبی نعروں سے جائز نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

    نور ولی جہاد کے تصور کو تکفیر، انتہاپسندی اور سیاسی خواہشات سے جوڑ کر مسخ کرتا ہے جبکہ اسلام جہاد کو عدل، ضبط اور اخلاقی ذمہ داری کے اصولوں سے جوڑتا ہے۔ قرآن کی آیت 5:32 انسانی جان کی حرمت کو قائم کرتی ہے جو دہشت گردی کی صریح نفی ہے۔

    وفاق المدارس جو پاکستان کے دینی مدارس کی سب سے بڑی تنظیم ہے نے انتہاپسندی اور ہر قسم کے تشدد کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مدارس علم، اخلاقی تربیت، امن اور اصلاح کے مراکز ہیں نہ کہ بغاوت کے۔ وفاق المدارس نے واضح اعلان کیا ہے کہ فتنہ الخوارج کی جانب سے مسلح جدوجہد، دہشت گردی اور تشدد اسلام سے بنیادی طور پر متصادم اور اس کی اخلاقی و دینی تعلیمات کی توہین ہیں۔

    رسول اللہ ﷺ نے جنگ کے واضح اخلاقی اصول مقرر فرمائے جن میں غیر جنگجوؤں کو نقصان پہنچانے کی سخت ممانعت شامل ہے۔ طاہرالقادری کے مطابق جہاد کبھی بھی شہریوں پر حملوں کو جائز قرار نہیں دیتا اور جہاد کے اعلان کا اختیار صرف ریاست کو حاصل ہے۔

    مفتی عبدالرحیم کے مطابق جہاد کا اختیار صرف ریاست کے پاس ہے اور اس اصول پر اسامہ بن لادن اور ملا عمر بھی علمی مباحث کے بعد متفق تھے۔ یہ حقیقت پاکستان میں دہشت گردی کی اصل نوعیت یعنی فتنہ الخوارج کے خودساختہ نام نہاد جہاد کو بے نقاب کرتی ہے۔

    مولانا عبداللہ خلیل نے مساجد، مدارس اور علما پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مقدس مقامات اور دینی شخصیات پر تشدد خود اسلام کو کمزور کرتا ہے اور فساد و انتشار پھیلاتا ہے۔

    مفتی طیب قریشی نے اسلام کے نام پر دہشت گردی کو جائز ٹھہرانے کے خلاف خبردار کیا اور زور دیا کہ اسلام امن اور ہم آہنگی کا دین ہے۔ اسلام کو تشدد سے جوڑنا اس کی تعلیمات کی تحریف، عالمی اسلام دشمنی کو ہوا دینے اور دوسروں کو نقصان پہنچانے کی شرعی ممانعت کی خلاف ورزی ہے۔

    اسلام جہاد کو عدل، امن اور بے گناہوں کے تحفظ کی جدوجہد قرار دیتا ہے نہ کہ دہشت اور جبر کا ہتھیار۔ پیغامِ پاکستان نے فتنہ الخوارج کو تکفیری قرار دے کر اس کے اعمال کو حرام اور اس کے نام نہاد جہاد کو دین کے لبادے میں اقتدار کی خونریز جدوجہد بے نقاب کیا ہے۔

  • اے مردِ مجاہد تیری یلغار کہاں ہے،بھارتی سکول میں پاکستانی جنگی ترانہ چل گیا

    اے مردِ مجاہد تیری یلغار کہاں ہے،بھارتی سکول میں پاکستانی جنگی ترانہ چل گیا

    بھارتی ریاست مہاراشٹر کے ضلع یاوت مال کے ایک سرکاری اسکول میں پاکستان کا جنگی دور کا مشہور ملی نغمہ چلائے جانے کا واقعہ سامنے آیا ہے، جس نے بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی ہے۔

    واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے، جس میں کم عمر بھارتی طلبہ کو پاکستانی فوجی ترانے "اے مردِ مجاہد تیری یلغار کہاں ہے” پر تلواروں کے ساتھ ڈانس کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسکول کے طلبہ ایک باقاعدہ پرفارمنس کے دوران ہاتھوں میں تلواریں تھامے ملی جوش و جذبے کے انداز میں حرکات کر رہے ہیں، جبکہ پس منظر میں پاکستانی افواج کا مشہور جنگی ترانہ بج رہا ہے۔

    یاد رہے کہ "اے مردِ مجاہد تیری یلغار کہاں ہے” 1965 کی پاک-بھارت جنگ کے دوران پاکستانی افواج اور عوام کا حوصلہ بلند کرنے کے لیے نشر کیا گیا تھا اور آج بھی پاکستان کے مقبول ترین ملی نغموں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ نغمہ بھارتی فوج کے خلاف جنگی پس منظر رکھتا ہے، جس کے باعث بھارت میں اس کے سرکاری اسکول میں بجنے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق مقامی تعلیمی حکام نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے کہ یہ نغمہ کس کی اجازت سے چلایا گیا اور اسکول انتظامیہ کی جانب سے اس معاملے میں کس سطح پر غفلت برتی گئی۔ ابتدائی طور پر خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اسکول کے اساتذہ یا پروگرام کے منتظمین نے گانے کے پس منظر اور حساسیت پر توجہ نہیں دی۔

  • مولانا فضل الرحمان کا کم عمری کی شادی کیخلاف قانون کو چیلنج ،شرمیلا فاروقی کا   سخت ردعمل

    مولانا فضل الرحمان کا کم عمری کی شادی کیخلاف قانون کو چیلنج ،شرمیلا فاروقی کا سخت ردعمل

    مولانا فضل الرحمان کی جانب سے کم عمری کی شادیوں کے خلاف قانون کی مخالفت پر پی پی پی کی سینیٹر شرمیلا فاروقی نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے-

    سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے شرمیلا فاروقی نے کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے دھمکی دی گئی کہ اگر صدر مملکت نے دستخط کیے تو ملک گیر احتجاج ہوگا، تاہم صدر آصف علی زرداری نے ‘صحیح سمت میں کھڑے ہونے’ اور ‘اس قوم کی بیٹیوں کے ساتھ کھڑے ہونے’ کا فیصلہ کیا اور بل پر دستخط کیے، جو آج باقاعدہ قانون کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اگر کوئی رکنِ پارلیمان، جو خود قانون ساز ہے، ایوان میں کھڑے ہو کر منظور شدہ قانون کو چیلنج کرتا ہے اور ریاست کو للکارتا ہے تو اس کی سزا کیا ہونی چاہیے؟ تمام اراکین نے حلف اٹھایا ہے کہ وہ آئین اور قانون کے مطابق ایوان کو چلائیں گے، اس لیے منظور شدہ قانون کو چیلنج کرنا پارلیمان کی بالاد ستی کے خلاف ہے۔

    سینیٹر شرمیلا فاروقی نے کہا کہ کم عمری کی شادیوں کے خلاف قانون کو ‘شرعی’ یا ‘اسلامی معاملہ’ قرار دے کر متنازع بنانے کی کوشش درست نہیں یہ قانو ن بچیوں کے تحفظ اور ان کے بنیادی حقوق کے لیے بنایا گیا ہے اور اس پر پہلے بھی مشترکہ اجلاس میں تفصیلی بحث ہو چکی ہے۔

    چیئر کی جانب سے انہیں پوائنٹ آف آرڈر تک محدود رہنے کی ہدایت بھی کی گئی، تاہم انہوں نے مؤقف اپنایا کہ چونکہ وہ اس قانون کی بانیوں میں شامل ہیں اور ایوان اس کا محافظ ہے، اس لیے ان کا جواب دینا ضروری ہے۔

  • غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث 2 ملزمان گرفتار، کروڑوں کی کرنسی برآمد

    غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث 2 ملزمان گرفتار، کروڑوں کی کرنسی برآمد

    کراچی میں ایف آئی اے نے غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث دو ملزمان کو گرفتار کر کے کروڑوں روپے مالیت کی ملکی و غیر ملکی کرنسی برآمد کر لی۔

    ترجمان ایف آئی اے کے مطابق کارروائیاں ایف آئی اے کمرشل بینکنگ سرکل اور کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی نے مشترکہ طور پر کیں،گرفتار ملزمان میں سہیل اور سہروش شامل ہیں، جنہیں ناظم آباد اور گارڈن ایسٹ کراچی سے گرفتار کیا گیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ملزمان بغیر لائسنس کرنسی ایکسچینج کا غیر قانونی کاروبار کر رہے تھے۔

    کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے بڑی مقدار میں ملکی و غیر ملکی کرنسی برآمد ہوئی، جس میں 20050 امریکی ڈالر، 2170 برطانوی پاؤنڈ، 1000 یورو، 8001 قطری ریال، 13600 چینی یوآن، 7800 سعودی ریال، 2000 ترک لیرا، 1300 یو اے ای درہم، 81 بحرینی دینار، 465 ملائیشین رنگٹ، 50 آسٹریلین ڈالر اور 59 لاکھ 33 ہزار سے زائد پاکستانی روپے شامل ہیں، اس کے ساتھ ساتھ موبائل فون اور غیر قانونی کرنسی ایکسچینج سے متعلق اہم شواہد بھی تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔

    ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ملزمان کو گرفتار کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ اس نیٹ ورک میں شامل دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، غیر قانونی مالی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

  • منکی پاکس اور ایچ آئی وی سے متاثرہ ایک اور مریض کی موت

    منکی پاکس اور ایچ آئی وی سے متاثرہ ایک اور مریض کی موت

    نکی پاکس (ایم پاکس) اور ایچ آئی وی سمیت متعدد موذی امراض میں مبتلا ایک اور مریض دورانِ علاج جاں بحق ہو گیا۔ حکام کے مطابق 53 سالہ مریض کا تعلق فیصل آباد سے تھا اور وہ اسلام آباد کے پمز اسپتال میں زیرِ علاج تھا، جہاں ہفتے کے روز اس کا انتقال ہو گیا۔

    صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والا مریض ایم پاکس اور ایچ آئی وی کے ساتھ ساتھ ہیپاٹائٹس بی اور ہیپاٹائٹس سی جیسے سنگین امراض میں بھی مبتلا تھا، جس کے باعث اس کی صحت کی حالت مسلسل بگڑتی رہی۔ ڈاکٹرز کے مطابق مریض کا مدافعتی نظام انتہائی کمزور ہو چکا تھا، جس کی وجہ سے وہ جانبر نہ ہو سکا۔حکام نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان میں اب تک ایم پاکس کے باعث دو مریض جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ایم پاکس سے پہلی ہلاکت دسمبر 2023 میں اسلام آباد میں رپورٹ ہوئی تھی، جس کے بعد ملک میں اس وائرس کے پھیلاؤ پر تشویش میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

    مزید بتایا گیا ہے کہ جاں بحق مریض کی کوئی بیرونِ ملک سفر کی ہسٹری موجود نہیں تھی، جس سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اسے یہ مرض مقامی سطح پر لاحق ہوا۔ حکام کے مطابق یہ صورتحال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان میں ایم پاکس کے پھیلاؤ کے واضح شواہد موجود ہیں۔محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال پاکستان میں ایم پاکس کے 53 کیسز رپورٹ ہوئے تھے، جن میں مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے مریض شامل تھے۔ ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ ایم پاکس جیسی بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بروقت تشخیص، مؤثر نگرانی اور عوامی آگاہی انتہائی ضروری ہے۔

    حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ اگر جلد پر غیر معمولی دانے، بخار، جسم میں درد یا دیگر علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر قریبی اسپتال سے رجوع کریں اور احتیاطی تدابیر پر عمل کریں تاکہ بیماری کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

  • کم عمری کی شادی کو اگر رکن اسمبلی چیلنج کرتا ہے تو اس کی سزا کیا ہو گی؟ شرمیلا فاروقی

    کم عمری کی شادی کو اگر رکن اسمبلی چیلنج کرتا ہے تو اس کی سزا کیا ہو گی؟ شرمیلا فاروقی

    شرمیلا فاروقی نے مولانا فضل الرحمان کو سزا دینے کا مطالبہ کر دیا

    شرمیلا فاروقی نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک کال دی گئی،کہ قانون پر دستخط ہوئے تو ملک گیر احتجاج ہو گا، اب قانون بن گیا،یہ بہت اہم ایشو ہے، جوائنٹ سیشن میں اس پر بات ہوئی، اس قانون پر بات ہو گی، ایک رکن قومی اسمبلی جو خود قانون ساز ہے اس کو چیلنج کرے تو اسکی سزا کیا ہے، آپ نے حلف لیا ہے کہ ایوان کو قانون کے مطابق چلانا ہے، ایک قانون پاس ہوتا ہے اور آپ ریاست کو للکارتے ہیں کہ کر لو جو کرنا ہے، کوئی اس پر سزا دینے والا ہے، یہ شرعی معاملہ نہیں ہے، اسلامی معاملہ نہیں ہے،کم عمری کی شادی کو اگر رکن قومی اسمبلی چیلنج کرتا ہے تو اس کی سزا کیا ہو گی؟

  • پاک بھارت میچ فیصلہ:محسن نقوی کمال کرتا جا رہا جبکہ آئی سی سی نے اپنی ساکھ کھو دی

    پاک بھارت میچ فیصلہ:محسن نقوی کمال کرتا جا رہا جبکہ آئی سی سی نے اپنی ساکھ کھو دی

    حکومتِ پاکستان نے قومی کرکٹ ٹیم کو آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کی اجازت دے دی ہے اس فیصلے کے بعد شائقینِ کرکٹ کی جانب سے مختلف ردِعمل سامنے آ رہے ہیں –

    سوشل میڈیا پر ایک صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بالآخر آئی سی سی نے اپنی ساکھ کھو دی ہے پورا بھارت میچ کے لیے پاکستان کی منتیں کر رہا تھا اور اب پاکستان 15 فروری کو ٹی20 ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میدان میں اترے گا،جبکہ مزمل نامی صارف نے کہا کہ محسن نقوی کمال کرتا جا رہا ہے آئی سی سی کے ساتھ میٹنگ کے لیے بنگلہ دیش کے صدر کو پاکستان بلایا اور اسے ساتھ بیٹھا کر آئی سی سی کے ڈپٹی چئیرمین ساتھ میٹنگ کی بسنت کی خوشیوں میں بھی شامل کیا۔

    فیضان لاکھانی نے لکھا کہ جب ایک ایسے ملک کا صدر عوامی سطح پر آپ کا شکریہ ادا کر رہا ہو اور وہ بھی ایسے میچ کے لیے جس میں اس کی اپنی ٹیم نہ کھیل رہی ہو تو یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ سب کھیل سے کہیں بڑا معاملہ تھا اس سے پاکستانی کی کرکٹ کی دنیا میں اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے اور یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اس معاملے کو حل کرنے کے لیے حکومتی مداخلت کی ضرورت کیوں تھی۔

    ایک اور صارف نے لکھا کہ پاکستان جیت گیا، پاکستان کے بنا انٹرنیشنل کرکٹ نہیں ہو سکتی پاکستان نے آئی سی سی سے ساری شرطیں منوا لیں ہیں،ایک صارف نے لکھا کہ پاکستان عالمی کرکٹ کا دل ہے اور پاکستان کے بغیر کرکٹ نامکمل ہے بھارت اور آئی سی سی نے خود یہ ثابت کر دیا ہے۔

    دوسری جانب پاکستان اورآئی سی سی کے درمیان معاملات طے ہونے کے بعد بھارت میں واویلا مچ گیا۔

    بھارتی میڈیا پر شائع رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ ورلڈ کرکٹ پاکستان کےبغیر نہیں چل سکتی، ہمیں نہ چاہتے ہوئے بھی ان سے ہاتھ ملانا پڑے گا اور گلے ملنا پڑے گا بھارت میڈیا نے مؤقف اپنایا کہ پاکستان نے سفارتی و اسٹریٹیجک طریقے سے بنگلادیش کوجیت لیا پاکستان نے کمزور ہوکر بھی شرائط منوالی، یہ ہندوستان کی بےعزتی ہے،اس کے علاوہ بھارتی میڈیا نے حارث روف کے اشارے کا حوالہ بھی دیا۔