اے ایس پی سید دانیال حسن کا سخت انتباہ غیر رجسٹرڈ کرایہ داروں اور لاپرواہ مالکان کی اب خیر نہیں
گوجرخان، مندرہ اور جاتلی میں پولیس ٹیمیں متحرک کرایہ داری اندراج نہ کرانے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کا فیصلہ
گوجرخان(قمرشہزاد) سرکل گوجرخان میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور سکیورٹی اقدامات کو مزید موثر بنانے کے لیے اے ایس پی سید دانیال حسن کی خصوصی ہدایات پر کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں گوجرخان، مندرہ اور جاتلی سمیت مختلف علاقوں میں پولیس کی خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں جو گھر گھر جا کر کرایہ داروں کے کوائف کی پڑتال کریں گی۔ پولیس حکام کے مطابق، ایسے مالکانِ مکان جو اپنے کرایہ داروں کی رجسٹریشن کرانے میں ناکام رہے ہیں اور وہ کرایہ دار جو بغیر قانونی اندراج کے رہائش پذیر ہیں، ان کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اے ایس پی سید دانیال حسن نے واضح کیا ہے کہ اس معاملے میں کسی قسم کی رعایت یا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور باقاعدہ کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اے ایس پی کا مزید کہنا تھا کہ شہری ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور کسی بھی قسم کی قانونی پریشانی یا گرفتاری سے بچنے کے لیے کرایہ داری ایکٹ پر سو فیصد عمل درآمد یقینی بنائیں۔ پولیس نے عوام سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ ایک محب وطن شہری ہونے کا ثبوت دیں اور فوری طور پر اپنے کرایہ داروں کا اندراج متعلقہ تھانے میں کروائیں۔ خلاف ورزی کی صورت میں سخت قانونی ایکشن لیا جائے گا جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ مالک مکان اور کرایہ دار پر ہوگی۔
Blog
-

کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی، مالکان اور کرایہ داروں کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز
-

تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس کے زیرِ اہتمام مقابلہ کے نتائج،تحریر:عمارہ کنول چودھری
مقابلۂ مضمون نویسی (سیرتُ النبی ﷺ) کے نتائج کا اعلان
عمارہ کنول چودھری
(بانی و سرپرست: تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس)
تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والے مقابلۂ مضمون نویسی برائے سیرتُ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نتائج کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ اس مقابلے میں ملک کے مختلف علاقوں سے اہلِ قلم نے شرکت کی اور سیرتِ طیبہ ﷺ کے مختلف پہلوؤں کو ادبی اور فکری انداز میں اجاگر کیا۔اس مقابلے کی نمایاں خصوصیت یہ رہی کہ مضمون نویسی میں مختلف ادبی و تعلیمی اداروں کی سربراہان اور معلمات نے بھی بھرپور شرکت کی۔نتائج کے مطابق درجہ اوّل محمد یوسف طاہر (بانی، عکسِ ادب، خوشاب) نے حاصل کیا، درجہ دوم بِسمعہ مجید (وہاڑی) کے حصے میں آیا، جبکہ درجہ سوم حمرہ اکرام (بونیر، خیبر پختونخوا) نے حاصل کیا۔
مقابلۂ مضمون نویسی کے نتائج ایک غیر جانبدار اور معتبر شخصیت محترم فضل کریم ورک نے مرتب کیے۔
تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس کی جانب سے تمام فاتحین اور منصف کو سیرتِ طیبہ ﷺ سے متعلق کتب اور اعزازی اسناد سے نوازا جائے گا۔اس مقابلے کا مقصد سیرتِ رسولِ اکرم ﷺ کی تعلیمات کو قومی زبان کے ذریعے عام کرنا اور نئی نسل میں فکری و ادبی شعور بیدار کرنا ہے۔ تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس آئندہ بھی اردو زبان، اسلامی اقدار اور تہذیبی شناخت کے فروغ کے لیے ایسی ادبی و فکری سرگرمیوں کا انعقاد جاری رکھے گی۔مقابلہ مضمون نویسی کے انعقاد سے لے کر نتائج تک مختلف ادبی شخصیات کا تعاون شاملِ حال رہا جن میں محترم مفیظ عباسی رکن شعبہ حضرات تحریک، محترمہ پارس کیانی صدر (مرکزی) شعبہ خواتین،محترم فضل کریم ورک( رکن انجمن ترویج زبان و ادب) اور اقصیٰ گل، عائشہ یسین شامل ہیں۔تحریک دفاع قومی زبان و لباس کی انتظامیہ ، مذکورہ ادبی شخصیات کے اخلاقی تعاون اور ادب دوست کردار پر ان کی کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔
-

بسنت،مجموعی طور پر 20 ارب کا کاروبار،ہر دو ماہ بعد منانے کا مطالبہ آ گیا
لاہور ایک بار پھر بسنت کی رنگا رنگ بہاروں میں نہا گیا، جہاں تین روز تک جشن کا سماں رہا۔ ملک بھر سے لاکھوں شہری بسنت منانے لاہور پہنچے، جس کے باعث شہر میں غیر معمولی گہما گہمی دیکھنے میں آئی۔ بسنت کے موقع پر اربوں روپے کا کاروبار ہوا جبکہ ٹرانسپورٹ، ہوٹلنگ، فوڈ انڈسٹری اور دیگر شعبوں میں بھی زبردست تیزی ریکارڈ کی گئی۔
بسنت کی تعطیلات کے دوران لاہور آنے والے شہریوں کی بڑی تعداد کے باعث ٹرانسپورٹ پر مسافروں کا شدید رش رہا۔ بسیں، ویگنز اور دیگر سفری ذرائع مکمل طور پر بھرے رہے جبکہ شہر کے تقریباً تمام بڑے ہوٹل اور گیسٹ ہاؤسز مکمل طور پر بُک ہو گئے۔ انتظامیہ کے مطابق شہریوں اور سیاحوں کی آمد سے مقامی معیشت کو نمایاں فائدہ پہنچا۔حکومت پنجاب کی جانب سے بسنت کے موقع پر شہر بھر میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے۔ پولیس، ریسکیو اور دیگر ادارے تین دن تک متحرک رہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حفاظتی ایس او پیز پر عمل درآمد کے باعث مجموعی طور پر بسنت کا تہوار خیریت سے اختتام پذیر ہوا۔
آل پاکستان کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کی جانب سے بسنت کے کامیاب انعقاد پر ایک پریس کانفرنس بھی منعقد کی گئی۔ اس موقع پر پیٹرن ان چیف عقیل ملک نے بتایا کہ صرف گڈی اور ڈور کی مد میں تقریباً 3 ارب روپے جبکہ مجموعی طور پر بسنت کے دوران 20 ارب روپے کا کاروبار ہوا، جس میں ہوٹل بکنگ، ٹرانسپورٹ، فوڈ انڈسٹری اور دیگر سرگرمیاں شامل ہیں۔عقیل ملک نے کہا کہ بسنت کا تہوار مجموعی طور پر پُرامن رہا اور وہ سانحہ اسلام آباد کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے حکومت پنجاب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی تعاون اور تجاویز سننے کے باعث یہ تہوار کامیابی سے ممکن ہو سکا۔ انہوں نے بتایا کہ کائٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے 15 ہزار راڈ بھی تقسیم کیے گئے تاکہ حفاظتی اقدامات کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔پریس کانفرنس میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ بانس مافیا کی جانب سے ریٹس تین گنا تک بڑھا دیے گئے، جس پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ عقیل ملک نے اعلان کیا کہ اگلے سال پورے پنجاب میں بسنت منائی جائے گی اور گڈی و ڈور کے ریٹس بھی باقاعدہ مقرر کیے جائیں گے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔
صدر آل پاکستان کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن شیخ شکیل نے کہا کہ بسنت کا تہوار ہر دو ماہ بعد ہونا چاہیے تاکہ غیر ملکی سیاح بھی پاکستان کا رخ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دوبارہ بسنت منعقد کی گئی تو قیمتوں پر قابو رکھنے کے لیے سخت نگرانی کی جائے گی۔
دوسری جانب پولٹری ایسوسی ایشن نے بتایا کہ بسنت کے تین دنوں میں مرغی کے گوشت کی فروخت 10 ارب 75 کروڑ روپے تک جا پہنچی، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بسنت سے فوڈ انڈسٹری کو بھی غیر معمولی فائدہ ہوا۔
انتظامیہ کے مطابق بسنت کے موقع پر شہر میں 10 لاکھ سے زائد گاڑیوں کی آمد ریکارڈ کی گئی، جس کے نتیجے میں کروڑوں روپے کا ٹول ٹیکس بھی جمع ہوا۔
واضح رہے کہ بسنت کا میلہ نہ صرف مقامی کاروبار جیسے پتنگ سازی، ڈور اور کھانے پینے کے اسٹالز کو فروغ دیتا ہے بلکہ یہ غیر ملکی سیاحوں کو راغب کرنے کا بھی ایک بڑا ذریعہ ہے۔ پنجاب حکومت اور انتظامیہ کی یہ کوشش قابلِ ستائش قرار دی جا رہی ہے کہ انہوں نے سخت حفاظتی اقدامات کے ساتھ عوام کو ان کا روایتی تہوار واپس لوٹانے کی کوشش کی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں بھی ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کیا گیا تو بسنت کا یہ فیصلہ صوبے کی معیشت اور سیاحت کے لیے ایک بہترین مثال ثابت ہو سکتا ہے۔
-

جنوری میں کراچی میں آتشزدگی کے 225 واقعات میں 83 افراد کی موت
پچھلے ماہ جنوری میں کراچی میں آتشزدگی کے 225 واقعات میں 83 افراد جاں بحق ہوئے ہیں
دستیاب معلومات کے مطابق کراچی میں آتشزدگی کے بڑھتے واقعات نے شہر میں حفاظتی انتظامات اور ہنگامی تیاری پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ صرف جنوری کے مہینے میں شہر بھر میں 225 آگ لگنے کے واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ فروری کے ابتدائی دنوں میں ہی 20 سے زائد حادثات سامنے آ چکے ہیں۔ 17 جنوری کو گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ، جس میں 79 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، آج بھی شہریوں کے لیے ایک دردناک یاد دہانی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر حفاظتی قوانین پر سختی سے عملدرآمد، عمارتوں کے باقاعدہ معائنے اور عوامی آگاہی کو ترجیح نہ دی گئی تو چھوٹے اور بڑے آتشزدگی کے واقعات شہریوں کی جان، مال اور روزگار کے لیے مسلسل خطرہ بنے رہیں گے۔
کراچی میں رواں سال کےپہلے ماہ آتشزدگی کے 225 واقعات ہوئے جس میں سب سے بڑا اور خوفناک واقعہ گل پلازہ میں پیش آیا۔محکمہ فائربریگیڈ کی رپورٹ کے مطابق آتشزدگی کے واقعات میں 2بچوں اور 8خواتین سمیت 83 افرادجاں بحق ہوئے جب کہ ان واقعات میں ایک بچے سمیت 24 افراد زخمی ہوئے۔ضلع وسطی میں آتشزدگی کے سب سے زیادہ 30 واقعات ہوئے اور ایک ماہ کے دوران صدر میں آگ لگنےکے 18 واقعات پیش آئے۔سہراب گوٹھ، گلستان مصطفی فائراسٹیشن کی حدود میں آتشزدگی کے 18 واقعات ہوئے جب کہ ناظم آباد 13، لیاری 9 اور سائٹ میں آتشزدگی کے 11 واقعات ہوئے۔کورنگی 9 اور لانڈھی میں آتشزدگی کے تین واقعات پیش آئے، اورنگی ٹاؤن 8، شاہ فیصل 8، منظور کالونی کی حدود میں 14واقعات پیش آئے، نیو کراچی فائر اسٹیشن کی حدود میں 13 واقعات ہوئے۔محکمہ فائر بریگیڈ نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور آتشزدگی سے بچاؤ کے لیے حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

-

برطانوی شہزادہ ولیم پہلے سرکاری دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے
برطانوی ولی عہد شہزادہ ولیم اپنے پہلے سرکاری دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے۔ کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ ریاض پر شہزادہ ولیم کا پرتپاک استقبال ریاض کے نائب گورنر شہزادہ نے کیا، جہاں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔
سعودی میڈیا کے مطابق شہزادہ ولیم کا یہ دورہ اگرچہ ان کا سعودی عرب کا پہلا سرکاری دورہ ہے، تاہم اس سے قبل وہ مشرقِ وسطیٰ کے اہم ممالک کا دورہ کر چکے ہیں۔ شہزادہ ولیم نے جون 2018 میں فلسطین اور اسرائیل کے دورے کیے تھے، جہاں انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقاتیں کی تھیں اور خطے میں امن، استحکام اور باہمی تعاون پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ریاض پہنچنے کے بعد سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے تاریخی شہر درعیہ میں شہزادہ ولیم کا باضابطہ استقبال کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی و بین الاقوامی صورتحال اور سعودی عرب و برطانیہ کے دوطرفہ تعلقات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ملاقات کے دوران اقتصادی تعاون، ثقافتی روابط، تعلیم، سیاحت اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ جیسے موضوعات بھی زیر بحث آئے۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سعودی عرب اور برطانیہ کے تعلقات کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے گا۔
بعد ازاں برطانوی شہزادہ ولیم نے درعیہ کے تاریخی الطریف ضلع کا دورہ کیا اور سلویٰ محل بھی دیکھنے گئے، جہاں انہیں سعودی تاریخ، ثقافت اور ورثے کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ شہزادہ ولیم نے سعودی عرب کے ثقافتی ورثے کے تحفظ اور تاریخی مقامات کی بحالی کی کوششوں کو سراہا۔سیاسی مبصرین کے مطابق شہزادہ ولیم کا یہ دورہ سعودی عرب اور برطانیہ کے تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور ثقافتی تعاون کو مزید فروغ ملنے کی توقع ہے۔
-

وزیراعظم شہباز شریف کی قومی ٹیم کو ٹی 20 ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ کی اجازت
وزیراعظم شہباز شریف نے قومی کرکٹ ٹیم کو ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کی اجازت دے دی ہے۔ یہ فیصلہ پاکستان کے مؤقف کی قبولیت اور آئی سی سی کی جانب سے طے شدہ شرائط مانے جانے کے بعد کیا گیا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے دوست ممالک کی درخواستوں اور سفارتی مشاورت کو مدنظر رکھتے ہوئے منظوری دی۔ فیصلے کا مقصد کھیل کے جذبے کو برقرار رکھنا اور عالمی سطح پر کرکٹ کے تسلسل کو یقینی بنانا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اصولی مؤقف کے ساتھ اپنے تحفظات آئی سی سی کے سامنے رکھے، جس کے بعد معاملات طے پائے اور قومی ٹیم کی شرکت کی راہ ہموار ہوئی۔
پاکستان کے موقف کی جیت،حکومت نے پاکستان کرکٹ ٹیم کو بھارت کیساتھ میچ کھیلنے کی اجازت دے دی،پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ شیڈول کے مطابق ہوگا،ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان اور بھارت کا مقابلہ 15 فروری کو شیڈول ہے،
قبل ازیں وزیرِاعظم پاکستان شہباز شریف کو پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی کی جانب سے باضابطہ طور پر اُن اعلیٰ سطحی مشاورتوں کے نتائج سے آگاہ کیا گیا ہے جو پی سی بی، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے نمائندوں کے درمیان منعقد ہوئیں۔حکومتِ پاکستان نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی جانب سے پی سی بی کو ارسال کی گئی باضابطہ درخواستوں کا، نیز سری لنکا، متحدہ عرب امارات اور دیگر رکن ممالک کی جانب سے موصول ہونے والی تائیدی مراسلت کا بھی جائزہ لیا۔ ان خط و کتابت میں حالیہ درپیش چیلنجز کے قابلِ عمل حل کے لیے پاکستان کے قائدانہ کردار کی درخواست کی گئی تھی۔
حکومت نے بی سی بی کے صدر جناب امین الاسلام کے بیان کا بھی نوٹس لیا۔ برادر ملک کی جانب سے اظہارِ تشکر کو نہایت خلوص اور گرمجوشی سے قبول کیا جاتا ہے۔ پاکستان اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ وہ بنگلہ دیش کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔آج شام وزیرِاعظم نے سری لنکا کے صدر عزت مآب انورا کمارا ڈسانائیکے سے ٹیلیفونک گفتگو کی۔ خوشگوار اور دوستانہ بات چیت کے دوران دونوں رہنماؤں نے اس امر کو یاد کیا کہ پاکستان اور سری لنکا ہمیشہ بالخصوص مشکل اوقات میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں۔ سری لنکن صدر نے وزیرِاعظم سے درخواست کی کہ موجودہ تعطل کے خوش اسلوبی سے حل کے لیے سنجیدگی سے غور کیا جائے۔کثیرالجہتی مشاورت کے نتیجے میں حاصل ہونے والی پیش رفت اور دوست ممالک کی درخواستوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے، حکومتِ پاکستان پاکستان نیشنل کرکٹ ٹیم کو ہدایت کرتی ہے کہ وہ 15 فروری 2026 کو آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے اپنے شیڈول میچ میں شرکت کے لیے میدان میں اترے۔مزید برآں، یہ فیصلہ کرکٹ کی روح کے تحفظ اور اس عالمی کھیل کے تسلسل کو تمام شریک ممالک میں برقرار رکھنے کے مقصد سے کیا گیا ہے۔
-

اسلام آباد میں امن و امان کی صورتحال پہ اجلاس، سیکیورٹی مزید سخت کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد میں امن و امان کی صورتِ حال کا جائزہ لینے اور سیکیورٹی انتظامات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت چیف کمشنر اور چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا اور انسپکٹر جنرل پولیس سید علی ناصر رضوی نے کی۔
اجلاس میں مشکوک سرگرمیوں میں ملوث افراد کی کڑی نگرانی اور ان سے متعلق مکمل ڈیٹا مرتب کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ حکام نے شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر مانیٹرنگ مزید سخت کرنے اور اسلام آباد میں آمد و رفت کی نگرانی کے لیے جدید نظام متعارف کرانے پر اتفاق کیا۔
آئی جی اسلام آباد پولیس نے کہا کہ شہریوں کی جان، مال اور عزت کا تحفظ پولیس کی اولین ترجیح ہے اور فورس چوبیس گھنٹے سیکیورٹی یقینی بنانے کے لیے متحرک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈپلومیٹک انکلیو اور ریڈ زون سمیت پورے شہر میں سیکیورٹی مزید بہتر بنائی جا رہی ہے جبکہ سیف سٹی نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق اپ گریڈ کر دیا گیا ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ شہری علاقوں میں گھر گھر سروے مکمل کر لیے گئے ہیں جبکہ دیہی علاقوں میں یہ عمل جلد مکمل کر لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ شہر کے داخلی راستوں پر نگرانی بڑھانے اور گشت میں اضافے پر بھی زور دیا گیا تاکہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھی جا سکے۔ -

کراچی: بلدیہ ٹاؤن میں جعلی ادویات کی فیکٹری پر چھاپہ
شہر قائد کراچی میں پولیس نے بلدیہ ٹاؤن کے علاقے میں جعلی ادویات تیار کرنے والی فیکٹری پر چھاپہ مار کر 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا اور بھاری مقدار میں جعلی ادویات برآمد کر لیں۔
پولیس کے مطابق فیکٹری کا مالک صدیق اور اس کا بیٹا زید فرار ہو گئے ہیں، جن کی تلاش جاری ہے۔ یہ دونوں طویل عرصے سے فیکٹری چلا کر جعلی ادویات تیار کر رہے تھے۔ خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے چھاپہ مارا گیا۔
تمام گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ پولیس نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ جعلی ادویات کے استعمال سے انسانی جانوں کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ -

اسلام آباد اور راولپنڈی میں دھماکا خیز فلئیر گیس کی غیر قانونی فروخت کا انکشاف
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور جڑواں شہر راولپنڈی میں پابندی کے باوجود دھماکا خیز فلئیر گیس کی غیر قانونی فروخت جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق پٹرولیم ڈویژن کے ایکسپلوسو ڈیپارٹمنٹ کی واضح ہدایات کے باوجود 28 سی این جی اسٹیشنز پر یہ گیس غیر قانونی طور پر بیچی جا رہی ہے۔
اوگرا کے قوانین کے مطابق فلئیر گیس صرف بھٹوں اور صنعتی اداروں کو فراہم کی جا سکتی ہے، کیونکہ یہ انتہائی دھماکا خیز ہے اور کسی بھی وقت بڑا حادثہ رونما ہو سکتا ہے۔ ملک کے دیگر شہروں میں بھی تقریباً 1200 اسٹیشنز پر فلئیر گیس کی غیر قانونی فروخت کی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق فلئیر گیس کے غیر قانونی استعمال سے نہ صرف خطرناک دھماکے کا خدشہ ہوتا ہے بلکہ یہ گاڑیوں کے انجن اور ماحول کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ ڈائریکٹر ایکسپلوسو کے مطابق متعدد اسٹیشنز کے لائسنس کینسل کر دیے گئے تھے، تاہم عدالت سے حاصل کردہ سٹے آرڈرز کے تحت وہ اب بھی کام کر رہے ہیں۔ -

یورپی یونین اور مسلم ممالک کی اسرائیلی اقدامات کی مذمت
مقبوضہ مغربی کنارے میں کنٹرول بڑھانے اور مزید غیر قانونی بستیوں کی راہ ہموار کرنے کے لیے اسرائیل کے حالیہ اقدامات پر یورپی یونین اور متعدد مسلم ممالک نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔
یورپی یونین کے ترجمان انوار الانونی نے صحافیوں کو بتایا کہ "مغربی کنارے میں اسرائیلی کنٹرول بڑھانے کے لیے سیکیورٹی کابینہ کے حالیہ فیصلے غیر قانونی اور غلط سمت میں ایک اور قدم ہیں۔”
اسی طرح سعودی عرب، اردن، متحدہ عرب امارات، قطر، انڈونیشیا، پاکستان، مصر اور ترکی نے بھی مقبوضہ علاقوں میں اسرائیل کی بستیوں کے قیام اور کنٹرول بڑھانے کی پالیسیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔
سعودی وزارت خارجہ نے بیان میں کہا کہ "یہ ممالک اسرائیل کے غیر قانونی فیصلوں اور مقبوضہ سرزمین پر خودمختاری نافذ کرنے کے اقدامات کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔”
بین الاقوامی قوانین کے تحت یہ اقدامات غیر قانونی قرار دیے جاتے ہیں اور عالمی سطح پر فلسطینی علاقوں کی قانونی حیثیت کے حوالے سے تشویش بڑھا رہے ہیں۔