Baaghi TV

Blog

  • یوم یکجہتی کشمیر،مرکزی مسلم لیگ کے لاہور،پشاور،کراچی سمیت تمام شہروں میں پروگرام

    یوم یکجہتی کشمیر،مرکزی مسلم لیگ کے لاہور،پشاور،کراچی سمیت تمام شہروں میں پروگرام

    مرکزی مسلم لیگ کے زیرانتظام 5فروری کو لاہور ،کراچی،اسلام آباد، پشاور کی طرح ملک بھر میں یکجہتی کشمیر کنونشن،کانفرنسوں، جلسوں اور ریلیوں کا انعقادکیا گیا ،ملک بھر میں ہونے والی کشمیر کانفرنسوں،جلسوں، ریلیوں میں تمام مکاتب فکر اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد نے شرکت کی۔یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر کراچی سے پشاور تک بڑے پروگراموں کا انعقاد کیا گیا ،تقریبات میں انٹراپارٹی انتخابات میں کامیاب ہونے والے یونین کونسل امیدواروں سے حلف بھی لیا گیا.

    لاہور میں مرکزی مسلم لیگ کا سب سے بڑاپروگرام ایوان اقبال میں ہوا،ہوا جس میں تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔مرکزی صدر خالد مسعود سندھو ،انجینئر حارث ڈار،مزمل اقبال ہاشمی و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کے ساتھ پاکستان کا رشتہ لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر قائم ہے اور کشمیری ہم سے بڑھ کر پاکستانی ہیں۔ کشمیری عوام پاکستان سے محبت کی قیمت ظلم و جبر کی صورت میں ادا کر رہے ہیں۔مسلم یوتھ لیگ کی جانب سے مال روڈ لاہور پر یکجہتی کشمیر ریلی نکالی گئی، ملی رکشہ یونین کے زیر اہتمام مال روڈ پرریلی سےمرکزی مسلم لیگ پنجاب کے صدر محمد سرور چوہدری و دیگر نے خطاب کیا،مرکزی ترجمان تابش قیوم نے مقامی ہوٹل میں اپووا کے زیر اہتمام یکجہتی کشمیر کانفرنس سے خطاب کیا، یکجہتی کشمیر جلسوں اور کانفرنسوں کے دوران کشمیر ہمارا ہے ‘ سارے کا سارا ہے۔ کشمیریوں سے رشتہ کیا لاالہ الااللہ، کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے لگائے جاتے رہے۔شرکا نے بینرز و پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے اور کشمیریوں کی حمایت میں نعرے لگا رہے تھے،

    اسلام آباد میں مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام زیروپوائنٹ سے پریس کلب تک یکجہتی کشمیر ریلی نکالی گئی جس میں ہزاروں افراد شریک ہوئے، فیصل آباد میں کشمیر ریلی سے مرکزی مسلم لیگ کے رہنما حمید الحسن و دیگر نے خطاب کیا،ملتان میں پریس کلب نواں چوک شہر میں ہونیوالی یکجہتی کشمیر ریلی سے ضلعی سیکرٹری جنرل رانا عبدالرحمان و دیگر نے خطاب کیا،راولپنڈی میں پریس کلب کے سامنے یکجہتی کشمیر پروگرام کا انعقاد کیا گیا، مرکزی مسلم لیگ ہاؤس کراچی میں یکجہتی کشمیر کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں کشمیری عوام سے بھرپور اظہارِ یکجہتی کیا گیا۔ اس موقع پر انٹرا پارٹی الیکشن میں نو منتخب ہونے والے یوسی صدور سے عہدے کاحلف بھی لیاگیا۔ کانفرنس میں مرکزی مسلم لیگ کے قائدین، سیاسی و سماجی شخصیات اور کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔کانفرنس سے صدر مرکزی مسلم لیگ سندھ فیصل ندیم ،کل جماعتی حریت رہنما شاہین اقبال ،صدر مرکزی مسلم لیگ کراچی احمد ندیم اعوان و دیگر نے خطاب کرتےہوئے کہا کہ کشمیریوں کے ساتھ پاکستان کا رشتہ لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر قائم ہے اور کشمیری ہم سے بڑھ کر پاکستانی ہیں۔ کشمیری عوام پاکستان سے محبت کی قیمت ظلم و جبر کی صورت میں ادا کر رہے ہیں۔ پشاور پریس کلب کے سامنے مرکزی مسلم لیگ کی ذیلی تنظیمات کے زیرِ اہتمام احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں عوام نے بھرپور شرکت کی۔ مظاہرے کے بعد مقررین، معزز مہمانوں اور شرکاء نے یکجہتی کشمیر کے اظہار کے لیے سگنیچر وال پر دستخط کیے،مسلم ویمن لیگ حیدرآباد کی جانب سے اقصیٰ آڈیٹوریم میں کشمیری عوام سے اظہار ہمدردی و محبت کے لئے یکجہتی کشمیر کانفرنس کی گئی جس میں خواتین کی بڑی تعداد شریک ہوئی،ننکانہ صاحب میں یومِ یکجہتیٔ کشمیر کے موقع پر پاکستان مرکزی مسلم لیگ شعبہ خواتین کے زیر اہتمام یکجہتی کشمیر خواتین ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ ریلی میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین، اساتذہ اور طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔مسلم ویمن لیگ لودھراں کے زیر اہتمام یکجہتی کشمیر سیمینار کا انعقاد کیا گیا،

    مرکزی مسلم لیگ چنیوٹ کے زیر انتظام یکجہتی کشمیر ریلی میں تعلیمی اداروں کے طلبا نے بڑی تعداد میں شرکت کی،مرکزی مسلم لیگ لودھراں کی جانب سے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے جم خانہ کلب میں آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں مذہبی و سیاسی جماعتوں سول سوسائٹی کے رہنماؤں نے شرکت کی،مسلم سٹوڈنٹس لیک چونیاں قصور کی جانب سے چونیاں شہر میں کشمیر کی پکار کے موضوع پر یکجہتی کشمیر کیمپ کا انعقاد کیا گیا جس میں علاقے بھر سے نوجوانوں نے شرکت کی، ہارون آباد،بہاولنگر ، وہاڑی، خوشاب،رحیم یار خان ،منڈی بہاؤالدین،ساہیوال، خانپور،ٹنڈوالہیار ،پنڈی بھٹیاں، ایبٹ آباد،بہاولپور،چکوال،شیخوپورہ،پاکپتن،میاں چنوں، قمبر شہداد کوٹ،گوجرانوالہ ،نارووال ،چیچہ وطنی،سرگودھا ،حیدر آباد،قصور،گجرات ،میانوالی،ڈی جی خان ،جہلم ،لاڑکانہ،میر پور خاص، تلہ گنگ ،ڈسکہ،کامونکی،وزیرآباد،کھڈیاں خاص، گوجرخان، ہری پور، مانسہرہ، مردان ،سوات و دیگر شہروں میں بھی مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام کشمیر کانفرنسوں، جلسوں اورریلیوں کا انعقاد کیا گیا ۔

    یوم یکجہتی کشمیر پر مرکزی مسلم لیگ کا اعلامیہ
    مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام ملک بھر میں ہونے والی کشمیر کانفرنسوں، جلسوں اور سیمینارز کے دوران جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ کشمیر تقسیم برصغیر کا نامکمل ایجنڈا ہے، بانی پاکستان محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ قرار دیا تھا یہ شہہ رگ بھارت کے پنجہ میں قید ہے،شہہ رگ پاکستان کو بھارت سے چھڑوانے کے اقدامات کئے جائیں.پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی جنگوں کی وجہ کشمیر ہے لیکن پانچ اگست 2019 کے بھارتی اقدامات کشمیر پر بھارت کے غیر قانونی قبضہ کو مستحکم کیا ہے جبکہ ریاست پاکستان کا کردار اس پر خاموش تماشائی کا رہا ہے،کشمیر کا مقدمہ پاکستان عالمی سطح پر اٹھائے، پاکستان نے ہمیشہ کشمیر کی وکالت کی ہے، یہ پاکستان کے پانیوں کا مسئلہ ہے اور پانی زندگی ہے،آزادی کشمیر کے بنا پاکستان کی تکمیل نہیں ہوتی،پاکستان سفارتی سطح پر متحرک ہو،دوست ممالک، عالمی اداروں،طاقتوں کے ساتھ ملکر کشمیر کا مقدمہ عالمی سطح پر لڑا جائے،کشمیر کمیٹی کو بھرپور فعال کیا جائے ،بھارت اپنے تمام تر جنگی وسائل اور قوت کشمیر میں جھونک دینے کے باوجود کشمیریوں کے دلوں سے جذبہ حریت کو کم نہیں کرسکا، کشمیری تحریک آزادی کے لیے آج بھی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں،بھارت کی مسلح افواج اور ریاستی دہشت گردی نے کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل بنا دیا ہے، بھارتی افواج کشمیر میں سنگین جنگی جرائم میں ملوث ہیں، اجتماعی قبریں اور کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال اس کا منہ بولتا ثبوت ہے جبکہ اقوام عالم اس پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔بھارت پاکستان کو کشمیر سے دست بردار کرنے لیے پاکستان میں ہر طرح کی دہشت گردی کروا رہا ہے،پاکستان نے کشمیر سے منہ موڑا تو آج بلوچستان کے حالات سب کے سامنے ہیں، بھارت نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں بھارت ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی میں ملوث ہےکینیڈین حکومت اور امریکی اخبارات اس پر شاہد ہیں لہذا اقوام متحدہ بھارت کی اس غنڈہ گردی پر واضح اقدام اٹھائے اور بھارت کو دہشت گرد ریاست ڈکلیئر کیا جائے۔بھارت اس تمام تر دہشت گردی کے باجود کشمیر کی آزادی کی تحریک کو دبانے میں ناکام رہا ہے، تمام تر مظالم کے باوجود کوئی کشمیری پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوا، کسی ایک بھی حریت لیڈر کو بھارت کی ظالم افواج نہیں توڑ سکیں ، کشمیری آج بھی پاکستانی جھنڈے میں دفن ہونا فخر سمجھتے ہیں بھارت اپنی اس ناکامی کو چھپانے کے لیے پاکستان میں دہشت گردی کروا رہا ہے۔عالمی دباؤکے تحت ہندوستان نے کشمیر کی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی قرار دیا جس کے بعد کشمیر کی تحریک آزادی میں حصہ لینے والے کئی افراد کو دہشتگردقرار دیا گیا، ایک طرف بھارت نے کشمیر میں کشمیریوں پر مظالم ڈھائے اور ان کو جیلوں اور اذیتوں میں بند کیا اور عمر قید کی سزائیں سنائیں تو دوسری طرف پاکستان میں کشمیریوں کے پشتیبانوں کو پابند سلاسل کرکے تحریک آزادی کشمیر کا گلا گھونٹا ہے،ضرورت اس امر کی ہے کہ جدوجہد آزادی کی حمایت کرنے والے قائدین کو بیرونی دباؤ پر پابندسلاسل کرنے کی بجائے رہا کیا جائے،دنیا کے حالات بدل رہے ہیں، کشمیریوں کی آزادی ان شاءاللہ قریب ہے،بھارت بنگلہ دیش کا انجام یاد رکھے، جس طرح بنگلہ دیش میں بھارتی اثرورسوخ ،ہتھکنڈے ناکام ہوئے اسی طرح مقبوضہ کشمیر میں‌بھی بھارتی مظالم، ہتھکنڈے ناکام ہوں‌گے . ریاست پاکستان زبانی جمع خرچ کی بجائے اپنی کشمیر پالیسی کو واضح کرے ، کشمیر پالیسی کا ون پوائنٹ ایجنڈا رکھا جائے جوکہ فقط آزادی کشمیر ہو. ریاست کی تمام تر توانائیاں آزادی کشمیر کے لیے صرف ہونی چاہیں۔ ریاست پاکستان اپنے خارجہ و داخلہ دفاتر اور سفارت خانوں میں باقاعدہ کشمیر ڈیسک قائم کرے اور کشمیر پر انٹرنیشنل کانفرنسز منعقد کروائے، میڈیا اور شوبز انڈسٹری میں باقاعدہ تحریک آزادی کشمیر کے لیے لوگ اور وقت مختص کیا جائے۔ دنیا بھر میں کشمیر کے حوالے سے باخبر مندوب مقرر کیے جائیں۔کشمیر ہاؤسز کا قیام کیا جائے،تعلیمی اداروں میں کشمیر کے مسئلہ پر بھر پور تحریک چلا کو قوم کو متحد کیا جائے.ریاست پاکستان کشمیر کا مقدمہ لڑنے کے لیے تمام بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے کشمیر پر سینسر شپ ختم کروائے تاکہ پاکستان کی ڈیجیٹل فورس بھارتی عزائم کو خاک میں ملا سکے اور ہندو توا کے بھارتی ایجنڈے کی ہولناکیوں کو دنیا کے سامنے آشکار کیا جاسکے۔ بھارت نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کا الزام ماضی کی طرح پاکستان پر عائد کیا اور پاکستان میں مساجد و مدارس پر حملے کئے، پاکستان کی مسلح افواج نے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا، بھارت کی جانب سے فالس فلیگ آپریشنز تحریک آزادی کشمیر سے توجہ ہٹانے اور اپنی ریاستی باوردی دہشتگردی پر پردے ڈالنے کے لئے ہیں، بھارت نے اب اگر کوئی مذموم سازش کی تو قوم معرکہ حق کی طرح متحد ہو کر جواب دے گی. کشمیر کے رہنما سید علی گیلانی، آسیہ اندرابی، ڈاکٹر قاسم فکتو، مسرت عالم بھٹ، یسین ملک، برہان وانی اور ڈاکٹر منان وانی سمیت تمام ہیروز جو نہتے تکمیل پاکستان کی جنگ میں شریک تھے اور ہیں، ریاست پاکستان ان کی خدمات کا اعتراف کرے اور ان کو پاکستان کے اعلیٰ ترین ایوارڈز سے نوازے اور تعلیمی نصاب میں ان کی کہانیوں کو جگہ دے۔ دختران ملت کی چیئرمین سیدہ آسیہ اندرابی ،یاسین ملک سمیت دیگر حریت قائدین جو بھارتی جیلوں میں قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں اور بھارتی عدالتیں انہیں تحریک آزادی کے جرم میں سزاسنا سکتی ہے، پاکستان حریت قائدین کی رہائی کے لئے کردار ادا کرے، امریکی صدر کی جانب سے قائم کردہ بورڈ آف پیس میں پاکستان کشمیر کا مقدمہ بھی اٹھائے، مئی میں ہونے والی جنگ کے بعد بھارت ایکسپوز ہوا، مودی سرکار نے جھوٹا پروپیگنڈہ کر کے پاکستان پر حملہ کرنے کی کوشش کی اور ناکام ہوا، جنگ کے بعد عالمی دنیا کے سامنے بھارت رسوا ہو چکا،اور پاکستان فاتح ٹھہرا، پاکستان کی عسکری برتری دنیا کے سامنے ہے،دفاع وطن کے لئے پاکستان کا بچہ بچہ مسلح افواج کے ساتھ ہے. اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت کشمیریوں کو مسلح جدوجہد کا حق حاصل ہے، پاکستانی قوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے ،مرکزی مسلم لیگ کشمیریوں کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت اور مدد جاری رکھے گی، ان شاءاللہ

  • ‎ملبورن میں مہاتما گاندھی کا کانسی کا مجسمہ چوری

    ‎ملبورن میں مہاتما گاندھی کا کانسی کا مجسمہ چوری

    ‎آسٹریلیا کے شہر ملبورن میں آسٹریلین انڈین کمیونٹی سینٹر کے باہر نصب مہاتما گاندھی کا 426 کلوگرام وزنی کانسی کا مجسمہ چوری ہو گیا ہے۔ یہ مجسمہ 2021 میں انڈین کونسل فار کلچرل ریلیشنز (ICCR) کی جانب سے تحفے میں دیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق یہ چوری جنوری 2026 کے اوائل میں ہوئی، تاہم اس کی اطلاع فروری کے شروع میں منظر عام پر آئی۔
    ‎سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق چوروں نے اینگل گرائنڈر کا استعمال کرتے ہوئے مجسمے کو ٹخنوں کے مقام سے کاٹا اور اسے اپنے ساتھ لے گئے، جبکہ باقی پاؤں کو پائے راستے پر چھوڑ دیا۔ اس واقعے کی تحقیقات وکٹوریہ پولیس کر رہی ہے اور اسے ایک سنگین "نفرت انگیز جرم” کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بھارت نے واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے آسٹریلوی حکام سے مجسمے کی فوری بازیابی اور مجرموں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

  • بسنت کے موقع پر لاہور میں کتنی گاڑیاں داخل ہونے کا امکان ہے؟

    لاہور میں تین روزہ بسنت فیسٹیول پر لاکھوں گاڑیاں کے داخل ہونے کا امکان ہے۔

    بسنت کے موقع پر شہرِ لاہور میں تقریبا 5 لاکھ سے زائد گاڑیوں کے داخلے کا امکان ہے، جس کے پیش نظر پٹرولنگ ٹیمیں تشکیل دیدی گئیں ہیں10 ہزار پولیس اہلکار اور 2500 ٹریفک وارڈنز تعینات ہوں گے چیف ٹریفک آفیسر نے پورے پاکستان کو لاہور میں بسنت منانے دعوت بھی دی ہےشہر کے داخلی راستوں کے علاوہ ریڈ زون میں سیف سٹی کیمروں سے براہِ راست مانیٹرنگ کی جائے گی ٹریفک انتظامات کو حتمی شکل بھی دے دی گئی ہے۔

    چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) اطہر وحید کا کہنا ہے کہ شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر اضافی نفری جبکہ ریڈ زون کی چھتوں پر کیمرے نصب کر کے آپریشنل کیے جائیں گے جن کی مدد سے براہ راست مانیٹرنگ ہوگی،ایس پی آپریشنز سیف سٹی محمد شفیق کا کہنا ہے کہ ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے ریسکیو اور پولیس سمیت 15 محکموں کی مشترکہ ٹیمیں متحرک رہیں گی، شہری قانون کی پاسداری یقینی بنائیں تو بسنت فیسٹیول مستقل بنیادوں پر جاری رہے گا۔

    دوسری جانب سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ بسنت فیسٹیول کے دوران موٹرسائیکل پر پابندی ہوگی، شہری فری ٹرانسپورٹ استعمال کریں،بسنت کے دوران شہری کم سے کم گاڑیوں کو سڑکوں پر لائیں اور فری حکومتی ٹرانسپورٹ استعمال کریں تاکہ آلودگی میں مزید کمی لائی جا سکے، موٹر سا ئیکل پر پابندی ہوگی۔

    ان کا کہنا تھا کہ کہ ان تمام اقدامات کا مقصد بسنت کو محفوظ، منظم اور آلودگی سے پاک ماحول میں منانا ہے، جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی ڈیٹا کی بنیاد پر سموگ کی صورتحال میں واضح بہتری آئی ہے جبکہ اے آئی بیسڈ مانیٹرنگ اور جی ایس میپنگ کے ذریعے آلودگی پر مؤثر کنٹرول کیا جا رہا ہے، لاہور میں فضائی آلودگی کے حوالے سے نمایاں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے جہاں ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 173 ریکارڈ کیا گیا ہے، یہ بہتری وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شر یف کے انسدادِ سموگ اقدامات اور عوامی تعاون کا نتیجہ ہے جس کے باعث مقامی آلودگی پر مؤثر حد تک قابو پایا جا سکا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ حکومتی سیاسی عزم اور عوامی تعاون سے ماحولیاتی صورتحال بہتر ہوئی ہے جبکہ آلودگی کے اسباب کے خاتمے کے لیے جامع ملٹی سیکٹورل ایکشن پلان پر عملدرآمد جاری ہے، تمام صنعتی چمنیوں کی ای پی اے کے ذریعے 24 گھنٹے نگرانی کی جا رہی ہے، سموگ کنٹرول روم مکمل طور پر فعال ہے اور ڈرونز و سی سی ٹی وی کی مدد سے کڑی مانیٹرنگ جاری ہے، بھٹوں، صنعتی یونٹس اور گاڑیوں کے اخراج پر زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ ہے اور خلاف ورزیو ں پر قانونی کارروائیاں کی جائے گی جبکہ فیلڈ ٹیمیں بھی مکمل طور پر متحرک ہیں حکومت کا ہدف پورا سال بہتر اے کیو آئی برقرار رکھنا ہے، انہوں نے بزرگوں اور بیمار شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی بھی ہدایت کی۔

  • بسنت کی تیاریاں:مریم نواز کا لبرٹی چوک کا دورہ ، شہریوں سے براہِ راست ملاقات

    بسنت کی تیاریاں:مریم نواز کا لبرٹی چوک کا دورہ ، شہریوں سے براہِ راست ملاقات

    لاہور میں بسنت کے آغاز پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لبرٹی چوک کا دورہ کیا اور شہریوں سے براہِ راست ملاقات کی۔

    لاہور میں بسنت کے آغاز پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز لبرٹی چوک پہنچ گئیں، جہاں انہیں دیکھتے ہی شہریوں کی بڑی تعداد جمع ہو گئی شہریوں نے خوشی کا اظہار کیا اور وزیراعلیٰ کے ساتھ سیلفیاں بھی بنوائیں،مریم نواز نے اپنی گاڑی روک کر شہریوں کو ہاتھ ہلایا اور ان سے گفتگو کی ،چھوٹے بچوں کو پیار دیااس دوران انہوں نے موٹر سائیکل سوار وں کو حفاظتی اقدامات اپنانے کی ہدایت کی اور ایک موٹر سائیکل سوار کو سیفٹی راڈ لگانے کا کہا۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز نے واضح کیا کہ بسنت کے دوران موٹر سائیکل چلانے پر پابندی نہیں، تاہم سیفٹی راڈ کے بغیر موٹر سائیکل چلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور خلاف ورزی کی صورت میں موٹر سائیکل بند کر دی جائے گی، حفاظتی اقدامات کا مقصد عوام کی جان و مال کا تحفظ ہے وزیراعلیٰ کی موجودگی پر شہریوں کی بڑی تعداد موقع پر موجود رہی اور شہریوں نے پنجاب حکومت کے مختلف منصوبوں کو سراہا۔

    آزادی اظہار رائے کی آڑ میں کسی کو سڑکیں بند نہیں کرنے دیں گے ،مرادعلی شاہ

    بسنت کے باعث لاہور میں فضائی سرگرمیوں کیلئے نوٹم جاری

    نوشکی: احمد وال اسٹیشن پر مال بردار ٹرین پر راکٹ حملہ، انجن تباہ

  • ازبک صدر شوکت مرزائیوف کا پاکستان کے دو روزہ دورے پر اسلام آباد آمد

    ازبک صدر شوکت مرزائیوف کا پاکستان کے دو روزہ دورے پر اسلام آباد آمد

    
ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف پاکستان کے دو روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے۔ نور خان ائیر بیس پر صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے ازبک صدر کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور معاون خصوصی ہارون اختر خان بھی موجود تھے۔
    صدر مرزائیوف کے خصوصی طیارے سے باہر اترنے پر صدر مملکت اور وزیراعظم نے ان سے پرجوش مصافحہ اور معانقہ کیا۔ وزیر اعظم سے ان کا خوشگوار جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ معزز مہمان کو اکیس توپوں کی سلامی دی گئی جبکہ روایتی اور ثقافتی لباس میں ملبوس بچوں نے گلدستے پیش کیے اور دونوں ملکوں کے قومی پرچم تھامے ہوئے ان کا خیرمقدم کیا۔ وزیر اعظم نے کابینہ ارکان کو بھی معزز مہمان کا تعارف کرایا۔

  • آزادی اظہار رائے کی آڑ میں کسی کو سڑکیں بند نہیں کرنے دیں گے ،مرادعلی شاہ

    آزادی اظہار رائے کی آڑ میں کسی کو سڑکیں بند نہیں کرنے دیں گے ،مرادعلی شاہ

    کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہےکہ ہر شخص کو احتجاج اور جلسے جلوسوں کی اجازت ہے لیکن آزادی اظہار رائے کی آڑ میں کسی کو سڑکیں بند نہیں کرنے دیں گے ۔

    کراچی میں میڈیا سے گفتگو میں مراد علی شاہ نے کہا کہ احتجاج کے لیے کئی مقامات ہیں، مرکزی سڑکوں پر احتجاج نہیں کیا جاسکتا ہر شخص کو احتجاج اور جلسے جلوسوں کی اجازت ہے لیکن آزادی اظہار رائے کی آڑ میں کسی کو سڑکیں نہیں بند کرنے دیں گے اور نہ ہی عوام کو تکلیف پہنچانے دیں گے۔

    اس کے علاوہ یوم کشمیر کی ریلی سے خطاب میں وزیراعلی سندھ نے کہا کہ سندھ کے عوام کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں ، ہماری جدوجہد کشمیر کی آزادی تک جاری رہےگی۔

    گزشتہ روز کراچی میں سندھ اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو میں ضیا لنجار کا کہنا تھاکہ شاہراہ بند کرنے کی کسی کو اجازت نہیں، زبردستی دکانیں بند کرائیں تو قانون حرکت میں آئےگاجماعت اسلامی نے شارع فیصل بند کرکے قانون کی خلاف ورزی کی، شارع فیصل بندکرنے کے مقدمے میں دہشتگردی کی دفعات شامل ہونے چاہیے تھی، دہشت گردی کی دفعات شامل ہوں گی تو آئندہ کسی کو سڑک بند کرنے کی ہمت نہیں ہوگی، حافظ نعیم کو پیغام پہنچایا ہے سندھ اسمبلی کی سڑک بند نہ کریں، احتجاج کرنا ہے تو مرکزی سڑک پر نہیں بلکہ سروس روڈ پرکریں، اگر احتجاج کرنا ہے پریس کلب کے باہر کریں۔

    خیال رہے کہ جماعت اسلامی نے 14 فروری کو کراچی میں دھرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

  • حکومت کا بہترین ایتھلیٹس کے لیے "ایتھلیٹ آف دی ایئر” ایوارڈ متعارف

    حکومت کا بہترین ایتھلیٹس کے لیے "ایتھلیٹ آف دی ایئر” ایوارڈ متعارف

    
حکومت نے ایتھلیٹس کی حوصلہ افزائی اور کھیلوں میں کارکردگی کو فروغ دینے کے لیے "ایتھلیٹ آف دی ایئر ایوارڈ” متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اے آر وائی نیوز کے مطابق یہ ایوارڈ ہر سال بہترین کارکردگی دکھانے والے مرد اور خاتون ایتھلیٹس کو علیحدہ علیحدہ دیا جائے گا تاکہ قومی کھلاڑیوں میں کھیلوں کے معیار کو بلند کرنے کی ترغیب ملے۔
    ‎ایوارڈ کے ساتھ ہر فاتح کو 25 لاکھ روپے کا کیش انعام بھی دیا جائے گا، جس کا مقصد کھلاڑیوں کی مالی حوصلہ افزائی اور کھیلوں کے شعبے میں مستقل محنت کو سراہنا ہے۔
    ‎وزارت بین الصوبائی رابطہ نے پاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی) سے منظوری حاصل کر لی ہے اور ایوارڈ کی تقریب ہر سال کے اختتام پر منعقد کی جائے گی۔ اس تقریب میں قومی ایتھلیٹس کو ان کی کارکردگی، کامیابیوں اور کھیل کے شعبے میں نمایاں خدمات کے لیے اعزاز دیا جائے گا۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی ہوگی بلکہ پاکستان میں کھیلوں کے معیار کو بین الاقوامی سطح پر بہتر بنانے میں بھی مدد ملے گی۔ یہ ایوارڈ ملک میں کھیلوں کے فروغ اور نوجوان کھلاڑیوں میں حوصلہ پیدا کرنے کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

  • کشمیر کے ساتھ بیوفائی کرنے والوں کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی،تابش قیوم

    کشمیر کے ساتھ بیوفائی کرنے والوں کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی،تابش قیوم

    مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم نے کہا ہے کہ کشمیر کے ساتھ بیوفائی کرنے والوں کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی، کشمیر پاکستان کی شہہ رگ تھی ،ہے اور رہے گی، کشمیر پر ریاست بیرونی دباؤ میں آنے کی بجائے اصولی مؤقف اختیار کرے، کشمیریوں کی جدوجہد آزادی رائیگاں نہیں جائے گی

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام یکجہتی کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،اس موقع پر بانی صدر اپووا ایم ایم علی، سینئر وائس چیئرمین ملک یعقوب اعوان سمیت دیگر موجود تھے،تابش قیوم کا کہناتھا کہ کشمیر کی وادیوں میں آزادی کے لیے نوجوانوں نے قربانیاں دیں آج انکو خراج تحسین پیش کرنے کا دن ہے، حالات جو بھی ہوں لیکن کشمیر کے ساتھ بیوفائی کی گئی، شہدا کی تحریریں پڑھ کر یقین ہوتا ہے کہ ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی ،کشمیرایک فلیش پوائنٹ ہے،ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاست اپنی پالیسیوں کی اصلاح کرے، بیرونی دباؤ، غلط فہمیاں ختم کرے، آزادی کشمیر کی جدوجہد کی حمایت کرنے والوں پر پابندیاں لگا کر تحریک کشمیر کو کمزور کیا گیا،مقبوضہ کشمیر میں سیدہ آسیہ اندرابی ایک خاتون ہونے کے باوجود ڈٹ کر کھڑی ہیں،اور ہم یہ سمجھتے رہے کہ کشمیر کا نام لیں گے تو قرضہ نہیں ملے گا،اب حالات دیکھ لیں دشمن کشمیر تک نہیں رکا،بلوچستان خیبر پختونخوا میں موجود ہے،دشمن نے کشمیر تو دور آپ کے وجود کو بھی تسلیم نہیں کیا،پہلگام فالس فلیگ آپریشن کا بہانہ بنا کر بھارت نے پاکستان کی مسجدوں پر حملے کئے تو مسلح افواج نے بنیان مرصوص شروع کیا ،پھر دشمن کی حیثیت دیکھ لی ،پاکستان کے مقابلے میں بھارت کی فوج کچھ بھی نہیں،ضرورت اس امر کی ہے کہ کشمیر کے حوالہ سے عالمی سطح پر حکومت کام کرے، بیرون ممالک میں کشمیر ڈیسک بنائے جائیں، تعلیمی اداروں میں تحریک بنا کر کشمیر پر قوم کو متحد کیا جائے.

  • بسنت کے باعث لاہور میں فضائی سرگرمیوں کیلئے نوٹم جاری

    بسنت کے باعث لاہور میں فضائی سرگرمیوں کیلئے نوٹم جاری

    
لاہور میں دو دہائیوں بعد بسنت منائے جانے کے موقع پر سول ایوی ایشن اتھارٹی نے فضائی تحفظ کے پیشِ نظر نوٹم جاری کر دیا ہے۔
    پنجاب حکومت کی جانب سے 6 سے 8 فروری تک شہر بھر میں پتنگ اڑانے کی اجازت دی گئی ہے، جس کے باعث پائلٹس کو ٹیک آف اور لینڈنگ کے دوران محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
    ‎سول ایوی ایشن اتھارٹی ہیڈ کوارٹرز کے مطابق نوٹم تین روز کے لیے جاری کیا گیا ہے تاکہ لاہور کی فضائی حدود میں پروازوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔

  • سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری  امریکا میں ٹیکسی چلانے پر مجبور

    سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری امریکا میں ٹیکسی چلانے پر مجبور

    پاکستان کی قومی اسمبلی کے سابق ڈپٹی اسپیکر اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیئر رہنما قاسم خان سوری نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ان دنوں امریکا میں آن لائن ٹیکسی ’اوبر‘ چلا کر اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ پال رہے ہیں۔

    قاسم سوری نے ایک حالیہ گفتگو میں بتایا کہ پاکستان چھوڑنے کے بعد وہ شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں اور انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ انہیں اس طرح کا کام کرنا پڑے گاوہ چوری کرنے کے بجائے محنت مزدوری اور ایمانداری کی زندگی کو ترجیح دیتے ہیں اسی لیے وہ امریکا کی سڑکوں پر ٹیکسی چلا رہے ہیں،وہ عمران خان کے نظریے کے سپاہی ہیں اور ہمیشہ اسی سوچ کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

    قاسم سوری نے اپنے موجودہ حالات کو ملک میں جاری مبینہ ناانصافیوں اور سختیوں کے تناظر میں بیان کیا اور خاص طور پر عمران خان اور ان کے اہل خانہ کو درپیش قانونی مسائل کا ذکر کیاانہوں نے بتایا کہ وہ وفاقی دارالحکومت میں سی ڈی اے جیسے اہم ادارے میں ذمہ دار عہدے پر فائز رہے مگر انہوں نے کبھی وہاں سے ذاتی مال نہیں بنایا، 2018 سے پہلے وہ کوئٹہ میں اپنے گھر پر عمران خان اور ڈاکٹر عارف علوی جیسی اہم شخصیات کی میزبانی کرتے رہے ہیں اور وہ ہمیشہ سے ایک متوسط طبقے کے ایماندار پاکستانی رہے ہیں۔