قومی احتساب بیورو (نیب) نے کرپشن کے ایک بڑے مقدمے میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے حیدرآباد میں اکاونٹس ڈپارٹمنٹ کے سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر کی بیوہ سے 2 ارب 67 کروڑ روپے کی ریکوری کرلی ہے۔
نیب کے مطابق گریڈ 18 کے افسر مشتاق کے انتقال کے بعد ان کی بیوہ نے سال 2025 میں پلی بارگین کی درخواست دی، جسے منظور کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر بنائے گئے تمام اثاثے سرکار کو واپس لے لیے گئے۔ ریکور کیے گئے اثاثوں میں اربوں روپے مالیت کی کمرشل پراپرٹیز، زرعی زمینیں، سونا، لگژری گاڑیاں، اور معروف برانڈز کو کرائے پر دی گئی دکانوں کا وسیع نیٹ ورک شامل ہے۔
نیب کا کہنا ہے کہ پلی بارگین کے بعد تمام اثاثے سندھ حکومت کے حوالے کر دیے گئے ہیں، جس سے سرکاری خزانے کو بڑا ریلیف ملا ہے۔ یہ ریکوری صوبے میں بدعنوانی کے خلاف جاری کارروائیوں میں ایک اہم کامیابی قرار دی جا رہی ہے۔
Blog
-

نیب کی بڑی کارروائی، کرپشن کیس میں 2 ارب 67 کروڑ روپے کی ریکوری
-

کیا ایل ای ڈی بلب بند نہ کرنا بجلی بچاتا ہے؟
اکثر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ کیا کمرے میں بلب کو مسلسل روشن رکھنے سے بجلی کم خرچ ہوتی ہے، خاص طور پر اب جب ایل ای ڈی لائٹس کم بجلی استعمال کرتی ہیں۔ اس کا جواب سادہ نہیں بلکہ کچھ حد تک حالات پر منحصر ہے۔
امریکی محکمہ توانائی (یو ایس ڈیپارٹمنٹ آف انرجی) کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق جب بھی کوئی شخص کمرے سے باہر نکلے تو عام طور پر بلب بند کر دینا چاہیے، کیونکہ اس سے بجلی کی بچت ہوتی ہے اور بل میں کمی آتی ہے۔
تاہم تحقیق میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کچھ مخصوص حالات میں بلب کو روشن رکھنا زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔ اگر آپ 15 منٹ کے اندر دوبارہ اسی کمرے میں واپس آنے والے ہوں تو بلب بند کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ بار بار بند اور روشن کرنے سے نہ صرف بجلی زیادہ خرچ ہوتی ہے بلکہ بلب کی عمر بھی کم ہو سکتی ہے۔
اس کے برعکس، اگر آپ کو کافی دیر تک واپس آنے کا ارادہ نہیں تو بہتر یہی ہے کہ بلب بند کر دیا جائے، تاکہ بجلی کا ضیاع روکا جا سکے اور بلب کی زندگی بھی طویل ہو۔
بجلی کے بل میں کمی کا ایک اور مؤثر طریقہ یہ ہے کہ استعمال کے بعد برقی آلات کو پلگ سے نکال دیا جائے۔ اکثر ڈیوائسز بند ہونے کے باوجود پلگ میں لگی رہیں تو تھوڑی تھوڑی بجلی استعمال کرتی رہتی ہیں، جسے ماہرین ’ویمپائر انرجی‘ کہتے ہیں۔
امریکی محکمہ توانائی کے مطابق صرف ویمپائر انرجی کی وجہ سے لوگ سالانہ 100 سے 200 ڈالر اضافی خرچ کر دیتے ہیں۔ پاکستانی تناظر میں یہی رقم ہزاروں بلکہ بعض صورتوں میں لاکھوں روپے بن سکتی ہے، اور اوسطاً ایک گھر کی تقریباً 10 فیصد بجلی یہی غیر ضروری استعمال ضائع کر دیتا ہے۔ -

قصور میں مین ہول میں گر کر تین سالہ بچہ جاں بحق
پنجاب میں کھلے گٹروں کے باعث ایک اور افسوسناک واقعہ پیش آ گیا۔ قصور کے علاقے مصطفیٰ آباد میں شادی ہال کے احاطے میں موجود کھلے سیوریج نالے میں گر کر تین سالہ بچہ جاں بحق ہو گیا۔
تفصیلات کے مطابق کمسن علی اپنے والدین کے ساتھ ایک ولیمے میں شرکت کے لیے آیا تھا کہ اچانک شادی ہال میں موجود کھلے گٹر میں گر گیا۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق وہاں موجود افراد نے بچے کو فوری طور پر نکال کر اسپتال منتقل کیا، تاہم وہ دورانِ علاج دم توڑ گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ شادی ہال میں سیوریج کا مین ہول کھلا ہوا تھا، جس کے باعث یہ حادثہ پیش آیا۔ کمسن بچے کی موت سے خوشیوں کا ماحول ماتم میں بدل گیا اور اہلِ خانہ پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی اسسٹنٹ کمشنر غلام فاطمہ موقع پر پہنچ گئیں اور شادی ہال کو فوری طور پر سیل کرنے کے احکامات جاری کیے۔ ڈپٹی کمشنر قصور آصف رضا نے بتایا کہ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ مین ہول کا سلیب پہلے سے غائب تھا یا بعد میں ہٹایا گیا۔
حکام کے مطابق واقعے کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ -

کراچی میں شب برات کے موقع پر سیکیورٹی سخت
کراچی میں شب برات کے موقع پر پولیس اور انتظامیہ نے شہر بھر میں سیکیورٹی سخت کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ نیشنل آئی جی کراچی نے تمام زونل ڈی آئی جیز، ضلعی ایس ایس پیز، ایس پیز، ایس ڈی پی اوز اور ایس ایچ اوز کو ہدایت دی ہے کہ مرکزی شاہراہوں، گلیوں اور اہم مقامات پر پولیس موبائل اور موٹر سائیکل گشت بڑھایا جائے۔
ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے کہا کہ مساجد، امام بارگاہوں، مزارات، قبرستانوں اور درگاہوں پر فول پروف سیکیورٹی یقینی بنائی جائے۔ شب برات کی محافل اور اجتماعات کے منتظمین اور رضاکاروں کے ساتھ رابطہ رکھا جائے گا اور دہشت گرد عناصر، فورتھ شیڈول کے ملزمان اور مشکوک افراد پر خصوصی نظر رکھی جائے گی۔
عوامی املاک اور اہم تنصیبات کی حفاظت کے ساتھ ساتھ آتش بازی اور پٹاخوں کی فروخت میں ملوث افراد کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ الرٹ پر ہوگا اور ٹریفک روانی کے لیے خصوصی انتظامات کیے جائیں گے۔
یہ اقدامات شہریوں کی حفاظت اور شب برات کے موقع پر امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ -

پشاور میں ینگ لیڈرز کنونشن: طالبہ نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو لاجواب کر دیا
پشاور میں ینگ لیڈرز کنونشن کے دوران ایک طالبہ نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو سوال کر کے حیران کر دیا۔
کنونشن کے دوران طالبہ نے کہا کہ دوسرے صوبوں میں تو جعلی حکومتیں ہیں لیکن کے پی میں تو اصلی حکومت ہے، پھر ترقی دوسرے صوبوں میں ہو رہی ہے، یہاں کیوں نہیں ہو رہی؟
سوال سنتے ہی وزیراعلیٰ سہیل آفریدی مسکراتے رہے اور کہا کہ ہماری ترقی یہ ہے کہ آپ بلا جھجک وزیراعلیٰ سے سوال کر رہی ہیں۔
یہ موقع شرکاء کے لیے دلچسپ بھی رہا اور طالبہ کی ہوشیاری کی داد بھی دی گئی۔ -

پاکستان میں ویکسین سازی میں سعودی تعاون کی راہیں ہموار
پاکستان میں ویکسین کی مقامی تیاری کے شعبے میں سعودی عرب کے اعلیٰ سطحی وفد کی آمد کے بعد دوطرفہ تعاون کی اہم پیش رفت کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ وفد کی قیادت منسٹر آف انڈسٹری کے سینیئر ایڈوائزر نزار الحریری کر رہے ہیں، جنہوں نے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال اور وزارت صحت کے اعلیٰ حکام کے ساتھ اجلاس کیا۔
اجلاس میں پاکستان میں ویکسین کی مقامی تیاری، مستقبل کی طلب، دستیاب انفراسٹرکچر اور متعلقہ صلاحیتوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزارت صحت کے ماتحت اداروں کے سربراہان، چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈریپ اور چیف ایگزیکٹو آفیسر قومی ادارہ صحت نے بھی اجلاس میں بریفنگ دی۔
وفاقی وزیر صحت نے بتایا کہ پاکستان میں تقریباً 24 کروڑ آبادی ہے اور ہر سال 62 لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں، جو ہر سال نیوزی لینڈ جتنی آبادی کے برابر اضافہ ہے۔ حکومت 13 اقسام کی ویکسین شہریوں کو مفت فراہم کر رہی ہے، مگر یہ ویکسین ملک میں تیار نہیں ہوتیں اور عالمی اداروں سے درآمد کی جاتی ہیں، جس پر سالانہ تقریباً 400 ملین امریکی ڈالر لاگت آتی ہے۔
وزیر صحت نے کہا کہ ویکسین کی لاگت کا 49 فیصد بین الاقوامی شراکت دار ادا کرتے ہیں اور 51 فیصد حکومت برداشت کرتی ہے، تاہم 2031 کے بعد بین الاقوامی امداد ختم ہو جائے گی۔ اگر مقامی ویکسین تیار نہ ہوئی تو سالانہ لاگت 1.2 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی، جو ملکی معیشت پر بڑا بوجھ ڈالے گی۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں وزارت صحت نے ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جنگی بنیادوں پر اقدامات شروع کر دیے ہیں اور پاکستان میں تیرہ بیماریوں کی ویکسین کی مقامی تیاری کے لیے عملی پیش رفت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان صحت کے شعبے میں اشتراک خطے کے لیے مثال بنے گا اور ویکسین سازی میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ -

قومی دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے ،حافظ مسعود اظہر
پاکستان اسلامک کونسل کے چیئرمین اور جامعہ سعیدیہ سلفیہ کے پرنسپل ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر نے بلوچستان میں سیکیورٹی اداروں کی حالیہ کارروائیوں پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ فتنہ الہندوستان کے حملوں کو ناکام بنانا ریاستی اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور قومی عزم کا مظہر ہے۔ سیکورٹی فورسز نے اپنی پیشہ وارانہ مہارت ، قربانی اور قومی جذبے سے ثابت کردیا ہے کہ قومی دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے ۔ دہشت گردوں کے خلاف کامیاب اور بہادرانہ کارروائیوں پر ہم پاک فوج کے بہادر جوانوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں اسلامک کونسل کے رضا کار ، دینی ادارے اور علماء اپنے محافظوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں ۔ بلوچستان میں ہونے والے حملوں میں بھارت کی مداخلت کے شواہد موجود ہیں، یہ کارروائیاں پاکستان کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی منظم کوششوں کا حصہ ہیں۔ دشمن عناصر کی یہ سازشیں ، کاروا ئیاں سیکیورٹی اداروں کی بروقت اور مؤثر حکمتِ عملی کے باعث ناکام ہو رہی ہیں کہ جو قابلِ ستائش ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی ایک قومی مسئلہ ہے جس کا مقابلہ صرف اداروں ہی نہیں بلکہ پوری قوم کے اتحاد اور یکجہتی سے ہی ممکن ہے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ افواہوں سے گریز کریں، ریاستی اداروں پر اعتماد رکھیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ قومی یکجہتی ہی دشمن کے ناپاک عزائم کو شکست دینے کی اصل قوت ہے۔ وطنِ عزیز کی سلامتی اور تحفظ کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے سیکیورٹی اہلکار ہمارے حقیقی ہیرو اور محسن ہیں۔ہم اور ہماری آنے والی نسلیں بھی ان کی احسان مند ہیں ۔ بہادر جوانوں کی قربانیاں تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی ۔ ہم شہید جوانوں کے درجات کی بلندی اور زخمی اہلکاروں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں ۔حکومت سے ہمارا مطالبہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیے کو مزید مضبوط کیا جائے، سرحدی سلامتی کو یقینی بنایا جائے اور بیرونی مداخلت کے شواہد عالمی برادری کے سامنے مؤثر انداز میں رکھے جائیں۔
-

دفتر خارجہ کی ایران امریکہ مذاکرات میں پاکستان کی شرکت کی تصدیق
دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کو ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے جیو نیوز سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان اس اہم اجلاس میں شریک ہوگا۔
ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات رواں ہفتے استنبول میں منعقد ہوں گے اور ان مذاکرات کو بیک ڈور کوششوں کے ذریعے ممکن بنایا گیا ہے، جس میں پاکستان اور ترکی نے اہم کردار ادا کیا۔ امریکی اور ایرانی حکام کے مطابق جوہری مذاکرات جمعے کو ترکی میں دوبارہ شروع ہوں گے، جو مئی 2023 سے تعطل کا شکار تھے۔
علاقائی عہدیدار کے مطابق مذاکرات میں سعودی عرب، قطر، عمان، پاکستان، مصر اور متحدہ عرب امارات کو مدعو کیا گیا ہے۔ ایرانی سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران استنبول مذاکرات کے حوالے سے نہ پُرامید ہے نہ مایوس، اور یہ بات چیت طے کرے گی کہ آیا امریکہ سنجیدہ اور نتیجہ خیز مذاکرات چاہتا ہے یا نہیں۔
ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ ایران کی دفاعی تیاریوں پر کسی بھی قسم کی بات چیت نہیں ہوگی اور ہر ممکنہ صورتحال کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ -

قازقستان کے صدر دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے۔
قازقستان کے صدر قاسم جومارت دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے ہیں۔ صدر مملکت آصف زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے نور خان ایئربیس پر مہمان صدر کا استقبال کیا، جہاں انہیں 21 توپوں کی سلامی بھی دی گئی۔
صدر قازقستان کے ہمراہ سینئر وزرا اور سرکاری حکام پر مشتمل اعلیٰ سطحی وفد بھی پاکستان آیا ہے۔ دورے کے دوران کئی شعبوں میں تعاون کی مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط متوقع ہیں، جو دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط کریں گے۔ -

نئے ایپسٹین دستاویزات اور غلافِ کعبہ کا سوال: مقدس علامات، تحویلِ امانت، اور تشویشناک تاثرات،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید
میجر (ر) ہارون رشید
دفاعی و تزویراتی تجزیہ کار، جو جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، بازدارانہ حکمتِ عملی اور دفاعی جدید کاری میں مہارت رکھتے ہیں،اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک ایمینیٹیز اینڈ ڈیولپمنٹ کے رکن ہیںجیفری ایپسٹین سے منسلک حال ہی میں جاری ہونے والے دستاویزات میں ایسی خط و کتابت سامنے آئی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ غلافِ کعبہ (کسوہ)—جو مکہ مکرمہ میں خانۂ کعبہ کو ڈھانپنے والا مقدس کپڑا ہے—کے تین ٹکڑے بالواسطہ ذرائع کے ذریعے اس تک منتقل کیے گئے۔ اس انکشاف نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے سنگین اخلاقی اور تحویلی (custodial) سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
دستاویزات کے مطابق، اس منتقلی میں مبینہ طور پر متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھنے والی کاروباری خاتون عزیزہ الاحمدی کا کردار شامل تھا، جو دیگر واسطہ کاروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی تھیں۔ ترسیلات کو بین الاقوامی طور پر منتقل کیا گیا اور کسٹمز دستاویزات میں انہیں غیر مذہبی اشیاء کے طور پر ظاہر کیا گیا۔ تاہم، یہ دستاویزات یہ واضح نہیں کرتیں کہ ان مقدس اشیاء کی حوالگی کی اجازت کس نے دی یا انہیں کسی ایسے نجی فرد کو کیوں بھیجا گیا جس کی کوئی معروف مذہبی یا ادارہ جاتی حیثیت نہیں تھی۔
غلافِ کعبہ کی اہمیت کیوں ہے
غلافِ کعبہ کوئی عام یادگاری شے نہیں۔ مسلمانوں کے لیے یہ اسلام کے مقدس ترین مقام کی علامت ہے۔ طواف کے دوران لاکھوں عقیدت مند خانۂ کعبہ کو چھوتے ہیں، دعائیں مانگتے ہیں، آنسو بہاتے ہیں اور اپنی امیدیں اللہ کے حضور رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے غلافِ کعبہ کے کسی بھی حصے کی ترسیل یا تقسیم کے لیے سخت اخلاقی اور تحویلی ضوابط کی توقع کی جاتی ہے۔دستاویزات میں بیان کیا گیا ہے کہ ان ٹکڑوں میں ایسا کپڑا بھی شامل تھا جو حج یا عمرہ کے موسموں میں استعمال ہوا تھا—اگر یہ دعویٰ درست ہے تو یہ تشویش مزید بڑھا دیتا ہے کہ ایسی مقدس علامات کو ان کے درست تحفظ اور نگرانی سے کیسے ہٹایا گیا۔اسلام، جادو، اور مسلمانوں کی تشویش کی بنیاد
اسلام سحر (جادو)، توہمات اور باطنی یا شیطانی اعمال کی واضح اور قطعی طور پر نفی کرتا ہے۔
قرآن و سنت مومنین کو ہدایت دیتے ہیں کہ وہ حفاظت اور مدد صرف اللہ سے طلب کریں اور کسی بھی ایسی قوت کے تصور کو رد کریں جو اللہ کے سوا خود مختار ہو۔ اس تناظر میں، اسلام کسی بھی شے—بشمول غلافِ کعبہ—کو ذاتی یا خود مختار ماورائی طاقت کا حامل نہیں مانتا۔تاہم، تاریخی اور ثقافتی طور پر یہ بھی حقیقت ہے کہ بہت سے مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ دشمن عناصر کبھی کبھار روحانی، نفسیاتی یا علامتی نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں، اگرچہ ایسی کوششیں اللہ کے حکم کے بغیر کوئی حقیقی اثر نہیں رکھتیں۔ یہ تصور—چاہے کوئی اسے تسلیم کرے یا نہ کرے—اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ مقدس اسلامی علامات کا اخلاقی طور پر گرے ہوئے افراد کے ساتھ جڑ جانا شدید جذباتی اور دینی اضطراب کیوں پیدا کرتا ہے۔قرآنِ مجید جھوٹی قوتوں اور گمراہی کے خلاف خبردار کرتا ہے
کیا تم بعل کو پکارتے ہو اور سب سے بہتر پیدا کرنے والے کو چھوڑ دیتے ہو؟
اللہ کو، جو تمہارا رب ہے اور تمہارے باپ دادا کا رب ہے
(سورۃ الصافات 37:125–126)
اہلِ ایمان کے لیے یہ آیات اس حقیقت کو مضبوط کرتی ہیں کہ فساد، فریب اور اخلاقی زوال بالآخر تباہی ہی پر منتج ہوتے ہیں، چاہے ان کے لیے کوئی بھی طریقہ اختیار کیا جائے۔اصل سوال
جاری کردہ دستاویزات میں ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں جو یہ ثابت کرے کہ غلافِ کعبہ کے ان ٹکڑوں کو کسی رسم، جادو یا باطنی عمل کے لیے استعمال کیا گیا۔البتہ یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ مقدس اسلامی اشیاء ایک ایسے فرد تک پہنچیں جس کی زندگی استحصال، بدعنوانی اور اخلاقی انہدام کی علامت تھی—اور یہی حقیقت بذاتِ خود گہری جانچ کا تقاضا کرتی ہے۔لہٰذا اصل مسئلہ کسی ماورائی نیت پر قیاس آرائی نہیں، بلکہ احتساب ہے:
ان مقدس اشیاء کو کس نے جاری کیا؟
کس اختیار کے تحت؟
اور تحویلی و حفاظتی نظام کیسے ناکام ہوا؟
مسلمانوں کے لیے یہ واقعہ ایک یاد دہانی ہے کہ مقدس علامات کو کبھی تجارتی شے نہیں بننا چاہیے، نہ ہی ان کا غلط استعمال یا اخلاقی تناظر سے اخراج ہونا چاہیے—خواہ انہیں طلب کرنے والا کوئی بھی ہو۔