Baaghi TV

Blog

  • احمدپور شرقیہ: باراتی بس گرڈ اسٹیشن کے قریب الٹ گئی، 3 خواتین زخمی

    احمدپور شرقیہ: باراتی بس گرڈ اسٹیشن کے قریب الٹ گئی، 3 خواتین زخمی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی/نامہ نگار حبیب خان) احمد پور شرقیہ کے نواحی علاقے مبارک پور کے قریب گرڈ اسٹیشن کے پاس باراتیوں کی بس حادثے کا شکار ہو گئی، جس کے نتیجے میں تین خواتین زخمی ہو گئیں۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق بارات والی بس چوک بھٹہ احمد پور شرقیہ سے مبارک پور کی جانب جا رہی تھی کہ اچانک ڈرائیور کے مطابق اسٹیئرنگ لاک ہو گیا، جس کے باعث بس بے قابو ہو کر سڑک پر الٹ گئی۔

    حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچیں اور زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔ ریسکیو حکام کے مطابق زخمی ہونے والی خواتین میں زرینہ بی بی زوجہ محمد صادق، عمر 38 سال، شامل ہیں، جنہیں دائیں ٹانگ میں فریکچر کا شبہ ہے۔ انہیں ابتدائی طبی امداد کے بعد تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال احمد پور شرقیہ منتقل کر دیا گیا۔

    دیگر زخمیوں میں نسیم بی بی زوجہ عبدالرحمن، عمر 50 سال، اور رضیہ بی بی زوجہ محمد یعقوب، عمر 35 سال شامل ہیں، جنہیں معمولی خراشیں اور پٹھوں میں درد کی شکایت تھی۔ دونوں خواتین کو موقع پر ہی فرسٹ ایڈ فراہم کی گئی اور ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔

    ریسکیو عملہ حادثے کے بعد طویل وقت تک جائے وقوعہ پر موجود رہا اور بس کو سڑک سے ہٹا کر ٹریفک کی روانی بحال کروائی۔ خوش قسمتی سے حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم واقعے نے باراتیوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا تھا۔

  • اوکاڑہ،رینالہ خورد: پولٹری فارم کی عمارت گرنے سے ایک مزدور جاں بحق، 5 زخمی

    اوکاڑہ،رینالہ خورد: پولٹری فارم کی عمارت گرنے سے ایک مزدور جاں بحق، 5 زخمی

    اوکاڑہ،رینالہ خورد (نامہ نگار+سٹی رپورٹر) اوکاڑہ کے علاقے شیر گڑھ روڈ پر واقع ایک پولٹری فارم کی عمارت مرمتی کام کے دوران اچانک گر گئی، جس کے نتیجے میں ملبے تلے دب کر ایک مزدور جاں بحق جبکہ 5 مزدور شدید زخمی ہو گئے۔

    تفصیلات کے مطابق پولٹری فارم کی عمارت پر مرمت کا کام جاری تھا کہ اچانک عمارت زمین بوس ہو گئی، جس کے باعث وہاں کام کرنے والے 6 مزدور ملبے تلے دب گئے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ظفر اقبال 22 ریسکیو اہلکاروں اور جدید مشینری کے ہمراہ فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچ گئے۔ اس دوران اسسٹنٹ کمشنر رینالہ خورد اور پولیس کی نفری بھی موقع پر پہنچ گئی۔

    ریسکیو حکام کے مطابق ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر کی نگرانی میں ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا، جس کے دوران ملبے تلے دبے تمام مزدوروں کو باہر نکالا گیا۔ حادثے میں 35 سالہ مزدور شاہد موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا، جبکہ زخمی ہونے والوں میں 28 سالہ شعیب، 42 سالہ عباس، 32 سالہ عرفان، 55 سالہ اکرم اور 30 سالہ رمضان شامل ہیں۔

    ریسکیو ٹیم نے زخمیوں کو موقع پر ابتدائی طبی امداد فراہم کی، جس کے بعد ضروری کارروائی مکمل کرتے ہوئے جاں بحق مزدور کی لاش اور زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگر ریسکیو ٹیم بروقت موقع پر نہ پہنچتی تو جانی نقصان مزید بڑھ سکتا تھا۔ شہریوں نے ریسکیو اہلکاروں کی فوری کارروائی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے متعلقہ حکام کی جانب سے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

  • بنگلہ دیش: شیخ حسینہ کے اقتدار کے خاتمے کے بعد آئندہ ماہ پہلے قومی انتخابات

    بنگلہ دیش: شیخ حسینہ کے اقتدار کے خاتمے کے بعد آئندہ ماہ پہلے قومی انتخابات

    ‎آئندہ ماہ بنگلہ دیش میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد ملک میں پہلے قومی انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ حسینہ ایک ملک گیر عوامی تحریک کے بعد بھارت فرار ہو گئی تھیں، جس میں عوام نے سیاسی اصلاحات، احتساب، حقیقی جمہوریت اور انسانی حقوق کے احترام کا مطالبہ کیا تھا۔
    ‎2024 کی اس تحریک نے ایک دہائی سے زائد عرصے پر محیط آمرانہ دور کا خاتمہ کیا، جس میں شہری آزادیوں کی پامالی اور ریاستی عناصر کی جانب سے انسانی حقوق کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزیاں شامل تھیں، جن میں اجتماعی ظلم و ستم کے سنگین جرائم بھی شامل تھے۔ سکیورٹی فورسز اور عوامی لیگ کے ارکان نے ملک گیر مظاہروں کے دوران سینکڑوں مظاہرین کو ہلاک کیا، جس کے نتیجے میں حسینہ کا زوال ممکن ہوا۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ انتخابات میں جو بھی جماعت کامیاب ہوگی، اسے ایک ایسا ملک ورثے میں ملے گا جو جبر سے نڈھال ہے مگر جمہوری تجدید کی امید رکھتا ہے۔ انسانی حقوق کو سیاسی ایجنڈے کے مرکز میں نہ رکھنے کی صورت میں یہ موقع ضائع ہو سکتا ہے۔
    ‎انتخابات میں ممکنہ طور پر بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) سب سے آگے نظر آ رہی ہے، جو طویل عرصے سے عوامی لیگ کی مرکزی اپوزیشن رہی ہے۔ حسینہ کے دورِ حکومت میں بی این پی کے ارکان اور حامی صوابدیدی گرفتاریوں، تشدد اور جبری گمشدگیوں کا نشانہ بنتے رہے، جن میں سے کئی افراد پھر کبھی نہیں ملے۔ ان مظالم کو قومی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے دستاویزی شکل دی، مگر حقیقی احتساب نہ ہوا۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق یہ جبر اتفاقی نہیں تھا بلکہ منظم اور ڈھانچہ جاتی تھا تاکہ اپوزیشن کو غیر موثر بنایا جا سکے، اور یہ روایت ماضی کی حکومتوں سے بھی چلی آ رہی تھی، جو اپنی طاقت کو مستحکم کرنے کے لیے ایسے ہتھکنڈے استعمال کرتی رہی ہیں۔

  • کندھ کوٹ: امدادی رقوم کی ادائیگی، بینک اسلامی اور ہینڈز این جی او پر سنگین الزامات

    کندھ کوٹ: امدادی رقوم کی ادائیگی، بینک اسلامی اور ہینڈز این جی او پر سنگین الزامات

    کندھ کوٹ (باغی ٹی وی،نامہ نگار)کندھ کوٹ میں واقع بینک اسلامی کی ایک برانچ اور معروف فلاحی ادارے HANDS NGO کے خلاف امدادی رقوم کی ادائیگی کے عمل میں مبینہ رشوت خوری، بدانتظامی اور مستحق افراد کے استحصال سے متعلق نہایت تشویشناک شکایات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد شہری حلقوں میں شدید تشویش اور غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق امدادی اقساط کے حصول کے لیے بینک آنے والے مستحق خواتین اور مردوں نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں بینک اسلامی کی متعلقہ برانچ کے باہر موجود مبینہ ایجنٹوں کے ذریعے رقم ادا کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے، جس کے بعد ہی ان کی امدادی رقم جاری کی جاتی ہے۔ متاثرین کے مطابق غریب اور نادار افراد صبح سویرے سے شام تک طویل قطاروں میں کھڑے رہنے پر مجبور ہوتے ہیں، جہاں انہیں نہ صرف شدید ذہنی اذیت بلکہ توہین آمیز رویے کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ امدادی رقوم کے حصول کے لیے آنے والے مستحق افراد سے مختلف بہانوں کے تحت پیسے طلب کیے جاتے ہیں، جو فلاحی نظام کی روح کے سراسر منافی اور کھلی ناانصافی کے مترادف ہے۔ شکایات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بعض افراد کو ادائیگی کے بغیر بار بار واپس بھیج دیا جاتا ہے جبکہ رشوت دینے والوں کو فوری سہولت فراہم کی جاتی ہے۔

    صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ اور سنگین شکل اختیار کر گئی جب اس معاملے پر دونوں اداروں نے ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال دی۔ بینک اسلامی کے عملے کا مؤقف ہے کہ بینک کے باہر موجود مبینہ ایجنٹوں کا تعلق HANDS NGO سے ہے اور بینک انتظامیہ کا ان سے کوئی تعلق نہیں، جبکہ دوسری جانب HANDS NGO کی انتظامیہ دعویٰ کر رہی ہے کہ یہ افراد بینک انتظامیہ کے مقرر کردہ ہیں اور این جی او کا ان سے کوئی واسطہ نہیں۔

    دونوں اداروں کی جانب سے ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالنے کے باعث غریب اور مستحق عوام شدید ذہنی دباؤ اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف فلاحی اداروں اور بینکاری نظام کی ساکھ پر سنگین سوالیہ نشان ہے بلکہ مستحق افراد کے بنیادی حق پر کھلا ڈاکا بھی ہے۔

    شہریوں اور متاثرہ افراد نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ اعلیٰ حکام اس سنگین معاملے کا فوری نوٹس لیں، بینک اسلامی اور HANDS NGO کے کردار کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائی جائیں اور اگر کسی بھی ادارے یا فرد کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئیں تو ان کے خلاف بلا امتیاز سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

    عوام کا کہنا ہے کہ امدادی رقوم کا مقصد غریب اور مستحق افراد کی زندگی میں آسانی پیدا کرنا ہوتا ہے، نہ کہ انہیں مزید مشکلات، ذلت اور استحصال کا شکار بنانا۔ اگر ایسے اقدامات کو روکا نہ گیا تو فلاحی نظام سے عوام کا اعتماد مکمل طور پر اٹھ جائے گا۔

  • بنگلہ دیش: چٹوگرام میں انڈین اکنامک زون منسوخ، ملٹری اکنامک زون بنانے کا اعلان

    بنگلہ دیش: چٹوگرام میں انڈین اکنامک زون منسوخ، ملٹری اکنامک زون بنانے کا اعلان

    ‎بنگلہ دیش نے چٹوگرام میں انڈین اکنامک زون منصوبے کو منسوخ کر کے اس کی جگہ ملٹری اکنامک زون قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
    ‎بنگلہ دیش اکنامک زون اتھارٹی کے سربراہ چوہدری عاشق محمود بن ہارون نے پیر کو ڈھاکہ میں پریس کانفرنس میں کہا کہ چٹوگرام میں انڈین اکنامک زون کے لیے زمین کا ایک بڑا رقبہ مختص کیا گیا تھا، لیکن اب یہ منصوبہ منسوخ کر دیا گیا ہے۔ اس زمین کے 850 ایکڑ پر اب ملٹری اکنامک زون قائم کیا جائے گا۔
    ‎انڈین اکنامک زون کا منصوبہ 2015 میں سامنے آیا تھا، جب اس وقت کی حکومت نے انڈین سرمایہ کاروں کے لیے صنعتی پارکس کے قیام کے لیے زمین مختص کرنے پر رضامندی دی تھی اور منصوبے کے لیے انڈیا نے قرض بھی فراہم کرنا تھا۔
    ‎تاہم گزشتہ برسوں میں یہ منصوبہ التوا کا شکار رہا اور بہت کم کام ہو سکا۔ حکومت کی تبدیلی اور دونوں ملکوں کے کشیدہ تعلقات کے بعد اکتوبر میں محمد یونس کی عبوری حکومت نے یہ منصوبہ منسوخ کر دیا۔

  • لاہور کے 10 سالہ موسیٰ عمر کی او لیول میں شاندار کارکردگی

    لاہور کے 10 سالہ موسیٰ عمر کی او لیول میں شاندار کارکردگی

    ‎لاہور کے 10 سالہ طالب علم موسیٰ عمر نے کیمبرج یونیورسٹی کے تحت او لیولز امتحان میں شاندار نتائج حاصل کیے ہیں۔ بیالوجی میں انہوں نے A+ اور کیمسٹری میں A گریڈ حاصل کیا۔
    ‎واضح رہے کہ موسیٰ عمر نو سال کی عمر میں ہی فزکس اور ریاضی میں A گریڈ سے کامیابی حاصل کر چکے ہیں۔ کیمبرج کے انٹرنیشنل جنرل سرٹیفکیٹ آف سکینڈری ایجوکیشن (IGCSE) پروگرام میں ہر سال لاکھوں بچے او لیولز کے امتحانات میں شریک ہوتے ہیں، لیکن 9 یا 10 سال کے بچوں کے لیے یہ کامیابیاں نایاب ہیں۔
    ‎موسیٰ کی والدہ ڈاکٹر آمنہ عمر نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے سال ان کے بیٹے نے آٹھ میں سے دو مضامین میں شاندار کامیابی حاصل کی تھی، اور اب 10 سال کی عمر میں کیمسٹری اور بیالوجی میں اعلیٰ گریڈ حاصل کر کے انہوں نے ایک بار پھر سب کو حیران کر دیا ہے۔
    ‎یہ کامیابی پاکستان میں کم عمر طلبہ کی تعلیمی قابلیت اور محنت کا روشن ثبوت ہے۔

  • احمدپور شرقیہ: خاتون نے خود کو آگ لگا لی، 88 فیصد جھلسنے کے بعد بہاول وکٹوریہ ہسپتال منتقل

    احمدپور شرقیہ: خاتون نے خود کو آگ لگا لی، 88 فیصد جھلسنے کے بعد بہاول وکٹوریہ ہسپتال منتقل

    اوچ شریف(باغی ٹی وی،نامہ نگار حبیب خان)ضلع بہاولپور کی تحصیل احمدپور شرقیہ کے علاقے مہراب والا میں افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں 54 سالہ خاتون نے مبینہ طور پر خود پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگا لی، جس کے نتیجے میں وہ 88 فیصد جھلس گئیں۔

    ریسکیو 1122 ذرائع کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی گورنمنٹسکول مہراب والا کے قریب جائے وقوعہ پر ریسکیو وہیکل BPA-32 روانہ کی گئی۔ ریسکیو عملے نے فوری طور پر متاثرہ خاتون کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی اور تشویشناک حالت کے پیش نظر انہیں ٹی ایچ کیو ہسپتال احمدپور شرقیہ منتقل کیا۔

    ریسکیو اسٹاف کے مطابق متاثرہ خاتون کے بیٹے نے بیان دیا کہ گھر میں کسی قسم کی لڑائی یا جھگڑا نہیں ہوا تھا، تاہم ان کی والدہ پر نامعلوم افراد کی جانب سے تعویز اور عاملانہ عمل کروایا گیا تھا، جس کے باعث وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھیں۔ اہل خانہ کے مطابق اسی ذہنی کیفیت کے تحت خاتون نے خود پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگا لی۔

    ٹی ایچ کیو ہسپتال احمدپور شرقیہ میں ابتدائی طبی معائنے کے بعد ڈاکٹروں نے خاتون کی حالت نازک قرار دیتے ہوئے انہیں فوری طور پر بہاول وکٹوریہ ہسپتال (BVH) ریفر کر دیا، جہاں وہ برن یونٹ میں زیر علاج ہیں۔

    ریسکیو رپورٹ کے مطابق متاثرہ خاتون کے جسم کا تقریباً 88 فیصد حصہ شدید طور پر جھلس چکا ہے، جس میں زیادہ تر جلنے کی نوعیت Superficial (جلد کی سطحی مگر وسیع جلن) بتائی جا رہی ہے۔

    متاثرہ خاتون کی شناخت سکینہ بی بی زوجہ خادم حسین، عمر 54 سال کے طور پر ہوئی ہے، جو بستی رنگ پور، مہراب والا، احمدپور شرقیہ کی رہائشی ہیں۔

    ریسکیو حکام کے مطابق ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے، جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات متعلقہ ادارے کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ خاتون کن حالات اور عوامل کے باعث اس انتہائی اقدام تک پہنچیں۔

  • مسلسل 6 ماہ تک بند سمز سے متعلق پی ٹی اے کا انتباہ جاری

    مسلسل 6 ماہ تک بند سمز سے متعلق پی ٹی اے کا انتباہ جاری

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی موبائل سم کو مسلسل 6 ماہ تک استعمال میں نہ لایا گیا تو متعلقہ ٹیلی کام آپریٹر اسے بند کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔

    پی ٹی اے کے مطابق وہ سمز جن پر 180 دن تک کال، ایس ایم ایس یا انٹرنیٹ استعمال کا کوئی ریکارڈ موجود نہ ہو انہیں غیر فعال تصور کیا جائے گا ایسی سمز بند کیے جانے کے بعد ان نمبرز کو کسی دوسرے صارف کو دوبارہ جاری کیا جا سکتا ہے،ایک بار موبائل نمبر نئے صارف کے نام پر جاری ہو جانے کے بعد سابق صارف کا اس نمبر پر کسی قسم کا قانونی حق یا دعویٰ باقی نہیں رہتا۔

    حکام کے مطابق اگر کوئی صارف کسی مجبوری یا وجہ کے باعث عارضی طور پر اپنی سم استعمال نہیں کر پا رہا تو وہ متعلقہ ٹیلی کام آپریٹر کو تحریری درخواست یا ای میل کے ذریعے مخصوص مدت کے لیے نمبر محفوظ رکھنے کی درخواست دے سکتا ہےکسی بھی ممکنہ پریشانی سے بچنے کے لیے اپنی موبائل سمز کا باقاعدہ اور ذمہ داری کے ساتھ استعمال جاری رکھیں۔

    اے آئی کی مدد سے نیا اور نامعلوم وائرس دریافت

    
پاکستان لندن سے زیادہ محفوظ ہے، طلال چوہدری

    پنجاب پولیس میں کانسٹیبل کی بھرتی سے متعلق ایک اہم فیصلہ جاری

  • اے آئی کی مدد سے نیا اور نامعلوم وائرس دریافت

    اے آئی کی مدد سے نیا اور نامعلوم وائرس دریافت

    سائنسدانوں نے اے آئی کی مدد سے ایسا نیا وائرس تیار کیا ہے جو اس سے پہلے کبھی موجود نہیں تھا۔

    تفصیلات کے مطابق اس وائرس کو Evo–Φ2147 کا نام دیا گیا ہے اور اسے مکمل طور پر نئے سرے سے تخلیق کیا گیا ہے صرف 11 جینز پر مشتمل یہ وائرس زندگی کی انتہائی سادہ شکلوں میں شمار ہوتا ہے، جبکہ انسانی جینوم میں تقریباً 200,000 جینز پائے جاتے ہیں، یہ وائرس خاص طور پر ای کولی (E. Coli) بیکٹیریا کو ختم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

    تحقیق کے دوران اے آئی ٹول Evo2 کی مدد سے 285 نئے وائرس بنائے گئے، جن میں سے 16 وائرس مؤثر ثابت ہوئے، جبکہ سب سے کامیاب وائرس قدرتی اقسام کے مقابلے میں 25 فیصد زیادہ تیز تھےتاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی کے ذریعے تیار کیے گئے ایسے وائرس مستقبل میں ممکنہ خطرات بھی پیدا کر سکتے ہیں۔

    پنجاب پولیس میں کانسٹیبل کی بھرتی سے متعلق ایک اہم فیصلہ جاری

    یہ تحقیق برطانوی سائنسدان ڈاکٹر ایڈریان وولفسن کی قیادت میں اسٹارٹ اپ جینیرو نے کی ہے ڈاکٹر وولفسن کے مطابق اب قدرتی ارتقا کے ساتھ ساتھ اے آئی پر مبنی جینوم ڈیزائن بھی زندگی کے ارتقائی عمل کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔

    اسلام آباد یونائیٹڈ کا نیا ہیڈ کوچ کون؟

  • 
پاکستان لندن سے زیادہ محفوظ ہے، طلال چوہدری

    
پاکستان لندن سے زیادہ محفوظ ہے، طلال چوہدری

    ‎وزیرِ مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے اور بعض مغربی شہروں، حتیٰ کہ لندن سے بھی زیادہ محفوظ ہے۔
    ‎سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں گاڑیوں کے کالے شیشوں سے متعلق پالیسی پر تفصیلی بحث ہوئی۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بیرونِ ملک کالے شیشوں کے استعمال کے لیے اضافی فیس لی جاتی ہے، اگر کوئی شخص سکیورٹی ضرورت یا ذاتی شوق کے تحت کالے شیشے استعمال کرنا چاہتا ہے تو اسے فیس ادا کرنی چاہیے۔
    ‎چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر بھی اعتراض اٹھایا کہ پالیسی بننے سے پہلے کارروائی نہ کرنے کی ہدایت کے باوجود شہریوں پر 50 ہزار روپے کے جرمانے عائد کیے گئے۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب باقاعدہ پالیسی موجود ہی نہیں تو جرمانے کس بنیاد پر کیے جا رہے ہیں۔
    ‎اس پر سینیٹر طلال چوہدری نے کہا کہ کمیٹی اس معاملے میں رہنمائی فراہم کرے، کیونکہ اس وقت نہ وفاق اور نہ ہی صوبوں میں کوئی واضح پالیسی موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایکسائز کے ایک موجودہ قانون کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے، جس میں 50 ہزار روپے جرمانے کی شق شامل ہے۔
    ‎وزیرِ مملکت نے مزید کہا کہ ماضی میں کالے شیشوں کے لیے سرٹیفکیٹس جاری کیے جاتے تھے، مگر ان کا غلط استعمال ہوا۔ اب کالے شیشے فیشن بن چکے ہیں اور اکثر لوگ جلدی بیماریوں کا بہانہ بنا کر ان کا استعمال کرتے ہیں۔
    ‎اجلاس میں رکن کمیٹی ثمینہ ممتاز نے سکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس عوام کو مکمل تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہے۔ انہوں نے کچے کے علاقے میں پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں ایک بچی کے ساتھ زیادتی اور سکیورٹی خدشات کے باعث ایک رکن کے شہید ہونے کا حوالہ بھی دیا۔
    ‎اس موقع پر سینیٹر طلال چوہدری نے کہا کہ جرائم، بشمول زیادتی، پوری دنیا میں ہوتے ہیں، تاہم لاہور جیسے شہر لندن سے زیادہ محفوظ ہیں۔ اس بیان پر سینیٹر طلحہ محمود نے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ اپر دیر میں لوگوں کو روک کر قتل کیا جا رہا ہے، ایسے میں پاکستان کو لندن یا نیویارک سے زیادہ محفوظ قرار دینا زمینی حقائق کے برعکس ہے۔