جماعت اسلامی نے کراچی کے مسائل کے خلاف یکم فروری کو “جینے دو کراچی” مارچ کا اعلان کر دیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے سانحہ گل پلازہ پر شدید ردعمل دیتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ گل پلازہ کا سانحہ صوبائی حکومت کی نااہلی کا واضح ثبوت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے المناک واقعات کے بعد بھی سندھ حکومت سنجیدہ اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے، اس لیے وزیراعلیٰ سندھ کو اپنی ناکامی تسلیم کرتے ہوئے عہدے سے الگ ہو جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہر بڑے حادثے کے بعد پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان الزام تراشی اور نام نہاد سیاسی کشمکش شروع ہو جاتی ہے، لیکن اس کا خمیازہ ہمیشہ کراچی کے عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔ حافظ نعیم الرحمان کے مطابق کراچی کے مسائل کا حل نہ وفاق کے کنٹرول میں ہے اور نہ صوبائی اختیارات میں، بلکہ اس کا واحد حل ایک بااختیار اور خودمختار سٹی گورنمنٹ کا قیام ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ گل پلازہ میں آگ لگنے کے باوجود آگ بجھانے کا مؤثر انتظام موجود نہیں تھا، جو انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سانحے کے بعد متاثرہ افراد اور شہری شدید بے بسی کا شکار ہیں، جبکہ حکمران طبقہ اپنی ذمہ داریوں سے مسلسل فرار اختیار کر رہا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ کراچی کے عوام پر کرپٹ اور نااہل حکمران مسلط کیے گئے ہیں، جو شہر کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے میں بھی ناکام ہو چکے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ “جینے دو کراچی” مارچ کے ذریعے عوام کی آواز حکمرانوں تک پہنچائی جائے گی اور کراچی کے حق کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
Blog
-

جماعت اسلامی کا یکم فروری کو “جینے دو کراچی” مارچ کا اعلان
-

پشین، سی ٹی ڈی کاروائی میں 6 دہشتگرد ہلاک
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز گورایہ نے کہا ہے کہ پشین میں کل سی ٹی ڈی نے کارروائی کی جس میں 6 دہشتگرد مارے گئے اور سی ٹی ڈی کے 10 لوگ معمولی زخمی ہوئے۔
کوئٹہ میں وزیراعلیٰ کے سیاسی اور میڈیا امور کے معاون شاہد رند اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز گورایہ نے پریس کانفرنس کی،ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے کہا کہ پشین میں کارروائی کے دوران راکٹ لانچرز، کلاشنکوف، ہینڈ گرینیڈ اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا۔ مجموعی طور پر آپریشن بہت اچھا رہا، مزید ملوث افراد کے خلاف بھی کارروائی ہوگی، ہم نے پہلے کہا تھا کہ چیزیں بہت بہتر ہوتی نظر آئیں گی تو ایسا ہو رہا ہے، پشین میں جہاں کارروائی کی گئی وہاں فتنہ الخوارج کے لوگوں کا آنا جانا تھا، ہم نے کارروائی سے پہلے وہاں سرنڈر کرنے کا پیغام پہنچایا اور سرنڈر نہ کرنے پر مقابلہ ہوا، انہوں نے سرنڈر نہیں کیا تو کارروائی کی گئی، ہم نے ثالثین بھی بھیجے، ہمیں لوگوں کو مارنے کا کوئی شوق نہیں ہے،کارروائی کے بعد پشین کی عوام نکلی اور انہوں نے شدت پسندوں کے خلاف کامیاب کارروائی پر سی ٹی ڈی کا شکریہ ادا کیا،پشین میں جو کارروائی ہوئی اس میں ثناﷲ اور اس کے ساتھے انجام کو پہنچے، جو شدت پسندی، قتل، ڈکیتی اور دیگر جرائم میں مطلوب تھے،
اس موقع پر شاہد رند نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی دہشتگردوں اور سہولت کاروں کے لیے تنبیہ ہے ان کے خلاف کارروائی ہوگی، سیاسی دباؤ کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا۔
-

ایم کیو ایم کی سیاست مردہ اور دفن ہوچکی،شرجیل میمن
شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم سے کوئی سیکیورٹی واپس نہیں لی گئی، ایم کیو ایم کی سیاست مردہ اور دفن ہوچکی، ایم کیو ایم کو عوام مسترد کرچکے ہیں۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کیلئے امداد کی منظوری دے دی، انسانی جان کا کوئی نعم البدل نہیں، دکانداروں کو متبادل جگہ دینے کی منظوری بھی دے دی گئی۔ان کا کہنا ہے کہ تمام عمارتوں میں فائر سیفٹی پر عملدرآمد کرائیں گے، حکومت سختی نہیں بلکہ عوام کا تحفظ کررہی ہے، سندھ حکومت تاجر برادری کو اکیلا نہیں چھوڑے گی، حکومت گل پلازہ کے متاثرین کے نقصان کا ازالہ کرے گی، وزیراعلیٰ سندھ کی قائم کردہ کمیٹی انکوائری کررہی ہے، سانحہ گل پلازہ سے اب تک وزیراعلیٰ ایک دن بھی آرام سے نہیں بیٹھے۔
شرجیل میمن نے مزید کہا کہ سانحہ گل پلازہ پر کچھ جماعتیں منفی سیاست کررہی ہیں، کبھی کہا گیا کراچی کو وفاق کے حوالے کردو، کبھی کہا گیا 18ویں ترمیم کو ختم کرو۔سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ ایم کیو ایم سے کوئی سیکیورٹی واپس نہیں لی گئی، خالد مقبول صدیقی کو 10 سپاہی دیئے ہوئے ہیں، مصطفیٰ کمال کے پاس زیادہ سیکیورٹی موجود ہے، ایم کیو ایم کی سیاست مردہ اور دفن ہوچکی ہے، ایم کیو ایم نے بلدیاتی انتخابات سے راہ فرار اختیار کی، ایم کیو ایم کو عوام مسترد کرچکے ہیں۔
-

سندھ حکومت نے ایم کیو ایم رہنماؤں کو سیکیورٹی واپس کر دی
کراچی:محکمہ داخلہ سندھ نے ایم کیو ایم رہنماؤں کی سیکیورٹی واپس کر دی۔
ذرائع کے مطابق خالد مقبول صدیقی، مصطفیٰ کمال، فاروق ستار اور انیس قائم خانی کی سیکیورٹی واپس کر دی گئی،وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے ایم کیو ایم رہنماؤں سے سیکیورٹی واپس لینے کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم رہنماؤں سے سیکیورٹی واپس لینے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ مصطفیٰ کمال اور خالد مقبول صدیقی اس وقت اسلام آباد میں موجود ہیں، کسی بھی سیاسی شخصیت کی سیکیورٹی واپس لینے سے متعلق کوئی ہدایت جاری نہیں کی گئی۔
-

توہین عدالت درخواست،سہیل آفریدی کو ریلیف مل گیا
پشاور ہائی کورٹ نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے خلاف توہین عدالت کی درخواست خارج کردی۔
چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ ایس ایم عتیق شاہ نے سہیل آفریدی کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کی،درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی عدالت سے ضمانت لیتے ہیں اور پھر اس کا غلط استعمال کرتے ہیں،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ وزیراعلیٰ اسلام آباد، لاہور اور کراچی جاتے ہیں اور وہاں پر تقاریر کرتے ہیں، وزیراعلیٰ عدالتی آرڈر کا غلط استعمال کرکے توہین عدالت کر رہے ہیں۔
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سہیل آفریدی صوبے کے منتخب وزیراعلیٰ ہیں، درخواست گزاروں نے توہین عدالت درخواست دائر کی لیکن اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں، یہ درخواست قابل سماعت نہیں ہے۔
-

بسنت کیلئے سکولوں کی چھتیں دینے کی تیاریاں، این او سی جاری
بسنت 2026 کے موقع پر اسکولوں کی چھتیں استعمال کے لیے دینے کی تیاریوں کا آغاز کر دیا گیا ہے –
ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی (ڈی ای اے) لاہور نے 15 میں سے 2 سرکاری اسکولوں کی چھتوں کے لیے این او سی جاری کر دی ہے جس میں گورنمنٹ وکٹوریہ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول اور گورنمنٹ اسکول دہلی گیٹ کی چھتوں کو بسنت کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے، دونوں اسکولوں کی چھتیں اسکول کونسل کی منظوری کے بعد نیلام کی جائیں گی،ابتدائی مرحلے میں اسکول کونسل کی جانب سے نیلامی کے لیے اشتہارات جاری کیے جائیں گے، جس کے بعد مقررہ طریقہ کار کے تحت چھتوں کی نیلامی عمل میں لائی جائے گی۔
ڈی ای اے لاہور نے دیگر سرکاری اسکولوں کی چھتوں کی نیلامی کے لیے والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ سے اجازت طلب کر لی ہے۔ اجازت ملنے کے بعد مزید اسکولوں کو بھی این او سی جاری کیے جانے کا امکان ہے۔
-

بھارت اور یورپی یونین کے درمیان تاریخی تجارتی معاہدہ طے پاگیا
نئی دہلی: بھارت اور یورپی یونین نے طویل عرصے سے زیرِ التوا ایک بڑے اور تاریخی تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دے دی ہے۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اسے ’’مدر آف آل ڈیلز‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ بھارت اور یورپ کے کروڑوں عوام کے لیے بڑے معاشی مواقع پیدا کرے گا تقریباً دو دہائیوں سے جاری وقفے وقفے کی بات چیت کے بعد یہ معاہدہ طے پایا ہے، جس کے تحت بھارت اپنی وسیع مگر محفوظ مارکیٹ کو 27 ممالک پر مشتمل یورپی یونین کے لیے فری ٹریڈ کےتحت کھولے گایورپی یونین اس وقت بھارت کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔
بھارتی وزیر اعظم اور یورپی کمیشن کی صدر اُرسلا فان ڈیر لیئن نئی دہلی میں ہونے والے بھارت۔یورپی یونین سمٹ میں معاہدے کی تفصیلات کا مشترکہ اعلان کریں گے مالی سال 2025 کے اختتام تک بھارت اور یورپی یونین کے درمیان تجارت کا حجم 136.5 ارب ڈالر رہا۔
بھارتی حکام کے مطابق معاہدے پر باضابطہ دستخط قانونی جانچ پڑتال کے بعد کیے جائیں گے، جس میں پانچ سے چھ ماہ لگ سکتے ہیں، جبکہ اس پر عمل درآمد ایک سال کے اندر متوقع ہے۔
یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپی یونین اور بھارت دونوں امریکا کے ساتھ غیر یقینی تجارتی حالات کے پیش نظر متبادل شراکت داریوں کو فروغ دے رہے ہیں،ماہرین کے مطابق اس ڈیل سے بھارت کو محنت طلب شعبوں میں برآمدات بڑھانے میں مدد ملے گی، جبکہ یورپی مصنوعات کو بھا ر تی مارکیٹ میں قیمت کا فوری فائدہ حاصل ہوگا۔
-

یاسین ملک کی جان بچانے کے لیے آواز بلند کریں،مشعال ملک
حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا ہے کہ کل یاسین ملک کے ایک انتہائی خطرناک پھانسی کے کیس کی سماعت ہونے جا رہی ہے، جس میں سزا کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ سنایا جا سکتا ہے۔
مظفرآباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس سماعت کے نتائج یاسین ملک کی زندگی کے لیے سنگین ثابت ہو سکتے ہیں،مشعال ملک کا کہنا تھا کہ یاسین ملک ایک مجاہد اور غازی ہیں، جنہوں نے مسلح جدوجہد ترک کر کے امن کا راستہ اختیار کیا، اس کے باوجود انہیں سخت حالات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق تہاڑ جیل میں یاسین ملک پر تشدد کیا جا رہا ہے اور انہیں قانونی دفاع کا بنیادی حق بھی نہیں دیا جا رہا، نہ ہی انہیں اپنی مرضی کے وکیل کی خدمات حاصل کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ یاسین ملک کو عدالتوں میں پیش نہیں کیا جا رہا اور ان کے خلاف یکطرفہ فیصلے کیے جا رہے ہیں، جو انصاف کے عالمی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ مشعال ملک نے کہا کہ اگر یاسین ملک کی جان کو کوئی نقصان پہنچا تو یہ صرف ایک فرد کی موت نہیں ہوگی بلکہ اس کے سنگین سیاسی اور اخلاقی نتائج ہوں گے۔
مشعال ملک نے عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور بالخصوص دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں سے اپیل کی کہ وہ یاسین ملک کی جان بچانے کے لیے آواز بلند کریں اور ان کے ساتھ ہونے والے مبینہ ظلم کے خلاف متحد ہوں۔ انہوں نے کہا کہ خاموشی اس ناانصافی کو مزید تقویت دے گی، اس لیے اب عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
-

بنگلہ دیش کے ساتھ آئی سی سی کا دوہرا معیار قابل مذمت ہے،خالد مسعود سندھو
مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نےکہا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لئےبنگلہ دیش کے ساتھ آئی سی سی کا دوہرا معیار قابل مذمت ہے،پاکستان کو بنگلہ دیش کے ساتھ یکجہتی کے طور پر ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کرنا چاہئے
خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ آئی سی سی کا پاکستان اور بنگلہ دیش کے ساتھ دوہرا رویہ کھل کر سامنے آیا ہے،ایشیا کپ میں بھارت نے جب پاکستان میں سیکورٹی بہانہ بنا کر پاکستان نہ آنے کا کہا تو آئی سی سی نے میچز دبئی منتقل کر دیئے اور اب ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لئے بنگلہ دیش نے بھارت میں سیکورٹی خدشات کی وجہ سے کھیلنے سے انکار کیا تو آئی سی سی نےمیچز کسی اور ملک منتقل کرنے کی بجائے بنگلہ دیش کو ورلڈ کپ سے ہی نکال دیا، آئی سی سی کے دوہرے معیار پر پاکستان نے کھل کر آواز اٹھائی تا ہم ضرورت اس امر کی ہے کہ بنگلہ دیش کے ساتھ یکجہتی کے طور پر پاکستان کو عوامی امنگوں کے عین مطابق آئی سی سی کے دوہرے رویئے کی وجہ سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کا اعلان کرنا چاہئے.جب تک آئی سی سی بھارتی زبان بولنا بندنہ کرے پاکستان کو قومی مفاد اور بنگلہ دیش کے ساتھ یکجہتی کے طور پر مضبوط اور سخت فیصلے کرنے چاہئے،بنگلہ دیش ٹیم کے ساتھ ناانصافی پاکستان کو برداشت نہیں کرنی چاہئے.
