گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے گل پلازہ سانحے میں شہید ہونے والے فائر فائٹر فرقان علی کی رہائش گاہ کا دورہ کیا اور اہلِ خانہ سے ملاقات کے دوران انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔
گورنر سندھ نے کہا کہ فرقان علی نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر فرض کی ادائیگی کی اور قوم کے لیے قربانی دی۔ گل پلازہ سانحے میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور متعدد افراد کے کاروبار تباہ ہو گئے، جس پر پوری قوم افسردہ ہے۔
کامران ٹیسوری نے اعلان کیا کہ شہید فرقان علی کے نام سے ایک فائر اسٹیشن منسوب کیا جائے گا اور سرکاری رہائش بھی ان کے اہلِ خانہ کے نام منتقل کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر فرقان علی کو سول ایوارڈ (ستارہ امتیاز) کے لیے نامزد کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں صدر مملکت کو خط بھی بھیجا جائے گا۔
مزید براں، شہید کے اہلِ خانہ کو ایک پلاٹ فراہم کیا جائے گا جس پر بلڈرز کی مدد سے گھر تعمیر کر کے منتقل کیا جائے گا۔ فرقان علی کے نام سے ایک اسٹریٹ منسوب کرنے کے لیے میئر کراچی کو بھی خط لکھا جائے گا۔
گورنر سندھ نے گل پلازہ سانحے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سیاست یا الزام تراشی کے بجائے اس سانحے سے سبق سیکھنے اور مستقبل کے لیے مؤثر حکمتِ عملی بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سو سے زائد لواحقین اب بھی اپنے پیاروں کے ڈی این اے نتائج کے منتظر ہیں اور کئی خاندانوں کو اپنے پیاروں کی لاشیں تک نہیں مل سکیں۔
کامران ٹیسوری نے کہا کہ شہر میں پہلے ہی بہت خونریزی ہو چکی ہے اور سیاسی جماعتوں کے درمیان الزام تراشی بند ہونی چاہیے۔ ممکن ہے کہ شہید کے پاس جدید حفاظتی آلات نہ ہوں، جن سے وہ اپنی جان بچا سکتے۔
Blog
-

شہید فائر فائٹر فرقان علی کو ستارہ امتیاز سے نوازنے کے لیے سفارش
-

گوجرانوالہ ڈویژن میں غیر محفوظ پلازوں کے خلاف کریک ڈاؤن، متعدد عمارتیں سیل
گوجرانوالہ (باغی ٹی وی/نامہ نگار محمد رمضان نوشاہی) گوجرانوالہ ڈویژن میں غیر محفوظ کمرشل عمارتوں اور پلازوں کے خلاف ضلعی انتظامیہ نے سخت کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔ کمشنر گوجرانوالہ ڈویژن سید نوید حیدر شیرازی کی ہدایات پر فائر سیفٹی اور حفاظتی انتظامات کی عدم موجودگی پر مختلف علاقوں میں متعدد پلازوں کو سیل کر دیا گیا۔
انتظامیہ کے مطابق ڈنگہ اور لالہ موسیٰ میں فاضل فارمیسی اینڈ مارٹ سمیت کئی پلازوں میں فائر سیفٹی کے ناقص انتظامات، ایمرجنسی ایگزٹ کی عدم دستیابی اور دیگر سنگین خلاف ورزیاں سامنے آئیں، جس پر فوری کارروائی عمل میں لاتے ہوئے ان عمارتوں کو سیل کر دیا گیا۔ کمشنر گوجرانوالہ ڈویژن کا کہنا ہے کہ ایسے پلازے جو انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں، ان کے خلاف کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
کمشنر سید نوید حیدر شیرازی نے واضح کیا کہ انسانی جانوں سے کھیلنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فائر سیفٹی قوانین اور ایمرجنسی اخراج کے انتظامات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور تمام کمرشل عمارتوں کو مقررہ معیار پر پورا اترنا ہوگا۔
کمشنر گوجرانوالہ ڈویژن کے مطابق سیل کیے گئے پلازے اس وقت تک بند رہیں گے جب تک متعلقہ مالکان فائر سیفٹی، ایمرجنسی ایگزٹ اور دیگر حفاظتی تقاضوں کو مکمل طور پر پورا نہیں کرتے۔ انہوں نے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ ڈویژن بھر میں ایسے تمام پلازوں اور کمرشل عمارتوں کی جامع جانچ پڑتال جاری رکھی جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ حادثے سے قبل حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جا سکے۔
-

چین اب امریکی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ نہیں, امریکا
پینٹاگون نے نئی امریکی نیشنل ڈیفنس اسٹریٹجی جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین اب امریکی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ نہیں رہا اور چین کے ساتھ تعلقات کو تصادم کی بجائے طاقت کے توازن کے ذریعے نمٹا جائے گا۔ روس بدستور نیٹو کے مشرقی رکن ممالک کے لیے خطرہ ہے۔
دستاویز میں امریکا نے اسرائیل کو ایک مثالی اتحادی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے اسرائیل کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ امریکا مستقبل میں اپنے اتحادیوں کو محدود حمایت فراہم کرے گا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکا اپنے جغرافیائی مقامات تک فوجی اور تجارتی رسائی کو یقینی بنائے گا، سرحدوں کے تحفظ اور منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام اولین ترجیح ہے، اور امریکا طویل عرصے سے اپنے عوام کے مفادات کو اولین ترجیح دیتا رہا ہے۔
پینٹاگون کے مطابق امریکا اپنے مفادات کو باقی دنیا کے مفادات کے تناظر میں نہیں دیکھنا چاہتا اور اپنے اتحادیوں کو درپیش خطرات سے نمٹنے کی ذمہ داری ان کی اپنی ہوگی۔ -

سابق کرکٹر عبدالقادر کے بیٹے پر گھریلو ملازمہ کے ساتھ زیادتی کا الزام
لاہور میں سابق ٹیسٹ کرکٹر عبدالقادر کے بیٹے سلمان قادر پر مبینہ طور پر اپنی گھریلو ملازمہ کو فارم ہاؤس پر بلا کر زیادتی کا نشانہ بنانے کا الزام ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق متاثرہ ملازمہ نے بتایا کہ سلمان نے اسے کام پر آنے کے لیے بلایا، اور ہاؤسنگ سوسائٹی کے گیٹ پر آ کر گاڑی میں بٹھا کر فارم ہاؤس لے گئے۔
متاثرہ کی درخواست پر تھانہ برکی میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ سلمان قادر لاہور میں کرکٹ سکھانے کے لیے ایک اکیڈمی بھی چلاتے ہیں۔ -

اوکاڑہ میں ہارٹیکلچر ایجنسی کا قیام، پبلک پارکس کی خوبصورتی کے سفر کا نیا آغاز
اوکاڑہ (باغی ٹی وی/نامہ نگار ملک ظفر) ضلع اوکاڑہ کے پبلک پارکس اور شہری خوبصورتی کے فروغ کا سفر ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، جہاں ہارٹیکلچر ایجنسی اوکاڑہ کے افتتاح کی پروقار تقریب ڈی سی آفس کے لان میں منعقد کی گئی۔ افتتاحی تقریب میں رکن قومی اسمبلی چوہدری ریاض الحق جج، ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ احمد عثمان جاوید اور رکن صوبائی اسمبلی میاں محمد منیر نے باقاعدہ طور پر ہارٹیکلچر ایجنسی کا افتتاح کیا۔
تقریب میں ضلعی انتظامیہ، مختلف محکموں کے افسران، میڈیا نمائندگان اور دیگر سٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ افتتاحی تقریب کے اختتام پر ایم این اے چوہدری ریاض الحق جج، ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید اور ایم پی اے میاں محمد منیر نے ڈی سی آفس کے لان میں پودے لگا کر شجرکاری مہم کا بھی آغاز کیا۔ اس موقع پر ضلع اوکاڑہ میں ہارٹیکلچر ایجنسی کے قیام پر وزیراعلیٰ پنجاب کا شکریہ ادا کیا گیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایم این اے چوہدری ریاض الحق جج نے کہا کہ عوام سے دو سال قبل کیے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ ادارے اور عوام مل کر پارکس کی خوبصورتی کو مزید بہتر بنائیں گے، جبکہ مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے جدید طرز کے نئے پارکس بھی قائم کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریلوے لائنز سے ملحقہ فلتھ ڈپو کو خوبصورت پھولوں اور پودوں سے مزین کیا جائے گا اور اوکاڑہ کے شہریوں کو تفریح کے بہترین مواقع فراہم کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔
ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ احمد عثمان جاوید نے اس موقع پر کہا کہ اوکاڑہ کے عوام کے لیے آج کا دن نہایت خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع کی تعمیر و ترقی اور خوبصورتی کے لیے ہارٹیکلچر ایجنسی کا قیام ترقی کے سفر کی ایک اہم کڑی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہارٹیکلچر ایجنسی کے لیے ضلع کونسل اور میونسپل کمیٹی سے پارکس کا عملہ شامل کیا گیا ہے، جو پارکس، گرین بیلٹس کی دیکھ بھال اور دیگر اہم امور انجام دے گا۔ ہارٹیکلچر ایجنسی کے قیام سے شہروں کی خوبصورتی میں نمایاں بہتری آئے گی، جبکہ موجودہ پارکس کی بہتری کے ساتھ ساتھ عوام کے لیے نئے پارکس بھی تعمیر کیے جائیں گے۔
ایم پی اے میاں محمد منیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی قیادت میں عوام کے بے شمار دیرینہ مسائل حل کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلع اوکاڑہ کی خوبصورتی کے لیے ہارٹیکلچر ایجنسی کا قیام ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ترقی کا یہ سفر تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔
-

اوکاڑہ : پولیس نے مسروقہ مال برآمد کر کے شہریوں کے حوالے کر دیا
اوکاڑہ (باغی ٹی وی/نامہ نگار ملک ظفر) آر پی او ساہیوال محمد ایاز سلیم کی کھلی کچہری کے مثبت ثمرات سامنے آ گئے، جہاں پولیس نے قلیل وقت میں مؤثر کارروائی کرتے ہوئے مسروقہ مال برآمد کر کے شہریوں کا اعتماد بحال کر دیا۔ اس سلسلے میں ڈی پی او آفس اوکاڑہ میں تقریبِ تقسیمِ مالِ مسروقہ کا انعقاد کیا گیا، جس میں برآمد شدہ مال اصل مالکان کے حوالے کیا گیا۔
پولیس حکام کے مطابق بروقت اور مؤثر تفتیش کے نتیجے میں ساڑھے چھ لاکھ روپے سے زائد مالیت کا مسروقہ مال برآمد کیا گیا، جس میں 5 موٹر سائیکلیں اور 50 ہزار روپے نقد شامل ہیں۔ یہ کامیاب ریکوریاں تھانہ حویلی لکھا کے دائرہ اختیار میں کی گئیں، جو آر پی او ساہیوال محمد ایاز سلیم کی جانب سے منعقدہ کھلی کچہری میں شہریوں کی جانب سے دی گئی درخواستوں پر فوری عمل درآمد کا نتیجہ ہیں۔
تقریب کے دوران مسروقہ مال وصول کرنے والے شہریوں نے پولیس کی فوری داد رسی، شفاف تفتیش اور مؤثر کارکردگی کو سراہتے ہوئے اظہارِ تشکر کیا اور کہا کہ کھلی کچہری جیسے اقدامات سے عوام اور پولیس کے درمیان اعتماد کی فضا مضبوط ہو رہی ہے۔
پولیس حکام کا کہنا تھا کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ، فوری اور منصفانہ انصاف کی فراہمی اور عوامی اعتماد کا فروغ پولیس کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کھلی کچہریوں کے ذریعے عوامی شکایات کے فوری ازالے اور جرائم کی روک تھام کے لیے اقدامات کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔
-
اوچ شریف:نام نہاد بورڈ آف پیس میں ٹرمپ اور نیتن یاہو کی شمولیت، عالمی امن پر سوالیہ نشان، مولانا محمد صفی اللہ
اوچ شریف (باغی ٹی وی/نامہ نگار حبیب خان) جمعیت علمائے اسلام (پنجاب) کے قائم مقام امیر مولانا محمد صفی اللہ نے کہا ہے کہ نام نہاد بورڈ آف پیس کی سربراہی ڈونلڈ ٹرمپ کے سپرد ہونا اور اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کی بطور رکن شمولیت عالمی امن کے دعوؤں پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار مدرسہ امیر المدارس اوچ شریف میں ضلعی جنرل سیکریٹری قاری سیف الرحمن راشدی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر قاری محمد صادق مہتمم مدرسہ عربیہ امیر المدارس اوچ شریف، تحصیل جنرل سیکریٹری قاضی محمد عمر فاروق فاروقی، جنرل سیکریٹری حلقہ پی پی 250 مولانا بابر علی صدیقی اور سیکریٹری اطلاعات اوچ شریف مولانا سمیع اللہ عثمانی بھی موجود تھے۔
مولانا محمد صفی اللہ نے کہا کہ دنیا بھر میں امن کے بلند بانگ دعوے کیے جا رہے ہیں، مگر یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ایسے افراد کی قیادت میں قائم اداروں سے حقیقی امن کی توقع رکھنا خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا سیاسی اور سفارتی ریکارڈ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ان کی پالیسیاں ہمیشہ یکطرفہ فیصلوں، طاقت کے استعمال اور مخصوص عالمی مفادات کے گرد گھومتی رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ فلسطین کے مسئلے پر ڈونلڈ ٹرمپ کا کردار غیرجانبداری، انصاف اور بین الاقوامی اصولوں کے سراسر منافی رہا ہے، جبکہ نیتن یاہو کی قیادت میں اسرائیل پر غزہ اور فلسطینی عوام کے خلاف سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات عالمی سطح پر ایک تسلیم شدہ حقیقت بن چکے ہیں۔
مولانا محمد صفی اللہ کا کہنا تھا کہ ایسے متنازع کرداروں پر مشتمل کوئی بھی نام نہاد ’’امن بورڈ‘‘ درحقیقت امن کے قیام کے بجائے طاقتور فریق کے مفادات کے تحفظ کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حقیقی اور پائیدار امن انصاف، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور مظلوم اقوام کے بنیادی حقوق تسلیم کیے بغیر ممکن نہیں۔
آخر میں انہوں نے واضح کیا کہ عالمی امن کے نام پر قائم کیے جانے والے اداروں کو غیرجانبدار، باکردار اور قابلِ اعتماد قیادت کی اشد ضرورت ہے، نہ کہ ایسے افراد کی جو خود تنازعات، جنگوں اور مظالم کا حصہ رہے ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کو نمائشی امن کے نعروں کے بجائے انصاف پر مبنی عملی اقدامات کی فوری ضرورت ہے۔
-

انڈونیشیا میں لینڈسلائیڈنگ، پورا گاؤں مٹی تلے دب گیا
انڈونیشیا کے مغربی جاوا کے علاقے بندونگ میں شدید بارشوں کے بعد لینڈسلائیڈنگ کے نتیجے میں 8 افراد جاں بحق اور 80 سے زائد لاپتا ہو گئے۔ مٹی کے تودے نشیبی علاقے کی بستی پر آ گئے، اور امدادی ٹیمیں لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔
حکام نے شہریوں کو نشیبی علاقوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ ماہرین کے مطابق جنگلات کے نقصان نے اس آفت میں کردار ادا کیا۔
ویسٹ بانڈنگ کے میئر جیجے رچی اسماعیل کے مطابق فوج، پولیس اور رضاکار متاثرین کی تلاش میں مدد کر رہے ہیں، اور مقامی سرچ اینڈ ریسکیو ایجنسی ڈرون کا استعمال کرتے ہوئے کھدائی کر رہی ہے۔ -

ٹھٹھہ:ڈپٹی کمشنرکا سول ہسپتال مکلی کا دورہ، مریضوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی کی ہدایت
ٹھٹھہ (باغی ٹی وی /ڈسٹرکٹ رپورٹر بلاول سموں) ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ سرمد علی نے سول اسپتال مکلی کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کرتے ہوئے ہسپتال میں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات اور مجموعی انتظامی صورتحال کا جائزہ لیا۔ دورے کا مقصد مریضوں کو بہتر اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا تھا۔
ڈپٹی کمشنر نے ایمرجنسی بلاک، او پی ڈی، نو تعمیر شدہ ڈائگنوسٹک سینٹر، کارڈیالوجی یونٹ، میڈیکل اسٹور، فیمیل وارڈ، حفاظتی ٹیکہ جات مرکز، ملیریا سینٹر سمیت دیگر اہم شعبوں کا معائنہ کیا۔ انہوں نے ہر شعبے میں دستیاب سہولیات، عملے کی حاضری، ادویات کی فراہمی اور مریضوں کے علاج معالجے کے انتظامات کا بغور جائزہ لیا۔
دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر سرمد علی نے ہسپتال میں زیرِ علاج مریضوں اور ان کے تیمارداروں سے ملاقات کی اور ان سے علاج، ادویات اور دیگر سہولیات کے بارے میں براہِ راست معلومات حاصل کیں۔ مریضوں اور تیمارداروں نے مجموعی طور پر ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولیات پر اطمینان کا اظہار کیا۔
ڈپٹی کمشنر نے ہسپتال انتظامیہ کو واضح ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ مریضوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ادویات کی مکمل دستیابی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے صفائی ستھرائی کے نظام کو مزید بہتر بنانے، ہسپتال کے ماحول کو صاف رکھنے اور ایمرجنسی میں آنے والے مریضوں کو فوری اور مؤثر طبی امداد فراہم کرنے پر خصوصی زور دیا۔
اس موقع پر ڈپٹی کمشنر سرمد علی کا کہنا تھا کہ عوام کو صحت کی معیاری اور بروقت سہولیات فراہم کرنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور اس حوالے سے کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کریں تاکہ عوام کو سرکاری ہسپتالوں میں بہتر علاج میسر آ سکے۔
-

کیا پاکستان کو نئے صوبوں کی ضرورت ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی
پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث کوئی نئی نہیں، مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ سوال مزید گہرا اور سنجیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ آبادی میں تیز رفتار اضافہ، انتظامی مسائل، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور عوامی شکایات نے اس بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے کہ آیا پاکستان کو واقعی نئے صوبوں کی ضرورت ہے یا نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے موجودہ صوبے، خصوصاً پنجاب، آبادی اور رقبے کے لحاظ سے اتنے وسیع ہو چکے ہیں کہ ایک ہی انتظامی ڈھانچے کے تحت مؤثر حکمرانی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ جنوبی پنجاب، ہزارہ، بہاولپور، سرائیکی خطہ اور کراچی جیسے علاقوں میں یہ احساس مسلسل بڑھ رہا ہے کہ فیصلے اُن کی ضروریات کے مطابق نہیں ہو پاتے۔ دور دراز علاقوں کے عوام کو صحت، تعلیم، روزگار اور انصاف تک رسائی کے لیے غیر معمولی مشکلات کا سامنا ہے۔
نئے صوبوں کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ چھوٹے انتظامی یونٹس بہتر گورننس کو یقینی بناتے ہیں۔ جب دارالحکومت قریب ہو، فیصلہ سازی مقامی سطح پر ہو اور وسائل کی تقسیم علاقائی ضروریات کے مطابق کی جائے تو عوامی مسائل زیادہ تیزی سے حل ہو سکتے ہیں۔ دنیا کی کئی کامیاب ریاستیں اسی ماڈل پر چل رہی ہیں جہاں انتظامی تقسیم کو ترقی کا ذریعہ بنایا گیا۔
تاہم اس بحث کا دوسرا رخ بھی ہے۔ ناقدین کے مطابق نئے صوبوں کا قیام محض انتظامی نہیں بلکہ ایک حساس آئینی اور سیاسی معاملہ ہے۔ اگر یہ عمل لسانی، نسلی یا سیاسی بنیادوں پر کیا گیا تو یہ قومی یکجہتی کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ مزید یہ کہ نئے صوبوں کے قیام کے لیے بھاری مالی وسائل، نیا انتظامی ڈھانچہ اور سیاسی اتفاقِ رائے درکار ہوتا ہے، جو اس وقت ایک مشکل مرحلہ دکھائی دیتا ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ نئے صوبے بننے چاہئیں یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ کس بنیاد پر اور کس مقصد کے تحت بننے چاہئیں۔ اگر مقصد عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنا، محرومیوں کا ازالہ اور ریاستی نظام کو مؤثر بنانا ہے تو اس پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔ لیکن اگر یہ مطالبہ صرف سیاسی نعرہ یا وقتی فائدے کے لیے ہو تو اس کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ نئے صوبوں کے معاملے پر جذبات کے بجائے قومی مفاد، آئینی تقاضوں اور زمینی حقائق کو سامنے رکھا جائے۔ ایک غیر جانبدار قومی کمیشن کے ذریعے آبادی، وسائل، انتظامی صلاحیت اور عوامی رائے کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے۔ وسیع سیاسی مکالمہ اور اتفاقِ رائے کے بغیر اس سمت میں کوئی بھی قدم ملک کے لیے فائدہ مند ثابت نہیں ہو سکتا۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اگر نئے صوبے پاکستان کے عوام کی زندگی آسان بنانے، ریاست کو مضبوط کرنے اور احساسِ محرومی کم کرنے کا ذریعہ بنیں، تو یہ ایک قابلِ غور آپشن ہے—لیکن شرط یہ ہے کہ یہ فیصلہ جلد بازی، سیاست یا تقسیم کے بجائے تدبر، شفافیت اور قومی وحدت کو سامنے رکھ کر کیا جائے۔