Baaghi TV

جونیئر افسر، سینئرماتحت ،میرٹ کہاں گیا ؟وفاداری قابلیت ٹھہری۔ تجزیہ: شہزاد قریشی

میرا افسر ،تیرا افسر،ہرادارے میں ذاتی مفادات کو تقرری کی بنیاد بنادیا گیا
ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے سیاسی مداخلت بند کرنا ہوگی،میرٹ ناگزیر
ترقی یافتہ دنیا میں نظام شخصیات کے گرد نہیں ،قوانین اور اصولوں کے تحت چلتا ہے
تجزیہ ،شہزاد قریشی
میرٹ کے بغیر نظام، نظام کے بغیر ریاست،پاکستان میں ریاستی اداروں کی کمزوری، انتظامی انتشار اور عوامی بداعتمادی کی ایک بڑی وجہ میرٹ کی مسلسل پامالی ہے،بیوروکریسی ہو یا پولیس، سول انتظامیہ ہو یا دیگر ریاستی ادارے،تقریباً ہر جگہ تقرریوں اور تبادلوں میں اصولوں کے بجائے پسند و ناپسند، سیاسی وابستگی اور ذاتی تعلقات کو فوقیت دی جا رہی ہے،یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج پاکستان میں نہ سینئر افسر کے تجربے اور سروس ریکارڈ کو فیصلہ کن حیثیت حاصل ہے اور نہ ہی جونیئر افسر کی پیشہ ورانہ اہلیت کو، جب ایک سینئر افسر کو نظرانداز کر کے اس کے ماتحت کو محض من پسند بنیادوں پر اس کے اوپر تعینات کیا جاتا ہے تو اس کا نقصان صرف ایک فرد کو نہیں بلکہ پورے ادارے کو پہنچتا ہے، ایسے فیصلے ادارہ جاتی نظم و ضبط کو مجروح کرتے ہیں اور میرٹ کی بنیاد کو کمزور نہیں بلکہ عملاً ختم کر دیتے ہیں،دنیا کی مہذب اور ترقی یافتہ ریاستوں میں ادارے افراد سے بالاتر ہوتے ہیں، وہاں نظام شخصیات کے گرد نہیں بلکہ قوانین اور اصولوں کے تحت چلتا ہے، افسوسناک امر یہ ہے کہ پاکستان میں ’’یہ میرا افسر‘‘ اور ’’وہ تیرا افسر‘‘ کی سوچ نے ریاستی اداروں کو ذاتی مفادات کا میدان بنا دیا ہے، نتیجتاً پولیس غیر مؤثر، بیوروکریسی دباؤ کا شکار اور عوام انصاف سے مایوس دکھائی دیتے ہیں،اس صورتحال کو جمہوریت کا نام دینا خود جمہوریت کے ساتھ ناانصافی ہے، جمہوریت کا بنیادی تقاضا اداروں کی خودمختاری، شفافیت اور میرٹ کی بالادستی ہے، اگر فیصلے بند کمروں میں ہوں، وفاداری کو قابلیت پر ترجیح دی جائے اور قانون کو پسِ پشت ڈال دیا جائے تو یہ طرزِ حکمرانی جمہوریت نہیں بلکہ جمہوریت کے نام پر ایک بدنما دھبہ ہے،پاکستان کو درپیش انتظامی اور حکومتی بحرانوں کا حل مزید دعوئوں یا بیانات میں نہیں بلکہ عملی اصلاحات میں مضمر ہے، جب تک اقربا پروری کو ریاستی سطح پر مسترد نہیں کیا جاتا، جب تک سیاسی مداخلت سے پاک اور آئین و قانون کے مطابق نظام نافذ نہیں ہوتا، اور جب تک میرٹ کو واقعی قومی پالیسی کا درجہ نہیں دیا جاتا،تب تک ترقی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا،اب وقت آ گیا ہے کہ ذاتی مفادات اور گروہی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر ریاست کو ایک منظم نظام کے تحت چلایا جائے، میرٹ کے بغیر ادارے نہیں چلتے، اداروں کے بغیر ریاست نہیں بنتی، اور ریاست کے بغیر قومیں ترقی نہیں کرتیں

More posts