Baaghi TV

Blog

  • 
ممنوعہ فنڈنگ کیس میں پیشرفت، عمران خان مرکزی ملزم قرار

    
ممنوعہ فنڈنگ کیس میں پیشرفت، عمران خان مرکزی ملزم قرار

    ‎بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جس میں ان سمیت دیگر ملزمان کے خلاف چالان عدالت میں جمع کروا دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس کیس میں عمران خان کو مرکزی ملزم قرار دیا گیا ہے، جس سے قانونی کارروائی مزید تیز ہونے کا امکان ہے۔
    ‎رجسٹرار آفس کی جانب سے چالان کی جانچ پڑتال کا عمل شروع کر دیا گیا ہے، جس کے بعد کیس باقاعدہ سماعت کے مراحل میں داخل ہوگا۔ اطلاعات کے مطابق اسلام آباد کی بینکنگ کورٹ میں ممنوعہ فنڈنگ کیس کی سماعت کل مقرر کی گئی ہے، جہاں اس اہم مقدمے پر پیش رفت متوقع ہے۔
    ‎یہ کیس کافی عرصے سے زیر بحث ہے اور اس میں پارٹی فنڈنگ کے ذرائع اور مالی معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق چالان جمع ہونے کے بعد کیس مزید اہم مرحلے میں داخل ہو گیا ہے اور آئندہ سماعتوں میں اہم فیصلے سامنے آ سکتے ہیں۔
    ‎دوسری جانب 190 ملین پاؤنڈ نیب کیس میں بھی پیشرفت ہوئی ہے، جہاں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیل سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی ہے۔ یہ کیس اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر سماعت آئے گا، جہاں چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف اس معاملے کی سماعت کریں گے۔

  • 
ایران کا افزودہ یورینیم اب بھی اصفہان میں موجود ہونے کا دعویٰ

    
ایران کا افزودہ یورینیم اب بھی اصفہان میں موجود ہونے کا دعویٰ

    ‎انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کا بڑا حصہ افزودہ یورینیم ممکنہ طور پر اب بھی اصفہان کے جوہری کمپلیکس میں موجود ہے، جسے ماضی میں فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ایجنسی کے پاس سیٹلائٹ تصاویر موجود ہیں جو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے حملوں کے اثرات کو ظاہر کرتی ہیں، تاہم مزید معلومات اب بھی سامنے آ رہی ہیں۔
    ‎گروسی کے مطابق یہ معاملہ عالمی سطح پر نہایت اہم ہے کیونکہ ایران کے جوہری پروگرام پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب جنگ کا آغاز ہوا تھا تو بڑی مقدار میں افزودہ یورینیم اصفہان میں ذخیرہ کیا گیا تھا اور ابتدائی شواہد سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مواد اب بھی وہیں موجود ہے۔
    ‎ایجنسی کی معلومات کے مطابق ایران کے پاس تقریباً 440.9 کلوگرام یورینیم موجود ہے جو 60 فیصد تک افزودہ کیا جا چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ سطح اس حد کے قریب ہے جو جوہری ہتھیاروں کے لیے درکار ہوتی ہے، کیونکہ ہتھیار بنانے کے لیے تقریباً 90 فیصد افزودگی کی ضرورت ہوتی ہے۔
    ‎سیٹلائٹ تصاویر میں یہ بھی دیکھا گیا کہ جون 2025 میں جنگ شروع ہونے سے قبل متعدد ٹرک، جن پر نیلے رنگ کے کنٹینرز لوڈ تھے، اصفہان کے نیوکلیئر ٹیکنالوجی سینٹر میں ایک سرنگ کے اندر داخل ہوتے نظر آئے۔ اس سے یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ حساس مواد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا تھا۔
    ‎گروسی نے عندیہ دیا کہ ایجنسی کو شبہ ہے کہ اس مجموعی مقدار میں سے تقریباً 200 کلوگرام افزودہ یورینیم خاص طور پر اصفہان کے مقام پر ہی موجود ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری کو اس صورتحال پر گہری نظر رکھنی چاہیے کیونکہ یہ معاملہ خطے اور دنیا کی سیکیورٹی سے جڑا ہوا ہے۔

  • 
گولڈرز گرین حملہ تشویشناک، برطانوی وزیراعظم کا سخت ردعمل

    
گولڈرز گرین حملہ تشویشناک، برطانوی وزیراعظم کا سخت ردعمل

    ‎برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے شمالی لندن کے علاقے گولڈرز گرین میں پیش آنے والے چاقو حملے کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے واقعات ملک کے امن اور سماجی ہم آہنگی کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔ انہوں نے برطانوی پارلیمنٹ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے اور واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں۔
    ‎وزیراعظم نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت ایسے جرائم کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائے گی اور عوام کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
    ‎کیئر سٹارمر کا کہنا تھا کہ حالیہ عرصے میں ایسے پرتشدد واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے باعث حکومت کو مزید مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف تحقیقات ہی نہیں بلکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے بھی جامع حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں ہر فرد کو بلا خوف و خطر زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے، اور کسی بھی قسم کے تشدد یا نفرت پر مبنی کارروائی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے عوام کو یقین دلایا کہ حکومت شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔

  • 
ایرانی حملوں سے متاثر سعودی آئل ریفائنری دوبارہ فعال

    
ایرانی حملوں سے متاثر سعودی آئل ریفائنری دوبارہ فعال

    ‎سعودی عرب کی ایک اہم آئل ریفائنری، جو ایرانی حملوں کے باعث متاثر ہو کر بند ہوگئی تھی، اب دوبارہ فعال کر دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق ریفائنری نے 14 اپریل سے باقاعدہ طور پر کام شروع کر دیا ہے، جس سے توانائی کے شعبے میں استحکام کی جانب اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
    ‎یہ ریفائنری 8 اپریل کو ہونے والے حملوں کے نتیجے میں شدید نقصان کا شکار ہوئی تھی، جس کے باعث اس کے تین بڑے پیداواری یونٹس متاثر ہوئے تھے۔ ان نقصانات کے بعد حفاظتی اقدامات کے تحت ریفائنری کی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کر دی گئی تھیں تاکہ مرمت اور بحالی کا کام مکمل کیا جا سکے۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ مرمت کے عمل کو تیز رفتاری سے مکمل کیا گیا اور متاثرہ یونٹس کو دوبارہ فعال بنانے کے لیے جدید تکنیکی اقدامات کیے گئے۔ بحالی کے بعد اب ریفائنری یومیہ تقریباً 2 لاکھ 30 ہزار بیرل خام تیل کی پیداوار دے رہی ہے، جو اس کی معمول کی پیداواری صلاحیت کے قریب ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق اس ریفائنری کی بحالی نہ صرف سعودی عرب کی تیل کی پیداوار کے لیے اہم ہے بلکہ عالمی منڈی میں بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ حالیہ کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا تھا، تاہم پیداوار کی بحالی سے مارکیٹ میں استحکام آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
    ‎توانائی کے شعبے کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے حملوں کے باوجود تیزی سے بحالی سعودی انفراسٹرکچر کی مضبوطی کو ظاہر کرتی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ سعودی عرب اپنی تیل کی تنصیبات کے تحفظ اور پیداوار کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے۔

  • مقامی ضرورت پوری کرنے کیلئے گندم کی وافر مقدار موجود ہے،راناتنویر

    مقامی ضرورت پوری کرنے کیلئے گندم کی وافر مقدار موجود ہے،راناتنویر

    وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق، رانا تنویر حسین کی زیر صدارت نیشنل ویٹ اوور سائٹ کمیٹی کا 11واں اعلیٰ سطح اجلاس ہوا

    اجلاس میں گندم کی خریداری مہم، کٹائی کی پیش رفت اور مارکیٹ میں رائج قیمتوں کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں گندم کی فصل کی مجموعی صورتحال، خریداری اہداف اور سپلائی چین کے نظام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ملکی مارکیٹ میں گندم کی قیمتیں عالمی رجحانات کے مطابق ہیں، جو فی من 3,500 سے 4,000 روپے کے درمیان ہیں، جس سے کسانوں کو مناسب معاوضہ ملتا ہے اور صارفین کے لیے بھی قیمتیں قابل برداشت رہتی ہیں۔وفاقی وزیر نے حکومت کو کسانوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے منصفانہ قیمتوں اور ہموار خریداری نظام یقینی بنانے کی ہدایت کی۔رانا تنویر حسین نے کہا کہ مقامی ضروریات پوری کرنے اور غذائی تحفظ برقرار رکھنے کے لیے وافر مقدار میں گندم موجود ہے۔

  • 
چینی لڑاکا طیاروں کی مانگ میں اضافہ، فروخت تقریباً دگنی ہوگئی

    
چینی لڑاکا طیاروں کی مانگ میں اضافہ، فروخت تقریباً دگنی ہوگئی

    ‎بھارت کے ساتھ کشیدگی اور فضائی جھڑپوں میں پاک فضائیہ کی جانب سے چینی ساختہ لڑاکا طیاروں کے مؤثر استعمال کے بعد عالمی سطح پر ان طیاروں کی مانگ میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ امریکی جریدے کی رپورٹ کے مطابق چینی طیارہ ساز کمپنی اے وی آئی سی چینگڈو ائیرکرافٹ کارپوریشن کی رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں فروخت تقریباً دگنی ہو گئی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جدید جنگی حالات میں ان طیاروں کی کارکردگی نے عالمی توجہ حاصل کی۔
    ‎رپورٹ میں بتایا گیا کہ کمپنی کی آمدنی میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ سال کمپنی کی آمدنی میں 16 فیصد اضافہ ہوا اور یہ تقریباً 11 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ منافع میں 6.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو کمپنی کی تاریخ کا سب سے زیادہ منافع قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق سنگل انجن ملٹی رول J-10 لڑاکا طیارے گزشتہ برس مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی فضائی جھڑپوں میں استعمال کیے گئے۔ ان جھڑپوں کے دوران پاک فضائیہ نے ان طیاروں کی مدد سے بھارتی فضائیہ کے کئی طیارے مار گرائے، جن میں فرانسیسی ساختہ رافیل طیارے بھی شامل تھے۔ اس پیش رفت نے عالمی دفاعی ماہرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی اور چینی دفاعی ٹیکنالوجی کی صلاحیت کو نمایاں کیا۔
    ‎رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ تنازع ان چند مواقع میں سے ایک تھا جہاں جدید چینی ہتھیاروں کو حقیقی جنگی حالات میں آزمایا گیا۔ اسی وجہ سے عالمی سطح پر خریدار ممالک نے ان طیاروں میں دلچسپی لینا شروع کر دی ہے۔
    ‎بھارتی حکام نے بھی اس دوران اپنے کچھ طیاروں کے نقصان کا اعتراف کیا، تاہم انہوں نے تباہ ہونے والے طیاروں کی درست تعداد ظاہر نہیں کی۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے حالات میں عملی کارکردگی کسی بھی دفاعی سازوسامان کی عالمی ساکھ کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ چینی طیاروں کی فروخت میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔

  • 
پاکستان کیلئے 160 ملین یورو فنڈنگ، سندھ میں گھر اور کراچی کیلئے پانی منصوبے

    
پاکستان کیلئے 160 ملین یورو فنڈنگ، سندھ میں گھر اور کراچی کیلئے پانی منصوبے

    ‎یورپی انویسٹمنٹ بینک نے پاکستان کے لیے 160 ملین یورو کی مالی معاونت کا اعلان کر دیا ہے، جس کا مقصد ملک میں بنیادی سہولیات کی بہتری اور متاثرہ علاقوں کی بحالی ہے۔ یہ اعلان اسلام آباد میں یورپی یونین پاکستان بزنس فورم کے موقع پر کیا گیا، جہاں دونوں اطراف کے حکام نے ترقیاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔
    ‎اعلامیے کے مطابق اس فنڈنگ میں سے 100 ملین یورو سندھ میں سیلاب سے متاثرہ گھروں کی تعمیر نو کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت تقریباً 21 لاکھ گھروں کی بحالی کی جائے گی، جس سے لاکھوں متاثرہ خاندانوں کو دوبارہ محفوظ رہائش میسر آئے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ نہ صرف متاثرین کی بحالی میں مدد دے گا بلکہ ماحولیاتی خطرات کے مقابلے کے لیے بھی بہتر انفراسٹرکچر فراہم کرے گا۔
    ‎دوسری جانب کراچی میں صاف پانی کی فراہمی کے لیے 60 ملین یورو مختص کیے گئے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت دو بڑے فلٹریشن پلانٹس تعمیر کیے جائیں گے، جن کے ذریعے تقریباً 22 لاکھ افراد کو روزانہ 30 کروڑ لیٹر صاف پینے کا پانی فراہم کیا جائے گا۔ یہ منصوبہ شہر میں پانی کی قلت اور آلودگی کے مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کرے گا۔
    ‎اعلامیے میں بتایا گیا کہ یہ تمام منصوبے یورپی یونین کی گلوبل گیٹ وے حکمت عملی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد ترقی پذیر ممالک میں پائیدار ترقی اور بنیادی سہولیات کی بہتری کو فروغ دینا ہے۔ یورپی انویسٹمنٹ بینک کے حکام نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں ترقیاتی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو رہا ہے اور یہ شراکت داری مستقبل میں مزید مضبوط ہوگی۔
    ‎بینک حکام نے ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے اور کمزور طبقات کے لیے محفوظ رہائش اور صاف پانی کی فراہمی کو اپنی ترجیحات قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دوبارہ سرمایہ کاری سے نہ صرف معاشی ترقی کو فروغ ملے گا بلکہ دونوں اطراف کے تعلقات بھی مزید مستحکم ہوں گے۔

  • 
مالی میں طوارق باغیوں کا روسی افواج کے انخلا کا مطالبہ

    ‎مغربی افریقی ملک مالی میں سیکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی ہے جہاں طوارق باغیوں نے روسی افواج سے فوری اور مکمل انخلا کا مطالبہ کردیا ہے۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق ازواد لبریشن فرنٹ کے ترجمان محمد المولود رمضان نے واضح کیا کہ ان کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ روسی افواج نہ صرف ازواد بلکہ پورے مالی سے مستقل طور پر نکل جائیں۔
    ‎ترجمان کا کہنا تھا کہ باغیوں کا مسئلہ کسی ایک ملک سے نہیں بلکہ مالی کی موجودہ فوجی حکومت سے ہے، جس پر انہوں نے سنگین الزامات عائد کیے۔ ان کے مطابق روس نے ان عناصر کی حمایت کی جو مبینہ طور پر شہریوں کے خلاف کارروائیوں اور قتل عام میں ملوث رہے ہیں، جس کی وجہ سے حالات مزید خراب ہوئے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران طوارق علیحدگی پسندوں نے ملک کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر حملے کیے، جن کا دائرہ کار دارالحکومت باماکو کے اطراف تک پھیل گیا۔ ان حملوں کے نتیجے میں نہ صرف سیکیورٹی صورتحال بگڑی بلکہ حکومتی رٹ کو بھی شدید دھچکا پہنچا۔
    ‎باغیوں نے شمالی صحرائی علاقے کے اہم شہر کِدال پر قبضہ کر لیا ہے، جو اسٹریٹیجک لحاظ سے انتہائی اہم مقام سمجھا جاتا ہے۔ شدید جھڑپوں کے دوران مالی کے وزیر دفاع سادیو کامارا کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس سے حکومتی صفوں میں مزید بے چینی پھیل گئی ہے۔
    ‎دوسری جانب روسی وزارت دفاع نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ماسکو کے زیر انتظام افریقہ کور کی نیم فوجی فورسز کو کِدال سے پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ یہ فورسز مالی کی فوجی حکومت کی مدد کے لیے تعینات تھیں، تاہم باغیوں کے شدید حملوں کے باعث انہیں پیچھے ہٹنا پڑا۔
    ‎باغیوں کے ترجمان نے عندیہ دیا کہ ان کی کارروائیاں جاری رہیں گی اور ان کا اگلا ہدف گاؤ، ٹمبکٹو اور میناکا جیسے اہم علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ اس پیش رفت نے مالی میں جاری بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے اور خطے میں عدم استحکام کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

  • 
امریکا ایران جنگ سے پاکستان کی معیشت متاثر ہوئی: وزیراعظم

    
امریکا ایران جنگ سے پاکستان کی معیشت متاثر ہوئی: وزیراعظم

    ‎وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگ نے پاکستان کی گزشتہ دو سالہ مشترکہ معاشی اور سفارتی کوششوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے خطے میں امن کے قیام کے لیے مخلصانہ کردار ادا کیا اور دونوں ممالک کے درمیان سیز فائر کے لیے بھی مثبت اقدامات کیے، تاہم جنگ کے اثرات سے ملکی معیشت متاثر ہوئی ہے۔
    ‎وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں استحکام اور امن کو ترجیح دی، اور اسی مقصد کے تحت سفارتی سطح پر بھرپور کوششیں کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ایران اور امریکا کے درمیان اس وقت سیز فائر موجود ہے، لیکن جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال اب بھی عالمی سطح پر اثر انداز ہو رہی ہے۔
    ‎انہوں نے مزید بتایا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کا براہ راست اثر پاکستان کی معیشت پر پڑ رہا ہے۔ وزیراعظم کے مطابق جنگ سے قبل پاکستان کا ہفتہ وار تیل درآمدی بل تقریباً 30 کروڑ ڈالر تھا، جو اب بڑھ کر 80 کروڑ ڈالر تک جا پہنچا ہے۔ اس بڑے اضافے نے ملک کی معاشی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے اور مالی دباؤ میں اضافہ کیا ہے۔
    ‎شہباز شریف نے کہا کہ حکومت معاشی استحکام کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے، لیکن عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی قیمتیں اور جغرافیائی کشیدگی پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے بڑے چیلنجز پیدا کر رہی ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت تمام تر مشکلات کے باوجود معیشت کو مستحکم بنانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

  • سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بڑی کمی

    سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بڑی کمی

    آج بھی ملک میں سونے کی قیمت میں بڑی کمی ہوئی ہے۔

    آل پاکستان صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق مقامی مارکیٹ میں میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 2900 روپے کی کمی ہو گئی جس کے بعد فی تولہ سونا 4 لاکھ ، 90 ہزار 862 روپے کا ہو گیااسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 4 ہزار 715 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 11 ہزار 147 روپے ہو گئی ہے جبکہ عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 55 ڈالر کمی کے بعد 4 ہزار 572 ڈالر فی اونس ریکارڈ کی گئی ہے –

    دوسری جانب چاندی کی قیمتوں میں بھی کمی دیکھنے میں آئی ہے جہاں فی تولہ چاندی 45 روپے سستی ہو کر 7 ہزار 766 روپے ہو گئی ہے جبکہ 10 گرام چاندی 38 روپے کمی کے بعد 6 ہزار 658 روپے میں فروخت ہو رہی ہے چاندی کی قیمت 0.45 ڈالر کم ہو کر 72.82 ڈالر فی اونس تک آ گئی ہے۔

    ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور انٹربینک ایکسچینج ریٹ میں تبدیلیاں مقامی مارکیٹ میں سونے اور چاندی کی قیمتوں پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔