Baaghi TV

Blog

  • شادی کے اگلے ہی دن دلہن زیورات اور نقدی لے کر فرار، مقدمہ درج

    شادی کے اگلے ہی دن دلہن زیورات اور نقدی لے کر فرار، مقدمہ درج

    بھارتی بہار کے ضلع کیمور میں شادی کے نام پر مبینہ دھوکہ دہی کا ایک معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں راجستھان سے آنے والے دولہے نے الزام لگایا ہے کہ شادی کے اگلے ہی دن دلہن زیورات اور نقد رقم لے کر فرار ہو گئی۔

    متاثرہ دولہا گوتم کمار، راجستھان کے ضلع بیکانیر کے دیشنوک گاؤں کا رہائشی ہے۔ اس نے بھبھوا تھانے میں دلہن، اور ایک اور شخص کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی ہے۔ پولیس کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔شکایت کے مطابق گوتم کمار کے خاندان کی ملاقات سنتوش عرف ستیش تیواری نامی ایک شخص سے ہوئی، جس نے کیمور کے کرمچٹ تھانہ علاقے کی رہائشی 24 سالہ نیہا کماری سے شادی کرانے کا وعدہ کیا۔ الزام ہے کہ شادی کے انتظامات کے نام پر خاندان سے ایک لاکھ روپے نقد وصول کیے گئے، جبکہ تقریباً ایک لاکھ 17 ہزار روپے مالیت کے زیورات اور دیگر سامان بھی لیا گیا۔ خاندان کا کہنا ہے کہ شادی پر مجموعی طور پر تقریباً چار لاکھ روپے خرچ ہوئے۔شکایت کے مطابق 7 جولائی کو بھبھوا کورٹ کے قریب شادی کی رسم مکمل کرائی گئی۔ بعد ازاں ملوانے والےنے خاندان کو ہوٹل جانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ دلہن کو اگلی صبح ریلوے اسٹیشن پہنچا دیا جائے گا۔الزام ہے کہ اگلی صبح بھبھوا روڈ ریلوے اسٹیشن پر دلہن نے باتھ روم جانے کا بہانہ کیا اور باہر پہلے سے موجود موٹر سائیکل پر سوار ہو کر فرار ہو گئی۔ متاثرہ خاندان نے فوری طور پر دلہن سے ملوانے والے سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، تاہم کچھ ہی دیر بعد اس کا موبائل فون بھی بند ہو گیا۔

    بھبھوا تھانے کے ایس ایچ او مکیش کمار کے مطابق پولیس نے شکایت موصول ہونے کے بعد مقدمہ درج کر لیا ہے اور تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شواہد کی بنیاد پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • دنیا کو مشترکہ سیکورٹی چیلنجز کا سامنا ،مل کر نمٹ سکتے ہیں،محسن نقوی

    دنیا کو مشترکہ سیکورٹی چیلنجز کا سامنا ،مل کر نمٹ سکتے ہیں،محسن نقوی

    نیویارک، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے(یو این کوپس) اقوام متحدہ پولیس سربراہان کی سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام وزراء، پولیس چیفس اور معزز شخصیات کا اہم سمٹ میں خیرمقدم کرنا اعزاز کی بات ہے۔ آج دنیا کو مشترکہ سیکورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔

    محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ایسے چیلنجز جو قومی سرحدوں پر نہیں رکتے بلکہ ماروائے سرحد ہیں۔ دہشت گردی، منظم جرائم، سائبر کرائم، منشیات سمگلنگ، انسانی سمگلنگ، منی لانڈرنگ،ان چیلنجز سے ہر ملک متاثر ہے۔کوئی ملک ان چیلنجز سے محفوظ نہیں اور کوئی ملک اکیلے ان سے نہیں نمٹ سکتا۔ان چیلنجز کے تناظر میں بین الاقوامی تعاون آج پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ہمیں مل کر کام کرنا چاہیے اور کرنا ہے ۔ہمیں ایک دوسرے پر بھروسہ کرنا چاہیے اور فوری طور پر معلومات کا اشتراک کرنا چاہیے۔ہمیں ایک دوسرے کا ساتھ دینا چاہیے۔ہمیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مضبوط شراکت داری قائم کرنا ہوگی ۔ٹیکنالوجی بہت تیزی سے بدل رہی ہے۔جرائم پیشہ افراد جرائم کے لیے نئی ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں۔ ہمیں ان کی روک تھام کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا چاہیے۔ہمیں اپنے پولیس افسران کی صلاحیتوں کو بہتر بنانا ہے ۔افسران کی تربیت کو مضبوط بنانا چاہیے اور جدت کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا ہوگا ۔ سیشن میں دنیا کے تمام ملکوں سے تجربہ کار رہنما اکٹھے ہیں ۔آپ میں سے ہر ایک قیمتی علم اور عملی تجربہ رکھتا ہے۔آئیے ان خیالات کا اشتراک کریں اورآئیے ایک دوسرے کی کامیابیوں سے سیکھیں۔ آئیے مل کر کام کرنے کے نئے طریقے تلاش کریں۔اقوام متحدہ ہمیں اس کے لیے ایک منفرد پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے۔اقوام متحدہ پولیس کے ایڈوائزر فیصل شاکر کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ ہمیں اپنے ہم منصبوں اور دوستوں سے ملاقات کا موقع ملا۔یہ ہمیں اپنے ممالک کو محفوظ بنانے کے لیے ایک مشترکہ مقصد کے ساتھ اکٹھا کرتا ہے۔اپنے لوگوں کی حفاظت اور دنیا بھر میں امن و سلامتی کو مضبوط کرنے کے لیے یہ سمٹ بہت خاص ہے۔

  • بوشہر  سمیت ایران کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی اطلاعات

    بوشہر سمیت ایران کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی اطلاعات

    جنوبی ایران کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جن میں بندر عباس، بوشہر، چغادک اور کنارک شامل ہیں۔

    ایران کے جنوبی صوبے بوشہر میں واقع بوشہر اور قریبی شہر چغادک میں 6 دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ صوبہ سیستان و بلوچستان کے شہر کونارک میں بھی تین دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں،ایران کی خبر رساں ایجنسی مہر کے مطابق جنوبی ایران میں بوشہر اور اس سے ملحقہ شہر چغادک کے اطراف دو دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں جبکہ کونارک میں بھی 3 دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں،ایران کے شہر بندرعباس میں بھی دھماکے سنے گئے،بوشہر وہ شہر ہے جہاں ایران کا اہم جوہری بجلی گھر واقع ہے،

    بوشہر کے ایک مقامی سیکیورٹی عہدیدار نے بتایا کہ ممکنہ طور پر فضائی دفاعی نظام متحرک ہوا، تاہم یہ بھی زیرِ تفتیش ہے کہ آیا کسی دشمن میزائل یا ڈرون کو نشانہ بنایا گیا یا کسی فوجی تنصیب پر حملہ ہوا۔بعد ازاں ایرانی حکام نے دعویٰ کیا کہ بوشہر کے نواح میں واقع ایک فوجی اڈہ امریکی حملے کا نشانہ بنا، جبکہ دوسری جانب امریکی حکام نے ایسے کسی نئے حملے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ رات کے بعد امریکہ نے ایران پر کوئی تازہ فضائی کارروائی نہیں کی۔

    اس دوران اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور اسرائیلی فوج کے سربراہ نے بھی واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ اسرائیلی فوجی قیادت کے مطابق مستقبل میں مزید بڑے فوجی آپریشنز کا امکان موجود ہے اور فضائیہ کو ہر وقت فوری کارروائی کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    امریکی حکام کے مطابق گزشتہ دو روز کے دوران امریکی افواج نے ایران میں سڑکوں، پلوں اور ان بنیادی ڈھانچوں کو نشانہ بنایا جو مبینہ طور پر ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی عسکری نقل و حرکت اور اسلحے کی ترسیل کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔امریکی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اس دوران ایران کی جانب سے داغے گئے بیلسٹک میزائلوں، ڈرونز اور کروز میزائلوں کو بحرین اور دیگر خطوں میں امریکی دفاعی نظام نے کامیابی سے تباہ کیا، جبکہ امریکی فوجی اڈوں کو کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا۔ تاہم میزائلوں کے ملبے سے چند غیر فوجی عمارتوں کو جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

  • مشہد میں  آیت اللہ سید علی خامنہ ای سپردِ خاک، لاکھوں سوگواروں کی شرکت

    مشہد میں آیت اللہ سید علی خامنہ ای سپردِ خاک، لاکھوں سوگواروں کی شرکت

    ایران کے شہید رہبرِ معظّم آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو مشہد مقدس میں امام علی رضاؑ کے روضۂ اقدس کے احاطے میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ تدفین کے موقع پر ملک بھر سے آئے ہوئے لاکھوں سوگوار، مذہبی شخصیات اور حکومتی نمائندے موجود تھے، جبکہ مشہد کی فضا غم، عقیدت اور جذبات سے بھرپور مناظر پیش کرتی رہی۔

    ایران کے شہید رہبرِ معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو مشہد مقدس میں حضرت امام علی رضاؑ کے روضۂ مبارک کے احاطے میں ایک نجی تقریب کے دوران سپردِ خاک کر دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی کئی روز سے جاری قومی سوگ اور آخری رسومات اپنے اختتام کو پہنچ گئیں۔ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق تدفین کی آخری تقریب مکمل طور پر نجی نوعیت کی تھی، جس میں صرف محدود تعداد میں اعلیٰ حکومتی شخصیات، مذہبی رہنماؤں اور مرحوم کے اہل خانہ نے شرکت کی۔ عوامی نمازِ جنازہ اور آخری دعاؤں کے اختتام کے بعد میڈیا کی براہِ راست کوریج بھی روک دی گئی اور نشریات میں صرف روضۂ امام رضاؑ سے روانہ ہونے والے سوگواروں کے مناظر دکھائے گئے۔

    ایرانی سفارتخانے کی جانب سے جاری کی گئی تصویر کے ساتھ ایک جذباتی پیغام بھی جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ "خادمِ رضا، آغوشِ رضا میں چلے گئے”۔ اس پیغام کو ایران سمیت دنیا بھر میں عقیدت مندوں نے بڑے پیمانے پر شیئر کیا اور شہید رہبر کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔اس سے قبل مشہد میں شہید رہبرِ معظّم کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جس کی امامت ان کے بڑے صاحبزادے آیت اللہ سید مصطفیٰ حسینی خامنہ ای نے کرائی۔ نمازِ جنازہ میں لاکھوں افراد نے شرکت کی اور شہید رہبر کی مغفرت، درجات کی بلندی اور ایران کی سلامتی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔

    نمازِ جنازہ کے بعد جنازے کا جلوس مشہد کی مختلف شاہراہوں سے گزرا جہاں لاکھوں شہری، علما، طلبہ، خواتین اور نوجوان اپنے محبوب رہبر کو آخری سلام پیش کرنے کے لیے سڑکوں پر موجود تھے۔ متعدد مقامات پر سوگواروں نے آنسوؤں اور دعاؤں کے ساتھ شہید رہبر کو الوداع کہا۔جلوس میں شریک افراد نے قومی پرچم اور مذہبی پرچم اٹھا رکھے تھے جبکہ فضا میں "خون کا انتقام لیا جائے گا” اور دیگر جذباتی نعرے بھی گونجتے رہے۔رپورٹس کے مطابق شہید رہبر کی میت عراق سے خصوصی طیارے کے ذریعے ایران منتقل کی گئی۔ ایرانی فضائیہ کے جنگی طیاروں نے جسدِ خاکی لے جانے والے طیارے کو فضائی حصار میں لے کر مشہد ایئرپورٹ تک پہنچایا، جہاں سرکاری حکام، عسکری قیادت اور عوام کی بڑی تعداد نے استقبال کیا۔

    بدھ کے روز شہید رہبر کی میت کو عراق کے مقدس شہروں کربلا اور نجف بھی لے جایا گیا، جہاں حضرت امام حسینؑ، حضرت عباسؑ اور حضرت علیؑ کے روضہ ہائے مقدس پر آخری حاضری دی گئی۔رپورٹس کے مطابق عراق میں ایک کروڑ سے زائد سوگواروں نے مختلف مذہبی اجتماعات، دعائیہ تقریبات اور جلوسوں میں شرکت کرتے ہوئے شہید رہبر کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کی خدمات کو یاد کیا۔شہید رہبرِ معظّم کی تدفین کے بعد ایران کے مختلف شہروں میں سوگ کی فضا برقرار ہے۔ مساجد، امام بارگاہوں اور مذہبی مراکز میں قرآن خوانی، فاتحہ خوانی اور دعائیہ تقریبات کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ عوام کی بڑی تعداد مشہد میں امام رضاؑ کے روضۂ مبارک پر حاضری دے کر شہید رہبر کے لیے دعائیں کر رہی ہے۔

    یاد رہے کہ آیت اللہ سید علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے ابتدائی حملوں میں شہید ہوئے تھے۔ انہی حملوں کے بعد ایران اور اسرائیل کے درمیان وسیع جنگ کا آغاز ہوا، جس میں بعد ازاں امریکہ بھی براہِ راست شریک ہوگیا۔

    دوسری جانب نئے رہبر مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کی تدفین اور نمازِ جنازہ سمیت کسی بھی عوامی تقریب میں شریک نہیں ہوئے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق انہیں اسلامی انقلابی گارڈ کور نے سیکیورٹی خدشات اور مبینہ زخمی ہونے کے باعث عوامی طور پر سامنے آنے سے روک دیا تھا۔رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جس حملے میں آیت اللہ سید علی خامنہ ای شہید ہوئے، اسی حملے میں مجتبیٰ خامنہ ای بھی شدید زخمی ہوئے تھے۔ اگرچہ انہوں نے ایرانی میڈیا کے ذریعے متعدد بیانات جاری کیے، تاہم اب تک کسی عوامی تقریب میں ان کی شرکت سامنے نہیں آئی، جس کے باعث ان کی صحت اور تہران میں طاقت کے مراکز سے متعلق قیاس آرائیاں بھی جاری ہیں۔

  • 
مفتی تقی عثمانی نے کرپٹو کرنسی کے استعمال کو ناجائز قرار دے دیا

    
مفتی تقی عثمانی نے کرپٹو کرنسی کے استعمال کو ناجائز قرار دے دیا

    ‎صدر وفاق المدارس العربیہ پاکستان اور دارالعلوم کراچی کے رئیس مفتی محمد تقی عثمانی نے کرپٹو کرنسی کے بارے میں اپنا شرعی مؤقف جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ صورت میں کرپٹو کرنسی کو شرعی اعتبار سے "مال” قرار نہیں دیا جا سکتا، اس لیے اس کے ذریعے خرید و فروخت جائز نہیں۔
    ‎جاری کردہ فتویٰ میں مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ ماہرین کی اب تک کی تحقیق اور دستیاب معلومات کے مطابق کرپٹو کرنسی درحقیقت کوئی حقیقی مال یا قابلِ قبضہ اثاثہ نہیں، بلکہ صرف ڈیجیٹل کھاتوں میں فرضی نمبروں کا اندراج ہے۔ ان کے مطابق یہی بنیادی وجہ ہے کہ اس کی خرید و فروخت شرعی اصولوں کے مطابق درست نہیں سمجھی جا سکتی۔
    ‎انہوں نے مزید وضاحت کی کہ یہ حکم صرف عام کرپٹو ٹوکنز تک محدود نہیں بلکہ یو ایس ڈی ٹی (USDT) سمیت دیگر اسٹیبل کوائنز پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ ان کے مطابق خواہ کرپٹو کرنسی کسی بھی شکل میں ہو، جب تک اس کی شرعی حیثیت موجودہ صورت میں برقرار ہے، اس کے ذریعے لین دین اور خریداری جائز نہیں۔
    ‎مفتی تقی عثمانی کا کہنا ہے کہ اسلامی مالیاتی اصولوں کے مطابق کسی بھی چیز کو خرید و فروخت کا ذریعہ بننے کے لیے اس کا واضح اور معتبر مالی وجود ہونا ضروری ہے، جبکہ کرپٹو کرنسی کے بارے میں ماہرین کی آرا اس معیار کو پورا نہیں کرتیں۔
    ‎دوسری جانب مفتی تقی عثمانی کے صاحبزادے حسن عثمانی نے بھی تصدیق کی ہے کہ سوشل میڈیا اور مختلف ذرائع پر گردش کرنے والا یہ فتویٰ مستند ہے اور واقعی مفتی محمد تقی عثمانی ہی کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔
    ‎یہ فتویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں کرپٹو کرنسی کی قانونی، مالیاتی اور شرعی حیثیت پر بحث جاری ہے۔ ماہرین کے مطابق مختلف ممالک اور دینی اداروں کی آرا اس حوالے سے ایک جیسی نہیں، تاہم مفتی تقی عثمانی کا مؤقف اسلامی مالیات کے شعبے میں اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے اور اس پر دینی حلقوں میں خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔

  • 
یونانی ایف 16 جنگی طیارے میں دورانِ پرواز آگ، ہنگامی لینڈنگ کے بعد پائلٹ محفوظ

    
یونانی ایف 16 جنگی طیارے میں دورانِ پرواز آگ، ہنگامی لینڈنگ کے بعد پائلٹ محفوظ

    ‎ایتھنز: یونان کی فضائیہ کا ایک ایف 16 جنگی طیارہ تربیتی پرواز کے دوران فنی خرابی کا شکار ہو گیا، جس کے باعث دورانِ پرواز اس میں آگ لگنے کی اطلاع موصول ہوئی۔ صورتحال کے پیش نظر پائلٹ نے مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے زاکنتھوس ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کی اور اپنی جان محفوظ رکھنے میں کامیاب رہا۔
    ‎ترک میڈیا کے مطابق طیارے میں دورانِ پرواز آگ لگنے کے انتباہ کے بعد فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کی گئی۔ پائلٹ نے تمام حفاظتی اقدامات اختیار کرتے ہوئے طیارے کو محفوظ طریقے سے ایئرپورٹ تک پہنچایا، تاہم رن وے پر اترتے ہی طیارے میں آگ بھڑک اٹھی۔
    ‎یونانی فضائیہ نے اپنے بیان میں تصدیق کی کہ متاثرہ ایف 16 طیارہ معمول کی تربیتی پرواز پر تھا، لیکن فنی خرابی پیدا ہونے کے باعث اسے فوری ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔ حکام کے مطابق پائلٹ مکمل طور پر محفوظ ہے، اس کی حالت تسلی بخش ہے اور اسے کسی قسم کی سنگین چوٹ نہیں آئی۔
    ‎رپورٹس کے مطابق طیارہ لینڈنگ گیئر مکمل طور پر کھولے بغیر زمین پر اترا، جس کے باعث وہ رن وے پر کئی میٹر تک پھسلتا رہا۔ واقعے کے فوراً بعد ایئرپورٹ کی فائر بریگیڈ، ریسکیو ٹیموں اور دیگر عملے نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پانے کے لیے کارروائی شروع کر دی۔
    ‎حادثے کے بعد زاکنتھوس ایئرپورٹ، جو یونان کے مصروف ترین سیاحتی ہوائی اڈوں میں شمار ہوتا ہے، کو احتیاطی طور پر عارضی طور پر بند کر دیا گیا تاکہ امدادی کارروائیاں اور حفاظتی اقدامات مکمل کیے جا سکیں۔
    ‎یونانی حکام نے واقعے کی مکمل تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ آگ لگنے اور فنی خرابی کی اصل وجہ کیا تھی۔ ابتدائی طور پر اسے تکنیکی خرابی قرار دیا جا رہا ہے، تاہم حتمی رپورٹ آنے کے بعد مزید تفصیلات سامنے آئیں گی۔

  • 
فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا ٹیلیفونک رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

    
فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا ٹیلیفونک رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

    ‎فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں خطے کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال، حالیہ پیش رفت اور بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
    ‎ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق عباس عراقچی نے گفتگو کے دوران ایران کے خلاف ہونے والے امریکی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں کشیدگی کم کرنے اور مسائل کے حل کے لیے سفارتی ذرائع کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
    ‎دونوں رہنماؤں نے خطے میں پیدا ہونے والی صورتحال اور اس کے ممکنہ اثرات پر بھی گفتگو کی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق رابطے کے دوران علاقائی سلامتی اور امن برقرار رکھنے سے متعلق مختلف امور زیر بحث آئے۔
    ‎دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عمان کے وزیر خارجہ بدر بن حمد البوسعیدی اور ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان سے بھی علیحدہ علیحدہ ٹیلیفونک رابطے کیے۔
    ‎ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق ان گفتگوؤں میں آبنائے ہرمز کی تازہ صورتحال، خطے میں جاری کشیدگی اور دیگر اہم علاقائی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ تینوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ حالات میں کشیدگی میں مزید اضافے سے بچنے کے لیے سفارتی رابطوں اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنا انتہائی ضروری ہے۔
    ‎ترک وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وزیر خارجہ حاقان فیدان نے عباس عراقچی کے ساتھ گفتگو میں خطے کی موجودہ صورتحال اور جنگ بندی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
    یہ سفارتی رابطے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے باعث عالمی برادری مسلسل تحمل، مذاکرات اور سفارتی حل پر زور دے رہی ہے تاکہ خطے میں امن و استحکام برقرار رکھا جا سکے۔

  • 
غزہ میں خون کے بینک اور لیبارٹریاں بند ہونے کے دہانے پر

    
غزہ میں خون کے بینک اور لیبارٹریاں بند ہونے کے دہانے پر

    ‎غزہ میں جاری جنگ کے باعث صحت کا نظام شدید بحران کا شکار ہو گیا ہے اور اب خون کے بینکوں اور طبی لیبارٹریوں کے بند ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ فلسطینی وزارت صحت کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ ضروری طبی سامان کی شدید قلت کے باعث تشخیصی خدمات تقریباً معطل ہونے کے قریب پہنچ چکی ہیں، جس سے زخمیوں اور مریضوں کے علاج میں مزید مشکلات پیدا ہوں گی۔
    ‎وزارت صحت کی عہدیدار سحر غانم کے مطابق لیبارٹریوں میں استعمال ہونے والے ضروری طبی مواد کی قلت 87 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ خون کے ٹیسٹ اور دیگر تشخیصی معائنے کرنے کے لیے درکار بنیادی اشیا میں 74 فیصد کمی آ چکی ہے۔ اس صورتحال نے اسپتالوں اور طبی مراکز کی کارکردگی کو شدید متاثر کیا ہے۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ جدید پرزوں اور دیکھ بھال کی سہولت نہ ہونے کے باعث پرانی لیبارٹری مشینیں بار بار خراب ہو رہی ہیں، جس سے مریضوں کی بروقت تشخیص اور علاج مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ طبی عملہ محدود وسائل کے ساتھ خدمات جاری رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن موجودہ حالات میں یہ سلسلہ زیادہ دیر برقرار رکھنا ممکن نہیں۔
    ‎سحر غانم نے عالمی برادری، امدادی اداروں اور بین الاقوامی تنظیموں سے فوری مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر ضروری طبی سامان، خون محفوظ رکھنے کے آلات اور لیبارٹری کے لیے درکار مواد فوری طور پر فراہم نہ کیا گیا تو غزہ میں طبی خدمات مکمل طور پر مفلوج ہو سکتی ہیں۔
    ‎انہوں نے خبردار کیا کہ خون کے بینکوں کی بندش کے نتیجے میں زخمیوں، سرجری کے مریضوں، بچوں اور دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد کی جانوں کو سنگین خطرات لاحق ہو جائیں گے۔ ایسے حالات میں اسپتالوں کے لیے ہنگامی طبی خدمات جاری رکھنا بھی انتہائی دشوار ہو جائے گا۔
    ‎غزہ میں صحت کا شعبہ کئی ماہ سے شدید دباؤ کا شکار ہے۔ مسلسل حملوں، ادویات اور طبی سامان کی قلت، بجلی کی فراہمی میں رکاوٹوں اور طبی مراکز کو پہنچنے والے نقصان نے علاج معالجے کے نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ وزارت صحت نے ایک بار پھر عالمی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ انسانی بنیادوں پر فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ مریضوں کی جانیں بچائی جا سکیں اور صحت کی بنیادی سہولیات کو مکمل طور پر بند ہونے سے روکا جا سکے۔

  • 
وینزویلا میں زلزلوں سے ہلاکتیں 3,811 تک پہنچ گئیں

    
وینزویلا میں زلزلوں سے ہلاکتیں 3,811 تک پہنچ گئیں

    ‎وینزویلا میں گزشتہ ماہ آنے والے دو طاقتور زلزلوں کے بعد ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ تازہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں جاں بحق افراد کی تعداد بڑھ کر 3,811 ہو گئی ہے جبکہ 16,740 سے زائد افراد زخمی ہیں۔ ہزاروں خاندان اب بھی بے گھر ہیں اور متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔
    ‎وینزویلا کی قومی اسمبلی کے صدر جارج روڈریگیز نے تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ 24 جون کو آنے والے دونوں شدید زلزلوں نے ملک کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ متعدد عمارتیں منہدم ہو گئیں، ہزاروں شہری اپنے گھروں سے نکل کر محفوظ مقامات پر منتقل ہوئے جبکہ کئی افراد کئی روز تک ملبے تلے دبے رہے۔
    ‎حکام کے مطابق اس قدرتی آفت سے 26 ہزار سے زائد افراد براہ راست متاثر ہوئے۔ ان میں وہ خاندان بھی شامل ہیں جن کے مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے یا شدید نقصان پہنچا، جس کے باعث انہیں عارضی پناہ گاہوں میں منتقل ہونا پڑا۔
    ‎امدادی ادارے، فوج، رضاکار اور بین الاقوامی تنظیمیں متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ حکومت کی جانب سے خوراک، صاف پانی، طبی سہولیات اور عارضی رہائش فراہم کرنے کا سلسلہ جاری ہے، تاہم کئی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی تباہی کے باعث امدادی سامان کی ترسیل میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
    ‎امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پگوٹ نے بھی تصدیق کی ہے کہ اس تباہ کن زلزلے میں 9 امریکی شہری بھی جان کی بازی ہار گئے ہیں۔ امریکی حکام متاثرہ خاندانوں سے رابطے میں ہیں اور ضروری قونصلر معاونت فراہم کر رہے ہیں۔
    ‎ماہرین کے مطابق 24 جون کو آنے والے دونوں زلزلوں کی شدت انتہائی زیادہ تھی، جس کے باعث بڑے پیمانے پر عمارتیں گر گئیں اور کئی علاقوں میں شدید تباہی پھیلی۔ امدادی ٹیمیں اب بھی متاثرہ مقامات پر لاپتا افراد کی تلاش اور بحالی کے کام میں مصروف ہیں جبکہ حکومت نے متاثرین کی مکمل بحالی تک امدادی کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
    ‎قدرتی آفات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ زلزلے کے بعد متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو کا عمل طویل اور مشکل ہوگا، کیونکہ ہزاروں رہائشی عمارتیں، سڑکیں اور دیگر بنیادی سہولیات بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ حکومت نے بین الاقوامی برادری سے بھی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تعاون کی اپیل کی ہے۔

  • 
چین میں جوتے بنانے کی فیکٹری میں خوفناک آگ، متعدد افراد پھنس گئے

    
چین میں جوتے بنانے کی فیکٹری میں خوفناک آگ، متعدد افراد پھنس گئے

    ‎چین کے جنوب مشرقی صوبے فوجیان میں واقع جوتے بنانے کی ایک بڑی فیکٹری میں خوفناک آگ لگنے سے جانی نقصان کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جبکہ متعدد افراد عمارت کے اندر پھنس گئے۔ ریسکیو اور فائر بریگیڈ کی ٹیموں نے آگ پر قابو پانے اور پھنسے ہوئے افراد کو محفوظ نکالنے کے لیے بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کر دیا ہے۔
    ‎چینی سرکاری میڈیا کے مطابق آگ جمعرات کی دوپہر جن جیانگ شہر میں قائم ایک کثیر المنزلہ جوتا ساز فیکٹری میں لگی۔ آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ کئی ملازمین عمارت سے باہر نکلنے میں کامیاب نہ ہو سکے اور کچھ افراد جان بچانے کے لیے عمارت کی چھت پر چڑھ گئے، جہاں وہ امدادی ٹیموں کے منتظر رہے۔
    ‎سرکاری ٹی وی کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فیکٹری کے مختلف حصوں سے بلند شعلے اٹھ رہے ہیں جبکہ آسمان کی جانب سیاہ دھویں کے گھنے بادل پھیل گئے۔ امدادی کارکنوں نے کئی گھنٹوں کی کوشش کے بعد آگ پر بڑی حد تک قابو پا لیا، تاہم کولنگ کا عمل اور سرچ آپریشن جاری ہے۔
    ‎فائر حکام کے مطابق ریسکیو کارروائی میں 183 اہلکاروں اور 35 امدادی گاڑیوں نے حصہ لیا۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ آگ فیکٹری کی گراؤنڈ فلور سے شروع ہوئی، جہاں جوتے بنانے میں استعمال ہونے والا خام مال اور چپکنے والے کیمیکل بڑی مقدار میں موجود تھے۔ یہ مواد انتہائی آتش گیر ہونے کے باعث آگ تیزی سے پوری عمارت میں پھیل گئی۔
    ‎حکام نے بتایا کہ فیکٹری میں موجود کیمیکل اور چپکنے والے مادوں کے باعث دھواں نہایت زہریلا تھا، جس سے ریسکیو اہلکاروں اور آس پاس موجود افراد کو آنکھوں میں جلن اور سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔
    ‎جن جیانگ شہر چین کی جوتا سازی اور گارمنٹس انڈسٹری کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے، جہاں ہزاروں فیکٹریاں قائم ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف گزشتہ سال اس شہر میں ایک ارب 20 کروڑ سے زائد جوڑے جوتے تیار کیے گئے، جو عالمی پیداوار کا تقریباً 20 فیصد بنتے ہیں۔
    ‎حکام نے واقعے کی مکمل تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ آگ لگنے کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے، جبکہ ہلاکتوں اور زخمیوں کی حتمی تعداد ریسکیو آپریشن مکمل ہونے کے بعد جاری کی جائے گی۔