سعودی عرب کی ایک اہم آئل ریفائنری، جو ایرانی حملوں کے باعث متاثر ہو کر بند ہوگئی تھی، اب دوبارہ فعال کر دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق ریفائنری نے 14 اپریل سے باقاعدہ طور پر کام شروع کر دیا ہے، جس سے توانائی کے شعبے میں استحکام کی جانب اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
یہ ریفائنری 8 اپریل کو ہونے والے حملوں کے نتیجے میں شدید نقصان کا شکار ہوئی تھی، جس کے باعث اس کے تین بڑے پیداواری یونٹس متاثر ہوئے تھے۔ ان نقصانات کے بعد حفاظتی اقدامات کے تحت ریفائنری کی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کر دی گئی تھیں تاکہ مرمت اور بحالی کا کام مکمل کیا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ مرمت کے عمل کو تیز رفتاری سے مکمل کیا گیا اور متاثرہ یونٹس کو دوبارہ فعال بنانے کے لیے جدید تکنیکی اقدامات کیے گئے۔ بحالی کے بعد اب ریفائنری یومیہ تقریباً 2 لاکھ 30 ہزار بیرل خام تیل کی پیداوار دے رہی ہے، جو اس کی معمول کی پیداواری صلاحیت کے قریب ہے۔
ماہرین کے مطابق اس ریفائنری کی بحالی نہ صرف سعودی عرب کی تیل کی پیداوار کے لیے اہم ہے بلکہ عالمی منڈی میں بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ حالیہ کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا تھا، تاہم پیداوار کی بحالی سے مارکیٹ میں استحکام آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
توانائی کے شعبے کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے حملوں کے باوجود تیزی سے بحالی سعودی انفراسٹرکچر کی مضبوطی کو ظاہر کرتی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ سعودی عرب اپنی تیل کی تنصیبات کے تحفظ اور پیداوار کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے۔
ایرانی حملوں سے متاثر سعودی آئل ریفائنری دوبارہ فعال
