گجرات (نمائندہ باغی ٹی وی )ڈی پی او گجرات توصیف حیدر کی ہدائیت پر ایس ایچ او سول لائن فراست اللہ چٹھہ کا بنکوں کے سیکیورٹی گارڈ ز کے لئے خصوصی تربیتی ورکشاپ کا انعقاد
تفصیلات کے مطابق ڈی پی او گجرات توصیف حیدر کی ہدائیت پر بنکوں کے سیکیورٹی گارڈ کو کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لئے ایس او ایچ او سول لائن فراست اللہ چٹھہ نے خصوصی تربیتی ورکشاپ کا اہتمام کیا۔ورکشاپ میں اٹھائیس نجی بنکوں کے 100سے زائدسیکیورٹی گارڈز کو خصوصی ٹریننگ دی گئی۔جس میں ایلیٹ فورس کے کوالیفائیڈ افسران نے سیکیورٹی گارڈز کو ویپن ہینڈلنگ کے متعلق تربیت دی۔جبکہ ایس ایچ او سول لائن نے ورکشاپ کے شرکاء کو کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے، بنک میں داخل ہونے والے افراد کی چیکنگ کا طریقہ کار، بنک کھلنے اور بند ہونے کے وقت احتیاطی تدابیر، اور سیکیورٹی گارڈز کی ذمہ داریوں پر خصوصی لیکچر دیا۔ ڈی پی او گجرات توصیف حیدر کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی گارڈ کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لئے پہلی دیوار ہوتے ہیں۔جن کی جدید خطوط پر ٹریننگ اشد ضروری ہے۔جلد تمام تھانہ جات میں ایلیٹ کوالیفائیڈ ماسٹر ٹرینز بھجوا کر تربیتی ورکشاپس کا اہتمام کیا جائے گا تاکہ سیکیورٹی گارڈز کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہ سکیں۔
Blog
-

بنکوں کے سیکیورٹی گارڈز کو ٹریننگ کب اور کہاں دی گئی اہم خبر آ گئی
-
نواز شریف سعودی عرب گئے تو آرمی چیف ساتھ تھے، کیا وہ بھی سلیکٹڈ تھے؟ فردوس عاشق کا مریم نواز سے سوال
وزیر اعظم پاکستان کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے مریم نواز کی طرف سے وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف کے ایک ساتھ امریکہ جانے پر کی جانے والی بیان بازی پر سخت تنقید کی اور کہا ہے کہ محترمہ آپ کی یادداشت اور اعصاب جواب دے چکے ہیں،
وزیر اعظم کی اتنی اوقات نہیں کہ امریکہ میں اکیلے ملک کی نمائندگی کر سکیں، مریم نواز کی عمران خان پر سخت تنقید
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سیالکوٹ میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہاکہ نواز شریف سعودی عرب گئے تو ان کیساتھ بھی آرمی چیف ساتھ تھے، آپ کےکٹھ پتلی وزیراعظم شاہد خاقان امریکاگئےتو جنرل باجوہ ساتھ تھے ، اسی طرح یوسف رضا گیلانی امریکا گئے تو جنرل اشفاق پرویز کیانی ساتھ تھے، میں پوچھتی ہوں کہ کیا یہ تینوں بھی سلیکٹڈ تھے؟
فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ راج کماری نے کہاوزیراعظم عمران خان افواج پاکستان کے سربراہ کو لے کر گئے، راج کماری نے حقائق مسخ کرنے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے، آپ بغض میں اتنی آگےنکل گئیں کہ نادانی میں پاکستان کا کیا نقصان کرینگی،
-

پاکستان، مدینہ ثانی ۔۔۔ سلیم اللہ صفدر
یہ جنگ احزاب ہے….
چاروں اطراف سے کفار و مشرکین کے لشکر آپس میں اتحاد کر کے مدینہ پر چڑھ دوڑے ہیں…
شاہِ مدینہ صلی اللہ علیہ و سلم سب کچھ سن رہے ہیں … سب کچھ دیکھ رہے ہیں …
اللہ کے نبی ہونے کے سبب اللہ سے دعا کر کے فرشتوں کے لشکر بلوا کر سب کو کچل دینا…. یا جنگ ِبدر کے موقع پر تلواروں کے مقابلے میں ڈنڈے اور چاقو چھریاں لیکر سارے لشکروں سے ٹکرا جانا اور فتح حاصل کر لینا کچھ مشکل نہیں.
مگر میرا نبی اپنی امت کو لڑنے کے فن اور طریقے سکھانا چاہتا ہے.مشورہ کیا…! سب سے پہلی ترجیح "مدینہ بچاؤ” ٹھہری.
سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کا مشورہ پسند آیا… خندق کھودنا شروع کی.
سردی، بھوک، پیاس، بارش…. اور سخت پتھر. مگر صحابہ کرام کے ساتھ ملکر کھدائی جاری رہی اور نحن الذین بایعو محمدا کے نعرے لگتے رہے.
اسی دوران پیٹ پر پتھر باندھے جاتے رہے اور سنگلاخ چٹانیں ٹوٹتی رہیں… یہاں تک کہ ان ٹوٹتی چٹانوں سے ابھرتی چنگاریوں نے روم و ایران کی فتوحات کی خوش خبری دی.زمینی دفاع کے بعد سفارتی دفاع کے لئے اللہ کے نبی نے مشرکین مکہ کے خلاف یہودیوں تک سے معاہدہ کر لیا. کہ اگر حملہ ہوا تو یہودی مسلمانوں کے ساتھ ملکر آور مسلمان یہودیوں کے ساتھ مل کر مشترکہ دشمن سے لڑائی کریں گے.
سفارتی دفاع کے بعد اللہ کے نبی نے نعیم بن مسعود رضی اللہ عنہ کو حملہ آور قبائل میں پھوٹ ڈالنے کے لئے بھیجا اور حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کو جاسوسی کے لئے. دونوں کامیاب لوٹے. اور ان سبھی تدبیروں اور محنت کے بعد وہ اللہ کی مدد آئی کہ اللہ کے لشکر یعنی آندھی طوفان نے لشکر باطل کے خیمے الٹ دئیے، ان کے درمیان پھوٹ پڑ گئی….اور وہ شکست کھا کر بھاگ گئے. بدعہدی کرنے والے بنو قریظہ کے یہودیوں کو قتل کر دیا گیا. اور اس طریقہ سے مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی.
یہ چھ ہجری ہے.
اللہ کے نبی نے خواب دیکھا کہ بیت اللہ میں عمرہ کر رہے ہیں. صحابہ کرام کو بتایا. سفر کی تیاری ہوئی اور چودہ سو صحابہ کے ساتھ عمرہ کی نیت سے روانہ ہو گئے. لوگوں کو اطمنان دلانے کے لیے احرام باندھ لیا گیا لیکن راستے میں پتہ چلا کہ قریش پہلے ہی ایک لشکر تیار کر چکا ہے آپ کو عمرہ سے روکنے کے لیے.مشورے کے بعد طے پایا کہ رکنے یا لوٹنے کی بجائے راستہ تبدیل کر کے آگے بڑھا جائے. بالآخر اللہ کے نبی حدیبیہ پہنچ گئے. حدیبیہ پہنچ کر قیام کیا. اور رات کے وقت قریش مکہ کی طرف سے بھیجے گئے ستر نوجوان جو جنگ کی آگ بھڑکانے کے لیے آے تھے، اسلامی قافلے کے پہرے دار کمانڈر محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں گرفتار ہو گئے. اللہ کے نبی نے صلح رکھنے کی خاطر اور جنگ نہ چاہنے کے لیے بغیر کسی شرط کے ان سب کو رہا کر دیا اور معاف کر کے واپس مکہ بھیج دیا.
اگلے دن عثمان رضی اللہ عنہ کو بطور سفیر قریش کی طرف بھیجا جنہوں نے ان کو مکہ میں ہی روک لیا اور ان کی شہادت کی افواہ اڑا دی. دینی غیرت کے سبب اللہُ کے نبی نے صرف میان میں تلوار لیکر عمرہ کی نیت کر کے آنے والے چودہ سو صحابہ کرام کے ساتھ موت پر بیعت کر لی جو بیعت رضوان کہلائی. اللہ تعالیٰ ان مومنین سے اس بیعت پر خوش ہو گیا جو ایک ایسے قتل کے قصاص کے لیے کی گئی جو قتل ہوا ہی نہیں تھا.
قریش مکہ تک بیعت کی خبر پہنچی تو انہوں نے صورتحال کی نزاکت محسوس کرتے ہوئے فورا ایلچی بھیج دیا اور صلح کی گزارش کی اور سب سے پہلی شرط یہ رکھی کہ اس سال عمرہ کرنے کی بجائے مدینہ واپس لوٹ جائیں.
ایک تو صلح کی شرائط انتہائی گھٹیا محسوس ہو رہی تھیں اور اوپر سے ایلچی کا رویہ انتہائی خباثت پر مشتمل تھا . جب اس نے کہا کہ اگر صلح نامے پر محمد رسول اللہ لکھنا ہے تو جھگڑا کس بات کا. ہمارا جھگڑا ہے ہی اسی بات کا کہ ہم آپ کو رسول اللہ نہیں مانتے. اللہ کے نبی نے حضرت علی کو کہا کہ ٹھیک ہے رسول اللہ مٹا دو اور محمد بن عبداللہ لکھ دو. مورخین و محدثین نے اتنا لکھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ آور زبان دونوں ساکت ہو گئے لیکن کاش کوئی ان کے سینے میں اٹھتے ہوئے درد تک پہنچ سکتا کہ رسول اللہ کے حکم پر رسول اللہ لکھا ہوا مٹانا کتنا مشکل کام ہے . جب اللہ کے نبی نے یہ دیکھا تو کہنے لگے ٹھیک ہے مجھے بتاو رسول اللہ کہاں لکھا ہے؟ میں خود مٹا دیتا ہوں.
رسول اللہ کے ہاتھوں لکھا ہوا "رسول اللہ” مٹ گیا اور معاہدہ نافذ ہو گیا. اس کائنات کا عظیم ترین سچ ایک عظیم ترین انسان کے ہاتھوں مٹا دیا گیا.عین اسی موقع پر مکہ مکرمہ سے بھاگ کر گرتا پڑتا ایک صحابی ابو جندل وہاں پہنچا. قریش مکہ کے ایلچی سہیل نے معاہدے کے مطابق سب سے پہلے اس کا مطالبہ کیا. اللہ کے نبی نے کہا کہ ابھی تو معاہدہ لکھا ہی نہیں ہم نے… مگر اس بدتمیز ایلچی نے کہا کہ اگر یہ بات ہے تو میں کوئی معاہدہ نہیں کرتا. اللہ کے نبی نے اس کی منت کرتے ہوئے کہا کہ چلو اسے میری خاطر چھوڑ دو. اس ایلچی نے کہا کہ نہیں آپ کے لیے بھی نہیں چھوڑ سکتا. معاہدے کے بعد ابو جندل رضی اللہ عنہ اسی ایلچی کے ساتھ واپس روانہ ہو گئے. ابو جندل رضی اللہ عنہ چلاتے رہے کہتے رہے… میرا ایمان خطرے میں ہے مگر اللہ کے نبی نے صبر کی نصیحت کی اور اس کے لیے آسانی کی دعا کی.
معاہدے کے بعد اللہ کے نبی نے قربانی کے جانور زبح کرنے کا حکم دیا… لیکن دکھ اور غم کی یہ صورت حال کہ ایک صحابی بھی اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوا. اللہ کے نبی نے یہ دیکھ کر خود ہی اپنا جانور ذبح کیا جس کے بعد باقی سب صحابہ کرام نے بھی کر لیا.
حضرت عمر رضی اللہ شدید غصے میں اللہ کے نبی سے کہنے لگے کہ جب ہم حق پر ہیں تو آپ نے قریش مکہ کا دباؤ قبول کر کے کیوں صلح کی. تو اللہ کے نبی نے اتنا جواب دیا کہ خطاب کے بیٹے. میں اللہ کا رسول ہوں… میرا اللہ مجھے ضائع نہیں کرے گا.
اس کے بعد آیات نازل ہوئیں اور یہ صلح حدیبیہ فتح ِمبین قرار پائی.
اللہ کے نبی واپس مدینہ پہنچے ہی تھے کہ ابو بصیر رضی اللہ عنہ مشرکین مکہ سے چھوٹ کر مدینہ پہنچ گئے. مشرکین مکہ نے اسے واپس لانے کے لیے دو آدمی بھیجے. اللہ کے نبی نے ابو بصیر رضی اللہ عنہ کو واپس لوٹا دیا.
مکہ کی طرف جاتے ہوئے راستے میں ایک بندے کو قتل کر کے ابو بصیر رضی اللہ عنہ واپس مدینہ پہنچے اور اللہ کے نبی کو خوش ہو کر بتایا کہ آپ نے بھی معاہدہ پورا کیا اور مجھے بھی اللہ نے ان سے نجات دے دی. مگر رسول اللہ کے ہاتھ تو ابھی بھی معاہدے میں بندھے ہوئے تھے. یہ سن کر اللہ کے نبی نے ذومعنی فرقہ کہا "اگر اس بندے کو کوئی ساتھی مل جائے تو یہ جنگ کی آگ بھڑکا دے” (جنگ کرنے کی خاموش اجازت )
ابو بصیر رضی اللہ عنہ بات سمجھ گئے. چپ کر کے مسجد نبوی اور پھر مدینہ منورہ سے نکل کر شام جانے والے راستے میں بیٹھ گئے. ابو جندل رضی اللہ عنہ بھی ان کے پاس پہنچ گئے اور اس کے بعد قریش سے بھاگ کر آنے والا ہر مسلمان ان کے لشکر میں شامل ہو کر شام کو جانے والے تجارتی قافلوں کو لوٹنا شروع ہو گیا.
قریش مکہ نے تنگ آ کر اللہ کے نبی کو گزارش کی کہ انہیں اپنے پاس بلا لیں. ہم کچھ نہیں کہیں گے.
اس طرح وہ صلح حدیبیہ جسے فتح مبین کہا گیا تھا چار سال بعد فتح مکہ کی شکل میں سامنے آئی.
وہ احباب جو پاکستان کی موجودہ بدلتی سیاسی و عسکری صورتحال سے گرم، دکھی یا پریشان ہیں… وہ حضرت عمر رضی اللہ کا غصہ، حضرت علی رضی اللہ کا کرب اور ابو جندل و ابو بصیر رضی اللہ عنہا کا دکھ سمجھ سکتے ہیں. وہ سمجھ سکتے ہیں کہ حق پر ہونے کے باوجود جنگ نہ کرنے اور مشرکین اور یہود و ہنود سے معاہدے کرنے کی کیا ضرورت ہے….؟ حق پر ہونے کے باوجود صلح کی نیت سے قیدیوں کو بغیر کسی شرط کے چھوڑنے میں کتنی بڑی حکمت عملی پوشیدہ ہے….! وہ سمجھ سکتے ہیں کہ ایک بڑے مقصد کے لیے…. ایک بڑے معاہدے کو سرانجام دینے کے لیے "اپنوں” کے بوریا بستر کیسے گول کیے جاتے ہیں حتی کہ انہیں دشمنوں کے بھی حوالے کیا جا سکتا ہے….! وہ جان سکتے ہیں کہ ایک بڑے مفاد کے لئے سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ کیسے قرار دیا جا سکتا ہے. خیر خواہوں کو کیسے دہشت گرد کہا جا سکتا ہے. دشمن کو کیسے مجبور کیا جا سکتا ہے کہ وہ آپ کی منتیں کرے کہ ان نان سٹیٹ ایکٹرز کو اپنے پاس رکھ لو… ہم کچھ نہیں کہیں گے انہیں.
جب آپ اکیلے ہوں اور دشمن آپ سے کئی گنا زیادہ ہو اور آپ جنگ کرنے کی پوزیشن میں بھی نہ ہوں تو دشمن کے دشمن کو اپنا دوست بنانے میں ہی عافیت ہے. اس سے جنگ کرنے کی بجائے اس کے ساتھ معاہدہ کرنا ضروری ہے تا کہ وہ آپ کے دشمن کے خلاف آپ کی مدد کر سکے… تا کہ آپ کا مدینہ ثانی محفوظ رہے. اور اس معاہدے کے لیے اگر آپ کو ابوجندل رضی اللہ عنہ جیسی قربانی دینی پڑے تو یہ سوچ کر قربانی دیں کہ اللہ آسانی و کشادگی پیدا کرے گا.
اور جنہیں سمجھ نہیں آ رہی یہ بات تو وہ ضرور فتوی لگائیں مگر مجھ پر نہیں بلکہ اللہ کے نبی پر لگائیں جنہوں نے یہ سارے کام صرف اس لئے کیے تا کہ مدینہ محفوظ رہے…. تا کہ مسلمان محفوظ رہیں… تا کہ ایک بڑے لشکر سے لڑنے کے لیے مسلمانوں کو تیاری کا وقت مل سکے… تا کہ مسلمان ایک بڑے دشمن سےلڑنے کے لیے نئے اتحادی بنا سکے. تا کہ مسلمان اپنے مدینہ کا دفاع مضبوط سے مضبوط تر کر سکیں.
اگر کسی کو شک ہو کہ میں نے کوئی روایت غلط لکھی ہے تو سیرت کی مستند اور انعام یافتہ کتاب الرحیق المختوم کا مطالعہ کر کے اپنی تسلی کر سکتا ہے.
مجھے معلوم ہے ایسے موقع پر کچھ لوگ یہ بھی کہیں گے کہ جسے اللہ کے نبی نے بچایا وہ مدینہ تھا اور یہ پاکستان ہے اور ان میں زمین آسمان کا فرق ہے تو ان سے بس اتنی سی گزارش ہے کہ مدینہ کا تقدس مسلَم ہے لیکن یہ وہی مدینہ ہے جس میں منافقین رہتے تھے… یہ وہی مدینہ ہے جس میں چور کے ہاتھ کاٹے جاتے تھے کیونکہ وہ چوری کرتا تھا… یہ وہی مدینہ ہے جس میں زانی کو دُرے پڑتے تھے کیونکہ وہ زنا کرتا تھا. یہ وہی مدینہ ہے جس میں نماز اور جہاد سے بھاگنے والوں کو وعیدیں سنائی جاتی تھیں کیونکہ وہ نماز نہیں پڑھتے تھے، جہاد نہیں کرتے تھے. اگر پاکستان اس مدینے جیسا نہیں تو اسے مدینے جیسا ہم نے ہی بنانا ہے ملکر…. لیکن اسی طریقے کے مطابق جس طریقے سے اللہ کے نبی نے اسے بنایا ہے اور جس طریقے سے اللہ کے نبی نے اسے بچایا ہے… اسلام کو دنیا میں زندہ رکھنے لیے… فتح مکہ کے لیے… اللہ کے دین کو تمام ادیان پر غالب کرنے کے لیے….!اپنے قیدیوں کو چھڑوانے کے لیے، مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لیے اور اپنے شہداء کے خون کا بدلہ لینے کے لئے.
یہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے اور اس کی حفاظت اسی طرح فرض ہے جس طرح اللہ کے نبی نے سکھائی ہے اور کر کے دکھائی ہے. اگر بڑے دشمنوں سے لڑنا ہے اور فتح حاصل کرنی ہے تو دل بھی اتنا ہی بڑا کرنا پڑے گا. صبر اور حوصلہ قائم رکھنا پڑے گا… حق پر ہوتے ہوئے بھی اپنے جان و مال کو قربان کرنا پڑے گا تا کہ ہمارا مدینہ ثانی محفوظ رہے. اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو.
میرے وطن یہ عقیدتیں اور پیار تجھ پہ نثار کر دوں
محبتوں کے یہ سلسلے بےشمار تجھ پہ نثار کر دوںتیری محبت میں موت آئے تو اس سے بڑھ کر نہیں ہے خواہش
یہ ایک جان کیا، ہزار ہوں تو ہزار تجھ پہ نثار کر دوں -

لاہور، جیل روڈ پر نامعلوم افراد کی کار پر فائرنگ، 3 افراد زخمی
صوبائی دارلحکومت لاہور میں مزنگ چونگی کے قریب جیل روڈ پرکار پرفائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نامعلوم افراد کی جانب سے کی گئی فائرنگ میں 3 افراد زخمی ہوئے ہیں، زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں طبی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں،
پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور موٹر سائیکلوں پر تھے جو فائرنگ کے بعد فرار ہو گئے ہیں، پولیس نے اس واقعہ کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور ملزمان کی تلاش جاری ہے،
-

حکومت نے تمام ٹی وی چینلز کو فیصل آباد ریلی نہ دکھانے کی ہدایت کی ہے، مریم نواز کا دعویٰ
پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ کل میری پریس ٹاک دکھانے پر جیو نیوز بند کر دیا گیا۔ آج تمام چینلز کو فیصل آباد ریلی نا دکھانے کی ہدایات (دھمکی پڑھا جائے) جاری کی گئی ہیں۔ نالائقو! یہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور ہے اور اس میں ایسے ہتھکنڈے استعمال کر کے آپ اپنی شکست کا اعتراف تو کر سکتے ہیں، کوریج نہیں روک سکتے!
Sent by journalists:
“Media Channel ko abhi Pemra ny Notice deya hy k koi tv channel pr TICKERS OR VIDEO ni chaly gi Reporter ko wapis bulaya ja rha hy” https://t.co/rqofwFbD78
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) July 21, 2019
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مریم نواز نے سوشل میڈیا سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ نواز شریف کے خوف نے فیصل آباد کو کنٹینر آباد میں بدل دیا! اقتدار سے پہلے بھی کنٹینر، بعد میں بھی کنٹینر !نواز شریف کے خوف نے فیصل آباد کو کنٹینر آباد میں بدل دیا! اقتدار سے پہلے بھی کنٹینر، بعد میں بھی کنٹینر ! ☺️ pic.twitter.com/GmVu5hCyWK
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) July 21, 2019
مریم نواز نے ایک اور ٹویٹ میں کہا کہ شیر کا خوف گیدڑوں کی جان لے کے رہے گا! واضح رہے کہ مریم نواز نے آج فیصل آباد میں ریلی نکالنے کا اعلان کر رکھا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ فیصل آباد ہر صورت آئیں گی.شیر کا خوف گیدڑوں کی جان لے کے رہے گا! pic.twitter.com/N8uLZJhArV
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) July 21, 2019
-

دولت نگر تا چڑیاولہ سٹرک ٹوٹ پھوٹ کا شکار، حلقے کے عوامی نمائندے بے خبر
گجرات (نمائندہ باغی ٹی وی)چڑیاولہ تا دولت نگر روڈ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ،انتظامیہ سڑک کی مرمت کا کام بھی نہ کروا سکی اہلیان علاقہ کا حکومت سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ ،تفصیلات کے مطابق چڑیاولہ تا دولت نگر اور کوٹلہ تا بولانی ودیگر اہم شاہرات ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں سڑکوں کی خستہ حالی اور ٹوٹ پھوٹ سے اہلیان علاقہ کو سخت پریشانی کا سامنا ہے معمولی بارش کے بعد پانی یہاں جمع ہونا معمول بن گیا ہے روڈ ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے آئے روز حادثات میں اضافہ ہو چکا ہے ضلعی حکومت مذکورہ روڈ کی تعمیر تو درکنار مرمت کا کام بھی نہیں کرواسکی اہلیان علاقہ سخت مشکلات کا شکار ہیں عوامی سماجی حلقوں نے حکومت پنجاب اور ڈپٹی کمشنر گجرات سے اصلاح کی اپیل کی ہے
-

بول ٹی وی انتظامیہ کا اداکار نبیل ظفر پر مقدمہ درج کرنے کیلئے دباؤ، پولیس کا انکار
بول ٹی وی انٹرٹیمنٹ کے سابق سی ای او نبیل ظفر کی جانب سے واجباب کی ادائیگی کے معاملہ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بول ٹی وی انتظامیہ کی طرف سے الٹا اداکار نبیل ظفر پر مقدمہ درج کرنے کے لیے گزری تھانہ پولیس پر دباؤ ڈالا جارہا ہے،
بول ٹی وی کے سابق انٹر ٹینمنٹ ہیڈ نبیل ظفر “بول ” ٹی وی کے خلاف بول پڑے ،ہائی کورٹ میں درخواست
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ نبیل ظفر کے واجبات کی عدم ادائیگی کا کیس عدالت میں زیر سماعت ہے مقدمہ کیسے دائر کرسکتے ہیں،
بول ٹی وی کے مالک شعیب شیخ جھوٹااور جعل ساز شخص ہے ، نبیل ظفر کی اعلیٰ پولیس حکام سے درخواست
واضح رہے کہ معروف اداکار نبیل ظفر کے بول ٹی وی پر 19 کروڑ روپے سے زائد رقم واجب الادا ہیں، نبیل ظفر نے واجبات کی ادائیگی کے لیے عدالت میں دعوی دائر کررکھا ہے، یہ بات بھی یاد رہے کہ نبیل ظفر نے عدالت میں درخواست دائر کی ہے کہ بول ٹی وی نے اس کی کردار کشی کی ہے .نبیل نے مزید کہا کہ بول ٹی وی نے یہ سب کچھ جھوٹ اور غلط بیانی سے کیا .لہٰذا ہرجانہ کے طور مزید 100 ملین روپے دینےکا حکم صادر کرے .
نبیل ظفر نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے کہا کہ بول ٹی وی مالکان نے نے کئی اور ملازمین کی تنخواہیں بھی ابھی تک ادا نہیں کیں. دیگر ملازمین نے بھی بول ٹی وی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے لیے درخواستیں دے رکھی ہیں. نبیل ظفر نے اعادہ کیا ہے کہ اسے امید ہے کہ عدالت اسے ضرور انصاف دے گے اور ایسے غیر ذمہ دار اداروں کے خلاف کارروائی بھی ضرور کرے گی
-

قوم دہشت گردی کیخلاف جنگ میں متحد اور پرعزم ہے، وزیر داخلہ اعجاز شاہ
وزیرداخلہ اعجازشاہ نے ڈیرہ اسماعیل خان میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کی ہے،
ڈی آئی خان دہشت گردی واقعات میں شہدا کی تعداد 7 ہوگئی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیرداخلہ نے اس حملےمیں قیمتی جانوں کے ضیاع پرگہرے دکھ اورغم کااظہار کیا ہے، اعجازشاہ نے شہداء کے بلند درجات اورلواحقین کے لیےصبرجمیل کی دعا کی ہے،
وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے کہا ہے کہ قوم دہشت گردی کےخلاف جنگ میں متحد اور پرعزم ہے، یاد رہے کہ ڈی آئی خان میں آج ہونے والے دہشتگردی کے حملہ میں 10 افراد شہید ہوئے ہیں.
-

روسی شہر تالیاتی کے مسلمان ، تاتار نسل سے ہیں،8 ویں صدی میں پہنچے ،اسلام اور مسلمانوں کی کہانی روسی مورخ کی زبانی
ماسکو : روس کے مہیب دریا والگا کے کنارے زمانہ قدیم سے ہی مختلف اقوام اور مختلف عقائد کے حامل لوگ رہتے رہے ہیں۔ آج کے تاتاروں اور بشکریریوں کے اجداد بولگار آٹھویں صدی میں یہاں پہنچے تھے اور اپنی ریاست بولگاریہ کی بنیاد رکھی تھی۔
دسویں صدی میں جب بولگاریہ پر خان الموش کی حکمرانی تھی تو ریاست بولگاریہ نے سرکاری طور پر مذہب اسلام قبول کر لیا تھا۔ آج ہم آپ کو بتائیں گے کہ دریائے والگا کے کنارے کے ایک معاصر شہر جدید اور تیزی سے ترقی کرتے ہوئے تالیاتی میں مسلمان کیسے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ یہ شہر روس میں کاروں کی صنعت کا مرکز رہا ہے اور یہاں ہی معروف روسی کار لادا فییٹ تیار کی جاتی ہے۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اس وقت تالیاتی کی آبادی سات لاکھ افراد ہے جن میں تیس ہزار تاتار ہیں جو روایتی طور پر مذہب اسلام پر کاربند ہیں۔ لیکن تالیاتی میں صرف یہی لوگ مسلمان نہیں ہیں۔ اس شہر میں بشکیر بھی کچھ کم نہیں جو تاتاروں کی طرح قدیم زمانے سے والگا کے کنارے پر بسنے والی قوم ہے۔ سوویت یونین ختم ہونے کے بعد تالیاتی میں کام کرنے کی غرض سے آذربائیجانی، تاجک، ازبک، کرغیز، ترکمان، کزاخ، چیچن اور داغستانی بھی بڑی تعداد میں گاہے بگاہے آتے رہے ہیں۔ آخری دنوں میں ایسے روسی بھی کم نہیں جو روایتی طور پر عیسائی ہیں مگر اسلام قبول کر رہے ہیں اور قدیم مسلمان لوگوں کے ساتھ مسجدوں میں آتے ہیں۔
تالیاتی میں جامع مسجد نئی تعمیر کی گئی ہے۔ 1990 کے عشرے میں شہر کے مرکزی خطے میں اس کی بنیاد، قدامت پسند کلیسا کے نمائندوں کی موجودگی میں رکھی گئی تھی۔ آج اس مسجد میں بیک وقت تین ہزار افراد نماز ادا کر سکتے ہیں۔ بلاشبہ ہزاروں مسلمانوں کی آبادی والے شہر میں یہ ایک مسجد ناکافی ہے۔ اس لیے تالیاتی کے دوسرے حصوں میں بھی نماز پڑھنے والوں کے لیے کئی مقامات کا انتطام کیا گیا ہے۔ جمعہ اور عید نمازوں کے وقت مرکزی جامع مسجد کے ارد گرد کا تمام علاقہ جاء نمازوں سے پٹا ہوتا ہے۔
مذہبی علم کو زیادہ کیے جانے کی خاطر مساجد اور تعلیمی اداروں میں مبادیات اسلام، قرآن پڑھائے جانے اور عربی لکھنے کے کورسوں کا اہتمام کیا گیا ہے۔ ان کورسوں مین بچے، نوجوان، جوان اور تاحتٰی خاصی بڑی عمر کے لوگ بھی آتے ہیں۔ ہم ایمان کے حوالے سے اہم موضوعات پر وعظ کا بندوبست کرتے ہیں۔ ہمارے شہر میں ڈیزائنر ہیں جو خاص طور پر مسلمانوں کے لیے ملبوسات سیتے ہیں۔ ہم نمائش اور فروخت کا انتطام کرتے ہیں، جہاں پر اسلام کے مطابق مگر جدید طرز کے ملبوسات منتخب کیے جا سکتے ہیں۔ ہم تلاوت قرآن کے مقابلے بھی کرواتے ہیں۔ مختلف عمروں کے طالبعلموں کے ہمراہ ہم تاتارستان کی تاریخی یادگاروں کو دیکھنے جاتے ہیں۔ یہی وہ مقامات ہیں جہاں کئی صدیوں پہلے اسلام پہنچا تھا”۔
تالیاتی کے باسیوں کے لیے بھی ، دوسری جگہوں پر رہنے والے مسلمانوں کی طرح رمضان کا مہینہ خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ وہ نماز تراویح پڑھنے کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں۔ بہت دلجمعی کے ساتھ مشترکہ افطار کا بندوبست کرتے ہیں۔ مسجد میں قرآن اور نمازیں پڑھتے ہوئے رمضان کا مقدس مہینہ بہت تیزی سے گذر جاتا ہے۔ مسلمان اعزاء اور اقرباء کے درمیان عید کا تہوار منائے جانے کے دن مہمان نوازی میں گذرتے ہیں۔
عیدالاضحیٰ پہ قربانی کے لیے جانور کہاں سے خریدے جاتےہیں اور ان کی قربانی کہاں کی جائے۔ تالیاتی میں ایسے لوگ ہیں جو یہ کام بڑی دیانتداری کے ساتھ کرتے ہیں۔ شہر سے کچھ دور، دیہات میں، کسان خاص طور پر قربانی کے لیے جانوروں کی پرورش کرتے ہیں، اسلام کے مطابق انہیں ذبح کرتے ہیں اور شہر میں دیے گئے پتے پر گوشت پہنچا دیتے ہیں”۔
تالیاتی سے ہر سال ایک گروپ حج کرنے کے لیے مکہ جاتا ہے۔ اللہ کے فضل سے ملک کے ان حصوں کی نسبت جہاں مسلمان زیادہ تعداد میں آباد ہیں یہاں کوٹہ کی پابندی اتنی سخت نہیں ہے۔ کئی مقامی مسلمان تو عمرہ چار بلکہ پانچ بار بھی کر چکے ہیں۔ اس رمضان میں بھی تالیاتی سے ایک گروہ عمرہ کرنے کی خاطر مکہ گیا ہے۔ مسجد میں تعلیم حاصل کرنے والے طالبعلموں کو بھی حج پر بھیجے جانے کا منصوبہ ہے۔
اس سال تالیاتی کے مسلمانوں نے گرمیوں میں پہلے بچیوں اور پھر بچوں کے لیے سمر کیمپ کا اہتمام کیا۔ آج روس کے مسلمان خود بھی اور اپنے بچوں کو بھی اسلام کے مطابق زندگی گذارنا سکھا رہے ہیں۔ شہر تالیاتی اس کی روشن مثال ہے۔
-

تخم ملنگا صحت کا ضامن
برصغیر میں تلسی کے پودوں سے حاصل ہونے والے سیاہ بیجوں کو عام طور پر تخم ملنگا کہا جاتا ہے گرمی کے دنوں میں شربت میں استعمال کیا جاتا ہے ان بیجون کو تھوڑی دیر پانی میں چھوڑ دیا جائے تو ان کے گرد سفید جھلی بن جاتی ہے یہ بیج پروٹینز کاربوہائڈریٹس ضروری چکنائیوں اور ریشوں سے بھر پور ہوتے ہیں ان میں موجود انٹی آکسیڈنٹ اجزا ذیا بیطس کنٹرول کرنے میں مدد دیتے ہیں اور جلد کو بھی فائدہ پہنچاتے ہیں
اسمیں موجود فیٹی ایسڈز جسم میں تحول غذا کے دوران چربی جلانے میں مدد دیتے ہیں ان میں فائبر بھی موجود ہوتے ہیں اسی لیے طبعیت زیادہ کھانے کی طرف مئل نہیں ہوتی پانی میں نرم کئے ہوئے بیجوں کو دہی یا سلدد کے اوپر چھڑک کر استعمال کیا جا سکتا ہے
یہ پوٹاشئم اور اومیگا تھری سے بھر پور ہے آرتھرائٹس کی درد میں آرام دیتا ہے نیند کو بہتر بناتا ہے مختلف اقسام کے سرطان کی حفاظت کرتا ہے خون میں شوگر کی سطح کو اعتدال میں لاتا ہے آنتوں کی صفائی میں اہم کردار ادا کرتا ہے مدافعتی نظام کو طاقت فراہم کرتا ہے نطام ہاضمہ کو بہتر بناتا ہے