Baaghi TV

Blog

  • برطانیہ کا ٹرمپ کی تنقید کرنے پر ایوانکا  سے معذرت کا اظہار

    برطانیہ کا ٹرمپ کی تنقید کرنے پر ایوانکا سے معذرت کا اظہار

    برطانیہ کی طرف سے امریکا میں‌ برطانوی سفیرکے لیک سرکاری خط و کتابت پر معذرت کا ارادہ کیا گیا ہے جس میں ٹرمپ اور اس کی انتظامیہ پر تنقید کی گئی تھی.اس بات کا اعلان گیاکہ اس پر ایسا کیا جانا ٹھیک نہیں تھا .

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق برطانوی وزیر تجارت لیام فوکس نے سوموار کے روز کہا ہے کہ ان مراسلوں کا افشا ہونا ’بہت ہی سنگین خلاف ورزی‘ ہے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ برطانوی وزارت خارجہ کے ایک عہدہ دار ٹارم ٹوگن نے بھی تقریبا ایسے ہی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے امریکی انتظامیہ سے معذرت پر زور دیا ہے۔

    خیال رہے کہ واشنگٹن میں برطانوی سفیر سر کِم ڈارک کی لیک ہونے والی سفارتی ٹیلی گرامز میں ٹرمپ انتظامیہ کو ‘ناکارہ’، ’غیر محفوظ‘ اور ’نااہل‘ کہا گیا ہے۔

    وزیر تجارت نے کہا کہ یہ ایک سنگین غلطی ہے، میں نے اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا لیکن سر کِم کا دفاع بھی کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ برطانوی سفیر کا کام ’امریکا کے احساسات کی نہیں بلکہ برطانوی شہریوں کے مفادات اور خواہشات کی ترجمانی کرنا ہے۔ ٹیلی گرامز لیک کے ذریعے جو کچھ ہوا وہ غلطی تھی اور ہمیں اس پرمعافی معانگنے میں کوئی عار نہیں ہونا چاہیے’۔

  • مودی سرکار کا کشمیر میں‌ ایجنسیوں کے باقاعدہ دفاتر کھولنے کا فیصلہ

    مودی سرکار کا کشمیر میں‌ ایجنسیوں کے باقاعدہ دفاتر کھولنے کا فیصلہ

    بھارت سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں‌ حریت پسند قیادت اور تاجروں کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کیلئے مقبوضہ کشمیر میں‌ تحقیقاتی ایجنسیوں‌ کے دفاتر کھولنے کی اجازت دے دی ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یہ دفاتر جموں اور وادی کشمیر میں الگ الگ کھولے جائیں‌ گے. اگرچہ بھارتی حکومت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ان دفاتر کے کھولنے کا مقصد مبینہ طور پر حوالہ فنڈنگ روکنے کیلئے ہے تاہم اس کا اصل مقصد کشمیریوں‌کی جدوجہد آزادی پر قابو پانا اور کشمیریوں کی مدد کرنے والے تاجروں کے گرد شکنجہ کسنا ہے. رپورٹ کے مطابق جموں‌ اور وادی کشمیر میں‌‌‌‌‌‌‌انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور ڈائریکٹوریٹ آف ریونیو انٹیلی جنس کو مضبوط کرنے کی بات کرتے ہوئے ان کے دفاتر کھولنے کا اعلان کیا گیا ہے.

    رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور ڈائریکٹیوریٹ آف انٹیلی جنس کے ہیڈ آفس چندی گڑھ اور نئی دہلی میں قائم ہیں اور حوالہ فنڈنگ اور مبینہ طور پر عسکریت پسندی کیلئے رقومات جمع کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے سے پہلے ان دفاتر سے آفیسران کو رجوع کرنا پڑتا تھا تاہم اب بھارت کی مرکزی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ سری نگر اور جموں میں دونوں تحقیقاتی ایجنسیوں کے دفاتر قائم کئے جائیں‌ گے۔ اس امر پر بھی غور کیا جارہا ہے کہ ان دفاتر میں کن افسروں‌ کو تعینات کیا جائے گا.

    بھارت سرکار کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ دونوں تحقیقاتی ایجنسیوں کے دفاتر سری نگر اور جموں میں قائم کرنے سے کشمیری قائدین ، عسکریت پسندوں کی مدد کرنے والے اور ان کے لئے نرم گوشہ رکھنے والے کشمیری تاجروں پر خصوصی نظر گزر رکھنے میں آسانی ہوگی ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ خاص طور پر وا دی کشمیر میں سنگبازی کو ختم کرنے کیلئے اہم اقدامات اٹھائے جائیں‌ گ ۔

    واضح‌ رہے کہ بھارتی حکومت کشمیر میں این آئی اے کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے اور پہلے ہی بڑی تعداد میں‌ کشمیری لیڈروں اور تاجروں کو گرفتار کر کے بھارتی جیلوں‌ میں قید کیا جاچکا ہے.

  • خون سفید ہوگیا،باپ نے معصوم بیٹا قتل کردیا

    خون سفید ہوگیا،باپ نے معصوم بیٹا قتل کردیا

    جہانیاں(نمائندہ باغی ٹی وی)چارروز قبل 12سالہ معصوم بچے کا قتل ہوگیا تھا قتل کا مقدمہ نا معلوم افراد پہ درج تھا تھا۔ جس کی تفشیش کی جارہی تھی کہ دوران تفشیش مقتول کےوالد نے اعتراف جرم کرلیا اور کہا کہ اپنے بیٹے کو قتل کرکے اس کاالزام اپنے بھائیوں پرلگاناچاھتاتھا۔پولیس ذرائع کے مطابق سات مرلہ سکیم چک نمبر112دس آر کے رہائشی محمدسلیم کے بیٹے محمد ثاقب کوچھریوں کے وار کرکے قتل کردیاتھا اور لاش قریبی باغ سے برآمد ھوئی تھی پولیس تھانہ جہانیاں نے بچے کے باپ محمد سلیم کی مدعیت میں دو نامعلوم افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا تھا دوران تفتیش پولیس کو بچےکےباپ پر شک گزرا توبچے کے ظالم باپ نے اعتراف جرم کرلیا اورباپ نے پولیس کو بتایا کہ دوبھائیوں کے ساتھ جائیداد کا تنازعہ چلا آرھاتھا اور میں اس کا الزام اپنے بھائیوں پر لگانا چاھتاتھا پولیس نے ظالم باپ کو گرفتار کرلیا ھے

  • رنگ باز

    رنگ باز

    معاشرہ انسانوں کا جنگل ہے۔ جہاں رہتے ہوئے انسان کو آئے روز مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور انسانوں کا واسطہ انسانوں سے ہی پڑتاہے۔ ہر انسان مجبور یوں ، ضرورتوں اور مفادات کا غلام ہے۔ وہ روز باہر نکلتاہے تاکہ اس جنگل میں اپنی صلاحیت اور حیثیت کے مطابق اپنا حصہ گھر لا سکے۔ صبح ہوتے ہی انسانوں کا ریلا گھروں سے نکلتاہے جو بظاہر تو الگ الگ کام دھندے کرتے نظر آتے ہیں مگر ان سب کے پیچھے ایک مقصد کارفرما ہوتاہے کہ اس انسانوں سے بھرے جنگل میں وہ اپنا حصہ کیسے حاصل کریں۔
    کسی نے کیاخوب کہا ہے کہ ” بندہ بندے دا دارو اے تے بندے ای بندے دا مارو اے ”
    اس کاروبار زندگی میں سب انسان برسرپیکار نظر آتے ہیں. کچھ ایمانداری سے کچھ بے ایمانی سے ، کوئی زور زبردستی اور دھونس دھاندلی سے ، کوئی پیار اخلاق اور رواداری سے کوئی مانگے تانگے سے اپنا اپنا حصہ اکٹھا کرتا پھرتا ہے۔ کسی کو اسکی سوچ کے مطابق، کسی کو کم اور کسی کو اپنی اوقات سے کہیں زیادہ حصہ ملتاہے اور کسی کو لاکھ کوشش کے باوجود بھی کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ جنہیں معقول حصہ ملتاہے وہ صبر شکر کرتے ہیں ،جنہیں کم ملتاہے وہ واویلا مچاتے ہیں. اور کجن کا ہاتھ بڑے حصے پر پڑ جاتا ہے وہ اپنا حصہ لے کرآگے آگے اور جنہیں حصہ نہیں ملتا اُسکے آگے پیچھے چلتے کچھ دُم ہلاتے نظر آتے ہیں کہ شائد کچھ انہیں بھی مل جائے .
    کچھ راہ میں صرف چھینا جھپٹی کے لیے بیٹھے رہتے ہیں ۔اور دوسروں کا حصہ چھین کر اتراتے پھر تے ہیں ۔ کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو کچھ نہیں کرتے مگر اُن کی بڑی دھاک ہوتی ہے اور انہیں اُن کا حصہ اُن کے گھر پہنچ جاتاہے۔

    جن کے پاس اُن کی ضرورت سے کہیں زیادہ جمع ہوجاتاہے اُن کی حوس بھی اُتنی ہی بڑھ جاتی ہے وہ بڑے بڑے کارخانے اور فیکٹریاں بناتے ہیں ۔دولت کو کئی گُنا کرنے کے طریقے اپناتے ہیں ۔ اور دولت اور جائیدادوں کے انبار لگاتے ہیں اورپھر اُن میں سے اکثر خود کو خدا ترس عوام دوست اور سخی ثابت کرنے کے لیے خیراتی ادارے ، ہسپتال اور مفت کھانوں کے دسترخوان بھی سجاتے نظر آتے ہیں۔ مگر اپنے کارخانوں میں کام کرنے والوں کو دو وقت کی روٹی تو دور وقت پر مزدوری تک دینے سے بھی ان کی جان جاتی ہے۔

    رنگ باز کسی رام چوبارے سے، کسی گلی کے نکڑ سے، کسی کھڑکی کے پیچھے سے نیشنل جیوگرافی کے کسی فوٹو گرافر کی طرح سب کا تماشا دیکھ رہا ہوتا ہے کہ کیسے خود کو اشرف المخلوق کہنے والے انسان اپنے حصے کی تلاش میں مارا مارا پھرتاہے۔ کوئی مارا ماری کرتا پھرتاہے ۔کچھ دست گریباں ہیں ۔کچھ کو دووقت کی روٹی میسر نہیں اور کچھ کے پاس دولت کے انبار لگے ہوئے ہیں ۔
    لیکن وہ خود کونسا فرشتا ہوتاہے یا پھر اُس کے لیے کونسا من وسلوا اُترتاہے ۔اُسے بھی پیٹ لگا ہوتاہے ۔اس لئے اسے بھی روزباہر نکلنا پڑتاہے ۔ لوگوں سے ملنا پڑتاہے اپنا حصہ ڈھونڈنا پڑتاہے۔
    لیکن رنگ باز کسی کا حق نہیں مارتا۔ کسی پر ظلم نہیں کرتا بلکہ اپنے فن سے وہ اپنا حصہ کماتاہے ۔رنگ باز ایک ایسا کریکٹر ہے ۔جو ہر معاشرے میں پایا جاتاہے ۔ رنگ باز کی جو تعریف ہم سُنتے آئے ہیں وہ حقیقت میں رنگ باز نہیں بلکہ موقع پر ست کی تعریف ہے ۔
    رنگ باز تو کوئی الگ ہی مخلوق ہے۔وہ زندنگی میں رنگ بھرتاہے ،انسانوں کو ہنساتاہے ، انہیں حیران کرتاہے ، انہیں سوچنے پر مجبور کرنے والا کردارہے ۔ رنگ باز زندگی سے چڑتانہیں ، جھگڑتا نہیں، زندگی سے بھاگتا نہیں بلکہ زندگی کو گلے لگا کر اس کے رنگوں اور اسکے انگوں کا لُطف اُٹھاتاہے ۔اور زندگی سے الجھتے لوگوں بھی رنگ سمیٹنے کی دعوت دیتاہے ۔

    رنگ باز انسانوں کے معاشرے کا وہ کردار ہے جو سب کچھ سمجھتے ہوئے بھی انجان بنا رہتاہے۔ وہ سب کوالُجھا ہوا چھوڑ کر خود اُلجھن سے نکل جاتاہے ۔ رنگ باز ایسا فنکار ہوتاہے جو اپنے فن سے آشنا ہوتاہے لیکن اپنے فن کو بے جاحصہ حاصل کرنے میں ضائع نہیں کرتا۔وہ اُتنا حصہ لیتاہے جتنی اُسکی ضرورت ہوتی ہے۔ رنگ باز ایک الگ ہی طرح کا انسان ہوتاہے ۔اسے انسانوں سے ملنے اُن سے باتیں کرنے انہیں ہنسانے اور کبھی انہیں الجھانے میں زیادہ لُطف آتاہے ۔ کبھی کوئی اسے جوکر کہتاہے ،کوئی مسخرہ سمجھتا ہے کوئی باتونی تو کوئی چول یا پھر جوکر .مگر رنگ باز سب کی سُن کر ہنستا آگے بڑھ جاتاہے ۔

    رنگ باز کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتا مگر اپنی ذہانت اور چکنی چیڑی باتوں سے خود کو تھوڑا بہت فائدہ ضرور پہنچا تاہے ۔ رنگ باز بہت ہی ہنس مکھ، حاضر جواب ،اور صورتحال کے مطابق ڈھلنے والا یا پھر یوں کہیے کہ صورتحال کو اپنے حق میں ڈھالنے کی صلاحیت رکھتاہے۔ مگر وہ موقع پرست نہیں ہوتا بلکہ موقع کا درست استعمال جانتاہے ۔ مفت کے مشورے دینے میں اُس سے بڑھ کر کوئی نہیں ہوتا مگر غلط مشورہ نہیں دیتا۔ کوئی راستہ پوچھ لے تو گھر تک چھوڑ کرآنے میں خوشی محسوس کرتاہے ۔

    لوگ اپنی زندگیوں میں سارا دن اپنے تھوڑے بہت حصے کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں۔ لیکن رنگ باز زندگی کے رنگوں کی تلاش میں پھرتاہے ۔۔ وہ رنگ اکٹھے کرتا ہے بانٹاہے ، بکھیرتاہے ۔اورزندگی میں رنگ بھرتاہے۔کیونکہ اُس کی بھوک بہت کم ہوتی ہے ۔
    وہ لوگوں کی خوشی میں بھی بن بلائے پہنچ جاتاہے تو دُکھ میں بھی۔ چاہے کرسیاں لگوانی ہوں یا کھانا تقسیم کروانا ہووہ سب سے آگے نطر آتاہے ۔ آخرمیں خود بھی پیٹ پھر کر کھانا کھا کر چلتا بنتاہے۔
    لوگ اپنی زندگیوں سے ایسے جونجتے پھر تے ہیں ایسے لڑتے پھرتے ہیں کہ زندگی کے رنگوں کو دیکھنے کی حس کھوبیٹھتے ہیں ۔لیکن رنگ باز نہ صرف خود ان رنگوں سے لطف اندوز ہوتاہے بلکہ اورں کو بھی رنگ بانٹتا اورکبھی آئینہ دکھاتا گزر جاتاہے۔۔ رنگ باز کوڈھونڈنا مشکل نہیں ۔ وہ پہاڑوں کی بلندیوں پر نہیں بستا۔۔ آپ کے ارد گرد ہی کہیں گھومتا پھر تا ہے۔

  • چیئرمین سینیٹ کے خلاف اپوزیشن کی قرارداد جمع

    چیئرمین سینیٹ کے خلاف اپوزیشن کی قرارداد جمع

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد سینیٹ میں جمع کروا دی گئی ہے.

    چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کے لئے اپوزیشن تقسیم، سراج الحق نے باغی ٹی وی سے گفتگو میں کیا کہا؟

    چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کب آئے گی،رہبر کمیٹی نے کر لیا فیصلہ

    آج کے بعد کوئی یہ نہ کہے کہ شہباز شریف کی کمر میں درد ہے، مبشر لقمان نے ایسا کیوں کہا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین سینیٹ کے خلاف اپوزیشن جماعتوں نے قرارداد جمع کروا دی ہے، قرارداد پر اپوزیشن جماعتوں کے اراکین سینیٹ کے دستخط ہیں.متحدہ اپوزیشن کا اجلاس اپوزیشن لیڈر راجہ ظفر الحق کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاؤس کمیٹی روم میں ہوا۔ بعدازاں پاکستان مسلم لیگ (ن) پاکستان پیپلزپارٹی، جمعیت علماء اسلام (ف)، پختونخوا ملی پارٹی، نیشنل پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں راجہ ظفر الحق، شیریں مزاری، مولانا عبدالغفور حیدری، عثمان خان کاکڑ، ستارہ ایاز اورمیر کبیر خان نے چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد اور اجلاس کے لئے سینیٹ سیکرٹری محمد انور کے پاس دوپہر ڈھائی بجے ریکوزیشن جمع کروا دی۔

    نیا چیئرمین سینیٹ کون ہو گا؟ صحافی کے سوال پر آصف زرداری نے دل کی بات بیان کر دی

    سینیٹ کے سیکرٹری کا کہنا ہے کہ تمام ارکان کو قواعد کے مطابق اس بارے میں آگاہ کر دیا جائے گا۔ اجلاس چیئرمین سینیٹ طلب کرینگے۔مسلم لیگ ن کے رہنما جاوید عباسی کے مطابق چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد پر 50 ارکان نے دستخط کئے ہیں۔ اسی طرح ریکوزیشن پر بھی 50 ارکان نے دستخط کئے ہیں۔

    اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس میں جماعت اسلامی نے ایک بار پھر اجلاس میں شریک نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے باغی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپوزیشن کے آج کے اجلاس میں شرکت نہیں کر رہے کیونکہ وہ آبائی علاقہ دیر میں ہیں. باغی ٹی وی کی جانب سے دوسرے سوال کہ کیا آپ چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کے لئے اپوزیشن جماعتوں کا ساتھ دیں گے ؟ پر سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے. جب چیئرمین سینیٹ کے نئے امیدوار کا نام سامنے آئے گا تو پھر ہم مشاورت کے ساتھ فیصلہ کریں گے.

    واضح رہے کہ اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو ہٹانے کا فیصلہ ہوا تھا اور رہبر کمیٹی نے اس فیصلے کی توثیق کی تھی .اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی میں بھی جماعت اسلامی نے شرکت نہیں کی تھی .

    چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کیلئے اپوزیشن جماعتوں کے پاس مطلوبہ اکثریت سے زائد کی تعداد موجود ہے، 104 رکنی ایوان میں سینیٹرز کی موجودہ تعداد 103 میں سے چیئرمین کی نشست کے لئے 53 ارکان کی حمایت درکارہے۔ مسلم لیگ ن کے سینیٹرز کی تعداد 28، پیپلز پارٹی کے 20، نیشنل پارٹی کے 5، جمعیت علماء اسلام ف کے 4، پختونخوا میپ کے 2 اور اے این پی کا ایک رکن شامل ہے۔ ایوان بالا کے قواعد کے مطابق موجودہ چیئرمین (صادق سنجرانی ) کو ہٹانے کے لئے ایک چوتھائی ارکان کے دستخطوں کے ساتھ قرارداد لانے کے لئے تحریک جمع کرائی جائیگی۔ تحریک پر ووٹنگ کے لئے سات روز بعد اجلاس بلایا جائے گا جس میں قرارداد پر ووٹنگ کرائی جائے گی، تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں موجودہ چیئرمین عہدہ چھوڑ دیں گے اور اس کے بعد سینیٹ سیکرٹریٹ نئے چیئرمین کے انتخاب کے لئے شیڈول جاری کرے گا۔

  • سرگودہا کےورلڈسنوکر چیمپئین کا بھرپور استقبال

    سرگودہا کےورلڈسنوکر چیمپئین کا بھرپور استقبال

    سرگودہا(نمائندہ باغی ٹی وی )پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے قطر کی سر زمین پر بھارتی ٹیم کو شکست دے کر وولڈ سنوکر چیمپئین شپ جیتنے والے سرگودہا کے سپوت محمد اسجد سرگودہا پہنچ گئے، جن کا بھرپور استقبال کیا گیا اورسنوکر شائقین نے وولڈ چیمپئین محمد اسجد کے اعزار میں غوثیہ چوک مقام حیات سے جشن ریلی نکالی، جو مختلف شاہراﺅں سے ہوتی ہوئی اسی مقام پر اختتام پذیر ہوئی، ریلی کے شرکاءنے اپنے قومی ہیرو کے ہمراہ شہر بھر کا چکر لگایا، اس موقع پر جگہ جگہ ان پر گل پاشی کی گئی ،اس موقع پر سنوکر چیمپئن محمد اسجد نے مداحوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا نام روشن کر کے بہت خوشی ہو رہی ہے ، بالخصوص روایتی حریف بھارت کو شکست دینے کے یادگار لمحات کو نہیں بھلا سکتا،مگر یہاں حکومتی سطح پر نظر انداز کرنے کا بھی گلہ رہے گا،انہو ں نے کہا کہ کرکٹ کی طرح سنوکر کے کھیل میں بھی پاکستان نمایاں کامیابیاں سمیٹتا آیا ہے مگر کھلاڑیوں کی حکومتی سرپرستی نہ ہونے کی وجہ سے یہ شعبہ زبوں حالی کا شکار ہے مگر اس کے باوجود اپنی مدد آ پ کے تحت ہم سنوکر چیمپئن ہیں،جو کہ ایک طرح کا اعزاز بھی ہے حکومت کو چاہئے کہ وہ سنوکر کھلاڑیوں کی پذیرائی کےلئے بھی اقدامات اٹھائے ۔

  • طالبان اور افغان وفد کے درمیان افغانستان میں قیام امن کے لیے اتفاق

    طالبان اور افغان وفد کے درمیان افغانستان میں قیام امن کے لیے اتفاق

    طالبان اور افغان وفد کے درمیان افغانستان میں قیام امن کے لیے اتفاق ہوگیا.

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق طالبان اور افغان وفد کے درمیان افغانستان میں قیام امن کے لیے اتفاق ہوگیا.
    قطر کے دورالحکومت دوحہ میں قطری حکومت اور جرمنی کی مشترکہ میزبانی میں مسئلہ افغانستان کے حل کے لیے مذاکرات ہوئے جن میں طالبان اور افغان وفود نے شرکت کی۔ بات چیت میں افغان حکومت نے شرکت نہیں کی تاہم اس کے تین نمائندے انفرادی حیثیت میں شریک ہوئے۔ مذاکرات کے دوران افغانستان میں امن کیلئے لائحہ عمل پر اتفاق ہوگیا جسے انتہائی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

    مذاکرات کا مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا گیا کہ افغانستان میں اسلامی اصولوں اور انسانی حقوق کے احترام، ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات نہ دینے، سرکاری اداروں پر حملے نہ کرنے، پرتشدد واقعات میں کمی اور مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ فریقین نے عالمی برادری اور علاقائی و مقامی عناصر پر افغان اقدار کا احترام کرنے کے لیے زور دیا۔

    اعلامیے میں اسلامی اقدار کے عین مطابق خواتین کو سیاسی، سماجی، اقتصادی، تعلیمی اور ثقافتی حقوق دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ سخت بیانات نہ دینے، سرکاری اداروں پر حملے نہ کرنے اور پرتشدد واقعات میں کمی پر اتفاق بھی کیا گیا۔

  • جاوید ہاشمی کی نیب اور حکومت پر شدید تنقید.

    جاوید ہاشمی کی نیب اور حکومت پر شدید تنقید.

    جاوید ہاشمی کی پریس کانفرنس میں نیب اور حکومت پر شدید تنقید.

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق جاوید ہاشمی نے ملتان میں پریس کانفرنس کرتےہوئےکہا کہ عمران خان کی اپنی ایمنسٹی اسکیم بری طرح ناکام ہوگئی،لوگوں نے ان پر عدم اعتماد کا اظہار کیا.:عمران خان کی اپنی ایمنسٹی اسکیم بری طرح ناکام ہوگئی.عمران خان نےخود ایمنسٹی اسکیم پر بھرپور تنقید کی تھی.صادق سنجرانی بھی سلیکٹڈ چیئرمین سینیٹ ہیں.ناہم ایٹم بم بنانیوالےکوبچا سکےنہ ہم ایٹمی دھماکےکرنیوالوں کو بچا سکیں گے،

    میڈایا چینلز پر بات کرتےہوئے کہا کہ حکومت نے چینلز بند کرکے صحافیوں کا معاشی قتل کیا ہے،:نیب کےججز کی تقرری سیاسی بنیادوں پر کی جاتی ہے.یب احتساب نہیں انتقام کا کام کرتا ہے.اب اس حکومت میں نواز شریف کوگھر سےکھانا کھانےپر اعتراض کیاجاتا ہے،:

    جاوید ہاشمی نے مزید کہا کہ میں مشرف کےدوراقتدارمیں جیل کےاندرگھرکاکھاناکھاتاتھا،نیب کو احتساب کرنےکےلیےبنایاہی نہیں گیا.اکتوبرمیں معاشی بحران آرہاہےجس کےبعدسانس لینےپر بھی ٹیکس لگےگا،یہ اپنی معاشی ٹیم چوتھی پانچویں بارتبدیل کر رہے ہیں

  • خوشاب پولیس کی بڑی کاروائی 18 موٹر سائیکل بر آمد

    خوشاب پولیس کی بڑی کاروائی 18 موٹر سائیکل بر آمد

    سرگودہا،خوشاب(نمائندہ باغی ٹی وی )خوشاب. پولیس کی بڑی کارروائی موٹر سائیکل چور صدام گینگ کے چار ارکان گرفتار 18 موٹرسائیکل برآمد ،گینگ کے ارکان محکمہ ایکسائز خوشاب کی ملی بھگت سے چوری شدہ موٹرسائیکل کے جعلی کاغذات تیار کروا کر فروخت کردیتے ،
    ملزمان نے خوشاب سمیت دیگر اضلاع میں کاروائیاں کیں،
    ڈی پی او رانا شعیب کی ہدایت پر ملزمان کی گرفتاری کا خصوصی ٹاسک دیا گیا تھا.
    ایس ایچ اوز اور سی آئی اے نے مشترکہ کاروائی کرکے گینگ کے ارکان کو گرفتار کرکے انکے قبضہ سے چوری شدہ موٹرسائیکلیں برآمد کر لیں،ملزمان میں نوید اختر. اسامہ. عمران. ظہیراور امتیاز شامل ،گزشتہ دو ماہ میں خوشاب پولیس نے منشیات فروشوں کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے 989۔6 کلو گرام ہیروئن، 071۔ 58 کلوگرام چرس
    اور 1603 لیٹر شراب برآمد کرکے 100 مقدمات درج کیے، ناجائز اسلحہ کے خلاف مہم میں 3 کلاشنکوف، 7 رائفل، 18 بندوق 43 پسٹل 2 کاربین اور 311 کارتوس برآمد کرکے 72 مقدمات درج کیے ،اشتہاری ملزمان میں اے کیٹگری کے 10 بی کیٹگری 36 جبکہ 26 عدالتی مفروران کو گرفتار کیا گیا، بہترین کارکردگی پر افسران و ملازمین کو تعریفی سرٹیفکیٹس بھی دیے جائیں گے. ڈی پی او

  • ملک چلانا کرکٹ میچ نہیں، بلاول زرداری کی حکومت پر تنقید

    ملک چلانا کرکٹ میچ نہیں، بلاول زرداری کی حکومت پر تنقید

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ پارلیمان کےاندرسےپارلیمان پرحملہ کیا جا رہا ہے،قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس منسوخ کرنا پارلیمان پرحملہ ہے .

    بلاول کے خلاف بھی ڈگڈگی بجائی جا رہی ہے : قمر الزمان کائرہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بلاول زرداری نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹیوں کا اجلاس ایوان کے اجلاس سے مشروط کرنا پارلیمان پرحملہ ہے، میں پوچھتا ہوں کہ یہ بہانا کیسےبنتا ہے جس سے آپ ہمیں کام سےروک رہے ہیں، اسٹینڈنگ کمیٹی کےبغیر پارلیمان نامکمل ہے.

    محسن داوڑ، علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر کا بلاول نے کیا پھر مطالبہ

    بلاول زرداری نے مزید کہا کہ آج جب کمیٹیوں کےاجلاس سے متعلق نوٹیفکیشن جاری ہوا تواسپیکرڈپٹی اسپیکربیرون ملک ہیں،آج کنٹینروالے پارلیمان کے اندرسے پارلیمان پرحملے کررہے ہیں ،اگرقومی اسمبلی کی کمیٹیوں کوختم کرتے ہیں توخرچہ زیادہ ہوگا کم نہیں،ہم نےکمیٹیوں میں اس بل کی تیاری کرناہوتی ہےجوایوان میں پیش کرنے ہوتے ہیں.

    پی ٹی ایم کی طرف سے چیک پوسٹ پر حملے کی تحقیقاتی رپورٹ آ گئی

    چیک پوسٹ حملہ، پی ٹی ایم رہنما علی وزیر سی ٹی ڈی کے حوالے، پشاور منتقل

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ رولز کے مطابق اسپیکرکمیٹیوں کےاجلاس پرپابندی نہیں لگاسکتے ،یہ خود پارلیمان کونہیں مانتے،ہم سمجھتے ہیں کہ ٹوٹی پھوٹی جمہوریت بھی آمریت سےبہتر ہوتی ہے.حکومت کوسمجھناچاہیے ملک اورپارلیمان کوچلانا کوئی کرکٹ میچ نہیں،یہ تمام اقدامات اس فاشسٹ حکومت کاچہرہ بے نقاب کررہے ہیں،اسپیکرکو فوری طور پرکمیٹیوں کےاجلاسوں سےمتعلق فیصلہ واپس لیناچاہیے

    بلاول اورمریم یہ کام کریں تو ہم ساتھ دیں گے…….عوامی نیشنل پارٹی نے نیا مطالبہ کر دیا