Baaghi TV

Blog

  • چیئرمین پی ٹی وی کی تعیناتی عمران خان  نے کس وزیر کے اعتراض پر روک دی؟ بڑی خبر آ گئی

    چیئرمین پی ٹی وی کی تعیناتی عمران خان نے کس وزیر کے اعتراض پر روک دی؟ بڑی خبر آ گئی

    وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کی طرف سے اعتراض کئے جانے پر چئیرمین پی ٹی وی کی سمری پر وزیراعظم عمران خان نے دستخط نہیں کیے جس پر یہ تعیناتی روک دی گئی ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین پی ٹی وی کی تعیناتی کے لئے ارشد خان کو نامزد کیا گیا تھا تاہم ان کے نام پر وفاقی وزیرسائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے اعتراض اٹھا دیا جس پر وزیر اعظم کی جانب سے دستخط نہ کرنے پر چیئرمین پی ٹی وی کی تعیناتی روک دی گئی ہے۔

    یاد رہے کہ ارشد خان سے متعلق سرکلر سمری وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کو بھیجی گئی تاہم فواد چوہدری نے اختلافی نوٹ کے ساتھ اسے واپس بھیجوا دیا گیا، فواد چوہدری کے اعتراض کے بعد چیئرمین پی ٹی وی کی سمری واپس لے لی گئی اور سمری پر وزیراعظم عمران خان نے بھی دستخط نہیں کیے۔

    بتایا جارہا ہے کہ چئیرمین پی ٹی وی کی سمری اب دوبارہ کابینہ میں پیش کی جائے گی۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ارشد خان کے چیئرمین پی ٹی وی تعینات ہونے کے امکانات اب بہت کم ہیں اور یہ کی کسی اور شخص کو پی ٹی وی کا چیئرمین تعینات کیا جائے گا.

  • قرضوں پر انکوائری کمیشن کا فیصلہ، ریحام خان نے ایسے چھبتے سوال پوچھ  لئے کہ ن لیگی خوش ہو گئے

    قرضوں پر انکوائری کمیشن کا فیصلہ، ریحام خان نے ایسے چھبتے سوال پوچھ لئے کہ ن لیگی خوش ہو گئے

    وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے 2008 سے لیکر 2018 تک لئے گئے بیرونی قرضوں سے متعلق انکوائری کمیشن بنانے کا اعلان کئے جانے پر ریحام خان نے ٹویٹر پر چھبتے ہوئے سوال کئے ہیں اور اس فیصلے پر سخت تنقید کی ہے.

    وزیر اعظم عمران خان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان نے سوشل میڈیا سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سابقہ حکومتوں نے جو دس سال میں قرضے لیے ہیں اس پرتو انکوائری کمیشن بنانے کا اعلان کیا گیا ہے مگر جو 10 ماہ میں 3 ہزار ارب روپے سے زیادہ قرضے لیے گئے ان کے لیے انکوائری کمیشن کون بنائے گا؟؟۔ اسی طرح ریحام خان نے اپنی دوسری ٹویٹ‌ میں‌ لکھا ہے کہ "جس پی ٹی وی پر حملہ کیا گیا تھا اس نے بھی کل وزیراعظم سے خوب بدلہ چکایا ہے‘‘.


    رپورٹ کے مطابق ریحام خان کی طرف سے اپنے تیسرے ٹویٹ میں لکھا گیا کہ ’’اینکرز کو پہلے میوٹ کیا جاتا ہے، کل تو ملکی تاریخ میں پہلی بار سرکاری ٹی وی پر وزیراعظم کے الفاظ کو بھی میوٹ ہوتے دیکھا ہے، ویسے تو وزیراعظم قول و فعل میں تضاد کے بادشاہ تھے۔مگر کل تو حد ہی ہو گئی ، کل سرکاری ٹی وی میں بھی زبان اور الفاظ ساتھ دے نہیں رہے تھے۔

    وزیر اعظم عمران خان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان کی طرف سے کی گئی ان ٹویٹس پر مسلم لیگ ن کے کارکنان کی طرف سے سوشل میڈیا پر زبردست خوشی کا اظہار کیا جارہا ہے. یاد رہے کہ وزیر اعظم نواز شریف نے گزشتہ روز اپنے خطاب میں‌ انکوائری کمیشن بنانے کا اعلان کیا اور کہا تھا کہ وہ کسی طور چوروں‌کو نہیں چھوڑیں گے جبکہ آج وزیر اعظم کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس میں انکوائری کمیشن بنانے سے متعلق امور پر غوروفکر کیا گیا ہے. مسلم لیگ ن نے کمیشن بنائے جانے کی باتوں کو اپوزیشن جماعتوں‌ کو بلیک میل کرنے کے مترادف قرار دیا ہے.

  • حکومت نے بی این پی مینگل کی ایسی کونسی شرائط تسلیم کر لیں‌ کہ اتحاد ٹوٹنے کا خطرہ ٹل گیا؟ بڑی خبر آ گئی

    حکومت نے بی این پی مینگل کی ایسی کونسی شرائط تسلیم کر لیں‌ کہ اتحاد ٹوٹنے کا خطرہ ٹل گیا؟ بڑی خبر آ گئی

    پی ٹی آئی حکومت نے بلوچستان نیشل پارٹی کی بلوچستان میں توانائی، ڈیم اور سڑکیں تعمیر کرنے کی شرائط مان لی ہیں‌ اور وفاقی حکومت بی این پی مینگل کو میگا پراجیکٹس کے لئے فنڈز دینے کیلئے بھی رضامند ہو گئی ہے. بی این پی کی شرائط تسلیم کئے جانے پر بی این پی مینگل وفاقی حکومت کی بجٹ منظوری میں حمایت کرے گی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق وفاقی حکومت اور بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے مابین معاملات وزیر اعظم آفس میں‌ ہونے والی ملاقات میں طے پاگئے ہیں. حکومت کی جانب سے وفد میں پرویز خٹک، قاسم سوری، خسرو بختیار اور ارباب شہزاد شریک ہوئے جبکہ بی این پی کے اختر مینگل، جہانزیب جمالدینی، ہاشم نوتیرئی اور عاصم بلوچ نے شرکت کی. اس دوران بی این پی اور حکومتی عہدیداران سے ہونےو الے مذاکرات سے وزیر اعظم عمران خان کو مکمل طور پر آگاہ رکھا گیا.

    مذاکرات کے دوران اتفاق رائے سے طے پایا ہے کہ قاسم سوری، پرویز خٹک اور ارباب شہزاد پر مشتمل کمیٹی طے پانے والی شرائظ پر عملدرآمد کرائے گی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان بلوچستان سمیت تمام پسماندہ علاقوں کو ترقی دیں گے. حکومتی ذمہ داران اور بی این پی وفد کے مابین اس سلسلہ میں‌ پہلی ملاقات آج دوپہر پارلیمنٹ لاجز میں‌ ہوئی جبکہ دوسری ملاقات رات آٹھ بجے وزیراعظم آفس میں ہوئی۔ حکومت اور بی این پی مینگل کے درمیان مذاکرات پر وزیراعظم کو آگاہ رکھا گیا۔ واضح رہے کہ بی این پی مینگل گروپ کچھ عرصہ سے ناراض تھا جسے آج منا لیا گیا ہے. اب وہ بجٹ کی منظوری کے حوالہ سے حکومت کی حمایت کریں‌ گے.

  • تمہیں دین اور مذہب کا نہیں معلوم تو بونگی نہ مارا کرو، مولانا فضل الرحمن عمران خان پر برس پڑے

    تمہیں دین اور مذہب کا نہیں معلوم تو بونگی نہ مارا کرو، مولانا فضل الرحمن عمران خان پر برس پڑے

    جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے وزیراعظم عمران خان پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمہیں دین اور مذہب کا نہیں معلوم تو بونگی نہ مارا کرو. حقیقت ہے کہ اس بچارے کو بھی اپنی تقریر پر قدرت نہیں ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق یہ کونسا وقت ہے قوم سے خطاب کرنے کا؟. رات کے12 بجے تقریر کرنا یہ کون سی بات ہے؟. ان کا کہنا تھا کہ ہم سلاخوں کے پیچھے جانے سے گھبرانے والے نہیں ہیں. سلاخوں کے پیچھے رہنے سے موقف مضبوط ہوتا ہے

    کراچی میں‌ گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ ایمپائر کوئی نہیں ہے، ایمپائر ہم ہیں. واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے رات بارہ بجے قوم سے خطاب کرنے پر دیگر کئی لیڈروں کی جانب سے بھی تنقید کی جارہی ہے.

  • عمران خان اپنے ذاتی اخراجات خود برداشت کر رہے ہیں، مقامی اخبار کی خبر گمراہ کن ہے. وزارت خزانہ

    عمران خان اپنے ذاتی اخراجات خود برداشت کر رہے ہیں، مقامی اخبار کی خبر گمراہ کن ہے. وزارت خزانہ

    وزارت خزانہ نے 12 جون 2019ء کو ایکسپریس ٹریبیون میں چھپنے والی خبر کو گمراہ کن قرار دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم آفس کا بجٹ برائے مالی سال 2019-20ءکو ایک ارب 17 کروڑ ہے جو کہ گزشتہ بجٹ کے مقابلے میں 19 فیصد زیادہ ہے، وزارت خزانہ نے اس خبر کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم آفس کے بجٹ میں دیگر اداروں کے بجٹ کو ظاہر کرتے ہوئے معاملے کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی ہے جو کہ موجودہ حکومت کی کفایت شعاری مہم کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ حقیقت میں وزیراعظم آفس کا بجٹ برائے مالی سال 2019-20ءچھیاسی کروڑ 28 لاکھ روپے ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کا بجٹ 30 کروڑ 90 لاکھ روپے ہے اور ان دونوں رقوم کا مجموعہ ایک ارب 17 کروڑ روپے ہی بنتا ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق وفاقی بجٹ 2019ءجلد اول (جاری اخراجات) صفحہ نمبر 302 سے صفحہ نمبر 310 تک رجوع کیا جا سکتا ہے۔ صفحہ نمبر 303 سے صفحہ نمبر 308 تک وزیراعظم آفس کے بجٹ کی تفصیلات موجود ہیں جبکہ صفحہ نمبر 308 اور 309 پر این ڈی ایم اے کا بجٹ درج ہے لہذا محکمہ خزانہ نے اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ وزیراعظم آفس کے بجٹ میں این ڈی ایم اے کے بجٹ کو ملا کر عوام کو گمراہ نہ کیا جائے۔

    وزارت خزانہ کی پریس ریلیز میں‌ کہا گیا ہے کہ این ڈی ایم اے وزیراعظم آفس کا ماتحت ادارہ ہے لہذا ان دونوں کے بجٹ کو آپس میں ملایا نہ جائے۔ مزید برآں وزارت خزانہ نے اس بات کی وضاحت کی کہ مالی سال 2018-19ءکے لئے مختص شدہ بجٹ برائے وزیراعطم آفس تقریباً ایک ارب 11 کروڑ روپے تھا۔ وزیراعظم کی کفایت شعاری مہم کی وجہ سے وزیراعطم آفس نے صرف 75 کروڑ روپے کے اخراجات کر کے موجودہ مالی سال میں 32 فیصد اخراجات کی بچت کی ہے۔ وزیراعظم آفس کا نئے مالی سال برائے 2019-20ءکا بجٹ 86 کروڑ 28 لاکھ روپے ہے جو کہ پچھلے مالی سال کے بجٹ کے مقابلے میں 13 فیصد کم ہے۔

    وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ اگر ماضی میں وزیراعظم آفس کے اخراجات کا جائزہ لیا جائے تو مالی سال 2019-20ءکا بجٹ سابقہ مالی سال 2014-15ءکے بجٹ سے بھی کم ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے اور کابینہ کی تمام صوابدیدی اختیارات کا خاتمہ کرتے ہوئے وزیراعظم آفس سے سب سے پہلے 6 کروڑ روپے کے صوابدیدی فنڈزختم کئے۔ اگلے مالی سال کے لئے وفاقی حکومت کے جاری اخراجات کو 480 ارب روپے سے کم کر کے 431 ارب روپے پر مختص کیا گیا ہے۔ ایک اور غیر معمولی مثال فوجی بجٹ کو گزشتہ سال کے بجٹ پر منجمند کرنا ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ وزیراعظم ہاﺅس کے اخراجات کا براہ راست وزیراعظم کی ذات سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ اپنی ذات سے متعلقہ اخراجات وزیراعظم خود برداشت کر رہے ہیں۔

    یاد رہے کہ ایکسپریس ٹریبیون نے خبر دی تھی جس میں‌ کہا گیا تھا کہ وزیراعظم آفس کا بجٹ برائے مالی سال 2019-20ءکو ایک ارب 17 کروڑ ہے جو کہ گزشتہ بجٹ کے مقابلے میں 19 فیصد زیادہ ہے. اس خبر پر وزارت خزانہ کی طرف سے یہ وضاحت جاری کی گئی ہے.

  • باؤلنگ اور بیٹنگ کمزور رہی، اگر اوپر ٹھیک پارٹنر شپ لگ جاتی تو نتیجہ مختلف ہوتا. سرفراز احمد

    باؤلنگ اور بیٹنگ کمزور رہی، اگر اوپر ٹھیک پارٹنر شپ لگ جاتی تو نتیجہ مختلف ہوتا. سرفراز احمد

    پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے کہا ہے کہ وکٹ دو سو ستر ، دو سو اسی کا تھا تاہم ہم نے اچھے ایریا میں بولنگ نہیں کی.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق سرفراز احمد نے کہاکہ اگر اوپر ٹھیک پارٹنر شپ لگ جاتی تو نتیجہ مختلف ہوتا. ہماری طرف سے شروع کے 30 اوورز میں بولنگ ٹھیک نہیں تھی. اسی طرح ہم شروع کے15 اوورز اچھا نہیں کھیلے.

    یاد رہے کہ ورلڈ کپ کے اہم میچ میں آسٹریلیا نے پاکستان کو41رنز سے شکست دے دی ہے. آسٹریلیا نے 49 اوورزمیں 307 رنزبنائے. ڈیوڈ وارنرنے 107 رنزکی شانداراننگزکھیلی. ایرون فنچ 82 ، شان مارش 23 اور گلین میکسویل نے 20 رنزبنائے. پاکستانی ٹیم کی طرف سے امام الحق 53 رنز بناکر نمایاں رہے، محمد حفیظ 46 اور وہاب ریاض 45 رنز بناکر آؤٹ ہوئے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا کے خلاف بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستانی ٹیم شدید مشکلات سے دوچار رہی . پاکستان کی پہلی اننگز 2 سکور پر گر گئی تھی اور پاکستانی اوپنر فخر زمان بغیر کوئی رن بنائے پیٹ کیومنز کی گیند پرکیچ آؤٹ ہو گئے تھے. پاکستان کی دوسری وکٹ 56 سکور پر گری جب بابر اعظم 30 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے. پاکستان کی ٹیم 45.4 اوورز میں 266 رنز بناسکی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ورلڈ کپ کے اہم میچ میں‌ پاکستان کے خلاف آسٹریلیا نے پچاس اوور کے اختتام پر 307 رنز بنائے تھے.
    پاکستانی فیلڈر نے اس انتہائی اہم میچ میں انتہائی ناقص فیلڈنگ کی ہے اور چار کیچ چھوڑے . کھلاڑی آصف علی نے تین کیچز جبکہ ایک کیچ سرفرازاحمد نہیں پکڑ سکے. کینگروز کو پہلا نقصان 146 رنز پر ہوا جب ایرون فنچ 82 رنز بنا کر محمد عامر کی گیند پر حفیظ کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔ دونوں بلے بازوں نے دباؤ میں آئے بغیر جارحانہ انداز اپنایا اور گراؤنڈ کے چاروں اطراف دلکش اسٹروکس کھیلتے ہوئے کریز پر موجود ہیں۔

    قومی ٹیم میں ایک اور آسٹریلوی ٹیم میں 2 تبدیلیاں کی گئی ہیں، اسپنر شاداب خان کی جگہ فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی گرین شرٹس میں شامل ہیں، جب کہ انجری کے شکار مارکس اسٹوئنس اور ایڈم زمپا کی جگہ شان مارش اور کین رچرڈسن کو گیارہ رکنی آسٹریلوی ٹیم کا حصہ بنایا گیا ہے۔

    ٹاؤنٹن میں کھیلے جانے والے میچ میں محکمہ موسمیات کی جانب سے ایک بار پھر بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے. اب تک ایونٹ میں 3 میچز بارش کی وجہ سے منسوخ ہوچکے ہیں جس میں سے ایک میچ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان کھیلا جانا تھا۔ دونوں ٹیموں نے اب تک ٹورنامنٹ میں 3،3 میچز کھیلے ہیں، پاکستان کو پہلے میچ میں ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم انگلینڈ سے مقابلے میں قومی ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور انگلینڈ کو شکست دی جبکہ سری لنکا کے ساتھ کھیلا جانے والا میچ بارش کی وجہ سے منسوخ کردیا گیا تھا۔ دوسری جانب آسٹریلیا نے پہلے میچ میں افغانستان اور دوسرے میچ میں ویسٹ انڈیز کو شکست دی تھی تاہم تیسرے میچ میں بھارت کے ہاتھوں کینگروز کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

  • چیئرمین نیب مبینہ ویڈیو سکینڈل، ادارے کی ساکھ مجروح‌ ہوئی، پیمرا نے نیوز ون کو 10  لاکھ روپے جرمانہ کر دیا

    چیئرمین نیب مبینہ ویڈیو سکینڈل، ادارے کی ساکھ مجروح‌ ہوئی، پیمرا نے نیوز ون کو 10 لاکھ روپے جرمانہ کر دیا

    پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے نیوز ون چینل کو 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا ہے. نیوز ون نے چیئرمین نیب مبینہ سکینڈل کی ویڈیو نشر کی تھی.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کی طرف سے جاری کردہ پریس ریلیز میں‌ کہا گیا ہے کہ چینل نیوز ون نے 23 مئی 2019 کو چیئرمین نیب کی کردار کشی پر مبنی مواد نشر کرکے ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جس پر نیوز ون چینل کو 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جاتا ہے.

    واضح رہے کہ نیوز ون نے 23 مئی کو بعض ویڈیوز اور ایک ٹیلی فون کال کی ریکارڈنگ نشر کی تھی اور دعویٰ کیا گیا تھا کہ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال مبینہ طور پر ایک خاتون کو ہراساں کر رہے ہیں۔ اس ویڈیو کے بعد نیب کی جانب سے جب وضاحت کی گئی تو نیوز ون نے اپنی خبر پر معافی مانگ لی تھی تاہم یہ معاملہ سوشل میڈیا پر بہت زیادہ وائرل ہوا. نیوز ون کی اس خبر کے بعد بعد ازاں وہ خاتون بھی سامنے آگئی جس نے چیئرمین نیب کی ویڈیوز ریکارڈ کی تھیں. مذکورہ خاتون کی شناخت طیبہ فاروق کے نام سے ہوئی جس کے بارے میں نیب نے بتایا کہ ان کے خلاف مختلف شہروں میں 42 مقدمات درج ہیں۔

    نیوز ون کی اس خبر کے بعد مختلف جماعتوں اور شخصیات کی جانب سے نیب سے متعلق سخت بیانات دیے گئے اور چیئرمین نیب کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا. سوشل میڈیا پر خاص طور پر اس معاملہ کو بہت زیادہ اچھالا گیا.

  • آسٹریلیا نے پاکستان کو 41 رنز سے شکست دے دی، ناقص فیلڈنگ اور کمزور بیٹنگ شکست کا سبب بنی

    آسٹریلیا نے پاکستان کو 41 رنز سے شکست دے دی، ناقص فیلڈنگ اور کمزور بیٹنگ شکست کا سبب بنی

    ورلڈ کپ کے اہم میچ میں آسٹریلیا نے پاکستان کو41رنز سے شکست دے دی ہے. آسٹریلیا نے 49 اوورزمیں 307 رنزبنائے. ڈیوڈ وارنرنے 107 رنزکی شانداراننگزکھیلی. ایرون فنچ 82 ، شان مارش 23 اور گلین میکسویل نے 20 رنزبنائے. پاکستانی ٹیم کی طرف سے امام الحق 53 رنز بناکر نمایاں رہے، محمد حفیظ 46 اور وہاب ریاض 45 رنز بناکر آؤٹ ہوئے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا کے خلاف بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستانی ٹیم شدید مشکلات سے دوچار رہی . پاکستان کی پہلی اننگز 2 سکور پر گر گئی تھی اور پاکستانی اوپنر فخر زمان بغیر کوئی رن بنائے پیٹ کیومنز کی گیند پرکیچ آؤٹ ہو گئے تھے. پاکستان کی دوسری وکٹ 56 سکور پر گری جب بابر اعظم 30 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے. پاکستان کی ٹیم 45.4 اوورز میں 266 رنز بناسکی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ورلڈ کپ کے اہم میچ میں‌ پاکستان کے خلاف آسٹریلیا نے پچاس اوور کے اختتام پر 307 رنز بنائے تھے.
    پاکستانی فیلڈر نے اس انتہائی اہم میچ میں انتہائی ناقص فیلڈنگ کی ہے اور چار کیچ چھوڑے . کھلاڑی آصف علی نے تین کیچز جبکہ ایک کیچ سرفرازاحمد نہیں پکڑ سکے. کینگروز کو پہلا نقصان 146 رنز پر ہوا جب ایرون فنچ 82 رنز بنا کر محمد عامر کی گیند پر حفیظ کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔ دونوں بلے بازوں نے دباؤ میں آئے بغیر جارحانہ انداز اپنایا اور گراؤنڈ کے چاروں اطراف دلکش اسٹروکس کھیلتے ہوئے کریز پر موجود ہیں۔

    قومی ٹیم میں ایک اور آسٹریلوی ٹیم میں 2 تبدیلیاں کی گئی ہیں، اسپنر شاداب خان کی جگہ فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی گرین شرٹس میں شامل ہیں، جب کہ انجری کے شکار مارکس اسٹوئنس اور ایڈم زمپا کی جگہ شان مارش اور کین رچرڈسن کو گیارہ رکنی آسٹریلوی ٹیم کا حصہ بنایا گیا ہے۔

    ٹاؤنٹن میں کھیلے جانے والے میچ میں محکمہ موسمیات کی جانب سے ایک بار پھر بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے. اب تک ایونٹ میں 3 میچز بارش کی وجہ سے منسوخ ہوچکے ہیں جس میں سے ایک میچ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان کھیلا جانا تھا۔ دونوں ٹیموں نے اب تک ٹورنامنٹ میں 3،3 میچز کھیلے ہیں، پاکستان کو پہلے میچ میں ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم انگلینڈ سے مقابلے میں قومی ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور انگلینڈ کو شکست دی جبکہ سری لنکا کے ساتھ کھیلا جانے والا میچ بارش کی وجہ سے منسوخ کردیا گیا تھا۔ دوسری جانب آسٹریلیا نے پہلے میچ میں افغانستان اور دوسرے میچ میں ویسٹ انڈیز کو شکست دی تھی تاہم تیسرے میچ میں بھارت کے ہاتھوں کینگروز کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

  • ورلڈ کپ، پاکستانی ٹیم کے 265 سکور پر 9 آؤٹ، آسٹریلیا کی فتح یقینی

    ورلڈ کپ، پاکستانی ٹیم کے 265 سکور پر 9 آؤٹ، آسٹریلیا کی فتح یقینی

    ورلڈ کپ کے اہم میچ میں آسٹریلیا کے خلاف بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستانی ٹیم شدید مشکلات سے دوچار ہے اور اس کے نو کھلاڑی آؤٹ ہو گئے ہیں. میچ کی بتیس گیندیں‌ باقی ہیں‌ اور پاکستان کو فتح کیلئے 43 رنز درکار ہیں. پاکستان کی پہلی اننگز 2 سکور پر گر گئی تھی اور پاکستانی اوپنر فخر زمان بغیر کوئی رن بنائے پیٹ کیومنز کی گیند پرکیچ آؤٹ ہو گئے تھے. پاکستان کی دوسری وکٹ 56 سکور پر گری جب بابر اعظم 30 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ورلڈ کپ کے اہم میچ میں‌ پاکستان کے خلاف آسٹریلیا نے پچاس اوور کے اختتام پر 307 رنز بنائے تھے.
    پاکستانی فیلڈر نے اس انتہائی اہم میچ میں انتہائی ناقص فیلڈنگ کی ہے اور چار کیچ چھوڑے . کھلاڑی آصف علی نے تین کیچز جبکہ ایک کیچ سرفرازاحمد نہیں پکڑ سکے. کینگروز کو پہلا نقصان 146 رنز پر ہوا جب ایرون فنچ 82 رنز بنا کر محمد عامر کی گیند پر حفیظ کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔ دونوں بلے بازوں نے دباؤ میں آئے بغیر جارحانہ انداز اپنایا اور گراؤنڈ کے چاروں اطراف دلکش اسٹروکس کھیلتے ہوئے کریز پر موجود ہیں۔

    قومی ٹیم میں ایک اور آسٹریلوی ٹیم میں 2 تبدیلیاں کی گئی ہیں، اسپنر شاداب خان کی جگہ فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی گرین شرٹس میں شامل ہیں، جب کہ انجری کے شکار مارکس اسٹوئنس اور ایڈم زمپا کی جگہ شان مارش اور کین رچرڈسن کو گیارہ رکنی آسٹریلوی ٹیم کا حصہ بنایا گیا ہے۔

    ٹاؤنٹن میں کھیلے جانے والے میچ میں محکمہ موسمیات کی جانب سے ایک بار پھر بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے. اب تک ایونٹ میں 3 میچز بارش کی وجہ سے منسوخ ہوچکے ہیں جس میں سے ایک میچ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان کھیلا جانا تھا۔ دونوں ٹیموں نے اب تک ٹورنامنٹ میں 3،3 میچز کھیلے ہیں، پاکستان کو پہلے میچ میں ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم انگلینڈ سے مقابلے میں قومی ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور انگلینڈ کو شکست دی جبکہ سری لنکا کے ساتھ کھیلا جانے والا میچ بارش کی وجہ سے منسوخ کردیا گیا تھا۔ دوسری جانب آسٹریلیا نے پہلے میچ میں افغانستان اور دوسرے میچ میں ویسٹ انڈیز کو شکست دی تھی تاہم تیسرے میچ میں بھارت کے ہاتھوں کینگروز کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

  • ورلڈ کپ، پاکستانی ٹیم کے 264 پر آٹھ کھلاڑی آؤٹ ہو گئے

    ورلڈ کپ، پاکستانی ٹیم کے 264 پر آٹھ کھلاڑی آؤٹ ہو گئے

    ورلڈ کپ کے اہم میچ میں آسٹریلیا کے خلاف بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستانی ٹیم شدید مشکلات سے دوچار ہے اور اس کے آٹھ کھلاڑی آؤٹ ہو گئے ہیں. میچ کی پینتیس گیندیں‌ باقی ہیں‌ اور پاکستان کو فتح کیلئے 44 رنز درکار ہیں. پاکستان کی پہلی اننگز 2 سکور پر گر گئی تھی اور پاکستانی اوپنر فخر زمان بغیر کوئی رن بنائے پیٹ کیومنز کی گیند پرکیچ آؤٹ ہو گئے تھے. پاکستان کی دوسری وکٹ 56 سکور پر گری جب بابر اعظم 30 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ورلڈ کپ کے اہم میچ میں‌ پاکستان کے خلاف آسٹریلیا نے پچاس اوور کے اختتام پر 307 رنز بنائے تھے.
    پاکستانی فیلڈر نے اس انتہائی اہم میچ میں انتہائی ناقص فیلڈنگ کی ہے اور چار کیچ چھوڑے . کھلاڑی آصف علی نے تین کیچز جبکہ ایک کیچ سرفرازاحمد نہیں پکڑ سکے. کینگروز کو پہلا نقصان 146 رنز پر ہوا جب ایرون فنچ 82 رنز بنا کر محمد عامر کی گیند پر حفیظ کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔ دونوں بلے بازوں نے دباؤ میں آئے بغیر جارحانہ انداز اپنایا اور گراؤنڈ کے چاروں اطراف دلکش اسٹروکس کھیلتے ہوئے کریز پر موجود ہیں۔

    قومی ٹیم میں ایک اور آسٹریلوی ٹیم میں 2 تبدیلیاں کی گئی ہیں، اسپنر شاداب خان کی جگہ فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی گرین شرٹس میں شامل ہیں، جب کہ انجری کے شکار مارکس اسٹوئنس اور ایڈم زمپا کی جگہ شان مارش اور کین رچرڈسن کو گیارہ رکنی آسٹریلوی ٹیم کا حصہ بنایا گیا ہے۔

    ٹاؤنٹن میں کھیلے جانے والے میچ میں محکمہ موسمیات کی جانب سے ایک بار پھر بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے. اب تک ایونٹ میں 3 میچز بارش کی وجہ سے منسوخ ہوچکے ہیں جس میں سے ایک میچ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان کھیلا جانا تھا۔ دونوں ٹیموں نے اب تک ٹورنامنٹ میں 3،3 میچز کھیلے ہیں، پاکستان کو پہلے میچ میں ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم انگلینڈ سے مقابلے میں قومی ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور انگلینڈ کو شکست دی جبکہ سری لنکا کے ساتھ کھیلا جانے والا میچ بارش کی وجہ سے منسوخ کردیا گیا تھا۔ دوسری جانب آسٹریلیا نے پہلے میچ میں افغانستان اور دوسرے میچ میں ویسٹ انڈیز کو شکست دی تھی تاہم تیسرے میچ میں بھارت کے ہاتھوں کینگروز کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ انگلینڈ کو شکست دینے کے سبب پاکستانی ٹیم کے حوصلے بلند ہیں اور وہ مضبوط عزم کے ساتھ میدان میں اتری ہے.