لالیاں(رانا محمد اکرام اللہ سے) آسمان گرا نہ زمین پھٹی کانڈیوال کے علاقہ موضع مونگی تھلی 75 سالہ شخص محمد اشرف مغل کو بڑی بے دردی سے ٹریکڑ کے پیچھے لگے روٹا ویٹر سے کچل ڈالا۔محمد اشرف موقع پر جانبحق۔
تفصیلات کے مطابق زمینی تنازع پر گزشتہ رات ملزمان زوالفقار ولد جھلو۔حاکم علی ولد مانک عبدالجبار ولد ماسٹر سارنگ نے بزرگ شخص محمد اشرف کو بڑی بے دردی سے روٹاویٹر سے کچل دیا۔جو کہ موقع پر ہی جابحق ہو گیا۔جبکہ ملزمان موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے ٹی ایچ کیو ہسپتال لالیاں منتقل کیا گیا۔ تھانہ کانڈیوال مصروف تفتیش ہے۔
یہاں ایک بات آپ کو بتاتے چلیں کہ ڈی ایس پی لالیاں کے وکلاء سے مسئلے کے بعد بھی تیور نہی بدلے۔دوران کوریج ٹی ایچ کیو میں ڈی ایس پی لالیاں کا میڈیا نمائندگان سے نامناسب رویہ۔
Blog
-

ٹریکڑ کے پیچھے لگے روٹا ویٹر سے کچل ڈالا
-

تحریک انصاف کا بجٹ بم ۔۔۔ کپتان اجازت دے تو تھوڑا سا گھبرا لیں … نوید شیخ
یہ بات ہی غلط ہے کہ عمران حکومت نے یہ اپنا پہلا بجٹ پیش کیا ہے۔ دو اضافی منی بجٹوں سے تحریک انصاف اس قوم کو پہلے ہی نواز چکی ہے۔جن کے ثمرات سے ہم رمضان اور عید پر استفادہ حاصل کرچکے ہیں. اس میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ یہ آئی ایم ایف کا بجٹ ہے جو صرف اردو زبان میں پیش کیا گیا ہے۔
سب سے پہلے بات کر لیتے ہیں۔ کہ جب سے عمران خان اقتدار میں آئیں ہیں انھوں نے کیا تیرچلائے ہیں اور کتنے پیسے اکٹھے کر لیے ہیں۔ حالت یہ ہے کہ حکومت اقتصادی سروے کے تقریباً تمام اہداف حاصل کرنے میں مکمل فیل ہو گئی ہے۔ یہ وہ کارکردگی ہے جس کے بلند وبانگ دعوے کیے جاتے تھے ۔ اور اب بھی کیے جارہے ہیں۔ اس نئے بجٹ میں ہر چیز پر نئے ٹیکس لاگوکر دیے گئے ہیں۔ شاید ہی کوئی چیز بچی ہو جو ٹیکسوں سے مستثنی ہو۔ چلیں سگریٹ، مشروبات، سی این جی، ایل این جی، سیمنٹ اور گاڑیوں پر عائد ٹیکسز کی شرح میں اضافہ توشاید یہ سوچ کر کیا گیا ہو کہ یہ سب عیاشی کے زمرے میں آتی ہیں۔ اور اس ملک میں عیاشی صرف حکومت اور وزیروں کا ہی حق ہے ۔ مگرتبدیلی کے دعوے داروں نے کوکنگ آئل، گھی، چینی پر ٹیکسوں میں اضافہ کرکے ثابت کردیا۔ کہ تبدیلی سرکار بھی گزشتہ حکومتوں کی طرح ہی عوام دشمن اور غریب دشمن ہے ۔

مزید پڑھیے : عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ
عمران خان کی نظر میں چینی اتنی بڑی عیاشی ہے کہ اس پرعائد 8 فیصد سیلز ٹیکس کو بڑھا کر 17 فیصدکردیا گیا ہے۔ جس سے چینی کی فی کلو گرام قیمت میں ساڑھے 3 روپے سے زائد کا اضافہ ہونے کی نوید ہے۔ ایسا ہوناہی تھا۔اس عوام کا مقدر ہی ایسا ہے جب حکومت بنی ہی شوگرمافیا کی مدد سے ہو ۔ جب شوگرمافیانااہلی کے باوجود کابینہ اجلاسوں میں ڈھٹائی سے بیٹھتی ہو۔ تو عوامی استعمال کی اشیاء پر ہی ٹیکس لگائے جاتے ہیں مافیاز پر نہیں ۔ چکن، مٹن اور مچھلی کی سیمی پروسسڈ اور ککڈ اشیاء پر 17 فیصد سیلز ٹیکس تجویز کیا گیا ہے۔ کیونکہ غریب تو کھاتا ہی دال سبزی ہے ۔ گو شت تو امیروں کے چونچنلے ہیں۔ سو اچھا ہی ہوا اس پر ٹیکس لگا دیا گیا ۔ حکومت نے دودھ، بالائی، خشک اور بغیر فلیور والے دودھ پر بھی 10 فیصد ٹیکس تجویز کیا ہے۔ یہ بھی لگثرری ایٹمز ہیں ۔غریبوں کی پہنچ سے تو یہ پہلے ہی بہت دورہیں۔

مزید بڑھیے: عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ
حکومت نے ہزار سی سی اور اس سے چھوٹی گاڑیو ں پر 2.5فیصد ٹیکس عائد کرکے بھی احسن اقدام کیا ہے۔ کیونکہ گاڑی تو صرف امیر بندہ ہی رکھ سکتا ہے۔مگر متوسط طبقہ پتہ نہیں کیوں اس فیصلے پر تڑپ اُٹھا ہے۔ عام آدمی پیدل چلے ، سائیکل رکھے ، موٹرسائیکل چلائے گاڑی سے اس کا کیا لینا دینا۔ حکومت کا یہ بہت اچھا فیصلہ ہے ۔ اس ملک میں تمام حقوق صرف امیروں کے لیے ہیں ۔ اسی لیے تو مہنگی اور بڑی بڑی گاڑیوں پر ٹیکس میں کمی کر کے امیر افراد کو مزید فائدہ پہنچایاگیا ہے۔ کیونکہ امیروں کے پیسوں سے ہی تو کپتان حکومت میں آئے ہیں ۔ غریبوں اور متوسط طبقے کے ووٹ تو ہر کوئی لے لیتا ہے۔شاید نوجوانوں کے لیڈر کو کسی نے یہ نہیں بتایا کہ کم پاور اور نسبتاً کم قیمت گاڑیاں متوسط طبقہ استعمال کرتا ہے۔ یہ وہ گاڑیاں ہیں جنہیں تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد پرائیویٹ ٹیکسی کے طور پر چلا کر سفید پوشی برقرار رکھنے کی جدو جہد میں استعمال کرتے تھے جن پر اب ٹیکس لگا کر حکومت نے صرف ظلم نہیں کیا ۔ بلکہ اپنا ووٹ بینک بھی متاثر کر لیا ہے۔
اعلی تعلیم بھی صرف امیروں کے بچوں کا حق ہے اس لیے اس بجٹ میں اعلی تعلیم کا بجٹ 57 ارب سے کم کرکے 43 ارب کردیاگیاہے۔کیونکہ تمام جاگیردار اور وڈیرے خود اسمبلیوں میں موجود ہیں اس لیے زراعت پر ٹیکس لاگو نہیں کیا گیا ۔ اس اسمبلی میں جتنے بیٹھے ہیں۔ یہ خود تو دور کی بات شاید ان کے ملازم بھی17500 روپوں میں اپنے گھر کا خرچہ نہ چلا سکیں ۔ ٹیکسوں کی بھرمار اور اتنی مہنگائی کے بعد سرکاری ملازموں کی تنخواہوں میں دس فیصد اضافہ کرنا حاتم طائی کی قبر پر لات مارنے کے مترادف ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستانی آٹوموبائل مافیا کو نکیل کون ڈالے گا ؟. نوید شیخ
حکومت خود تو ٹیکس نیٹ بڑھانے میں مکمل ناکام رہی ہے مگر جو پہلے سے ٹیکس دے رہے تھے ان کو مزید نچوڑا جا رہا ہے۔ بجٹ میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا ہر چیز پر ہر کسی نے ہر حال میں ٹیکس دینا ہے ۔ پہلے صرف ان ڈائریکٹ ٹیکس دیتے تھے ۔ اب ان ڈائریکٹ ٹیکس کے ساتھ ساتھ ڈائریکٹ ٹیکس بھی دینا ہوگا۔ جس طرح اس حکومت نےٹیکسوں کی بھرمار کی ہے۔ اب ٹیکس ادا کرنے کے لیے بھی ہر کسی کو ایک نئی نوکری کرنی پڑے گی ۔
ریاستِ مدینہ کا نعرہ لگا کرتحریک انصاف نے اس قوم کے ساتھ وہ کیا ہے کہ شاید یہ قوم آئندہ کبھی کسی کا اعتبار نہ کرے۔ اس بجٹ سے اندازہ ہواہے کہ اصل نیا پاکستان اب بنا ہے ۔
شکریہ تحریک انصاف
شکریہ عمران خان
اگر اجازت ہو تو اب تھوڑا سا گھبرا لیں ۔اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
naveedsheikh123@hotmail.comٹویٹر پر فالو کریں
Tweets by naveedsheikh123 -

حمزہ شہباز کے جسمانی ریمانڈ کے حوالہ سے فیصلہ محفوظ
عدالت نے حمزہ شہباز کے جسمانی ریمانڈسے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا
حمزہ کے دادا کا صنعتی گھرانے سے تعلق ہے، وکیل حمزہ شہبازکے عدالت میں دلائل
حمزہ پیشی، رکن اسمبلی نے خاتون پولیس اہلکار کو تھپڑا مارا تو کیا ہوا؟
حمزہ شہباز کی گرفتاری کے دوسرے روز سڑکوں پر کینٹینرز لگا دئیے گئے، سڑکیں بند
جسمانی ریمانڈ کے لئے پیش کیا جائے گا حمزہ کو آج عدالت
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نیب نے حمزہ شہباز کو جسمانی ریمانڈ کے لئے احتساب عدالت میں پیش کیا، نیب نے عدالت سے چودہ روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی ، حمزہ شہباز کے وکیل نے بھی دلائل دئیے جس کے بعد عدالت نے ریمانڈ سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا . حمزہ شہباز کو نیب آفس سے نیب کورٹ لاہور پہنچایا گیا ، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے ، حمزہ شہباز کو کالے رنگ کی سرکاری نمبر پلیٹ والی کار میں عدالت پہنچایا گیا ،
حمزہ ضمانت، سماعت 15 منٹ کے لئے ملتوی
صرف اللہ کوجوابدہ ،کوئی کچھ بھی رائے رکھےانصاف کے مطابق فیصلہ دیں گے، عدالت کےحمزہ کیس میں ریمارکس
حمزہ شہباز ضمانت کیس، عدالت نے بڑا حکم دے دیا
زرداری کے بعد آج حمزہ شہباز کی ضمانت منسوخی متوقع، نیب بھی تیار
حمزہ شہباز کدھر ہے؟ عدالت میں نعرے بازی جاری ہے، حمزہ ضمانت کیس میں عدالت برہم
رمضان شوگر مل کیس، حمزہ شہباز کے بینچ پرعدم اعتماد کے بعد نیا بینچ تشکیل
رمضان شوگر ملز کا چیف ایگزیکٹو کون؟ حمزہ شہباز ضمانت کیس میں عدالت کا استفسار
-

حمزہ کے دادا کا صنعتی گھرانے سے تعلق ہے، وکیل حمزہ شہبازکے عدالت میں دلائل
حمزہ شہباز کی احتساب عدالت میں پیشی کے بعد حمزہ کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ حمزہ شہبازکے دادا کا صنعتی گھرانے سے تعلق ہے، جس قانون کے تحت ریمانڈ عمل میں لایا گیا وہ منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ جات ہیں ، نیب کا نمائندہ ٹی وی پر بھی پہلے بات منی لانڈرنگ کی اورپھر اثاثوں کی بات کرتا ہے،منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 میں آیا جس کا اس سے پہلے کے معاملات پر اطلاق نہیں ہوتا
حمزہ پیشی، رکن اسمبلی نے خاتون پولیس اہلکار کو تھپڑا مارا تو کیا ہوا؟
حمزہ شہباز کی گرفتاری کے دوسرے روز سڑکوں پر کینٹینرز لگا دئیے گئے، سڑکیں بند
جسمانی ریمانڈ کے لئے پیش کیا جائے گا حمزہ کو آج عدالت
زرداری کے بعد حمزہ کی باری آ گئی، نیب نے احاطہ عدالت سے ہی گرفتار کر لیا
حمزہ شہباز کی عبوری ضمانت مسترد،نیب نے گھیرے میں لے لیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حمزہ شہباز کو نیب آفس سے نیب کورٹ لاہور پہنچایا گیا، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے ، حمزہ شہباز کو کالے رنگ کی سرکاری نمبر پلیٹ والی کار میں عدالت پہنچایا گیا ،نیب نے حمزہ شہباز کو احتساب عدالت میں پیش کر دیا.نیب نے عدالت سے 14 دن کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی.حمزہ شہباز کے وکیل امجد پرویز بھی کمرہ عدالت پہنچ گئے ،لیگی رہنمارانا مشہود بھی حمزہ شہبازکےساتھ کمرہ عدالت پہنچے نیب کے وکیل نے کہا کہ حمزہ شہباز کی گرفتاری کی وجوہات بتا دیں جس پرنیب پراسیکیوٹر نے عدالت مین کہا کہ حمزہ شہباز نے آج تک نہیں بتایا کہ باہر سے پیسے کون اور کن ذرائع سے بھجوایا جا رہا ہے ؟ حمزہ شہباز کے اثاثے ان کے ذرائع آمدن سے زیادہ ہیں ،حمزہ شہباز کے اکاوَنٹس میں 500ملین سے زائد جمع ہوئے ،جج نے استفسار کیا کہ کیا ملزم عدالت میں ہے؟ وکیل نے کہا کہ ملزم عدالت میں موجود ہے، حمزہ شہباز کو کل ہائیکورٹ سے گرفتار کیا ہے. نیب نے بتایا کہ حمزہ شہبازکےاکاؤنٹ میں بیرون ملک سے18کروڑکی رقم آئی 2003 میں حمزہ کےاثاثےسوا2کروڑروپےتھے، حمزہ شہباز کے وکیل نے کہا کہ نیب آرڈیننس کےتحت ملزم کوگرفتاری کی وجوہات،ثبوت کےبغیرگرفتارنہیں کیاجاسکتا،جس موادکی بناپرملزم کےخلاف کیس بنایاگیا وہ آج تک فراہم نہیں کیا گیا،حمزہ شہبازکوبنیادی حقوق کی فراہمی،فیئرٹرائل کےحقوق سےمحروم رکھاجارہاہے حمزہ شہبازقائدحزب اختلاف ہیں مگرکوئی خصوصی رعایت نہیں مانگ رہے،بیرون ملک ترسیلات 2006سے2008کی بتائی جاتی ہیں.حمزہ شہبازکے دادا کا صنعتی گھرانے سے تعلق ہے، حمزہ شہباز کے وکیل نے کہا کہ جس قانون کے تحت ریمانڈ عمل میں لایا گیا وہ منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ جات ہیں ،منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ جات کاایکٹ 2010 میں آیا ہے نیب کا نمائندہ ٹی وی پر بھی پہلے بات منی لانڈرنگ کی اورپھر اثاثوں کی بات کرتا ہے،منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 میں آیا جس کا اس سے پہلے کے معاملات پر اطلاق نہیں ہوتا ،منی لانڈرنگ کا لفظ صرف سیاسی طور پر شریف خاندان کو بدنام کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے ،عدالت حمزہ شہباز کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کرے
حمزہ ضمانت، سماعت 15 منٹ کے لئے ملتوی
صرف اللہ کوجوابدہ ،کوئی کچھ بھی رائے رکھےانصاف کے مطابق فیصلہ دیں گے، عدالت کےحمزہ کیس میں ریمارکس
حمزہ شہباز ضمانت کیس، عدالت نے بڑا حکم دے دیا
زرداری کے بعد آج حمزہ شہباز کی ضمانت منسوخی متوقع، نیب بھی تیار
حمزہ شہباز کدھر ہے؟ عدالت میں نعرے بازی جاری ہے، حمزہ ضمانت کیس میں عدالت برہم
رمضان شوگر مل کیس، حمزہ شہباز کے بینچ پرعدم اعتماد کے بعد نیا بینچ تشکیل
رمضان شوگر ملز کا چیف ایگزیکٹو کون؟ حمزہ شہباز ضمانت کیس میں عدالت کا استفسار
-

جنوبی وزیرستان، دھماکے میں دو ایف سی اہلکاروں سمیت تین افراد شہید
جنوبی وزیرستان کے علاقے میں بم دھماکے میں ایف سی کے دو اہلکار شہید ہو گئے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جنوبی وزیرستان کے علاقے تحصیل لدھا کے علاقہ میشتہ میں بم دھماکہ ہوا ہے جس کے نیتجے میں دو ایف سی اہلکار شہید ہو گئے ہیں، لیویز ذرائع کے مطابق بم دھماکہ ریموٹ کنٹرول تھا، دھماکے کے نتیجے میں ایک راہگیر بھی شہید ہو گیا ہے. واقعہ کی اطلاع ملنے پر سیکورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے، دوسری جانب لاشوں کو مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے
-

کشمیر میں بھارتی دہشت گردی،ایک اورکشمیری شہید،شہدا کی تعداد 3 ہو گئی
کشمیر میں بھارتی دہشت گردی،ایک اورکشمیری شہید،شہدا کی تعداد 3 ہو گئی
تفصیلات کےمطابق .مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی فوجی دہشت گردی نے ایک اور جان لے لی، دو روز میں شہدا کی تعداد 3 ہو گئی۔
باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق ضلع بارمولا کے شہر سوپور میں بھارتی فوج نے ایک اور کشمیری نوجوان کو گولیاں مار کر شہید کر دیا۔ ودورا کے علاقے میں بھارتی فوج نے سرچ آپریشن کے بہانے ظالمانہ کارروائی کی۔ علاقے میں بھارتی فوج ابھی بھی گشت کر رہی ہے۔
ظالمانہ کارروائی کے خلاف کشمیریوں نے احتجاج کیا۔ گذشتہ روز بھی اننت ناگ میں 2 نوجوانوں کو شہید کیا گیا۔ -

پرویز مشرف پاکستان کیوں نہیں آ سکتے، وکیل نے عدالت کو بتا دیا
سابق صدر پرویز مشرف کی جانب سے عدالت میں کیس التوا کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ، وکیل نے عدالت میں کہا کہ پرویز مشرف ذہنی اورجسمانی طورپراس قابل نہیں کہ ملک واپس آسکیں
پرویز مشرف نے ایسا کیا کیا کہ تحریک انصاف کے وزیر بھی تعریف کرنے پر مجبور
بے نظیر قتل کی تحقیقات دوبارہ کرنے کا فیصلہ ،زرداری کیلئے ایک اور مشکل
احتساب کا عمل رکوانے کے لئے عید کے بعد پاکستان میں کھیلا جا رہا ہے خوفناک کھیل
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق صدر پرویز مشرف کے کیس کی سماعت خصوصی عدالت میں ہوئی، پرویز مشرف کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پرویز مشرف ذہنی اورجسمانی طورپراس قابل نہیں کہ ملک واپس آسکیں،ہرسماعت پرکیس کےالتوا کی استدعا پرشرمندگی ہوتی ہے، وکیل کا کہنا تھا کہ سابق صدر کا وزن تیزی سے کم ہو رہا ہے ،پرویز مشرف وہیل چیئرپرہیں،پیدل بھی نہیں چل سکتے ،ایک موقع اوردیا جائےتاکہ وہ خود عدالت میں پیش ہو سکیں،مشرف کےدل کی کیموتھراپی بھی ہورہی ہے جس کے بعد صحت مزید خراب ہوئی ہے. جسٹس طاہرہ صفدر نے کہا کہ سپریم کورٹ نےتو اس معاملے پرحکم جاری کررکھا ہے، جس پر پرویز مشرف کے وکیل نے کہا کہ عدالت عظمی کےحکم سے آگاہ ہوں،انسانی ہمدردی کےتحت ایک اورموقع کی استدعا کررہا ہوں .خصوصی عدالت نے مشرف کےوکیل کویکم اپریل2019کےسپریم کورٹ کےفیصلہ کوپڑھنے کا حکم دیا، استغاثہ کےوکیل ڈاکٹرطارق حسن نے مشرف کی طبیعت پردلائل دئے تو جسٹس طاہرہ صفدر نے کہا کہ کیاآپ اس کی جسمانی صحت کےخلاف بات کررہےہیں، جسٹس نذر اکبر نے کہا کہ کیاپرویزمشرف کی صحت کی تصدیق کراناچاہتےہیں، جس پر استغاثہ کے وکیل نے کہا کہ ہم ایسانہیں چاہتے،عدالت نےمشرف کابیان ویڈیولنک کےذریعےکرنےکاموقع دیا،جسٹس شاہد نے کہا کہ دیکھنا یہ ہےآج کی سماعت ملتوی کرنےکی درخواست منظورکی جائے یانہیں، عدالت نے پرویز مشرف کی التوا کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا .
-

کشمیر جنت نظیر وادی نیلم کا یادگار ٹور … طارق محمود
اکثر لوگ لوگ عید الفطر، عید الاضحی، 14 اگست اور دیگر موقعوں پر گھومنے پھرنے کے پروگرام ترتیب دیتے ہیں سیر و سیاحت سے سے انسان ایک دفعہ پھر روزمرہ زندگی کے امور انجام دینے کیلئے زیادہ چست ہو جاتا ہے اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر وادی لیپا دیکھنے کا ارادہ کیا دوستوں سے مشاورت کے بعد طے ہوا کہ موٹر سائیکلوں کی سواری کی جائے آئے اور عید کے دن شام دس بجے نکلنے کا فیصلہ کیا گیا معلومات حاصل کرنے کے بعد پتہ چلا کہ ہمارے گروپ میں سے کوئی بھی بندہ پہلے وادی لیپا نہیں گیا وادی لیپا کے متعلق معلومات رکھنے والے دوستوں نے کہا کہ اگر آپ وادی لیپا جانا چاہتے ہیں ہیں تو ضروری ہے کہ آپ میں سے کم از کم ایک بندہ ایسا ہو جو اس سے پہلے وادی لیپا جا چکا ہو، ورنہ بہتر ہوگا کہ آپ وادی نیلم کا رخ کریں کیونکہ وادی نیلم بھی خوبصورتی کے لحاظ سے اپنا ثانی نہیں رکھتی نہ چاہتے ہوئے بھی ہمیں اپنا پروگرام بدلنا پڑا اور میں اپنے دس دوستوں کے ساتھ عید شام 10 بجے وادی نیلم کی صرف موٹر سائیکل پر روانہ ہوا ،

رات ہونے کی وجہ سے سے شدید گرمی اور لو سے تمام دوست محفوظ رہے مری ایکسپریس وے شروع ہوتے ہی بولان ہوٹل اینڈ ریسٹورنٹ پر رکے ہاتھ منہ دھویا اور چائے سے لطف اندوز ہوئے جس کے بعد ایکسپریس سے ہوتے ہوئے مری اور پھر کوہالہ تک باآسانی ہم صبح چھ بجے پہنچ گئے کوہالہ چیک پوسٹ پر شناختی کارڈ دکھا کر انٹری کروائی گئی اور وہاں دس منٹ رک کر دوستوں نے دریا کے ٹھنڈے پانی سے ہاتھ منہ دھویا تیز رفتار دریا کا نظارہ کیا اور ابھرتے ہوئے سورج کا حسین منظر دیکھا جس کے بعد مظفرآباد کی طرف قافلہ رواں دواں ہوا ساڑھے سات بجے ہم مظفر آباد لاری اڈا کے قریب پہنچے اور گرما گرم پراٹھے، آملیٹ اور چنوں کے ساتھ ناشتہ کیا تقریبا 30 سے 35 منٹ کے قیام کے بعد آباد جی ٹی بائیکرز کا قافلہ آٹھمقام کی طرف روانہ ہوا تو چند ہی کلومیٹر پر آرمی کی چیک پوسٹ آئی جہاں پر ایک دفعہ پھر ہمیں انٹری کرانی پڑی چیک پوسٹ پر موجود فوجی جوانوں نے اپنے بہترین رویہ سے ہمیں متاثر کیا اور آگے وادی کے موسم اور حالات کے بارے میں دوستانہ معلومات فراہم کی 30 سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہم آگے بڑھتے رہے اس دوران دریائے نیلم بل کھاتا ہوا ہمارے ساتھ ساتھ چلتا رہا اونچے پہاڑ ،خوبصورت جنگلات، ندی ،نالے اور آبشاروں نے ہمارے دل کو بہلایا کبھی چشموں کا پانی پیتے تھے اور کبھی آبشاروں کے پاس کھڑے ہوکر تصویریں بنا لیتے جس پر پتہ چلا کہ وادی نیلم آنے کا ہمارا فیصلہ انتہائی درست تھا بلا آخر دن ایک بجے ہم اٹھمقام پر پہنچے۔

13, 14 گھنٹے مسلسل موٹر سائیکل چلانے کی وجہ سے دوستوں کے چہروں پر تھکاوٹ کے اثرات نمایاں تھےہوٹل میں کمرہ لینے کی بجائے کروائے پر ٹینٹ لیا گیا شام تک دوستوں نے خوب آرام کیا کھلے صحن میں دوستوں نے مل کر باربی کیو کی اور ٹھنڈے موسم میں گرم تکے کھا کر شام کو یادگار بنایا گیا اسی دوران تمام دوستوں نے اس ٹور کے بارے میں اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا جن سے صاف پتہ چلتا تھا تھا کہ ہر کوئی بہت خوش تھا اور جتنی حوبصورتی انہوں نے دیکھی شاید وہ اتنی توقع نہیں رکھتے تھے صبح جلدی اٹھا گیا اور موٹر سائیکلوں کا قافلہ اڑنگ کیل کی جانب چل نکلا۔دواریاں کے قریب ناشتہ کیا گیا اور مقامی لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں اس بعد ہم مختلف وادیوں گاؤں سے ہوتے ہوئے شاردہ پہنچے یہاں سے کیل اور اڑنگ کیل تک کا راستہ اکثر کچا ہے لینڈ سلائیڈنگ جگہ جگہ ہوتی ہے اور ڈرائیورز کو بہت احتیاط کی ضرورت ہے کچے پکے رستوں تو اور پہاڑوں سے آتے ہوئے سڑک کے اوپر سے بہنے والے چشموں کے پانی سے گزرتے ہوئے ہم کیل میں داخل ہوئے آئے اور یہاں بھی ہمیں دوبارہ آرمی چیک پوسٹ پر شناختی کارڈ دکھا کر انٹری کروانی پڑی موٹر سائیکل اور سامان پارکنگ میں جمع کروایا اور کیبل کار کی بجائے پیدل دریا کے پل سے ہوتے ہوئے جنگلات میں سے گزر کر اوپر پہاڑ پر چڑھے اور تقریبا ڈیڑھ گھنٹے کی پیدل مسافت کے بعد اڑنگ کیل پہنچے پہاڑوں دریا اور ندی نالوں کے مختلف دل چھو لینے والے مناظر دیکھے اور تصویریں بناتے رہے گرم چائے کا مزا لیا گیا ہوٹل میں کمرہ بک کروایا گیا یہاں پر بھی ہم نے رات کا کھانا خود تیار کیا اور کھانا کھانے کے بعد دوست سو گئے صبح جب اٹھے تو باہر بارش ہو رہی تھی اور بادل انتہائی نچلی سطح پر رواں دواں تھے مجھے ایسے دلکش مناظر دیکھنے کو ملے جو کسی سے ہالی ووڈ فلم میں بھی نہیں دیکھیں تھے دوستوں نے ایک دفعہ پھر برف پوش پہاڑوں کی فوٹوگرافی کی صبح کا ناشتہ کیا گیا اور پھر اڑنگ کیل سے نیچے اترے جہاں سے واپسی کا سفر شروع ہوا ہوا شاردہ پہنچ کر دوپہر کا کھانا کھایا گیا اور دریا کنارے دوستوں نے تصویریں اور سیلفیاں بنانے کا شوق پورا کیا یاد رہے کہ وادی نیلم میں وہاں کے مقامی موبائل نیٹ ورک کے علاوہ کوئی اور موبائل نیٹ ورک کام نہیں کرتا اور شاردہ میں قیام کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ ہمارے دو دوست ایک موٹر سائیکل پر کہیں پیچھے رہ گئے تھے جن کا انتظار کیا گیا سہ پہر 3 بجے کے قریب دواریاں پہنچے رتی گلی جھیل دیکھنے کی موسم نے اجازت نہ دی راستے میں بارش نے پھر آ لیا۔جس سے سبق حاصل ہوا کہ کہ وادی نیلم کی سیر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے ساتھ برساتی رکھے یا پھر کم از کم چھتری ضرور ہو کیونکہ جس طرح موت کا کوئی وقت مقرر نہیں ہیں اسی طرح لگتا ہے کہ وادی نیلم میں بارش کا بھی کوئی وقت مقرر نہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے سخت دھوپ سے سے شدید بارش میں موسم تبدیل ہو جاتا ہے شام سات بجے کے قریب آٹھمقام ہوٹل پر واپس پہنچے اور حسب حال ہم نے کھانا خود تیار کیا شام کو بازار میں نکلے لے اور کشمیری نوجوانوں سے ملاقاتیں کیں انتہائی دلچسپ بات یہ تھی کہ وادی نیلم کی 90 فیصد سے زیادہ آبادی پڑھی لکھی ہے ہے حالانکہ ان کو پانچ، دس اور پندرہ کلومیٹر تک پہاڑ چڑھ کر یا پہاڑ اتر کر سکول یا کالج پیدل جانا پڑتا ہے اگلی صبح اٹھمقام سے روانہ ہوئے آئے اور راستہ میں کنڈل شاہی اور کٹن کی وادیوں کی سیر کی گئی 12 بجے مظفرآباد میں ناشتہ کیا گیا یا اور براستہ کوہالہ مری ایکسپریس وے اسلام آباد پہنچے مری ایکسپریس وے کے اختتام پر تیس منٹ کا قیام کیا گیا اور چائے پی گئی اس کے بعد تین گھنٹے کے سفر کے بعد تمام دوست خیروعافیت سے گجرات واپس پہنچ گئے یہ بات بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ وادی نیلم میں پاکستانیوں کی بڑی تعداد سیر کرنے کے لئے پہنچی ہوئی تھی اور مجھے وہ رجان کم ہوتا ہوا نظر آیا جس کے مطابق پاکستان کی ایلیٹ کلاس پاکستان کی سیر کرنے کی بجائے یورپ کی طرف نکل جاتی ہے اور ہاں اگر آپ بھی موٹر سائیکل پر جانا چاہتے ہیں تو پنکچر کا سامان ساتھ ضرور رکھیں۔
-

اسلام آباد میں 6 سال قبل خوف و ہراس پھیلانے والے سکندر کی سزا کیخلاف اپیل مسترد
اسلام آباد ہائیکورٹ نے بلیو ایریا میں 6 سال قبل خوف وہراس پھیلانے والے مجرم سکندر حیات کی سزا کے خلاف اپیل مسترد کردی۔
16 اگست 2013 کو سکندر حیات نامی شخص نے اپنے بیوی بچوں کے ہمراہ جدید ہتھیاروں کے ساتھ بلیو ایریا کو یرغمال بنائے رکھا اور کئی گھنٹوں تک اس کی لائیو کوریج بھی ہوتی رہی۔
انسداد دہشت گردی عدالت نے 11 مئی 2017 کو ملزم سکندر کو 16 سال قید اور ایک لاکھ 10 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے مجرم سکندر کی سزا کے خلاف اپیل پر 13 مارچ کو فیصلہ محفوظ کیا، چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کا محفوظ کردہ تفصیلی فیصلہ جاری کردیا گیا۔
عدالت نے 22 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں کہا کہ پراسیکیوشن نے اپنا کیس ثابت کیا، سکندر کی اپیل مسترد کی جاتی ہے۔
فیصلے کے متن کے مطابق ٹرائل کورٹ نے سکندر کو کم سزا دینے کی وجہ بیان نہیں کی جب کہ وفاق نے سزا بڑھانے کے لیے اپیل بھی دائر نہیں کی۔ -

سوپور میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے کشمیری شہید
مقبوضہ کشمیر کے علاقے سوپور میں بھارتی فوج نے ایک اور کشمیری کو شہید کر دیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے علاقے سوپور کے واڈورہ پائین بومئی میں بھارتی فوج نے سرچ آپریشن کے دوران ایک کشمیری کو فائرنگ کر کے شہید کر دیا، سرچ آپریشن میں بھارتی فوج ،پولیس نے حصہ لیا اس موقع پر سیکورٹی اداروں نے چادر و چاردیواری کے تقدس کو بھی پامال کیا. سرچ آپریشن کے دوران بھارتی فوج نے علاقہ بھر میں موبائل و انٹرنیٹ سروس بند کر دی تھی.
واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی بھارتی فوج نے دو کشمیریوں کو شہید کر دیا تھا.