Baaghi TV

Blog

  • بھارتی فضائیہ کے تباہ ہونے والے طیارے کا ملبہ آٹھ دن بعد مل گیا، 13 افراد سوار تھے

    بھارتی فضائیہ کے تباہ ہونے والے طیارے کا ملبہ آٹھ دن بعد مل گیا، 13 افراد سوار تھے

    بھارتی فضائیہ کے تباہ ہونے والے طیارے اے این 32 کا ملبہ آٹھ دن بعد مل جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق ہندوستانی میڈیا کا کہنا ہےکہ ہندوستانی ریاست آسام کے جورہاٹ ہوائی اڈہ سے اڑان بھرنے والے ہندوستانی فضائیہ کے تباہ ہونے والے طیارے کے کچھ حصوں کا ملبہ اروناچل پردیش کے لیپو شہر میں ملا ہے ۔ یہ جگہ طیارہ کے اڑان والی جگہ سے پندرہ سے بیس کلو میٹر شمال میں ہے اور طیارے کا ملبہ زمین سے 12 ہزار فٹ کی انچائی پر ملا ہے ۔

    رپورٹ کے مطابق تباہ ہونےو الے طیارے کے باقی حصوں کی تلاش کیلئے سرچ آپریشن جاری ہے ۔ یہ طیارہ تین جون کو آسام کے جورہاٹ سے اڑا تھا اور لاپتہ ہوگیا تھا ۔ طیارہ میں عملہ کے 8 اراکان سمیت 13 افراد سوار تھے ۔ اس سلسلہ میں‌ ہندوستانی فضائیہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ جس علاقہ میں تلاش کی جارہی تھی وہاں آئی اے ایف ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر کے ذریعہ ممکنہ اے این 32 کا ملبہ آج 16 کلو میٹر شمال میں تقریبا 12000 فٹ کی اونچائی پر دیکھا گیا ہے ۔ ہندوستانی فضائیہ کے ریٹائرڈ ائیر مارشل پی ایس اہلووالیہ کا کہنا تھا کہ پہاڑیوں اور جنگلات سے بھرا علاقہ ہونے کی وجہ سے طیارہ کا پتہ لگانا مشکل ہوجاتا ہے ، اسی وجہ سے اس کو ڈھونڈنے میں آٹھ دن کا وقت لگ گیا ۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی طیارے کا ملبہ ملنے کی متصاد اطلاعات میڈیا پر نشر کی جاتی رہی ہیں.

  • بجٹ آئی ایم ایف کا تیارہ کردہ ہے، مسترد کرتے ہیں. اسفند یار ولی

    بجٹ آئی ایم ایف کا تیارہ کردہ ہے، مسترد کرتے ہیں. اسفند یار ولی

    عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے تحریک انصاف حکومت کی طرف سے پیش کردہ پہلے بجٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی وفاقی بجٹ مسترد کرتی ہے۔ یہ بجٹ مکمل طور پر آئی ایم ایف کا تیار کردہ ہے.

    باغی ٹی وی کی رپور‌‌ٹ کے مطابق اسفند یار رلی کا کہنا تھا کہ اس بجٹ میں‌ ٹیکس بڑھانے پر توجہ دی گئی ہے. حالیہ بجٹ دستاویز آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن ہے جس میں‌ تعلیم، صحت اور غیر ملکی قرضوں سے نجات کا کوئی ٹھوس پلان شامل نہیں ہے. جب تک غیر ملکی آقاؤں کے اشاروں پر بجٹ بنتے رہیں گے، عام آدمی کو کسی صورت ریلیف نہیں مل سکتا۔

    ان کا کہنا تھا کہ حالیہ بجٹ میں‌ ایک بار پھر غریب عوام کو نشانہ بنایا گیا ہے. حقیقت یہ ہے کہ چینی، تیل، گیس اور دیگر اشیاء مہنگی کر کے کھانے پینے کی تمام اشیاء عوام کی دسترس سے دور کر دی گئی ہیں۔ یاد رہے کہ متحدہ اپوزیشن میں‌ شامل تمام جماعتوں نے بجٹ کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے.

  • بلاول بھٹو نے سپیکر قومی اسمبلی کے استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا، اہم خبر آ گئی

    بلاول بھٹو نے سپیکر قومی اسمبلی کے استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا، اہم خبر آ گئی

    چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے باضابطہ طور پراسپیکر قومی اسمبلی سے استعفیٰ‌ کا مطالبہ کر دیا او رکہا ہے کہ کٹھ پتلی حکومت حق حکمرانی کھوچکی ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بلاول بھٹو نے کہاکہ اسپیکرقومی اسمبلی نےخواتین ارکان اسمبلی پرتشدد کا نوٹس نہیں لیا. ٹیکسوں کی بھرمارکی وجہ سےمہنگائی،بےروزگاری میں اضافہ ہوگا. ٹیکسوں کی بھرمارکی وجہ سےکاروباری ادارےتجارت نہیں کرسکتے.

    انہوں نے کہاکہ بجٹ تقریرکی نقول اپوزیشن کومہیا نہیں کی گئیں. اگربجٹ عوام دوست ہوتاتومیں حکومت کی حوصلہ افزائی کیلئےتیارتھا.
    حکومت کی جانب سےخوف پھیلانے کے باوجود بجٹ کوتوجہ سےسننےکا فیصلہ کیا. بجٹ سےتوجہ ہٹانےکیلئےاحتساب کےنام پراپوزیشن رہنماؤں کو گرفتارکیاگیا. یاد رہے کہ اپوزیشن جماعتوں‌کی طرف سے بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے سخت تنقید کی جارہی ہے. متحدہ اپوزیشن نے حالیہ بجٹ کو غریبوں‌ کا خون چوسنے والا بجٹ قرار دیا ہے.

  • لاڑکانہ میں ایڈزپرمسکرانا اور تھرمیں اموات پرکھِلکھلانا آپ کا طرہ امتیاز ہے، مراد سعید کا بلاول کو جواب

    لاڑکانہ میں ایڈزپرمسکرانا اور تھرمیں اموات پرکھِلکھلانا آپ کا طرہ امتیاز ہے، مراد سعید کا بلاول کو جواب

    وزیرمواصلات مراد سعید نے بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے وزیراعظم عمران خان پرتنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ لاڑکانہ میں ایڈزپرمسکرانا، تھرمیں اموات پرکھِلکھلانا آپ کاطرۂ امتیازہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مراد سعید نے کہا کہ یہ سب ہماراچلن نہیں ہے. دماغ پراضافی زورنہ دیں اور بجٹ تقریرکا صحیح سےرٹا لگائیں. وزیر مواصلات کی جانب سے یہ بیان بلاول بھٹو زرداری کے عمران خان کے خلاف بجٹ کے حوالہ سے کی گئی گفتگو کے بعد سامنے آیا ہے.

    واضح رہے کہ بلاول بھٹو نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تمام اپوزیشن جماعتوں کو اکٹھا کر کے اس بجٹ کی شدید مخالفت کریں گے اور بجٹ کو پارلیمنٹ سے پاس نہ ہونے دینا اولین ترجیح ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ پی ٹی آئی ایم ایف کا بجٹ ہے.

  • پاکستان مخالف اتحاد کی خاموش ٹھکائی ۔۔۔ محمد فہیم شاکر

    پاکستان مخالف اتحاد کی خاموش ٹھکائی ۔۔۔ محمد فہیم شاکر

    مورخ کا کہنا ہے کہ ہمارے مغربی ہمسائے میں پاکستان مخالف اتحاد کی خاموش ٹھکائی بڑی شُدمُد سے جاری ہے اور اگر یہ منظر عام پر آئی تو دنیا میں تہلکہ مچ سکتا ہے۔
    سادہ سی مثال ہے کہ جہاں کہیں پاکستان مخالف گٹھ جوڑ ہو رہا ہوتا ہے وہیں ایک "پلوامہ” ہوجاتا ہے۔
    اور امریکہ رذیل باؤلا ہوکر عام آبادی پر بمباری کرتا اور دنیا میں حق پرستوں کو بلیک میل کرنے کی ناکام کوشش کرتا ہے۔
    ذرا غور کیجیے کہ فروری 2019 میں جب انڈیا نے امریکی شہہ پر پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی تھی تو افغانستان میں امریکہ کی جو دُرگت بنی تھی وہ تو آپ کو یاد ہی ہوگی۔
    پورا امریکی ائیربیس تباہ کر دیا گیا تھا درجنوں جنگی و ٹرانسپورٹ طیارے اور ٹینک اور 300 سے زائد امریکی سورمے نرک واصل ہوئے تھے یہ دراصل پاکستان کا جواب تھا۔
    افغانستان میں را، سی آئی اے، موساد، این ڈی ایس پاکستان مخالف اتحاد کے روحِ رواں ہیں اور مزے کی بات کہ سب سے زیادہ ٹھکائی بھی انھی کی ہو رہی ہے اور ان میں سے بھی سب سے زیادہ چھترول اسرائیلی موساد کی ہو رہی ہے۔
    اب گمنام مجاہدوں کے ہاتھوں ہونے والی چھترول کا بدلہ لینے کا بھوت اس بے چاری کے سر پر سوار ہے اور اس کوشش میں باقی سب بھی با جماعت چھتر کھا رہے ہیں اور ثواب کما رہے ہیں، لیکن کریں تو کیا کریں شور بھی نہیں کر سکتے، کہ جگ ہنسائی ہوگی اور تھو تھو الگ ہوگی کہ دنیا کی طاقتور ترین خفیہ ایجنسی دراصل چھترول کروا رہی ہے اور مفت کروا رہی ہے تو ایک ایسے چھوٹے سے ملک کی ایجنسی سے کہ جس کا بجٹ ہر لحاظ سے باقی ممالک سے کم ہے اور اس چھوٹے سے ملک کی ایجنسی اس کم ترین بجٹ میں بھی اپنی قوم کو بہترین سروسز فراہم کر رہی ہے۔

    اب آپ کو سمجھ آئی کہ دراصل پاکستان کے اندر سے سیاہ ست دانوں اور مختلف سیاہ سی پارٹیوں کی جو فوج مخالف آوازیں بلند ہوتی ہیں وہ دراصل "پِیڑیں” کسی اور کی ہیں جو ان کے منہ سے نکل رہی ہیں۔
    آئیے! ففتھ جنریشن وار میں مارخور کے ہمقدم ہوجائیے۔
    آج جس جنگ میں ہم الجھ چکے ہیں یہ بلا شبہ سرحدوں پر نہیں لڑی جا رہی لیکن یہ عقائد و نظریات اور سوچوں میں لڑی جا رہی ہے۔
    عقیدہ رہا تو ہم ہیں، عقیدے کی بنیاد پر وجود میں آنے والے دو ممالک کے درمیان اس وقت واضح طور پر ایک زبردست جنگ چھڑ چکی ہے جس میں ابھی تک مارخور دشمنوں کے قومی جانوروں کا بخوبی شکار کر رہا ہے۔
    بس جوانو! آپ نے مارخور کی کمرِہمت بندھانی ہے اور اس کی پشت پر موجود رہنا ہے یعنی ففتھ جنریشن وار میں پیچھے نہیں ہٹنا، ہاں یاد رہے کہ آپ کو بہت سے ایسے محب وطن بھی ملیں گے جو وطن سے محبت کے نام پر افواج پاکستان اور دفاعی اداروں سے نفرت آپ کے دلوں میں بھرنے کی کوشش کریں گے لیکن آپ نے ان سے باخبر رہنا ہے اور بہت سے ایسے غدار بھی ملیں گے جو واشگاف الفاظ میں ملک اور فوج کو برا بھلا کہہ کر آپ کو پارہ چڑھانے کی کوشش کریں گے، ان سب سے آپ نے محتاط رہنا ہے۔
    کیونکہ ہمیں اس وقت دنیا کی تمام بڑی طاقتوں سے زیادہ خطرہ اپنے اندر کے اُن غداروں سے ہے جو 24 گھنٹے اپنے اِن محسنوں کی کردار کُشی کرتے ہیں۔

  • مسلم لیگ ن کا بجٹ پر اپوزیشن جماعتوں سے مل کر حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ

    مسلم لیگ ن کا بجٹ پر اپوزیشن جماعتوں سے مل کر حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے بجٹ پر دوسری اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر سخت مؤقف اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ن لیگ قومی اسمبلی میں پیش کردہ بجٹ کے حوالہ سے کل پریس کانفرنس میں آئندہ کا لائحہ عمل پیش کریں‌ گے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی اکنامک ایڈوائزری کونسل کا اجلاس منعقد ہوا جس میں حکومت کو ٹف ٹائم دینے کیلئے مضبوط پالیسی ترتیب دینے کا فیصلہ کیا ہے. مسلم لیگ ن وفاقی بجٹ پر کل پریس کانفرنس میں قوم کے سامنے تفصیل رکھیں‌ گے اور سابقہ اور موجودہ بجٹ کا موازنہ پیش کرے گی۔

    رپورٹ میں‌ کہا گیا ہے کہ اجلاس میں شہباز شریف کی بجٹ پر تقریر کے نکات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اور شہباز شریف جمعہ کے دن ہونے والے قومی اسمبلی اجلاس میں بجٹ پر بحث کا آغاز کریں گے۔ یاد رہے کہ مولانا فضل الرحمن، خورشید شاہ، مریم نواز شریف، بلاول بھٹو اور دیگر لیڈروں کی جانب سے بجٹ پر سخت تنقید کی گئی ہے. یاد رہے کہ تحریک انصاف حکومت نے اپنا یہ پہلا بجٹ پیش کیا ہے جس میں چینی، تیل، گھی، سی این جی، مشروبات، سگریٹ اور خشک دودھ سمیت دیگر کئی اشیا مہنگی کردی گئی ہیں‌. بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان نے احتجاج کرتے ہوئے شدید نعرے بازی بھی کی اور گونیازی گو کے نعرے لگائے جاتے رہے. اس دوران ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کیا جاتا رہا.

  • پاکستانی شائقین آسٹریلوی کھلاڑیوں‌ کے ساتھ بھارتیوں جیسا رویہ نہیں‌ رکھیں‌ گے، سرفراز احمد

    پاکستانی شائقین آسٹریلوی کھلاڑیوں‌ کے ساتھ بھارتیوں جیسا رویہ نہیں‌ رکھیں‌ گے، سرفراز احمد

    پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے کہا ہے کہ پاکستانی شائقین اسمتھ اور وارنر کے ساتھ ویسا نہیں کریں گے جیسا انڈین سپورٹرز نے کیا. پاکستانی فینز ہمیشہ کرکٹ کو سپورٹ کرتے ہیں.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سرفراز احمد نے کہا کہ آسٹریلین ٹیم کیا سوچ رہی ہے مجھے اس سے غرض نہیں ہے. موسم ایسا ہے جو ٹاس جیتا پہلے بولنگ کرے گا. وکٹ پر کل کافی گھاس تھا، اب معلوم نہیں کہ کیا کنڈیشن ہے. اگرمختصرمیچ ہوا تو تبدیلی کرسکتے ہیں
    ہم جیت کرآرہے ہیں اورآسٹریلیا ہارکرآرہا ہے.

    انہوں نے کہاکہ ہمیں معلوم ہے کہ آسٹریلیا خطرناک ہوگا. ٹاپ آرڈرکا کردار میچ میں کافی اہم ہوگا. یاد رہے کہ پچھلا میچ پاکستان نے انگلینڈ سے جیت لیا تھا جبکہ سری لنکا کے ساتھ بارش کی وجہ سے میچ نہیں‌ ہو سکا تھا اور دونوں‌ ٹیموں‌ کو ایک ایک پوائنٹ دیا گیا تھا.

  • کوئٹہ دو مشکوک ویگنیوں پر کروائی۔

    کوئٹہ کسٹم انٹیلی جنس نے کارروائی کرتے ہوۓ 50 لاکھ روپے کا غیر ملکی کپڑا قبضے میں لے لیا کارروائی کوئٹہ کے علاقے ایئر پورٹ روڈ چورنگی کے پاس کی گئی دو مشکوک ویگنیوں کو رکنے کا اشارہ کیا گیا تھا لیکن وہ نہ رکے اور ڈپٹی ڈائریکٹر کسٹم انٹیلی جنس فضل شکور کی ہدایت پر کارروائی عمل میں لائی گئی اور مال بردار گاڑیاں قبضے میں لے لی گئیں جب کے کسٹم انٹیلی جنس آفیسر شبیر اور باز محمد ٹیم کی سرپرستی کررہے تھے۔

  • قومی اسمبلی میں‌ 7022 ارب روپے کا بجٹ پیش، گھی، چینی، تیل اورمشروبات سمیت بیشتراشیاء مہنگی

    قومی اسمبلی میں‌ 7022 ارب روپے کا بجٹ پیش، گھی، چینی، تیل اورمشروبات سمیت بیشتراشیاء مہنگی

    تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے مالی سال 2019-20 کے پیش کردہ بجٹ کا مجموعی حجم 7 ہزار 22 ارب روپے ہے جو کہ گزشتہ بجٹ سے 30 فیصد زائد بتایا جارہا ہے۔ حالیہ بجٹ میں‌ چینی، تیل، گھی، سی این جی، مشروبات، سگریٹ، خشک دودھ اور دیگر کی اشیاء مہنگی کر دی گئی ہیں جبکہ اس دوران بتایا گیا کہ حکومت کے اخراجات 460 ارب روپے سے کم کرکے 437 ارب روپے کردیے گئے ہیں. بہت سے پیسے والے لوگ ٹیکس نہیں دیتے. اکتیس لاکھ کمرشل صارفین میں سے 14 لاکھ ٹیکس دیتے ہیں. تجارتی خسارہ 22 ارب ڈالرہے، ہم ماہانہ گردشی قرضہ 38ارب روپےسے کم کرکے26ارب روپےتک لے آئے ہیں.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیرصدارت ہونے والے بجٹ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان بھی موجود تھے. اس موقع پر وزیرمملکت برائے ریونیو حماد اظہرنے بجٹ پیش کیا جبکہ اپوزیشن ارکان نے احتجاج کرتے ہوئے شدید نعرے بازی کی جس سے ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرتا رہا. اپوزیشن اراکین کی طرف سے گونیازی گو کے نعرے بھی لگائے گئے. حماد اظہر کا کہنا تھا کہ پچھلے پانچ سال میں برآمدات میں کوئی اضافہ نہیں ہوا . بہت سے کمرشل قرضہ جات زیادہ شرح سود پر لیے گئے ہیں ۔ قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ پیچھے رہ جانے والے لوگوں کو آگے لانے کا وقت ہے۔ پاکستان کا مجموعی قرضہ اور ادائیگیاں 31 ہزار ارب روپے تھیں جن میں سے 97 ارب ڈالر بیرونی قرضہ جات تھے۔ پچھلے ادوار میں بعض کمرشل قرضے زیادہ سود پر لیے گئے۔ گزشتہ دو سال کے دوران سٹیٹ بینک کے ذخائر 18 ارب سے کم ہو کر 10 ارب ڈالر سے کم رہ گئے۔ عالمی سطح پر کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ بلند ترین سطح پر 20 ارب ڈالر اور تجارتی خسارہ 32 ارب ڈالر تک پہنچ چکا تھا۔ انہوں نے بتایاکہ بجٹ 20۔2019 کا مجموعی حجم 7 ہزار 22 ارب روپے ہے جو کہ گزشتہ بجٹ سے 30 فیصد زائد ہے. اسی طرح ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5 ہزار 555 ارب روپے رکھا گیا ہے. جی ڈی پی میں ٹیکسوں کا تناسب 12 اعشاریہ 6 فیصد ہے. مالی خسارے کا تخمینہ 3 ہزار 137 ارب روپے ہے. حماد اظہر نے کہا کہ بجلی کے نظام کا گردشی قرضہ 1200 ارب روپے تک پہنچ گیا تھا جس پر 38 ارب روپے ماہانہ سود ادا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم درآمدات کو 49ارب ڈالر سے کم کرکے45ارب ڈالر تک لے آئے ہیں. ایسٹس ڈکلیئریشن اسکیم پرعمل جاری ہے. انہوں نے کہاکہ احتساب کے نظام اور طرز حکمرانی بہتر بنانے کیلیے اقدامات کیے گئے ہیں. بجٹ میں‌بتیا گیا ہے کہ کولڈڈرنکس پرڈیوٹی 11.5سےبڑھاکر 13 فیصد جب کہ مشروبات پر ڈیوٹی 11.25سے بڑھا کر 14فیصد کردی گئی، چینی پرسیلزٹیکس 8سےبڑھاکر 13 فیصدکردیاگیا جس سے چینی کی قیمت ساڑھے 3 روپےفی کلوبڑھےگی، خوردنی تیل اور گھی پر بھی 14فیصد ڈیوٹی عائد کی گئی ہے، سونے، چاندی، ہیرے کے زیورات پرسیلزٹیکس بڑھانےکافیصلہ کیا گیا ہے۔ بجٹ میں سنگ مرمر کی صنعت پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لگانے، سیمی پراسس اورپکے ہوئے چکن،مٹن، بیف اورمچھلی پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے۔

    حماد اظہر نے بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ جب ہماری حکومت آئی تو مالیاتی خسارہ 2260ارب روپے تک پہنچ گیا تھا، جاری کھاتوں کا خسارہ 20ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا، تجارتی خسارہ 32ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا، مجموعی قرضے 31ہزار ارب روپے تک پہنچ چکے تھے، ہم نے تجارتی خسارہ چار ارب ڈالر کم کیا اور اب بجلی کے گردشی قرضوں میں12 ارب روپے کی کمی آئی ہے. بجٹ میں ایک ہزار ایک سی سی سے 2 ہزار سی سی تک گاڑیوں پر پانچ فیصد جب کہ 2 ہزار سی سی سے زائد کی گاڑی پر ڈیوٹی ساڑھے سات فیصد عائد کی گئی ہے۔ بجٹ اجلاس میں بتایا گیا کہ وفاقی حکومت نے کم ازکم تنخواہ 17 ہزار 500 مقرر کرتے ہوئے بتایا کہ اضافہ 2017 سے جاری تنخواہ پر ہوگا۔ بجٹ میں تنخواہ دار اورغیر تنخواہ دارافراد کے لیے ٹیکس شرح میں اضافہ اور تنخواہ دار ملازمین کیلئے قابل ٹیکس آمدنی کی حد 12لاکھ سے کم کرکے 6 لاکھ روپے کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے جب کہ غیر تنخواہ دار انفرادی ٹیکس دہندگان کیلئے قابل ٹیکس آمدنی کہ حد کم کرکے چار لاکھ روپے کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے، غیر تنخواہ دار طبقے کو سالانہ چار لاکھ آمدن پر ٹیکس دینا ہو گا۔

    قومی اسمبلی میں‌ پیش کردہ بجٹ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ دفاعی اخراجات ، سروسز پر 1152 ارب 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، سول اورعسکری حکام نےبجٹ میں مثالی کمی کی. باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے رواں مالی سال کے دوران ملک کے عسکری بجٹ میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے قومی اسمبلی میں بجٹ تقریرکے دوران بتایا کہ پاکستان کے فوجی بجٹ میں کوئی اضافہ نہیں کیا جارہا اور یہ گزشتہ سال کے 1150 ارب روپے پر مستحکم رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ فوجی بجٹ کے حوالے سے وہ وزیر اعظم عمران خان اور عسکری قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی خود مختاری ہر شے پر مقدم ہے. حکومت یہ بات یقینی بنائے گی کہ پاک فوج کی صلاحیت میں کمی نہ آئے۔ بجٹ تقریر کے مطابق قومی ترقیاتی پروگرام کیلیے1800 ارب روپے رکھے گئے ہیں، جب کہ نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 894 ارب 50 کروڑ روپے رکھا گیا ہے، بیرونی ذرائع سے حاصل ہونیوالی وصولیوں کا ہدف 1828 ارب 80کروڑ روپے جب کہ نجکاری پروگرام سے 150ارب روپے حاصل ہونے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، اس طرح کل دستیاب وسائل کا تخمینہ 7036ارب 30 کروڑ روپے رکھا گیا ہے۔

    بجٹ اجلاس میں کی گئی تقریر میں کہا گیا کہ کراچی کے ترقیاتی بجٹ کے لیے45.5ارب روپے رکھے جارہے ہیں، جب کہ بلوچستان کی ترقی کے لیے 10.4ارب روپے رکھے جارہے ہیں. سکھر ،ملتان سیکشن کے لیے 19ارب روپے مختص کیے گئے ہیں. توانائی کے لیے 80ارب روپے اور انسانی ترقی کے لیے 60 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ اسی طرح‌بتایا گیا کہ آبی وسائل کیلیے70 ارب روپے مختص کیے جارہےہیں،غیر ترقیاتی اخراجات کا حجم 6192ارب 90 کروڑ روپے رکھا گیا ہے، پنشن کی مد میں اخراجات کا تخمینہ 421ارب روپے رکھا گیا ہے،سود کی ادائیگیوں کے لیے2891ارب 40 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں اور آیندہ سال کے دوران سبسڈی کیلیے271ارب 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    وزیرمملکت برائے ریونیو حماد اظہر کا کہنا تھاکہ حکومت نے بجلی چوری کے خلاف منظم مہم شروع کر رکھی ہے، بجلی اور گیس کے لیے 40ارب روپے کی سبسڈی دی جارہی ہے جب کہ گیس کا گردشی قرضہ 150ارب روپے ہےاور اگلے 24ماہ میں گردشی قرضوں کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔

    حماد اظہر کی جانب سے بجٹ اجلاس میں بتایا گیا کہ وفاقی کابینہ کی گریڈ 1 تا16سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں10فیصد اضافےکی منظوری دے دی ہے. اسی طرح ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 10 فیصد اضافے کی منظوری دی گئی ہے. باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق گریڈ 21 اور 22 کے ملازمین کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا. وفاقی کابینہ کی گریڈ 17 تا 20 سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 5 فیصد اضافے کی منظوری دی گئی ہے.

    بجٹ اجلاس کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے گریڈ 21 اور 22 کے ملاز مین کی تنخواہوں میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا گیا۔ قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے دوران اپنی تقریر میں انہوں نے کہاکہ وفاقی کابینہ کی گریڈ 1 تا 16سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں10فیصد اضافےکی منظوری دی گئی ہے جبکہ گریڈ 17 سے 20 تک پانچ فیصد اضافہ کی منظوری دی گئی ہے. اسی طرح ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 10 فیصد اضافے کی منظوری دی گئی ہے. ان کا کہنا تھا کہ گریڈ 21 اور 22 کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا گیا کیونکہ انہوں نے وطن عزیز پاکستان کی معاشی صورتحال کے پیش نظر تنخواہوں میں‌ اضافہ نہ کئے جانے کی قربانی دینے کا فیصلہ کیا ہے.

    واضح رہے کہ وزیر مملکت برائے ریو نیو حماد اظہر کی قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن اراکین کی جانب سے شدید ہنگامہ آرائی کی گئی اور ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرتا رہا. اس دوران اپوزیشن ممبران گو عمران گو، مک گیا تیرا شو نیازی اور گو نیازی گو کے نعرے لگاتے رہے.وزیر مملکت کے خطاب کے موقع پر اپوزیشن کے شورشرابا پر کان پڑی آواز سنائی نہیں‌ دے رہی تھی. حماد اظہر کے تقریر کا آغاز کرتے ہوئی اپوزیشن اراکین اپنی نشستوں سے کھڑے ہو گئے اور احتجاجی نعرے بازی شروع کردی. اپوزیشن ارکان بجٹ تقریر کے دوران شور شرابا کرتے ہوئے سپیکر ڈائس کے سامنے آ کر کھڑے ہو گئے جس پر حکومتی ارکان اپنی نشستوں سے اٹھے اور وزیر اعظم کے آگے ڈھال بن کر کھڑے ہو گئے تاکہ کسی بھی ممکنہ بد مزگی سے بچا جا سکے ۔

    بعض اپوزیشن اراکین نے بازوؤں‌ پر سیاہ پٹیاں بھی باندھ رکھی تھیں اور ہاتھوں میں‌ پلے کارڈ بھی اٹھا رکھے تھے. اپوزیشن اراکین نے بجٹ کی کاپیاں بھی پھاڑ دیں تاہم اس شور شرابا او رہنگامہ آرائی کے دوران وزیر مملکت حماد اظہر نے بجٹ پیش کیا اور کسی قسم کے دباؤ کا شکار نہیں‌ ہوئے.

  • بجٹ غریبوں‌ کا سانس لینا دشوار بنا دے گا، یہ نااہل حکومت کا سیاہ کارنامہ ہے. مریم نواز

    بجٹ غریبوں‌ کا سانس لینا دشوار بنا دے گا، یہ نااہل حکومت کا سیاہ کارنامہ ہے. مریم نواز

    وفاقی حکومت کی طرف سے قومی اسمبلی میں‌ پیش کردہ بجٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کی نائب صدرمریم نواز نے کہا ہے کہ یہ بجٹ نہیں، ملکی نااہلوں اورعالمی ساہوکاروں کا تیارکردہ عوام کاخون چوسنے کا نسخہ ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مریم نواز نے اپنے ردعمل میں‌ کہاکہ مہنگائی، بےروزگاری، غربت کی یہ کالی دستاویز نا اہل حکومت کا ایک اور سیاہ کارنامہ ہے، یہ بجٹ پاکستان کو کئی سال پیچھے دھکیل دے گا اور غریب کا سانس لینا دشوار بنا دے گا، ان کا کہنا تھا کہ
    مہنگائی،بےروزگاری، غربت کی یہ کالی دستاویز نا اہل حکومت کا ایک اور سیاہ کارنامہ ہے.

    یاد رہے کہ حالیہ بجٹ پر اپوزیشن اراکین کی جانب سے شدید تنقید کی جارہی ہے.