Baaghi TV

Blog

  • ویسٹ انڈیز کے ساتھ میچ، پاکستان کے کون کونسے کھلاڑی کریںگے مقابلہ

    ویسٹ انڈیز کے ساتھ میچ، پاکستان کے کون کونسے کھلاڑی کریںگے مقابلہ

    پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم ورلڈ کپ کا آج پہلا میچ کھیلے گی، قومی ٹیم کا مقابلہ ویسٹ انڈیز سے ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ورلڈ کپ میں پاکستان کی ٹیم کا پہلا میچ آج جمعہ کو پاکستانی وقت کے مطابق ڈھائی بجے شروع ہو گا.ترجمان پی سی بی کے مطابق ویسٹ انڈیز کے خلاف منتخب کردہ سکواڈ میں 12 کھلاڑیوں کو رکھا گیا ہے۔ فخر زمان، امام الحق، بابر اعظم، محمد حفیظ، سرفراز احمد، حارث سہیل، آصف علی، شاداب خان، عماد وسیم، محمد عامر اور وہاب ریاض مقابلے کیلئے میدان میں اتریں گے جبکہ حسن علی بطور بارہویں کھلاڑی ہوں گے۔

     

    کرکٹ ورلڈ کپ، جنوبی افریقہ پہلا میچ انگلینڈ سے ہار گیا

  • ججز کے خلاف ریفرنس، حکومت کر بڑا دھچکا، اتحادی الگ ہو گئے

    ججز کے خلاف ریفرنس، حکومت کر بڑا دھچکا، اتحادی الگ ہو گئے

    حکومت کو بڑا دھچکا، ججر کے خلاف ریفرنس دائر کرنے پر حکومتی اتحادی اختر مینگل اپوزیشن کے ساتھ نظر آئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی اجلاس کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے پریس کانفرنس کی ،اس موقع پر اختر مینگل بلاول زرداری اور شاہد خاقان عباسی کے ہمراہ نظر آئے. بلاول اور شاہد خاقان عباسی کی گفتگو کے بعد اختر مینگل نے کہا کہ پی پی کے ورکرز کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا.،مذمت کرتا ہوں، کہنے کو ہم جمہوری ملک ہیں، جمہوریت کو چلانے کی کچھ اصول ہوتے ہیں ریفرنس کے نام پر پابندیاں لگائی جا رہی ہیں، جمہوریت کی بجائے ڈکٹیٹر کی بو نظر آ رہی ہے. اختر مینگل نے مزید کہا کہ ججز کے خلاف ریفرنس اچانک کہاں سے نمودار ہوئے، ایک جج کا تعلق بلوچستان سے ہے فیض آباد سے متعلق ریفرنس وجوہات تو نہیں،.جب تک یہاں کے اداروں کو اپنے دائرہ میں رہ کر کام کی اجازت نہیں دی جائے گی تو یہ جمہوریت نہیں بلکہ جمہوریت کے لئے خطرہ ہے. جمہوریت کے لئے لوگوں نے قربانیاں دی ہیں، ہم کبھی نہیں چاہیں گے کہ ایک شخص یا پارٹی کی وجہ سے جمہوری گلدستہ کو ٹھیس پہنچے،اختر مینگل نے مزید کہا کہ میرانشاہ میں جو واقعہ ہوا اس پر پارلیمانی کمیشن بننا چاہئے. تا کہ قصوروار کا فیصلہ کیا جا سکے. ہم آزاد بینچز پر بیٹھے ہوئے ہیں ہم حق کے ساتھ ہیں .

  • تبدیلی سرکار مشرف کی روایات کو لارہی ہے، بلاول زرداری

    تبدیلی سرکار مشرف کی روایات کو لارہی ہے، بلاول زرداری

    قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی ہونے کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے مشترکہ پریس کانفرنس کی ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کی سڑکوں پر پرامن کارکنوں پر حملہ کیا گیا، نہ صرف عوام بلکہ اراکین اسمبلی پر بھی حملہ کیا گیا، دو خواتین اراکین اسمبلی کو گرفتار بھی کیا گیا، ان پر تشدد کیا گیا،بلاول نے مزید کہا کہ حکومت اپوزیشن کے ساتھ کیا سلوک کر رہی ہے، ہم سے جھوٹ بولا جاتا ہے، یہ سیلکٹڈ جوڈیشری چاہتے ہیں، ججز کے خلاف کسی کو بتائے بغیر ریفرنس دائر کر دیے، پارلیمان کو نہیں بتایا گیا، مشرف کی روایات لا رہے ہیں، آج حکومت نے اپوزیشن کے کسی ممبر کو اسمبلی میں نہیں بولنے دیا.

    اس موقع پر گزشتہ روز گرفتار ہونے والی پیپلز پارٹی کی رکن ڈاکٹر شازیہ نے کہا کہ ہم احتجاج کر رہے تھے ہمارے پاس ہتھیار نہیں تھے، گاڑی میں‌ ڈال کر تشدد کیا گیا کیونکہ میں صرف انفارمیشن دے رہی تھی کہ ہمئں کہاں‌لے کر جایا جا رہا ہے،پولیس نے کہا کہ ہم جیل میں‌ ڈالیں گے تو مہمانداری کا پتہ چلے گا. لوگ ہمیں چھڑانے آئے لیکن ملنے نہیں دیا گیا، میڈیکل ہوا لیکن رپورٹ ایشو نہیں کی گئی.

    مسلم لیگ ن کے نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حکومت نے قومی اسمبلی سے راہ فرار اختیارکی، ملک میں مسائل کے انبار ہیں، پپپلز پارٹی کے ساتھ ریاستی دہشت گردی ہوئی ، خواتین پر حملے کی مذمت کرتے ہیں ، یہ صرف خواتین پر حملہ نہیں بلکہ آج اعلیٰ ترین عدلیہ پر حملہ کیا گیا، عدالتو ں کے ججز پر ریفرنس فائل کئے گئے، جج صدر سے پوچھ رہے ہیں کہ کیا ریفرنس دائر کئے گئے، بتایا جائے، اس لئے حکومت نے ریفرنس دائر کئے گئے کہ جج‌آزاد فیصلے نہ کر پائیں، یہ حکومت کی بدترین مثال ہے، تمام بار کونسل، اپوزیشن اکٹھے ہیں، قومی اسمبلی میں قرارداد پاس پونی تھی لیکن اجلاس ملتوی کر دیا گیا، ریفرنس واپس لیا جائے. ہم نے ہمیشہ عدلیہ کا احترام کیا، رات کے اندھیرے میں ریفرنس بنتے ہیں . ہم عدلیہ کے ساتھ کھڑے ہیں، دو مطالبات کئے تھے، چیئرمین نیب اور وزیرستان واقعہ کے حقائق سامنے لانے کے لئے،.لیکن ایک بھی پورا نہیں ہوا.

    حکومتی اتحادی اختر مینگل نے کہا کہ پی پی کے ورکرز کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا.،مذمت کرتا ہوں، کہنے کو ہم جمہوری ملک ہیں، جمہوریت کو چلانے کی کچھ اصول ہوتے ہیں ریفرنس کے نام پر پابندیاں لگائی جا رہی ہیں، جمہوریت کی بجائے ڈکٹیٹر کی بو نظر آ رہی ہے. ججز کے خلاف ریفرنس اچانک کہاں سے نمودار ہوئے، ایک جج کا تعلق بلوچستان سے ہے فیض آباد سے متعلق ریفرنس وجوہات تو نہیں،.جب تک یہاں کے اداروں کو اپنے دائرہ میں رہ کر کام کی اجازت نہیں دی جائے گی تو یہ جمہوریت نہیں بلکہ جمہوریت کے لئے خطرہ ہے. جمہوریت کے لئے لوگوں نے قربانیاں دی ہیں، ہم کبھی نہیں چاہیں گے کہ ایک شخص یا پارٹی کی وجہ سے جمہوری گلدستہ کو ٹھیس پہنچے،اختر مینگل نے مزید کہا کہ میرانشاہ میں جو واقعہ ہوا اس پر پارلیمانی کمیشن بننا چاہئے. تا کہ قصوروار کا فیصلہ کیا جا سکے. ہم آزاد بینچز پر بیٹھے ہوئے ہیں ہم حق کے ساتھ ہیں .

  • ریاست کو للکارنے والے علی وزیر،محسن داوڑ کی رکنیت ختم کی جائے، اسمبلی میں مطالبہ

    ریاست کو للکارنے والے علی وزیر،محسن داوڑ کی رکنیت ختم کی جائے، اسمبلی میں مطالبہ

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں پی ٹی ایم کے گرفتار اراکین علی وزیر اور محسن داوڑ کو اپوزیشن نے ایوان میں لانے کا مطالبہ کیا ہے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی اجلاس میں مولوی جمال الدین نے سوال کیا تھا کہ شمالی وزیرستان میں حالات خراب ہیں، عید سر پر ہے ، علاقے میں کرفیو نافذہے، دواراکین قومی اسمبلی گرفتار ہیں انہیں ایوان میں لاکر ان کی بات سنی جائے۔ جس پر وزیر مملکت علی محمد خان نے کہا کہ ملک کے خلاف فساد کرنے والوں کو ایوان میں بیٹھنے کا کوئی حق نہیں، پاکستان کے جھنڈے کو بچائیں گے یا سیاست کریں گے، ملک کے خلاف سازش کرنے والوں سے استعفیٰ لیا جائے. ان کے جلسون میں پاکستانی پرچم نہیں لے جانے دیا جاتا، محسن داوڑ اور علی وزیر نے پاک فوج پر حملہ کیا ہے. ان کی بنیادی رکنیت معطل کی جائے . قومی اسمبلی اجلاس میں علی وزیر کے خطاب کے دوران بلاول زرداری اور دیگر احتجاج کرتے رہے،اپوزیشن اراکین احتجاج کرتے ہوئے اسپیکر ڈائس کے سامنے پہنچ گئے ، علی محمد خان کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان ہمارا برادر ملک ہے،ہمارے پولیس افسر کی لاش دینے سے کیسے انکار کر سکتا ہے؟پاکستان کے بیٹے کی لاش افغانستان کے پٹھو کو دی گئی،اس ایوان کے ارکان ریاست پاکستان کو للکارتے ہیں۔جن کی وجہ سے فساد پھیلا انہیں اس ایوان میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے شدید ہنگامہ آرائی کے بعد اجلاس ملتوی کر دیا گیا، اپوزیشن کے احتجاج کے دوران بلاول زرداری نشست پر کھڑے ہو کر بولتے رہے لیکن سپیکر نے مائیک نہ کھولا

  • کیٹی بندر کے قریب پی آئی اے کے طیارے کی ہنگامی لینڈنگ

    کیٹی بندر کے قریب پی آئی اے کے طیارے کی ہنگامی لینڈنگ

    پی آئی اے کے تربیتی طیارے میں فنی خرابی کی وجہ سے کیٹی بندر کے قریب ایمرجنسی لینڈنگ کی گئی ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پی آئی اے کے ترجمان نے کہا ہے کہ کیٹی بندر صوبہ سندھ کے ضلع ٹھٹہ میں واقع ہے۔ وہاں پی آئی اے کے تربیتی طیارے کی ایمرجنسی لینڈنگ کی گئی ہے پی آئی اے ترجمان کے مطابق سیسنا 172 کی ہنگامی لینڈنگ تکنیکی خرابی کے باعث کی گئی ،طیارے میں سوار پائلٹ اور اسٹوڈنٹ دونوں خیریت سے ہیں،طیارے نے کراچی سے صبح 9 بجے اڑان بھری تھی ،تقریباً9بجکر40منٹ پر طیارے میں تکنیکی خرابی پیدا ہوئی،پائلٹ نے مہارت سے طیارے کوکیٹی بندرکے قریب اتار لیا، ترجمان کا کہنا ہے کہ طیارے کے نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے ،پی آئی اے نے واقعے کی انکوائری شروع کردی ہے.

  • قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے احتجاج کے بعد اجلاس ملتوی

    قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے احتجاج کے بعد اجلاس ملتوی

    قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر کی زیر صدارت جاری ہے، اجلاس میں پپپلز پارٹی کے اراکین نے سپیکر کے ڈائس کا گھیراو کر لیا ہے ،پپپلز پارٹی کی جانب سے ہنگامہ آرائی کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کر دیا گیا.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کے اراکین نے احتجاج شروع کر دیا ہے، اراکین نے شدید شور شرابہ کیا اور اسپیکر کے ڈائس کا گھیراو کر لیا.اسپیکر کی ڈائس کے سامنے اپوزیشن اراکین نےپلے کارڈز اٹھا رکھے ہیں ،ڈپٹی اسپیکر پیپلزپارٹی کے اراکین اسمبلی کو نشستوں پر بیٹھنے کی بار بار ہدایت کرتے رہے لیکن انہوں نے ایک نہ سنی ،پیپلز پارٹی کے اراکین نے علی محمدکےاظہارخیال کے دوران احتجاج شروع کیا. پیپلز پارٹی کی جانب سے شدید ہنگامہ‌آرائی کے بعد اجلاس ملتوی کر دیا گیا. قومی اسمبلی کے اجلاس کے وقفہ سوالات میں وزیرداخلہ اعجاز شاہ نے کہا کہ ایک لاکھ 21ہزار117کارڈزمشکوک ہونے پربلاک کردیےہیں،جعل سازی سے بنائے گئے9554 قومی شناختی کارڈزمنسوخ کئے گئے ہیں ،غیرملکیوں کوقومی شناختی کارڈ جاری کرنے پرنادرا سے 120 ملازمین برطرف بھی کئے ہیں. انہوں نے مزید بتایا کہ بلوچستان میں بھی 22072 کارڈز مشکوک ہونے پر ضبط کرلیے ہیں ،ضلعی سطح کی کمیٹی کی رپورٹ پربلوچستان کے1450کارڈ منسوخ بھی کردیے.

  • ریاست کو للکارنے والے کی سزا کے خلاف عدالت حکومت پر برہم،کہا وقت ضائع کیا

    ریاست کو للکارنے والے کی سزا کے خلاف عدالت حکومت پر برہم،کہا وقت ضائع کیا

    سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا ہے کہ کیا اور کوئی کام باقی نہیں رہا؟ حکومت پاکستان اتنے قیمتی وقت میں سے وقت نکال کر سپریم کورٹ آگئی.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایک کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے حکومت پر برہمی کا اظہار کیا، سپریم کورٹ میں للکارنے کی بنا پرریاست کی جانب سے سرتاج علی کی ضمانت کےخلاف درخواست پر سماعت ہوئی ،چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی ،چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سرتاج علی نے کسی کو نقصان نہیں پہنچایا صرف اپنی رگوں کو پھلایا ہے،3 سال صرف للکارنے اوراپنی رگیں پھلانے کی وجہ سے جیل میں رکھا گیا، چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ٹرائل میں کوئی شواہد نہیں ملے اور للکارنے والا جیل کاٹ آیا، عدالت کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے سپریم کورٹ کا وقت ضائع کیا ہے،حکومت کوکچھ سوچنا چاہیے، وڈیو لنک پر خرچا آرہا ہے،جرمانہ کر دیتے ہیں، چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ریاست خرچا تو دے جو وقت ضائع ہوا ہے،ریاست کو اپنا دماغ استعمال کرنا چاہیے،عدالت نےہائیکورٹ کا فیصلہ برقراررکھتے ہوئےریاست کی جانب سے کی گئی درخواست مسترد کردی ،ہائیکورٹ نے سرتاج علی کو2018 میں ضمانت پر بری کیا تھا

  • علی وزیر کی گرفتاری ، خیبر پختونخواہ پولیس نے اسپیکر آفس کو کیا بتایا؟

    علی وزیر کی گرفتاری ، خیبر پختونخواہ پولیس نے اسپیکر آفس کو کیا بتایا؟

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے بتایا ہے کہ ایک لاکھ اکیس ہزار 117 شناختی کارڈ بلاک کئے گئے ہیں.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری بھی اسمبلی اجلاس میں پہنچ گئے ہیں. اجلاس میں رکن قومی اسمبلی علی وزیر کی گرفتاری کے حوالہ سے ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ علی وزیرکواقدام قتل،دہشت گردی اور 16 ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا ہے،علی وزیرکودفعہ 302،307،انسداد دہشتگردی کی دفعہ7اور16ایم پی اوکے تحت گرفتارکیا گیا
    خیبرپختونخوا پولیس نے اسپیکرآفس کو آگاہ کردیاہے،ڈی آئی جی آپریشنزکے پی نےآگاہ کیاکہ علی وزیرکومختلف دفعات کےتحت گرفتارکیاگیا، قومی اسمبلی کے اجلاس کے وقفہ سوالات میں وزیرداخلہ اعجاز شاہ نے کہا کہ ایک لاکھ 21ہزار117کارڈزمشکوک ہونے پربلاک کردیےہیں،جعل سازی سے بنائے گئے9554 قومی شناختی کارڈزمنسوخ کئے گئے ہیں ،غیرملکیوں کوقومی شناختی کارڈ جاری کرنے پرنادرا سے 120 ملازمین برطرف بھی کئے ہیں. انہوں نے مزید بتایا کہ بلوچستان میں بھی 22072 کارڈز مشکوک ہونے پر ضبط کرلیے ہیں ،ضلعی سطح کی کمیٹی کی رپورٹ پربلوچستان کے1450کارڈ منسوخ بھی کردیے.

    واضح رہے کہ محسن جاوید داوڑ اور علی وزیر کی قیادت میں پاکستانی چیک پوسٹ پر حملہ کر کے پانچ اہلکاروں‌کو زخمی کیا گیا تھا جن میں سے ایک جوان شہید ہو گیا. علی وزیر کو بنوں‌کی انسداد دہشت گردی عدالت میں‌پیش کیا گیا جس پر عدالت کے جج نے انہیں‌سی ٹی ڈی کے حوالے کر دیا جس کے بعد انہیں‌ سخت حفاظتی انتظامات کے دوران پشاور منتقل کر دیا گیا ہے.

  • تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی کا بھائی عدالت سے گرفتار

    تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی کا بھائی عدالت سے گرفتار

    رکن قومی اسمبلی ریاض فتیانہ کے بھائی اقبال کو گرفتار کر لیا گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق رکن قومی اسمبلی ریاض فتیانہ کے بھائی کو اینٹی کرپشن نے گرفتار کیا ہے ، ملزم کو ہائیکورٹ سے درخواست ضمانت مسترد ہونے کے بعد گرفتار کیا گیا ،درخواست پر سماعت جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کی اور ضمانت کو مسترد کیا، جس پر اینٹی کرپشن نے ملزم اقبال کو گرفتار کر لیا. ملزم پر ملزم پرکمالیہ میں اراضی میں فراڈ کرنےکا مقدمہ درج ہے .

    واضح رہے کہ ریاض فتیانہ چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف بھی ہیں. وہ این اے 113 سے منتخب ہوئے، ان کا تعلق حکومتی جماعت تحریک انصاف سے ہے.

  • مسلم لیگ ن کا اجلاس، حکومت کے خلاف پارلیمنٹ میں احتجاج کا اعلان

    مسلم لیگ ن کا اجلاس، حکومت کے خلاف پارلیمنٹ میں احتجاج کا اعلان

    ججز کے خلاف ریفرنس پر مسلم لیگ ن نے پارلیمنٹ کے اندر احتجاج کا اعلان کیا ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کی مشترکہ پارلیمانی ایڈوائزری گروپ کا اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں اجلاس ہوا اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ججز کے خلاف صدارتی ریفرنس کے خلاف پارلیمنٹ میں احتجاج کیا جائے گا.اجلاس کے دوران ججز کے خلاف ریفرنسز پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت مسلم لیگ ن کے نائب صدر شاہد خاقان عباسی اور سینٹر راجہ ظفر الحق نے کی ، اجلاس میں ایاز صادق، رانا تنویر،مریم اورنگزیب ،مشاہد اللہ خان و دیگر شریک ہوئے. اجلاس کے بعد ایاز صادق نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ججز کے خلاف ریفرنس عدلیہ پر قدغن لگانے کے مترادف ہے. حکومت کو عدلیہ پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی. حکومت کے خلاف بھر پور احتجاج کریں گے.

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سابق وزیراعظم نواز شریف نے کوٹ لکھپت جیل لاہور میں مسلم لیگ ن کے رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسلم لیگ (ن) نے عدلیہ بچاؤ تحریک میں پہلے بھی اہم کردار ادا کیا تھا اور اب بھی عدلیہ پر حکومتی حملے ناکام بنانے میں کسی کمزوری کا مظاہرہ نہ کیا جائے. ان کی پارٹی عدلیہ کے معزز جج صاحبان پر حکومتی الزامات کے پلندے کو بے نقاب کرے اور بھرپور مزاحمت کرے

    واضح رہے کہ حکومت نے سپریم کورٹ کے جج قاضی فائز عیسی و دیگر کے خلاف ریفرنس دائر کیا ہے جس پر 14 جون کو سماعت ہو گی