Baaghi TV

Blog

  • بی جی پی الیکشن جیت کر مسلمانوں اور اقلیتوں‌ کے خلاف فسادات کی آگ بھڑکا رہی ہے. کمیونسٹ پارٹی

    بی جی پی الیکشن جیت کر مسلمانوں اور اقلیتوں‌ کے خلاف فسادات کی آگ بھڑکا رہی ہے. کمیونسٹ پارٹی

    مارکسی کمیونسٹ پارٹی(سی پی ایم)نے بی جے پی پر الزام عائد کیا ہے کہ الیکشن جیتنے کے بعد وہ تری پورہ ریاست میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں‌کے خلاف فسادات کی آگ بھڑکانے کی کوشش کر رہی ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌کے مطابق کیمونسٹ پارٹی نے کہاکہ تری پورہ میں‌ بی جے پی کے برسراقتدار آنے سے اقلیتی اکثریتی علاقوں بشال گڑھ، ادے پور،سونم پورا،جرانیا اور اگرتلا کے سرحدی اور کچھ مضافاتی علاقوں میں فرقہ وارانہ تنازعہ کا خطرہ ہے۔ بی جے پی انتخابات کے نتائج کے اعلان کے بعد سے ریاست کے اقلیتی اور قبائلی اکثریتی علاقوں میں فرقہ وارانہ تنازعہ کو فروغ دینے کا الزام لگا رہی ہے جس سے حالات بگڑ رہے ہیں۔

    سی پی ایم لیڈر اور سابق رکن پارلیمنٹ جتیندر چودھری نے الزام لگایا کہ بی جے پی شرارتی عناصروں کوپناہ دے رہی ہے جو مذہب کے نام پر اقلیتی اور بدامنی کے شکار علاقوں میں فرقہ وارانہ تناؤ پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں۔ ذات پات پر مبنی تناؤ بھی پھیلایا جارہا ہے.
    سبھی غیر سماجی عناصر مقامی لیڈروں کے ذریعہ سے بی جےپی میں شامل ہوگئے اور بھاری رقوم لے کر ریاست کے مختلف حصوں میں وسیع سطح پر تشدد کررہے ہیں جو اب بی جےپی اور وزیراعلی وپلو کمار دیو کے کنٹرول سے باہر ہے۔

    یاد رہے کہ بی جے پی کے برسراقتدار آنے کے بعد سے مسلمانوں‌پر تشدد کے واقعات بڑھ گئے ہیں. سوموار کے دن ایک مسلم نوجوان کو ٹوپی پہننے پر تشد د کا نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ ایک دن قبل مسلم خاندان کو گائے کا گوشت رکھنے پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ایک خاتون سمیت تین افراد کو زخمی کر دیا گیا تھا.

  • مجید نظامی کے حقیقی وارث رمیزہ کے خلاف میدان میں آگئے

    مجید نظامی کے حقیقی وارث رمیزہ کے خلاف میدان میں آگئے

    روز نامہ نوائے وقت کے ایڈیٹر مجید نظامی مرحوم کی لے پالک بیٹی رمیزہ کے خلاف مجید نظامی مرحوم کے حقیقی وارث میدان آ گئے.

    مجید نظامی مرحوم کے حقیقی بھتیجے احمد کمال نظامی نے نوائے وقت کے ڈیکلریشنز کو حقیقی وارث کے طور پر لاہور کی عدالت میں چیلنج کر دیا ہے بانی نوائے وقت حمید نظامی مرحوم ‘مجید نظامی مرحوم کے بھتیجے اور تحریک پاکستان کے کارکن بشیر نظامی مرحوم کے بیٹے کی حیثیت سے احمد کمال نظامی نے رمیزہ زوجہ اویس زکریا عزیز کی حیثیت کو چیلنج کیا ہے کہ وہ مجید نظامی مرحوم کی حقیقی بیٹی نہیں ہے.

    ان کے والد کا نام میاں عارف تھا ‘جبکہ ان کی والدہ کا نام غزالہ بی بی ہے ‘ ان کے دو بھائی اور ایک بہن بھی ہے احمد کمال نظامی نے سینئر سول جج لاہور کی عدالت میں رمیزہ کے علاوہ 28فریقین کو عدالت سے نوٹسز جاری کروائے ہیں جن میں پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ اسلام آباد ‘ڈی جی پی آر ڈپٹی کمشنر لاہور ‘ کراچی ‘اسلام آباد ‘ملتان اور کوئٹہ کو بھی نوٹسز جاری کئے گئے ہیں.

    سیکورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کو بھی نوٹس جاری کئے گئے ہیں ‘اس کے علاوہ احمد کمال نظامی نوائے وقت گروپ آف کمپنیز کے شیئرز کو بھی چیلنج کیا ہے کہ رمیزہ مجید نظامی مرحوم کی وارث کے طور پر ان شیئرز کی حق ملکیت کی حقدار قرار نہیں دی جا سکتی’انہوں نے اپنے کیس میں عدالت سے استد عا کی ہے کہ کیس کا حتمی فیصلہ ہونے تک نوائے وقت کے اثاثہ جات ‘ سرمایہ کاری ‘شیئرز ڈیکلریشنز وغیرہ کیساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہ کی جائے اور انہیں اسی حالت میں بر قرار رکھا جائے.

    انہوں نے عدالت سے یہ بھی تقاضا کیا ہے کہ مجید نظامی مرحوم چونکہ صحافت کے شعبہ میں انتہائی اہم شخصیت تھے اس لئے ان کو مختلف ادوار میں ملنے والے سول ایوارڈ ‘نشان امتیاز ‘ستارہ امتیاز اور ستارہ پاکستان وغیرہ بھی ان کے حقیقی وارثوں کو دئیے جائیں ‘دعوے میں نوائے وقت کی تینوں کمپنیوں کے شیئرز کا تذاکرہ کیا گیا ہے ‘جس کے تحت رمیزہ بھی کئی شیئرز کو اپنی ملکیت ظاہر کر رہی ہے ‘احمد کمال نظامی نے اپنے کیس کے حوالے سے ایک سٹام پیپر کا بھی ذکر کیا ہے کہ جس میں ان کے مطابق مجید نظامی مرحوم نے خود امریکہ کا ویزہ حاصل کرنے کےلئے ایک سٹام پیپر میں اعتراف کیا تھا کہ رمیزہ ان کی لے پالک بیٹی ہے ‘ اس سٹام پیپر کے گواہان میں معروف قانون دان مقبول باٹا ایڈووکیٹ اور حمید نظامی مرحوم کے صاحبزادے اور معروف صحافی عارف نظامی کے دستخظ موجود ہےں’واضح رہے کہ مجید نظامی مرحوم کے تین بھائی حمید نظامی مرحوم ‘خلیل نظامی مرحوم اور بشیر نظامی مرحوم تھے جبکہ دو بہنیں طلعت اکبر مرحومہ اور سردار بی بی مرحومہ تھیں.

    حمید نظامی مرحوم اور بشیر نظامی مرحوم ‘مجید نظامی مرحوم سے بڑے جبکہ خلیل نظامی مرحوم ان کے چھوٹے بھائی تھے ۔

  • کانگریس نے الیکشن میں شکست کا جائزہ لینے کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی

    کانگریس نے الیکشن میں شکست کا جائزہ لینے کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی

    بھارت میں اپوزیشن جماعت کانگریس نے حالیہ انتخابات میں شکست کا جائزہ لینے کیلئے پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌کے مطابق دہلی کانگریس کی صدر شیلا ڈکشت کا کہنا ہے کہ دہلی میں پارٹی کی لوک سبھا الیکشن میں شکست فاش کی وجوہات کا پتہ لگانے کی کوشش کی جائے گی۔

    پانچ رکنی بنائی گئی کمیٹی میں سابق رکن پارلیمنٹ پرویز ہاشمی، سابق وزیر ڈاکٹر اے کے والیا ،ڈاکٹر یوگا نند شاستری، کانگریس کے قومی ترجمان پون کھیڑا اور سابق رکن اسمبلی جے کشن شامل ہیں۔

    اس کمیٹی کو یہ ٹارگٹ بھی دیا گیا ہے کہ یہ عام انتخابات میں پارٹی کی فتح کو یقینی بنانے کا طریقہ بتلائے گی اور 2020 میں دہلی میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی جیت یقینی بنانے کی منصوبہ بندی کی جائے گی۔

    یاد رہے کہ کانگریس کو حالیہ لوک سبھا الیکشن میں‌بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور بی جے پی تنہا تین سو سے زائد سیٹیں‌ لے گئی ہے.

  • میں کھلاڑی تو اناڑی …. فرحان شبیر

    میں کھلاڑی تو اناڑی …. فرحان شبیر

    آج کل کھلاڑیوں کا مقابلہ اناڑیوں کے ساتھ پڑا ہوا ۔ شور اتنا ہے کہ رگ رگ میں محشر برپا ۔ ارے روکو، پکڑو یہ دیکھو اناڑی اور اسکی اناڑیوں کی ٹیم کیا کر رہی ہے ، ہائے کاروبار کو جان کر رہے ہیں ۔ یہ ملک ڈبو رہے تباہ کررہے ہیں ۔ پیاز کی پرتوں کی طرح کھل رہے ہیں برف کی باٹ کی طرح پگھل رہے ہیں ۔ وغیرہ وغیرہ وغیرہ وغیرہ
    جب تک کھلاڑی حکومت میں تھے سارے دانشوڑ ٹریڈ ڈیفیسٹ کے خطرناک حد تک بڑھنے ، امپورٹ میں پانچ سالوں تک ایک ڈالر تک اضافہ نہ ہونے ، ڈیٹ ٹو جی ڈی ریشو ریڈ لیول کراس کر جانے تک کی خبروں کو ایک آنکھ پر ہاتھ رکھ کر پڑھتے رہے دوسری آنکھ کے سامنے ہمیشہ اشتہارات نظر آتے تھے لہذا معیشت پر بات کرنا وقت کا ضیاع ہوتا تھا ۔ ہائے یہ اگر اس وقت اپنے کیلکولیٹر نکال لیتے تو شاید اسوقت اتنی بھک منگی صورتحال نہ ہوتی ۔ یہ سیانے گرگئے تھے سجدے میں جب وقت قیام آیا ۔

    کھلاڑی اتنے فنکار تھے کہ آنے والی حکومت کے ہاتھ پاوں باندھنے کے لئیے جاتے جاتے کمال ڈھٹائی کے ساتھ آنے والے سال بجٹ تک خود بناکر گئے ۔ جس میں ریونیو کی قربانی کر کے مختلف طبقات کو ٹیکسز کی چھوٹ دے کر نوازا گیا ۔ تاکہ آنے والی حکومت ریونیو کلیکشن کا ہدف پورا کر ہی نہ پائے ۔ سب کو خوش کرنا تھا لہذا سیلیریڈ پرسن کے ٹیکس کی شرح سے لیکر slabs تک ریلیکس کر کے چلے گئے ۔ بظاہر عوام کو اچھا لگا کہ حکومت نے ریلیف دیا لیکن یہ ریلیف حب علی سے زیادہ بغض معاویہ کا شاخسانہ تھا ۔

    پھر اس ٹیم کے سب سے بڑے کھلاڑی اسحاق ڈار کا کارنامہ غلط اعداد و شمار پیش کرنا تھا ۔ ملکی قرضوں کی تفصیل 2016 میں آن ریکارڈ اسمبلی میں غلط جمع کرائی ، فارن ریزرو کے حوالے سے جھوٹ ، بانڈز کے اجرا اور انکی شرح منافع پر جھوٹ ، پاور کمپنیز کی ادایگیوں کے بارے میں جھوٹ ، حتی کہ ملکی اثاثے کی گروی رکھے جانے کی ڈیٹیل بھی غلط اور جھوٹ کہ آج پتہ چل کر حکومت کے ہوش آڑ رہے ہیں ساورن گارنٹیز کی مد میں ہی ایک ہزار ارب روپے سے زیادہ کا قرضہ چڑھا دیا کھلاڑیوں نے ۔ حالانکہ ان کھلاڑیوں نے سب سے پہلا چونا ہی قرض اتارو ملک سنوارو نعرے سے لگایا تھا ۔
    پھر جاتے جاتے اک ہور وڈے کھلاڑی ، پندرہ بیس سالوں میں تیزی سے ترقی کرتی ائیر لائن ائیر بلو کمپنی کے مالک، شاہد خاقان عباسی صاحب، خزانے پر ایسی جھاڑو پھیر کر گئے کہ آنے والوں کے پاس ایک پیسہ نہ رہے ۔ چودہ سو سے سولہ سو ارب روپے تک کی ادئیگیاں کرکے گئے ۔ جن ایکسپورٹرز کو پانچ سال ریبیٹ کے لئیے رلایا انہیں بھی کچھ ادئیگیاں اسی دور میں ہوئیں ۔ پھر ادئیگیاں ہی نہیں عباسی صاحب نے تو ایک ارب روپیہ الیکشن سے پہلے وزیر اعظم کے صوابدیدی فنڈ سے نکال کر اپنے بیٹے کے کے حوالے کر دئے، قوم کے ان پیسوں سے جو صوابدیدی فنڈ میں ضرورت مندوں کی مدد کے لئیے ڈالے جاتے ہیں عباسی صاحب کے حلقے کے لوگوں کو عمرہ پیکج دیا گیا ۔ کیا یہ اندھے تھے جو خزانے کی خانہ خراب حالت نظر نہیں آرہی تھی یا واقعی آنے والی حکومت کو ہر حالت میں کانا کرنا تھا ۔

    ادھر پنجاب گورنمنٹ کے کھلاڑیوں نے اپنی تصویروں اور شہزادے شہزادیوں کی پروجیکشن پر میڈیا بھر میں 430 ارب روپے کے ادھار اشتہار چلا دئیے کہ دیتے رہینگے آنے والے ۔ ورنہ تو میڈیا جانے اور نئی حکومت ۔ میڈیا خود ہی قدموں پر جھکا کر اپنے پیسے نکال لے گا ۔ ۔ واہ یہی تو کھلاڑی پن ہوتا ہے ۔ اپنی ہینگ لگے نہ پھٹکری عوام کے پیسوں سے پبلسٹی کا ڈھول بجاو اور سیاست میں رنگ بھی چوکھا لاو ۔ اب یہی 430 ارب روپیہ اس نئی پنجاب گورنمنٹ کے گلے پڑ گیا ۔ انہی پیسوں کا نہ دینا ہی تو ہے جو میڈیا پر ہر صافی و ناصافی اناڑی اناڑی کی گردان لگائے ہوئے ہے ۔ کسی کو چائے کے نہ پوچھے جانے کا غم ہے تو کسی کو اپنی بے قدری کا ۔ یہ کھلاڑیوں کی عنایت خسروانہ کا فیضان ہے جو آج بڑے بڑے دانشوڑ عمران خان کو ناکام ٹہرانے کے لئیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں ۔

    مسلہ یہ ہے یا تو یہ بے چارے معیشت جانتے نہیں اور اگر جانتے تو کھلاڑیوں سے دو چار Basic سے سوال کبھی نہ کبھار تو ضرور پوچھتے ۔ کیونکہ سوال تو یہ بنتا ہے کہ دو ارب ڈالر کے ٹریڈ ڈیفیسیٹ کو بیس ارب ڈالرز تک پہنچانے پر اسحاق ڈار کو اچھا تو کیا صرف معیشت دان بھی کیسے گردانا جاسکتا ہے اتنا تو ایک منشی بھی سمجھتا ہے آمدنی اٹھنی اور خرچہ ایک روپئیا اور جو گدھے اس ٹریڈ ڈیفیسٹ میں نو ماہ میں ہی 30 فید کمی لے آئے وہ آپکی نظر میں کیسے اور بھلا کس طرح اناڑی ہیں ۔

    اناڑیوں نے PIA کا loss روک دیا واہ بھئی واہ بڑے زبردست اناڑی ہیں ۔ کھلاڑیوں کو تو شرم آنی چاہئیے کہ پی آئی اے کے نام پر دس سالوں سے ری ویمپنگ ری ویمپنگ کا شور مچانے کے باوجود بھی خسارہ 400 ارب پر پہنچا دیا ۔ جو کہ جمہوریت کے بہترین انتقام کے سب سے بڑے کھلاڑی زرداری کے دور میں شاید 200 ارب تھا ۔ دماغ گھوم کر رہ جاتا ہے کہ آج کے اس دور میں بھی پی آئی اے پر حاضری یا attendance ہاتھ سے رجسٹر میں لکھی جاتی تھی ان بچوں نے اٹیینڈنس کا سسٹم Thumb والا کیا جو آج کے چورن چٹنی بیچنے والوں نے بھی کرالیا ہے ۔ کیا عباسی صاحب کی اپنی ائر لائن ائیر بلو میں بھی اٹینڈینس کا یہی نظام ہوگا اسکا جواب میں آپ پر چھوڑتا ہوں ۔

    اور کیا گنوائیں کھلاڑیوں کی فنخاریاں ؟ چلو یہ ہر وقت کھلاڑی اناڑی کا شوڑ مچانے والے دانشوڑ ہی کسی ایک ادارے کا ، بس صرف کسی ایک ادارے کا نام بتا دیں جسے ان مہان کھلاڑیوں نے خسارے سے نکال کر منافع میں لایا ہو ۔ کوئی ایک ادارہ ۔ اور ایسا نہیں ہے کہ دنیا کے ملکوں کے ادارے نہیں کما رہے تھے ۔ Emirates ائیر لائن ہماری PIA کو منہ چڑاتی چڑاتی دنیا کے آسمانوں پر چھا گئی ۔ اور اسکی انگلی پکڑ کر اڑانے والی پی آئی اے اپنے بال و پر نچتے دیکھتی رہی ۔

    اسٹیل مل تباہ حال ، جالے پڑھ گئے ۔ وہ اسٹیل مل جو ہماری آج کی امپورٹ بل کی کئی ادائگئیوں سے نجات دلا جو آج ہم اسٹیل کی امپورٹ کی صورت میں لاد رہے ہیں ، ایک بوچھ بن گئی ہے ۔ اسکے ایمپلائز کی تنخواہیں بھی یہ اناڑی کلئیر کر رہے ہیں کہ وہ چلے تو آنے والے دنوں میں چار پیسے بھی کمائے ۔ کوئی سوچ سکتا یے کہ جس ملک میں CPEC سے لیکر دیگر بڑے بڑے پراجیکٹس میں اسٹیل کی بے تحاشہ کھپت ہو، چائنا سے لیکر ملک کی دیگر اسٹیل ملز سے حکومت کو اسٹیل کی Buying کرنا پڑھ رہی ہو اسکی اپنی خود کی سمندری جیٹی رکھنے والی اسٹیل مل سسک سسک کر گھٹ گھٹ کر دم توڑ رہی ہو مسلسل خسارے میں چلانی پڑھ رہی ہو لیکن ریاض لال جی سے لیکر شریفوں کی اپنی اسٹیل فیکٹریاں فولاد پہ فولاد ڈھالے جارہی ہوں ۔ ہذا من فضل ربی ۔ اپنی فیکٹری میں ایک مزدور اضافی نہ رکھو ۔ PIA، اسٹیل مل ، OGDCL , PPL ,M اور ان جیسے سارے کماو پوت اداروں کو بھر دو سیاسی کارکنوں سے ، مس مینیجمنٹ کے ذریعے ڈس انٹیگریٹ کرا دو تباہ کرا دو ۔ اور بعد میں اسکریپ بھی نہ چھوڑو ۔

    اسی پاکستان میں ہم دیکھ رہے تھے کہ کورئیر سروسز کے میدان روز روز نئی کمپنیاں نمودار ہورہی تھیں ۔ چیتا ، لیپرڈ، ٹی سی ایس ، DHL ، پھر ڈائیئوو والوں کی بھی کارگو ہینڈلنگ ، پھر ٹرک ٹرالر سے کارگو ہینڈلنگ الگ بزنس ۔ 2۔2 بلین ڈالرز کی کارگو ہینڈلنگ مارکیٹ سے ساری یہ پرائویٹ کمپنیاں اپنا اپنا حصہ وصول کر رہی تھیں وہیں ہمارا اپنا Pakistan post ” ڈاکیا ڈاک لایا ڈاکیا ڈاک لایا والے” سسٹم میں پھنسا ہوا تھا ۔ کسی کھلاڑی کو کبھی توفیق ہی نہیں ہوئی کہ پاکستان پوسٹ کے گاوں گاوں دوردراز کے علاقوں تک بنے بنائے اس سسٹم کو ذرا سا اپ گریڈ کر کے، ڈیجیٹلائز کرکے اور موبائل ایپس پر لاکر کچھ کما کر ملک کے خزانے میں تھوڑا کچھ پیسہ ڈال بھی دیں ۔ اب یہی ” اناڑی” اسی پاکستان پوسٹ کو ڈیجیٹل مارکیٹ میں لے آئے ۔ منی ٹرانفسر کی سہولیات سے موبائل بینکنگ انڈسٹری میں سے بھی اپنا شئیر لیا اور ساتھ میں سامان کی زیادہ ترسیل سے کام بھی زیادہ ہوا ۔6 ارب کا منافع ہوگیا پاکستان پوسٹ کو ۔ یہ آگے اور زیادہ ہونا ہے کیونکہ Cpec کی صورت میں اس پورے خطے میں ٹرانسپوٹیشن سیکٹر میں بیس فیصد کا اضافہ ہوگا ۔ تبھی ہم دیکھ رہے ہیں کہ روٹھی ہوئی ائیر لائینز پھر سے پاکستان واپسی کے روٹس کھول رہی ہیں ۔

    مجھے یہ بھی حیرانی ہوتی ہے کہ مُحَمَّد بن سلمان بھی بے وقوف تھا کہ اس نے کہا کہ وہ عمران خان وزیراعظم بننے کا انتظار کرہے تھے ۔ زمانے کے سرد و گرم دیکھے ہوئے ملائیشیا کے قابل احترام وزیراعظم مہاتیر مُحَمَّد بھی غالبا عقل سے پیدل ہوگئے ہیں بقول نارووال کے ارسطو ” اناڑی کے ہاتھ استرا دیکھ کر بھی سنبھل نہیں رہے جو بھاگ بھاگ کر دامے درمے سخنے پاکستان میں انویسٹمینٹ کے پلان لیکر آرہے ہیں ابھی کل ہی کویت نے 22 ارب ڈالرز کی انویسٹمینٹ کا ارادہ ظاہر کیا ہے ۔ 2 لاکھ 20 ہزار فی یونٹ کے لحاظ سے آسانی سے بنائے والے گھروں کی اسکیم تک لانچ کرنے کا ارادہ ظاہر کرہے ہیں ۔
    پھر سب بڑھ کر کیا یہ چین کو بھی سمجھ نہیں آرہا کہ” او تیری تو۔۔۔ لٹ گئے۔۔ برباد ہوگئے۔۔۔ یہ پاکستان میں کون اناڑی آگئے۔۔۔ یہ کس کے ہاتھوں میں استرا آگیا ۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ ۔ یہاں تو چین کا عالم یہ ہے انہی اناڑیوں کے وزیراعظم کو دورے پر بلا کر پاکستان کو آسیان ممالک ( ملائشیا ، ویٹ نام وغیرہ ) کی طرح کا ڈیوٹی فری معاہدہ کرلیتا ہے کہ ” چل جانی 313 پراڈکٹس ڈیوٹی فری لے آو ” ۔ اس میں پاکستان اگر صرف گارمنٹس میں ہی فوکس کر لے تو وہ ہی اپنے کو کافی ہے بھائی ۔ ایک تو پاکستان کی بہترین کپاس ، ہمارا پہلے سے ٹیکسٹائل میں برسوں کا تجربہ اور ابھی بھی انسٹالڈ اینڈ ان پلیس انڈسٹری اور تیسری اور سب سے بڑی بات چین کی کپڑے کی پوری مارکیٹ ۔ آپ کو جان کر حیرت ہوگی کہ چین سالانہ 625 ارب ڈالرز کے کپڑے ، گارمنٹس اور اس سے متعلقہ آرٹیکلز import کرتا ہے یعنی دنیا سے خریدتا ہے تو اب ہمارے پاکستانی گارمنٹس ایکسپورٹرز کے لئیے سوا ارب لوگوں کی ایک بہت بڑی مارکیٹ کھل گئی ہے ۔ جوکہ بہت بڑی اپرچونٹی ہے پاکستان کے لئیے اپنے پیروں پر دوبارہ کھڑے ہونے کے لئیے ۔ کیونکہ ٹیکسٹائل فارن ایکسچینج کے ساتھ لیبر فورس کو کھپانے میں بھی نمبر ون سیکٹر رہا ہے پاکستان کا ۔

    میں حیران ہوں کہ یہ اچھے اناڑی ہیں جو ٹیکس کی دنیا کا معتبر ترین نام شبر زیدی کو لے آتے ہیں ایف بی آر کو سنبھالنے کے لئیے ۔ جس نے آتے آہی پاکستان کی معیشت کی خرابی کی روٹ کاز کو ختم کرنے کے لئیے کام شروع کردیا ۔ یعنی معیشت کی ڈاکومینٹیشن ۔ بلیک اکانومی جب سامنے ائیگی تب ہی پاکستان کی معیشت بھی سدھرے گی ۔ ہاں جہاں تک بات آئی ایم ایف کے معاہدے کی ہے تو اس منزل تک نوبت نہ پہنچنے کی ہم نے بھی بہت دعا کی تھی لیکن” بیگرز آر نوٹ چوزرز” والی بات کہ اگر پچھلوں نے اس حال میں چھوڑا ہوتا تو کچھ اکڑ بھی دکھاتے ۔ وہ تو ابتدائی بھاگ دوڑ رنگ لائی دوست ممالک بروقت آگے بڑھے اور یوں پچھلے ایک سال میں پندرہ سولہ ارب روپیہ اسی پاکستان بچاو مد میں آگیا ۔ یہ تھوڑی بہت اکڑ اور بھاگ دوڑ ہی کام آگئی کہ آئی ایم ایف کا شکنجہ اتنا سخت نہیں جتنا پہلے لگنے کا امکان اور رویوں کا پلان تھا ۔ تھوڑا اطمینان یہ تسلی دیکر بھی ہوا کہ امریکہ ہی کے نہیں روس اور چین کے بھی آئی ایم ایف میں شئیرز ہیں ۔ لہذا وہ بھی اب آئی ایم ایف کو اپنا گندہ کھیل کھل کر نہیں کھیلنے دینگے ۔
    اپنا کہنا تو یہ ہے اناڑی ٹن کے لگے رہیں دو چار اناڑیوں نے بھی کام دکھا دیا تو قوم کی ان کھلاڑیوں سے جان چھوٹ جائیگی جو ملک کے لئیے نہیں اپنی سینچریاں بنانے کے لئیے کھیلتے رہے اور قوم کی جان بھی ایسے کمنٹریٹروں سے چھوٹ جائے جنہوں نے مداریوں کو کھلاڑی بتا بتا کر قوم کو چونا لگائے رکھا ۔

  • بھارتی ایجنسیوں‌ کی پاکستان کیخلاف پروپیگنڈا مہم، دھمکی آمیز خط ملنے کا دعویٰ‌ کر دیا

    بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے پاکستانی سرحد سے متصل پنجاب میں پٹھان کوٹ ریلوے اسٹیشن کے سپرنٹنڈنٹ کودھمکی آمیز خط موصول ہونے کا دعویٰ کیا ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌کے مطابق ہندوستانی ایجنسیوں‌ نے مضحکہ خیز الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خط مبینہ طور پر پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی طرف سے بھیجا گیا ہے جس میں‌ پٹھان کوٹ سٹی اور کینٹ اسٹیشن کو اڑائے جانے کی دھمکی دی گئی ہے. یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس خط کے ملنے کے بعد سکیورٹی انتظامات انتہائی سخت کر دیے گئے ہیں.

    بھارتی ایجنسیوں‌کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی نے یہ خط مبینہ طور پر ڈاک کے ذریعہ بھیجا ہے. یاد رہےکہ ہندوستانی خفیہ ایجنسیوں‌کی جانب سے پہلے بھی پاکستان کے‌خلاف ایسے گھٹیا الزامات عائد کئے جاتے رہتے ہیں.

  • پاک فوج کی چوکی پہ حملہ افسوس ناک،جواب کی صلاحیت رکھتے ہیں

    پاک فوج کی چوکی پہ حملہ افسوس ناک،جواب کی صلاحیت رکھتے ہیں

    ٹھٹھہصادق آباد (نمائندہ باغی ٹی وی)
    مرکزی چیئرمین محبان وطن پاکستان پیر محمد حیات شاہ کھگہ نے کہاکہ شمالی وزیرستان میں آرمی چیک پوسٹ پر دہشت گردانہ حملہ افسوسناک ہے اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، ملک دشمن اندرونی اور بیرونی طاقتیں پاکستان کا امن و سکون تباہ کرنے کے در پے ہیں، مگر افواج پاکستان نے ہمیشہ ملک دشمنوں کو منہ توڑ اور موثر جواب دے کر وطن عزیز کا بھرپور دفاع کیا ہے، شمالی وزیرستان میں چوکی پر دہشت گرد حملہ میں شہید آرمی جوانوں کو سلام عقیدت پیش کرتے ہیں، ان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا،پاکستان کی سالمیت، امن و سلامتی استحکام ناقابل تسخیر دفاع کے لئے ہر محب وطن پاکستانی افواج پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے، ملک دشمنوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے پر پاکستان آرمی سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

  • مقبوضہ کشمیر، ذاکر موسی اور ظہور احمد کی شہادت کے خلاف چوتھے دن بھی ہڑتال

    مقبوضہ کشمیر، ذاکر موسی اور ظہور احمد کی شہادت کے خلاف چوتھے دن بھی ہڑتال

    مقبوضہ کشمیر میں کشمیری کمانڈر ذاکر موسیٰ اور شہری ظہور احمد کی شہادت پر سوموار کو چوتھے دن بھی جنوبی کشمیر میں مکمل ہڑتال کی گئی جس پر تمام کاروباری مراکز اور پٹرو ل پمپ وغیرہ بند رہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق قابض انتظامیہ نے موبائل اور انٹرنیٹ سروس بند رکھی جبکہ جنوبی کشمیر میں ٹرین سروس بھی بند کر دی گئی۔ بھارتی فورسز کی جانب سے کولگام، اسلام آباد(اننت ناگ)، شوپیاں، ترال اور دیگر علاقوں میں جھڑپوں کے پیش نظر اضافی فورسز تعینات کی گئیں۔ ہڑتال کی وجہ سے کاروباری زندگی معطل رہا۔ ٹرانسپورٹ بھی کم رہی اور سرکاری دفاتر میں حاضری کم رہی۔

    کشمیریوں کی بڑی تعداد نے گزشتہ روز بھی شہری ظہور احمد اور ذاکر موسیٰ کے گھروں میں جاکر اظہار تعزیت کیا۔ اس موقع پر بھارتی فورسز کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر جگہ جگہ ناکے لگا کر شہریوں کی چیکنگ کی جاتی رہی۔ قابض انتظامیہ نے تعلیمی ادارے سوموار کے دن بھی بند رکھے۔ حساس علاقوں میں اضافی نفری تعینات رکھی گئی۔ کشمیر میں احتجاجی مظاہروں‌کا سلسلہ تاحال جاری ہے.

  • لودھراں : بچہ نہر میں کیسے ڈوب گیا ؟

    لودھراں (نمائندہ باغی ٹی وی) دنیاپور کے علاقے ہیڈکریاں والا میں مقامی بچہ کی لاش ملی ہے

    تفصیلات کے مطابق مقامی لوگوں نے نہر میں نعش دیکھی تو ریسکیو اور پولیس کو اطلاع دی ریسکیو 1122 کی ٹیم نے موقع پر پہنچ کر بچہ کی نعش نہر سے نکال لی بچہ مرگی کا مریض تھا اور نہر کے کنارے اچانک مرگی کا دورہ پڑنے سے نہر میں ڈوب کر جاں بحق ہو گیا

  • ایران نے امریکہ سے بات چیت کی خواہش رکھی تو میں بھی اس کیلئے تیار ہوں. ڈونلڈ ٹرمپ

    ایران نے امریکہ سے بات چیت کی خواہش رکھی تو میں بھی اس کیلئے تیار ہوں. ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران امریکہ سے بات چیت کا خواہشمند ہوا تو میں بھی اس کے لئے تیار ہوں. یہ بات انہوں نے جاپانی وزیراعظم شنزو آبے کے ساتھ ملاقات کے دوران کہی ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ کوئی بھی یہ نہیں‌ چاہتا کہ بدترین چیزیں‌ پیش آئیں. میں‌ سمجھتا ہوں کہ ایران بات چیت کا خواہش مند ہے۔ اگر اس کی طرف سے اس خواہش کا اظہار کیا گیا تو ہم بھی اس کے خواہش مند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے تاہم میں ایک حقیقت جانتا ہوں کہ وزیراعظم شنزوآبے کے ایران کی قیادت کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔

    امریکی صدر نے کہا کہ امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان بڑا اور متبادل احترام پایا جاتا ہے۔ انہوں نے جاپانی وزیراعظم سے بات چیت میں کہا کہ شمالی کوریا کے ساتھ بہت سی اچھی چیزیں ہوں گی، ہم نے بڑا فاصلہ طے کر لیا ہے۔ ملاقات کے دوران جاپانی وزیراعظم شنزو آبے نے کہا کہ انہوں نے امریکی صدر کے ساتھ شمالی کوریا، اقتصادی معاملات اور آئندہ جی 20 سربراہ اجلاس کے حوالے سے بات چیت کی۔

    یاد رہے کہ ایران اور امریکہ کے مابین ان دنوں‌کشیدگی چل رہی ہے اور دونوں اطراف سے جارحانہ بیان بازی دیکھنے میں آرہی ہے. امریکی صدر نے قبل ازیں دھمکی دیتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ اگر جنگ ہوئی تو ایران ختم ہو جائے گا جبکہ ایران نے اس دھمکی پر شدید ردعمل ظاہر کیا تھا.

  • چنیوٹ فیصل آباد روڈ کو ون وے بنانے کے لئے آل پارٹیز کانفرنس

    چنیوٹ ( نمائندہ باغی TV) آل پارٹیز کانفرنس،فیصل آباد چنیوٹ روڈ اور لاہور روڈ کو ون وے بنانے پر تمام سیاسی و سماجی پارٹیوں کے رہنماؤں نے سر جوڑ لئے ,پاکستان مزدور محاز ضلع چنیوٹ کے دفتر میں آل پارٹیز کانفرنس کرتے ہوئے ہنگامی بنیادوں فیصل آباد چنیوٹ روڈ اور لاہور روڈ کو ون وے کرنے کا مطالبہ صوبائی جنرل سیکرٹری پاکستان مزدور محاز ڈاکٹر علی امین کہتے ہیں موجودہ حکومت فل فور چنیوٹ کی تمام بڑی شاہراہوں کو ون وے بنانے کے احکامات جاری کرے,
    چنیوٹ کی تمام بڑی شاہراہوں کو ون وے بنانے کیلئے پاکستان مزدور محاز ضلع چنیوٹ کے دفتر میں آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی جس میں پاکستان مزدور محاز, پاکستان تحریک انصاف, پاکستان پیپلز پارٹی جماعت اسلامی, مسلم لیگ ن, چنیوٹ بار ایسوسی ایشن, پرنٹ میڈیا ایسوسی ایشن, انجمن شہریان چنیوٹ, فری لیگل ایڈ سوسائٹی چنیوٹ, انجمن فرنیچر کاریگر مزدور محاز چنیوٹ, فرنیچر ایسوسی ایشن چنیوٹ, انجمن تاجران چنیوٹ , نوجوان محاذ چنیوٹ, المحاذ سینٹری ورکرز اینڈ سٹاف یونین,رکشہ مزدور محاز یونین اور کنونیئر عوامی روڈز کمیٹی کے صدور اور نمائندوں نے شرکت کی آل پارٹیز کانفرنس میں مقررین نے کہا کہ فیصل آباد چنیوٹ روڈ ون وے نہ ہو سکا روزانہ کی بنیاد پر درجنوں حادثات ہونا معمول بن گیا لاشیں آٹھ آٹھا کر ہمارے کندھے تھک گئے لیکن نہ سابقہ حکومتوں نے کان دھرے اور نہ ہی موجودہ حکومت ,صوبائی جنرل سیکرٹری پاکستان مزدور محاز ڈاکٹر علی امین کا کہنا تھا کہ آل پارٹیز کانفرنس منعقد کروانے کا مقصد فیصل آباد چنیوٹ روڈ اور لاہور روڈ کو ون وے بنانا ہے,موجودہ حکومت فل فور چنیوٹ کی تمام بڑی شاہراہوں کو ون وے بنانے کے احکامات جاری کرے, اگر فیصل آباد چنیوٹ روڈ اور لاہور روڈ کو ون وے نہ کیا گیا تو احتجاجی مظاہرہ کریں گے,