Baaghi TV

Blog

  • خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کے اندر سے عمران خان کے خلاف سازش کا دعویٰ کر دیا، قومی اسمبلی میں گرما گرمی

    خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کے اندر سے عمران خان کے خلاف سازش کا دعویٰ کر دیا، قومی اسمبلی میں گرما گرمی

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ محمد آصف نے دعویٰ کیا ہے کہ تحریک انصاف کے اندر سے بعض لوگ عمران خان کو ہٹانا چاہتے ہیں سپیکر صاحب کو اس کا علم ہے. ادھر شمالی وزیرستان کے معاملہ پر قومی اسمبلی میں زبردست گرما گرمی ہوئی ہے جس پر اپوزیشن نے کاروائی کا بائیکاٹ کر دیا.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت اجلاس میں‌ خواجہ آصف نے کہاکہ خیبر پی کے کراچی اور گوادر تک ہمارے مسائل حل نہیں‌ہو رہے. بلوچستان میں‌ مسلسل انتشار کی کیفیت ہے اور آئے دن دہشت گردی کی وارداتیں‌ہو رہی ہیں. سرحد پار دہشت گرد بیٹھے ہیں. کمزوریوں‌ پر قابو نہ پایا گیا تو ملکی سلامتی کیلئے خطرناک ہو گیا. ہم نے مشرقی پاکستان میں‌بھی غلطیاں‌کیں، فاٹا سب سے زیادہ دہشت گردی سے متاثر ہوا ہے. ہمیں‌ فاٹا کو قومی دھارے میں‌لانا چاہیے. چند روز قبل ایک متفقہ آئینی ترمیم کو منظور کیا گیا جو نجی بل تھا، افسوس کچھ عناصر اب سینیٹ سے اس بل کی متفقہ منظوری نہیں چاہتے۔

    انہوں نے کہاکہ پاکستان کا موجودہ وزیر خزانہ پی پی اور مشرف دور میں‌ بھی رہا ہے. پی ٹی آئی کو بندے لیز پر لینا پڑ رہے ہیں انہیں‌کوئی نیا بندہ نہیں‌ ملتا. ہماری معیشت پراور اسٹیٹ بنک میں آئی ایم ایف کے لوگ بیٹھ گئے ہیں. معیشت چلانے والوں‌ کا کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں. ہماری معاشی آزادی پر سمجھوتہ کیا جارہا ہے.

    خواجہ آصف کی شمالی وزیر ستان سے متعلق تقریر پر تحریک انصاف حکومت کے وفاقی وزیر مراد سعید نے دھواں‌دھار خطاب کیا اور کہا ہے کہ محمود اچکزئی اور محسن داوڑ تو سرحد پر خاردار تاریں لگانے کے خلاف تھے. را اور این ڈی ایس یہاں‌دہشت گردی کر رہی ہے. یہ لوگ نہیں چاہتے تھے ہماری سرحدیں محفوظ ہوں. محسن داوڑ جواب دیں کہ ان کا افغان ایجنسی این ڈی ایس سے کیا تعلق ہے ورنہ میں‌انہیں‌خود بے نقاب کردوں گا۔ پاک فوج کو گالیاں دینے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ وفاقی وزیر مراد سعید کی تقریر کے دوران اپوزیشن ممبران پارلیمنٹ نے زبردست ہنگامہ آرائی کی اور ایوان سے واک آؤٹ‌کر دیا.

    یاد رہے کہ پارلیمنٹ‌ میں‌ خواجہ آصف کی طرف سے پی ٹی آئی کے اندر سے عمران خان کو ہٹانے کی خبر سے متعلق سپیکر صاحب کے اس حوالہ سے معلومات رکھنے کی بات کرنے پر سپیکر نے مسکراتے ہوئے کہاکہ انہیں‌ اس کا کچھ معلوم نہیں‌ہے.

  • پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے 2 افراد زخمی۔

    سول ہسپتال میں آج پاکستان تحریک انصاف کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے سلمان آغا اور بھائیوں پر آج پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے مرکزی رہنما مجید اچکزئی کے بندوں نے حملہ کیا. زخمی ابھی ٹراما سینٹر سول ہسپتال کوئٹہ میں زیر علاج ہے.
    سلمان آغا اور بھائی شدید زخمی ہے مقدمہ درج کرنے کے بجائے اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ بہادر خان حمیدزئی سلمان آغا اور بھائیوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ راضی نامہ کیا جائے.
    متاثرین کا مزید کہنا تھا کہ لیویز تھانہ زرغون انچارج قاہر اس سارے واقعے کے ذمہ دار ہے بالا حکام سے درخواست ہے کہ اس کا سختی سے نوٹس لیا جائے اور متاثرین کا کہنا ہے کہ مجید اچکزئی غیرقانونی طور پر کوئلے کے کان پر قبضہ کرنا چاہتا ہے جو کہ سلمان آغا اینڈ برادرز کول کمپنی کی پچھلے 50 سال سے ملکیت ہے۔

  • تیری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں پے …فرحان شبیر

    تیری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں پے …فرحان شبیر

    تیری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں پے ۔
    پاکستان اور بھارت ایک ساتھ ہی آزاد ہوئے اور ایک ساتھ ہی دنیا کے نقشوں پر نمودار ہوئے ۔ پاکستان بنانے والوں پر مذہب کا استعمال کرنے کا طعنہ کسا جاتا رہا جبکہ بھارت والوں کے سیکولرازم اور ہندو نہیں بلکہ انڈین نیشنلزم کی مثالیں دیں جاتی رہیں کہ ہندوستان میں سارے انڈین ہیں نو مسلم ، نو عیسائی ، نو ہندو وغیرہ وغیرہ ۔
    چلو اب مودی کی فتح نے کچھ باتیں تو کلئیر کردیں کہ مسلمان چاہے ادھر کا یا ادھر کا یا مشرق وسطی کا ، بھلے کتنا ہی چول بنا رہے کتنا ہی اپنے دین سے لاتعلق رہے اسکا وجود ہی دل دشمناں میں کانٹے کی طرح کھٹکتا رہیگا ۔ دو قومی نظریہ کل بھی درست تھا آج بھی تر و تازہ ہے ۔ بانیان پاکستان نے اسے بہت پہلے محسوس کرلیا تھا اور ہندو کے دانتوں سے چھین کر مسلمانوں کو ایک ملک لیکر دیا ۔ بہت کہا جارہا تھا کہ ہندوستانیوں کو لگ پتہ گیا ہے لہذا اب وہ مودی کی مذہب کی سیاست کا چورن نہیں پھانکیں گے لیکن چشم فلک کی آنکھ نے یہ نظارہ بھی دیکھا کہ خود کو سیکولر کہلانے والے ملک میں ہندو دھرم کا علم لہرائے نریندر مودی اور امیت شاہ جیسے کٹر مسلم دشمن رہنما اپنی قوم سے پہلے سے زیادہ اکثریت لینے میں کامیاب ہوگئے ۔

    یہ تو ہمارے ہاں کا اندھیرا ہے جس میں ادھر والوں کو پتہ ہی نہیں کہ آس پاس میں ہو کیا رہا ہے ۔ کس طرح پورے کا پورے بھارت ہندو انتہا پسندی کے نرغے میں آکر ہندوستان بنتا جارہا ہے یا بنگلہ دیش میں پاکستان کا نام لینے والوں پر کس طرح زمین تنگ کی جارہی ہے ۔ یا اسرائیل کے حالیہ الیکشن میں ایک طرف جیتنے والا کٹر یہودی نیتھن یاہو اور دوسری جانب ہارنے والا اس سے بھی کٹر یہودی انکا سابق آرمی چیف تھا ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح میں بھی یہاں زیادہ سے زیادہ وائٹ ریسسزم کو ہی دیکھا گیا حالانکہ اس کی بھی فتح میں ایک بہت بڑا کردار ایونجیلیکلز کرسچین اور امریکی زائینوسٹ نظریات کے حامی jews کا ہے ۔
    میرے ہاں تمہارے چاہنے والے ، بھارت نواز حلقے قوم کو ہمیشہ تمہارا ایک نقلی چہرہ ہی دکھاتے رہے ۔ اور جس کسی نے بھارتی لابی ، Raw کی کاروائیوں ، بنگلہ دیش بنانے کی سازشوں ، بلوچستان میں را کے کلبھوشن نیٹ ورک کے عزائم ، کے پی کے میں پہلے ٹی ٹی پی اور اب پی ٹی ایم کر بات کی اسے اسٹیبلشمنٹ کا حواری، بوٹ پالیشیا ، غیرت بریگیڈ ، انڈین فوبیا کا شکار اور آسان الفاظ میں جمہوریت کا دشمن قرار دے کر نکو بنا دیا ۔ حالانکہ سری لنکا، بنگلہ دیش ، افغانستان اور بشمول میرے (پاکستان تک میں ) ہندوستان کی خفیہ اور اعلانیہ سامراجی کاروائیوں کی ایک تاریخ گواہ ہے ۔ خدا کا شکر ہے آج انٹرنیٹ کی وجہ سے دوسرے ممالک کے رائٹرز اور صحافیوں کے مضامین اور کتابیں بآسانی مل جاتے ہیں اور میرے لوگوں کو بھی حال سے لیکر ماضی کو سمجنے میں مدد مل جاتی یے ۔

    بھارت کا آرمی چیف بپن راوت آج بھی دھڑلے سے کہتا ہے کہ ” پاکستان سیکیولر شناخت اپنا لے تو سب ٹھیک ہو جائگا” جبکہ میرے ہاں آج بھی احباب بھارت کا ذکر کرتے ہوئے پردہ دار بیبیوں کی طرح شرما کر رہ جاتے ہیں ۔ ہندوستان میں مودی کی جیت یا اسرائیل میں نیتھن یاہو کو پھر سے اقتدار مل جانا ، کبھی انکی نظروں سے نہیں گذرتا کبھی انکے کان کھڑے نہیں کرتا ۔ پی ٹی ایم کے مسائل کا رونا رونے والے کسی لبڑل کو کشمیر کا دکھ نظر نہیں آئیگا اور کشمیر و فلسطین کو گھر کے باہر کا مسلہ قرار دینے والا وہی لبڑل پیرس کے سانحے پر ڈی پیاں رنگین کرتا نظر آئیگا ۔ انکی نظر میں امریکی اسٹیبلشمنٹ کے اخبار کا جمال خاشگجی شہید صحافت اور امریکی اسٹیبلشمنٹ کے کرتوتوں سے پردہ اٹھانے والا جولین اسانج NOBODY ہوتا ہے ۔

    ان دانشوڑوں نے کبھی بھارتی لیڈروں کے اندر برسوں سے بلبلاتے پاکستان دشمنی کے ازلی کیڑے کو نمایاں کیا نہ اسکی خفیہ ایجنسی Raw کے کردار کو موضوع بحث بنایا ۔ سارک کا پورا خطہ بھارت کے مذہبی انتہا پسند لیڈروں کے اکھنڈ بھارت کے جنون میں تباہ ہورہا ہے لیکن ہمارے ہاں ایک طبقہ ہمیشہ سے را کی دی امن کی آشا کی بانسری بجاتا آرہا ہے ۔ نریندر مودی کی دوبارہ کامیابی سے جتنی جلدی ہو سکے میرے پاکستانیوں کو کچھ سبق سیکھ لینا چاہئیے ۔

    ایک تو یہ مذہب کی بنیاد پر سیاست آج بھی ہورہی ہے سو سال پہلے بھی ہورہی تھی اور سو سال بعد بھی ہوتی رہیگی ۔ یہ غلط ہے یا صحیح اس میں آرا ہو سکتی ہیں لیکن دنیا کے سب سے ترقی یافتہ ملک امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ سے لیکر مڈل ایسٹ میں نیتھن یاہو کی جیت تک اور ادھر برازیل میں بولسینیرو کی جیت سے لیکر بھارت میں نریندر مودی تک مذہب کی بنیاد پر ہی سیاست ہورہی ہے ۔ آپ جتنا اپنے ملک میں اسلام کو سائڈ لائن کرا لیں لیکن آج بھی اسرائیل ہو یا بھارت مسلم دشمنی کا نعرہ بکتا ہے ۔ اسکا مطلب یہ نہیں کہ اسلام کا جھنڈا لیکر ساری غیر مسلم دنیا کو اپنا دشمن گردان کر نفرت کرنا شروع کردی جائے ۔ یہ ایک مسلمان کے شایان شان ہی نہیں ہے ۔ لیکن دشمن کی سازشوں سے غافل رہ کر اپنا سروائول بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ لہذا مسلمانوں اور پاکستانیوں کو بھی متحد اور متفق ہونا پڑیگا ۔ ورنہ جو حال پچھلے بیس سالوں میں افغانستان ، عراق ، لیبیا ، شام وغیرہ میں ہوچکا ہے وہی ایران ، پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ بھی ہوتا ہوا نظر آرہا ہے ۔

    بھارت جو نہرو کے دور میں غیر وابستہ ممالک کی تحریک کا رکن اور سیکولر مزاج رکھتا تھا آج مودی کے رنگ میں گیروا ہوچکا ہے اور ہندووانہ تعصب میں پاکستان دشمنی کی نفرت کی آگ میں جل رہا ہے ۔ اور جب نہرو جیسے سیکولر کہلوانے لیڈر کی بیٹی بنگلہ دیش بنانے کا کریڈٹ لیتے ہوئے دو قومی نظریے کی ناکامی کا اعلان کرتی ہے تو پھر مودی جیسی کٹر ہندوانہ ذہنیت رکھنے والے لیڈر سے کیا توقع نہ رکھی جائے ۔ بھارت پہلے بھی پاکستان کے دو ٹکڑے کر چکا ہے اور آج بھی مذید ٹکڑے کرنا چاہتا ہے ۔ پہلے را نے مشرقی پاکستان میں اپنا کھیل کھیلا اور میرا ایک بازو کٹ کر جاگرا ۔ جرنیل اور سیاستدان دونوں اس کھیل میں شامل رہے اور قوم 65 کی کامیابی کے خمار میں سوئی پڑی رہی ۔

    اب ایک دفعہ پھر وہی کھیل کھیلا جارہا ہے جب سے چین گوادر میں انٹرسٹد ہوا ہے تب سے بلوچستان توڑ کر فری بلوچستان اور کے پی کو توڑ کر افغانستان میں شامل کرنے کی راہیں ہموار کی جارہی ہیں ۔ مڈل ایسٹ کی ری اسٹرکچرنگ کی طرح پاکستان کی کانٹ چھانٹ بھی pantagon سے لیکر اسرائیلی اور بھارتی ملٹری آفیسز کی ٹیبلوں پر نہ جانے کب سے دھرا ہے ۔ اور اس میں امریکہ اسرائیل اور بھارت تینوں کا انٹرسٹ ہے ۔ کیونکہ مڈل ایسٹ کی ری اسٹرکچرنگ سے اسرائیل کے گریٹر اسرائیل بننے کے خواب کے راستے میں بھی پاکستان ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے کیونکہ پاکستانی اسلام سے کتنا ہی دور ہوجائے ، کٹ مر جائگا لیکن مکہ یا مدینہ پر کسی کا آنکھ اٹھانا بھی برداشت نہیں کریگا کیونکہ وہ عربوں کے نہیں اسکے خدا اور رسول کے گھر ہیں اور کچھ بھی ہو پاکستان بحرحال ایک ایٹمی اور بہترین لڑاکا قوت تو ہے۔ لہذا پہلے تو پاکستانی کے بدن سے روح مُحَمَّد کو نکالا جائے پھر اسکے ڈیفنس کو ختم کیا جائے ۔

    اسی طرح دنیا میں خود کو ایک کھلاڑی منوانے سے پہلے بھارت کو ساوتھ ایشیا میں اپنے آپکو کھلاڑی منوانا ہے اور پاکستان گرتے پڑتے بھی بھارت کا یہ خواب پورا ہونے نہیں دے رہا ۔ لہذا بھارت کے خواب کی تکمیل کے لئیے پڑوسی ریاستوں اور بالخصوص مسلم پاکستان اور بنگلہ دیش کا کمزور اور لاچار ہونا لازمی ہے تو پھر بھلا نیوکلئیر طاقت بننا کیسے قبول کیا جاسکتا ہے ۔ جسے اب بھی شک ہے وہ ایران کے خلاف امریکی چارج شیٹ ملاحظہ کر سکتا ہے ۔ پاکستان کا چین کے ساتھ چلتے ہوئے اپنی معاشی اور دفاعی خودمختاری کی طرف قدم بڑھانا امریکہ اور بھارت کو شدید اضطراب میں ڈالے ہوئے ہے جتنا تیزی پاکستان سی پیک پر دکھا رہا ہے اتنا ہی زور بھارت پاکستان میں پاکستان مخالف کاروائیوں پر لگا رہا ہے ۔

    جیسے Raw نے مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی بنائی شیخ مجیب الرحمان پر ہاتھ رکھا ویسے ہی پاکستان میں ایم کیو ایم کے الطاف حسین سے لیکر بلوچ لیڈروں اور طالبان کے مذہبی شدت پسندوں سے لیکر سیکیولر پی ٹی ایم تک سب کو دامے درمے سخنے سپورٹ کیا ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ جس جس لیڈر نے پاکستان کے خلاف ذہر اگلا اس اس لیڈر کو ہمارے لبڑلز، ہمارے دانشوڑ حضرات نے سر آنکھوں پر بٹھایا ۔ بلکہ ایک طرح سے انہیں لیڈر بننے میں مدد دی ۔ ناراض بلوچ سے لیکر ناراض بچے کہہ کہہ کر کبھی بھی انکے پروپیگنڈے کے نقائص سامنے نہیں لائے ۔ فوج سے ازلی دشمنی میں جس نے پاکستان کو گالی دی احباب نے اسے گلے لگا کر لیڈر بنا دیا ۔ پتہ نہیں حب علی ہے یا بغض معاویہ ۔

    ہر دفعہ کی طرح اس دفعہ بھی پہلے سے پایا جانے والا احساس محرومی کیش کرایا جارہا ہے ۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ احساس محرومی تو پاکستان کے ہر شہر میں ہے لیکن بلوچستان اور کے پی اور اسکے قبائلی علاقے اسکا بہت بری طرح کا شکار ہیں ۔ احساس محرومی کا شکار نہ ہوں تو کبھی کسی کو علیحدگی پسندانہ نظریات پھیلانے کا موقع ہی نہ ملے ۔ لیکن یہ کونسا اصول ہے کہ احساس محرومی کا ذمہ دار خالی فوج کو ٹہرا کر سیاستدانوں کو کلین چٹ دے دی جائے ۔ منظور پشتین ، محسن داوڑ ایک طرف تو نقیب محسود کی لاش پر اپنی سیاست چمکاتے ہیں تو دوسری طرف راو انوار جن زرداری صاحب کا اپنا بچہ تھا انہی زرداری صاحب کی افطار میں شرکتیں کرتے ہیں ادھر محسن داوڑ اور علی وزیر فوجی چوکی پر حملہ کر کے بدامنی پھیلاتے ہیں وہیں بلاول بھٹو انہیں کلین چٹ دے دیتا ہے ۔ اسی پی ٹی ایم کی قیادت کو ناراض بچے ناراض بچے کہہ کہہ کر لاہور سے لیکر اسلام آباد تک میں جلسے جلوس کرانے کے لئیے فیسیسلیٹیٹ کیا گیا ۔ لاہور کے منظور پشتین کے جلسے کو پوری لبڑل لابی نے بڑی دلجمعی کے ساتھ گلوریفائی کیا اور پختون قوم کے درد مند بتایا ۔ حالانکہ ان سوالوں کا جواب کوئی نہیں دیتا تھا کہ جب تک فاٹا طالبان کے ہاتھوں تباہ ہورہا تھا اس وقت تو منظور پشتین کہیں کھڑا نہیں تھا اور جب قبائلی علاقوں کو مرجر کے بعد مرکزی دھارے میں لایا جارہا ہے تو یہ لر و بر افغان کا نعرہ لگا رہے ہیں ۔ اور اسی طرح بلوچستان کو بھی ترقی کے راستے پر آنے سے روکنے کے لئیے کوئیٹہ سے لیکر گوادر تک پھر سے دہشت گردی کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔
    ان نازک لمحات میں قوم کا ڈیوائڈ ہونا دشمن کی سب سے بڑی کامیابی ہے اور اس وقت حال یہی ہے کہ نہ ہمیں دشمنوں کا احساس ہے اور نہ انکے عزائم کا ضرورت اس بات کی ہے پاکستانی بھی اب بھارت اسرائیل اور امریکہ کے عزائم کو سمجھیں اور ملک کی تعمیر و ترقی کے لئیے جت جائیں کیونکہ ملک کی مضبوطی قوم کے اتحاد کا تقاضہ کرتی ہے اور اگر قوم ہی ڈیوائڈ ہو تو اسلحے کے انبار بھی کام نہیں آتے ۔

  • تحریک انصاف ملک کو بحرانوں سے نکالنے کا عزم لے کر میدان میں اتری ہے  صوبائی وزیر

    تحریک انصاف ملک کو بحرانوں سے نکالنے کا عزم لے کر میدان میں اتری ہے صوبائی وزیر

    سرگودہا (نمائندہ باغی ٹی وی)پاکستان تحریک انصاف ملک کو بحرانوں سے نکالنے کا عزم لے کر میدان میں اتری ہے حالیہ معاشی مشکلات ملک میں پھیلے معاشی کینسر کے علاج کی وجہ سے نظر آرہی ہیں جاری معاشی اصلاحات کے اثرات جلد سامنے آنا شروع ہو جائیں گے ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر معدنیات عنصر مجید خان نیازی نے تحریک انصاف کے راھنما مہر شاہد اقبال کی جانب سے دئیے جانے والے افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے کیا افطار ڈنر کا اہتمام جم خانہ کلب سرگودہا میں کیا گیا تھا صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ معاشی استحکام کی جانب سفر جاری ہے جس کے اثرات اسٹاک ایکسچینج اور ڈالر پر نظر آنا شروع ہوگئے ہیں اپوزیشن ملک کی ترقی کو روکنا چاہتی ہے اور عمران خان قرضوں میں ڈوبی معیشت کو پاؤں پر کھڑا کرنا چاہتے ہیں دونوں میں مقابلہ جاری ہے سابق ضلع ناظم ملک امجد علی نون نے کہا کہ حکومت ایک مضبوط بلدیاتی نظام کے ذریعے پسے ہوئے طبقوں کو اوپر اٹھانا چاہتے ہیں ان کی خواہش ہے کہ ترقیاتی کام وزیر اعلی کی بجائے براہ راست اس علاقے کا نمائندہ خود کروائے اور اس کے دائرے اختیار میں موجود محکموں کی کارکردگی کو بھی وہ خود مانیٹر کرے آنے والا بلدیاتی نظام دنیا کے بہترین نظاموں میں سے ایک نظام ہوگا ضلعی صدر تحریک انصاف انصر ہرل نے اپنے خطاب میں کہا کہ بلدیاتی انتخابات میں مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ جائیں گے ورکروں کو زیادہ سے زیادہ اس نظام کے تحت عوام کی خدمت کرنے کا موقع ملے گا سنئیر سیاستدان ملک عزیز الحق نے عمران خان کے اچانک دورہ سرگودہا میں روایات کا توڑنا قرار دیتے ہوئے اسے مثبت قرار دیا ہے ان کا کہنا تھا کہ پہلے ایسے کسی دورے کے لئے پوری انتظامیہ اور مسلم لوگ کو متحرک کیا جاتا تھا لیکن اس بار ایسا کچھ نہیں ہوا انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے دورہ سرگودہا کے فوائد صحت عامہ کی سہولتوں میں عوام کو جلد نظر آئیں گے افطار ڈنر میں حلقہ پی پی 29 کے ایم پی اے کے امیدوار خالقداد پڑہاڑ سابق ناظم محمود بخش گیلانی ،سابق ناظم ملک ارشد،نعیم جسپال سمیت اھم سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی مہر شاہد اقبال نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کے ورکر بالکل مایوس نہیں اور عمران خان کے پیچھے کھڑے ہیں ورکر سمجھتے ہیں کہ عمران ملک اور اس عوام کے لئے نجات دہندہ ثابت ہونگے

  • وزیر اعظم کا پروگرام برائے صحت کی معیاریسہولیات – تعارف (معیاری علاج – بروقت ، سب کے لئے ،ہر جگہ)

    چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ چنیوٹ ڈاکٹر مشتاق بشیر عاکف نے کہا ہے کہ وزیراعظم پاکستان عمران کی ہدایت پر عوام کو طبی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کئے جا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ضلع چنیوٹ میں بنیادی مراکز صحت پر بیرونی مریضان کا وارڈ  او–پی –ڈی صبح 8 سےشام 8 بجے تک کھلے رکھے جائیں گے ۔صبح 8 سے دوپہر 2 تک کی بجائے یہ سروس رات 8 بجے تک کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ چنیوٹ میں 2نئے ٹراما سنٹرز کی دیہی مراکز صحت کی سطح پر تعمیر کی جائے گی جبکہ بچوں کی 2 نرسریاں دیہی مرکز صحت کی سطح پر قائم کی جائینگیانہوں نے بتایا ہے کہ دوائیوں کی سٹوریج کے لئے1نئے گودام کا قیام بھی عمل میں لایا جائے گا جبکہ وزیر اعظم کا پروگرام برائے صحت کے لئے تقریبا” 3 ارب روپے ، منتخب کردہ 8 اضلاع کے لئے مختص کئے گئے ہیں جس میں سے تقریبا” 4کروڑ 49 لاکھ روپے بطور خاص ضلع چنیوٹ کے لئے رکھے گئے ہیں۔ اس پراجیکٹ کے تحت منتخب کردہ 8 اضلاع میں تقریبا” 2000نئی آسامیاں پیدا ہوں گی جن میں سے212ضلع چنیوٹ کے لئے مخصوص ہیں۔ ان کی تفصیل درج زیل ہے۔چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ ڈاکٹر مشتاق بشیر عاکف نے چنیوٹ میں محکمہ ہیلتھ میں نئی تعیناتیوں اور دیگر مثبت تبدیلیوں سے متعلق بتایا کہ 2چائلڈسپیشلیسٹ10میڈیکل آفیسرزخاتون میڈیکل آفیسرز42 نرسز48ایل ایچ ویز51 سیکورٹی گارڈ
    59 آیا کی تعیناتی کو یقینی بنایا جائے گا

  • کشمیر میں فوج اور سی آرپی ایف کی ناکامی پر بھارتی حکومت نے بڑا فیصلہ کر لیا، اہم خبر آگئی

    کشمیر میں فوج اور سی آرپی ایف کی ناکامی پر بھارتی حکومت نے بڑا فیصلہ کر لیا، اہم خبر آگئی

    مقبوضہ کشمیر میں‌ تحریک آزادی کچلنے میں‌ ناکام بھارت سرکار نے آسام رائفلز کو کشمیر کے حساس علاقوں‌ میں تعینات کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں‌ بھارتی فوج، سی آر پی ایف اور انڈوتبتین بارڈر پولیس کے علاوہ اب آسام رائفلز کی تعیناتی کو ہندوستانی حکومت کی ناکامی کے طور پر دیکھا جارہا ہے. یہ حکم نامہ ہندوستانی وزارت داخلہ نے جاری کیا ہے. جموں‌ کشمیر میں آسام رائفلزکے نئے بٹالینز بھی قائم کئے جائیں گے۔ بھارتی حکومت نے ناگہانی آفات سے نمٹنے کے بہانے برما کے ساتھ لگنے والی سرحد پر تعینات فورسز کو مقبوضہ کشمیر میں تعینات کرنے کی منظوری دی ہے۔

    آسام رائفلز 1835ء میں قائم کی گئی تھی. اس پیرا ملٹری فورس میں‌ اس وقت تقریبا پچاس ہزار کے قریب اہلکار شامل ہیں۔ آسام رائفلز میں بھارتی فوج کے افسران تعینات کئے جاتے ہیں اوریہ بھارتی وزارت داخلہ کے تحت کام کرتی ہے۔

    یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں ان دنوں‌ تحریک آزادی بھرپور عروج پر ہے اور اعلیٰ‌تعلیم یافتہ نوجوان تیزی سے عسکری تنظیموں‌میں شمولیت اختیار کر کے بھارتی فوج کے خلاف برسرپیکار ہو رہے ہیں.

  • بھارتی پارلیمنٹ میں چالیس فیصد سے زائد مجرم اراکین پارلیمنٹ

    بھارتی پارلیمنٹ میں چالیس فیصد سے زائد مجرم اراکین پارلیمنٹ

    بھارت کے لوک سبھا انتخابات میں کامیاب ہونے والے اراکین پارلیمنٹ میں سے چالیس فیصد پرمقدمات درج ہیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی الیکشن میں مودی کی پارٹی بی جے پی کو کامیابی ملی ہے. نئی پارلیمنٹ میں چالیس فیصد سے زائد اراکین پر قتل اور زیادتی جیسے مختلف مقدمات قائم ہیں. سمجھوتہ ایکسپریس حملے کی ملزم بھی بھارت میں الیکشن جیت چکی ہے. کانگریس کے ایک رکن پارلیمنٹ کو قتل عام اور ڈکیتی سمیت 204 مقدموں کا سامنا ہے، الیکشن جیت کر پارلیمنٹ پہنچنے والے 543 اراکین اسمبلی میں سے 233 پر مقدمے چل رہے ہیں .بھارتیہ جنتا پارٹی کے 303 نو منتخب اراکین میں سے 116 کے خلاف مقدمے چل رہے ہیں۔اسی طرح، کانگریس کے 52 میں سے 29 پر مقدمات قائم ہیں.

  • نواز شریف سے جیل میں نیب کی تفتیش کے بعد مریم نواز نے ٹویٹر پر میدان سنبھال لیا

    نواز شریف سے جیل میں نیب کی تفتیش کے بعد مریم نواز نے ٹویٹر پر میدان سنبھال لیا

    مسلم لیگ کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ ووٹ چوری سے آنے والے جعلی اعظم کہلاتے ہیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر مریم نواز نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ بحیثیت وزیراعظم بلٹ پروف گاڑیوں کے استعمال پر نوازشریف سے ڈھائی گھنٹے تفتیش ،KP حکومت کا حصہ نا ہونے کے باوجود حکومت کے ہیلی کاپٹر کا بے دریغ استعمال کرنے والا جعلیِ اعظم قانون سے بالاتر؟ اب صرف نوازشریف کے خلاف اس کرسی پر بیٹھنے کا کیس باقی رہ گیا ہے جو کرسی انکو ووٹ نے دلائی تھی.

    مریم نواز نے ایک اور ٹویٹ میں کہا کہ کامیابی کا انحصار کسی عہدے پر نہیں بلکہ نظریے اور عوام کے دلوں میں جگہ بنانے پر ہوتا ہے۔عزت عہدوں سے ملتی تو آج نالائق اعظم کی عزت ہوتی اور وہ سر اٹھا کہ چلنے کے قابل ہوتا۔ ووٹ چوری سے آنے والے جعلی اعظم کہلاتے ہیں ،ووٹ کی طاقت سے آنے والے عوامی وزیراعظم کہلاتے ہیں۔

    واضح رہے کہ نیب اسلام آباد کی ٹیم نے کوٹ لکھپت جیل میں نواز شریف سے اڑھائی گھنٹے تحقیقات کیں، نیب کی چار رکنی تحقیقاتی ٹیم میں ایڈیشنل ڈائریکٹرحمادحسن نیازی،ڈپٹی ڈائریکٹرانویسٹی گیشن عبدالماجد شامل تھے ،نیب اسلام آباد کی ٹیم عدالت سےاجازت کےبعد جیل پہنچی تھی، نواز شریف سے تحقیقات کے بعد نیب ٹیم واپس روانہ ہو گئی .

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم نوازشریف پر33قیمتی سرکاری گاڑیاں سال16-2015 میں خریدنےکا الزام ہے،سابق وزیراعظم نواز شریف سےدستیاب رکارڈکی روشنی میں پوچھ گچھ کی گئی ، بلٹ پروف گاڑیاں نواز شریف اور مریم نواز نے بھی استعمال کیں، جرمنی سے 34 بلٹ پروف گاڑیاں ڈیوٹی ادائیگی کے بغیر خریدی گئیں، بلٹ پروف گاڑیاں سارک کانفرنس 2016 کے مہمانوں کے لیے منگوائی گئیں، نواز شریف نے 34 میں سے 20 بلٹ پروف گاڑیاں اپنے قافلے میں شامل کرلی تھیں. سرکاری بلٹ پروف گاڑیاں نواز شریف کے اہلخانہ نے استعمال کیں۔

  • بھارت میں ٹوپی پہننے پر ہندو انتہا پسندوں کا مسلمان نوجوان پر تشدد

    بھارت میں ٹوپی پہننے پر ہندو انتہا پسندوں کا مسلمان نوجوان پر تشدد

    بھارتی انتخابات میں بی جے پی کی کامیابی کے بعد ہندو انتہا پسند آپے سے باہر ہو چکے ہیں اور انہوں نے مسلمانوں پر تشدد کا سلسلہ شروع کر دیا ہے. بھارتی ریاست ہریانہ میں ٹوپی پہن کر بازار سے گزرنے والے مسلم نوجوان کو ہندو انتہا پسندوں نے تشدد کا نشانہ بنایا .اور جے شری رام کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست ہریانہ کے علاقے گروگرام میں ایک مسلمان لڑکا ٹوپی پہنے بازار سے گزرا توہندو انتہا پسندوں نے اسے روکا، ٹوپی اتاری اور تشدد کا نشانہ بنایا، ہندو انتہا پسندوں نے مسلم نوجوان کو کے شری رام کا نعرہ لگانے پر بھی مجبور کیا. عالم نامی نوجوان کے ساتھ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ نماز پڑھ کر مسجد سے گھر جا رہا تھا. عالم نے پولیس میں ہندو انتہا پسندوں کے‌ خلاف کاروائی کے لئے درخواست دے دی ہے. جس میں اس نے لکھا کہ ہندو انتہا پسندوں نے اسے کہا کہ یہاں ٹوپی پہننے کی اجازت نہیں. مجھے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا،ہندو انتہا پسندوں نے ’بھارت ماتا کی جے‘ کا نعرہ لگانے کے لیے کہا۔ ان کے کہنے پر میں نے نعرہ لگا دیا۔ اس کے بعد انھوں نے مجھے ’جے شری رام‘ بولنے کے لیے بھی مجبور کیا، لیکن میں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد ہندو انتہا پسندوں نے لاٹھی سے میری بری طرح پٹائی کی۔ مسلمان نوجوان کی چیخ و پکار سن کر مقامی لوگ مدد کی لئے آئے تو ہندو انتہا پسند فرار ہو گئے. گروگرام شہر کے اے سی پی راجیو کمار نے اس حوالہ سے کہا کہ واقعہ کے متعلق تھانہ میں تعزیرات ہند کی دفعہ 153، 149، 323 اور 506 کے تحت ایک ایف آئی آر درج کی گئی ہے. مدعی کا میڈیکل بھی کروایا گیا ہے. ۔ ملزموں کو گرفتار کرنے کی کوشش کریں گے.

    واضح رہے کہ گروگرام میں مسلمانوں پرہندو انتہا پسندوں کے تشدد کے کئی واقعات گزشتہ ایک سال میں سامنے آ ئے ہیں ۔

  • ذاکر موسی کی شہادت، کشمیر میں تعلیمی ادارے تا حال بند

    ذاکر موسی کی شہادت، کشمیر میں تعلیمی ادارے تا حال بند

    برہان وانی کے ساتھی ذاکر موسیٰ کی شہادت کے خلاف احتجاج کو روکنے کے لئے بھارت سرکار نے آج پیر کو تعلیمی ادارے بند کروا دئیے جس کی وجہ سے تعلیمی نظام مکمل طور پر معطل رہا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں ذاکر موسیٰ کی شہادت کے بعد کشمیریوں کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے. بھارت سرکار نے کشمیریوں کی جانب سے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر تمام تعلیمی ادارے بند کروا دئیے. سرینگر،اننت ناگ، کولگام ،بڈگام ، گاندربل، بارہمولہ اور بانڈی پورہ اضلاع میں بھارت سرکار نے زبردستی تعلیمی ادارے بند کروائے. شوپیاں میں تعلیمی ادارے کھلے تھے ان کو بھی بند کروا دیا گیا. جس کی وجہ سے تدریسی کام مکمل طور پر معطل رہا.

    واضح رہے کہ بھارتی فوج نے کشمیر کے ضلع پلوامہ کے شہر ترال میں ذاکر موسیٰ کو شہید کیا تھا، ذاکر موسیٰ کی شہادت کی اطلاع ملنے پر کشمیری سڑکوں‌پر نکل آئے اور بھر پور احتجاج کیا.بھارتی فوج نے ذاکر موسیٰ کی لاش کو لواحقین کے حوالے کیا ، ذاکر موسیٰ کی شہادت پر مختلف علاقوں سے کشمیری اس کے گھر پہنچے، ہزاروں لوگوں نے ذاکر موسیٰ کی نماز جنازہ میں شرکت کی، اس کی نماز جنازہ آٹھ بار ادا کی گئی ، دو بارذاکر موسیٰ کو دفنانے کے لیے لے کر جا رہے تھے کہ عوام کی استدعا پر پھر لاش واپس لانا پڑی اور لوگون نے نماز جنازہ ادا کی.بھارتی فوج کی جانب سے ناکہ بندی اور سخت سیکورٹی کے باوجود ہزاروں کشمیری نماز جنازہ میں شریک ہوئے.

    واضح رہے کہ ذاکر موسیٰ نور پورہ ترال کے رہنے والے تھے اور انہوں نے 2013میں حزب المجاہدین میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اسکے بعد وہ برہان وانی کا قریبی ساتھی بن گئے ۔ذاکر موسیٰ ایک اچھے اور پڑھے لکھے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔انکے والد عبدالرشید بٹ ریٹائرڈ اسسٹنٹ ایگزیکٹیو انجینئر ہیں۔انکے بڑے بھائی شاکر رشید بٹ ہڈیوں کے سرجن ہیں اور بھابی بھی ڈاکٹر ہیں جبکہ بہن شاہینہ بنک میں کام کرتی ہیں۔ذاکر موسیٰ 2012میں چندی گڑھ میں رام دیو جندل انجینئرنگ کالج میں بی ٹیک کرنے کیلئے گئے تھے۔ تاہم انہوں نے تعلیم چھوڑ دی اور بھارتی فوج کے خلاف ہتھیار اٹھا لئے تھے .