امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سخت اور جارحانہ بیان میں اعلان کیا ہے کہ امریکی نیوی فوری طور پر آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو امید تھی کہ اس اہم سمندری راستے پر آزادانہ نقل و حرکت برقرار رہے گی، مگر ایران نے اس کی اجازت نہیں دی۔
ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کے بارے میں مکمل معلومات صرف ایران کے پاس ہیں اور اس کا یہ اقدام عالمی سطح پر دباؤ ڈالنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور دیگر عالمی طاقتیں اس صورتحال کو قبول نہیں کریں گی اور اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی نیوی کو ہدایت دی گئی ہے کہ ایسے تمام جہازوں کی نشاندہی کی جائے جو ایران کو کسی قسم کا ٹول ادا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق جو بھی جہاز ایران کو ادائیگی کرے گا، اسے محفوظ راستہ فراہم نہیں کیا جائے گا۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا آبنائے ہرمز میں موجود بارودی سرنگوں کو ختم کرنے کے لیے کارروائی شروع کرے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسی بھی جانب سے امریکی جہازوں پر فائرنگ کی گئی تو فوری اور سخت ردعمل دیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ کا یہ بیان خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے۔ کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی عالمی معیشت پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم اس طرح کے بیانات صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔
Blog
-

ایران کو ٹول دینے والے جہاز محفوظ نہیں ہوں گے، ٹرمپ کی دھمکی
-

اسلام آباد میں ریڈ زون تاحال بند، شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت
اسلام آباد میں غیر ملکی وفود کی آمدورفت کے باعث سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، جس کے تحت ریڈ زون کے تمام داخلی اور خارجی راستے تاحال بند رکھے گئے ہیں۔ ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق شہر کے اہم علاقوں میں ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے اور شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مختلف اوقات میں کلب روڈ، مری روڈ اور ایکسپریس ہائی وے پر ٹریفک کو عارضی طور پر روکا جا رہا ہے تاکہ سیکیورٹی انتظامات کو یقینی بنایا جا سکے۔ ان سڑکوں پر سفر کرنے والے شہریوں کو متبادل راستے اختیار کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔
ترجمان کے مطابق ریڈ زون میں غیر ملکی وفود کی مسلسل آمدورفت جاری ہے، جس کی وجہ سے یہ پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ سیکیورٹی ادارے صورتحال کو مسلسل مانیٹر کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔
شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور اگر سفر ناگزیر ہو تو پہلے سے منصوبہ بندی کر کے نکلیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے تاکہ ٹریفک کی صورتحال کو بہتر طریقے سے کنٹرول کیا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ جیسے ہی صورتحال معمول پر آئے گی، راستوں کو مرحلہ وار کھول دیا جائے گا۔ تاہم اس وقت سیکیورٹی کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے تاکہ اہم سفارتی سرگرمیاں پرامن طریقے سے مکمل ہو سکیں۔ -

نائب صدر وینس کی واپسی، جرمنی میں قیام کی تصاویر منظرعام پر
اسلام آباد میں اہم سفارتی مصروفیات مکمل کرنے کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی وطن واپسی کے سفر کی چند تازہ تصاویر سامنے آئی ہیں، جنہوں نے عالمی میڈیا کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ یہ تصاویر اس وقت لی گئیں جب ان کا طیارہ جرمنی کے رامشٹائن ایئر بیس پر ایندھن بھرنے کے لیے مختصر قیام کے لیے رکا۔
ذرائع کے مطابق ان تصاویر میں نائب صدر وینس کو طیارے سے اترتے اور اپنے ہمراہ موجود اہلکاروں کے ساتھ مصروف گفتگو کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ تصاویر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے اہم مذاکرات عالمی سطح پر زیر بحث ہیں۔
نائب صدر وینس نے پاکستان میں قیام کے دوران اعلیٰ سطحی مذاکرات میں شرکت کی، تاہم یہ مذاکرات کسی حتمی معاہدے پر ختم نہ ہو سکے۔ اس کے باوجود دونوں فریقین نے بات چیت جاری رکھنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، جسے سفارتی سطح پر ایک مثبت پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
رامشٹائن ایئر بیس، جو امریکی اور نیٹو افواج کے لیے ایک اہم مرکز ہے، اکثر بین الاقوامی سفر کے دوران اہم شخصیات کے لیے ٹرانزٹ پوائنٹ کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ اسی سلسلے میں نائب صدر وینس کا طیارہ بھی یہاں مختصر وقت کے لیے رکا۔
ماہرین کے مطابق ان تصاویر کا سامنے آنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں اور عالمی رہنما مسلسل رابطے میں ہیں۔ اگرچہ مذاکرات کا فوری نتیجہ سامنے نہیں آیا، مگر ایسے دورے مستقبل کی بات چیت کے لیے راہ ہموار کرتے ہیں۔
یہ پیش رفت عالمی سیاست میں جاری پیچیدہ حالات کی عکاسی کرتی ہے جہاں ہر ملاقات اور ہر سفر کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ -

ایران میں شہادتیں 3300 سے تجاوز، بچوں سمیت بڑی تعداد متاثر
ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے آغاز سے اب تک شہادتوں کی تعداد 3300 سے تجاوز کر چکی ہے، جس میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ ایرانی عدلیہ کے ماتحت لیگل میڈیسن آرگنائزیشن کی تازہ رپورٹ کے مطابق اب تک 3375 لاشوں کی شناخت مکمل کی جا چکی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شہید ہونے والوں میں 2875 مرد اور 496 خواتین شامل ہیں، جبکہ سب سے زیادہ اموات تہران، ہرمزگان اور اصفہان کے صوبوں میں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حملوں کا اثر ملک کے مختلف حصوں میں شدت کے ساتھ محسوس کیا گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق متاثرین میں سینکڑوں بچے بھی شامل ہیں، جو اس انسانی المیے کو مزید سنگین بنا دیتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سات شیر خوار بچے، 255 بچے جن کی عمریں ایک سے 12 سال کے درمیان تھیں، اور 121 نوجوان جن کی عمریں 13 سے 18 سال کے درمیان تھیں، اس تشدد کا نشانہ بنے۔
مزید یہ کہ شہید ہونے والوں میں مختلف ممالک کے شہری بھی شامل ہیں، جن میں افغان، شامی، ترک، پاکستانی، چینی، عراقی اور لبنانی شہری شامل ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تنازع صرف ایک ملک تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات بین الاقوامی سطح پر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور انسانی بحران کی عکاسی کرتی ہے۔ عالمی برادری سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ فوری طور پر مداخلت کر کے مزید جانی نقصان کو روکنے کے لیے اقدامات کرے۔
یہ اعداد و شمار نہ صرف ایک سنگین انسانی المیہ کی تصویر پیش کرتے ہیں بلکہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ کے اثرات سب سے زیادہ عام شہریوں، خصوصاً بچوں، پر پڑتے ہیں۔ -

پاکستان کا محفوظ اور دوستانہ ماحول، ایران نے مذاکرات میں سراہا
پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات میں دونوں ممالک نے بعض معاملات پر پیش رفت ضرور کی، تاہم چند بنیادی اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایرانی وفد نے پاکستان کے محفوظ اور دوستانہ ماحول کو سراہا، جبکہ ابتدا میں ایران مذاکرات کے لیے پاکستان آنے پر آمادہ نہیں تھا، مگر چین اور روس کی کوششوں سے اسے قائل کیا گیا۔
ان مذاکرات میں دو بڑے مسائل پر خاص توجہ دی گئی۔ پہلا معاملہ آبنائے ہرمز کا تھا، جہاں مشترکہ کنٹرول کے حوالے سے ایران نے کچھ حد تک لچک دکھائی۔ یہ پیش رفت اس لیے اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کا ایک نہایت حساس راستہ ہے۔
دوسرا اور زیادہ پیچیدہ معاملہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تھا، خاص طور پر وہ یورینیم افزودگی کا پلانٹ جو روس کی مدد سے چل رہا ہے۔ امریکا کا مؤقف تھا کہ ایران اس پروگرام کو ختم کرے یا اسے صرف شہری توانائی کے مقاصد تک محدود رکھا جائے۔ تاہم ایران نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا اور موقف اختیار کیا کہ اسرائیل سے درپیش سیکیورٹی خدشات اور امریکا کی جانب سے ضمانتوں کی عدم موجودگی کے باعث وہ اس پروگرام سے دستبردار نہیں ہو سکتا۔
مذاکرات کے بعد دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ اپنی قیادت سے مشاورت کریں گے اور جنگ بندی کو برقرار رکھیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ مذاکرات جاری رکھنے پر بھی آمادگی ظاہر کی گئی ہے، جو ممکنہ طور پر پاکستان، مصر یا ترکی میں ہو سکتے ہیں۔
ایرانی حکام نے اس بات کا عندیہ بھی دیا ہے کہ کسی حتمی حل تک پہنچنے کے لیے متعدد مذاکراتی دور درکار ہوں گے۔ ماہرین کے مطابق اگر ایران مستقبل میں روس کے ساتھ اپنے جوہری تعاون کو محدود یا ختم کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے تو خطے میں امن کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ اگرچہ مسائل پیچیدہ ہیں، مگر سفارتی کوششیں جاری ہیں اور امید کی کرن ابھی باقی ہے۔ -

آبنائے ہرمز میں داخلے کے بعد دو پاکستانی جہاز واپس موڑ دیے گئے
پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے دو اہم جہازوں کو آبنائے ہرمز پہنچنے کے بعد اچانک واپس موڑ دیا گیا، جس نے سمندری تجارتی سرگرمیوں سے متعلق کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق جہاز “شالامار” اور “خیرپور” دو روز قبل رات کے وقت کویت اور متحدہ عرب امارات کے لیے روانہ ہوئے تھے جہاں انہیں خام تیل لوڈ کرنا تھا۔
اطلاعات کے مطابق دونوں جہاز جب آبنائے ہرمز میں داخل ہوئے تو انہیں اچانک آگے بڑھنے سے روک دیا گیا۔ اس غیر متوقع پیشرفت کے بعد متعلقہ حکام کی جانب سے فوری احکامات جاری کیے گئے، جن پر عمل کرتے ہوئے جہازوں کے کپتان آصف اور کپتان شاہین نے راستہ تبدیل کر دیا اور جہازوں کو خلیج عمان کی جانب موڑ دیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان جہازوں کو کویت اور یو اے ای سے کروڑوں لیٹر خام تیل پاکستان لانا تھا، تاہم موجودہ صورتحال کے باعث یہ منصوبہ وقتی طور پر مؤخر ہو گیا ہے۔ اب امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ جہاز متبادل بندرگاہوں جیسے فجیرہ یا سعودی عرب کے شہر ینبوع کا رخ کر سکتے ہیں تاکہ وہاں سے تیل کی ترسیل ممکن بنائی جا سکے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شامل ہے جہاں سے بڑی مقدار میں عالمی تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا پابندی عالمی اور علاقائی معیشت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ حالیہ واقعے کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے اور اس کے پس منظر میں ممکنہ سیکیورٹی یا جغرافیائی سیاسی عوامل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
ابھی تک سرکاری سطح پر اس معاملے کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال طول پکڑتی ہے تو پاکستان کی توانائی سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے۔ حکام کی جانب سے متبادل راستوں اور ذرائع پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ تیل کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔ -

سفارت کاری کا عمل کبھی رکتا نہیں ۔
پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد رواں ہفتے عالمی سفارت کاری کا اہم مرکز بنا رہا، جہاں امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات ہوئے۔ جمعے کی شب سے اتوار کی صبح تک جاری رہنے والے ان مذاکرات پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز رہیں، کیونکہ یہ دونوں ممالک طویل عرصے بعد براہ راست ایک میز پر آئے تھے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب تقریباً 40 دنوں کی شدید کشیدگی اور جنگی ماحول کے بعد خطے میں غیر یقینی صورتحال بڑھ چکی تھی۔ ہزاروں جانوں کے نقصان اور بڑھتے تناؤ کے باوجود یہ ملاقات ایک مثبت قدم قرار دی جا رہی ہے، اگرچہ فوری معاہدے کی توقع کم ہی تھی۔
21 گھنٹے تک جاری رہنے والے بند کمرہ مذاکرات کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا ایک “حتمی اور بہترین پیشکش” چھوڑ کر جا رہا ہے، اب فیصلہ ایران کو کرنا ہے۔
اگرچہ اس پیشکش کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں، مگر سفارتی حلقوں میں اسے ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات ختم نہیں ہوئے بلکہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں جہاں خاموش سفارت کاری جاری رہے گی۔
دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ سفارت کاری کبھی ختم نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق اختلافات کے باوجود بات چیت کا تسلسل ہی امن کی امید کو زندہ رکھتا ہے۔
مذاکرات میں سب سے بڑے اختلافی نکات ایران کا جوہری پروگرام، خطے میں طاقت کا توازن اور آبنائے ہرمز جیسے حساس معاملات رہے۔ یہ پیچیدہ مسائل فوری طور پر حل ہونے والے نہیں بلکہ مسلسل بات چیت اور اعتماد سازی کا تقاضا کرتے ہیں۔
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے بھی اس موقع پر امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ جنگ بندی پر عملدرآمد نہایت ضروری ہے اور پاکستان آئندہ بھی اس عمل میں سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہے گا۔
یہ مذاکرات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عالمی تنازعات کے حل کے لیے مکالمہ ہی واحد راستہ ہے، چاہے نتائج فوری نہ بھی نکلیں۔ -

اسلام آباد مذاکرات، پاکستان کا کردار برقرار مگر معاہدہ تاحال دور
اسلام آباد میں ہونے والے اہم سفارتی مذاکرات بے نتیجہ رہنے کے باوجود پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار جاری رکھے گا۔ وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی ہے کہ دونوں ممالک جنگ بندی کے عزم پر قائم رہیں گے اور مذاکرات کا سلسلہ آگے بڑھے گا۔
اسحاق ڈار کے مطابق انہوں نے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ ان مذاکرات کے مختلف مراحل میں دونوں فریقین کی معاونت کی۔ انہوں نے ان بات چیت کو “مشکل مگر تعمیری” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے حساس معاملات فوری حل نہیں ہوتے بلکہ وقت اور تسلسل کا تقاضا کرتے ہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی وفد نے بھی پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور اسے ایک ذمہ دار اور مثبت میزبان قرار دیا۔ ماہرین کے مطابق یہ امر خود اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نے عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی کردار ادا کیا ہے۔
بعض حلقے ان مذاکرات کو پاکستان کی بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں کیونکہ ایک جانب دونوں حریف ممالک کو ایک میز پر لانا آسان نہیں تھا، جبکہ دوسری جانب جنگ بندی کے ماحول کو برقرار رکھنا بھی ایک بڑا چیلنج تھا۔ تاہم حتمی معاہدہ نہ ہونے کی وجہ سے کچھ مایوسی بھی پائی جاتی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کے امور کے ماہر ڈاکٹر فاروق حسنات کا کہنا ہے کہ ایسے مذاکرات کو ناکام نہیں کہا جا سکتا۔ ان کے مطابق دونوں فریقین نے مذاکرات جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ دروازے بند نہیں ہوئے بلکہ بات چیت جاری ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ کئی معاملات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم چند اہم نکات پر اختلافات اب بھی باقی ہیں جس کی وجہ سے حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اس عمل سے سفارتی سطح پر فائدہ ضرور ہوا ہے اور اس کا عالمی وقار بہتر ہوا ہے۔ تاہم اگر خطے میں دوبارہ کشیدگی بڑھتی ہے تو پاکستان کو نہایت محتاط اور متوازن حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ وہ اپنے کردار کو برقرار رکھتے ہوئے امن کی کوششیں جاری رکھ سکے۔ -

ترک صدر کی مذاکرات ناکام ہونے پر اسرائیل پر حملے کی دھمکی
ترک صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے کا اسرائیلی فیصلہ اور ہٹلر کی یہودی مخالف پالیسیوں میں کوئی فرق نہیں ہے اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو اسرائیل پر حملہ کردیں گے۔
ترک صدر کا کہنا تھا کہ صرف فلسطینیوں کے لیے سزائے موت کا نفاذ قانون کو نسل پرست فاشزم کے آلہ کار میں بدل دیتا ہے،انہوں نے نیتن یاہو کو ہٹلر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے سیزفائر کے دن بھی سیکڑوں لبنانی قتل کیے ہم اسرائیل میں ایسے ہی گھُس سکتے ہیں جیسے لیبیا اور کاراباخ میں داخل ہوئے تھے۔
اردگان نے مذاکرات ناکام ہونے پر حملے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو اس کی جگہ دکھائیں گے،غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں بے رحمی سے مارے جانے والے 72,000 شہریوں میں سے اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ ہمارے پڑوسی شام میں ساڑھے 13 سال کی خانہ جنگی میں، جن لوگوں نے سب سے زیادہ قیمت ادا کی وہ بھی خواتین اور بچے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 2 مارچ سے لبنان میں شہری رہائشی علاقوں پر اسرائیل کے حملوں کی وجہ سے 12 لاکھ لبنانیوں کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا ان حملوں میں 1500 سے زیادہ لبنانی بہن بھائی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جب کہ 4700 زخمی ہوئے جس دن جنگ بندی کا اعلان کیا گیا، اسرائیل نے 254 لبنانیو ں کو بے دردی سے قتل کر دیا، خون اور نفرت میں اندھا ہو کر نسل کشی کا یہ نیٹ ورک معصوم بچوں اور عورتوں کو قتل کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔
-

آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر جہاز پر ٹول ٹیکس لازمی ہوگا،ایران
ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے نئے کنٹرول نظام کے تحت ٹول فیس عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے-
ایرانی پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے روسی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر جہاز کو نئے نظا م کے تحت فیس ادا کرنا ہوگی،حکومت قومی مفادات کے تحت اس اہم سمندری راستے پر مکمل کنٹرول اور مؤثر مینجمنٹ قائم کرے گی، جبکہ انہوں نے امریکا پر عدم اعتماد کا اظہار بھی کیا۔
دوسری جانب ایران کے نائب وزیر تیل محمد صادق نے بتایا کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں متاثر ہونے والی آئل ریفائننگ صلاحیت کی بحالی پر کام جاری ہے انہوں نے کہا کہ توقع ہے کہ آئندہ دو ماہ کے اندر 70 سے 80 فیصد پیداواری صلاحیت بحال ہو جائے گی،لاوان ریفائنری کا کچھ حصہ آئندہ 10 دنوں میں دوبارہ کام شروع کر سکتا ہے، جس سے تیل کی پیداوار میں بتدریج بہتری آنے کی امید ہے۔