Baaghi TV

Blog

  • پاکستانی مرحوام اداکار  سلطان راہی کا 88واں یوم پیدائش

    پاکستانی مرحوام اداکار سلطان راہی کا 88واں یوم پیدائش

    پاکستان کے لیجنڈ اداکار مرحوم سلطان راہی کا 88واں یوم پیدائش منایا جا رہا ہے۔

    سلطان راہی 24 جون 1938ء کو بھارت کے شہر سہارنپور میں پیدا ہوئے اور تقسیم ہند کے بعد ہجرت کر کے گوجرانوالہ میں سکونت اختیار کی،انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز 1959ء میں فلم "باغی” سے کیا، سلطان راہی نے اپنے فلمی سفر کا آغاز چھوٹے کرداروں سے کیا، لیکن اپنی محنت، منفرد اداکاری اور طاقتور مکالمہ ادائیگی سے وہ پنجابی فلموں کے سب سے بڑے ستارے بن گئے-

    تقریباً چار دہائیوں پر محیط کیریئر میں سلطان راہی نے سیکڑوں فلموں میں اداکاری کی ، ان کا نام بطور سب سے زیادہ فلموں میں کام کرنے والے اداکار کے گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی شامل رہا ہے انہوں نے پنجابی سنیما کو ایک نئی شناخت دی ان کے ڈائیلاگز، انداز اور کردار آج بھی پاکستانی فلم انڈسٹری کا قیمتی سرمایہ سمجھے جاتے ہیں،فلم ’وحشی جٹ‘ نے انہیں شہرت کی بلندیوں تک پہنچایا، جبکہ ’مولا جٹ‘ نے سلطان راہی کو برصغیر کے مقبول ترین ایکشن ہیروز میں شامل کردیا،اور انہیں "شیرِ پنجاب” کا خطاب ملا،سلطان راہی اور مصطفیٰ قریشی کی جوڑی پاکستانی فلمی تاریخ کی کامیاب ترین جوڑیوں میں شمار ہوتی ہے، جنہوں نے متعدد یادگار فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے،یہ جوڑی آج بھی فلمی شائقین کے دلوں میں زندہ ہے-

    9 جنوری 1996 کو گوجرانوالہ کے قریب ایک افسوسناک واقعے میں اردو اور پنجابی فلموں کے لیجنڈ اداکار سلطان راہی دنیا سے رخصت ہوگئے، لیکن ان کا فن آج بھی زندہ ہے اور وہ پاکستان کے یادگار ترین اداکاروں میں شمار ہوتے ہیں۔

  • دولتِ زر سے دولتِ نظر تک،”999 ٹریلین ڈالر کی کتاب” پر تبصرہ

    دولتِ زر سے دولتِ نظر تک،”999 ٹریلین ڈالر کی کتاب” پر تبصرہ

    زر کی نہیں، یہ فکر کی دولت کا پیام
    ہر باب میں ہے نورِ بصیرت کا مقام

    اخلاق احمد ساغر

    عہدِ حاضر میں جب مادّی ثروت کو کامیابی کا معیار، زر و جواہر کو عظمت کا مدار اور دولت و شہرت کو رفعت کا شعار سمجھ لیا گیا ہے، ایسے پُرفتن ماحول میں علامہ عبدالستار عاصم نے "999 ٹریلین ڈالر کی کتاب” تصنیف کرکے ایک نئی جہت، ایک نیا شعور اور ایک نیا دستور پیش کیا ہے۔ یہ کتاب صرف اعداد و شمار کا دفتر نہیں بل کہ افکار کا سمندر، کردار کا دفتر، اسرار کا مظہر اور انوار کا منبع ہے۔ اس کے صفحات پر وہ ہستیاں جلوہ گر ہیں جنھوں نے اپنی بصیرت سے زمانوں کو منور کیا، اپنی فراست سے تہذیبوں کو سنوارا، اپنی ریاضت سے علم کے چراغ روشن کیے اور اپنی عظمت سے انسانیت کو نئی منزلوں سے آشنا کیا۔ گویا یہ کتاب دولتِ زر سے بڑھ کر ولتِ فکر، ثروتِ مال سے بلند تر ثروتِ کمال اور سرمایۂ دنیا سے کہیں زیادہ سرمایۂ شعور و وقار کا ایک درخشاں استعارہ ہے۔
    یہ کتاب محض ٹریلین ڈالروں کی حکایت نہیں بل کہ اُن اربابِ علم و ہنر، اصحابِ فکر و نظر، صاحبانِ تدبر و بصیرت، اور معمارانِ تہذیب و تمدن کی زندہ داستان ہے جنھوں نے اپنی عقل سے جہالت کے اندھیروں کو شکست دی، اپنی حکمت سے زمانوں کو روشنی بخشی، اپنی ریاضت سے انسانیت کو رفعت بخشی اور اپنے کردار سے تاریخ کے ماتھے پر دوام و بقا کے چراغ ثبت کر دیے۔ گویا یہ کتاب دولتِ زر کی نہیں، دولتِ فکر کی؛ ثروتِ مال کی نہیں، ثروتِ کمال کی؛ اور سرمایۂ دنیا کی نہیں، سرمایۂ شعور و وقار کی آئینہ دار ہے۔

    علامہ عبدالستار عاصم نے اس گراں قدر تصنیف میں سائنس، فلسفہ، طب، ادب، معیشت، فنونِ لطیفہ، قیادت، صحافت، تعلیم، عمرانیات، کھیل، صنعت، فلکیات، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور روحانیات کے میدانوں میں درخشندہ ستاروں کو یک جا کرکے ایک ایسا گلستان آباد کیا ہے جس کی ہر کلی خوش بوئے آگہی سے معطر اور ہر شاخ ثمرِ دانائی سے بارآور ہے۔ ابوالقاسم الزہراوی، البیرونی، الفارابی، الرازی، ابن الہیثم، ابن بطوطہ، ابن خلدون، ابن سینا اور الخوارزمی جیسے اکابرِ علم ہوں یا سقراط، کانٹ، کارل یونگ، سگمنڈ فرائیڈ اور نوم چومسکی جیسے اربابِ فکر؛ آئن سٹائن، نیوٹن، گریگر مینڈل، ایلن ٹیورنگ، جیفری ہنٹن اور سٹیفن ہاکنگ جیسے معمارانِ سائنس ہوں یا لیونارڈو ڈاونسی، مائیکل اینجلو، پکاسو، موزارٹ، شیکسپیئر، غالب اور گبریل گارسیا مارکیز جیسے شہسوارانِ فن و ادب؛ ہر شخصیت ایک دبستان، ہر کارنامہ ایک داستان اور ہر باب ایک جہانِ معنی کی حیثیت رکھتا ہے۔

    اسی طرح صلاح الدین ایوبی، محمد علی جناح، کوفی عنان، یاسر عرفات، مارٹن لوتھر کنگ، مدر ٹریسا اور وانگاری ماتھائی جیسے انسان دوست قائدین ہوں یا ہنری فورڈ، جان ڈی راک فیلر، وارن بفیٹ، لیری پیج، سرگئی برن، مارک زکربرگ، جیف بیزوس، ایلون مسک اور سٹیو جابز جیسے دنیا کو نئی جہات عطا کرنے والے صاحبانِ صنعت و ایجاد، مصنف نے ان سب کے حالات و کمالات سے ایسے گوہر ہائے نایاب چنے ہیں جو نوجوان نسل کے لیے شمعِ راہ اور مشعلِ منزل ہیں۔

    اس کتاب کا امتیاز یہ ہے کہ یہ قاری کو صرف معلومات نہیں دیتی بل کہ شعور عطا کرتی ہے؛ صرف واقعات نہیں سناتی بلکہ جہات دکھاتی ہے؛ صرف خواب نہیں جگاتی بلکہ تعبیر کے راستے بھی بتاتی ہے۔ اس کے صفحات امید کی نوید، ہمت کی تاکید، عمل کی ترغیب اور کردار کی تمجید سے مزین ہیں۔ اس کا ہر عنوان پیامِ عمل، ہر سطر ترغیبِ مسلسل اور ہر باب جہدِ مسلسل کا علم بردار ہے۔
    مصنفِ محترم نے نہایت سادہ مگر دل آویز، شستہ مگر شگفتہ، عام فہم مگر پرمغز اسلوب اختیار کرکے اس کتاب کو عوام و خواص دونوں کے لیے یکساں مفید بنا دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تصنیف علم و حکمت کا گلستان، فکر و آگہی کا بوستان اور تعمیرِ انسانیت کی ایک تابندہ داستان ہے۔

    اگرچہ یہ شاہ کار اپنی جامعیت کے اعتبار سے لائقِ صد تحسین ہے، تاہم آئندہ اشاعتوں میں چند ایسی نابغۂ روزگار شخصیات کا اضافہ اس کی معنوی وسعت میں مزید اضافہ کرسکتا ہے جن کی خدمات عالمگیر اثرات کی حامل ہیں۔ خصوصاً حکیم الامت، شاعرِ مشرق، مفکرِ پاکستان حضرت علامہ محمد اقبالؒ، جنھوں نے خودی، عشق، حریت، اجتہاد اور بیداریٔ امت کا وہ چراغ روشن کیا جس کی ضیا آج بھی مشرق و مغرب کے افق پر جلوہ فگن ہے۔ اسی طرح امام غزالیؒ، شاہ ولی اللہ دہلویؒ، ڈاکٹر عبدالقدیر خان، نیلسن منڈیلا، کنفیوشس، چارلس ڈارون، عبدالسلام، جارج واشنگٹن، سید ابوالحسن علی ندویؒ، عبدالستار ایدھی اور فیض احمد فیض جیسی شخصیات بھی اس گلشنِ معارف کی رونق میں اضافہ کرسکتی ہیں۔

    ’’999 ٹریلین ڈالر کی کتاب‘‘ ایک کتاب نہیں، ایک مکتب ہے؛ ایک تصنیف نہیں، ایک تحریک ہے؛ ایک دفتر نہیں، ایک سمندر ہے؛ ایک سرمایہ نہیں، ایک خزانہ ہے۔ یہ انمول شاہ کار علم کی شوکت، فکر کی عظمت، کردار کی رفعت اور انسانیت کی خدمت کا ایسا مرقع ہے جس کی قیمت ٹریلین ڈالروں سے نہیں بل کہ بصیرت، حکمت، ہمت اور خدمت کے پیمانوں سے متعین ہوتی ہے۔

    بارگاہِ ایزدی میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ علامہ عبدالستار عاصم کے قلم کو مزید روانی، فکر کو مزید توانائی، علم کو مزید وسعت اور کاوشوں کو مزید مقبولیت عطا فرمائے تاکہ ان کے فیضانِ قلم سے تشنگانِ علم سیراب، طالبانِ فکر کامیاب اور متلاشیانِ حقیقت فیض یاب ہوتے رہیں۔

    نہ کوئی تاج، نہ تخت و نہ جاہ و زر کی بات
    یہاں تو فکر کی ہوتی ہے بس نگاہ کی بات
    یہی تو قوم کے بیدار خواب کا حاصل
    یہی ہے فرد کی تعمیر و ارتقا کی بات
    یہی تو رزق ہے فکروں کے قحط سالوں میں
    یہی ہے قوم کے روشن دل و نگاہ کی بات

  • رخصتی نہ ہونے یا ازدواجی تعلق قائم نہ ہونے سے بھی مہر کا قانون ختم نہیں ہوتا،عدالت

    رخصتی نہ ہونے یا ازدواجی تعلق قائم نہ ہونے سے بھی مہر کا قانون ختم نہیں ہوتا،عدالت

    لاہورہائیکورٹ کے جسٹس مرزا وقاص روف کا خلع کی صورت میں حق مہر کی واپسی سے متعلق بڑا فیصلہ سامنے آیا ہے

    جسٹس مرزا وقاص روف نے حق مہر سے متعلق نیا قانونی نکتی طے کردیا،لاہور ہائیکورٹ کے مطابق رخصتی نہ ہونے یا میاں بیوی کے ساتھ نہ رہنے کے باوجود بھی خاتون حق مہر کی حقدار ہے، رخصتی نہ ہونے یا ازدواجی تعلق قائم نہ ہونے سے بھی مہر کا قانون ختم نہیں ہوتا، لاہورہائیکورٹ کے جسٹس مرزا وقاص روف نے اذکا آفرین کی درخواست پر 9صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا،فیصلے میں کہا گیا کہ اگر نکاح نامے میں مہر کی ادائیگی کا وقت نہ لکھا ہو تو پورا مہر فوری طور پر دیناہو گا،مہر کی تفصیل واضح نہ ہونے پر قانون کے مطابق سارا مہر جب مانگا جائے تب ہی واجب الادامانا جائے گا،نکاح نامے میں لکھا گیا 10 تولہ سونا، ایک کنال زمین اور مکان فوری ادائیگی والا مہر ہے،خلع یعنی عورت کی طرف سےشادی ختم کرنے پر وہ مہر کا 25 فیصد حصہ شوہر کو واپس کرنے کی پابند ہے،خلع کی بنیاد پر شادی اس صورت میں فوری ختم ہوگی بشرطیکہ خاتون مہر کا 25 فیصد حصہ شوہر کو واپس کرے،ہائیکورٹ نے ماتحت عدالتوں کی غلطی دور کرتے ہوئے ازکا افرین کی درخواست منظور کر لی

  • ایران امریکا مذاکرات: اگلے مرحلے کے لیے 3 خصوصی گروپس تشکیل دیے گئے ہیں،ترجمان دفتر خارجہ

    ایران امریکا مذاکرات: اگلے مرحلے کے لیے 3 خصوصی گروپس تشکیل دیے گئے ہیں،ترجمان دفتر خارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے اگلے مرحلے کے لیے 3 خصوصی تکنیکی ورکنگ گروپس تشکیل دیے گئے ہیں-

    ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ ایران کے صدر نے گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر پاکستان کا ایک روزہ خصوصی دورہ کیا، جس کے دوران انہوں نے صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم سے اہم ملاقاتیں کیں وزیراعظم سے باضابطہ ملاقات کے دوران دونوں ممالک کی قیادت نے پاک ایران تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا،سوئٹزرلینڈ کے علاقے برگن اسٹاک میں ایران اور امریکا کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات کا انعقاد ہوا، جبکہ 21 جون کو مذاکرات کا دوسرا دور بھی منعقد کیا گیا، ان مذاکرات میں پاکستان کی نمائندگی وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کی۔

    ترجمان کے مطابق مذاکرات کے اگلے مرحلے کے لیے 3 خصوصی تکنیکی ورکنگ گروپس تشکیل دیے گئے ہیں پہلا گروپ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملات کا جائزہ لے رہا ہے، جبکہ دوسرا گروپ پابندیوں اور منجمد اثاثوں کے مسائل پر کام کر رہا ہے تیسرا ورکنگ گروپ لبنان کی صورتحال اور اس سے متعلق امور کا جائزہ لے رہا ہے ان گروپس کی سفارشات کی روشنی میں مذاکرات کے آئندہ مراحل کو آگے بڑھایا جائے گا،پاکستان خطے میں امن، استحکام اور سفارتی حل کے فروغ کے لیے اپنی تعمیری کوششیں جاری رکھے گا اور تمام فریقین کے درمیان مکالمے اور تعاون کی حمایت کرتا رہے گا۔

  • مومنہ اقبال ہراسانی کیس،ثاقب چدھڑ،اہلیہ کی ضمانت میں توسیع

    مومنہ اقبال ہراسانی کیس،ثاقب چدھڑ،اہلیہ کی ضمانت میں توسیع

    اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کے مقدمے میں پیش رفت، سیشن کورٹ لاہور نے پنجاب اسمبلی کے رکن ثاقب چدھڑ اور ان کی اہلیہ کی عبوری ضمانت میں 2 جولائی تک توسیع کر دی۔

    لاہور کی سیشن عدالت میں ایڈیشنل سیشن جج نے مقدمے کی سماعت کی، جس دوران ثاقب چدھڑ اپنی اہلیہ کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے اور عبوری ضمانت کی درخواست پر دلائل سنے گئے۔سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ملزمان کے موبائل فون فارنزک تجزیے کے لیے بھجوا دیے گئے ہیں جبکہ مقدمے کی تفتیش مکمل کرنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔عدالت نے تفتیشی عمل کی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی سے آئندہ سماعت پر مکمل تفتیشی رپورٹ طلب کر لی۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 2 جولائی تک ملتوی کرتے ہوئے ملزمان کی عبوری ضمانت میں بھی اسی تاریخ تک توسیع برقرار رکھی۔

  • ایلون مسک کو  ایک ہفتے کے دوران تقریباً 350 ارب ڈالر کا بھاری مالی نقصان

    ایلون مسک کو ایک ہفتے کے دوران تقریباً 350 ارب ڈالر کا بھاری مالی نقصان

    واشنگٹن: دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کو صرف ایک ہفتے کے دوران تقریباً 350 ارب ڈالر کا بھاری مالی نقصان ہوا-

    رپورٹس کے مطابق ایلون مسک کی دولت میں یہ غیر معمولی کمی بنیادی طور پر ان کی کمپنی اسپیس ایکس کے حصص کی قیمت میں تقریباً 30 فیصد گراوٹ کے باعث ہوئی چند روز قبل اسپیس ایکس کی شاندار مارکیٹ کارکردگی اور حصص کی فروخت کے بعد سرمایہ کاروں میں زبردست جوش و خروش دیکھنے میں آیا تھا، تاہم بعد ازاں کمپنی کے مصنوعی ذہانت سے متعلق منصوبوں کے لیے درکار نئی سرمایہ کاری اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے خدشات نے مارکیٹ کے اعتماد کو متاثر کیا۔

    رواں ماہ ایلون مسک نے اسپیس ایکس کے حصص فروخت کے لیے پیش کیے تھے، جس کے بعد ان کی مجموعی دولت ایک ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گئی تھی اور وہ دنیا کے پہلے "ٹریلینئر” کے طور پر خبروں کی زینت بنے تھے تاہم حالیہ گراوٹ نے ان کی دولت میں نمایاں کمی کر دی ہےاس گراوٹ کے نتیجے میں ایلون مسک کی مجموعی دولت تقریباً 1.45 ٹریلین ڈالر سے کم ہو کر 1.1 ٹریلین ڈالر کے قریب رہ گئی ہے اگرچہ وہ اب بھی دنیا کے امیر ترین افراد میں سرفہرست شمار ہوتے ہیں، لیکن ایک ہفتے کے دوران ہونے والا یہ نقصان حالیہ برسوں کے بڑے مالی نقصانات میں شمار کیا جا رہا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اسپیس ایکس کے حصص میں کمی کا اثر صرف کمپنی تک محدود نہیں رہا بلکہ عالمی ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کی منڈیوں پر بھی دباؤ دیکھا گیا ہے سرمایہ کار اب مصنوعی ذہانت کے منصوبوں کے اخراجات، منافع اور مستقبل کی مالی حکمت عملی کا مزید باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔

  • خواتین سفارت کاروں کی خدمات نے بین الاقوامی شراکت داریوں کو مضبوط بنایا ،آصفہ بھٹو

    خواتین سفارت کاروں کی خدمات نے بین الاقوامی شراکت داریوں کو مضبوط بنایا ،آصفہ بھٹو

    اسلام آباد: خاتونِ اول آصفہ بھٹو زرداری نے خواتین سفارت کاروں کے عالمی دن کے موقع پر دنیا بھر میں مکالمے، تعاون اور بین الاقوامی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے اپنی صلاحیتیں اور خدمات وقف کرنے والی خواتین کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

    اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ خواتین سفارت کاروں کی خدمات نے بین الاقوامی شراکت داریوں کو مضبوط بنانے اور اقوام کے درمیان اعتماد و تعاون کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین نے سفارت کاری کے میدان میں نمایاں کردار ادا کرتے ہوئے ایک پُرامن، مستحکم اور باہم مربوط دنیا کی تشکیل میں اہم حصہ ڈالا ہے۔آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ان ممتاز خواتین پر فخر ہے جنہوں نے وقار، صلاحیت اور امتیاز کے ساتھ عالمی سطح پر ملک کی نمائندگی کی۔ انہوں نے بیگم رعنا لیاقت علی خان اور بیگم شائستہ اکرام اللہ کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان شخصیات نے پاکستان کی سفارتی شناخت کے قیام اور اسے مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

    خاتونِ اول نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جرات مندانہ قیادت نے پاکستان کو عالمی سطح پر نمایاں مقام دلایا اور خواتین کی سیاسی و سفارتی قیادت کے لیے نئی راہیں ہموار کیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی خواتین کی متعدد نسلوں نے عوامی خدمت، خارجہ امور اور بین الاقوامی تعلقات کے شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے اور ملک کے لیے ایک قابلِ فخر اور دیرپا ورثہ چھوڑا ہے۔

  • افغانستان میں دہشتگرد نیٹ ورکس کیخلاف پاکستان کےآپریشن غضب للحق کی عالمی سطح پر پذیرائی

    افغانستان میں دہشتگرد نیٹ ورکس کیخلاف پاکستان کےآپریشن غضب للحق کی عالمی سطح پر پذیرائی

    افغانستان میں دہشتگرد نیٹ ورکس کیخلاف پاکستان کےآپریشن غضب للحق کی عالمی سطح پر پذیرائی ہوئی ہے

    پاکستان افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہوں اورعسکری تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنارہا ہے،معروف امریکی جریدے نے افغان طالبان اورفتنہ الخوارج کیخلاف پاکستان کی بہترین آپریشنل حکمت عملی کوسراہا،دی ڈپلومیٹ کےمطابق افغانستان میں موجود دہشتگرد نیٹ ورکس کے خلاف پاکستان کی مہم نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، پاکستان نے دہشتگرد نیٹ ورکس اور انکے سہولت کاروں کے گرد گھیرا تنگ کردیا ، آپریشن غضب الحق کا مقصد پاک افغان سرحدی علاقوں میں دہشتگرد نیٹ ورکس کو کمزور کرنا ہے ،فتنہ الخوارج اورفتنہ الہندوستان افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیاں کررہے ہیں ،افغان طالبان کمانڈرملا محمد زئی اخوندقندھارمیں فتنہ الخوارج کے تربیتی امور اور لاجسٹکس کی نگرانی کرچکے ہیں،

    عالمی تھنک ٹینکس کے مطابق آپریشن غضب للحق کو فتنہ الخوار ج کی پشت پناہی روکنے،دہشتگردی کیخلاف اہم حکمتِ عملی قرار دیا گیا،ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں دہشتگردی کےواقعات میں نمایاں کمی آپریشن غضب للحق کی کامیابی کاواضح ثبوت ہے،

  • مودی کی بدترین  خارجہ پالیسی، سنجیدہ سفارت کاری محض سوشل میڈیا تماشہ بن گئی

    مودی کی بدترین خارجہ پالیسی، سنجیدہ سفارت کاری محض سوشل میڈیا تماشہ بن گئی

    مودی کی بدترین خارجہ پالیسی، سنجیدہ سفارت کاری محض سوشل میڈیا تماشہ بن گئی

    مودی کی عالمی سطح پر موجودگی کے باوجود بھارت کے سفارتی تعلقات کمزور ہونے لگے،امریکہ ایران جنگ میں پاکستان کی کامیاب ثالثی نے مودی کی نام نہاد سفارت کاری کو خاک میں ملا دیا،بھارتی جریدہ دی پرنٹ کے مطابق بھارتی خارجہ پالیسی میں قیادت کا مفاد بڑھنے سے ریاستی سفارتی شناخت کمزورہوئی،کانگریس رہنما پون کھیڑا نے بھی مودی کی خارجہ پالیسی کو ذاتی دکھاوے کا ذریعہ قرار دیا ،دی پرنٹ کے مطابق مودی کی ناقص پالیسیوں کے باعث غیر ملکی سرمایہ کار بھارت کا بائیکاٹ کر رہے ہیں، مغربی ایشیا بحران اور ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت پر مودی حکومت کا خوف کھل کر سامنے آ یا،مودی کی ظاہری نمائش کے برعکس عالمی مذاکرات میں بھارت کی کوئی جگہ نہیں دکھائی دی،

    بھارتی دفاعی ماہر پروین ساہنی کا کہنا ہے کہ مودی کی مکمل سفارتی ناکامی عالمی سطح پر بھارت کی بدترین بے وقعتی ثابت ہو گی،مودی کے خوف اور دکھاوے کی سیاست نے دنیا بھر میں بھارت کی عزت خاک میں ملا دی

  • مودی کی نااہلی کے باعث بیرون ملک سخت ویزا پالیسی، بھارتی طلباء کا مستقبل تاریک

    مودی کی نااہلی کے باعث بیرون ملک سخت ویزا پالیسی، بھارتی طلباء کا مستقبل تاریک

    کمزور کرنسی، سخت ویزا شرائط اور امیگریشن کیخلاف کریک ڈاؤن سے دنیا بھر میں بھارتی طلباء کا مستقبل تباہ ہو گیا ہے

    2سال میں برطانیہ اور امریکہ جانے والے بھارتی طلبہ کی تعداد میں 20 فیصد کمی ہوئی،برطانوی نشریاتی ادارہ کے مطابق برطانیہ اور امریکہ جانے والےبھارتی طلبہ کی تعدادمیں مزید 15 فیصد کمی متوقع ہے، امریکی تحقیقی ادارے کی ڈائریکٹر جعلی ڈگریوں اور رشوت خوری کے باعث سخت ویزا پالیسی کی نشاندہی کر چکی ہیں ،برطانیہ میں 76 فیصد یونیورسٹیوں نے جنوری کے داخلوں میں بھارتی طلبہ کی تعداد میں کمی کر دی، بھارتی روپے کی قدر میں کمی نے بیرونِ ملک زیرتعلیم بھارتی طلباء کیلئے مشکلات بڑھا دیں، بھارتی روپیہ بڑے تعلیمی ممالک کی کرنسیوں کے مقابلے میں 47 فیصد تک قدر کھو چکا ہے، امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا میں بھارتی طلبا کے داخلوں میں2030 تک اوسطاً سالانہ 0.5 فیصد کمی متوقع ہے،بھارتی ماہرِ معاشیات رتھن رائے کا کہنا ہے کہ مینوفیکچرنگ کی تباہی اور کمزور معیشت کا بوجھ نوجوان نسل کامستقبل نگل رہا ہے،مودی کے زیر اقتدار بھارتی طلباء کو بدترین تعلیمی نظام اور بیرون ملک سخت ویزا پالیسیوں نے بری طرح جکڑ لیا