Baaghi TV

Blog

  • خواجہ آصف کے بیانات سے اشتعال میں اضافہ ہو سکتا ہے،مولانا فضل الرحمان

    خواجہ آصف کے بیانات سے اشتعال میں اضافہ ہو سکتا ہے،مولانا فضل الرحمان

    اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت پر زور دیا ہے کہ آزاد کشمیر کی عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ فوری مذاکرات کیے جائیں اور صورتحال کو افہام و تفہیم کے ذریعے حل کیا جائے۔

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی نے ان سے رابطہ کیا ہے اور انہیں اپنا آئندہ لائحہ عمل دینا تھا، تاہم تاحال اس حوالے سے کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے بتایا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کا باضابطہ خط موصول ہوا تھا جسے حکومت کو بھجوا دیا گیا، لیکن اب تک اس کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ راولاکوٹ میں بڑی تعداد میں لوگ موجود ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ حکومت مظاہرین کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے اور ان کے چارٹر آف ڈیمانڈ کا جائزہ لے۔ ان کا کہنا تھا کہ محض تقاریر کی بنیاد پر مظاہرین کے خلاف تشدد کا راستہ اختیار نہیں کیا جانا چاہیے۔

    جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے مظفرآباد کی طرف اعلان کردہ مارچ مؤخر کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ مثبت پیش رفت ہے جس سے مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو سکتا ہے۔انہوں نے وزیر دفاع خواجہ آصف کے حالیہ بیانات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات ایک ذمہ دار وزیر کو زیب نہیں دیتے اور ان سے اشتعال میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ایک طرف مصالحت کی ذمہ داری نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو دی گئی ہے جبکہ دوسری طرف سخت بیانات دیے جا رہے ہیں، جو صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔اپوزیشن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کی کوشش نہ کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ جے یو آئی (ف) نے چارسدہ میں لاکھوں افراد کا اجتماع منعقد کیا اور حکومتی جماعتیں بھی ایسے عوامی اجتماعات کر کے دکھائیں۔مولانا فضل الرحمٰن نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں تحمل، برداشت اور سنجیدگی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کا ردِعمل جذباتی ہوگا تو یہ اس کے منصب اور ذمہ داریوں کے شایانِ شان نہیں ہوگا۔

  • دنیا تک ہماری رسائی کے واحد راستے پر کسی اور کا کنٹرول قابل قبول نہیں ہوگا، قطری وزیراعظم

    دنیا تک ہماری رسائی کے واحد راستے پر کسی اور کا کنٹرول قابل قبول نہیں ہوگا، قطری وزیراعظم

    دوحہ: قطرکے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے کہا ہےکہ قطر چند ہفتوں میں ایل این جی پیداوار معمول پرلانےکا ارادہ رکھتا ہے لیکن ایل این جی پیداوار معمول پرلانا ہرمز میں صورتحال معمول پر آنے سے مشروط ہوگا

    برطانوی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے قطری وزیراعظم نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی کے لیے امریکا ایران ہاٹ لائن انتہائی اہم ہے، ہاٹ لائن کا مقصد غلط معلومات اور کسی بھی ممکنہ اشتعال انگیزی کو روکنا ہے بعض عناصر معاہدہ سبوتاژ کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں، ضروری ہے کہ جہازوں کو ملنے والی کسی بھی دھمکی کی ایران سے تصدیق کی جائے قطر آبنائے ہرمز سےگزرنے پر فیس لگانے کے ایرانی منصوبے کی حمایت نہیں کرے گا-

    قطری وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ایران نےکوئی مجوزہ ماڈل پیش کیا تو انہیں اس کے حق میں دلائل دینا ہوں گے اور ہمیں ایران کے مجوزہ ماڈل کا جائزہ لینا ہوگا دنیا تک ہماری رسائی کے واحد راستے پر کسی اور کا کنٹرول قابل قبول نہیں ہوگا، امید ہے 30 دن میں بحری سرگرمیاں جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب پہنچ جائیں گی قطر چند ہفتوں میں ایل این جی پیداوار معمول پرلانےکا ارادہ رکھتا ہے لیکن ایل این جی پیداوار معمول پرلانا ہرمز میں صورتحال معمول پر آنے سے مشروط ہوگا۔

  • اٹلی: قدیم رومی دور کا ایک عظیم ’ولا‘ دریافت

    اٹلی: قدیم رومی دور کا ایک عظیم ’ولا‘ دریافت

    اٹلی کے دارالحکومت روم کے قریب ماہرین کو قدیم رومی دور کا ایک عظیم ’ولا‘ ملا ہے جس میں خوبصورت موزیک فرش اور تاریخی ڈھانچے موجود ہیں۔

    یہ دریافت روم کے نواحی علاقے ’کاسٹیل دی گیوڈو‘ میں ہوئی، جو قدیم رومی دور میں ’لوریم‘کے نام سے ایک اہم رہائشی علاقہ سمجھا جاتا تھا یہ خطہ رومی سلطنت (27 قبل مسیح سے پانچویں صدی عیسوی) کے دوران اشرافیہ اور شاہی شخصیات کی رہائش کے لیے معروف تھا-

    اطالوی وزارت ثقافت کےمطابق یہ انکشاف اس وقت سامنے آیا جب مقامی افراد نے علاقے میں مشکوک کھدائی کی اطلاع دی، جس پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے غیر قانونی کھدائی روک دی،بعد ازاں ماہرین آثار قدیمہ نے تصدیق کی کہ یہ مقام ایک بڑا اور محفوظ رومی ’ولا‘ ہے جہاں شاندار داخلی ہال، مرکزی صحن اور پانی جمع کرنے کا قدیم نظا م موجود ہے جسے ’امپلووئیم‘ کہا جاتا ہے، فرش پر سیاہ اور سفید رنگ کے موزیک موجود ہیں جن پر نباتاتی اور ہندسی نقش و نگار بنے ہوئے ہیں، جو قدیم رومی فن تعمیر کی اعلیٰ مثال سمجھے جاتے ہیں۔

    حکام کے مطابق نامعلوم افراد نے بھاری مشینری کے ذریعے غیر قانونی کھدائی کی کوشش کی تھی تاہم ’کارابینیری‘ نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے یہ عمل روک دیا،ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ’ولا‘ ممکنہ طور پر رومی اشرافیہ یا شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے افراد کی ملکیت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس کی تزئین و آرائش انتہائی شاندار اور نفیس ہے۔

    اطالوی وزارت ثقافت نے کہا ہے کہ کھدائی کا عمل جاری ہے اور مزید اہم تاریخی آثار سامنے آنے کا امکان ہے، جبکہ مستقبل میں عوام کو محدود اجازت کے ساتھ اس مقام کا دورہ کرایا جائے گا۔

  • سینئر صحافی افتخار احمد کے بھائی آغا اقبال احمد خان انتقال کر گئے

    سینئر صحافی افتخار احمد کے بھائی آغا اقبال احمد خان انتقال کر گئے

    سینئر صحافی اور اینکر افتخار احمد کے بھائی آغا اقبال احمد خان انتقال کر گئے ہیں۔

    خاندانی ذرائع کے مطابق مرحوم ہیٹ اسٹروک کے باعث اسپتال میں زیر علاج تھے جہاں وہ وفات پا گئے مرحوم کی نماز جنازہ اور تدفین آج شام 6بجے وینس ہاؤسنگ سکیم فیروز پورروڈپرادا کی جائے گی،جنازہ ان کی رہائش گاہ بارون روڈ سروبا گارڈن سے اٹھایا جائے گا –

    گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے جنگ اور جیو سے وابستہ صحافی اور اینکر افتخار احمد کے بھائی آغا اقبال احمد خان کی وفات پر افسوس کا اظہار کیا ہے ترجمان گورنر ہاؤس پشاور کے مطابق گورنرخیبر پختونخوا نے اپنی تعزیتی پیغام میں مرحوم کی مغفرت، بلندی درجات اور پسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔

  • کیری بولان میں ڈلیوری کیس، شوکاز نوٹس، تین رکنی انکوائری کمیٹی قائم

    کیری بولان میں ڈلیوری کیس، شوکاز نوٹس، تین رکنی انکوائری کمیٹی قائم

    غفلت کے الزامات پر ایم ایس ٹی ایچ کیو گوجرخان کا فوری ایکشن، متعلقہ ڈاکٹر اور نرسنگ اسٹاف کو شوکاز نوٹس جاری وضاحت طلب
    گاڑی میں ڈلیوری کے واقعہ پر محکمہ صحت متحرک سی ای او ہیلتھ راولپنڈی نے حقائق جاننے کیلئے انکوائری کمیٹی قائم کر دی، رپورٹ طلب
    گوجرخان (قمرشہزاد) ٹی ایچ کیو ہسپتال گوجرخان سے ریفر کی جانے والی زچہ کی روات کے قریب جی ٹی روڈ پر ایک کیری بولان میں ڈلیوری کے واقعہ کے بعد محکمہ صحت متحرک ہوگیا۔ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ٹی ایچ کیو ہسپتال گوجرخان ڈاکٹر عمر فاروق مرزا نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ڈیوٹی پر موجود ویمن میڈیکل آفیسر ڈاکٹر سارونہ اسحاق اور چارج نرس حفضہ رسول کو مبینہ غفلت، ناقص مریض نگہداشت اور گائنی یونٹ سے غیر ضروری ریفرل کے الزام میں شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے۔ جاری نوٹس کے مطابق خاتون کو تشویشناک حالت میں مناسب طبی اور انتظامی پروٹوکول کے بغیر ریفر کیا گیا، جس کے نتیجے میں مریضہ نے راولپنڈی جاتے ہوئے نجی گاڑی میں بچے کو جنم دیا۔ نوٹس میں اس واقعہ کو غیر پیشہ ورانہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس سے ماں اور نومولود کی جان خطرے میں پڑی جبکہ ہسپتال کی ساکھ بھی متاثر ہوئی۔ متعلقہ ڈاکٹر اور نرس کو تین روز کے اندر تحریری وضاحت جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے، بصورت دیگر پیڈا رولز کے تحت مزید محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    دوسری جانب چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی راولپنڈی ڈاکٹر احسان غنی نے بھی واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے تین رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ کمیٹی میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (میڈیکل سروسز) راولپنڈی کو کنوینر جبکہ ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر گوجرخان اور ٹی ایچ کیو ہسپتال کلر سیداں کی کنسلٹنٹ گائناکالوجسٹ ڈاکٹر عاصمہ صدف کو بطور اراکین شامل کیا گیا ہے۔ کمیٹی کو شکایت، متعلقہ ریکارڈ، ڈیوٹی روسٹر، مریضہ کے اندراجات، ریفرل دستاویزات اور دستیاب سی سی ٹی وی فوٹیج سمیت تمام شواہد کا جائزہ لے کر واقعہ کے حقائق معلوم کرنے، ذمہ داریوں کا تعین کرنے اور تین روز کے اندر اپنی سفارشات پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں غفلت، بدانتظامی یا فرائض میں کوتاہی ثابت ہونے کی صورت میں متعلقہ ڈاکٹر نرسسز سٹاف کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔

  • قومی اسمبلی اجلاس میں سپیکر ایاز صادق اور اپوزیشن لیڈر  محمود اچکزئی پھر آمنے سامنے

    قومی اسمبلی اجلاس میں سپیکر ایاز صادق اور اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی پھر آمنے سامنے

    قومی اسمبلی اجلاس میں سپیکر ایاز صادق اور اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی پھر آمنے سامنے آ گئے

    سپیکر قومی ایاز صادق نےاپوزیشن لیڈر کو آج بھی سخت جواب دیا ہے،ایاز صادق نے کہا کہ 98 میں پی ٹی آئی چھوڑ دی تھی،2001 کو ن لیگ جوائن کی تھی۔ اقتدار کی پارٹی کو جوائن نہیں کیا تھا اسے جوائن کیا جو مشکل میں تھی ،آپ نے مجھ پر بات کی اور کہا تم حوالدار ہو ، میں دو حوالداروں کو جانتا ہوں ،ایک بارڈر والے اور دوسرا چوروں ڈاکوں منشیات فروشوں کو پکڑتا ہے ،میں بھی ایک انسان ہوں، ہم ایک لائن ڈرا کر دیتے ہیں ،یہ عہدہ یا ایم این اے شپ تاحیات نہیں،نہیں معلوم کب تک سپیکر ہوں ،کسی کی دل آزاری کی بات نہیں کرتا،آپ کا جتنا وقت تھا اس سے دو گنا دیا ،67 اپوزیشن ارکان بولے،آپ لوگوں پر پینا ڈال والا افیکٹ ہوتا ہے،آپ لوگوں پر تین چار گھنٹے میں اثر اتر جاتا ہے ، باہر جا کر کہتے ہیں سپیکر بولنے نہیں دیتا۔

    قومی اسمبلی اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان میں دلچسپ نوک جھونک ہوئی، وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ میں مولانا فضل الرحمان کا بہت احترام کرتا ہوں،میں مولانا فضل الرحمان کے پاس جاتا رہتا ہوں، جو میری ان کے ساتھ تخلیہ میں گفتگو ہوئی ہے وہ ہمیشہ میرے سینے میں راز کی طرح رہے گی، جس پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ میری آج تک جو بھی گفتگو ہوئی ہے میں اجازت دیتا ہوں وزیر اعظم بتا دیں،وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ میں مولانا فضل الرحمان کی اجازت کے باوجود نہیں یہ باتیں سامنے نہیں لاؤں گا،کیونکہ اگر میں نے یہ باتیں کر دیں تو بات بہت آگے تک چلی جائے گی .

    مہاجرین کی سیٹوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، سیٹیں ختم کرنے کا فیصلہ آزاد کشمیر اسمبلی کر سکتی ہے،رانا ثناء اللہ
    قومی اسمبلی اجلاس میں ن لیگی رکن رانا ثناء اللہ نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔مولانا فضل الرحمان نے ثالثی کی بات کی ہے جس کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں،میں چند حقائق مولانا فضل الرحمان کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں،جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے 38 مطالبات پیش کیے تھے،وزیراعظم نے مذاکرات کے لیے کمیٹی قائم کی، ہم مظفر آباد جا کر ان سے مذاکرات کر چکے ہیں، بجلی کے ریٹ سے متعلق وزیراعظم نے فوری طور پر مطالبہ منظور کیا، گندم پر 2000 روپے سبسڈی دی جا رہی ہے، ہسپتالوں میں مختلف مشینوں کے حوالے سے مطالبات بھی منظور کیے گئے، مہاجرین کی سیٹوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، سیٹیں ختم کرنے کا فیصلہ آزاد کشمیر اسمبلی کر سکتی ہے،اس حوالے سے 6 رکنی کمیٹی بنائی گئی،جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اس کمیٹی کا بائیکاٹ کیا، 9 جون کے احتجاج کا اعلان انتخابات کو روکنے کے لیے تھا،

  • امریش پوری کے ساتھ  اپنی پہلی مشترکہ شوٹنگ کے دوران بے حد خوفزدہ اور نروس تھی،امیشا پٹیل

    امریش پوری کے ساتھ اپنی پہلی مشترکہ شوٹنگ کے دوران بے حد خوفزدہ اور نروس تھی،امیشا پٹیل

    بالی ووڈ اداکارہ امیشا پٹیل نے کہا کہ فلم غدر میں لیجنڈری اداکار امریش پوری کے ساتھ اپنی پہلی مشترکہ شوٹنگ کے دوران شدید گھبراہٹ کا شکار تھی۔

    بھارتی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امیشا پٹیل نے بتایا کہ فلم غدر میں میرا پہلا سین امریش پوری کے ساتھ ایک جذباتی اور آمنے سامنے کی صورتِ حال پر مبنی تھا، جس کی وجہ سے میں بے حد خوفزدہ اور نروس تھی میں اس سین کی شوٹنگ سے پہلے کانپ رہی تھی، تاہم امریش پوری نے اپنے دوستانہ اور حوصلہ افزا رویے سے میری تمام گھبراہٹ دور کر دی۔

    امیشا پٹیل کے مطابق امریش پوری میرے لیے کام کرنا بہت آسان بنا دیتے تھے، انہوں نے کبھی مجھے یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ وہ ایک عظیم اور تجربے کار اداکار ہیں جبکہ میں ایک نئی فنکارہ ہوں، اس وقت میری فلم کہو نا پیار ہے بھی ریلیز نہیں ہوئی تھی اور زیرِ تکمیل تھی، میں آج بھی امریش جی کو بہت یاد کرتی ہوں، خوف ان کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ ان کے قد و قامت اور تجربے کی وجہ سے تھا، حقیقت میں وہ انتہائی محبت کرنے والے، ذہین اور مزاحیہ شخصیت کے مالک تھے۔

    اگرچہ امریش پوری اپنی مشہور منفی کرداروں، خصوصاً موگیمبو اور اشرف علی کے کرداروں کی وجہ سے سخت گیر شخصیت کے حامل دکھائی دیتے تھے، لیکن حقیقی زندگی میں وہ نہایت خوش مزاج اور شاندار حسِ مزاح رکھنے والے انسان تھے۔

    انٹرویو میں امیشا پٹیل نے پاکستان میں اپنی غیر معمولی مقبولیت سے متعلق بھی دعویٰ کیا کہا کہ فلم غدر کی ریلیز کے بعد مجھے پاکستان سے بے پناہ محبت ملی، پاکستانی خواتین میرا فون نمبر تلاش کر کے مجھے کال کرتی تھیں اور بعض مداح جذباتی ہو کر گفتگو کرتے ہوئے روتی بھی تھیں پاکستان میں بہت سے لوگوں نے میرے فلمی کردار ’سکینہ‘ سے متاثر ہو کر اپنی بیٹیوں کا نام بھی سکینہ رکھا۔

    ان کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر پاکستانی صارفین کی جانب سے مختلف ردِعمل سامنے آئے تھے، کئی صارفین کا کہنا تھا کہ امیشا پٹیل اپنی مقبولیت کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہیں، جبکہ بعض نے کہا کہ پاکستان میں ان کی شہرت اتنی نہیں جتنی وہ بیان کر رہی ہیں. بھارتی فلمیں یہاں طویل عرصے سے محدود یا بند رہی ہیں، اس لیے ایسے دعوے حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتے، جبکہ دیگر صارفین نے بھی ان کے بیان کو مبالغہ آمیز قرار دیا۔

  • افغان رجیم کی اندرونی صفوں میں بڑی دراڑ؛ امیرِ طالبان کا اپنے ہی کمانڈر کیخلاف آپریشن کا حکم

    افغان رجیم کی اندرونی صفوں میں بڑی دراڑ؛ امیرِ طالبان کا اپنے ہی کمانڈر کیخلاف آپریشن کا حکم

    افغان رجیم کی اندرونی صفوں میں بڑی دراڑ؛ امیرِ طالبان نے اپنے ہی کمانڈر کیخلاف آپریشن کا حکم دے دیا

    صوبہ بدخشاں کے معدنیاتی وسائل پر قبضے کی جنگ نے سنگین عسکری و سیاسی بحران کی شکل اختیار کر لی،افغان طالبان رجیم اور مقامی تاجک کمانڈر جمعہ خان فاتح کے درمیان معدنیات تقسیم پر اختلافات شدید ہو گئے،طالبان امیر ملا ہیبت اللہ نےمقامی کمانڈر جمعہ خان فاتح کو باغی قرار دے کر فوجی کاروائی کا حکم دے دیا، طالبان اسپیشل فورسز کا قافلہ جمعہ فاتح کی گرفتار ی کیلئے بدخشاں کے ضلع شغنان روانہ کیا گیا،کمانڈر جمعہ کی گرفتاری کیلیے 50 عسکری گاڑیوں پر مشتمل طالبان رجیم کا بھاری دستہ متحرک ہے،کمانڈر جمعہ فاتح نےمقامی افراد کو طالبان رجیم کیخلاف ہتھیار اٹھانے اور کانوں کا کنٹرول سنبھالنے کا حکم دے دیا، جمعہ فاتح نے طالبان رجیم کیخلاف باقاعدہ عسکری کارروائیوں کی منصوبہ بندی شروع کر دی ،کمانڈر جمعہ کادعو ی ہے طالبان رجیم کیخلاف بدخشاں میں 10 ہزار اور ضلع نسی میں 2500 جنگجو تیار ہیں

    افغانستان کے ناراض کمانڈروں کی عسکری مزاحمت طالبان رجیم کے نظریاتی خاتمے کی شروعات ہے،عسکری مزاحمت ملک کو دوبارہ شدید خانہ جنگی میں دھکیل دے گی،افغان رجیم کی جابرانہ پالیسیوں کیخلاف بڑھتی عسکری بغاوتیں داخلی انتشار کا واضح ثبوت ہیں

  • بانی پی ٹی آئی  نے پارلیمانی نظام کو نقصان پہنچایا،خواجہ آصف

    بانی پی ٹی آئی نے پارلیمانی نظام کو نقصان پہنچایا،خواجہ آصف

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ آئیں ماضی کی غلطیاں درست کریں، ماضی سے سبق سیکھ کر 2 پارٹیوں نے میثاق جمہوریت کیا، پی ٹی آئی والے بھی اپنے ماضی پر نظر دوڑائیں۔

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایوان کا تقدس یقینی بنانا سب کی ذمہ داری ہے، نوے کی دہائی کی سیاست سب کے سامنے ہے، آئیں ماضی کی غلطیاں درست کریں، میثاق جمہوریت کریں۔ان کا کہنا ہے کہ اسپیکر کی کرسی پر بیٹھ کر پارٹی کے حق میں فیصلے دئیے گئے، ماضی سے سبق سیکھ کر 2 پارٹیوں نے میثاق جمہوریت کیا، پی ٹی آئی والے بھی اپنے ماضی پر نظر دوڑائیں۔خواجہ آصف نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے پارلیمانی نظام کو نقصان پہنچایا، پی ٹی آئی نے سیاست میں تہذیب ختم کردی، محمود اچکزئی پی ٹی آئی میں بیٹھے ہوئے عجیب لگتے ہیں، محمود اچکزئی کی کچھ روایات ہیں، پی ٹی آئی کی کوئی روایت نہیں،یہ ایوان گواہ ہے کہ انہوں نے اپوزیشن میں رہتے ہوئے کیا کچھ نہیں کیا،مراد سعید ان میزوں پر دوڑتے تھے،زیراعظم شہباز شریف اور وزیرخزانہ اپوزیشن کے پاس گئے وہاں کھڑے ہوکر ان سے بات کی، لیکن جب عمران خان وزیراعظم تھے تو ان کے رہنما ہم سے بات بھی نہیں کرتے تھے کہ کہیں عمران خان ناراض نہ ہوجائیں کہ یہ اپوزیشن سے بات کررہے ہیں۔ ہمارے پارلیمانی نظام اور سیاست کو جتنا عمران خان نے نقصان پہنچایا اتنا پچھلے 78 سال میں کسی شخص نے نہیں پہنچایا۔

    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ افغان سرزمین بھارت کے ہاتھوں پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی آرہی ہے جو کہ پاکستان کے لیے ناقابل برداشت عمل ہے ۔

  • اسلام آباد،بازار میں لگنے والی ہولناک آگ نے سینکڑوں خاندانوں کی روزی چھین لی

    اسلام آباد،بازار میں لگنے والی ہولناک آگ نے سینکڑوں خاندانوں کی روزی چھین لی

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ایچ نائن اتوار بازار میں لگنے والی ہولناک آگ نے سینکڑوں خاندانوں کی روزی روٹی چھین لی۔

    سی ڈی اے کے زیرِ انتظام ملک کے سب سے بڑے ہفتہ وار بازار میں گزشتہ پانچ برس کے دوران یہ چوتھا بڑا آتشزدگی کا واقعہ ہے، جس نے حفاظتی انتظامات اور انتظامی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ریسکیو حکام کے مطابق آگ گزشتہ رات تقریباً 9 بج کر 50 منٹ پر بھڑکی اور صرف چند منٹوں میں بڑے پیمانے پر پھیل گئی۔ ابتدائی تحقیقات میں آگ لگنے کی ممکنہ وجہ شارٹ سرکٹ قرار دی گئی ہے، جبکہ دکانوں میں موجود بیٹریوں کے پھٹنے سے شعلوں کی شدت میں مزید اضافہ ہوا۔

    حکام کا کہنا ہے کہ آتشزدگی کے نتیجے میں 300 سے 335 کے درمیان دکانیں اور اسٹالز متاثر ہوئے، جبکہ تاجروں کو مجموعی طور پر کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا۔ متاثرہ اسٹال ہولڈرز کا کہنا ہے کہ ان کی زندگی بھر کی جمع پونجی اور روزگار کا واحد ذریعہ چند گھنٹوں میں جل کر خاکستر ہوگیا۔ابتدائی رپورٹ کے مطابق آگ لگنے کے وقت ایک فائر بریگیڈ گاڑی موقع پر موجود تھی، تاہم بازار بند ہونے سے قبل اسے گیٹ کے باہر منتقل کر دیا گیا تھا اور بازار کو تالے لگا دیے گئے تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آگ کی شدت کے مقابلے میں ایک فائر بریگیڈ گاڑی ناکافی ثابت ہوئی، جس کے باعث شعلے تیزی سے پھیلتے چلے گئے۔تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ متعدد اسٹالز کو کپڑے، ترپالوں اور ٹینٹوں سے ڈھانپا گیا تھا، جس کی وجہ سے آگ ایک اسٹال سے دوسرے اسٹال تک منتقل ہوتی رہی۔ مزید برآں، اسٹال ہولڈرز کی جانب سے فائر سیفٹی کے معیاری ضوابط (ایس او پیز) کی خلاف ورزی بھی رپورٹ کا حصہ بنی ہے۔ریسکیو ذرائع کے مطابق اتوار بازار میں فائر ہائیڈرنٹ یا ہنگامی پانی کے ذخیرے کی عدم موجودگی کے باعث امدادی ٹیموں کو آگ بجھانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی گھنٹوں کی مسلسل کوششوں کے بعد آگ پر قابو پا لیا گیا، تاہم کولنگ کا عمل جاری ہے۔

    دریں اثنا، اسلام آباد انتظامیہ نے واقعے کی وجوہات، ممکنہ غفلت اور نقصانات کا تعین کرنے کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ کمیٹی اپنی رپورٹ مرتب کرکے ذمہ داروں کے تعین اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سفارشات پیش کرے گی۔متاثرہ تاجروں نے حکومت اور سی ڈی اے سے فوری مالی امداد اور متبادل کاروباری سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بار بار پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعات کے باوجود مؤثر حفاظتی اقدامات نہ کرنا انتظامیہ کی سنگین ناکامی ہے۔