Baaghi TV

Blog

  • ایران میں حکومت مخالف مظاہرین کی مدد کے لیے اسٹار لنک تہران اسمگل کیاتھا، سابق اسرائیلی وزیراعظم کا اعتراف

    ایران میں حکومت مخالف مظاہرین کی مدد کے لیے اسٹار لنک تہران اسمگل کیاتھا، سابق اسرائیلی وزیراعظم کا اعتراف

    اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینٹ نے تسلیم کیا ہے کہ ان کے دور حکومت میں اسرائیل نے ایران میں حکومت مخالف مظاہرین کی مدد کے لیے اسٹارلنک انٹرنیٹ ریسیورز اسمگل کیے تھے۔

    خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق یروشلم میں نفتالی بینیٹ، جو ایک دائیں بازو کی جماعت کے سربراہ ہیں اور آئندہ انتخابات میں نیتن یاہو کے ممکنہ سیاسی حریفوں میں شمار ہوتے ہیں نے جے این ایس انٹرنیشنل پالیسی سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک ایسے منصوبے کا آغاز کیا تھا جس کے تحت ایران میں دسیوں ہزار اسٹارلنک ریسیورز حاصل کرکے خفیہ طور پر پہنچائے جانے تھےان آلات کا مقصد ایران میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا تک رسائی کو برقرار رکھنا تھا تاکہ حکومت مخالف مظاہرین باہمی رابطہ اور تنظیم سازی جاری رکھ سکیں، یہ منصوبہ ایرانی مظاہرین کو منظم کرنے اور بالآخر ایرانی حکومت کے خاتمے میں مدد دینے کے لیے تیار کیا گیا تھا، ان کے بقول، بدقسمتی سے موجودہ نااہل اسرا ئیلی حکومت نے اس عمل کو روک دیا، اور جب احتجاجی تحریک اٹھی تو مطلوبہ انفراسٹرکچر موجود نہیں تھا۔

    اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے بینیٹ کے ان بیانات پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا، جبکہ اسپیس ایکس کی جانب سے بھی امریکی کاروباری اوقات کے اختتام کے باعث کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔

    واضح رہے کہ ایرانی حکام ماضی میں ملک میں احتجاجی مظاہروں اور بدامنی کے دوران انٹرنیٹ سروس معطل کرتے رہے ہیں رواں سال جنوری میں ہونے والے ملک گیر احتجاج اور بعد ازاں ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے دوران بھی انٹرنیٹ تک عوامی رسائی محدود کر دی گئی تھی انٹرنیٹ بندش کے دوران کچھ ایرانی شہریوں نے رابطے برقرار رکھنے کے لیے اسٹارلنک سروس کا استعمال کیا۔

    اسٹارلنک، امریکی ارب پتی ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس ہے، جو زمینی انفراسٹرکچر کے بغیر انٹرنیٹ فراہم کرتی ہے ایران ماضی میں اسرائیل اور امریکا پر الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے لیے ایسے آلات ایران میں اسمگل کرتے ہیں اگرچہ اسٹارلنک کو ایران میں باضابطہ طور پر کام کرنے کی اجاز ت حاصل نہیں، تاہم ایلون مسک پہلے یہ کہہ چکے ہیں کہ یہ سروس ایران میں فعال ہے۔

  • امریکی سینیٹ میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی روکنے کی قرار داد منظور ،ٹرمپ کے ساتھی بھی ساتھ چھوڑنے لگے

    امریکی سینیٹ میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی روکنے کی قرار داد منظور ،ٹرمپ کے ساتھی بھی ساتھ چھوڑنے لگے

    امریکا اور ایران کے درمیان جاری امن مذاکرات کے دوران امریکی سینیٹ میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی روکنے کی قرار داد منظور کی گئی ہے جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف امریکی فوج کی کسی بھی قسم کی کارروائی کو فوری طور پر روک دیں۔

    امریکی تاریخ میں 1973 کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں یعنی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان (کانگریس) نے متفقہ طور پر ایک ایسا قانون پاس کیا ہے جو صدر کو اپنی مرضی سے جنگ کرنے سے روکتا ہے،واں سال 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر کیے گئے حملے کے بعد شروع ہونے والی اس جنگ پر خود صدر ٹرمپ کی اپنی پارٹی کے اندر بھی شدید تشویش پائی جا رہی ہے، سینیٹ میں ہونے والی اس ووٹنگ میں بل کے حق میں 50 اور مخالفت میں 48 ووٹ آئے۔

    ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹر ٹم کین نے سینیٹ میں تقریر کرتے ہوئے اس بل کی حمایت میں کہا کہ ملک کو جنگ میں دھکیلنے کا حق آئین نے پارلیمنٹ کو دیا ہے نہ کہ صدر کو، اور پارلیمنٹ کو اب اپنی یہ ذمہ داری خود اٹھانی ہو گی۔ نیویارک کے نمائندے گریگوری میکس نے کہا کہ میرے نزدیک یہ قانون صدر پر ہر صورت لاگو ہوتا ہے اور حکومت کو اس کا پابند بنانے کے لیے ہم ہر قانونی راستہ اختیار کریں گے،سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی کے اکثریتی لیڈر جان تھون نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگر حکومت ایران کے ساتھ کوئی امن معاہدہ کرتی ہے تو پارلیمنٹ اس کا باریک بینی سے جائزہ لے گی اور اس پر دوبارہ ووٹنگ کرائی جائے گی۔

    یہ ووٹنگ اگرچہ علامتی دکھائی دیتی ہے لیکن یہ صدر ٹرمپ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے جنہیں اب تک اپنی ہی ریپبلکن پارٹی کی طرف سے اندھی حمایت حاصل تھی، مگر اب نومبر میں ہونے والے مڈ ٹرم الیکشن کے خوف سے ان کے اپنے ساتھی بھی ان کا ساتھ چھوڑ رہے ہیں اس قانون کی منظوری ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ٹرمپ حکومت اس جنگ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے پارلیمنٹ سے اربوں ڈالر کا نیا فنڈ مانگنے کی تیاری کر رہی ہے۔

    دوسری طرف امریکی عوام بھی اس جنگ سے تنگ آ چکے ہیں، کیونکہ حال ہی میں سامنے آنے والے ایک سروے کے مطابق صرف 25 فیصد امریکیوں کا ماننا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کرنا ایک درست فیصلہ تھا۔

    سینیٹ کے اس فیصلے پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ یہ ووٹنگ انتہائی غلط وقت پر کی گئی ہے اور بالکل بے معنی ہے، ایسا کرنے والوں نے ایران کو فائدہ پہنچایا ہے اور میرا کام مزید مشکل بنا دیا ہے۔

  • مارکو روبیو ایران معاہدے پر خلیجی اتحادیوں کو اعتماد میں لینے ابوظبی پہنچ گئے

    مارکو روبیو ایران معاہدے پر خلیجی اتحادیوں کو اعتماد میں لینے ابوظبی پہنچ گئے

    ‎ابوظبی: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران سے متعلق حالیہ معاہدے اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر خلیجی اتحادیوں کو اعتماد میں لینے کے لیے متحدہ عرب امارات پہنچ گئے ہیں۔
    ‎عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق مارکو روبیو اپنے دو روزہ دورے کے دوران متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کریں گے، جن میں خطے کی سیکیورٹی، ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے اور باہمی تعاون پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
    ‎رپورٹس کے مطابق امریکی وزیر خارجہ خلیجی اتحادیوں کو امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی حالیہ سفارتی پیش رفت اور معاہدے کی تفصیلات سے آگاہ کریں گے، تاکہ خطے میں پیدا ہونے والے خدشات کو دور کیا جا سکے۔
    ‎امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس دورے کے دوران واشنگٹن اپنے خلیجی اتحادیوں کو سیکیورٹی سے متعلق نئی یقین دہانیاں بھی کرا سکتا ہے، جن کا مقصد خطے میں استحکام برقرار رکھنا اور اتحادی ممالک کے دفاعی مفادات کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی اور سفارتی رابطوں میں پیش رفت کے بعد مشرق وسطیٰ کی سیاسی صورتحال میں اہم تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ مارکو روبیو کی یہ ملاقاتیں نہ صرف امریکا کے خلیجی اتحادیوں کے تحفظات دور کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی بلکہ خطے میں مستقبل کی سفارتی اور دفاعی حکمت عملی کے تعین میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

  • ‎پاکستان کے غلط پرچم کی نمائش پر ایف آئی ایچ کی باضابطہ معذرت

    ‎پاکستان کے غلط پرچم کی نمائش پر ایف آئی ایچ کی باضابطہ معذرت

    ‎لندن: ایف آئی ایچ پرو لیگ میں پاکستان کے قومی پرچم کی غلط نمائش پر انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن (FIH) نے پاکستان ہاکی فیڈریشن (PHF) سے باضابطہ تحریری معذرت کر لی ہے۔
    ‎ایف آئی ایچ پرو لیگ کی ڈائریکٹر ہیلری اٹکنسن نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر محی الدین احمد وانی کے نام خط میں غیر مشروط معافی مانگتے ہوئے اس واقعے پر گہرے افسوس کا اظہار کیا۔
    ‎یہ واقعہ لندن میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ایف آئی ایچ پرو لیگ کے میچ سے قبل قومی ترانوں کی تقریب کے دوران پیش آیا تھا، جہاں پاکستان کے قومی پرچم میں سفید رنگ کا حصہ موجود نہیں تھا، جس پر پاکستانی شائقین نے شدید ردعمل دیا تھا۔
    ‎اپنے خط میں ہیلری اٹکنسن نے کہا کہ ہر ملک کا قومی پرچم اس کی شناخت، وقار اور قومی فخر کی علامت ہوتا ہے، اور اس غلطی سے پاکستان ہاکی ٹیم، پاکستان ہاکی فیڈریشن، پاکستانی شائقین اور پوری پاکستانی قوم کی دل آزاری ہوئی، جس پر ایف آئی ایچ کو دلی افسوس ہے۔
    ‎انہوں نے اس انتظامی غلطی کی مکمل ذمہ داری قبول کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ ایک غیر ارادی کوتاہی تھی، جس کا مقصد کسی بھی ملک یا اس کی قومی شناخت کی بے توقیری ہرگز نہیں تھا۔
    ‎ایف آئی ایچ پرو لیگ کی ڈائریکٹر نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ ایسے واقعات سے بچنے کے لیے تمام انتظامی اور آپریشنل طریقہ کار کا ازسرنو جائزہ لیا جائے گا تاکہ کسی بھی ٹیم کے قومی تشخص اور وقار سے متعلق اس نوعیت کی غلطی دوبارہ نہ ہو۔
    ‎واضح رہے کہ اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر پاکستانی صارفین نے ایف آئی ایچ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور باضابطہ معذرت کا مطالبہ کیا تھا، جس کے بعد فیڈریشن نے تحریری طور پر اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے معافی جاری کی۔

  • ‎فرانس میں گرمی کی لہر، ڈوبنے سے 40 افراد جان کی بازی ہار گئے

    ‎فرانس میں گرمی کی لہر، ڈوبنے سے 40 افراد جان کی بازی ہار گئے

    ‎پیرس: فرانس میں جاری شدید گرمی کی لہر کے دوران مختلف مقامات پر نہاتے ہوئے 40 افراد ڈوب کر جاں بحق ہو گئے ہیں۔ فرانسیسی وزیراعظم سیباسٹین لیکورنو نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے عوام سے احتیاط برتنے کی اپیل کی ہے۔
    ‎گرمی کی لہر سے متعلق ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 18 جون سے اب تک ملک بھر میں ڈوبنے کے مختلف واقعات میں 40 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جن میں زیادہ تر نوجوان شامل ہیں۔
    ‎انہوں نے ان واقعات کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ غیر معمولی گرمی کے باعث بڑی تعداد میں لوگ دریا، جھیلوں، ساحلی علاقوں اور دیگر آبی مقامات کا رخ کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ڈوبنے کے حادثات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
    ‎ادھر فرانس کے محکمہ موسمیات نے ملک کے بیشتر علاقوں میں ہیٹ ویو الرٹ برقرار رکھتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آئندہ چند روز کے دوران درجہ حرارت 40 سے 43 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔
    ‎حکام نے شہریوں کو شدید گرمی کے دوران غیر محفوظ مقامات پر نہانے سے گریز، زیادہ پانی پینے، دھوپ میں غیر ضروری نکلنے سے بچنے اور سرکاری حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی تلقین کی ہے۔
    ‎فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو اداروں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری امدادی کارروائیاں یقینی بنائی جا سکیں۔

  • ریفری کی گھڑی پہننے پر پیراگوئے کے فٹبالر کی ویڈیو وائرل

    ریفری کی گھڑی پہننے پر پیراگوئے کے فٹبالر کی ویڈیو وائرل

    ‎فیفا ورلڈ کپ 2026 کے دوران پیراگوئے کے مڈفیلڈر میٹیاس گالارزا کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس میں انہیں میچ کے دوران ریفری کی گرنے والی گھڑی اپنی کلائی پر باندھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس واقعے نے شائقین فٹبال میں دلچسپ بحث چھیڑ دی ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق پیراگوئے اور ترکی کے درمیان کھیلے گئے میچ میں پہلے ہاف کے اختتام سے کچھ دیر قبل دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کے درمیان تلخ کلامی اور دھکم پیل شروع ہو گئی۔ صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کے دوران میچ ریفری ایوان بارٹن کی کلائی سے ان کی گھڑی گر گئی۔
    ‎اسی دوران 24 سالہ میٹیاس گالارزا کی نظر گھڑی پر پڑی۔ وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ انہوں نے گھڑی اٹھائی اور فوری طور پر ریفری کو واپس دینے کے بجائے چند لمحوں کے لیے اپنی کلائی پر باندھ لی۔ ویڈیو میں وہ گھڑی کے بٹن بھی چیک کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، جبکہ ریفری اس دوران اپنی ذمہ داریاں انجام دینے میں مصروف رہے اور انہیں اس بات کا علم نہیں ہوا۔
    ‎ہنگامہ ختم ہونے کے بعد گالارزا نے ریفری ایوان بارٹن کو ان کی گھڑی واپس کر دی۔ اس کے باوجود ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد متعدد صارفین نے ان کی حرکت پر تنقید کی، جبکہ بعض افراد نے اسے محض ایک مذاق یا وقتی عمل قرار دیا۔
    ‎تاحال نہ فیفا اور نہ ہی میچ آفیشلز کی جانب سے اس واقعے پر کوئی باضابطہ بیان جاری کیا گیا ہے۔ گالارزا کے خلاف بھی کسی قسم کی تادیبی کارروائی کا اعلان سامنے نہیں آیا۔
    ‎واقعے کی ویڈیو مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لاکھوں بار دیکھی جا چکی ہے، جہاں صارفین اس پر مختلف آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔ کچھ شائقین کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک دلچسپ لمحہ تھا، جبکہ دیگر نے اسے کھیل کے آداب کے خلاف قرار دیا۔

  • تباہ شدہ ایف 15 طیارے کے فائٹر پائلٹ کا انکشاف

    تباہ شدہ ایف 15 طیارے کے فائٹر پائلٹ کا انکشاف

    ‎ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی کے تناظر میں ایک امریکی ایف 15 فائٹر طیارے کے پائلٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی فضائی حدود میں نشانہ بننے سے قبل اس نے ایرانی ڈرونز کی ایک غیر معمولی اور جدید فارمیشن دیکھی، جسے اس نے "جیلی فش” سے تشبیہ دی۔
    ‎غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی پائلٹ نے بتایا کہ فضاء میں ایک بڑا ڈرون موجود تھا جبکہ اس کے گرد متعدد چھوٹے ڈرون اس انداز میں پرواز کر رہے تھے کہ وہ جیلی فش کی ٹانگوں جیسے دکھائی دے رہے تھے۔ ان کے بقول ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے فضا میں ڈرونز پر مشتمل ایک بارودی سرنگ بچھا دی گئی ہو۔
    ‎رپورٹس کے مطابق امریکی ایف 15 طیارہ اپریل میں ایرانی فضائی حدود میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے وقت طیارے میں موجود دونوں پائلٹ ایجیکٹ کرنے میں کامیاب رہے تھے، جنہیں بعد ازاں امریکی اسپیشل فورسز نے خصوصی آپریشن کے ذریعے بحفاظت نکال لیا تھا۔
    ‎پائلٹ کے اس بیان کے بعد امریکی دفاعی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ ایران کی ڈرون ٹیکنالوجی اور فضائی جنگی حکمت عملی میں نمایاں پیش رفت کی نشاندہی کرتا ہے۔
    ‎کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ ایران نے اپنی ڈرون صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور بیرونی تعاون سے فائدہ اٹھایا ہے، تاہم اس حوالے سے کسی سرکاری ادارے نے باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
    ‎اب تک امریکی یا ایرانی حکام کی جانب سے پائلٹ کے ان دعوؤں پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ دفاعی ماہرین اس معاملے کو مزید تحقیق اور تصدیق کا متقاضی قرار دے رہے ہیں۔

  • ریچھ کا لباس پہننے کی نوکری، سالانہ 41 لاکھ روپے تنخواہ

    ریچھ کا لباس پہننے کی نوکری، سالانہ 41 لاکھ روپے تنخواہ

    ‎چین کے ایک چڑیا گھر نے ایک منفرد ملازمت کا اشتہار جاری کیا ہے، جس میں امیدوار کو سیاہ ریچھ کا لباس پہن کر سیاحوں کے سامنے ریچھ کا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس دلچسپ ملازمت کے بدلے سالانہ ایک لاکھ یوآن، یعنی پاکستانی کرنسی میں 41 لاکھ روپے سے زائدتنخواہ کی پیشکش کی گئی ہے۔
    ‎یہ ملازمت چین کے صوبہ ہینان کے شہر لووہے میں واقع لووہے وائلڈ لائف زو کی جانب سے پیش کی گئی ہے۔ اشتہار سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد لوگوں کی بڑی تعداد نے اس میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
    ‎چڑیا گھر کی جانب سے جاری اشتہار کے مطابق امیدوار کی عمر کم از کم 18 سال ہونی چاہیے اور وہ جسمانی طور پر مکمل فٹ ہو۔ ملازمت کرنے والے افراد کو روزانہ 6 گھنٹے کام کرنا ہوگا جبکہ ہر ماہ چار دن کی چھٹی بھی دی جائے گی۔
    ‎اشتہار میں بتایا گیا ہے کہ ریچھ کا کردار ادا کرنے والے افراد کو سیاحوں سے بات کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، تاہم وہ مختلف آوازیں نکال سکتے ہیں تاکہ حقیقی ریچھ کا تاثر برقرار رکھا جا سکے۔ انہیں چڑیا گھر آنے والے افراد سے کھانے پینے کی اشیا لینے کی بھی اجازت ہوگی۔
    ‎چڑیا گھر نے اشتہار میں دلچسپ انداز میں لکھا ہے کہ اگر ملازم تھک جائے تو وہ آرام سے لیٹ سکتا ہے، اور اگر توانائی محسوس کرے تو اچھل کود، رقص، درختوں پر چڑھنے یا مچھلیاں پکڑنے جیسی سرگرمیاں بھی انجام دے سکتا ہے تاکہ سیاحوں کو زیادہ دلچسپ تجربہ فراہم کیا جا سکے۔
    ‎اگرچہ یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کتنے افراد کو ملازمت دی جائے گی، تاہم چڑیا گھر کے مطابق اب تک 100 سے زائد افراد اس منفرد نوکری کے لیے رابطہ کر چکے ہیں۔
    ‎چڑیا گھر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اگر اس کردار کو ادا کرنے والا شخص سوشل میڈیا پر مقبول ہو جائے تو وہ ایک لاکھ یوآن سالانہ سے بھی زیادہ آمدنی حاصل کر سکتا ہے، جبکہ اس سے چڑیا گھر میں آنے والے سیاحوں کی تعداد اور آمدنی میں بھی اضافہ متوقع ہے۔

  • نفاذِ اردو،ایک امید،تحریر: عاطفہ نواز

    نفاذِ اردو،ایک امید،تحریر: عاطفہ نواز

    یہ ہمارے لیے بہت بڑا المیہ ہے کہ ہم اپنی زبان اور اپنی شناخت کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے ذہنی غلامی میں جی رہے ہیں۔ یہاں یہ دیکھا گیا ہے کہ ذہانت اور لائق ہونے کی دلیل انگریزی زبان میں مہارت کو سمجھا جاتا ہے۔
    ایک وقت تھا جب برصغیر میں انگریز تجارت کی غرض سے آئے اور اپنے قدم جمانے کے لیے انہوں نے مقامی زبان سیکھنے کی خاطر فورٹ ولیم کالج کی بنیاد رکھی۔ مترجمین اور مصنفین کو تلاش کیا گیا اور منشی مقرر کیے گئے۔
    اس طرح انتھک محنتوں اور قربانیوں کے بعد برصغیر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ ہم آزاد ہوئے تو ہمارے ذہنوں میں کہیں نہ کہیں وہ غلامی ٹھہر سی گئی، جو انگریزوں کے دور میں تھی۔ آج 79 سال گزر جانے کے باوجود ہمارے ذہنوں میں وہ غلامی موجود ہے۔

    ذہنی پستی کی انتہا ہے کہ ایک باشعور انسان اپنی قومی زبان اردو کی بجائے انگریزی زبان کو ترجیح دیتا ہے، حتیٰ کہ ہمارے کالجوں کے انگریزی داں پروفیسر صاحبان شعبۂ اردو کے طلبہ کو نالائق کہا کرتے تھے۔ ایک وقت تھا جب ہم اردو کی طالبات تھیں اور اکثر لائبریری جاتے ہوئے یا لائبریری میں موجود ہوتے تو پروفیسر ولی اللہ مروت، جو غالباً Lucky English Guide کے مصنف ہیں، اکثر ہم سے ایک بات کہا کرتے تھے:
    "اردو ڈیپارٹمنٹ نالائق ہے، آپ لوگوں کا لائبریری میں کیا کام ہے؟ اردو والے نہایت نالائق ہوتے ہیں۔”
    چونکہ وہ نظم و ضبط کے نگران استاد (Discipline Teacher) بھی تھے، اس لیے ہم خاموش ہو جاتے تھے، لیکن شعبۂ اردو کے دفتر میں داخل ہوتے ہی ہمارا سوال ہوتا کہ اپنی قومی زبان پڑھنے والے نالائق کیوں کہلائے جاتے ہیں؟

    انگریزی والے صرف انگریزی زبان پر اتراتے ہیں، حالانکہ انگریزی ایک فرنگی زبان ہے اور اس میں مہارت حاصل کرنا اتنی بڑی بات نہیں۔
    جس زبان میں آپ بول رہے ہیں، جو زبان آپ کے لیے اس معاشرے میں ابلاغ کا ذریعہ بنی، آج اسی زبان کو کمتر سمجھنا اور کہنا بڑی زیادتی ہے۔ انگریزی زبان کو بطور ایک زبان ضرور سیکھنا چاہیے، لیکن اس کی تقلید میں اپنی شناخت کو نہیں کھونا چاہیے۔
    المیہ یہ ہے کہ تمام سرکاری اور دفتری کام انگریزی میں ہوتے ہیں۔

    چونکہ بی ایس مکمل ہونے کے بعد ہمیں کوئی ایسا پلیٹ فارم، یعنی ذریعہ، نہ ملا جہاں ہم اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکتے، یا کوئی ایسی خاص سمت جو واقعی ہم اردو والوں کے لیے ہو، تو ایک دوست کے توسط سے جب "عمارہ کنول صاحبہ” سے رابطہ ہوا اور میں "تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس” میں شامل ہوئی تو مجھے احساس ہوا کہ اردو والوں کا دائرۂ کار تو بہت وسیع ہے۔
    ہم نے اردو ادب میں تحاریک پڑھی ہیں، اور جب میں اس حلقے کا تحریک کے نام سے ذکر کرتی ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ مستقبل میں عمارہ کنول صاحبہ کی محنت ضرور رنگ لائے گی اور اردو کا نفاذ ہوگا۔ وہ دن دور نہیں جب ہمارا ملک اور اس کے باشندے اپنی قومی زبان پر فخر کریں گے۔
    اس جدت، ترقی اور مصروف ترین زندگی میں سے بیش بہا قیمتی وقت جو عمارہ کنول صاحبہ اس تحریک کو دے رہی ہیں، ان شاء اللہ وہ ضائع نہیں جائے گا۔
    میں حیران بھی ہوں اور خوش بھی کہ کوئی ایسا ہے جو اردو زبان سے اتنی محبت کرتا ہے کہ وہ تمام اردو والوں کو جوڑے رکھنے کی نہ صرف کوشش کر رہا ہے بلکہ پُرامید بھی ہے کہ اردو کا نفاذ ہوگا۔ میرا یقین ہے کہ ہم اردو والے اس تحریک کو عمارہ صاحبہ کی محنت، اخلاص اور لگن کے باعث کامیاب ہوتا دیکھیں گے، ان شاء اللہ۔

  • زینب سے منتہا تک، معصوم جانوں کے ساتھ ظلم کا سلسلہ کب رکے گا؟ سحر کامران

    زینب سے منتہا تک، معصوم جانوں کے ساتھ ظلم کا سلسلہ کب رکے گا؟ سحر کامران

    پیپلز پارٹی کی رہنما،رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے کہا ہے کہ سرگودھا میں ننھی منتہا کے ساتھ پیش آنے والا المناک واقعہ پوری قوم کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔

    سحر کامران کا کہناتھا کہ معصوم بچیوں کے تحفظ میں ناکامی ناقابلِ قبول ہے، ذمہ داروں کو عبرتناک سزا دی جائے۔ زینب سے منتہا تک، معصوم جانوں کے ساتھ ظلم کا سلسلہ کب رکے گا؟ خواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔پنجاب میں بچیوں کے لاپتا ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات انتہائی تشویشناک ہیں۔ریاست کی اولین ذمہ داری شہریوں خصوصاً بچوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔منتہا کے اہلِ خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں، انصاف ہر صورت یقینی بنایا جائے۔بچوں کے خلاف جرائم میں ملوث عناصر کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے۔معصوم بچیوں کی جان و عزت کا تحفظ صرف قانون نہیں، قومی ذمہ داری ہے۔ منتہا کیس کے تمام ملزمان کو فوری گرفتار کرکے سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے۔