Baaghi TV

Blog

  • پاکستان میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات ، بھارت  میًں صف ماتم بچھ گئی

    پاکستان میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات ، بھارت میًں صف ماتم بچھ گئی

    پاکستان میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات نے بھارت میًں صف ماتم بچھا دی ہے، مودی کو ہرطرف سے تنقید کا سامنا ہے۔

    خلیجی جنگ کے تناظر میں بھارت کی سفارتی ناکامی پر اپوزیشن جماعت کانگریس نے نام نہاد ’وشوا گرو‘ مودی کو آڑے ہاتھوں لے لیا،بھارتی جریدے ڈیکن ہیرالڈ کے مطابق سینئرکانگریس رہنما جئے رام رامیش نےایکس پر پوسٹ میں کہا کہ پاکستان کے بطور ثالث مرکزی کردار نے خودساختہ وشوا گرو مودی کی انداز سیاست پر سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں.

    انہوں نے کہا کہ مودی کی "نمستے ٹرمپ” اور” پھر ایک بار ٹرمپ سرکار” مہم کے باوجود امریکا نے پاکستان کو یہ کردار کیسے ادا کرنے دیا، کانگریس لیڈر مودی امریکا کے ساتھ یکطرفہ تجارتی معاہدے پر رضامند ہونے کے باوجود کوئی سیاسی فائدہ نہ اٹھاسکے،جئے رام رامیش بھارت برکس پلس کی صدارت کے باوجود خلیجی جنگ کے تناظرمیں کوئی مصالحتی قدم کیوں نہ اٹھاسکا۔

  • مشرقِ وسطیٰ میں جنگ یا امن؟ سفارتکاری کے نازک لمحے،تجزیہ  : شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ میں جنگ یا امن؟ سفارتکاری کے نازک لمحے،تجزیہ : شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ میں جنگ یا امن؟ سفارتکاری کے نازک لمحے

    امریکہ ایران کشیدگی جنگ بندی کی امید یا وقتی خاموشی؟

    عالمی طاقتیں متحرک، کیا مشرقِ وسطیٰ ایک بڑے بحران سے بچ جائے گا؟

    دو ہفتوں کی مہلت: کیا سفارتکاری جنگ پر غالب آ سکتی ہے؟

    مشرقِ وسطیٰ میں امن کی ایک نئی امید کیا جنگ ٹل سکتی ہے؟

    عالمی سیاست ایک بار پھر ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔ ایسے حساس وقت میں اگر کوئی ملک مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کرتا ہے تو یہ ایک خوش آئند پیش رفت سمجھی جاتی ہے۔

    اس تناظر میں پاکستان کا کردار قابلِ تحسین طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ پاکستان نے نہایت متوازن اور ذمہ دار سفارتکاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے فریقین کو مذاکرات کی طرف لانے میں اہم پیش رفت کی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب کشیدگی عروج پر تھی، پاکستان نے پل کا کردار ادا کرتے ہوئے امن کے لیے سنجیدہ کوششوں کا آغاز کیا۔ یہ اقدام نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے ایک مثبت اور تعمیری قدم ہے، جو پاکستان کی سفارتی بصیرت اور ذمہ دارانہ عالمی کردار کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ تنازعات کے حل کے لیے جنگ کے بجائے مذاکرات اور امن کو ترجیح دی ہے، جو اس کی خارجہ پالیسی کا ایک مستقل اور مثبت پہلو رہا ہے۔

    حالیہ صورتحال میں یہ تاثر ابھر کر سامنے آیا ہے کہ سفارتی سطح پر کچھ پیش رفت ہوئی ہے، اور دونوں فریقین کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اگر واقعی جنگ بندی (سیز فائر) کے لیے دو ہفتوں کا وقت طے پایا ہے تو یہ ایک اہم موقع ہے جسے ضائع نہیں ہونا چاہیے۔

    تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جنگ بندی کے ابتدائی لمحات ہمیشہ نازک ہوتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب اعتماد سازی کی ضرورت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ اگر اس عرصے کے دوران فریقین سنجیدگی کا مظاہرہ کریں، اشتعال انگیزی سے گریز کریں اور مذاکرات کو جاری رکھیں، تو ایک مستقل حل کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

    اس تنازعے کی پیچیدگی اس بات میں ہے کہ یہ صرف دو ممالک تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات پورے خطے پر پڑتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی مختلف سیاسی، مذہبی اور جغرافیائی تنازعات کا مرکز رہا ہے۔ اگر یہ کشیدگی کھلی جنگ میں تبدیل ہوتی ہے تو نہ صرف علاقائی استحکام خطرے میں پڑے گا بلکہ عالمی معیشت بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے، خاص طور پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور تجارتی راستوں کی بندش کے باعث۔

    بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس موقع کو ضائع نہ ہونے دے۔ بڑی طاقتوں کو چاہیے کہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر قائم رکھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ غیر جانبدار ممالک کا کردار بھی نہایت اہم ہو جاتا ہے جو اعتماد سازی میں پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

    یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی دیرپا امن کے لیے صرف وقتی جنگ بندی کافی نہیں ہوتی۔ اس کے لیے بنیادی مسائل کو حل کرنا ضروری ہوتا ہے، جن میں سیکیورٹی خدشات، علاقائی اثر و رسوخ، اور جوہری پروگرام جیسے حساس معاملات شامل ہیں۔ جب تک ان نکات پر کھلے دل سے بات چیت نہیں ہوگی، تب تک مستقل امن ایک خواب ہی رہے گا۔

    تاہم، موجودہ حالات میں امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے اگر جنگ بندی میں توسیع ہوتی ہے اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رہتا ہے، تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی جو خطے کو ایک بڑے بحران سے بچا سکتی ہے دنیا اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک غلط فیصلہ بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بن سکتا ہے، جبکہ ایک دانشمندانہ قدم امن اور استحکام کی نئی راہیں کھول سکتا ہے۔ اب یہ فیصلہ عالمی قیادت کے ہاتھ میں ہے کہ وہ تاریخ میں اپنا کردار کس طرح درج کروانا چاہتی ہے۔

  • ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے کا امریکی دعویٰ مسترد کر دیا

    ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے کا امریکی دعویٰ مسترد کر دیا

    ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے اور ایک نیا محفوظ راستہ بنانے کے لیے امریکی جہازوں کی آمد کا دعویٰ سختی سے مسترد کردیا۔

    ایرانی فوج کے مرکزی ہیڈکوارٹر خاتم الانبیا کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر کا یہ دعویٰ جھوٹ پر مبنی ہے،ایرانی کمانڈر نے امریکی جہاز کے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کے دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی بحری جہاز کی نقل و حرکت اور گزرگاہ کا اختیار ایران کی مسلح افواج کے ہاتھ میں ہے۔

    واضح رہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکام نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے دو جنگی جہازوں نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے اور ایک محفوظ راستہ تیار کرنے کے مشن میں حصہ لیایہ دونوں جہاز بارودی سرنگیں ہٹانے کےمشن کو شروع کرنے کےبعد آبنائے ہرمز سےگزر کر خلیج میں داخل ہوگئے ہیں۔

    قبل ازیں امریکی حکام نے بتایا تھا کہ ایران نے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے ان بارودی سرنگوں کو بچھایا تھا اور اس کا مکمل ریکارڈ بھی محفوظ نہیں رکھا جب کہ کئی مائنز کے لہروں کے ذریعے سرک جانے یا بہہ جانے کا بھی خدشہ ہے زمین میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کی نسبت سمندری بارودی سرنگوں کو بچھانا اور پھر اسے کلیئر کرنا زیادہ مشکل کام ہے جس کی صلاحیت ایران کے پاس نہیں۔

    اس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکا آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگوں کو صاف کر رہا ہے جو کہ ان ممالک کو کرنا چاہئے تھا جو امریکا پر سب سے زیادہ تنقید کرتے ہیں۔

  • امریکا ایران کی جانب سےمسائل کے حل کیلئے سفارتکاری کو ترجیح دی جا رہی ہے،اسحاق ڈار

    امریکا ایران کی جانب سےمسائل کے حل کیلئے سفارتکاری کو ترجیح دی جا رہی ہے،اسحاق ڈار

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا نے وزیراعظم شہباز شریف کی اپیل پر جنگ بندی قبول کی اور اسلام آباد میں امن مذاکرات میں شرکت کی، جو خطے کے لیے مثبت پیشرفت ہے۔

    اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے اہم مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ایران اور امریکا نے وزیراعظم شہباز شریف کی اپیل پر جنگ بندی قبول کی اور اسلام آباد میں امن مذاکرات میں شرکت کی، جو خطے کے لیے مثبت پیش رفت ہے۔

    انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے خطے میں فوری جنگ بندی کی اپیل کی گئی تھی، جس پر اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکا دونوں نے مثبت ردعمل دیا، دونوں ممالک کے وفود گزشتہ روز پاکستان پہنچے تاکہ اسلام آباد مذاکرات میں شرکت کر سکیں پاکستان نے نہ صرف جنگ بندی کے حصول میں مدد فراہم کی بلکہ اس کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے بھی بھرپور کوششیں کیں، جو پورے خطے اور اس سے باہر کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔

    انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان آئندہ دنوں میں بھی ایران اور امریکا کے درمیان مکالمے اور رابطوں کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا تاکہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کی راہ ہموار ہو سکے دونوں ممالک کی جانب سے جنگ بندی کے عزم اور مذاکرات میں شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ مسائل کے حل کے لیے سفارتکاری کو ترجیح دی جا رہی ہے، اور پاکستان اس عمل میں سہولت کار کے طور پر اپنا مثبت کردار جاری رکھے گا۔

  • بغیر کسی ڈیل کے واپس جا رہے ہیں، مستقبل میں بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے، امریکی نائب صدر

    بغیر کسی ڈیل کے واپس جا رہے ہیں، مستقبل میں بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے، امریکی نائب صدر

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں 21 گھنٹے طویل مذاکرات کے باوجود ایران کے ساتھ کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا-

    اسلام آباد میں ہونے والے اہم امریکا ایران مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان تقریباً 21 گھنٹے تک تفصیلی اور طویل مذاکرات ہوئے، تاہم اس کے باوجود کسی حتمی معاہدے تک پہنچنا ممکن نہ ہو سکا۔

    انہوں نے واضح طور پر کہا کہ یہ صورتحال ایران کے لیے بری خبر ہے کیونکہ امریکا نے اپنے مؤقف اور شرائط کھل کر سامنے رکھیں، مگر ایران نے انہیں تسلیم نہ کرنے کا انتخاب کیا،امریکا کو ایک واضح اور ٹھوس یقین دہانی درکار ہے کہ ایران نہ صرف اب بلکہ مستقبل میں بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔

    جے ڈی وینس نے کہا کہ مذاکرات کا بنیادی نکتہ یہی تھا کہ ایران ایک مضبوط اور قابلِ تصدیق عزم ظاہر کرے کہ وہ ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا اور نہ ہی ایسے وسائل حاصل کرے گا جو اسے تیزی سے اس قابل بنا سکیں، تاہم اب تک ایسی کوئی حتمی یقین دہانی سامنے نہیں آئی اگرچہ معاہدہ نہیں ہو سکا، لیکن مثبت پہلو یہ ہے کہ ایرانی وفد کے ساتھ کئی اہم اور ٹھوس امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی، جس سے آئندہ مذاکرات کے لیے کچھ بنیاد ضرور قائم ہوئی ہے۔

    امریکی نائب صدر نے کہا کہ مذاکرات کے دوران امریکی وفد مسلسل اپنے اعلیٰ حکام سے رابطے میں رہا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت پینٹاگون اور نیشنل سیکیورٹی اداروں سے متعدد بار مشاورت کی گئی، تاکہ ہر مرحلے پر حکمت عملی کو واضح رکھا جا سکے امریکی وفد اب بغیر کسی معاہدے کے واپس امریکا جا رہا ہے، تاہم مستقبل میں بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے گئے اور امید ہے کہ آگے چل کر پیشرفت ہو سکتی ہے۔

    جے ڈی وینس نے پاکستان کی قیادت کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے نہ صرف بہترین میزبانی کی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات کم کرنے اور ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے ’حیرت انگیز کام‘ کیا اور مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔

    پاکستان نے ایک ذمہ دار اور مؤثر ثالث کا کردار ادا کیا، تاہم حتمی پیش رفت کے لیے ایران کی جانب سے واضح اور عملی یقین دہانی ناگزیر ہے،امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات کے دوران پاکستان کی قیادت کے کردار کو سراہتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں کو ’حیرت انگیز‘ قرار دیا اور ان کی میزبانی و سفارتی کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔

    اسلام آباد میں منعقد ہونے والے اہم امریکا ایران مذاکرات کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان کے کردار کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے نہ صرف بہترین میزبانی کی بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کم کرنے اور ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کرنے میں بھرپور کوشش کی۔

    میڈیا سے گفتگو میں جے ڈی وینس نے خاص طور پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے مذاکر ا ت کے دوران انتہائی متحرک اور مثبت کردار ادا کیا،پاکستان کی قیادت نے ایک ذمہ دار ثالث کے طور پر کام کرتے ہوئے امریکا اور ایران کو قریب لانے کی سنجیدہ کوشش کی۔

    نائب صدر کے مطابق مذاکرات کے دوران کئی ایسے مواقع آئے جہاں پاکستان کی قیادت نے فریقین کے درمیان پل کا کردار ادا کیا اور بات چیت کو تعطل کا شکار ہونے سے بچایا، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے نہ صرف اعلیٰ سطحی سفارتکاری کا مظاہرہ کیا بلکہ عملی طور پر بھی دونوں جانب اعتماد سازی کی کوششیں کیں۔

    جے ڈی وینس نے کہا کہ اگرچہ اس مرحلے پر کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا، تاہم پاکستان کی کوششوں نے مذاکرات کو ایک مثبت سمت ضرور دی اور کئی اہم نکات پر پیشرفت ممکن بنائی امریکی وفد اب واشنگٹن واپس جائے گا جہاں وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو مذاکرات کی مکمل تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی جانب سے فراہم کی گئی میزبانی اور سہولیات عالمی معیار کے مطابق تھیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لیے سنجیدہ اور فعال کردار ادا کر رہا ہے،وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے نہایت پیشہ ورانہ انداز میں قیادت کی اور ان کی کاوشیں آئندہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے بنیاد فراہم کر سکتی ہیں امی ہے کہ مستقبل میں جب بھی مذاکرات کا اگلا دور ہوگا، پاکستان اسی طرح ایک اہم اور مؤثر کردار ادا کرتا رہے گا۔

    امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے اہم مذاکرات کے اختتام پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے، جہاں انہیں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے رخصت کیا۔

    یہ مذاکرات تقریباً 21 گھنٹے تک جاری رہے جن میں امریکا اور ایران کے درمیان اہم امور، خصوصاً جوہری پروگرام اور علاقائی کشیدگی کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی گئی۔ تاہم طویل مذاکرات کے باوجود فریقین کسی حتمی معاہدے تک نہ پہنچ سکے۔

    امریکی نائب صدر نے روانگی سے قبل اپنے بیان میں کہا تھا کہ اگرچہ مذاکرات میں پیشرفت کے کچھ پہلو سامنے آئے، لیکن بنیادی نکات پر اتفاق نہ ہو سکا انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کو ایران کی جانب سے اس بات کی ٹھوس اور قابلِ تصدیق یقین دہانی درکار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔

  • مذاکرات کے دوران تہران سے تین طیاروں کی نور خان ایئربیس پر آمد

    مذاکرات کے دوران تہران سے تین طیاروں کی نور خان ایئربیس پر آمد

    اسلام آباد میں جاری امریکہ اور ایران کے درمیان حساس مذاکرات کے دوران ایک غیر معمولی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں تہران سے آنے والے کم از کم تین طیارے راولپنڈی کے نور خان ایئربیس پر اترے ہیں۔ یہ وہی ایئربیس ہے جہاں حالیہ مذاکراتی عمل میں امریکی اور ایرانی وفود کی آمد و رفت رپورٹ کی گئی ہے۔

    الجزیرہ ٹی وی نے رپورٹ کیا ہے کہ ذرائع کے مطابق یہ طیارے ایرانی کارگو ایئرلائن پویہ ایئر کے ہیں، جسے ایران میں پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ ایک ادارہ سمجھا جاتا ہے اور یہ مبینہ طور پر قدس فورس اور ایرانی فضائی یونٹس کے لاجسٹک آپریشنز میں معاونت کرتی ہے۔اطلاعات کے مطابق پویہ ایئر کے طیارے تہران کے مہرآباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے روانہ ہوئے، جس پر حالیہ دنوں میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔ تاہم ان طیاروں کی پاکستان آمد کا مقصد فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا۔

    پاکستانی حکام یا مذاکراتی ٹیموں کی جانب سے بھی تاحال اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا کہ ان طیاروں میں کون سوار تھا یا ان کی آمد کا اصل مقصد کیا ہے۔ ایران کی جانب سے پہلے ہی تقریباً 70 رکنی وفد اسلام آباد میں موجود ہے، تاہم ایرانی ذرائع اشارہ کر رہے تھے کہ مذاکرات کے "تفصیلی مرحلے” میں مزید ماہرین کو بھی طلب کیا جا سکتا ہے۔

    دوسری جانب امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ ان مذاکرات میں ایران میں قید امریکی شہریوں کی رہائی کا مطالبہ بھی اٹھا سکتی ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ نور خان ایئربیس پر طیاروں کی اچانک آمد کا اس معاملے سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔

  • اسلام آباد میں مذاکرات کا تیسرا دور،امریکا ،ایران آمنے سامنے

    اسلام آباد میں مذاکرات کا تیسرا دور،امریکا ،ایران آمنے سامنے

    پاکستان میں جاری ایران اور امریکا کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات ایک مختصر وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہو گئے ہیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق بات چیت کا یہ نیا دور ایک ایسے وقت میں شروع ہوا ہے جب فریقین کے درمیان اختلافات بدستور برقرار ہیں اور بعض نکات پر شدید تناؤ بھی دیکھا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق مذاکرات کے پہلے دو مرحلے ہو چکے ہیں، دوسرے مرحلے میں امریکا ایران آمنے سامنے تھے اور پاکستانی حکام بھی شریک تھے، پاکستانی ذرائع نے پہلے بتایا تھا کہ مذاکرات کے دوران “تبدیل ہوتے مزاج” اور “درجہ حرارت میں اتار چڑھاؤ” دیکھا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بات چیت نہایت حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

    بات چیت میں سب سے اہم اور حساس معاملہ آبنائے ہرمز کا ہے، جس پر ایران اور امریکا کے درمیان شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کی سیکیورٹی، کنٹرول اور خطے میں اس کے اثرات مذاکرات کا مرکزی نکتہ بنے ہوئے ہیں۔ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ دور مذاکرات ایک ممکنہ “آخری موقع” سمجھا جا رہا ہے تاکہ فریقین کسی مشترکہ فریم ورک تک پہنچ سکیں۔ تسنیم کے مطابق امریکی رضامندی کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ بات چیت کسی ابتدائی معاہدے یا فریم ورک کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

    ایرانی وفد اپنے مؤقف پر قائم ہے کہ وہ اپنی “فوجی کامیابیوں” اور قومی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنائے گا۔ تہران نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں ایرانی عوام کے حقوق اور خطے میں اس کے کردار کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔

    پاکستانی ذرائع نے بتایا ہے کہ اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والےمذاکرات کا مجموعی لہجہ اور نتائج اب تک بڑی حد تک مثبت رہے ہیں، تاہم آبنائے ہرمز کے کنٹرول کے معاملے پر تعطل برقرار ہے، اس سے قبل ایرانی ذرائع نے بتایا تھا کہ امریکا نے آبی گزر گاہ بارے ناقابل قبول مطالبات کئے ہیں، ایرانی سرکاری میڈیا نے بھی اسی نوعیت کے اختلافات کی اطلاع دی ہے،

    یہ مذاکرات پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہو رہے ہیں، جہاں سیکیورٹی اور سفارتی سرگرمیاں غیر معمولی حد تک بڑھ گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق فریقین کے درمیان براہ راست اور بالواسطہ دونوں سطحوں پر رابطے جاری ہیں، جبکہ مذاکراتی ماحول کو محتاط اور حساس قرار دیا جا رہا ہے۔اگرچہ بات چیت دوبارہ شروع ہو چکی ہے، لیکن فی الحال کسی حتمی پیش رفت کا اعلان نہیں کیا گیا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق آئندہ چند گھنٹے اس پورے عمل کی سمت کا تعین کر سکتے ہیں۔

    اسلام آباد امن مذاکرات میں ایرانی کو نفسیاتی برتری ملی ہے کوشش کے باوجود بات چیت دوسرے روز میں داخل ہوگئی ہے ، امریکی نائب صدر نتیجہ لیکر واپس جانے کے خواہشمند تھے ، اب اور کچھ ملکوں نے ایرانی صدر سے بات چیت کی ہے تاکہ معاملہ کس نتیجہ پرپہنچے ۔جے ڈی وینس امریکی مفاد میں کوئی معاہدہ چاہتے ہیں کیونکہ مڈل ٹرم الیکشن میں ووٹر کو کچھ دکھا سکیں دوسراوہ اگلے انتخابات میں صدارتی امیدوار بھی بننا چاہتے ہیں لیکن مذاکرات کو طول دیکر زیادہ سے زیادہ معاملات اپنے حق میں لانا چاہتا ہے کیونکہ یہ اس کے پاس بھی آخری موقع ہے

  • لاہور میں رواں سال پولیس افسران اور اہلکاروں کے خلاف 16 مقدمات درج

    لاہور میں رواں سال پولیس افسران اور اہلکاروں کے خلاف 16 مقدمات درج

    صوبائی دارالحکومت لاہور میں سال 2026ء کے دوران مختلف تھانوں میں پولیس افسران اور اہلکاروں کے خلاف 16 مقدمات درج ہوئے۔

    پولیس ریکارڈ کے مطابق درج شدہ مقدمات میں کانسٹیبل سے لے کر سب انسپکٹر تک کے 26 اہلکار نامزد کئے گئے،درج شدہ مقدمات میں 4 سب انسپکٹر، 6 اے ایس آئی نامزد کئے گئے مختلف تھانوں میں درج مقدمات میں 16 ہیڈ کانسٹیبل اور کانسٹیبل بھی نامزد ہوئےمقدمات کا اندراج مالی کرپشن، ناقص تفتیش اور اختیارات سے تجاوز کرنے پر ہوا۔

    سائلین کو ہراساں کرنے اور مختلف جرائم میں ملوث ہونے کے باعث بھی مقدمات درج ہوئے۔ماڈل ٹاؤن ڈویژن میں پولیس کے خلاف 4 مقدمات درج ہوئے سٹی اور سول لائنز ڈویژن میں پولیس کے خلاف 3، 3 مقدمات کا اندراج کیا گیا،صدر، اقبال ٹاؤن اور کینٹ ڈویژن میں پولیس کے خلاف 2، 2 مقدمات درج کئے گئے-

  • دو امریکی جنگی جہازوں کا آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کا عمل شروع

    دو امریکی جنگی جہازوں کا آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کا عمل شروع

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ نیوی کے دو جنگی جہازوں نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔

    امریکی سینٹکام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کا یہ آپریشن آبنائے ہرمز کو بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے محفوظ بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے-

    سینٹکام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر براڈ کوپر نےکہ آج ہم نے ایک نیا محفوظ راستہ بنانے کا عمل شروع کر دیا ہے اور جلد ہی اس راستے سے بحری صنعت کو بھی آگاہ کریں گے تاکہ یہاں سے تجارت کی آزادانہ آمد و رفت کو فروغ دیا جا سکے۔

    امریکی بحریہ کے جنگی جہاز یو ایس ایس فرینک ای پیٹرسن اور یو ایس ایس مائیکل مرفی آبنائے ہرمز عبور کر کے خلیج میں داخل ہو گئے ہیں جو ایران کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو صاف کرنے کے وسیع مشن کے آغاز کی نشاندہی کرتا ہے۔

    اس آپریشن کا مقصد دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہ میں بحری آمد و رفت کو بحال کرنا ہے جو گزشتہ چھ ہفتوں سے عملی طور پر بند رہی جس کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی میں تاریخی خلل پیدا ہوا۔

    قبل ازیں امریکی حکام نے بتایا تھا کہ ایران نے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے ان بارودی سرنگوں کو بچھایا تھا اور اس کا مکمل ریکارڈ بھی محفوظ نہیں رکھا جب کہ کئی مائنز کے لہروں کے ذریعے سرک جانے یا بہہ جانے کا بھی خدشہ ہے زمین میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کی نسبت سمندری بارودی سرنگوں کو بچھانا اور پھر اسے کلیئر کرنا زیادہ مشکل کام ہے جس کی صلاحیت ایران کے پاس نہیں۔

    اس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکا آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگوں کو صاف کر رہا ہے جو کہ ان ممالک کو کرنا چاہئے تھا جو امریکا پر سب سے زیادہ تنقید کرتے ہیں۔

  • اسلام آباد،امریکا ایران مذاکرات میں اتار چڑھاؤ، سنجیدہ اختلافات برقرار

    اسلام آباد،امریکا ایران مذاکرات میں اتار چڑھاؤ، سنجیدہ اختلافات برقرار

    اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے مذاکرات دوسرے روز میں داخل ہوگئے، پاکستان مذاکرات میں ثالث کی حیثیت سے شریک ہے۔

    مذاکرات سے قبل ایران اور امریکا کے وفود نے وزیر اعظم شہباز شریف سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں علاقائی اور عالمی امن کی صورتِ حال پر غور کیا گیا،1979 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست اعلیٰ ترین سطح پر بیٹھک ہوئی ہے۔ ان مذاکرات کے لیے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف کی قیادت میں ایرانی وفد اسلام آباد پہنچا،نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیر داخلہ محسن نقوی اور دیگر حکام نے مہمانوں کا دارالحکومت میں خیر مقدم کیا ،امریکی وفد میں نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل ہیں۔ ایرانی وفد میں وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی شامل ہیں۔

    اسلام آباد میں جاری امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات کے دوران فضا میں کئی بار اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جبکہ بعض حساس معاملات پر دونوں فریقوں کے درمیان اب بھی سنجیدہ اختلافات موجود ہیں۔ ذرائع کے مطابق مذاکراتی عمل میں بعض اوقات ماحول کشیدہ ہوا اور بعض لمحات میں نرمی بھی دیکھی گئی۔برطانوی خبر رساں ادارے اسکائی نیوز کے مطابق ایک پاکستانی ذریعے نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ مذاکرات کے دوران دونوں وفود کے رویوں میں "موڈ سوئنگز” دیکھنے میں آئیں اور ملاقات کے دوران درجہ حرارت یعنی ماحول کبھی گرم اور کبھی سرد رہا۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ بات چیت آسان مرحلے سے نہیں گزر رہی اور کئی معاملات پر سخت مؤقف اپنایا گیا۔مذاکراتی ٹیمیں تقریباً دو گھنٹے تک بند کمرے میں گفتگو کرتی رہیں، جس کے بعد وقفہ لیا گیا،

    ایران کی نیم سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق آبنائے ہرمز مذاکرات کی کامیابی کے لیے سب سے اہم نکات میں شامل ہے، مگر یہی معاملہ دونوں فریقوں کے درمیان شدید اختلاف کا سبب بھی بنا ہوا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے، اس لیے اس پر کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت کو متاثر کر سکتی ہے۔

    پاکستان میں جاری امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات پر آدھی رات گزرنے کے باوجود کوئی باضابطہ اعلامیہ، پریس بریفنگ یا مشترکہ بیان سامنے نہیں آیا، جس سے سفارتی حلقوں میں بے چینی اور تجسس بڑھ گیا ہے۔ دونوں ممالک کے مذاکرات کاروں کے درمیان ہونے والی بات چیت کے نتائج تاحال خفیہ رکھے گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق اب تک جو محدود معلومات سامنے آئی ہیں، وہ زیادہ تر ایرانی ذرائع ابلاغ اور تہران کے قریب سمجھے جانے والے حلقوں سے موصول ہوئی ہیں، جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ مذاکرات میں کئی حساس معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔ایرانی مذاکراتی ٹیم کے قریب ایک ذریعے نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو بتایا کہ امریکا نے آبنائے ہرمز اور دیگر کئی معاملات پر ایسے مطالبات پیش کیے ہیں جنہیں ایران نے "ناقابل قبول” قرار دیا ہے۔ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے مہر نیوز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے مذاکرات کے دوران "ضرورت سے زیادہ مطالبات” پیش کیے ہیں۔ دوسری جانب امریکی وفد، پاکستانی حکام اور میزبان انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اسلام آباد میں موجود صحافیوں اور بین الاقوامی میڈیا نمائندوں کو بھی ابھی تک کسی بریفنگ کا انتظار ہے۔

    یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، بحری سلامتی، جوہری پروگرام اور علاقائی اثر و رسوخ جیسے معاملات عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اگر اسلام آباد مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ خطے میں تناؤ کم کرنے کی بڑی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے،سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات جاری رہنے کا امکان موجود ہے، لیکن کسی پیش رفت کے لیے دونوں فریقوں کو اپنے مؤقف میں لچک دکھانا ہوگی۔ دنیا بھر کی نظریں اب اسلام آباد پر جمی ہوئی ہیں کہ آیا یہ خاموش رات کسی بڑے اعلان پر ختم ہوگی یا نہیں۔