Baaghi TV

Blog

  • لاہور میں رواں سال پولیس افسران اور اہلکاروں کے خلاف 16 مقدمات درج

    لاہور میں رواں سال پولیس افسران اور اہلکاروں کے خلاف 16 مقدمات درج

    صوبائی دارالحکومت لاہور میں سال 2026ء کے دوران مختلف تھانوں میں پولیس افسران اور اہلکاروں کے خلاف 16 مقدمات درج ہوئے۔

    پولیس ریکارڈ کے مطابق درج شدہ مقدمات میں کانسٹیبل سے لے کر سب انسپکٹر تک کے 26 اہلکار نامزد کئے گئے،درج شدہ مقدمات میں 4 سب انسپکٹر، 6 اے ایس آئی نامزد کئے گئے مختلف تھانوں میں درج مقدمات میں 16 ہیڈ کانسٹیبل اور کانسٹیبل بھی نامزد ہوئےمقدمات کا اندراج مالی کرپشن، ناقص تفتیش اور اختیارات سے تجاوز کرنے پر ہوا۔

    سائلین کو ہراساں کرنے اور مختلف جرائم میں ملوث ہونے کے باعث بھی مقدمات درج ہوئے۔ماڈل ٹاؤن ڈویژن میں پولیس کے خلاف 4 مقدمات درج ہوئے سٹی اور سول لائنز ڈویژن میں پولیس کے خلاف 3، 3 مقدمات کا اندراج کیا گیا،صدر، اقبال ٹاؤن اور کینٹ ڈویژن میں پولیس کے خلاف 2، 2 مقدمات درج کئے گئے-

  • دو امریکی جنگی جہازوں کا آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کا عمل شروع

    دو امریکی جنگی جہازوں کا آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کا عمل شروع

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ نیوی کے دو جنگی جہازوں نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔

    امریکی سینٹکام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کا یہ آپریشن آبنائے ہرمز کو بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے محفوظ بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے-

    سینٹکام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر براڈ کوپر نےکہ آج ہم نے ایک نیا محفوظ راستہ بنانے کا عمل شروع کر دیا ہے اور جلد ہی اس راستے سے بحری صنعت کو بھی آگاہ کریں گے تاکہ یہاں سے تجارت کی آزادانہ آمد و رفت کو فروغ دیا جا سکے۔

    امریکی بحریہ کے جنگی جہاز یو ایس ایس فرینک ای پیٹرسن اور یو ایس ایس مائیکل مرفی آبنائے ہرمز عبور کر کے خلیج میں داخل ہو گئے ہیں جو ایران کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو صاف کرنے کے وسیع مشن کے آغاز کی نشاندہی کرتا ہے۔

    اس آپریشن کا مقصد دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہ میں بحری آمد و رفت کو بحال کرنا ہے جو گزشتہ چھ ہفتوں سے عملی طور پر بند رہی جس کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی میں تاریخی خلل پیدا ہوا۔

    قبل ازیں امریکی حکام نے بتایا تھا کہ ایران نے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے ان بارودی سرنگوں کو بچھایا تھا اور اس کا مکمل ریکارڈ بھی محفوظ نہیں رکھا جب کہ کئی مائنز کے لہروں کے ذریعے سرک جانے یا بہہ جانے کا بھی خدشہ ہے زمین میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کی نسبت سمندری بارودی سرنگوں کو بچھانا اور پھر اسے کلیئر کرنا زیادہ مشکل کام ہے جس کی صلاحیت ایران کے پاس نہیں۔

    اس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکا آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگوں کو صاف کر رہا ہے جو کہ ان ممالک کو کرنا چاہئے تھا جو امریکا پر سب سے زیادہ تنقید کرتے ہیں۔

  • اسلام آباد،امریکا ایران مذاکرات میں اتار چڑھاؤ، سنجیدہ اختلافات برقرار

    اسلام آباد،امریکا ایران مذاکرات میں اتار چڑھاؤ، سنجیدہ اختلافات برقرار

    اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے مذاکرات دوسرے روز میں داخل ہوگئے، پاکستان مذاکرات میں ثالث کی حیثیت سے شریک ہے۔

    مذاکرات سے قبل ایران اور امریکا کے وفود نے وزیر اعظم شہباز شریف سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں علاقائی اور عالمی امن کی صورتِ حال پر غور کیا گیا،1979 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست اعلیٰ ترین سطح پر بیٹھک ہوئی ہے۔ ان مذاکرات کے لیے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف کی قیادت میں ایرانی وفد اسلام آباد پہنچا،نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیر داخلہ محسن نقوی اور دیگر حکام نے مہمانوں کا دارالحکومت میں خیر مقدم کیا ،امریکی وفد میں نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل ہیں۔ ایرانی وفد میں وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی شامل ہیں۔

    اسلام آباد میں جاری امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات کے دوران فضا میں کئی بار اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جبکہ بعض حساس معاملات پر دونوں فریقوں کے درمیان اب بھی سنجیدہ اختلافات موجود ہیں۔ ذرائع کے مطابق مذاکراتی عمل میں بعض اوقات ماحول کشیدہ ہوا اور بعض لمحات میں نرمی بھی دیکھی گئی۔برطانوی خبر رساں ادارے اسکائی نیوز کے مطابق ایک پاکستانی ذریعے نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ مذاکرات کے دوران دونوں وفود کے رویوں میں "موڈ سوئنگز” دیکھنے میں آئیں اور ملاقات کے دوران درجہ حرارت یعنی ماحول کبھی گرم اور کبھی سرد رہا۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ بات چیت آسان مرحلے سے نہیں گزر رہی اور کئی معاملات پر سخت مؤقف اپنایا گیا۔مذاکراتی ٹیمیں تقریباً دو گھنٹے تک بند کمرے میں گفتگو کرتی رہیں، جس کے بعد وقفہ لیا گیا،

    ایران کی نیم سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق آبنائے ہرمز مذاکرات کی کامیابی کے لیے سب سے اہم نکات میں شامل ہے، مگر یہی معاملہ دونوں فریقوں کے درمیان شدید اختلاف کا سبب بھی بنا ہوا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے، اس لیے اس پر کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت کو متاثر کر سکتی ہے۔

    پاکستان میں جاری امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات پر آدھی رات گزرنے کے باوجود کوئی باضابطہ اعلامیہ، پریس بریفنگ یا مشترکہ بیان سامنے نہیں آیا، جس سے سفارتی حلقوں میں بے چینی اور تجسس بڑھ گیا ہے۔ دونوں ممالک کے مذاکرات کاروں کے درمیان ہونے والی بات چیت کے نتائج تاحال خفیہ رکھے گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق اب تک جو محدود معلومات سامنے آئی ہیں، وہ زیادہ تر ایرانی ذرائع ابلاغ اور تہران کے قریب سمجھے جانے والے حلقوں سے موصول ہوئی ہیں، جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ مذاکرات میں کئی حساس معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔ایرانی مذاکراتی ٹیم کے قریب ایک ذریعے نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو بتایا کہ امریکا نے آبنائے ہرمز اور دیگر کئی معاملات پر ایسے مطالبات پیش کیے ہیں جنہیں ایران نے "ناقابل قبول” قرار دیا ہے۔ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے مہر نیوز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے مذاکرات کے دوران "ضرورت سے زیادہ مطالبات” پیش کیے ہیں۔ دوسری جانب امریکی وفد، پاکستانی حکام اور میزبان انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اسلام آباد میں موجود صحافیوں اور بین الاقوامی میڈیا نمائندوں کو بھی ابھی تک کسی بریفنگ کا انتظار ہے۔

    یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، بحری سلامتی، جوہری پروگرام اور علاقائی اثر و رسوخ جیسے معاملات عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اگر اسلام آباد مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ خطے میں تناؤ کم کرنے کی بڑی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے،سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات جاری رہنے کا امکان موجود ہے، لیکن کسی پیش رفت کے لیے دونوں فریقوں کو اپنے مؤقف میں لچک دکھانا ہوگی۔ دنیا بھر کی نظریں اب اسلام آباد پر جمی ہوئی ہیں کہ آیا یہ خاموش رات کسی بڑے اعلان پر ختم ہوگی یا نہیں۔

  • اسلام آباد میں جاری ایران امریکا مذاکرات  اتوار کو بھی جاری رہ سکتے ہیں،امریکی میڈیا

    اسلام آباد میں جاری ایران امریکا مذاکرات اتوار کو بھی جاری رہ سکتے ہیں،امریکی میڈیا

    امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں جاری ایران امریکا مذاکرات اتوار کو بھی جاری رہ سکتے ہیں۔

    امریکہ اور ایران کے درمیان جاری اہم مذاکراتی عمل میں پیش رفت کے اشارے مل رہے ہیں، جہاں متعدد نشستیں خوشگوار اور نسبتاً مثبت ماحول میں منعقد ہو چکی ہیں۔ ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے وفود کے درمیان نہ صرف باضابطہ مذاکرات ہوئے بلکہ غیر رسمی سطح پر بھی روابط جاری رہے، حتیٰ کہ وفود نے ایک ساتھ عشائیہ بھی کیا، جس کے بعد اب باہمی نکات اور تجاویز کے تبادلے کا عمل جاری ہے۔

    سی این این کے مطابق پاکستانی ذرائع نے بتایا ہےکہ ایران امریکا مذاکرات آج یعنی اتوار کو بھی جاری رہ سکتے ہیں مذاکرات میں پاکستان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔

    دوسری جانب الجزیرہ کے مطابق ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت وفود کی سطح پر مذاکرات جاری ہیں اور دونوں فریق ممکنہ راستے تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ بات چیت کو آگے بڑھایا جا سکے ان کا مؤقف ہے کہ اگرچہ ابھی کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچا جا سکا، لیکن رابطوں کا تسلسل برقرار ہے اور مختلف آپشنز پر غور ہو رہا ہے۔

    پاکستان کی جانب سے بھرپور کوشش کی جا رہی ہے کہ مذاکراتی عمل کو مزید وقت دیا جائے پاکستانی حکام چاہتے ہیں کہ کم از کم ایک اور دن، ایک اور مرحلہ یا مزید توسیع دی جائے تاکہ فریقین کسی ٹھوس اور نتیجہ خیز معاہدے تک پہنچ سکیں تاہم اب تک اس حوالے سے کوئی حتمی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

    پاکستانی سفارتی ذرائع اب بھی پرامید دکھائی دیتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ مسلسل دونوں فریقین، یعنی امریکہ اور ایران، کو مزید لچک دکھانے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں مذاکرات کی کامیابی کا دارومدار بالآخر دونوں ممالک کی قیادت پر ہوگا، جو یہ طے کرے گی کہ بات چیت کو کس انداز میں آگے بڑھانا ہے اور آئندہ کا طریقہ کار کیا ہوگامچونکہ دونوں فریق اب آمنے سامنے ملاقاتوں کا آغاز کر چکے ہیں، اس لیے یہ ایک اہم پیش رفت ہے، اور اگر یہ سلسلہ برقرار رہتا ہے تو مستقبل میں مذاکرات کے تسلسل اور ممکنہ کامیابی کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطح کے مذاکرات آج اسلام آباد میں جاری ہیں، جنہیں عالمی سطح پر خاصی اہمیت دی جا رہی ہے،اس حوالے سے ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ پاکستان پہنچنے والا اعلیٰ سطح کا ایرانی وفد ایران کے مفادات کا محافظ ہے،ایرانی وفد بہادری کے ساتھ مذاکرات کرے گا،عوام کیلیے ہماری خدمات ایک لمحہ بھی نہیں رکیں گی۔

    دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز جلد کھلنے جا رہی ہے،امریکی تیل لینے کیلئے خالی ٹینکرز کی بڑی تعداد آ رہی ہے،امریکی میڈیا پر صرف منفی خبریں دکھائی جا رہی ہیں۔

  • آشا بھوسلے دل کا دورہ پڑنے کے باعث  تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل

    آشا بھوسلے دل کا دورہ پڑنے کے باعث تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل

    بھارت کی لیجنڈری پلے بیک سنگر آشا بھوسلے کو اچانک طبیعت بگڑنے اور مبینہ طور پر دل کا دورہ پڑنے کے باعث ممبئی کے بریف کینڈی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق 92 سالہ گلوکارہ کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے اور وہ اس وقت اسپتال کے ایمرجنسی میڈیکل سروسز یونٹ میں زیرِ علاج ہیں ہفتے کے روز آشا بھوسلے کو اچانک سینے میں تکلیف محسوس ہوئی جس کے بعد انہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال لے جایا گیا، ڈاکٹر پریت سامدانی نے ان کے اسپتال میں داخل ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اس وقت ایمرجنسی یونٹ میں ڈاکٹروں کی زیرِ نگرانی ہیں، تاہم انہوں نے ان کی صحت کے حوالے سے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا-

    آشا بھوسلے کے اہل خانہ کی جانب سے اب تک کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے، لیکن اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی حالت نازک ہے 8 ستمبر 1933 کو پیدا ہونے والی آشا بھوسلے بھارتی سینما کی سب سے زیادہ بااثر اور ورسٹائل گلوکارہ سمجھی جاتی ہیں ،وہ لیجنڈری گلوکارہ لتا منگیشکر کی چھوٹی بہن ہیں۔

  • شاہد آفریدی نے اسلام آباد مذاکرات کو خوش آئند قدم قرار دیا

    شاہد آفریدی نے اسلام آباد مذاکرات کو خوش آئند قدم قرار دیا

    کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے پاکستان کی میزبانی میں ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے اہم مذاکرات کو سراہتے ہوئے اسے خطے میں امن کے لیے خوش آئند قدم قرار دیا ہے۔

    اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ جب بات چیت کا عمل شروع ہوتا ہے تو نئے باب رقم ہوتے ہیں، اور پاکستان میں ایرانی اور امریکی وفود کی ملاقات ایک نہایت اہم موڑ کی حیثیت رکھتی ہےوہ پُرامید ہیں کہ ان مذاکرات سے نہ صرف کشیدگی میں کمی آئے گی بلکہ خطے میں دیرپا امن کے قیام کی راہیں بھی ہموار ہوں گی۔

    اس سے قبل بھی شاہد آفریدی نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں اس بات پر زور دیا تھا کہ اسلام امن کا درس دیتا ہے اور پاکستان ہمیشہ امن کے قیام میں کردار ادا کرتا رہا ہے۔

  • کویت میں دہشت گردی کی مالی معاونت ناکام، 24 افراد گرفتار

    کویت میں دہشت گردی کی مالی معاونت ناکام، 24 افراد گرفتار

    کویت کی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ ایک اہم سیکیورٹی آپریشن کے دوران ملک کی سلامتی کو نقصان پہنچانے اور دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت کرنے کی مبینہ سازش ناکام بنا دی گئی۔ حکام کے مطابق اس کارروائی میں 24 شہریوں کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں ایک ایسا شخص بھی شامل ہے جس کی شہریت پہلے ہی منسوخ کی جا چکی تھی۔

    وزارت داخلہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ گرفتار افراد کے قبضے سے بڑی مالی رقوم برآمد ہوئیں، جن کا تعلق غیر قانونی سرگرمیوں سے تھا۔ اسی کارروائی کے دوران بیرون ملک فرار 8 شہریوں کا بھی سراغ لگایا گیا، جن میں ایک شخص ایسا بھی ہے جس کی شہریت ختم کی جا چکی ہے۔بیان کے مطابق ملزمان منظم نیٹ ورک کے تحت مذہبی مقاصد اور خیراتی سرگرمیوں کے نام پر رقوم جمع کرتے تھے۔ عوام ان افراد پر اعتماد کرتے ہوئے نیک نیتی سے چندہ دیتے رہے، کیونکہ انہیں بتایا جاتا تھا کہ یہ رقوم جائز اور انسانی فلاح کے مقاصد کے لیے استعمال ہوں گی۔تاہم تحقیقات سے معلوم ہوا کہ جمع کی گئی رقم کو اصل مقاصد کے بجائے غیر قانونی اور مشتبہ تنظیموں کی طرف منتقل کیا جا رہا تھا۔ وزارت داخلہ نے کہا کہ یہ عمل عوامی اعتماد کے ساتھ سنگین دھوکا اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

    حکام نے مزید بتایا کہ ملزمان نے رقوم کو چھپانے اور منتقل کرنے کے لیے تجارتی و پیشہ ورانہ اداروں کو بطور پردہ استعمال کیا۔ رقم کی منتقلی کے لیے پیچیدہ طریقے اپنائے گئے، جن میں مختلف افراد کے ذریعے فضائی اور زمینی راستوں سے رقوم منتقل کرنا شامل تھا تاکہ شک و شبہ سے بچا جا سکے۔وزارت داخلہ کے مطابق تمام گرفتار افراد کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے اور انہیں متعلقہ اداروں کے حوالے کر دیا گیا ہے، جبکہ مزید ملوث عناصر کی تلاش کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔وزارت داخلہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ریاست ہر اس سازش کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہے جو ملک کے امن و استحکام کو خطرے میں ڈالے یا کویت کی سرزمین کو دہشت گرد تنظیموں کی معاونت کے لیے استعمال کرے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ قانون کی عملداری، قومی سلامتی اور ملکی استحکام کے تحفظ کے لیے کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی اور ملوث افراد کا سختی سے تعاقب جاری رکھا جائے گا۔

  • اسلام آباد مذاکرات:امریکا اور ایران کے درمیان  سب سے اہم اور اعلیٰ سطحی براہِ راست سفارتی پیشرفت ہے، وائٹ ہاؤس

    اسلام آباد مذاکرات:امریکا اور ایران کے درمیان سب سے اہم اور اعلیٰ سطحی براہِ راست سفارتی پیشرفت ہے، وائٹ ہاؤس

    وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ اسلام آباد میں اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان ’’فیس ٹو فیس‘‘ بات چیت جاری ہے۔

    وائٹ ہاؤس کے سوشل میڈیا پوسٹ پر کہا گیا ہے کہ یہ ملاقات امریکا اور ایران کے درمیان برسوں بعد ہونے والی سب سے اہم اور اعلیٰ سطحی براہِ راست سفارتی پیشرفت ہے، اس وقت پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر ’’فیس ٹو فیس‘‘ مذاکرات ہو رہے ہیں ،متعلقہ شعبوں کے تمام امریکی ماہرین اسلام آباد میں موجود ہیں جبکہ اضافی ماہرین واشنگٹن سے بھی معاونت فراہم کر رہے ہیں-

    واضح رہے کہ پاکستان میں ایران امریکا کے درمیان مذاکرات جاری ہیں امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں جب کہ ان کے ہمراہ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور مشیر جیرڈ کشنر بھی موجود ہیں، سینئر مشیران میں ڈاکٹر اینڈریو بیکر اور مائیکل وینس بھی وفد کا حصہ ہیں جو مختلف شعبوں میں تکنیکی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔

  • تل ابیب میں جنگوں کے خاتمے کیلیے اسرائیلی وزیراعظم کیخلاف ہزاروں افراد سڑکوں پر

    تل ابیب میں جنگوں کے خاتمے کیلیے اسرائیلی وزیراعظم کیخلاف ہزاروں افراد سڑکوں پر

    تل ابیب میں مسلسل چھٹے ہفتے بھی ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے، جہاں حکومت کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ غزہ،ایران اور لبنان میں جاری تمام جنگیں فوری طور پر بند کی جائیں۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو بمباری اور طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ امن اور سفارتکاری سے حقیقی سلامتی مل سکتی ہے۔

    احتجاجی مظاہرے میں شریک افراد نے حکومت کے خلاف منفرد انداز اپنایا۔ بعض مظاہرین نے اسرائیل کے سخت گیر قومی سلامتی وزیر اتمار بین گویر اور وزیر اعظم نیتن یاہو کے ماسک پہن رکھے تھے۔ کچھ افراد نارنجی قیدی لباس میں ملبوس تھے جبکہ دیگر نے "موت کے فرشتے” جیسا روپ دھار رکھا تھا۔ مظاہرین نے علامتی الاؤ کے گرد رقص کیا اور پیغام دیا کہ موجودہ قیادت موت، خوف اور خونریزی کی سیاست کر رہی ہے، اور ایک دن انہیں اپنے فیصلوں کا حساب دینا ہوگا۔

    ایک خاتون مظاہرہ کرنے والی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے مئی 2000 میں لبنان سے آخری فوجی نکالا تھا، لیکن اب دوبارہ وہاں جانا ایک المناک غلطی ہے۔ ان کے بقول، "یہ پاگل پن ہے، میں سمجھ نہیں سکتی کہ ہم پھر اسی راستے پر کیوں جا رہے ہیں۔”احتجاج کے دوران اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی قانونی مشکلات بھی زیر بحث رہیں۔ مظاہرین نے تنقید کی کہ وزیر اعظم نے بدعنوانی کے مقدمات سے متعلق اتوار کو ہونے والی عدالتی سماعت میں گواہی مؤخر کرنے کی اپیل کی ہے، جو ان کے نزدیک عوامی اعتماد سے فرار کی کوشش ہے۔

    گزشتہ ہفتے پولیس نے اسی نوعیت کے احتجاج کو منتشر کر دیا تھا اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ بڑے اجتماعات سکیورٹی ہدایات کے خلاف ہیں۔ اس بار بھی پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی اور حکام نے دعویٰ کیا کہ جنگ بندی کے باوجود ایک ہزار سے زیادہ افراد کے اجتماع کی اجازت نہیں۔ تاہم مظاہرے میں شریک افراد کی تعداد بظاہر اس حد سے کہیں زیادہ دکھائی دی۔احتجاج کے منتظم اور تحریک "اسٹینڈنگ ٹوگیدر” کے رہنما نے کہا کہ اگر پولیس طاقت استعمال کرے گی تو اس سے تحریک کو مزید توجہ ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو خاموش نہیں کرایا جا سکتا کیونکہ لوگ جنگ سے تھک چکے ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران لبنان میں حزب اللہ کے 200 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ اس تناظر میں جب احتجاجی رہنما ایلون لی گرین سے بیروت کی تباہی کی تصاویر کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے افسردگی سے جواب دیا "میرا دل ٹوٹ گیا۔”

    یہ الفاظ نہ صرف احتجاجی جذبات کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ اسرائیلی معاشرے کے اس طبقے کی بھی نمائندگی کرتے ہیں جو سمجھتا ہے کہ مسلسل جنگ نے خطے کو مزید غیر محفوظ اور انسانیت کو مزید زخمی کر دیا ہے۔

  • بعض قوتیں دانستہ یا غیر دانستہ طور پر قیام امن کی کوششوں میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں،روس

    بعض قوتیں دانستہ یا غیر دانستہ طور پر قیام امن کی کوششوں میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں،روس

    روسی وزارت خارجہ نے کہا ہےکہ عالمی برادری کی نظریں اسلام آباد میں پاکستان کی ثالثی میں جاری امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات پر مرکوز ہیں۔

    روسی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ خلیج فارس کے خطے میں پیچیدہ بحران کے حل کا ایک اہم موقع پیدا ہو رہا ہے، بیشتر ممالک ان مذاکرات کی کامیابی کو نہ صرف خطے بلکہ دنیا کے لیے فائدہ مند سمجھتے ہیں اور اس سے امن کی راہ ہموار ہونے کی امید رکھتے ہیں۔

    تاہم روس نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ بعض قوتیں دانستہ یا غیر دانستہ طور پر قیام امن کی کوششوں میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں بیان میں ان عناصر پر تنقید کی گئی جو ایران کے خلاف کارروائیوں کے بعد اب آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے مسائل کا ذمہ بھی ایران پر ڈال رہے ہیں۔

    روسی وزارت خارجہ کے مطابق واقعات کی اصل ترتیب کو مسخ نہیں کیا جانا چاہیے اور یہ حقیقت مدنظر رکھنی چاہیے کہ 28 فروری تک آبنائے ہرمز ایک اہم عالمی گزرگاہ کے طور پر بلا تعطل فعال رہی اس وقت سب سے اہم ہدف خطے میں جاری جنگ اور کشیدگی کا خاتمہ ہے، جس کے اثرات خلیجی ممالک ، لبنان اور اسرائیل-لبنان سرحدی علاقوں تک پھیل چکے ہیں، جہاں فوجی سرگرمیاں فوری طور پر بند ہونا ضروری ہیں۔

    روس نے زور دیا کہ تمام تنازعات کو سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کیا جائے اور اس سلسلے میں وہ اپنے شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن قائم کیا جا سکے روسی وزارت خارجہ نے اسلام آباد مذاکرات کے شرکا پر زور دیا کہ وہ ذمہ دارانہ طرز عمل اختیار کریں اور کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کریں جو اس اہم سفارتی موقع کو نقصان پہنچا سکتا ہو۔

    روس نے خلیج فارس کے لیے ایک جامع سیکیورٹی ڈھانچے کی اپنی دیرینہ تجویز کو دہراتے ہوئے کہا کہ اس میں تمام ساحلی ممالک، بشمول عرب ریاستوں اور ایران کے درمیان مکالمہ اور بیرونی شراکت داروں کی تعمیری شمولیت ضروری ہے تاکہ خطے میں پائیدار استحکام یقینی بنایا جا سکے۔