Baaghi TV

Blog

  • ناظم آباد میں گھر سے لاش برآمد، اہلیہ زیرِ حراست

    ناظم آباد میں گھر سے لاش برآمد، اہلیہ زیرِ حراست

    ‎کراچی: شہر کے علاقے ناظم آباد میں ایک گھر سے ریٹائرڈ اسپتال ملازم کی لاش برآمد ہونے کے بعد پولیس نے واقعے کو ابتدائی طور پر قتل قرار دیتے ہوئے مقتول کی اہلیہ کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے۔
    ‎پولیس کے مطابق مقتول کی لاش اس کے گھر سے ملی، جہاں وہ اپنی دوسری بیوی کے ساتھ رہائش پذیر تھا۔ ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقتول کو گلا دبا کر یا پھندا لگا کر قتل کیا گیا، تاہم موت کی حتمی وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد سامنے آئے گی۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ مقتول ماضی میں عباسی شہید اسپتال کے ایکسرے ڈیپارٹمنٹ میں ملازم رہ چکا تھا اور ریٹائرمنٹ کے بعد ناظم آباد میں رہائش اختیار کیے ہوئے تھا۔
    ‎پولیس نے شبہ کی بنیاد پر مقتول کی اہلیہ کو حراست میں لے کر تھانے منتقل کر دیا ہے، جہاں ان سے مختلف پہلوؤں پر پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
    ‎تفتیشی حکام کے مطابق خاتون نے ابتدائی بیان میں قتل سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے، تاہم پولیس تمام شواہد، فرانزک رپورٹس اور دیگر ممکنہ پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔
    ‎پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کے بعد ہی قتل کے محرکات اور ذمہ دار افراد کے بارے میں حتمی مؤقف اختیار کیا جائے گا۔

  • آذربائیجان اور پاکستان میں دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق

    آذربائیجان اور پاکستان میں دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق

    ‎باکو: آذربائیجان اور پاکستان نے دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور عسکری تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
    ‎یہ پیش رفت پاکستان کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (NDU) کی اعلیٰ قیادت کے آذربائیجان کے دورے کے دوران سامنے آئی، جہاں دونوں ممالک کے حکام نے باہمی دفاعی تعلقات، پیشہ ورانہ تربیت اور فوجی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی۔
    ‎ملاقات میں دونوں فریقوں نے دفاعی شعبے میں جاری تعاون پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر عسکری تعلیم، مشترکہ تربیتی پروگراموں، دفاعی تجربات کے تبادلے اور دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان روابط بڑھانے پر بھی زور دیا گیا۔
    ‎پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان گزشتہ چند برسوں میں دفاعی تعلقات میں نمایاں پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے، جبکہ دونوں ممالک مختلف مشترکہ فوجی مشقوں، اعلیٰ سطحی وفود کے تبادلوں اور دفاعی تعاون کے دیگر شعبوں میں بھی قریبی شراکت داری برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
    ‎دونوں ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا کہ باہمی اعتماد اور دیرینہ دوستی کی بنیاد پر دفاعی تعاون کو مزید مستحکم کیا جائے گا تاکہ علاقائی امن، استحکام اور مشترکہ مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

  • ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کی راہ ہموار، تعمیر کا آغاز متوقع

    ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کی راہ ہموار، تعمیر کا آغاز متوقع

    ‎اسلام آباد: امریکا کی جانب سے اقتصادی رکاوٹوں میں نرمی اور حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد طویل عرصے سے تعطل کا شکار ایران پاکستان (آئی پی) گیس پائپ لائن منصوبہ دوبارہ فعال ہونے جا رہا ہے۔ اس پیش رفت سے منصوبے پر عملی کام شروع کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
    ‎حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان کی وفاقی کابینہ کی توانائی کمیٹی نے منصوبے کے پہلے مرحلے کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت گوادر سے ایران کی سرحد تک 80 کلومیٹر طویل پائپ لائن تعمیر کی جائے گی۔
    ‎اس ابتدائی مرحلے پر 158 ملین ڈالر لاگت آئے گی، جسے گیس انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس (GIDC) کے ذریعے مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔
    ‎منصوبے کے تحت ابتدائی طور پر پاکستان روزانہ 100 ملین مکعب فٹ (MMCFD) گیس درآمد کرے گا۔ بعد ازاں جب 781 کلومیٹر طویل پائپ لائن نواب شاہ تک مکمل ہو جائے گی تو گیس کی فراہمی بڑھ کر 750 ملین مکعب فٹ یومیہ تک پہنچ جائے گی، جس سے ملک کی توانائی ضروریات پوری کرنے میں نمایاں مدد ملے گی۔
    ‎رپورٹس کے مطابق پاکستان کو اگر منصوبے پر پیش رفت نہ کرتا تو ایران کی جانب سے بین الاقوامی ثالثی کے ذریعے 18 ارب ڈالر تک کے ممکنہ جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا، جس کے پیش نظر منصوبے پر عملدرآمد کو تیز کیا گیا۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت، مذاکرات میں مثبت ماحول اور پاکستان کی ثالثی کے نتیجے میں امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے ممکنہ رعایتوں نے اس منصوبے کی راہ میں حائل بڑی رکاوٹیں دور کر دی ہیں۔
    ‎توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ مکمل ہونے سے پاکستان کو قدرتی گیس کی طویل مدتی اور نسبتاً سستی فراہمی ممکن ہو سکے گی، جس سے توانائی بحران میں کمی، صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ اور ملکی معیشت کو استحکام ملنے کی توقع ہے۔

  • کراچی میں گیسٹرو اور اسہال کے مریضوں میں تشویشناک اضافہ

    کراچی میں گیسٹرو اور اسہال کے مریضوں میں تشویشناک اضافہ

    ‎کراچی: شدید گرمی اور عیدالاضحیٰ کے بعد قربانی کے گوشت کے غیر مناسب استعمال کے باعث کراچی میں گیسٹرو اور اسہال کے مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے، جس سے شہر کے بڑے سرکاری اسپتالوں کی ایمرجنسی وارڈز پر شدید دباؤ پڑ رہا ہے۔
    ‎سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سول اسپتال کراچی میں روزانہ پیٹ کے امراض اور ڈائریا کے 200 سے زائد مریض علاج کے لیے لائے جا رہے ہیں، جبکہ جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں بھی گیسٹرو کے یومیہ مریضوں کی تعداد 150 سے تجاوز کر چکی ہے۔
    ‎جناح اسپتال کے ڈاکٹر عمران کے مطابق بڑی تعداد میں شہری شدید پیٹ درد، الٹی، متلی، بخار اور لوز موشن کی شکایات کے ساتھ ایمرجنسی میں پہنچ رہے ہیں، جن میں بچوں اور بزرگوں کی تعداد بھی قابلِ ذکر ہے۔
    ‎طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ عید کے بعد قربانی کا گوشت مناسب درجہ حرارت پر محفوظ نہ رکھنے، بار بار گرم کرنے اور حفظانِ صحت کے اصولوں کو نظر انداز کرنے کے باعث معدے اور آنتوں کی بیماریوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق فریزر میں طویل عرصے تک رکھا گیا گوشت اگر مناسب طریقے سے نہ پکایا جائے تو اس میں موجود جراثیم صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ شدید گرمی کے موسم میں خوراک میں بیکٹیریا کی افزائش بھی تیزی سے ہوتی ہے، جس کے باعث آلودہ یا باسی کھانا گیسٹرو اور اسہال کا سبب بن سکتا ہے۔
    ‎ڈاکٹروں نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ باہر کے غیر معیاری کھانوں، باسی گوشت اور آلودہ پانی سے پرہیز کریں، صرف ابلا یا صاف پانی استعمال کریں، تازہ اور اچھی طرح پکا ہوا کھانا کھائیں اور ہاتھوں کی صفائی کا خاص خیال رکھیں تاکہ بیماریوں سے محفوظ رہا جا سکے۔
    ‎ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر مسلسل الٹی، شدید اسہال یا پانی کی کمی کی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر قریبی اسپتال سے رجوع کیا جائے تاکہ بروقت علاج ممکن بنایا جا سکے۔

  • کشمیر کو پاکستان سے الگ نہیں کیا جا سکتا، خواجہ آصف کی وضاحت

    کشمیر کو پاکستان سے الگ نہیں کیا جا سکتا، خواجہ آصف کی وضاحت

    ‎اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر سے متعلق ان کا بیان بالکل واضح، حقیقت پر مبنی اور سچا تھا، تاہم بعض عناصر مذموم مقاصد کے تحت اس کے مفہوم کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں۔
    ‎اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ کوئی بھی کشمیر کو پاکستان سے اور پاکستان کو کشمیر سے الگ نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ 1947 میں ہجرت کر کے پاکستان آنے والے کشمیریوں کی قربانیاں تاریخ کا اہم حصہ ہیں اور انہیں کسی صورت فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
    ‎وزیر دفاع نے کہا کہ کشمیر کی جدوجہد مقبوضہ کشمیر میں بھارتی تسلط کے خلاف طویل مزاحمت، قربانیوں، شہادتوں اور قید و بند کی ایک لازوال داستان ہے۔ ان کے مطابق کشمیر کاز کے ساتھ پاکستان کی وابستگی پانچ جنگوں میں شہید ہونے والوں کے خون اور ملک کے مستقل اصولی مؤقف سے واضح ہوتی ہے۔
    ‎خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان اور کشمیر کاز کے خلاف بیرونی ایجنڈے کے تحت اٹھنے والی آوازوں کا مؤثر اور بھرپور جواب دینا ضروری ہے۔ انہوں نے آزاد جموں و کشمیر کے عوام پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے عوام اور 1947 کے مہاجرین کی قربانیوں کو تسلیم کریں اور ان کا احترام کریں۔
    ‎انہوں نے کہا کہ ان قربانیوں کو کم تر سمجھنا دراصل کشمیر کاز کی نفی کے مترادف ہے۔ ان کے بقول کشمیریت کی شناخت کسی پیدائشی سرٹیفکیٹ سے نہیں بلکہ گزشتہ آٹھ دہائیوں پر محیط قربانیوں، جدوجہد اور وابستگی سے ہوتی ہے۔
    ‎وزیر دفاع نے مزید کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر امن، استحکام اور ترقی کے فروغ کے لیے اپنا مثبت کردار جاری رکھے گا، اور عالمی برادری بھی پاکستان کی ان کوششوں کو تسلیم کر رہی ہے۔

  • ایرانی صدر  کے اعزاز میں وزیر اعظم ہاؤس میں استقبالیہ تقریب، گارڈ آف آنر پیش

    ایرانی صدر کے اعزاز میں وزیر اعظم ہاؤس میں استقبالیہ تقریب، گارڈ آف آنر پیش

    ‎اسلام آباد: ایرانی صدر مسعود پزشکیان وزیراعظم ہاؤس پہنچے، جہاں وزیراعظم شہباز شریف نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر معزز مہمان کے اعزاز میں باضابطہ استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا۔
    ‎وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعظم ہاؤس آمد پر ایرانی صدر کا خیرمقدم کیا اور دونوں رہنماؤں نے مصافحہ کرتے ہوئے نیک خواہشات کا تبادلہ کیا۔
    ‎تقریب کے دوران ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، جس میں پاکستان کی مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے انہیں سلامی دی۔ یہ تقریب دونوں ممالک کے درمیان قریبی اور دوستانہ تعلقات کی علامت قرار دی جا رہی ہے۔
    ‎دورے کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان دوطرفہ تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، علاقائی سلامتی اور باہمی دلچسپی کے دیگر اہم امور پر تفصیلی بات چیت متوقع ہے۔
    ‎پاکستان اور ایران کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی روابط کئی دہائیوں پر محیط ہیں، جبکہ دونوں ممالک مختلف علاقائی اور بین الاقوامی فورمز پر بھی قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔
    ‎توقع ہے کہ ایرانی صدر کے اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، سفارتی اور دفاعی تعاون کو مزید فروغ ملے گا اور مختلف شعبوں میں باہمی شراکت داری مضبوط ہوگی۔

  • ‎پاکستان اور روس کا دہشت گردی کے خلاف تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

    ‎پاکستان اور روس کا دہشت گردی کے خلاف تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

    ‎اسلام آباد: پاکستان اور روس نے دہشت گردی کے خلاف دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے اور علاقائی و عالمی سطح پر مشترکہ اقدامات کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔
    ‎اسلام آباد میں 23 جون 2026 کو پاکستان اور روس کے درمیان انسدادِ بین الاقوامی دہشت گردی سے متعلق مشترکہ ورکنگ گروپکا بارہواں اجلاس منعقد ہوا۔ پاکستانی وفد کی قیادت وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکریٹری سفیر محمد خالد خان جمالی نے کی، جبکہ روسی وفد کی سربراہی روسی وزارت خارجہ کے نائب وزیر دمتری لیوبنسکی نے کی۔
    ‎اجلاس میں خطے کو درپیش دہشت گردی کے خطرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں خاص طور پر افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی اور اس کے پڑوسی ممالک سمیت پورے خطے کی سلامتی پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا گیا۔
    ‎دونوں ممالک کے وفود نے انسداد دہشت گردی کے شعبے میں جاری دوطرفہ تعاون کا بھی جائزہ لیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ معلومات کے تبادلے، صلاحیتوں میں اضافے اور مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے تعاون کو مزید مؤثر بنایا جائے۔
    ‎اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ پاکستان اور روس اقوام متحدہ (UN) اور شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) سمیت علاقائی اور بین الاقوامی فورمز پر دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے باہمی تعاون کو مزید فروغ دیں گے۔
    ‎دونوں فریقوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی، انتہا پسندی اور سرحد پار خطرات سے نمٹنے کے لیے مسلسل رابطے اور مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی تاکہ خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • نیتن یاہو کا امریکی اسلحے پر انحصار ختم کرنے کا اعلان

    نیتن یاہو کا امریکی اسلحے پر انحصار ختم کرنے کا اعلان

    ‎تل ابیب: اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل کو اپنی دفاعی ضروریات کے لیے امریکی اسلحے پر انحصار کم کر کے خودمختار اسلحہ سازی کا نظام قائم کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ جاری تنازع میں کامیابی کا انحصار اسرائیل کی اپنی فوجی طاقت اور دفاعی صلاحیتوں پر ہے۔
    ‎اپنے بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل برسوں سے امریکا کی جانب سے ملنے والی فوجی اور دفاعی معاونت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، تاہم اب وقت آ گیا ہے کہ ملک اپنے دفاعی شعبے کو مزید خودکفیل بنائے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو جدید ہتھیاروں کی تیاری میں خود انحصاری حاصل کرنا ہوگی تاکہ مستقبل میں کسی بھی بیرونی سپلائی یا امداد پر انحصار کم سے کم ہو۔ ان کے مطابق ایک مضبوط اور خودمختار دفاعی صنعت ہی اسرائیل کی طویل مدتی سلامتی کی ضمانت بن سکتی ہے۔
    ‎نیتن یاہو نے کہا کہ ایران اور اس کے اتحادی گروہوں کے ساتھ جاری کشیدگی ابھی ختم نہیں ہوئی اور آئندہ حالات کا انحصار اسرائیل کی عسکری تیاری، جدید ٹیکنالوجی اور دفاعی صلاحیتوں پر ہوگا۔
    ‎اسرائیلی وزیراعظم نے مزید کہا کہ ملکی دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے مقامی سطح پر ہتھیاروں کی تیاری، تحقیق اور جدید دفاعی نظاموں میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے مستقبل میں زیادہ سے زیادہ مقامی دفاعی صنعت پر بھروسا کرنا ہوگا۔
    ‎ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر عالمی برادری گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

  • نیتن یاہو کا دعویٰ، ایران کے ساتھ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی

    نیتن یاہو کا دعویٰ، ایران کے ساتھ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی

    ‎تل ابیب: اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران اور اس کے اتحادی گروہوں کے ساتھ اسرائیل کا تنازع ابھی ختم نہیں ہوا اور آئندہ کی صورتحال کا انحصار اسرائیل کی فوجی طاقت اور دفاعی صلاحیتوں پر ہوگا۔
    ‎ایرانی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو نے گزشتہ جمعرات کو گش ایٹزیون (Gush Etzion) میں ریزرو افسران کے کیڈٹس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اس وقت ایران اور اس کے اتحادی گروہوں کے خلاف مختلف محاذوں پر سرگرم ہے اور ان کے خلاف اہم کارروائیاں کی جا چکی ہیں۔
    ‎اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ "ہم نے ایران اور اس کے اتحادیوں کو سخت ضرب لگائی ہے، لیکن یہ معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ مستقبل میں کیا ہوگا، اس کا انحصار ہماری طاقت، عزم اور دفاعی صلاحیتوں پر ہے۔”
    ‎میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے خطاب میں اسرائیلی فوج کی تیاریوں اور دفاعی صلاحیتوں پر بھی اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ ملک کو درپیش سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
    ‎ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور خطے کے دیگر فریقوں کے درمیان کشیدگی برقرار ہے، جبکہ مختلف ممالک سفارتی ذرائع سے صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
    ‎دوسری جانب عالمی برادری مسلسل خطے میں تحمل، مذاکرات اور جنگ بندی پر زور دے رہی ہے تاکہ کسی بڑے فوجی تصادم سے بچا جا سکے اور خطے میں امن و استحکام کو فروغ مل سکے۔

  • اٹھارہویں ترمیم ، باریاں لگانے کا منصوبہ تھا ،ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی

    اٹھارہویں ترمیم ، باریاں لگانے کا منصوبہ تھا ،ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی

    مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی نے کہا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم حکومتوں کو طوالت دینے، باریاں لگانے کا منصوبہ تھا اسکے ساتھ وفاق کو بھی کمزور کیا گیا صوبے بھی عوام کو حق دینے میں ناکام رہے، غلطیوں کی اصلاح ہونی چاہئے ،اتفاق رائے سے مسائل حل ہو سکتے ہیں، کسی بھی سیاسی جماعت نے بلدیاتی نظام کو مضبوط نہیں کیا، سڑکوں پر آنے، توڑ پھوڑ سے مسائل حل کرنے کی بجائے ہمیشہ ڈائیلاگ کا راستہ اختیار کرنا چاہئے،

    ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی کا کہنا تھا کہ اٹھارہویں ترمیم میں غلطیاں ہوئیں، یہ ایسی ہڈی ہے جو نہ نگلی جا رہی ہے نہ اگلی جا رہی، جو غلطیاں ہیں،سب مل بیٹھ کر اسکی اصلاح کریں، پیپلز پارٹی پنجاب کے حصے بخرے چاہتی ہے لیکن سندھ میں نئے صوبے بنانے کی اجازت نہیں دیتی، جذباتی باتیں،سڑکوں‌پر آنے کی، توڑ پھوڑ یہ نہیں ہونا چاہئے، اٹھارہویں ترمیم میں تبدیلی کے لئے ڈائیلاگ ہونا چاہئے، صوبوں میں دس دس طرح کے نظام تعلیم ہونے کی بجائے یکساں نصاب تعلیم ہوناچاہئے،پورے ملک میں تعلیم وصحت کی سہولیات کی ایک جیسی فراہمی ہونی چاہئے، ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں کوئی ایک ایسی سیاسی جماعت نہیں جس نے مقامی حکومتوں کو مضبوط اور بااختیار بنایا ہو،بلدیاتی انتخابات صوبوں میں نہیں ہو رہے، ضلع کی سطح پر میئر، ضلع ناظم کو عوامی ووٹوں سے منتخب ہونا چاہئے، گٹروں کے ڈھکن لگوانا یہ وزیراعلیٰ کا کام نہیں،وزیراعلیٰ عوام کوریلیف دیں، مہنگائی ،بے روزگاری کے خاتمے کے لئے کام کریں، مرکزی مسلم لیگ خدمت کی سیاست کر رہی ہے،