Baaghi TV

Blog

  • بھارتی وزیرِ خارجہ جے شنکر یو اے ای کے دورے پر پہنچ گئے

    بھارتی وزیرِ خارجہ جے شنکر یو اے ای کے دورے پر پہنچ گئے

    بھارتی وزیرِ خارجہ جے شنکر یو اے ای کے دورے پر پہنچ گئے

    بھارتی وزیر خارجہ ایس جئے شنکر نے متحدہ عرب امارات کے ڈپٹی پرائم منسٹر اور وزیر خزانہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان سے ابوظہبی میں ملاقات کی۔ اس ملاقات میں دونوں نے علاقائی صورتحال اور اس کے اثرات پر تبادلہ خیال کیا۔ جئے شنکر نے یو اے ای میں مقیم بھارتی کمیونٹی کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے شیخ عبداللہ کا شکریہ ادا کیا اور دونوں ممالک کے درمیان موجود جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید آگے بڑھانے کا اعتماد ظاہر کیا۔

    قبل ازیں بھارتی وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جئے شنکر نے متحدہ عرب امارات کے اپنے دورے کے آغاز پر وہاں موجود بھارتی کمیونٹی کے اراکین سے ملاقات کی۔ انہوں نے مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے باوجود بھارتی شہریوں کی فلاح و بہبود اور سیکیورٹی کے لیے ہندوستانی حکومت کی کوششوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے مشکل حالات میں مقامی معاشرے میں بھارتی کمیونٹی کے قیمتی کردار کی تعریف کی اور متحدہ عرب امارات کی حکومت کی جانب سے بھارتی برادری کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے میں دی گئی حمایت کا بھی شکریہ ادا کیا۔

  • اسلام آباد مذاکرات، صحافیوں کے لیے خصوصی انتظامات،مہمان نوازی

    اسلام آباد مذاکرات، صحافیوں کے لیے خصوصی انتظامات،مہمان نوازی

    اسلام آباد: امریکہ اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات پانچ گھنٹے سے زائد وقت گزرنے کے باوجود جاری ہیں، جبکہ پاکستانی دارالحکومت اسلام آبادمیں موجود ملکی و غیر ملکی صحافی مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ مذاکرات کی اصل سرگرمیاں ایک جانب جاری ہیں، تو دوسری طرف میڈیا نمائندوں کے لیے الگ سے خصوصی سہولیات فراہم کی گئی ہیں تاکہ وہ طویل انتظار کے دوران اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں جاری رکھ سکیں۔

    پاکستان میں مذاکرتی عمل کی کوریج کےلیے غیرملکی میڈیا کے نمائندوں میں مردوں سے زیادہ خواتین صحافیوں کی بڑی تعداد آئی ہے جوکہ خوش آئند بات ہے۔خواتین صحافی اسلام آباد کی خوبصورتی سے بھی متاثر ہورہی ہیں۔
    اسلام آباد کا مشہور جناح کنونشن سینٹر، جہاں عام طور پر ایوارڈ تقریبات، سرکاری تقریبات اور بڑے قومی پروگرام منعقد ہوتے ہیں، اس بار عالمی سفارتی سرگرمیوں کے تناظر میں میڈیا مرکز میں تبدیل ہو چکا ہے۔ یہاں دنیا بھر سے آئے رپورٹرز، اینکرز، پروڈیوسرز اور کیمرہ ٹیمیں موجود ہیں جو مذاکرات کی ہر پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
    اصل مذاکراتی نشستیں سڑک کے دوسری جانب واقع فائیو اسٹار سرینا ہوٹل میں جاری ہیں، تاہم صحافیوں کے لیے جناح کنونشن سینٹر کو مرکزی میڈیا حب بنایا گیا ہے۔طویل مذاکرات کے پیش نظر میڈیا نمائندوں کے لیے کھانے پینے کے بہترین انتظامات کیے گئے ہیں۔ صحافیوں کو مفت کافی مسلسل فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ دوپہر اور رات کے کھانے میں مختلف اقسام کے کھانوں پر مشتمل بوفے بھی موجود ہے۔بوفے میں روایتی سالن، باربی کیو، چاول، سلاد اور دیگر اشیاء شامل ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان نے اس اہم موقع پر مہمان نوازی کا خاص اہتمام کیا ہے۔

    پاکستان کی وزارتِ اطلاعات کا عملہ بھی جناح کنونشن سینٹر میں موجود ہے، جو صحافیوں کو تکنیکی اور انتظامی معاونت فراہم کر رہا ہے۔ ان سہولیات میں انٹرنیٹ، نشریاتی انتظامات، رہنمائی اور دیگر میڈیا ضروریات شامل ہیں تاکہ کوریج کے عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہ آئے۔اس اہم سفارتی عمل کو نمایاں کرنے کے لیے مقام پر خصوصی سفارتی سجاوٹ بھی کی گئی ہے۔ مرکزی ہال میں بڑے بڑے بینرز آویزاں ہیں جن پر “Islamabad Talks” درج ہے، جبکہ امریکہ، پاکستان اور ایران کے جھنڈے ایک ساتھ نمایاں انداز میں رکھے گئے ہیں۔سوشل میڈیا پر توجہ کے لیے کنونشن سینٹر کے فرش پر #IslamabadTalks کا بڑا سائن بھی نصب کیا گیا ہے، جس کے سامنے آرام دہ صوفے رکھے گئے ہیں تاکہ صحافی انتظار کے دوران آرام بھی کر سکیں اور براہِ راست اپ ڈیٹس بھی دیتے رہیں۔

    مبصرین کے مطابق پاکستان نے نہ صرف حساس مذاکرات کی میزبانی کی ہے بلکہ میڈیا مینجمنٹ، سفارتی ماحول اور عالمی صحافیوں کی سہولت کے حوالے سے بھی مثبت تاثر دیا ہے۔ ایک طرف بند کمرے میں مذاکرات جاری ہیں، تو دوسری طرف میڈیا کو منظم اور باوقار انداز میں سہولیات فراہم کرنا پاکستان کی سفارتی تیاری کو ظاہر کرتا ہے۔امریکہ اور ایران کے درمیان جاری ان مذاکرات کو خطے اور دنیا کے لیے غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ اسی وجہ سے عالمی میڈیا کی نظریں اسلام آباد پر جمی ہوئی ہیں، جبکہ ہر نئی پیش رفت کا بے چینی سے انتظار کیا جا رہا ہے۔مذاکرات کے نتائج سامنے آنے تک جناح کنونشن سینٹر میں صحافیوں کی سرگرمیاں، تجزیے اور لائیو اپ ڈیٹس کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔

  • فرانسیسی صدر کا ایرانی ہم منصب سے رابطہ، اسلام آباد مذاکرات سے بھر پور فائدہ اٹھانے پر زور

    فرانسیسی صدر کا ایرانی ہم منصب سے رابطہ، اسلام آباد مذاکرات سے بھر پور فائدہ اٹھانے پر زور

    فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے رابطہ کر کےاسلام آباد میں جاری مذاکرات کے موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے پر زور دیا-۔

    فرانسیسی صدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے ایک بیان میں بتایا کہ ان کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے تفصیلی بات چیت ہوئی ہےانہوں نے ایرانی ہم منصب پر زور دیا کہ اسلام آباد مذاکرات کی صورت میں ملنے والے اس موقع سے فائدہ اٹھایا جائے تاکہ خطے میں کشیدگی میں مستقل کمی کی راہ ہموار کی جا سکے۔

    ان کا کہنا تھا کہ خطے کی سیکیورٹی کے لیے ایک ایسا ٹھوس اور جامع معاہدہ ضروری ہے جس میں تمام متعلقہ ممالک شامل ہوں میکرون نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی اور سیکیورٹی بحال کرے اور کہا کہ فرانس اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

    فرانسیسی صدر نے لبنان کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے جنگ بندی کے مکمل احترام کی اہمیت پر بھی زور دیاانہوں نے لبنانی حکومت کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ فرانس لبنانی حکام کے اقدامات کی مکمل حمایت کرتا ہے صرف لبنانی حکام ہی ریاست کی خود مختاری کا استعمال کرنے اور لبنان کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے قانونی اور آئینی حق دار ہیں۔

    دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ پاکستان میں موجود اعلیٰ سطح وفد ایران کے مفادات کا محافظ ہے اور وہ اسی جذبے کے تحت مذاکرات میں شریک ہے ’ایکس‘ پر پیغام میں انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے نتائج کچھ بھی ہوں، ایران کی ریاست عوام کے ساتھ کھڑی رہے گی۔

  • سعودی عرب اور قطر کی پاکستان کیلئے 5 ارب ڈالر کے مالی تعاون کی یقین دہانی

    سعودی عرب اور قطر کی پاکستان کیلئے 5 ارب ڈالر کے مالی تعاون کی یقین دہانی

    سعودی عرب اور قطر نے پاکستان کو 5 ارب ڈالر کا مالی تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

    ترک خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب اور قطر کی جانب سے فراہم کی اس مالی تعاون سے اسلام آباد کو اپنے کمزور زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم کرنے اور بیرونی ادائیگیوں میں سہولت ملے گی یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کو متحدہ عرب امارات کو 3.5 ارب ڈالر کا قرض بھی واپس کرنا ہے-

    سعودی عرب کے وزیر خزانہ محدم بن عبداللہ نے اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی تھی جس میں اقتصادی تعاون اور علاقائی صورتحال پر تفصیلی بات چیت ہوئی،اس اہم ملاقات میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر خارجہ اسحاق ڈرا بھی موجود تھے اگرچہ اس ملاقات کے بعد کوئی باضابطہ معاہدہ سامنے نہیں آیا لیکن دونوں ممالک کے درمیان مالی معاونت سے متعلق بات چیت شروع ہو چکی ہے۔

    ملاقات میں پاکستان نے سعودی عرب سے مزید مالی امداد کی درخواست کی جس میں موجودہ نقد ڈپازٹس میں اضافہ اور تیل کی سہولت (Oil Financing Facility) کی مدت میں توسیع شامل ہے جو رواں ماہ کے آخر میں ختم ہونے والی ہے،ملاقات کا محور اقتصادی تعاون اور سعودی عرب و متحدہ عرب امارات کے درمیان حالیہ کشیدگی کے تناظر میں علاقائی صورتحال رہی۔

    سعودی عرب اور قطر نے پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی معاونت کی یقین دہانی کرائی ہے جس سے پاکستان کو کمزور زرِ مبادلہ ذخائر پر دباؤ کم کرنے اور بیرونی ادائیگیاں کرنے میں مدد ملے گی ایک سینیئر پاکستانی اہلکار کے مطابق پاکستان اپریل کے اختتام تک متحدہ عرب امارات کو 3.5 ارب ڈالر کا قرض واپس کرے گا کیونکہ ابوظبی نے فوری ادائیگی کی درخواست کی ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اس وقت تقریباً 16.4 ارب ڈالر ہیں تاہم بڑھتے ہوئے درآمدی اخراجات اور بیرونی ادائیگیوں کے باعث دباؤ برقرار ہے پاکستان مختلف بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مالی تعاون اور آئندہ اہم مالی اجلاسوں کے لیے بھی رابطے میں ہے۔

  • اسرائیلی وزیراعظم کی امریکا ایران مذاکرات سبوتاژ کرنے کی کوشش

    اسرائیلی وزیراعظم کی امریکا ایران مذاکرات سبوتاژ کرنے کی کوشش

    اسرائیلی وزیراعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا ہے کہ اسرائیل ان کی قیادت میں ایران کے “دہشت گرد نظام” اور اس کے اتحادی گروہوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھاتا رہے گا۔

    اسرائیلی وزیراعظم نے اپنے بیان میں ترک صد رجب طیب اردگان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ وہ ایران کے حمایتی عناصر کو جگہ دیتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کرد شہریوں کے خلاف کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے ترک قیادت پر سخت تنقید کی۔

    یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے، جبکہ خطے میں سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔پاکستان میں امریکا اور ایران کے مابین مذاکرات ہو رہے ہیں مبصرین کے مطابق اس نوعیت کے سخت بیانات سے علاقائی تناؤ میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

  • آج امریکی  بحریہ کے کئی جنگی جہاز  آبنائے  ہرمز  سے گزرے  ہیں،امریکی ویب سائٹ

    آج امریکی بحریہ کے کئی جنگی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں،امریکی ویب سائٹ

    امریکی نیوز ویب سائٹ نے امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہےکہ آج امریکی بحریہ کے کئی جنگی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں۔

    ویب سائٹ کے مطابق یہ واقعہ ایران کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد پہلی بار پیش آیا ہے اور یہ اقدام ایران کے ساتھ کسی قسم کی ہم آہنگی کے بغیرکیا گیا اس کارروائی کا مقصد تجارتی بحری جہازوں کے لیے اعتماد بڑھانا تھا تاکہ وہ اس راستے سے محفوظ طریقے سے گزر سکیں، یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان میں دونوں فریقین کے درمیان امن مذاکرات ہو رہے ہیں۔

    ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ یہ آپریشن بین الاقوامی پانیوں میں آزادانہ بحری آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا، اہلکار کے مطابق امریکی بحری جہاز مشرق سے مغرب کی سمت آبنائے ہرمز سے خلیج کی طرف گئے اور پھر واپس اسی راستے سے گزرتے ہوئے بحیرہ عرب کی طرف روانہ ہوئے۔

    دوسری جانب ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحری جہاز یواے ای کی فجیرہ بندرگاہ سے آبنائے ہرمز روانہ ہوا تھا لیکن ایرانی فورسز کی دھمکی پر امریکی جنگی بحری جہاز واپس لوٹ گیا ایرانی فوج نے اسلام آباد میں وفدکو امریکی جنگی جہاز کی پیش قدمی سے آگاہ کر دیا تھا اور ایران نےثالث کو جنگی جہازکو آگے بڑ ھنے کی صورت میں نشانہ بنانے کے فیصلے سے بھی آگاہ کردیا تھا۔

    تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں ایسی کوئی باضابطہ وارننگ موصول نہیں ہوئی جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اب ہم آبنائے ہرمز کو صاف کرنے کا عمل شروع کر رہے ہیں، ہرمز سے بارودی سرنگوں ہٹانے سے چین، جاپان، جنوبی کوریا، فرانس اور جرمنی بھی مستفید ہوں گے۔

  • اسلام آباد امن مذاکرات، پاکستان نے سفارت کاری کو میڈیا سرکس بننے سے بچا لیا

    اسلام آباد امن مذاکرات، پاکستان نے سفارت کاری کو میڈیا سرکس بننے سے بچا لیا

    اسلام آباد میں جاری اہم امن مذاکرات کے دوران پاکستان نے ایک نہایت محتاط، منظم اور مؤثر حکمتِ عملی اپناتے ہوئے مذاکراتی عمل کو میڈیا سرکس بننے سے محفوظ رکھا۔ اگرچہ بین الاقوامی میڈیا، ملکی صحافیوں اور سوشل میڈیا کی غیر معمولی دلچسپی موجود تھی، تاہم حکام نے اطلاعاتی ماحول کو اس انداز میں سنبھالا کہ تمام توجہ صرف مذاکرات کے اصل مقصد یعنی امن، استحکام اور انسانی جانوں کے تحفظ پر مرکوز رہی۔

    ذرائع کے مطابق پاکستان نے مذاکراتی ٹیموں کو مکمل سکون اور رازداری فراہم کی تاکہ حساس اور اہم معاملات پر سنجیدہ انداز میں گفتگو ممکن ہو سکے۔ حکومتی حکمت عملی کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ کسی قسم کی غیر ضروری میڈیا ہلچل یا قیاس آرائی مذاکراتی عمل پر اثر انداز نہ ہو۔اسلام آباد میں قائم میڈیا سینٹر میں ملکی و غیر ملکی صحافیوں کے لیے آرام دہ اور بہترین سہولیات فراہم کی گئیں، جہاں دنیا بھر سے آئے نمائندے موجود رہے۔ اس مرکز نے نہ صرف صحافیوں کے لیے رابطے اور معلومات کے تبادلے کا ماحول فراہم کیا بلکہ پیشہ ورانہ سرگرمیوں کے لیے بھی مناسب سہولتیں مہیا کیں۔اطلاعات کی فراہمی صرف سرکاری ذرائع اور باضابطہ چینلز کے ذریعے کی گئی، جبکہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں، جھوٹی خبروں اور بے بنیاد اطلاعات کی فوری تردید اور روک تھام کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ حساس مذاکرات میں غیر مصدقہ اطلاعات نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں، اس لیے معلومات کے اجرا میں نظم و ضبط ضروری تھا۔سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات شہ سرخیوں کے لیے نہیں بلکہ امن کے لیے ہیں۔ ایسے مواقع پر خاموش اور سنجیدہ سفارت کاری ہی کامیابی کی بنیاد بنتی ہے۔ماہرین نے پاکستان کے کردار کو ذمہ دارانہ اور بالغ نظر سفارت کاری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے ثابت کیا ہے کہ امن مذاکرات کی کامیابی کے لیے رازداری، تدبر اور بروقت معلوماتی نظم و نسق ناگزیر عناصر ہیں

  • اسلام آباد مذاکرات،پہلامرحلہ ختم،امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان تحریری مسودوں کا تبادلہ

    اسلام آباد مذاکرات،پہلامرحلہ ختم،امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان تحریری مسودوں کا تبادلہ

    اسلام آباد میں جاری امریکہ اور ایران کے درمیان اہم سفارتی مذاکرات کے پہلے مرحلے کے اختتام پر دونوں وفود نے زیرِ بحث امور سے متعلق تحریری مسودوں کا تبادلہ کیا ہے۔ ایرانی حکومت نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ مذاکرات اب “ماہرین کی سطح” میں داخل ہو چکے ہیں، جہاں اقتصادی، عسکری، قانونی اور جوہری معاملات پر خصوصی کمیٹیاں ایک دوسرے کے ساتھ تفصیلی بات چیت کر رہی ہیں۔بیان کے مطابق مذاکرات کا مقصد اب تکنیکی نکات کو حتمی شکل دینا ہے

    اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات کا پہلا دور مکمل، اہم معاملات پر پیشرفت کی اطلاعات ہیں،پہلا مرحلہ دو گھنٹے جاری رہا، کھانے کا وقفہ ہوا، دوبارہ پھر مذاکرات شروع ہوئے، دونوں فریقین نے انتہائی سخت مطالبات سے آغاز کیا، کئی اہم معاملات میں پیشرفت ہوئی، لبنان جنگ بندی، ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی، آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات چیت میں مثبت اشارے ملے،

    ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق اسلام آباد پہنچنے والے ایرانی وفد میں مجموعی طور پر 71 افراد شامل ہیں، جن میں اعلیٰ مذاکرات کار، جوہری ماہرین، قانونی مشیران، میڈیا نمائندگان اور سیکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ امریکی وفد بھی متعلقہ شعبوں کے مکمل ماہرین کے ساتھ پاکستان پہنچا ہے، جبکہ واشنگٹن سے مزید ماہرین بھی آن لائن اور سفارتی سطح پر معاونت فراہم کر رہے ہیں۔امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں، جبکہ ان کے ہمراہ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر کے داماد جیراڈ کشنر بھی موجود ہیں۔وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری فہرست کے مطابق نائب صدر کے قومی سلامتی کے مشیر اینڈریو بیکر اور ایشیائی امور کے خصوصی مشیر مائیکل وینس بھی مذاکرات میں شریک ہیں۔

    ذرائع کے مطابق یہ سہ فریقی مذاکرات امریکہ، ایران اور پاکستان کے درمیان آمنے سامنے جاری ہیں، جہاں پاکستان ثالث اور سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔پاکستانی ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی مذاکراتی عمل میں موجود ہیں، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان اس عمل کو نہایت سنجیدگی سے لے رہا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق مذاکرات اتوار تک بھی جاسکتے ہیں۔اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات خطے اور دنیا بھر کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ ان کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے، اقتصادی پابندیوں کے معاملات حل ہونے اور عالمی توانائی منڈی میں استحکام آنے کی امید کی جا رہی ہے۔

  • پاکستانی افواج کے دستے کی تعیناتی مشترکہ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے،سعودی وزارت دفاع

    پاکستانی افواج کے دستے کی تعیناتی مشترکہ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے،سعودی وزارت دفاع

    سعودی عرب کی وزارتِ دفاع نے ہفتے کے روز اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دونوں برادر ملکوں کے درمیان طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان کی مسلح افواج کا خصوصی دستہ مشرقی صوبے ظہران میں واقع شاہ عبدالعزیز ایئر بیس پہنچ گیا ہے۔

    سعودی وزارتِ دفاع کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان کے مطابق، مشرقی صوبے ظہران پہنچنے والے پاکستان ایئرفورس کے دستے میں لڑاکا اور معاون طیارے شامل ہیں بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ اس تعیناتی کا بنیادی مقصد علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر سلامتی اور استحکام کی حمایت اور دونوں ملکوں کی مسلح افواج کے درمیان مشترکہ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

    دونوں مسلح افواج کے درمیان فوجی ہم آہنگی اور تعاون تاریخ سے جڑا ہوا ہے جسے حال ہی میں SMDA کی شکلدی گئی۔ پاکستانی فوجی دستے کئی دہائیوں سے مملکت میں تعینات ہیں اور مملکت کے دفاع اور سلامتی کے لیے پاکستان کا عزم فولادی اور ناقابل مذاکرات ہے اس فوجی تعیناتی اور اسلام آباد میں ہونے والی سفارتی بات چیت کے درمیان کوئی تعلق پیدا کرنا غیر دانشمندانہ، غیر ضروری اور میرٹ کے بغیر ہے تاہم جو بات واضح ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان اپنی سفارتی طاقت اور فوجی موقف کے ذریعے قریبی پڑوس اور مشرق وسطیٰ میں سلامتی کے معاملات میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی میزبانی میں امریکا اور ایران کے مذاکراتی وفود اسلام آباد میں موجود ہیں ایران کی جانب سے مذاکرات کے لیے مجوزہ نکات میں مشرقِ وسطیٰ خصوصاً خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوج کا انخلا بھی شامل ہے، ایران نے امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں خلیجی ممالک میں موجود فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا تھا اور ان حملوں میں امریکی فوج کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا تھا۔

    واضح رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی اور عسکری تعاون کی ایک مضبوط اور طویل تاریخ ہے۔ دونوں برادر ملکوں نے ستمبر 2025 میں باقاعدہ ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ جس کے تحت نے اس عزم کا اعادہ کیا گیا تھا کہ کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

    پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان عسکری اور دفاعی محاذ کے علاوہ گہرے اقتصادی روابط بھی قائم ہیں پاکستان طویل عرصے سے سعودی عرب کو فوجی تعاون، تربیتی اور مشاورتی خدمات فراہم کرتا آ رہا ہے جب کہ دوسری جانب سعودی عرب نے مشکل معاشی حالات میں بارہا پاکستان کو مدد فراہم کی ہے۔

  • میڈیا کے کچھ حلقے ‘ٹرمپ دشمنی’ میں ایران کی فرضی کامیابیوں کا پرچار کررہے ہیں،امریکی صدر

    میڈیا کے کچھ حلقے ‘ٹرمپ دشمنی’ میں ایران کی فرضی کامیابیوں کا پرچار کررہے ہیں،امریکی صدر

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اس وقت مکمل طور پر شکست کھا چکا ہے،آبنائے ہرمز جلد ہی کھل جائے گا، اور خالی بحری جہاز "لوڈ اپ” کے لیے امریکہ کی طرف بھاگ رہے ہیں، لیکن ‘فیک نیوز’ میڈیا حقائق کے برعکس تصویر کشی کررہا ہے۔

    سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ میڈیا کے کچھ حلقے ‘ٹرمپ دشمنی’ میں مبتلا ہو کر ایران کی فرضی کامیابیوں کا پرچار کررہے ہیں، ایران کی بحریہ، فضائیہ، ریڈار سسٹم اور دفاعی نظام مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے،ڈرونز اور میزائل بنانے والی فیکٹریاں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں اور ایرانی قیادت اب منظر نامے سے غائب ہو چکی ہے۔

    امریکی صدر نے الحمدللہ کے الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہاکہ اب ایران کے پاس دنیا کو ڈرانے کے لیے کچھ نہیں بچا اس وقت سب سے بڑا خطرہ آبنائے ہرمز میں جہاز کے سمندری بارودی سرنگ سے ٹکرا جانا ہے جس سے بڑی تباہی ہوسکتی ہے ایران کی بارودی سرنگیں بچھانے والی تمام 28 کشتیاں سمندر برد ہو چکی ہیں، امریکا اس خطرے کو ختم کرنے کے لیے آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہتا رہا ہے اور یہ دنیا پر ہمارا بڑا احسان ہے۔

    انہوں نے کہا کہ امریکا اب دنیا بھر کے ممالک بشمول چین، جاپان، جنوبی کوریا اور یورپی ممالک کے مفاد میں آبنائے ہرمز کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کا کام شروع کر رہا ہے، کیونکہ ان ممالک میں یہ کام کرنے کی ہمت نہیں تھی۔

    امریکی صدر نے ایک دلچسپ دعویٰ کرتے ہوئے کہاکہ دنیا بھر سے تیل کے خالی بحری جہاز اب امریکا کا رخ کر رہے ہیں تاکہ وہاں سے تیل بھر سکیںانہوں نے اسے امریکی معیشت اور توانائی کی طاقت کی فتح قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ دنیا اب توانائی کے لیے امریکا کی طرف دیکھ رہی ہے۔

    قبل ازیں امریکی حکام نے بتایا تھا کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد ایران نے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے بے ترتیب انداز میں بارودی سرنگیں بچھائیں۔

    امریکی حکام کے بقول ایران نے آبنائے ہرمز میں بچھائی گئیں ان بارودی سرنگوں کے درست مقامات کا ریکارڈ بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں رکھا جب کہ پانی کی لہروں کے باعث کچھ مائنز اپنی جگہ سے سرک یا بہہ گئیں یہی وجہ ہے کہ ایران آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کا مکمل سراغ لگانے میں ناکام ہے اور ایرانی فورسز اسے ہٹانے کی فوری صلاحیت بھی نہیں رکھتیں۔

    امریکی حکام نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ زمینی بارودی سرنگوں کے برعکس بحری سرنگوں کی تنصیب اور پھر ان کو وہاں سے ہٹانا زیادہ مشکل عمل ہے۔ جس میں مہارت اور صلاحیت درکار ہیں۔