اسلام آباد: قومی اسمبلی نے نئے مالی سال کے لیے فنانس بل 2026 کثرت رائے سے منظور کر لیا ہے، جس کے بعد یکم جولائی سے ملک بھر میں نئی ٹیکس اور مالیاتی پالیسی نافذ ہو جائے گی۔ بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی تمام ترامیم کو ایوان نے مسترد کر دیا، جبکہ وفاقی وزیر خزانہ کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو منظوری دے دی گئی۔
فنانس بل کے مطابق سالانہ 6 لاکھ روپے تک آمدن رکھنے والے افراد کو انکم ٹیکس سے استثنا حاصل ہوگا، جبکہ اس سے زائد آمدن والے افراد کے لیے نئے ٹیکس سلیب متعارف کرائے گئے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ نئے نظام کا مقصد ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا اور محصولات میں اضافہ کرنا ہے۔
بل کے تحت ملک بھر میں جائیداد کی خرید و فروخت پر نئے ایڈوانس ٹیکس نافذ کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ یوٹیوب، فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی آمدن پر 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔
فنانس بل میں درآمدی گاڑیوں اور الیکٹرک وہیکلز سے متعلق ڈیوٹی کے نئے ضوابط بھی شامل کیے گئے ہیں۔ بعض اقسام کی گاڑیوں پر ڈیوٹی میں کمی کی گئی ہے، جبکہ مہنگی درآمدی اور بڑی الیکٹرک گاڑیوں پر نئی کسٹم ڈیوٹیز عائد کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔
یکم جولائی سے تمام ٹیکس دہندگان کے لیے انکم ٹیکس ریٹرن صرف آن لائن جمع کرانا لازمی ہوگا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ٹیکس نظام کو مزید شفاف اور مؤثر بنایا جا سکے گا۔
ٹیکس چوری کی روک تھام کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو مزید اختیارات بھی دے دیے گئے ہیں۔ نئے قانون کے مطابق ایف بی آر کے نوٹس پر عمل نہ کرنے، مانیٹرنگ سسٹم کو نقصان پہنچانے یا اسے غیر فعال کرنے والوں کے خلاف بھاری جرمانوں کے ساتھ قید کی سزائیں بھی دی جا سکیں گی۔
فنانس بل میں مختلف فلاحی اداروں اور ویلفیئر تنظیموں کو ٹیکس میں خصوصی رعایتیں دی گئی ہیں، جبکہ بعض بڑے کاروباری شعبوں اور کمپنیوں پر اضافی ٹیکس عائد کرنے کی منظوری بھی شامل ہے۔
فنانس بل کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس کل صبح 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
Blog
-

قومی اسمبلی سے فنانس بل 2026 منظور، یکم جولائی سے نئے ٹیکس نافذ
-

عائشہ عمر نے اپنی لیک تصاویر کے معاملے پر برسوں بعد خاموشی توڑ دی
پاکستان کی معروف ادکارہ عائشہ عمر نے کہا کہ نجی تصاویر کو اجازت کے بغیر شیئر کرنا کسی کی پرائیویسی اور رضامندی کی خلاف ورزی ہے-
اداکارہ عائشہ عمر نے حال ہی میں بی بی سی کے ساتھ انٹرویو میں بتایا کہ میں اپنی قریبی دوست اداکارہ ماریہ واسطی کے ساتھ تھائی لینڈ میں چھٹیاں گزار رہی تھی جب میری نجی تصاویر لیک ہوگئیں،میں ایک تصویر میں سوئمنگ سوٹ پہنے ہوئے تھی جب کہ دیگر تصاویر میں موسمِ گرما کے لباس اور اسکرٹس میں ملبوس تھی، تصاویر کے منظرِ عام پر آنے کے بعد مجھے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور اس کے منفی اثرات میرے پیشہ ورانہ کیرئیر پر بھی پڑے اس وقت کئی پروڈیوسرز خواتین کے لیے ایک مخصوص سماجی تاثر کو اہمیت دیتے تھے،جس کی وجہ سے مجھے بعض کاموں سے بھی محروم ہونا پڑا۔
عائشہ عمر نے کہا کہ نجی تصاویر کو اجازت کے بغیر شیئر کرنا کسی کی پرائیویسی اور رضامندی کی خلاف ورزی ہے، یہی وجہ ہے کہ میں اب ایک این جی او کے ساتھ مل کر لوگوں کے نجی ڈیٹا اور تصاویر کے غلط استعمال کے خلاف آگاہی مہم میں حصہ لے رہی ہوں ،اتنے برس بعد اس معاملے پر بات کرنے کا مقصد صرف اپنی تکلیف بیان کرنا نہیں بلکہ لوگوں میں یہ شعور اجاگر کرنا بھی ہے کہ کسی کی نجی زندگی میں مداخلت اور اس کی معلومات کو بغیر اجازت عام کرنا مستقبل میں سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
-

مامیا شاہ جعفر اور ارسلان بٹ نے عدالت سے باہر صلح کر لی
پاکستانی اداکارہ مامیا شاہ جعفر اور اداکار ارسلان بٹ کے درمیان جاری قانونی تنازع اختتام کو پہنچ گیا، دونوں فریقین نے عدالت سے باہر معاملہ طے کر لیا۔
اداکارہ مامیا شاہ جعفر، جنہوں نے ڈراموں کالج گیٹ اور میسنی کے ذریعے شوبز کی دنیا میں اپنی شناخت بنائی، وہ اپنی بے باک شخصیت اور کھل کر اظہارِ خیال کرنے کے انداز کے لیے بھی جانی جاتی ہیں کچھ عرصہ قبل ایک انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ انہیں ایک ساتھی فنکار کی جانب سے نامناسب رویے اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا اور یہ واقعہ ڈرامہ میسنی کی شوٹنگ کے دوران پیش آیا تھا۔
بعد ازاں اس معاملے میں اداکار ارسلان بٹ کا نام سامنے آیا، تاہم انہوں نے ابتدا ہی سے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا، معاملہ میڈیا کی سرخیوں میں آنے کے بعد دونوں فریقین کے درمیان قانونی جنگ شروع ہوئی اور ایک دوسرے کو قانونی نوٹسز بھی ارسال کیے گئے۔
اب ارسلان بٹ نے سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان عدالت سے باہر تصفیہ ہو گیا ہے مامیا شاہ جعفر نے اپنے تمام الزامات واپس لے لیے ہیں، جبکہ انہوں نے بھی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) میں درج شکایات اور ہتکِ عزت کے مقدمے سے دستبردار ی اختیار کر لی ہے۔
ارسلان بٹ نے سوشل میڈیا پر تصفیے کے معاہدے کی تفصیلات شیئر کرتے ہوئے عوام اور سوشل میڈیا صارفین سے درخواست کی ہے کہ اس معاملے کو مزید عوامی بحث کا موضوع نہ بنایا جائے۔
دوسری جانب اس پیش رفت پر سوشل میڈیا پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں بعض صارفین کا کہنا ہے کہ قانونی اور مالی معاملات سامنے آنے کے بعد فریقین نے صلح کو ترجیح دی، جبکہ کچھ افراد نے رائے دی کہ ہراسانی سے متعلق مقدمات اکثر کسی حتمی عدالتی فیصلے تک نہیں پہنچ پاتے،کچھ سوشل میڈیا صارفین نے یہ قیاس آرائیاں بھی کیں کہ شاید یہ تنازع کسی آنے والے منصوبے یا پروجیکٹ کی تشہیر کا سبب بن رہا تھا، تاہم اس حوالے سے کسی بھی فریق کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا-
-

خودکار ٹیسلا گاڑی کو حادثہ، 76 سالہ خاتون ہلاک، ایلون مسک کا ردعمل
ریاست ٹیکساس میں ٹیسلا کی ایک خودکار ڈرائیونگ کار بے قابو ہو کرایک گھر سے جا ٹکرائی جس کے نتیجے میں 76 سالہ خاتون ہلاک ہو گئی۔
امریکی نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن کے مطابق 19 جون کو پیش آنے والے حادثے میں ٹیسلا ماڈل 3 سڑک سے نکل کر ایک رہائشی مکان میں جا گھسی، مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ ڈرائیور نے بتایا ہے کہ حادثے کے وقت گاڑی کا خودکار ڈرائیونگ نظام فعال تھا بتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ڈرائیور نشے کی حالت میں نہیں تھا، جو تحقیقا ت میں مکمل تعاون بھی کر رہا ہے۔
دوسری جانب ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک نے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ گاڑی مکمل خودکار ڈرائیونگ موڈ میں نہیں تھی کیونکہ یہ نظام رہائشی علاقوں میں کم رفتار سے چلتا ہے جبکہ حادثہ تیز رفتاری کے سبب پیش آیا، کمپنی کے مصنوعی ذہانت کے شعبے کے نائب صدر اشوک ایلوسوامی نے بھی کہا ہے کہ ڈرائیور نے خود سے ایکسیلیٹر دبا کر ٹیسلا کار کے خودکار نظام کو نظر انداز کیا تھا جس کے باعث گاڑی کی رفتار 73 میل فی گھنٹہ تک پہنچ گئی۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ برس درجنوں واقعات سامنے آنے کے بعد امریکی ریگولیٹرز پہلے ہی ٹیسلا کے خودکار ڈرائیونگ نظام کا جائزہ لے رہے ہیں،گزشتہ سال ٹیسلا گاڑیوں کے سرخ اشارے توڑنے یا مخالف سمت میں جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں جبکہ ٹیسلا کا مؤقف ہے کہ اس کا خودکار ڈرائیونگ نظام انسانی ڈرائیوروں کے مقابلے میں زیادہ محفوظ ہے تاہم امریکی روڈ سیفٹی ریگولیٹرز اس دعوے کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔
-

دنیا کے سب سے زیادہ اور کم پسند کیے جانے والے ممالک کی فہرست جاری،پاکستان کون سی فہرست میں؟
دنیا کے سب سے دوستانہ ممالک ممالک کے بارے میں ایک سروے جاری کیا گیا ہے یہ اعداد و شمار ڈیموکریسی پرسیپشن انڈیکس 2026ءکی جانب سے جاری کئے گئے جس میں 85؍ ممالک کے46ہزار سے زائد افراد سے رائے لی گئی۔
دنیا میں سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے ممالک میں کینیڈا، نیوزی لینڈ، اور جاپان سرفہرست ہیں، جو اپنے اعلیٰ معیارِ زندگی، امن، اور سیاحت کی وجہ سے عالمی سطح پر بہترین ساکھ رکھتے ہیں دوسری جانب، سب سے کم پسند کیے جانے والے ممالک میں شمالی کوریا، افغانستان، اور یمن شامل ہیں، جن کی درجہ بندی سیاسی عدم استحکام، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور پابندیوں کی بنا پر انتہائی کم ہے۔

سوئزرلینڈ اور کینیڈا عالمی درجہ بندی میں مشترکہ طور پر پہلے نمبر پر ہیں جن کا نیٹ پرسیپشن اسکور پلس36؍ ہے سوئس لوگ شائستگی اور احترام کیلئے مشہور ہیں اگرچہ وہ بظاہر کچھ حد تک محتاط یا سنجیدہ نظر آتے ہیں لیکن مہمان نواز ہوتے ہیں کینیڈین باشندوں کو بھی دنیا کے سب سے خوش اخلاق لوگوں میں شمار کیا جاتا ہے، اگرچہ مقامی افراد کے مطابق چھوٹے شہروں اور بڑے شہروں کے تجربات مختلف ہو سکتے ہیں۔
جاپان پلس34؍کے نیٹ پرسیپشن اسکور کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ جاپانی ثقافت میں اوموتے ناشی (Omotenashi) یعنی مہمان نوازی کا تصور بہت اہم ہے، جو مہمانوں کی ضروریات کو پہلے سے سمجھنے اور ان کا خلوص دل سے خیال رکھنے پر مبنی ہے۔
سویڈن پلس 33 کے اسکور کے ساتھ قریب ہی موجود ہے سویڈش لوگ اپنی شائستگی کیلئےمشہور ہیں، اور یہ ملک مسلسل دنیا کے خوش ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔
اٹلی اور ناروے پلس 32کے اسکور کے ساتھ اگلے نمبر پر ہیں ٹاپ15 ممالک میں سے دو تہائی سے زیادہ یورپ میں واقع ہیں اطالوی لوگ اپنی مہمان نوازی، کھانے کے ذریعے تعلقات بنانے اور مقامی ثقافت پر فخر کرنے کیلئےمعروف ہیں۔ ناروے دنیا کے خوش ترین ممالک میں سے ایک سمجھا جاتا ہے اور وہاں کے لوگ اپنی خوش مزاجی دوسروں تک بھی منتقل کرتے ہیں۔
اسپین پلس31؍کے نیٹ پرسیپشن اسکور کے ساتھ اس فہرست میں شامل ہے ہسپانوی لوگ گرم جوش، جذباتی اور ملنسار سمجھے جاتے ہیں وہ اجنبیوں سے بھی جلد گھل مل جاتے ہیں اور سیاحوں کے ساتھ دوستانہ رویہ رکھتے ہیں جبکہ آسٹریلیا، ڈنمارک، نیوزی لینڈ اور فن لینڈ سب پلس 30 کے اسکور کے ساتھ مشترکہ مقام پر ہیں۔
ریاستہائے متحدہ درجہ بندی میں ایک بڑے آؤٹ لیر کے طور پر کھڑا ہے دنیا کی سب سے بڑی معیشت اور اس کے سب سے زیادہ بااثر ممالک میں سے ایک ہونے کے باوجود، اسے -16 کا خالص پرسیپشن اسکور ملتا ہے، جو اسے سروے میں پانچ سب سے کم درجے والے ممالک میں رکھتا ہے۔
اگرچہ امریکہ کے بارے میں عالمی نظریہ ہمیشہ پیچیدہ رہا ہے، جس کی تشکیل امیگریشن، ثقافت اور خارجہ پالیسی سے ہوئی ہے، لیکن گزشتہ دہائی کے دوران یہ خاصی طور پر خراب ہوا ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ انتظامیہ کے تحت (2017-2021، 2025-موجودہ)، سروے نے مسلسل عالمی رائے عامہ کے بگڑتے ہوئے ریاستہائے متحدہ کے بارے میں اور اس پر اعتماد کی عکاسی کی ہے۔
2026 تک، امریکہ خود کو جرمنی، جاپان، یا یہاں تک کہ برطانیہ جیسے ہم عصروں کی کمپنی میں نہیں پاتا ہے۔ اس کے بجائے، اس کا شمار ایران (-17) اور عراق (-13) جیسے ممالک کے قریب ہے، جن دونوں میں امریکہ کے ساتھ دیرینہ جغرافیائی سیاسی تناؤ ہے۔
دنیا بھر میں بدترین سمجھے جانے والے ممالک
منفی تاثر کے اسکور کو حاصل کرنے میں امریکہ تنہا نہیں ہےمنفی اسکور حاصل کرنے والے دیگر ممالک میں :
سعودی عرب(منفی۱)
کولمبیا (منفی 2)
یمن (منفی3)
بنگلہ دیش (منفی3)
لبنان (منفی3)
کیوبا (منفی3)
نائیجیریا (منفی3)
وینزویلا(منفی5)
میانمار (منفی 5)
بیلاروس (منفی5)
پاکستان (منفی9)
روس (منفی11)کوئی بھی ملک اسرائیل سے بدتر نہیں ہے، جس کا نیٹ پرسیپشن سکور -24 ہے۔ غزہ کے ساتھ ساتھ لبنان، شام اور خاص طور پر ایران کے تنازعات کی وجہ سے حالیہ برسوں میں ملک بھر میں تنازعات میں اضافہ ہوا ہے۔
-

ایرانی صدر کا دورہ پاکستان، سفارتی توازن کی کامیاب حکمتِ عملی قرار
اسلام آباد: ایران اور اسرائیل کے درمیان گزشتہ برس ہونے والی جنگ کے بعد خطے کی بدلتی ہوئی سفارتی صورتحال میں پاکستان کا کردار ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ مبصرین کے مطابق پاکستان نے نہ صرف ایران کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات برقرار رکھے بلکہ امریکا کے ساتھ بھی مثبت روابط قائم رکھ کر ایک متوازن سفارتی حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر تھی اور امریکا بھی تنازع میں شامل ہوگیا تھا تو پاکستان کے حوالے سے مختلف خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا۔ بعض حلقوں کا خیال تھا کہ پاکستان کو ایران کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، تاہم بعد کے واقعات نے ان خدشات کو غلط ثابت کیا۔
سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان نے اس دوران اپنے بین الاقوامی روابط کو کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے فروغ کے لیے استعمال کیا۔ تہران میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ مشکل حالات میں پاکستان کی سیاسی اور سفارتی حمایت ایران کے لیے مددگار ثابت ہوئی۔مبصرین کے مطابق یہی وجہ ہے کہ ایرانی صدر مسعود پژشکیان نے جنگ کے بعد اپنے پہلے غیر ملکی دورے کے لیے پاکستان کا انتخاب کیا۔ ان کے دورۂ اسلام آباد کو دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات اور باہمی اعتماد کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔دوسری جانب پاکستان نے امریکا کے ساتھ بھی اپنے تعلقات کو برقرار رکھا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسلام آباد نے خطے کی پیچیدہ صورتحال میں کسی ایک فریق کا حصہ بننے کے بجائے متوازن خارجہ پالیسی اپنائی، جس کے باعث وہ مختلف عالمی طاقتوں کے درمیان رابطے کا ایک اہم مرکز بن کر ابھرا۔سیاسی مبصرین کے مطابق ایرانی صدر کے دورۂ پاکستان سے نہ صرف اسلام آباد اور تہران کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے بلکہ خطے میں سفارتی تعاون اور استحکام کے نئے امکانات بھی پیدا ہوں گے۔
-

امریکی صدر کی جسمانی اور ذہنی صحت میں مسلسل بگاڑ آ رہا ہے، ٹرمپ کی بھتیجی کا دعویٰ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بھتیجی میری ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے چچا کی جسمانی اور ذہنی صحت میں مسلسل بگاڑ آ رہا ہے، جسے مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق میری ٹرمپ نے اپنے ہفتہ وار نیوز لیٹر میں صدر ٹرمپ کی صحت سے متعلق جاری بحث پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مجموعی جسمانی اور نفسیاتی کیفیت تشویش ناک حد تک متاثر ہو رہی ہے انہوں نے صدر ٹرمپ کے طرزِ عمل اور رات گئے سوشل میڈیا پر کی جانے والی سرگرمیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بظاہر وہ ٹھیک دکھائی دیتے ہیں، لیکن نفسیاتی اعتبار سے ان کی حالت مسلسل تنزلی کی جانب بڑھ رہی ہے ٹرمپ اس وقت مسلسل دباؤ اور اپنی ساکھ کو پہنچنے والے نقصان کے احساس سے دوچار ہیں، امریکی صدر کو سب سے زیادہ خوف عوامی تذلیل اور ناکامی کے تاثر سے ہوتا ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے میری ٹرمپ کے الزامات اور دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی ذمہ داریاں مکمل طور پر انجام دے رہے ہیں اور ان کی صحت کے بارے میں کی جانے والی قیاس آرائیاں درست نہیں ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی امریکی میڈیا اور مختلف سرویز میں صدر ٹرمپ کی عمر، ذہنی صلاحیت اور جسمانی فٹنس کے حوالے سے بحث ہوتی رہی ہے تاہم وائٹ ہاؤس متعدد بار سرکاری طبی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے صدر کی صحت کو تسلی بخش قرار دے چکا ہے۔
-

بچوں میں شوگر کی بیماری کو ایک خاص وقت تک روکنے والی پہلی دوا کی منظوری
بیماری کو مؤخر کرنے والی دنیا کی پہلی دوا ٹیپلیزومیب (Teplizumab) کو برطانیہ کے نیشنل ہیلتھ سروس میں استعمال کی منظوری دے دی گئی ہے۔
برطانوی ادارے نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ اینڈ کیئر ایکسی لینس (NICE) نے اس دوا کی منظوری دی بچوں میں ٹائپ 1 ذیابیطس کو ظاہر ہونے سے روکنے والی دنیا کی پہلی دوا Tzield (teplizumab) ہے یہ دوا ان بچوں میں بیماری کو 2 سے 3سال تک روک سکتی ہے جو اس کے ابتدائی مرحلے (اسٹیج 2) میں ہوتے ہیں، جس سے انہیں انسولین کے روزانہ انجیکشنز سے کچھ سال کی مہلت مل جاتی ہے،یہ دوا 8 سال یا اس سے زائد عمر کے بچوں کے لیے منظور کی گئی ہے جن میں بیماری ابتدائی مرحلے (اسٹیج 2) میں تشخیص ہو چکی ہو لیکن علامات ابھی ظاہر نہ ہوئی ہوں۔
یہ دوا مدافعتی نظام (immune system) کو تربیت دیتی ہے کہ وہ لبلبے کے انسولین بنانے والے خلیات پر حملہ نہ کرے، ایف ڈی اے (FDA) کی جانب سے اس کے استعمال کی منظوری کی عمر ۱ سال اور اس سے زائد کے بچوں تک بڑھا دی گئی ہے، یہ دوا 14 دن تک لگاتار نس کے ذریعے (IV drip) دی جاتی ہے، جس کا دورانیہ کم از کم 30 منٹ روزانہ ہوتا ہے، یہ دوا بیماری کے تدارک کے لیے اس وقت موثر ہے جب بچہ اسٹیج 2 (علامات ظاہر ہونے سے پہلے) میں ہو، لہٰذا اسکریننگ نہایت اہم ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے مریضوں کو کئی سال تک معمول کی زندگی گزارنے کا موقع ملے گا اور انہیں بیماری کے مکمل بوجھ کا سامنا کرنے سے قبل اضافی وقت حاصل ہو گا دوا ساز کمپنی سونوفی(Sanofi) کی تیار کردہ دوا جسے Tzield کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، NHS کو رعایتی قیمت پر فراہم کی جائے گی،اگر بیماری کی بروقت تشخیص ممکن ہو تو یہ دوا ہزاروں لوگوں کو کئی سال تک انسولین پر انحصار سے بچا سکتی ہے۔
-

عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمت میں بڑی کمی
سونے کی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں آج قیمتوں میں بڑی کمی ہوئی ہے-
آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق مقامی صرافہ بازاروں میں 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت میں بھی 10 ہزار 400 روپے کی کمی آئی، جس کے نتیجے میں نئی قیمت 4 لاکھ 32 ہزار 236 روپے اور اسی طرح فی 10 گرام سونے کی قیمت 9360 روپے کم ہوکر 3 لاکھ 68 ہزار 985 روپے کی سطح پر آ گئی،دوسری جانب بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج منگل کے روز فی اونس سونے کی قیمت میں 104 ڈالر کا اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں نئی عالمی قیمت 4 ہزار 98 ڈالر فی اونس ہو گئی-
دریں اثنا مقامی سطح پر فی تولہ چاندی کی قیمت 487 روپے کی کمی سے 6ہزار 664 روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 438روپے کی کمی سے 5ہزار 641روپے کی سطح پر آگئی،علاوہ ازیں امریکی گولڈ فیوچرز بھی 2 فیصد کم ہو کر 4,117.70 ڈالر پر آ گئے جبکہ دیگر قیمتی دھاتوں میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی، پلاٹینم 3 فیصد کم ہو کر 1,628.55 ڈالر اور پیلیڈیم 2.9 فیصد کمی کے ساتھ 1,229.28 ڈالر فی اونس پر آ گیا۔
-

فیلڈ مارشل آصف منیر، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کی کوششوں سے آبنائے ہرمز کشیدگی کا خاتمہ،تجزیہ :شہزاد قریشی
وزیر داخلہ محسن نقوی اور متعلقہ اداروں کی حکمتِ عملی سے پاکستان عالمی برادری میں ذمہ دار امن پسند ملک ثابت
سفارتی کامیابی کے بعد اب پاکستان کے لیے داخلی معاشی اصلاحات، بیرونی سرمایہ کاری اور عالمی اقتصادی تعاون ناگزیر
تجزیہ شہزاد قریشی
اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم ہونے، جہاز رانی کی بحالی، تیل و گیس کی عالمی ترسیل کے دوبارہ معمول پر آنے اور امریکہ و ایران کے درمیان سفارتی پیش رفت کو دیکھا جائے تو پاکستان کا کردار بین الاقوامی سطح پر نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے۔ مختلف بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق پاکستان اور قطر نے امریکہ اور ایران کے درمیان رابطوں اور مذاکرات کو آگے بڑھانے میں اہم سفارتی کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی کم کرنے کی راہ ہموار ہوئی۔ پاکستان کی قیادت، بالخصوص فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر، وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی اور دیگر متعلقہ اداروں نے خاموش لیکن مؤثر سفارتکاری کے ذریعے پاکستان کو ایک ذمہ دار اور امن پسند ریاست کے طور پر منوایا۔ عالمی سطح پر یہ تاثر مضبوط ہوا کہ پاکستان صرف اپنے قومی مفادات ہی نہیں بلکہ علاقائی اور عالمی استحکام کے لیے بھی مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔آبنائے ہرمز دنیا کی توانائی سپلائی لائن کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس راستے میں کسی بھی رکاوٹ سے عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں، صنعتوں اور تجارت پر براہِ راست اثر پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بحران کے ٹلنے پر امریکہ، یورپی یونین، خلیجی ممالک اور عالمی منڈیاں اطمینان کا اظہار کر رہی ہیں۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ سفارتی کامیابی کو معاشی کامیابی میں تبدیل کرنے کے لیے پاکستان کو اندرونی اقتصادی اصلاحات، سرمایہ کاری کے فروغ، برآمدات میں اضافے اور گورننس کی بہتری پر توجہ دینا ہوگی۔
بین الاقوامی مبصرین کا خیال ہے کہ پاکستان کی اس سفارتی کامیابی سے سرمایہ کاری، تجارت اور عالمی اعتماد میں اضافہ ہو سکتا ہے، لیکن پائیدار معاشی فوائد کے لیے داخلی استحکام بھی ضروری ہے۔ میری رائے میں اگر پاکستان نے واقعی عالمی امن، علاقائی استحکام اور توانائی کے بحران کو ٹالنے میں مؤثر کردار ادا کیا ہے تو امریکہ، یورپی یونین، خلیجی ممالک اور دیگر عالمی شراکت داروں کو پاکستان کے ساتھ اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری، تجارت اور ترقیاتی منصوبوں میں مزید کردار ادا کرنا چاہیے۔ امن کے لیے کردار ادا کرنے والے ممالک کی حوصلہ افزائی صرف الفاظ سے نہیں بلکہ عملی اقتصادی تعاون سے بھی ہونی چاہیے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں دنیا کو تقسیم کرتی ہیں جبکہ سفارتکاری دنیا کو جوڑتی ہے۔ اگر موجودہ پیش رفت پائیدار ثابت ہوتی ہے تو یہ پاکستان کی حالیہ سفارتی تاریخ کی ایک اہم کامیابی تصور کی جا سکتی ہے۔