Baaghi TV

Blog

  • لاہور ہائیکورٹ،آٹھویں جماعت کی طالبہ سے مبینہ زیادتی ،گرفتار استاد کی ضمانت مسترد

    لاہور ہائیکورٹ،آٹھویں جماعت کی طالبہ سے مبینہ زیادتی ،گرفتار استاد کی ضمانت مسترد

    لاہور ہائیکورٹ کے بہاولپور بینچ نے آٹھویں جماعت کی طالبہ سے مبینہ زیادتی کے مقدمے میں گرفتار اسکول ٹیچر کی ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اہم ریمارکس دیے ہیں۔

    عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ایسے سنگین نوعیت کے مقدمات میں ملزم کی رہائی نہ صرف متاثرہ طالبہ بلکہ دیگر طلبہ و طالبات کے لیے بھی خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگر ملزم کو ضمانت پر رہا کیا گیا تو وہ مستقبل میں دیگر بچوں کی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔عدالتی فیصلے میں تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی بھرتی کے طریقہ کار پر بھی زور دیا گیا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ اساتذہ کی تقرری سے قبل ان کا پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ اور نادرا ریکارڈ لازمی طور پر چیک کیا جائے تاکہ ماضی میں جرائم میں ملوث افراد کو تعلیمی اداروں میں ذمہ داریاں نہ سونپی جائیں۔

    لاہور ہائیکورٹ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اگر ماضی کے مجرموں کو تعلیمی اداروں میں ملازمت دی جاتی رہی تو اسکول اور دیگر تعلیمی مراکز بچوں کے لیے غیر محفوظ ہو جائیں گے۔ عدالت نے بچوں کے تحفظ کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو احتیاطی اقدامات یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔عدالت کے فیصلے کے بعد ملزم بدستور عدالتی تحویل میں رہے گا جبکہ مقدمے کی مزید کارروائی قانون کے مطابق جاری رہے گی۔

  • آئی سی سی نےحاملہ کھلاڑیوں کیلئے نئے اصول متعارف کرادیے

    آئی سی سی نےحاملہ کھلاڑیوں کیلئے نئے اصول متعارف کرادیے

    انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے حمل اور زچگی کے بعد کرکٹ میں واپسی سے متعلق نئے رہنما اصول متعارف کرا دیے ہیں۔

    انگلینڈ میں جاری ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوران جاری کیے گئے ان رہنما اصولوں کا مقصد کھلاڑیوں، کرکٹ بورڈز، کوچز اور طبی عملے کو ایسی عملی رہنمائی فراہم کرنا ہے جس سے ماؤں کے لیے دوبارہ اعلیٰ سطح کی کرکٹ کھیلنا آسان ہو سکے۔

    آئی سی سی کا کہنا ہے کہ خواتین کھلاڑیوں کی صحت اور فلاح و بہبود اس کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اور یہ اقدام خواتین کرکٹ کی ترقی کے لیے جاری پالیسیوں کا اہم حصہ ہے نئی گائیڈ لائنز میں رکن ممالک کو مقامی قوانین کے مطابق اپنی پالیسیاں بنانے میں رہنمائی فراہم کی گئی ہے، جبکہ کھلاڑیوں کو جسمانی اور ذہنی طور پر دوبارہ کھیل کے لیے تیار ہو نے میں مدد دی جائے گی اس مقصد کے لیے 6 مراحل پر مشتمل ایک فریم ورک متعارف کرایا گیا ہے، جس میں تیاری، طبی جائزہ، بحالی، جسمانی ری کنڈیشننگ، کھیل میں واپسی اور مسلسل نگرانی شامل ہیں، یہ نظام بچے کی پیدائش کے بعد ابتدائی بحالی سے لے کر مکمل طور پر کرکٹ میں واپسی تک رہنمائی فراہم کرے گا۔

    آئی سی سی کی میڈیکل ایڈوائزری کمیٹی کی رکن اور آسٹریلوی ٹیم کی ڈاکٹر فلپا اِنج کے مطابق یہ اقدام اس سوچ کو فروغ دیتا ہے کہ بچے کی پیدائش کسی خاتون کرکٹر کے کیریئر کا اختتام نہیں ہونی چاہیے ان ہدایات میں جسمانی بحالی، ذہنی صحت، مرحلہ وار ٹریننگ، کرکٹ کے لیے مخصوص فٹنس اور مسلسل طبی نگرانی جیسے اہم پہلو شامل ہیں رہنما اصولوں میں بچوں کی دیکھ بھال سے متعلق مشورے، کھیل کے مقامات پر فیڈنگ کی مناسب سہولیات، لچکدار ٹریننگ ماحول اور سفری معاونت کی تجاویز بھی شامل کی گئی ہیں۔

    واضح رہے کہ ویسٹ انڈیز کی آفی فلیچر اور پاکستان کی سابق کپتان بسمہ معروف سمیت کئی کھلاڑی زچگی کے بعد بین الاقوامی کرکٹ میں کامیاب واپسی کر چکی ہیں جس سے اس اقدام کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

    ویسٹ انڈیز کی کرکٹر آفی فلیچر اس اقدام کو خواتین کرکٹ کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیا، کہ نئی پالیسیاں کھلاڑیوں کو خاندان اور کیریئر دونوں کو ساتھ لے کر چلنے کا اعتماد فراہم کریں گی، جبکہ مضبوط خاندانی اور پیشہ ورانہ سپورٹ کے ساتھ واپسی ممکن ہے، آئی سی سی ترجمان کے مطابق خوا تین کرکٹ کی تیزی سے ترقی کے پیش نظر یہ ضروری ہے کہ کھلاڑیوں کے لیے ایسا ماحول فراہم کیا جائے جو ان کی زندگی کے ہر مرحلے میں معاون ہو۔

  • ایرانی صدر مسعود پزشکیان پاکستان پہنچ گئے

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان پاکستان پہنچ گئے

    اسلام آباد: ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئے، جہاں ان کے خصوصی طیارے نے پاکستانی سرزمین پر لینڈ کیا۔

    نور خان ایئربیس پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور دیگر اعلیٰ حکام نے ایرانی صدر کا پرتپاک استقبال کیا۔ ایرانی صدر کے ہمراہ وزرا اور اعلیٰ حکام پر مشتمل وفد بھی پاکستان پہنچا ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق دورے کے دوران صدر مسعود پزشکیان صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقاتیں کریں گے، جبکہ دوطرفہ تعلقات، تجارت، توانائی، سرحدی تعاون اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    دورے کے دوران ایرانی صدر پاکستان کی قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے، جن میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ، تجارت، علاقائی صورتحال اور باہمی تعاون کے امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق ایرانی صدر امریکا ایران جنگ کے دوران جنگ بندی اور امن کوششوں میں پاکستان کے کردار پر شکریہ بھی ادا کریں گے۔ایرانی صدر کی صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور عسکری قیادت سے ملاقاتیں شیڈول ہیں، جن میں خطے کی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے معاملات زیرِ بحث آئیں گے۔

    ایرانی صدر جس طیارے پر پاکستان آئے اس کا نام ’میناب‘ ایران میں اسکول پر حملے میں شہید بچوں کے نام پر رکھا گیا ہے،

  • ایک اور زینب،تحریر: بینا علی

    ایک اور زینب،تحریر: بینا علی

    سرگودھا میں سات آٹھ سال کی ایک معصوم بچی دکان پر سودا لینے گئی۔ واپس نہ آئی۔ گھر والوں نے بہت ڈھونڈا۔ سوشل میڈیا پر بھی بتایا۔ پولیس نے دکان کے کیمرے دیکھے۔ بچی اندر جاتے ہوئے نظر آئی باہر آتے ہوئے نہیں۔
    پولیس نے دکان کی تلاشی لی تو اوپر والی منزل سے بوری میں بند لاش ملی۔ یہ اسی بچی کی تھی۔پتا چلا کہ دکان کا ملازم ارسلان یہ سب کر چکا تھا۔ وہ دس سال سے وہاں کام کر رہا تھا۔ اس نے پہلے بچی کے ساتھ زیادتی کی پھر اسے بے دردی سے قتل کر دیا۔ لاش بوری میں ڈال کر اوپر چھپا دی۔پولیس نے ارسلان کو گرفتار کر لیا ہے۔ بچوں کو ان خونی درندوں سے بچانے کے لیے یہ اقدامات بہت ضروری ہیں۔
    1۔ ایسے مجرموں کے فیصلے اتنے کم وقت میں ہوں کہ صدر کو معافی نامہ بھیجنے یا مزید کسی رعایت کی گنجائش نہ رہے۔ مجرم جلد سے جلد اپنے کیفرِ کردار تک پہنچے۔ انصاف کے عمل کو بالکل بھی تاخیر کا شکار نہ کیا جائے۔
    2. اس طرح کے کیس کے فیصلے جلد سے جلد ہونے چاہییں۔ کیونکہ انصاف میں دیر ہونا ماں باپ کے لیے بہت بڑی سولی ہے۔ ایک تو بچے کے ساتھ اتنا ظلم ہو اور اس کے بعد اسے بے دردی سے قتل بھی کر دیا جائے۔
    3. اگر عدالتوں نے تاریخوں پر تاریخیں دینی ہیں تو پھر ہمارے قانون پر تف ہے۔ انصاف جلدی ملے گا تو ہی یہ سلسلہ رکے گا۔
    4. والدین ہوشیار ہو جائیں: سب لوگ اس بات سے آگاہ رہیں کہ اب تو بچے گھروں میں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ بہت قریبی رشتہ داروں سے بھی بچے حادثوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ تو جب باہر کے ماحول میں بچے کو بھیجیں تو اس طرح بالکل بھی بچے کو اکیلا باہر نہ بھیجیں۔ اس معاشرے میں آپ بچی ہو یا بچہ اس کو آپ اس طرح اکیلا نہیں چھوڑ سکتے۔
    اللہ بچی کی مغفرت فرمائے اور ہمیں اپنے بچوں کی حفاظت کی توفیق دے۔ آمین۔

  • ایک بار پھر معاشرہ سوالوں میں ،تحریر: ریحانہ جدون

    ایک بار پھر معاشرہ سوالوں میں ،تحریر: ریحانہ جدون

    مگر اب کی بار کٹہرے میں کوئی ایک فرد کھڑا نہیں ہے۔ آج ہم سب مجرم کی حیثیت سے آمنے سامنے کھڑے ہیں

    یہ سوالات نئے نہیں، مگر ان کی گونج اب پہلے سے زیادہ ہولناک ہے۔جب بھی کوئی حادثہ یا واقعہ ہوتا ہے، ہم بیدار ہو جاتے ہیں۔
    قانون اور اخلاقیات پر بحث شروع ہو جاتی ہے۔ پھر ہم کچھ دنوں میں سب کچھ بھول کر سو جاتے ہیں۔
    کیا ہم واقعی ایک زندہ اور سوچنے والا معاشرہ ہیں؟
    یا صرف ایسے واقعات پر ماتم کرنا ہماری عادت بن چکا ہے؟
    مگر اب کی بار کٹہرے میں کوئی ایک فرد کھڑا نہیں ہے۔آج ہم سب مجرم کی حیثیت سے آمنے سامنے کھڑے ہیں۔
    ہم ہر المیے کو ایک سیاسی یا سماجی تماشا بنا دیتے ہیں۔
    یہ تحریر اسی آئینے کو صاف کرنے کی ایک کوشش ہے۔
    لیکن اب کی بار ان سوالوں کا بوجھ سرگودھا کی اس معصوم بچی کے جنازے سے بھی بھاری ہے۔
    وہ معصوم، جو اپنے ننھے ہاتھوں میں کچھ پیسے لیے کسی دکان پر سودا لینے گئی تھی۔اسے کیا معلوم تھا کہ گلی کا وہی راستہ اس کی زندگی کا آخری سفر بن جائے گا۔
    ہم کیسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں بچے چیز لینے نکلیں تو لاشیں بن کر لوٹتے ہیں؟
    زینب سے لے کر منتہا تک یہ خونی سلسلہ آخر کب تھمے گا؟
    میرا یہ یہ کالم صرف ایک حادثے کا ماتم نہیں بلکہ ہماری اجتماعی بے حسی کا ماتم ہے
    سرگودھا کے بلاک نمبر 8 میں جو ہوا، وہ کسی ایک درندے کی وحشت نہیں ہے وہ اس گلے سڑے نظام اور بیمار ذہنیت کا کڑوا پھل ہے جسے ہم روز پالتے ہیں۔
    ںسرگودھا میں 8 سالہ معصوم بچی منتہا کے ساتھ پیش آنے والا دل دہلا دینے والا واقعہ نہ صرف ایک جرم بلکہ پورے معاشرے کی ناکامی ہے۔
    ایک معصوم بچی گھر کے قریب دکان پر گئی اور واپس نہیں آئی
    CCTV
    کی مدد سے
    اور پولیس بروقت ایکشن سے دو ملزمان گرفتار ہوئے اگر پولیس نے بروقت رسپانس نہیں کیا ہوتا تو ملزم منتہا کی لاش ٹھکانے لگا چکے ہوتے۔۔
    یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ زینب، نور اور اب منتہا ۔۔۔
    ہر بار ہم احتجاج کرتے ہیں، مگر نظام میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آتی۔
    ایک معصوم بچی کا اس طرح کا انجام پورے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے۔
    معصوم منتہا جیسے بچے ہمارے مستقبل ہیں
    ہم اپنے بچوں کو محفوظ ماحول بھی نہیں دے پا رہے
    یہ واقعہ صرف ایک مجرم کا جرم نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی ناکامی ہے
    جہاں قانون سست، معاشرہ بے حس اور نظام جواب دہ نہیں۔

    کیا ہمارا قانون ایسے درندوں کو سرے عام سزا دے سکتا ہے؟
    کیا ہماری بچیاں گھر کے قریب بھی محفوظ ہیں؟

    اب وقت آ گیا ہے کہ ہم جذبات کے ساتھ ساتھ اس کا حل بھی تلاش کریں۔
    بچوں کے تحفظ کے لیے سخت قوانین، فوری انصاف اور والدین کی ذمہ داری ۔۔۔
    یہ سب مل کر ہی کام کر سکتے ہیں۔
    اللہ ہم سب کے بچوں کو اس طرح کے سانحات سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

  • ایم کیو ایم کے مطالبات، وزیراعظم کی کمیٹی بنانے کی ہدایت

    ایم کیو ایم کے مطالبات، وزیراعظم کی کمیٹی بنانے کی ہدایت

    اسلام آباد میں وزیراعظم سے ایم کیو ایم پاکستان کے وفد کی اہم ملاقات ہوئی، جس میں پارٹی کی جانب سے شہری سندھ سے متعلق مختلف مطالبات اور آئینی امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

    ملاقات میں ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی، مصطفیٰ کمال، فاروق ستار اور امین الحق شریک ہوئے، جبکہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور رانا ثناء اللہ بھی موجود تھے۔ایم کیو ایم ذرائع کے مطابق وفد نے وزیراعظم کے سامنے چار اہم نکات پیش کیے۔ پارٹی نے شہری علاقوں کے لیے خصوصی ترقیاتی پیکج کا مطالبہ کیا اور بلدیاتی حکومتوں سے متعلق مجوزہ آئینی ترمیم پر بھی اپنے تحفظات اور تجاویز پیش کیں۔ذرائع کے مطابق ملاقات میں سندھ کی گورنرشپ، بلدیاتی اختیارات اور ایم کیو ایم کے لاپتا کارکنان کی بازیابی کے معاملات بھی زیرِ بحث آئے۔ وفد نے لاپتا کارکنان کے مسئلے کے حل کے لیے حکومتی سطح پر مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے ایم کیو ایم کے مجوزہ آئینی بل کا جائزہ لینے اور لاپتا کارکنان کے معاملے پر ایک خصوصی کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ ملاقات کو وفاقی حکومت اور ایم کیو ایم پاکستان کے درمیان جاری سیاسی رابطوں میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

  • 7 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی اور قتل کا ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک

    7 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی اور قتل کا ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک

    سرگودھا میں سات سال کی معصوم بچی منتہی کے ساتھ مبینہ طور پر زیادتی اور پھر اسے بے دردی سے قتل کرنے والا مرکزی ملزم ارسلان پولیس مقابلے کے دوران ہلاک ہو گیا-

    اہل خانہ کے مطابق دوسری جماعت کی طالبہ 7 سالہ منتہی چند روز قبل اپنے گھر سے قریبی دکان پر کھانے پینے کی کوئی چیز لینے کے لیے نکلی تھی لیکن پھر واپس نہیں آئی جب بچی دکان سے لاپتا ہوئی تو انہوں نے اس کی تلاش شروع کی، جس کے بعد دکان کے اوپر بنے کمرے سے اس کی بے جان لاش ملی،رات گئے معصوم منتہا کی نمازِ جنازہ سرگودھا کے مرکزی قبرستان میں ادا کی گئی، جس میں شہریوں اور رشتہ داروں کی ایک بہت بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ بچی کو دکان پر کام کرنے والے ملازم ورغلا کر اپنے ساتھ لے گئے تھے ا واقعے نے پورے علاقے میں کہرام مچا دیا اور شہریوں میں شدید غم و غصہ پھیل گیا واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ڈی پی او صہیب اشرف کی خصوصی ہدایت پر ایک چھ رکنی تفتیشی ٹیم بنائی گئی تھی جس نے ملزم کی تلاش کے لیے مختلف جگہوں پر چھاپے مارنے شروع کیے،اسی دوران پولیس نے دکان کے مالک حنیف، اس کے بیٹے اور دیگر مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر ان سے تفتیش کا عمل شروع کیا اور ملزم ارسلان کے پرانے مجرمانہ ریکارڈ کی جانچ پڑتال بھی شروع کر دی گئی تھی،جو بعد ازاں پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گیا-

  • ایرانی صدر کا دورہ پاکستان،اسلام آباد کی سفارتی اہمیت بڑھ گئی

    ایرانی صدر کا دورہ پاکستان،اسلام آباد کی سفارتی اہمیت بڑھ گئی

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان آج پاکستان کے ایک روزہ اہم دورے پر اسلام آباد پہنچ رہے ہیں، جہاں وہ ملکی اعلیٰ سیاسی و حکومتی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورتحال کے تناظر میں یہ صدر پزشکیان کا پہلا غیر ملکی دورہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    الجزیرہ کی خصوصی رپورٹ کے مطابق یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان 60 روزہ فریم ورک پر پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کا مقصد ایک جامع اور حتمی معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے۔رپورٹ کے مطابق ایرانی صدر اپنے دورہ پاکستان کے دوران وزیرِ اعظم شہباز شریف، صدر آصف علی زرداری، سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ ملاقاتوں میں دوطرفہ تجارت، توانائی کے شعبے میں تعاون، سرحدی سیکیورٹی، علاقائی روابط اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ حالیہ سفارتی سرگرمیوں کے دوران پاکستان نے ثالثی اور رابطہ کاری کے کردار کے ذریعے خطے میں اپنی اہمیت کو مزید مستحکم کیا ہے، جس کے باعث اس کی سفارتی حیثیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ایران نے بھی پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے اسے ایک اہم سفارتی شراکت دار قرار دیا ہے۔

    حالیہ برسوں میں پاکستان اور ایران کے تعلقات میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور سیکیورٹی تعاون کے مختلف شعبوں میں روابط مزید مضبوط ہوئے ہیں۔یاد رہے کہ 2015 کے جوہری معاہدے کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر متعدد پابندیاں قبول کی تھیں، تاہم 2018 میں امریکا کی جانب سے معاہدے سے علیحدگی کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں دوبارہ کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔تجزیہ کاروں کے مطابق صدر مسعود پزشکیان کا یہ دورہ نہ صرف ایران کے لیے عالمی سطح پر سیاسی حمایت اور معاشی مواقع بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے بلکہ پاکستان کے لیے بھی خطے میں ایک ذمہ دار اور مؤثر سفارتی کردار ادا کرنے کے تاثر کو مزید مضبوط بنانے کا موقع فراہم کرے گا۔

  • معاشرتی رویے اور ہماری ذمہ داری ،تحریر :نور فاطمہ

    معاشرتی رویے اور ہماری ذمہ داری ،تحریر :نور فاطمہ

    معاشرہ افراد کے مجموعے کا نام ہے اور اس کی ترقی یا زوال کا دارومدار لوگوں کے رویوں پر ہے۔ رویہ انسان کی تربیت، اخلاق اور سوچ کا عکس ہوتا ہے۔ مثبت رویے معاشرے کو جوڑتے ہیں جبکہ منفی رویے اسے توڑ دیتے ہیں۔

    ہمارے معاشرے میں آج دو طرح کے رویے عام ہیں۔ ایک وہ لوگ جو محبت، برداشت، تعاون اور عزت کو اپناتے ہیں۔ وہ دوسروں کی بات سنتے ہیں، کمزور کا سہارا بنتے ہیں اور چھوٹی بات پر جھگڑا نہیں کرتے۔ یہی لوگ معاشرے کی اصل بنیاد ہیں۔ دوسری طرف وہ رویے ہیں جو عدم برداشت، حسد، بدتمیزی اور خود غرضی پر مبنی ہیں۔ ٹریفک میں گالی گلوچ، قطار توڑنا، سوشل میڈیا پر کسی کی تضحیک کرنا اور اختلاف رائے کو دشمنی سمجھنا اب عام ہو چکا ہے۔ ایسے رویے معاشرے کے امن کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

    انسان کا رویہ یکدم نہیں بنتا۔ اس کی تشکیل میں گھر، اسکول اور میڈیا تینوں کا کردار ہے۔ بچہ سب سے پہلے گھر سے سیکھتا ہے۔ اگر والدین ایک دوسرے سے عزت سے پیش آئیں، سچ بولیں اور مہمان نوازی کریں تو بچہ بھی وہی اپنائے گا۔ اسکول میں استاد کا کام صرف کتاب پڑھانا نہیں بلکہ کردار بنانا بھی ہے۔ افسوس کہ آج تعلیم صرف ڈگری تک محدود رہ گئی ہے۔ اخلاق اور تہذیب پیچھے رہ گئے ہیں۔ تیسرا استاد میڈیا ہے۔ جو مواد ہم روز دیکھتے ہیں وہی ہمارے لاشعور میں بیٹھ جاتا ہے۔ نفرت، طنز اور فیک نیوز نے ہمارے صبر کو کم کر دیا ہے۔

    رویوں کی خرابی کی بڑی وجہ "میں” کا بڑھ جانا ہے۔ ہم دوسروں کو نیچا دکھا کر خود کو اونچا سمجھتے ہیں۔ برداشت ختم ہو گئی ہے۔ تھوڑی سی مخالفت پر ہم لڑنے مرنے پر آ جاتے ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری اور ناانصافی نے لوگوں کو چڑچڑا کر دیا ہے، مگر یاد رکھیں کہ رویہ حالات سے زیادہ ہمارے انتخاب سے بنتا ہے۔

    اصلاح کی شروعات خود سے کرنی ہوگی۔ مسکرا کر بات کرنا، شکریہ اور معذرت کہنا، بزرگوں کا احترام کرنا، چھوٹوں سے شفقت کرنا اور دوسرے کے احساس کو سمجھنا – یہ چھوٹے عمل ہی بڑی تبدیلی لاتے ہیں۔ جب ہر شخص دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرے گا تو معاشرہ خود بخود بہتر ہو جائے گا۔

    قومیں اینٹ پتھر سے نہیں بنتیں، رویوں سے بنتی ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان پرامن، ترقی یافتہ اور عزت دار ملک بنے تو ہمیں اپنا رویہ بدلنا ہوگا۔ کیونکہ دنیا ہمیشہ ویسی ہی بنتی ہے جیسے ہم ہوتے ہیں۔

  • جسٹس حسن اظہر رضوی نےوفاقی آئینی عدالت  کے قائم مقام چیف جسٹس کا حلف اٹھا لیا

    جسٹس حسن اظہر رضوی نےوفاقی آئینی عدالت کے قائم مقام چیف جسٹس کا حلف اٹھا لیا

    جسٹس حسن اظہر رضوی نے قائم مقام چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت کے عہدے کا حلف اٹھا لیا، حلف برداری کی تقریب کراچی رجسٹری میں منعقد ہوئی-

    اس حوالے سے جاری اعلامیے کے مطابق جسٹس کے کے آغا خان نے جسٹس حسن اظہر رضوی سے قائم مقام چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت کے عہدے کا حلف لیا تقریب میں عدالتی شخصیات اور متعلقہ حکام نے شرکت کی،چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان سرکاری دورے پر روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں موجود ہیں، جہاں وہ بین الاقوامی قانونی فورم میں شرکت کر رہے ہیں۔

    وفاقی آئینی عدالت کے اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس امین الدین خان کی غیر موجودگی میں جسٹس حسن اظہر رضوی قائم مقام چیف جسٹس کے فرائض انجام دیں گے اور عدالتی امور کی نگرانی کریں گے بین الاقوامی قانونی فورم عدالتی تعاون، آئینی اور قانونی امور پر عالمی سطح کے مکالمے کے فروغ کے لیے منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں مختلف ممالک کے قانونی اور عدالتی ماہرین شرکت کر رہے ہیں۔