Baaghi TV

Blog

  • اسلام آباد مذاکرات،پہلامرحلہ ختم،امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان تحریری مسودوں کا تبادلہ

    اسلام آباد مذاکرات،پہلامرحلہ ختم،امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان تحریری مسودوں کا تبادلہ

    اسلام آباد میں جاری امریکہ اور ایران کے درمیان اہم سفارتی مذاکرات کے پہلے مرحلے کے اختتام پر دونوں وفود نے زیرِ بحث امور سے متعلق تحریری مسودوں کا تبادلہ کیا ہے۔ ایرانی حکومت نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ مذاکرات اب “ماہرین کی سطح” میں داخل ہو چکے ہیں، جہاں اقتصادی، عسکری، قانونی اور جوہری معاملات پر خصوصی کمیٹیاں ایک دوسرے کے ساتھ تفصیلی بات چیت کر رہی ہیں۔بیان کے مطابق مذاکرات کا مقصد اب تکنیکی نکات کو حتمی شکل دینا ہے

    اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات کا پہلا دور مکمل، اہم معاملات پر پیشرفت کی اطلاعات ہیں،پہلا مرحلہ دو گھنٹے جاری رہا، کھانے کا وقفہ ہوا، دوبارہ پھر مذاکرات شروع ہوئے، دونوں فریقین نے انتہائی سخت مطالبات سے آغاز کیا، کئی اہم معاملات میں پیشرفت ہوئی، لبنان جنگ بندی، ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی، آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات چیت میں مثبت اشارے ملے،

    ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق اسلام آباد پہنچنے والے ایرانی وفد میں مجموعی طور پر 71 افراد شامل ہیں، جن میں اعلیٰ مذاکرات کار، جوہری ماہرین، قانونی مشیران، میڈیا نمائندگان اور سیکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ امریکی وفد بھی متعلقہ شعبوں کے مکمل ماہرین کے ساتھ پاکستان پہنچا ہے، جبکہ واشنگٹن سے مزید ماہرین بھی آن لائن اور سفارتی سطح پر معاونت فراہم کر رہے ہیں۔امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں، جبکہ ان کے ہمراہ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر کے داماد جیراڈ کشنر بھی موجود ہیں۔وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری فہرست کے مطابق نائب صدر کے قومی سلامتی کے مشیر اینڈریو بیکر اور ایشیائی امور کے خصوصی مشیر مائیکل وینس بھی مذاکرات میں شریک ہیں۔

    ذرائع کے مطابق یہ سہ فریقی مذاکرات امریکہ، ایران اور پاکستان کے درمیان آمنے سامنے جاری ہیں، جہاں پاکستان ثالث اور سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔پاکستانی ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی مذاکراتی عمل میں موجود ہیں، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان اس عمل کو نہایت سنجیدگی سے لے رہا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق مذاکرات اتوار تک بھی جاسکتے ہیں۔اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات خطے اور دنیا بھر کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ ان کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے، اقتصادی پابندیوں کے معاملات حل ہونے اور عالمی توانائی منڈی میں استحکام آنے کی امید کی جا رہی ہے۔

  • پاکستانی افواج کے دستے کی تعیناتی مشترکہ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے،سعودی وزارت دفاع

    پاکستانی افواج کے دستے کی تعیناتی مشترکہ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے،سعودی وزارت دفاع

    سعودی عرب کی وزارتِ دفاع نے ہفتے کے روز اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دونوں برادر ملکوں کے درمیان طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان کی مسلح افواج کا خصوصی دستہ مشرقی صوبے ظہران میں واقع شاہ عبدالعزیز ایئر بیس پہنچ گیا ہے۔

    سعودی وزارتِ دفاع کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان کے مطابق، مشرقی صوبے ظہران پہنچنے والے پاکستان ایئرفورس کے دستے میں لڑاکا اور معاون طیارے شامل ہیں بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ اس تعیناتی کا بنیادی مقصد علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر سلامتی اور استحکام کی حمایت اور دونوں ملکوں کی مسلح افواج کے درمیان مشترکہ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

    دونوں مسلح افواج کے درمیان فوجی ہم آہنگی اور تعاون تاریخ سے جڑا ہوا ہے جسے حال ہی میں SMDA کی شکلدی گئی۔ پاکستانی فوجی دستے کئی دہائیوں سے مملکت میں تعینات ہیں اور مملکت کے دفاع اور سلامتی کے لیے پاکستان کا عزم فولادی اور ناقابل مذاکرات ہے اس فوجی تعیناتی اور اسلام آباد میں ہونے والی سفارتی بات چیت کے درمیان کوئی تعلق پیدا کرنا غیر دانشمندانہ، غیر ضروری اور میرٹ کے بغیر ہے تاہم جو بات واضح ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان اپنی سفارتی طاقت اور فوجی موقف کے ذریعے قریبی پڑوس اور مشرق وسطیٰ میں سلامتی کے معاملات میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی میزبانی میں امریکا اور ایران کے مذاکراتی وفود اسلام آباد میں موجود ہیں ایران کی جانب سے مذاکرات کے لیے مجوزہ نکات میں مشرقِ وسطیٰ خصوصاً خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوج کا انخلا بھی شامل ہے، ایران نے امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں خلیجی ممالک میں موجود فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا تھا اور ان حملوں میں امریکی فوج کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا تھا۔

    واضح رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی اور عسکری تعاون کی ایک مضبوط اور طویل تاریخ ہے۔ دونوں برادر ملکوں نے ستمبر 2025 میں باقاعدہ ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ جس کے تحت نے اس عزم کا اعادہ کیا گیا تھا کہ کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

    پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان عسکری اور دفاعی محاذ کے علاوہ گہرے اقتصادی روابط بھی قائم ہیں پاکستان طویل عرصے سے سعودی عرب کو فوجی تعاون، تربیتی اور مشاورتی خدمات فراہم کرتا آ رہا ہے جب کہ دوسری جانب سعودی عرب نے مشکل معاشی حالات میں بارہا پاکستان کو مدد فراہم کی ہے۔

  • میڈیا کے کچھ حلقے ‘ٹرمپ دشمنی’ میں ایران کی فرضی کامیابیوں کا پرچار کررہے ہیں،امریکی صدر

    میڈیا کے کچھ حلقے ‘ٹرمپ دشمنی’ میں ایران کی فرضی کامیابیوں کا پرچار کررہے ہیں،امریکی صدر

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اس وقت مکمل طور پر شکست کھا چکا ہے،آبنائے ہرمز جلد ہی کھل جائے گا، اور خالی بحری جہاز "لوڈ اپ” کے لیے امریکہ کی طرف بھاگ رہے ہیں، لیکن ‘فیک نیوز’ میڈیا حقائق کے برعکس تصویر کشی کررہا ہے۔

    سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ میڈیا کے کچھ حلقے ‘ٹرمپ دشمنی’ میں مبتلا ہو کر ایران کی فرضی کامیابیوں کا پرچار کررہے ہیں، ایران کی بحریہ، فضائیہ، ریڈار سسٹم اور دفاعی نظام مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے،ڈرونز اور میزائل بنانے والی فیکٹریاں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں اور ایرانی قیادت اب منظر نامے سے غائب ہو چکی ہے۔

    امریکی صدر نے الحمدللہ کے الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہاکہ اب ایران کے پاس دنیا کو ڈرانے کے لیے کچھ نہیں بچا اس وقت سب سے بڑا خطرہ آبنائے ہرمز میں جہاز کے سمندری بارودی سرنگ سے ٹکرا جانا ہے جس سے بڑی تباہی ہوسکتی ہے ایران کی بارودی سرنگیں بچھانے والی تمام 28 کشتیاں سمندر برد ہو چکی ہیں، امریکا اس خطرے کو ختم کرنے کے لیے آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہتا رہا ہے اور یہ دنیا پر ہمارا بڑا احسان ہے۔

    انہوں نے کہا کہ امریکا اب دنیا بھر کے ممالک بشمول چین، جاپان، جنوبی کوریا اور یورپی ممالک کے مفاد میں آبنائے ہرمز کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کا کام شروع کر رہا ہے، کیونکہ ان ممالک میں یہ کام کرنے کی ہمت نہیں تھی۔

    امریکی صدر نے ایک دلچسپ دعویٰ کرتے ہوئے کہاکہ دنیا بھر سے تیل کے خالی بحری جہاز اب امریکا کا رخ کر رہے ہیں تاکہ وہاں سے تیل بھر سکیںانہوں نے اسے امریکی معیشت اور توانائی کی طاقت کی فتح قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ دنیا اب توانائی کے لیے امریکا کی طرف دیکھ رہی ہے۔

    قبل ازیں امریکی حکام نے بتایا تھا کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد ایران نے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے بے ترتیب انداز میں بارودی سرنگیں بچھائیں۔

    امریکی حکام کے بقول ایران نے آبنائے ہرمز میں بچھائی گئیں ان بارودی سرنگوں کے درست مقامات کا ریکارڈ بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں رکھا جب کہ پانی کی لہروں کے باعث کچھ مائنز اپنی جگہ سے سرک یا بہہ گئیں یہی وجہ ہے کہ ایران آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کا مکمل سراغ لگانے میں ناکام ہے اور ایرانی فورسز اسے ہٹانے کی فوری صلاحیت بھی نہیں رکھتیں۔

    امریکی حکام نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ زمینی بارودی سرنگوں کے برعکس بحری سرنگوں کی تنصیب اور پھر ان کو وہاں سے ہٹانا زیادہ مشکل عمل ہے۔ جس میں مہارت اور صلاحیت درکار ہیں۔

  • اقوام متحدہ کا پاکستان کی ثالثی میں امریکا ایران مذاکرات کا خیرمقدم

    اقوام متحدہ کا پاکستان کی ثالثی میں امریکا ایران مذاکرات کا خیرمقدم

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے مابین شروع ہونے والے مذاکرات کو ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے اس کا خیر مقدم کیا ہے۔

    یو این ترجمان اسٹیفن دوجارک کے مطابق سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ نے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ خلوصِ نیت کے ساتھ ان مذاکرات کو آگے بڑھائیں سیکریٹری جنرل نے ان مذاکرات کو خطے میں امن کی جانب ایک ‘اہم پیش رفت’ قرار دیا ہے انہوں نے فریقین کو مشورہ دیا ہے کہ اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھایا جائے اور تعمیری بات چیت کے ذریعے ایک ایسے جامع معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کی جائے جو پائیدار ثابت ہو۔

    واضح رہے کہ یہ تاریخی مذاکرات پاکستان کی میزبانی اور ثالثی میں اسلام آباد میں منعقد ہو رہے ہیں، جس کا بنیادی مقصد تہران اور واشنگٹن کے درمیان حالیہ شدید کشیدگی کو ختم کرنا اور سفارتی حل تلاش کرنا ہے،مریکا اور ایران کے درمیان پاکستان میں مذاکرات جاری ہیں دنیا بھر کی توجہ اس وقت اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات پر مرکوز ہے، کیوں کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے براہِ راست اثرات دنیا بھر کی مارکیٹوں خصوصاً تیل کی عالمی منڈی پر مرتب ہوئے ہیں۔

    امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے نکات میں سب سے اہم نکتہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر جہازوں کی آمد و رفت پر عائد پابندی ختم کروانا ہے، جو صرف امریکا کا ہی نہیں بلکہ یورپ سمیت مختلف ممالک کا سب سے اہم مطالبہ ہے-

  • اسحاق ڈار سے ایرانی مرکزی بینک کے گورنر کی اہم ملاقات

    اسحاق ڈار سے ایرانی مرکزی بینک کے گورنر کی اہم ملاقات

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے ایرانی مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی کی اسلام آباد میں امن مذاکرات کے دوران ملاقات ہوئی ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان مستقل مکالمے کا تسلسل وقت کی اہم ضرورت ہے،نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور ڈاکٹر عبدالناصر ہمتی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام ہی وہ بنیاد ہے جس پر معاشی تعاون اور مشترکہ ترقی کی عمارت کھڑی کی جا سکتی ہے۔

    دونوں رہنماؤں کا کہنا تھا کہ علاقائی ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے پرامن ماحول ناگزیر ہے ملاقات میں اسلام آباد میں جاری سفارتی کوششوں اور ‘اسلام آباد ٹاکس’ کی اہمیت کو سراہا گیا، جو خطے میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ کی عکاسی کرتی ہیں-

  • اسلام آباد مذاکرات:ایرانی قونصلیٹ اور صحافیوں کی درمیان دلچسپ نوک جھونک

    اسلام آباد مذاکرات:ایرانی قونصلیٹ اور صحافیوں کی درمیان دلچسپ نوک جھونک

    پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی سے متعلق نہایت اہم اور حساس مذاکرات جاری ہیں، اسی دوران ممبئی میں واقع ایرانی قونصلیٹ جنرل کی جانب سے دلچسپ بیان سوشل میڈیا پر سامنے آیا –

    ممبئی میں واقع ایرانی قونصلیٹ جنرل نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو پوسٹ میں ایران کے صحافیوں پر طنز کرتے ہوئے لکھا کہ ایرانی صحافی اسلام آباد میں ایران-امریکا جنگ بندی مذاکرات کے لیے موجود ہیں اور ہمیں ہوٹل کی ویڈیوز ایسے بھیج رہے ہیں جیسے یہ کوئی ٹریول ولاگ ہو،آیا یہ رپورٹنگ ہے یا چھٹیوں کی ویڈیوز؟

    کچھ ہی دیر بعد ایرانی قونصلیٹ جنرل کی جانب سے ایکس پر ایک اور ویڈیو پوسٹ کی گئی جس میں ایرانی صحافی نے رپورٹنگ سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم بھی رپورٹنگ کرتے ہیں، صرف ریلز نہیں بناتے-

    ایرانی قونصلیٹ جنرل ممبئی کے ایکس ہینڈل پر شئیر کی گئی ویڈیو میں اسلام آباد میں قائم جناح کنونشن سینٹر دکھایا گیا تھا جہاں دنیا بھر سے صحافی، تکنیکی عملہ اور دیگر حکام اسلام آباد ٹاک کی کوریج کے لیے موجود ہیں –

    واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے تاریخی مذاکرات جاری ہیں، ان امن مذاکرات میں شرکت کے لیے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وفد کے ہمراہ آج صبح اسلام آباد پہنچے جبکہ ایرانی وفد رات کو ہی اسلام آباد پہنچ گیا تھا۔

  • اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا آغاز

    اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا آغاز

    پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران ایک دہائی بعد آمنے سامنے بیٹھ کر بات چیت کر رہے ہیں۔

    امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے براہِ راست مذاکرات اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں جاری ہیں،جہاں دونوں ممالک آمنے سامنے بیٹھ کر بات چیت کر رہے ہیں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے بعد ابتدائی طور پر مذاکرات کی نوعیت کے بارے میں ابہام پایا جارہا تھا کہ یہ بات چیت ثالثوں کے ذریعے ہوگی یا فریقین آمنے سامنے بیٹھیں گے۔

    پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن ’پی ٹی وی‘ کے علاوہ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (آئی آر این اے) نے بھی امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی تصدیق کی ہے اسلام آباد میں ہونے والے ان مذاکرات میں ایرانی وفد کی قیادت پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں جب کہ امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں۔

    ایرانی نیم سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم کے مطابق مذاکرات کا عمل اب ’ایکسپرٹ فیز‘ میں داخل ہو چکا ہے، اور ایرانی وفد کی تکنیکی کمیٹیوں کے متعدد ارکان بھی مذاکرات کے مقام پر موجود ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق اس ملاقات میں پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی موجود تھے یہ مذاکرات تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہے، جس کے بعد دونوں وفود نے وقفہ لیا ہے۔

    اب تک دو بار رسمی بات چیت ہو چکی ہے پہلی بار کے دوران، امریکی اور ایرانی وفود نے الگ الگ ملاقاتیں کیں تاہم، دوسرے مرحلے میں، امریکی اور ایرانی وفود نے ایف ایم کی موجودگی میں براہ راست بات چیت کی،فی الحال، ایک ورکنگ ڈنر جاری ہے عشائیہ کے بعد، تیسرا تیسرا ٹیک مباحثہ شروع ہونے والا ہے، جس میں دوسرے درجے کے وفود بہتر طریقوں پر غور و خوض کریں گے،اب تک، بات چیت کا مجموعی لہجہ اور نتیجہ مثبت رہا ہے،تاہم، آبنائے ہرمز کے کنٹرول پر ایک تعطل برقرار ہے، کیونکہ ایرانی فریق اپنے موقف پر ثابت قدم ہے، اس نے اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کے مشترکہ کنٹرول کے لیے کسی بھی طرح کا سمجھوتہ کرنے یا اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

    امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں جاری مذاکرات کی کوریج کے لیے کئی ملکوں کے صحافی اور مندوبین جناح کنونشن سینٹر میں موجود ہیں اس اہم ترین معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے وفاقی وزارتِ اطلاعات صحافیوں کو براہِ راست رسائی دینے کے بجائے مذاکرات کی پیش رفت سے وقتاً فوقتاً آگاہ کر رہا ہے۔

    واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان میں مذاکرات جاری ہیں دنیا بھر کی توجہ اس وقت اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات پر مرکوز ہے، کیوں کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے براہِ راست اثرات دنیا بھر کی مارکیٹوں خصوصاً تیل کی عالمی منڈی پر مرتب ہوئے ہیں۔

    امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے نکات میں سب سے اہم نکتہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر جہازوں کی آمد و رفت پر عائد پابندی ختم کروانا ہے، جو صرف امریکا کا ہی نہیں بلکہ یورپ سمیت مختلف ممالک کا سب سے اہم مطالبہ ہے-

    اسلام آباد مذاکرات سے قبل عمان کی ثالثی میں بھی ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہوئے تھے۔ پہلا دور اپریل 2025 میں مسقط میں ہوا، جس میں امریکا کی جانب سے اسٹیو وٹکوف جب کہ ایران کی جانب سے عباس عراقچی شریک ہوئے فروری 2026 کے وسط میں بھی عمان کی ثالثی میں جنیوا میں بالواسطہ مذاکرات ہوئے جہاں فریقین نے جوہری پروگرام سے متعلق بنیادی اصولوں پر کسی حد تک اتفاق کیا۔ تاہم 28 فروری کو جنیوا مذاکرا ت کی ناکامی کے بعد امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران پر حملہ کردیا پاکستان کی سفارتی کوششوں سے پہلے فریقین جنگ بندی پر آمادہ ہوئے اور اب 11 سال بعد دونوں ملکوں کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا انعقاد ممکن ہوا ہے اور فریقین ایک میز پر بیٹھنے پر آمادہ ہوئے ہیں۔

  • بھارت حسد کی آگ میں جلنے کے بجائے پاکستان کا احسان مانے،احسن اقبال

    بھارت حسد کی آگ میں جلنے کے بجائے پاکستان کا احسان مانے،احسن اقبال

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ اس وقت عالمی برادری کی تمام تر توجہ کا مرکز پاکستان ہے-

    اپنے ایک بیان میں وفاقی وزیر نے کہاکہ حالیہ جنگی صورتحال نے عالمی معیشت کو شدید بحران سے دوچار کر دیا تھا، تاہم اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو وہ اعزاز بخشا کہ وہ اس جنگ کو ختم کروانے کا ذریعہ بنا آج امن کی خاطر امریکی اور ایرانی وفود کا اسلام آباد میں موجود ہونا پاکستان کی سفارتی کامیابی اور عزت کی دلیل ہے۔

    احسن اقبال نے کہاکہ ملک کو یہ عالمی وقار وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی انتھک کوششوں کی بدولت حاصل ہوا ہے اگر سرحد کے دو سری طرف دیکھا جائے تو وہاں سے اٹھتا ہوا دھواں واضح ہے، اور ہمارے پڑوسی اس کامیابی پر کوئلے کی طرح جل کر راکھ ہو رہے ہیں، بھارت کو چاہیے کہ وہ حسد کی آگ میں جلنے کے بجائے پاکستان کا احسان مانے، کیونکہ پاکستان نے بھارت سمیت پوری دنیا کو ایک بڑی تباہی سے محفوظ رکھا ہے، ان کے بقول، پہلے میدانِ جنگ میں حق کا معرکہ اور اب امن کی کو ششوں نے عالمی سطح پر پاکستان کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔

  • امید ہے عارضی جنگ بندی مستقل امن معاہدے میں تبدیل ہو جائے گی،بلاول بھٹو

    امید ہے عارضی جنگ بندی مستقل امن معاہدے میں تبدیل ہو جائے گی،بلاول بھٹو

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں جاری امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں اب تک کی سب سے بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔

    الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بلاول بھٹو نے اس سوال پر کہ آیا پاکستان ان مذاکرات سے کوئی واضح اور ٹھوس نتیجہ حاصل کر سکے گا؟ پر کہا کہ اسلام آباد میں جاری امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں اب تک کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ فریقین کے درمیان جنگ بندی برقرار ہے، ایران اور خطے کے بیشتر حصوں میں بمباری رک گئی ہے اور دونوں بڑی طاقتیں اب مذاکرات کی میز پر موجود ہیں، امید ہے یہ عارضی جنگ بندی آگے چل کر ایک مستقل امن معاہدے میں تبدیل ہو جائے گی۔

    بلاول بھٹو کے مطابق پاکستان سمیت پوری دنیا ان مذاکرات کو احتیاط کے ساتھ امید کی نظر سے دیکھ رہی ہے، گزشتہ 6 ہفتوں میں جنگ نے نہ صرف انسا نی جانوں بلکہ عالمی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے جس کے اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ اس سفارتی عمل میں پاکستان کے علاوہ کئی دیگر ممالک نے بھی کردار ادا کیا ہے جن میں چین، سعودی عرب، ترکیہ، مصر،قطر اور دیگر خلیجی ممالک شامل ہیں، گزشتہ چند ہفتوں کے تجربے سے واضح ہو گیا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، اگر اس تنازعے کا کوئی مستقل اور متوازن حل نہ نکالا گیا تو اس کے اثرات مزید سنگین ہوں گے،ہ اس وقت تمام توجہ موجودہ بحران کے حل پر ہے اور پائیدار امن ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے-

  • ایران آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کا مکمل سراغ لگانے میں ناکام ہے،امریکی میڈیا

    ایران آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کا مکمل سراغ لگانے میں ناکام ہے،امریکی میڈیا

    امریکی حکام کا کہنا ہے کہ زیرِ سمندر بارودی سرنگوں کا سراغ لگانے میں دشواری آبنائے ہرمز کھولنے میں تاخیر کا سبب بن رہی ہیں-

    نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی حکام نے بتایا کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد ایران نے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے بے ترتیب انداز میں بارودی سرنگیں بچھائیں،امریکی حکام کے بقول ایران نے آبنائے ہرمز میں بچھائی گئیں ان بارودی سرنگوں کے درست مقامات کا ریکارڈ بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں رکھا جب کہ پانی کی لہروں کے باعث کچھ مائنز اپنی جگہ سے سرک یا بہہ گئیں،یہی وجہ ہے کہ ایران آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کا مکمل سراغ لگانے میں ناکام ہے اور ایرانی فورسز اسے ہٹانے کی فوری صلاحیت بھی نہیں رکھتیں۔

    امریکی حکام نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ زمینی بارودی سرنگوں کے برعکس بحری سرنگوں کی تنصیب اور پھر ان کو وہاں سے ہٹانا زیادہ مشکل عمل ہے جس میں مہارت اور صلاحیت درکار ہیں،امریکی حکام کے بقول بارودی سرنگیں نہ ہٹائے جانے کے باعث ہی تاحال آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدور فت بحال کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔