Baaghi TV

Blog

  • کنگ چارلس کا ٹیکس ریکارڈ عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ

    کنگ چارلس کا ٹیکس ریکارڈ عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ

    برطانوی بادشاہ کنگ چارلس نے اپنی ذاتی ٹیکس ادائیگیوں کی تفصیلات پہلی بار عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    بکنگھم پیلس نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معلومات مالی سال 2024-25 سے متعلق ہوں گی اور جمعرات کو جاری کی جائیں گی یہ اقدام شاہی مالیات سے متعلق سالانہ رپورٹس کا حصہ ہوگا جس کا مقصد شفافیت اور عوامی احتساب کو مزید مضبوط بنانا بتایا گیا ہے۔

    پیلس کے ترجمان کے مطابق بادشاہ نے یہ فیصلہ ذاتی طور پر کیا ہے تاکہ شاہی مالیاتی نظام کو مزید جدید اور قابلِ فہم بنایا جا سکےرپورٹ میں کنگ چارلس کی مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی اور ان پر ادا کیے گئے ٹیکس شامل ہوں گے ان میں ڈچی آف لنکاسٹر سے حاصل آمدن، سینڈرنگھم اور بالمورل کی نجی املاک سے آمدن، ذاتی سرمایہ کاری اور دیگر نجی مالی ذرائع شامل ہیں گزشتہ سال ڈچی آف لنکاسٹر سے بادشاہ کو تقریباً 26.8 ملین پاؤنڈ کی آمدنی حاصل ہوئی تھی۔

    واضح رہے کہ برطانوی بادشاہ قانونی طور پر انکم ٹیکس یا کیپیٹل گینز ٹیکس ادا کرنے کے پابند نہیں ہوتے تاہم کنگ چارلس یہ ادائیگیاں رضاکارانہ طور پر کرتے ہیں، اس بار ان کی مجمو عی ٹیکس ادائیگی کی رقم پہلی مرتبہ عوام کے سامنے ظاہر کی جائے گی ، کنگ چارلس اس سے قبل ولی عہد کی حیثیت میں بھی اپنی ٹیکس ادائیگیوں کی تفصیلات جاری کرتے ر ہے ہیں ان کے صاحبزادے اور موجودہ ولی عہد شہزادہ ولیم کو گزشتہ سال ڈچی آف کارنوال سے تقریباً 23 ملین پاؤنڈ آمدن حاصل ہوئی، تاہم وہ اپنی ٹیکس ادائیگیوں کی حتمی رقم ظاہر نہیں کرتے اگرچہ وہ اعلیٰ ترین شرح سے ٹیکس ادا کرتے ہیں۔

    یہ مالی تفصیلات شاہی سوورین گرانٹ کی سالانہ رپورٹ کے ساتھ جاری کی جائیں گی، جو شاہی خاندان کے سرکاری اخراجات کی مالی معاونت فراہم کرتی ہے، حالیہ سالوں میں یہ گرانٹ بڑھ کر 137.9 ملین پاؤنڈ تک پہنچ گئی ہے تاہم برطانوی وزارتِ خزانہ کی جانب سے اس میں کمی پر غور کیا جا رہا ہے۔

  • مومنہ اقبال کیخلاف توہین آمیز ریمارکس پر اسپیکر پنجاب اسمبلی کی شدید مذمت

    مومنہ اقبال کیخلاف توہین آمیز ریمارکس پر اسپیکر پنجاب اسمبلی کی شدید مذمت

    اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے اداکارہ مومنہ اقبال کے خلاف اسمبلی فلور پر دیے گئے ریمارکس کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں توہین آمیز اور تعصب پر مبنی قرار دیتے ہوئے سرکاری ریکارڈ سے حذف کر دیا۔

    اسمبلی اجلاس کے دوران پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے رکن صوبائی اسمبلی ندیم قریشی نے سیاسی نمائندگی پر جاری بحث کے دوران مومنہ اقبال کا نام لیتے ہوئے یہ ریمارکس دیے تھے اس موقع پر اسپیکر نے فوری مداخلت کرتے ہوئے رکنِ اسمبلی کو اپنے الفاظ واپس لینے کی ہدایت کی۔

    اسپیکر نے کہا کہ مومنہ اقبال شوبز انڈسٹری کی ایک باعزت شخصیت ہیں اور ان کے بارے میں اس نوعیت کے ریمارکس انتہائی امتیازی اور تعصب پر مبنی ہیں اسمبلی فلور پر کسی فرد کو ذاتی طور پر نشانہ بنانا مناسب نہیں،اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے متعلقہ ریمارکس کو فوری طور پر کارروائی کے ریکارڈ سے حذف کرنے کا حکم بھی دیا۔

  • جرمنی نے  آبنائے ہرمز کی بندش کا ذمہ دار  ٹرمپ کو ٹھہرادیا

    جرمنی نے آبنائے ہرمز کی بندش کا ذمہ دار ٹرمپ کو ٹھہرادیا

    جرمن وزیر دفاع بورس پسٹوریئس نے آبنائے ہرمز کی بندش کا ذمہ دار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ٹھہراتے ہوئے عالمی توانائی کی سیکیورٹی کے پیش نظر اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کو فوری طور پر دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    جرمن نشریاتی ادارے ‘اے آر ڈی’ کو انٹرویو دیتے ہوئے بورس پسٹوریئس کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے ذمہ دار ڈونلڈ ٹرمپ ہیں، نہ کہ ہم، لیکن اس بندش کو ختم کروانا اب ہمارے مفاد میں ہے،اس اہم گزرگاہ کو کھولنا اور وہاں محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا یورپ کے اقتصادی استحکام اور توانائی کی فراہمی کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔

    رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے غیر معاندانہ ممالک کو جہاز رانی کی آزادی دینے کی لچک کے باوجود امریکا نے آبنائے ہرمز کی مکمل ناکہ بندی کر دی تھی، جس کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا اور دنیا کو توانائی کے بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑا۔۔

    جرمن وزیر دفاع نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایران اور عمان کے ساتھ سفارتی تعاون اور ہم آہنگی کی ضرورت ہوگی،جرمنی نے ممکنہ فوجی مشن کی تیاری کے طور پر دو بحری جہاز بحیرہ احمر کی طرف روانہ کر دیے ہیں، تاہم مائنز صاف کرنے کے کسی بھی آپریشن کے لیے ایران اور عمان کی منظوری لازمی ہوگی۔

    دوسری جانب جرمن چانسلر فریڈرک میرز نے بھی اس موقف کو دہرایا ہے کہ جرمنی اس جنگ کا حصہ نہیں ہے اور نہ ہی وہ اس براہِ راست تصادم میں شامل ہونا چاہتا ہے۔

  • مذاکرات مثبت اورتعمیری ماحول میں ہوئے،حوصلہ افزاء پیشرفت سامنے آئی،وزیراعظم

    مذاکرات مثبت اورتعمیری ماحول میں ہوئے،حوصلہ افزاء پیشرفت سامنے آئی،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ الحمداللہ، اسلام آبادایم اویوکے تحت اعلیٰ سطح کمیٹی کاپہلااجلاس کامیابی سے اختتام پذیرہوا.مذاکرات مثبت اورتعمیری ماحول میں ہوئے،حوصلہ افزاء پیشرفت سامنے آئی.

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ60دن کے اندرحتمی معاہدے تک پہنچنے کےلئے روڈمیپ پراتفاق ہوا.روڈمیپ کے تحت سیاسی نگرانی کےلئے اعلیٰ سطح کمیٹی کاقیام عمل میں لایاگیا.روڈ میپ کے تحت مزید تکنیکی سطح کے مذاکرات کاآغاز ہوگا. امریکہ اور ایران کی قیادت کو تعمیری روابط برقرار رکھنے کے عزم پر خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں. تاریخی عمل کو آگے بڑھانے میں تعاون کرنے والے تمام برادر اور دوست ممالک کا شکریہ ادا کرتا ہوں. برادر ملک قطر نے مذاکرات کے لیے ضروری سازگار ماحول پیدا کرنے میں نہایت اہم کردار ادا کیا، مذاکرات کی میزبانی اور سہولت کاری پر سوئس حکومت کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں. فیلڈ مارشل عاصم منیر کی انتھک کاوشوں نے مذاکرات کو کامیابی سے ہمکنار کیا.فیلڈمارشل کی لگن، عزم اور ثابت قدمی قابلِ ستائش ہیں. نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم کی سفارتی کاوشوں پرمبارکباد پیش کرتا ہوں. وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی محنت اور کردار کو سراہتا ہوں جنہوں نے مذاکرات کی کامیابی میں نمایاں حصہ ڈالا.پاکستان پائیدار امن کیلئے مکالمے اور سفارت کاری کو فروغ دینے میں اپنا مخلصانہ کردار ادا کرتا رہے گا.

  • صدر ٹرمپ کی  ایک بار پھر نیٹو اور اطالوی وزیراعظم پر تنقید

    صدر ٹرمپ کی ایک بار پھر نیٹو اور اطالوی وزیراعظم پر تنقید

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو اتحادیوں، خصوصاً اٹلی اور اس کی وزیرِ اعظم جورجیا میلونی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے دہائیوں تک اتحادیوں کا دفاع کیا، لیکن جب وقت آیا تو وہ ساتھ کھڑے نہیں ہوئے۔

    ٹروتھ سوشل پر اپنی ایک پوسٹ میں امریکی صدر ٹرمپ نے کہا امریکا نے نیٹو پر ٹریلین ڈالر خرچ کیلئے لیکن ایران کی جانب سے جوہری خطرے کو ختم کرنے میں نیٹو اور اٹلی کی وزیراعظم نے ان کا ساتھ دینے کا سوچا بھی نہیں،دہائیوں سے ہم ان کا دفاع کرتے آئے ہیں لیکن جب آزمائش کا وقت آتا ہے تو وہ ہمارا اور باقی دنیا کا دفاع کرنے کے لیے موجود نہیں ہوتے، یہ اچھی بات نہیں!‘‘

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ اور میلونی کے درمیان تعلقات پہلے ہی شدید تناؤ کا شکار ہیں، بالخصوص G7 اجلاس کے بعد ذاتی نوعیت کے سخت بیانات کے بعد، ٹرمپ نے میلونی پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ بعض معاملات میں امریکا کے ساتھ مکمل تعاون نہیں کر رہیں، جب کہ میلونی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اٹلی اپنے قومی مفاد اور خودمختار فیصلوں کے مطابق پالیسی بناتا ہے۔

    گزشتہ ہفتوں میں اس تنازع نے اس وقت مزید شدت اختیار کی جب دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کے بیانات کو ’’غلط‘‘ اور ’’سیاسی طور پر محرک‘‘ قرار دیا، جس کے بعد اٹلی کی طرف سے امریکا کے ساتھ سفارتی سطح پر سرد مہری بھی دیکھی گئی۔

  • ایرانی صدر کل ایک روزہ دورے پر پاکستان پہنچیں گے

    ایرانی صدر کل ایک روزہ دورے پر پاکستان پہنچیں گے

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان کل بروز منگل ایک روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچیں گے۔

    ذرائع کے مطابق ایرانی صدر کل صبح پاکستان پہنچیں گے اور مختلف مصروفیات کے بعد شام کو واپس ایران روانہ ہو جائیں گےایرانی صدر کا یہ دورہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان حالیہ صورتحال میں پاکستان کے کردار کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے دورے کے دوران دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال متوقع ہے،ایران امریکا جنگ کے دوران پاکستان کی جانب سے ادا کیے گئے کردار اور سفارتی کوششوں پر اظہارِ تشکر کے لیے ایرانی صدر پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب سوئٹزرلینڈ میں جنگ بندی کیلئے 18 گھنٹے کے طویل اور سخت مذاکرات کے بعد ایرانی وفد ایران روانہ ہوگیا ایرانی حکومت نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا ہے ایران کی مذاکراتی ٹیم 18 گھنٹے اعلیٰ سطح کی سفارتی مشاورت اور سخت مذاکرات کے بعد سوئٹزرلینڈ سے ایران روانہ ہوگئی ہے۔

    ایرانی وفد کی قیادت ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کررہے تھے جبکہ امریکی وفد کی قیادت نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کررہے تھے۔

  • سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھراضافہ

    سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھراضافہ

    پاکستان اور عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے،پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 4,643 روپے کا اضافہ ہوگیا۔

    عالمی مارکیٹ میں سونا 189 ڈالر اضافے کے بعد 7,151 ڈالر فی اونس کا ہوگیاہے،ملک میں فی تولہ سونا 4,463 روپے اضافے کے بعد442,636 روپے کا ہوگیا جب کہ 10 گرام سونا 4179 روپے اضافے کے بعد 378,345 روپے کا ہو گیاہے،اس کے علاوہ 10 گرام 22 قیراط سونے کی قیمت 347,083 روپے ہوگئی۔

    پیر کے روز اسپاٹ گولڈ 1.2 فیصد اضافے کے ساتھ 4,209.03 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ کرتے دیکھا گیا، جبکہ اگست کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز 0.5 فیصد کمی کے ساتھ 4,225.80 ڈالر پر آ گئے اس کے علاوہ چاندی کی قیمت 2.6 فیصد اضافے کے ساتھ 66.60 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی، جبکہ پلاٹینم اور پیلیڈیم کی قیمتوں میں بھی بالترتیب 1.3 اور 1.5 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

    مارکیٹ ماہرین کے مطابق سرمایہ کاروں نے محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر دوبارہ سونے کی طرف رجوع کیا ہے۔

  • ایف سی اہلکار شبیر بلوچ قتل کیس میں ماہرنگ بلوچ کو عمر قید کی سزا

    ایف سی اہلکار شبیر بلوچ قتل کیس میں ماہرنگ بلوچ کو عمر قید کی سزا

    ایف سی اہلکار شبیر بلوچ قتل کیس میں ماہرنگ بلوچ کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی

    بی وائے سی کے 2024 کے احتجاج میں گوادر میں ایف سی کے جوان بشیر بلوچ کو شہید کرنے اور لاش کی بے حرمتی کرنے کے کیس میں ماہرنگ لانگو اور اس کے ساتھی صبغت اللہ کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی،نسداد دہشت گردی عدالت نے فیصلہ سنایا۔فروری 2024 میں ماہرنگ بلوچ کی قیادت میں "راجی مچھی” مارچ کے دوران گوادر میں مارچ کے شرکا نے ایف سی اہلکار شبیر بلوچ کو گھیر کر پتھراؤ کیا، جس سے ان کی موت ہو گئی۔ دو سال کی قانونی کارروائی کے بعد عدالت نے دونوں ملزمان کو قصوروار قرار دیا اور سزا سنائی

    فروری 2024 کا وہ بھیانک دن جب ماہرنگ اور اس کے حواریوں نے راجی مچھی کے نام سے ایک انتشار بھرا مارچ نکالا۔ کوئٹہ سے شروع ہونے والے مارچ میں ماہرنگ نے ہر موڑ ہر راستے پر انتشار پھیلایا اور اس کے قافلے میں شامل دہشتگردوں نے سکیورٹی فورسز پر بے شمار حملے کئے۔جب اس کا مارچ گوادر کے پرامن علاقے میں پہنچا تو ماہرنگ اور صبغت اللہ شاہ کی قیادت میں حیوانیت کی ایک نئی داستان لکھی گئی۔ جب ڈیوٹی پر معمور ایف سی کے جوان شبیر بلوچ کو انتشاریوں نے گھیرا اور پتھروں کے وار سے اس کی جان لے لی۔ اس کے بعد اس کی لاش کی بے حرمتی بھی کی۔دو سال کی طویل قانونی جنگ کے بعد، جس میں ماہرنگ اور اس کے حواریوں نے ججوں کو دھمکایا اور کیس میں خلل ڈالنے کی بے پناہ کوشش کی، آج کوئٹہ کی انسداد دہشتگردی کی عدالت نے فتنہ الہندستان کی ریکروٹمنٹ ایجنٹ ماہرنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ کو عمر قید کی سزا سنا دی۔

  • برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا

    برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا

    لندن: برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ لیبر پارٹی کی قیادت بھی چھوڑ رہے ہیں۔ اپنے فیصلے سے بادشاہ کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے اور لیبر پارٹی کی نئی قیادت کے انتخاب کے لیے باقاعدہ شیڈول جاری کر دیا گیا ہے۔

    کیئر اسٹارمر نے کہا کہ لیبر پارٹی کی نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی کو قیادت کے انتخاب کا عمل شروع کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔ پارٹی قیادت کے لیے نامزدگیاں 9 جولائی سے وصول کی جائیں گی جبکہ 16 جولائی کو پارلیمنٹ کی گرمیوں کی تعطیلات سے قبل نامزدگیوں کا مرحلہ مکمل ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اگر قیادت کے لیے مقابلہ ہوا تو ستمبر میں پارلیمنٹ کے دوبارہ اجلاس سے قبل نئی لیبر قیادت منتخب ہو جائے گی، جس سے حکومتی امور میں تسلسل برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔

    اپنے الوداعی خطاب میں اسٹارمر نے اپنی حکومت کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دور میں معیشت مضبوط ہوئی، اجرتوں میں افراطِ زر سے زیادہ اضافہ ہوا، سرمایہ کاری میں اضافہ دیکھنے میں آیا اور بنیادی ڈھانچے کے متعدد منصوبے شروع کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی صحت کے نظام (این ایچ ایس) میں انتظار کی فہرستوں میں نمایاں کمی آئی، کارکنوں اور کرایہ داروں کے حقوق کو بہتر بنایا گیا جبکہ دفاعی اخراجات میں سرد جنگ کے بعد سب سے بڑا اضافہ کیا گیا۔

    کیئر اسٹارمر نے کہا کہ انہوں نے اس سوال کے جواب کو قبول کر لیا ہے کہ آیا وہ آئندہ عام انتخابات میں لیبر پارٹی کی قیادت کے لیے موزوں ترین شخصیت ہیں یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کی رائے کا احترام کرتے ہوئے وہ خوش دلی کے ساتھ لیبر پارٹی کی قیادت چھوڑ رہے ہیں۔اسٹارمر نے مزید بتایا کہ انہوں نے اپنے فیصلے سے متعلق آج صبح بادشاہ کنگ چارلس کو بھی آگاہ کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ نئے قائد کے انتخاب کے عمل کی تکمیل تک وزیراعظم کے عہدے پر برقرار رہیں گے اور اقتدار کی منظم اور ہموار منتقلی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔برطانوی وزیراعظم نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ اپنے جانشین کو مکمل، واضح اور غیر مشروط حمایت فراہم کریں گے تاکہ حکومت اور پارٹی کے امور میں تسلسل برقرار رہے۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق کیئر اسٹارمر کے استعفے کے اعلان کے بعد لیبر پارٹی میں نئی قیادت کے انتخاب کے لیے سرگرمیاں تیز ہونے کا امکان ہے، جبکہ برطانوی سیاست میں اس پیش رفت کو ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق اسٹارمر کے استعفے کے اعلان کے بعد برطانوی سیاست میں ایک نئے مرحلے کا آغاز ہو گیا ہے۔ لیبر پارٹی کے اندر قیادت کی دوڑ تیز ہونے کا امکان ہے جبکہ حکومت کے مستقبل اور معاشی پالیسیوں کے حوالے سے بھی اہم سوالات جنم لے رہے ہیں۔

    استعفے کی خبروں سے قبل ڈاؤننگ اسٹریٹ میں غیر معمولی سرگرمی دیکھی گئی، جہاں میڈیا نمائندوں اور سیاسی شخصیات کی بڑی تعداد جمع ہو گئی تھی۔ لیبر پارٹی کی بعض شخصیات گزشتہ چند روز سے اسٹارمر پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ ڈال رہی تھیں، جس کے بعد ان کے اس اعلان کو برطانوی سیاست میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

  • حکومت کو پیٹرول کی قمیت 225 روپے 3 سال تک فکس کرنی چا ہئے، حافظ نعیم الرحمان

    حکومت کو پیٹرول کی قمیت 225 روپے 3 سال تک فکس کرنی چا ہئے، حافظ نعیم الرحمان

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی جمہوریت کی قاتل ہے، جمہوریت اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے کی ضد ہیں-

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم نے کہا کہ حکومت کا آدھا بجٹ سود میں جاتا ہے، ایک اقلیتی رکن نے بھی کہا کہ سود اللہ سے جنگ ہے، لیکن اس کے باوجود سودی نظام کو ختم کرنے کے بجائے مزید بڑھایا جا رہا ہے قرضوں پر سود کی ادائیگی کا پورا بوجھ پاکستانی عوام پر پڑتا ہے سود کی ادائیگی کے باعث 540 ارب روپے کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔

    اعلیٰ عدالتی احکامات کے باوجود حکومت سود ختم کرنے میں سنجیدہ نہیں، نئے بجٹ میں کوئی نئی چیز نہیں، بجٹ میں تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ کیا گیا اور مہنگائی 8 فیصد بڑھی، مہنگائی کے دور میں نجی شعبے کے لیے کوئی ریلیف نہیں دیا گیا، تنخوا ہوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، نجی شعبے کے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ شہباز شریف اور بلاول بھٹو 43 ہزار روپے میں ایک گھر کا بجٹ بنا کر دکھائیں بلاول بھٹو یہ بھی بتائیں کہ ان کے والد کی زمینوں پر کام کرنے والے ہاریوں کی کم از کم تنخواہ کتنی ہے۔

    انہوں نے سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سندھ میں بدترین فسطائیت قائم ہے عوامی رائے کو کبھی تسلیم نہیں کیا گیا کراچی کا میئر قابض ہے ، یہاں بھی جمہوریت کو قبول نہیں کیا گیا،سندھ میں گزشتہ 40 سال سے پیپلز پارٹی حکمران ہے، اس کے باوجود صوبے کے بچوں کی حالت زار نہیں بدلی، ہزاروں بچے اسکولوں سے باہر ہیں ، نہ مناسب سڑکیں ہیں اور نہ ہی معیاری تعلیم۔

    انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی جمہوریت کی قاتل ہے، جمہوریت اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے کی ضد ہیں، صوبے پر 18 سال سے پیپلز پارٹی کا قبضہ ہے، اندورنِ سندھ میں بچوں کو تعلیم اور صحت کیوں نہیں مل رہی، بنیادی صحت مراکز کا برا حال ہے، سندھ میں تعلیم روزگار اور صحت کا فقدان ہے، شہر میں سرکاری پبلک ٹرانسپورٹ موجود نہیں، سوال ہے ان سے جن لوگوں نے میئر اور پیپلز پارٹی کو ہم پر مسلط کیا۔

    امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ کراچی یونیورسٹی کی صورتحال سب کے سامنے ہے شہر کی سڑکوں کا بھی برا حال ہے کراچی کو 15 ہزار بسوں کی ضرورت ہے جماعت اسلامی کی جا نب سے پیش کی گئی انٹرن شپ آفر کے لیے 8 ہزار بچوں نے درخواستیں جمع کرائی ہیں سندھ حکومت نے طلبہ کے لیے کچھ نہیں کیا ۔ پیپلز پارٹی کو فرینڈلی اپوزیشن ملی ہوئی ہے، جس کی وجہ سے شہر کے مسائل پر کوئی مؤثر آواز نہیں اٹھائی جا رہی۔

    انہوں نے کہا کہ کبھی بریف کیس لے کر گلگت بلتستان اور بلوچستان پہنچ جاتے ہیں گلگت بلتستان میں ارکان کی خرید فروخت ہمارے ٹیکس کے پیسوں سےکی جا رہی ہے، پیٹرول پر لیوی کا اطلاق ان پر ہو رہا ہے جو ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں، لیوی اس لیے کم کی گئی ہے کہ ہدف پورا کر کیا گیا، لیویز کا نفاذ ناجائز ہے، لیوی کو فوری طور پر ختم ہونا چاہیے،28 فروری کی قیمتوں کے مطابق پیٹرول کی قیمتیں کم کیوں نہیں کی گئیں-

    انہوں نے مطالبہ کیا کہ بجلی کے نرخ کم کیے جائیں ، سلیب سسٹم ختم کیا جائے، آئی ایم ایف کے کہنے پر لیوی ٹیکس عائد کیا جاتا ہے یہ 24 واں آئی ایم ایف پروگرام ہے اور ہر مرتبہ یہی کہا جاتا ہے کہ یہ آخری پروگرام ہوگ حکومت کو پیٹرول کی قمیت 225 روپے 3 سال تک فکس کرنی چا ہیے۔شہر کے 90 فیصد لوگ موٹر سائیکل استعمال کر تے ہیں، اس لیے عوام کو فوری ریلیف دیا جانا چاہیے بجلی پیدا نہ ہونے کے باوجود اس کی ادائیگی کی جا رہی ہے آئی پی پیز کے معاہدوں کو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جانا چا ہیے انہوں نے وزیر خزانہ سے سوال کیا کہ ایف بی آر کیا کر رہا ہے ، 80 فیصد ٹیکس بھی جمع نہیں کر پاتا اور اس کے 25 ہزار ملازمین موجود ہیں۔

    امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ حکمرانوں نے 800 ارب روپے اپنے انتظامی اخراجات پر خرچ کر دیے ہیایران نے امریکا اور اسرائیل کو شکست دی ہے، تاہم اسرائیل اب بھی لبنان پر حملے اور فلسطین پر بمباری کر رہا ہے انہوں نے مسلم ممالک سے اسرائیل کے خلاف مشترکہ اقدامات کا مطالبہ کیا اور مزید کہا کہ حکومت نے ثالثی کے حوالے سے جو کردا ر ادا کیا، وہ ایک اچھا اقدام تھا۔