Baaghi TV

Blog

  • بیوہ خواتین کی امدادی رقم لوٹنے والا خطرناک گینگ بے نقاب سرغنہ گرفتار

    بیوہ خواتین کی امدادی رقم لوٹنے والا خطرناک گینگ بے نقاب سرغنہ گرفتار

    گوجرخان (قمرشہزاد) گوجرخان پولیس نے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ایک بار پھر اپنی برتری ثابت کر دی۔ اے ایس پی سید دانیال حسن کی زیرِ نگرانی اور ایس ایچ او تھانہ گوجرخان مرزا طیب ظہیر بیگ کی قیادت میں پولیس ٹیم نے سرور شہید کالج کے قریب بینظیر انکم سپورٹ آفس کے باہر دن دیہاڑے ہونے والی سنگین ڈکیتی کی واردات کی گھتیاں سلجھا دیں۔ اے ایس آئی ثاقب اور ان کی ٹیم نے جدید سائنٹیفک ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ مہارت کا استعمال کرتے ہوئے محض چند روز میں اصل ملزمان کا گھیرا تنگ کیا اور شرقی علاقے کمانیدریال سے حیدر نامی ملزم کو دبوچ لیا۔

    دورانِ تفتیش گرفتار ملزم حیدر نے ہوشربا سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں، جس کے بعد اس کے ہمراہی ساتھیوں اویس اور دیگر سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے پولیس نے جال بچھا دیا ہے۔ ایس ایچ او مرزا طیب ظہیر بیگ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ملزم کے انکشافات کی روشنی میں مزید سنسنی خیز گرفتاریاں متوقع ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ گرفتار ملزم اور اس کے ساتھی ضلعی سطح پر سنگین جرائم میں ریکارڈ یافتہ ہیں اور ضلع راولپنڈی کے متعدد تھانوں میں ان کے خلاف مقدمات درج ہیں۔ بیوہ اور بے سہارا خواتین کے حق پر ڈاکہ ڈالنے والے اس گروہ کی گرفتاری پر عوامی سماجی حلقوں نے اے ایس پی سید دانیال حسن اور ایس ایچ او مرزا طیب ظہیر بیگ اور ٹیم کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ان درندہ صفت عناصر کو نشانِ عبرت بنایا جائے تاکہ مستقبل میں کسی کو ایسی جسارت کی ہمت نہ ہو سکے۔ ملزم کو شناخت پریڈ کے لیے اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ لوٹی گئی رقم کی برآمدگی کے لیے تحرک جاری ہے۔

  • پاکستان کی شاندار سفارتکاری،مرکزی مسلم لیگ کا یوم تشکر،شہروں میں ریلیاں

    پاکستان کی شاندار سفارتکاری،مرکزی مسلم لیگ کا یوم تشکر،شہروں میں ریلیاں

    مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام امریکا،ایران جنگ بندی کروانے میں پاکستان کے کردار پر یوم تشکر منایا گیا، لاہور سمیت متعدد شہروں میں ریلیاں نکالی گئیں، خطبات جمعہ میں علماء کرام نے خطے میں قیام امن کے لئے پاکستان کے کردار کو موضوع بنایا، جنگ بندی مذاکرات کی کامیابی کے لئے خصوصی دعائیں کی گئیں

    مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام یوم تشکر کے سلسلہ میں لاہور، قصور،ننکانہ،بہاولنگر،ڈیرہ اسماعیل خان ،پاکپتن،موڑ کھنڈا،چیچہ وطنی،لالیاں ،چنیوٹ سمیت دیگر شہروں میں ریلیوں میں ہزاروں افراد شریک ہوئے،ریلیوں کے شرکاء نے ہاتھوں میں قومی پرچم اٹھا رکھے تھے اور پاکستان کے حق میں نعرے لگاتے رہے، شرکاء نے حکومتِ پاکستان اور پاک فوج کی حالیہ سفارتی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے زبردست خراجِ تحسین پیش کیا،مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام لاہور میں مال روڈ پر یوم تشکر کی ریلی نکالی گئی،ریلی کی قیادت جنرل سیکرٹری لاہور چوہدری حمید الحسن گجر نے کی، ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ پاکستان کی شاندار سفارتکاری کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی راہ ہموار ہو رہی ہے،پاکستان کی اس شاندار سفارتی کامیابی نے پوری قوم کے دلوں کو سکون اور فخر سے بھر دیا ہے۔ ہم ریاستِ پاکستان، حکومت اور پاک فوج کو اس عظیم کامیابی پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ جامع مسجد القادسیہ میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب میں مرکزی مسلم لیگ کے نائب صدر حافظ عبدالرؤف کاکہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو عزت عطا فرمائی ہے،حالات کو دیکھیں،اس خطے میں سب سے محفوظ ملک آج پاکستان ہے، اللہ نے پاکستان کو دفاع عطا کیا،یہ اللہ کا احسان ہے ،مذاکرات کی کامیابی کے لئے دعا گو ہیں، پاکستان آج دنیا کے فیصلے کر رہا ہے، اسلام آباد کی طرف سب کی نظریں ہیں، پاکستان پر معاشی پابندیاں لگوانے ،تنہا کرنے والوں کے خواب ٹوٹ چکے، مرکزی مسلم لیگ قصور کی جانب سے ریلی میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ریلی کی قیادت جنرل سیکرٹری رانا محمد اشفاق نے کی، مرکزی مسلم لیگ پاکپتن کے زیر اہتمام ریلی کا اہتمام کیا گیا جس کی قیادت جنرل سیکرٹری پاکستان مرکزی مسلم لیگ پاکپتن نے کی،مرکزِ شہداء کالج روڈ سے کمرشل کالج چوک بہاولنگر تک اظہارِ تشکر ریلی کا انعقاد کیا گیا، ریلی کی قیادت مرکزی مسلم لیگ بہاولنگ کے صدر چوہدری کاشف جاوید نے کی، مرکزی مسلم لیگ پی پی 135 موڑ کھنڈا کے زیر اہتمام تشکر ریلی کا انعقاد کیا گیا، ریلی میں علاقے بھر سے مختلف مذہبی و سیاسی جماعتوں کے نمائندگان اور عوام الناس نے بڑی تعداد میں شرکت کی، اظہار تشکر ریلیوں سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ یہ 10 مئی کے بعدپاکستان کی ایک اور بڑی کامیابی ہے ،ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدہ حالات کے باعث دنیا ایک بڑی جنگ کی طرف بڑھ رہی تھی، تاہم پاکستان نے اس صورتحال میں اہم اور مثبت کردار ادا کیا، پاکستان کی بروقت سفارتی کوششوں نے خطے میں امن کے قیام میں اہم کردار ادا کیا، جو قابلِ تحسین ہے۔

  • "اپنا اگاؤ، اپنا بچاؤ،مسلم ویمن لیگ کی کچن گارڈننگ مہم کا آغاز

    "اپنا اگاؤ، اپنا بچاؤ،مسلم ویمن لیگ کی کچن گارڈننگ مہم کا آغاز

    مرکزی مسلم لیگ کے شعبہ خواتین، مسلم ویمن لیگ نے "اپنا اگاؤ، اپنا بچاؤ” کے عنوان سے ملک گیر مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت خواتین کو کچن گارڈننگ کی جانب راغب کیا جا رہا ہے، مہم کے دوران گھروں میں پودے اور سبزیاں اگانے والی خواتین میں انعامات بھی تقسیم کیے جائیں گے۔

    مسلم ویمن لیگ کی سیکرٹری جنرل عفت سعید اس مہم کی نگرانی کر رہی ہیں۔ انہوں نے لاہور میں مہم کے افتتاح کے موقع پر کہا کہ خواتین اپنے گھروں، چھتوں، صحنوں اور گملوں میں روزمرہ استعمال کی سبزیاں جیسے دھنیا، پودینہ، ٹماٹر اور مرچ خود اگائیں اور "اپنی ضرورت، اپنے ہاتھ” کے اصول کو فروغ دیں، اس مہم کے اہم مقاصد میں خواتین کو معاشی خود کفالت کی طرف لانا، گھریلو سطح پر مہنگائی کے اثرات کو کم کرنا، ہر گھر میں صحت مند اور خالص غذا کو فروغ دینا، خواتین میں عملی ہنر اور خود اعتمادی پیدا کرنا اور شجرکاری کے ذریعے ماحولیاتی بہتری میں کردار ادا کرنا شامل ہے، مہم کے تحت کچن گارڈننگ ورکشاپس کا انعقاد کیا جائے گا، جبکہ خواتین کو بیج اور پودے بھی فراہم کیے جائیں گے، سوشل میڈیا کے ذریعے رہنمائی کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا اور یونین کونسل سطح پر "سبز گھر” مہم بھی چلائی جائے گی،بہترین کارکردگی دکھانے والی خواتین کی حوصلہ افزائی کے لیے انعامات دیے جائیں گے

  • پانی کی شدید قلت، پاکستان خطرناک حد میں داخل

    پانی کی شدید قلت، پاکستان خطرناک حد میں داخل

    ‎پاکستان میں پانی کی قلت سنگین صورت اختیار کر گئی ہے اور ملک اب ان ممالک کی فہرست میں شامل ہو چکا ہے جہاں پانی کی دستیابی خطرناک حد تک کم ہو چکی ہے۔ تازہ رپورٹس کے مطابق پاکستان دنیا کا 14واں ملک بن گیا ہے جو شدید پانی کی کمی کا شکار ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق فی کس پانی کی سالانہ دستیابی اب 1000 کیوبک میٹر سے بھی کم ہو گئی ہے، جو عالمی معیار کے مطابق “واٹر اسکارس” یعنی شدید قلت کی سطح ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف شہری زندگی بلکہ زراعت اور معیشت کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔
    ‎رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ تیزی سے بڑھتی آبادی، پانی کے ضیاع، ذخیرہ کرنے کی ناکافی صلاحیت اور موسمیاتی تبدیلیاں اس بحران کی بڑی وجوہات ہیں۔ ملک میں بڑے ڈیمز کی کمی اور پانی کے مؤثر استعمال کی عدم منصوبہ بندی نے صورتحال کو مزید بگاڑ دیا ہے۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں پانی کا بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں خوراک کی قلت اور معاشی مسائل بھی بڑھ سکتے ہیں۔
    ‎حکومت اور متعلقہ اداروں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ پانی کے بہتر انتظام، نئے ذخائر کی تعمیر اور عوام میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔ شہریوں کو بھی چاہیے کہ پانی کے استعمال میں احتیاط کریں تاکہ اس قیمتی وسائل کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔
    ‎یہ صورتحال پاکستان کے لیے ایک واضح وارننگ ہے کہ اگر ابھی سے سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں یہ بحران ایک بڑے قومی مسئلے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

  • اسلام آباد مذاکرات،پاکستان کا غیر جانبدار اور سنجیدہ مؤقف،میڈیا کا ذمہ دارانہ کردار

    اسلام آباد مذاکرات،پاکستان کا غیر جانبدار اور سنجیدہ مؤقف،میڈیا کا ذمہ دارانہ کردار

    اسلام آباد میں جاری اہم سفارتی مذاکرات کے حوالے سے پاکستان نے ایک مرتبہ پھر اپنے مؤقف کو واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایک ایماندار اور مخلص ثالث کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ اصل ذمہ داری فریقین پر عائد ہوتی ہے کہ وہ کسی کم از کم مشترکہ نکتے پر اتفاق کریں۔

    سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ پیچیدہ، حساس اور دہائیوں پر محیط مسائل کسی ایک رات میں حل نہیں ہو سکتے، اس لیے مذاکراتی عمل کو صبر اور سنجیدگی کے ساتھ آگے بڑھانا ہوگا۔ ملک ہرگز یہ تاثر نہیں چاہتا کہ اگر مذاکرات سے کوئی ٹھوس نتیجہ برآمد نہ ہو تو اس کی ذمہ داری کسی حد تک پاکستان پر عائد کی جائے۔ اس لیے پاکستان نے خود کو ایک سہولت کار تک محدود رکھا ہے اور تمام فریقین کو تعمیری کردار ادا کرنے کی ترغیب دی ہے۔

    دوسری جانب پاکستانی میڈیا نے بھی ان مذاکرات کے حوالے سے غیر جانبدار، محتاط اور غیر قیاس آرائی پر مبنی رپورٹنگ کا مظاہرہ کیا ہے، جسے حکومتی حلقوں میں سراہا جا رہا ہے۔ عام حالات میں پاکستانی میڈیا نسبتاً زیادہ اظہارِ خیال کرتا ہے، تاہم اس موقع پر میزبان اور ثالث ہونے کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ذمہ دارانہ رویہ اپنایا گیا ہے۔

    پاکستان نے اس موقع پر اپنے اصولی مؤقف کا اعادہ بھی کیا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے معاملے پر اس کی پالیسی واضح، مستقل اور دستاویزی شکل میں موجود ہے، جس میں فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت شامل ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والے امریکا و ایران کے مذاکرات خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک اہم موقع فراہم کر سکتے ہیں، تاہم کامیابی کا دارومدار براہ راست متعلقہ فریقین کی سنجیدگی اور لچک پر ہوگا۔

  • امریکا،ایران مذاکرات،اسلام آباد میں ریڈ زون بند، شہریوں کیلئے اہم ہدایات جاری

    امریکا،ایران مذاکرات،اسلام آباد میں ریڈ زون بند، شہریوں کیلئے اہم ہدایات جاری

    راولپنڈی اور اسلام آباد میں 10 اپریل 2026 کو شام 5 بجے تک کی ٹریفک صورتحال کے مطابق شہر کے داخلی و خارجی راستے عام ٹریفک کیلئے کھلے رکھے گئے ہیں، تاہم ریڈ زون میں سکیورٹی کے باعث اہم شاہراہیں بدستور بند ہیں۔

    ٹریفک حکام کے مطابق ریڈ زون میں داخلے کیلئے متعدد راستوں پر رکاوٹیں اور متبادل راستوں کا انتظام کیا گیا ہے۔ اس دوران اسلام آباد ایکسپریس وے کو کورال چوک سے زیرو پوائنٹ تک جبکہ پرانے ائیرپورٹ کے علاقے سے بھی بند رکھا گیا ہے۔اسی طرح زیرو پوائنٹ سے سیرینا ہوٹل جانے والی سڑک کو بھی مکمل طور پر بند کردیا گیا ہے، جس کے باعث شہریوں کو متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ ٹریفک پلان ممکنہ طور پر 11 اپریل کی شام تک برقرار رہے گا، لہٰذا شہری غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور سفر سے قبل ٹریفک اپڈیٹس ضرور چیک کریں۔مزید کسی بھی نئی صورتحال یا تبدیلی سے متعلق شہریوں کو بروقت آگاہ کیا جائے گا۔

  • سعودی وزیر خزانہ کی  پاکستان آمد، پاکستانی وزیرخزانہ،سعودی سفیر نے کیا استقبال

    سعودی وزیر خزانہ کی پاکستان آمد، پاکستانی وزیرخزانہ،سعودی سفیر نے کیا استقبال

    سعودی عرب کے وزیرِ خزانہ محمد الجدعان جمعہ 10 اپریل 2026 کو دوپہر 3 بج کر 50 منٹ پر جدہ سے پرواز SV728 کے ذریعے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچ گئے۔

    ایئرپورٹ کے بین الاقوامی آمدی حصے میں سعودی عرب کے سفیر نواف سعید المالکی اور پاکستان کے وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے معزز مہمان کا استقبال کیا۔سرکاری ذرائع کے مطابق سعودی وزیرِ خزانہ نے ایئرپورٹ پر اسٹیٹ گیسٹ لاؤنج میں مختصر قیام کیا، جس کے بعد وہ شام 4 بج کر 9 منٹ پر اسلام آباد کے لیے روانہ ہوگئے۔اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے، جہاں اسپیشل برانچ کا عملہ ڈیوٹی پر موجود تھا جبکہ ضلعی پولیس نے بھی ایئرپورٹ پر سکیورٹی کے فرائض انجام دیے۔

  • تم کالے ہو،بیوی نے عاشق کے ساتھ ملکر شوہر کی جان لے لی

    تم کالے ہو،بیوی نے عاشق کے ساتھ ملکر شوہر کی جان لے لی

    بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش میں ایک تاجر کے قتل کا معاملہ ڈرامائی موڑ اختیار کر گیا، جہاں ابتدائی طور پر ڈکیتی قرار دی جانے والی واردات درحقیقت گھریلو سازش نکلی۔ پولیس نے مقتول کی بیوی اور اس کے مبینہ عاشق کو گرفتار کر لیا۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق 28 سالہ دیوکرشن پروہت کو 7 اپریل کی رات ان کے گھر میں تیز دھار ہتھیار سے قتل کیا گیا۔ واقعے کے فوراً بعد مقتول کی اہلیہ پریانکا پروہت نے پولیس کو بیان دیا کہ نامعلوم افراد گھر میں داخل ہوئے، ساڑھے 3 لاکھ روپے کے زیورات لوٹے اور مزاحمت پر اس کے شوہر کو قتل کر دیا،تاہم پولیس کو ابتدائی تفتیش کے دوران ہی بیان میں تضادات محسوس ہوئے۔ گھر کی تلاشی کے دوران وہی زیورات برآمد ہو گئے جنہیں مبینہ طور پر لوٹا گیا تھا، جبکہ موبائل فون کے ریکارڈ نے پریانکا پروہت اور کملیش پروہت کے درمیان قریبی رابطوں کا انکشاف کیا۔پولیس کے مطابق پریانکا اپنے مبینہ عاشق کملیش پروہت کے ساتھ مل کر شوہر کو راستے سے ہٹانا چاہتی تھی۔ اس مقصد کے لیے سریندر بھاٹی نامی شخص کو ایک لاکھ روپے کے عوض قتل کی ذمہ داری سونپی گئی۔

    تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ واردات کی رات گھر کا دروازہ جان بوجھ کر کھلا چھوڑا گیا تاکہ ملزم آسانی سے اندر داخل ہو سکے۔ بعد ازاں کمرے کو الٹ پلٹ کر ڈکیتی کا تاثر دیا گیا جبکہ پریانکا نے خود کو بھی متاثرہ ظاہر کرنے کی کوشش کی۔مسلسل تفتیش کے بعد پریانکا پروہت نے اپنے شوہر کے قتل میں ملوث ہونے کا اعتراف کر لیا۔ پولیس نے پریانکا اور کملیش کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ مرکزی ملزم سریندر بھاٹی تاحال مفرور ہے، جس کی تلاش جاری ہے۔دوسری جانب مقتول کے اہلِ خانہ نے انکشاف کیا ہے کہ پریانکا اکثر اپنے شوہر کو رنگت کے حوالے سے تضحیک کا نشانہ بناتی تھی اور اسے نازیبا القابات سے مخاطب کرتی تھی، جو کہ گھریلو تنازعات کی ایک ممکنہ وجہ بھی ہو سکتی ہے۔پولیس حکام کے مطابق مزید تفتیش جاری ہے اور مفرور ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

  • پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے اثرات،مہنگائی 19 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے اثرات،مہنگائی 19 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    اسلام آباد: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے اثرات ملک بھر میں نمایاں ہونا شروع ہوگئے ہیں، جس کے باعث ہفتہ وار مہنگائی میں تقریباً 2 فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ مجموعی مہنگائی کی شرح بڑھ کر 12.15 فیصد کی سطح پر پہنچ گئی ہے، جو گزشتہ 19 ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔

    ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ تازہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 28 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے عام شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق سبزیوں اور خوراک کی بنیادی اشیاء میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، ٹماٹر کی قیمت میں 9.35 فیصد، آلو میں 4.13 فیصد، پیاز میں 3.84 فیصد جبکہ انڈوں کی قیمت میں 3.77 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ بیف، مٹن اور بریڈ سمیت دیگر ضروری اشیاء بھی مہنگی ہوگئیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ مہنگائی کی بڑی وجہ بنا ہے۔ ایک ہفتے کے دوران ڈیزل کی قیمت میں 54.71 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ پیٹرول 18 فیصد مہنگا ہوا۔ اسی طرح ایل پی جی کی قیمت میں بھی 8.61 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

    ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ٹرانسپورٹ اور پیداواری لاگت میں اضافہ ہوتا ہے، جس کے اثرات براہ راست اشیائے خوردونوش اور دیگر ضروریات زندگی کی قیمتوں پر پڑتے ہیں۔عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ شہریوں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

  • اسلام آباد، امریکا ایران امن مذاکرات پر دنیا کی نظریں

    اسلام آباد، امریکا ایران امن مذاکرات پر دنیا کی نظریں

    دنیا بھر میں بے چینی کے ساتھ اس بات کا انتظار کیا جا رہا ہے کہ آیا پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والے امریکا اور ایران کے درمیان اہم امن مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچ پائیں گے یا نہیں۔ یہ مذاکرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کے کروڑوں افراد کی زندگیوں بلکہ عالمی معیشت، خصوصاً تیل کی منڈیوں کے مستقبل کا بھی تعین کریں گے۔

    اسلام آباد میں امریکی اور ایرانی وفود کی آمد کے پیش نظر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ حکومت نے دو روزہ عام تعطیل کا اعلان کیا ہے جس کے باعث شہر کی سڑکیں سنسان دکھائی دے رہی ہیں۔ یہ مذاکرات ایران،امریکا جنگ کے آغاز کے بعد پہلی براہِ راست بات چیت ہوں گے۔دو ہفتوں پر مشتمل ایک نازک جنگ بندی فی الحال برقرار ہے، جس نے ان مذاکرات کی راہ ہموار کی۔ تاہم لبنان میں اسرائیلی حملے اور جنگ بندی کے دائرہ کار پر اختلافات اس عمل کو سبوتاژ کر سکتے ہیں۔امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے، ایران نے باضابطہ طور پر اپنے وفد کا اعلان نہیں کیا، تاہم اطلاعات کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکروفد کی قیادت کر سکتے ہیں۔

    مذاکرات کے ایجنڈے پر دونوں ممالک کے درمیان شدید اختلافات پائے جاتے ہیں، امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے 10 نکاتی منصوبے کو قابلِ غور قرار دیا، تاہم ایران کی جانب سے پیش کردہ بعض شرائط جیسے آبنائے ہرمز پر کنٹرول، جنگی ہرجانے اور تمام پابندیوں کا خاتمہ،امریکا کے لیے ناقابل قبول سمجھی جا رہی ہیں۔
    دوسری جانب امریکا نے 15 نکاتی منصوبہ تیار کیا ہے، جس میں ایران سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کی ضمانت، افزودہ یورینیم کی حوالگی، دفاعی صلاحیتوں میں کمی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے جیسے مطالبات شامل ہیں۔

    لبنان اس وقت تنازع کا سب سے حساس پہلو بن چکا ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ جنگ بندی میں لبنان اور حزب اللہ شامل ہیں، جبکہ امریکا اور اسرائیل اس سے انکار کرتے ہیں۔جنگ بندی کے چند گھنٹوں بعد ہی اسرائیل نے لبنان میں شدید فضائی حملے کیے، جن میں 300 سے زائد افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے۔ اس صورتحال نے عالمی سطح پر شدید ردعمل پیدا کیا اور مذاکرات کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا۔

    دوسری جانب اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز تاحال مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکی۔ ایران کی جانب سے محدود آمدورفت کے باعث عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہوئی ہے، جبکہ سینکڑوں جہاز اب بھی خلیج میں پھنسے ہوئے ہیں۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے اپنی یقین دہانیاں پوری نہ کیں تو جنگ بندی ختم ہو سکتی ہے۔

    اگرچہ امریکا ان مذاکرات کے حوالے سے پرامید دکھائی دیتا ہے، تاہم ایران کا مؤقف اس کے برعکس ہے، جہاں سرکاری بیانات میں جنگ کو اپنی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ ملاقات ممکنہ طور پر ایک طویل اور پیچیدہ مذاکراتی سلسلے کا آغاز ہے، اور یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ آیا صرف ایک ویک اینڈ میں دونوں ممالک اپنے اختلافات ختم کر سکیں گے یا نہیں۔اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات عالمی سیاست کا رخ بدل سکتے ہیں۔ اگر کامیاب ہوئے تو مشرقِ وسطیٰ میں امن کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں، بصورت دیگر ایک بار پھر جنگ کے بادل منڈلا سکتے ہیں۔