Baaghi TV

Blog

  • 
پاک بحریہ کا شاندار ریسکیو آپریشن، 18 غیر ملکی عملہ محفوظ

    
پاک بحریہ کا شاندار ریسکیو آپریشن، 18 غیر ملکی عملہ محفوظ

    ‎پاک بحریہ نے شمالی بحیرہ عرب میں ایک کامیاب سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے دوران 18 افراد پر مشتمل غیر ملکی عملے کو بحفاظت بچا لیا۔ یہ کارروائی اس وقت عمل میں آئی جب تجارتی بحری جہاز “ایم وی گولڈ آٹم” سے ہنگامی سگنل موصول ہوا۔
    ‎پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ہنگامی اطلاع ملتے ہی پاک بحریہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کیا۔ اس دوران پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس حنین نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام افراد کو بحفاظت ریسکیو کر لیا۔
    ‎آئی ایس پی آر کے مطابق ریسکیو کیے گئے افراد کا تعلق مختلف ممالک سے ہے جن میں چین، بنگلادیش، میانمار، ویتنام اور انڈونیشیا شامل ہیں۔ کارروائی کے دوران بحریہ کی ماہر ٹیم نے نہ صرف عملے کو محفوظ مقام پر منتقل کیا بلکہ انہیں فوری طبی امداد بھی فراہم کی۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ جہاز پر آگ لگنے کے خدشے کے پیش نظر ریسکیو ٹیم نے آگ بجھانے میں بھی مدد فراہم کی اور صورتحال کو قابو میں رکھا۔ اس کے ساتھ ساتھ جہاز کو پہنچنے والے نقصان کا بھی جائزہ لیا گیا تاکہ مزید خطرات سے بچا جا سکے۔
    ‎ریسکیو کیے گئے تمام افراد کو بعد ازاں بحفاظت کراچی منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں مزید طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور ان کی اپنے ممالک واپسی کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
    ‎آئی ایس پی آر کے مطابق پاک بحریہ ہر قسم کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے اور سمندری حدود میں انسانی جانوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتی ہے۔
    ‎یہ کامیاب آپریشن پاک بحریہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور فوری ردعمل کی

  • پاکستان کا بدلتا ہوا عالمی امیج: پروپیگنڈہ سے سفارتی حقیقت تک،تجزیہ: شہزاد قریشی

    پاکستان کا بدلتا ہوا عالمی امیج: پروپیگنڈہ سے سفارتی حقیقت تک،تجزیہ: شہزاد قریشی

    “پاکستان کا بدلتا عالمی چہرہ: پروپیگنڈے سے حقیقت تک”
    “بیانیے کی جنگ میں پاکستان کی کامیابی: عالمی اعتماد کی بحالی”
    “اسلام آباد سے امن کا پیغام: پاکستان کا ابھرتا سفارتی کردار”
    “دہشتگردی کے الزامات سے امن کے علمبردار تک: پاکستان کا سفر”
    “عالمی منظرنامے میں پاکستان: ایک ذمہ دار ریاست کا نیا تعارف”
    تجزیہ:شہزاد قریشی
    گزشتہ چند دہائیوں میں پاکستان کو عالمی سطح پر جس بیانیے کا سامنا رہا، وہ زیادہ تر سکیورٹی خدشات، دہشتگردی کے الزامات اور علاقائی کشیدگی کے گرد گھومتا تھا۔ خاص طور پر 9/11 کے بعد کے دور میں پاکستان کو ایک طرف “فرنٹ لائن اسٹیٹ” کے طور پر تسلیم کیا گیا، تو دوسری جانب اس پر دوہری پالیسیوں کے الزامات بھی عائد ہوتے رہے۔ اس ماحول میں نے عالمی سفارتی محاذ پر پاکستان کے خلاف ایک مضبوط اور منظم بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کی، جس میں اسے دہشتگردی سے جوڑ کر پیش کیا گیا۔

    تاہم، وقت کے ساتھ ساتھ حالات نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔ پاکستان نے داخلی سطح پر دہشتگردی کے خلاف بھرپور اور فیصلہ کن اقدامات کیے۔ آپریشن ضربِ عضب اور ردالفساد جیسے اقدامات نے نہ صرف ملک کے اندر امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا بلکہ عالمی سطح پر بھی یہ پیغام دیا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف سنجیدہ اور عملی کردار ادا کر رہا ہے۔ ان قربانیوں اور کوششوں کا اعتراف سمیت متعدد عالمی اداروں کی جانب سے کیا گیا، جو اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ عالمی برادری کا نقطہ نظر بتدریج تبدیل ہو رہا ہے۔

    علاقائی سطح پر بھی پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنا کردار ادا کیا۔ خصوصاً میں قیامِ امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کاوشیں قابل ذکر رہیں۔ کے تناظر میں پاکستان کا کردار نہ صرف اہم رہا بلکہ سمیت دیگر عالمی طاقتوں نے بھی اسے تسلیم کیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب پاکستان کو ایک “مسئلے کا حصہ” نہیں بلکہ “حل کا حصہ” سمجھا جانے لگا۔

    آج ایک ابھرتے ہوئے سفارتی مرکز کے طور پر سامنے آ رہا ہے، جہاں علاقائی اور بین الاقوامی مذاکرات کا انعقاد ہو رہا ہے۔ یہ تبدیلی اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر ایک ذمہ دار، سنجیدہ اور امن پسند ریاست کے طور پر اپنی جگہ بنا رہا ہے۔ عالمی میڈیا میں بھی اب پاکستان کے حوالے سے بیانیہ یک رخی نہیں رہا بلکہ اس میں معاشی بہتری، سکیورٹی استحکام اور ثقافتی سرگرمیوں جیسے مثبت پہلو بھی شامل ہو چکے ہیں۔
    تاہم، اس تمام پیش رفت کے باوجود یہ کہنا کہ پاکستان کا امیج مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے، شاید قبل از وقت ہو گا۔ عالمی سیاست میں بیانیے ہمیشہ مفادات کے تابع ہوتے ہیں، اور پاکستان کو اب بھی معاشی استحکام، گورننس، اور علاقائی توازن جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ یہ وہ عوامل ہیں جو کسی بھی ملک کے عالمی امیج کو متاثر کرتے ہیں۔

    حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے “بیانیے کی جنگ” میں ایک اہم موڑ ضرور حاصل کیا ہے۔ آج اگر پاکستان کو عالمی سطح پر ایک امن کے داعی اور ذمہ دار ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے تو یہ اس کی مسلسل کوششوں، قربانیوں اور مؤثر سفارتکاری کا نتیجہ ہے۔ مگر اس کامیابی کو برقرار رکھنے کے لیے مستقل مزاجی، پالیسی کا تسلسل اور عالمی سطح پر فعال کردار ادا کرنا ناگزیر ہے۔

    یہ پاکستان کے لیے یقیناً ایک اہم اور حوصلہ افزا لمحہ ہے، مگر یہ سفر ابھی ختم نہیں ہوا،بلکہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا ہے جہاں کامیابی کا دارومدار مستقل کارکردگی اور دانشمندانہ فیصلوں پر ہو گا۔

  • 
پابندی ختم ہونے کے بعد ہزاروں فلسطینیوں کی مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ کی ادائیگی

    
پابندی ختم ہونے کے بعد ہزاروں فلسطینیوں کی مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ کی ادائیگی

    اسرائیل کی جانب سے مسجد اقصیٰ میں داخلے پر عائد پابندی ختم کیے جانے کے بعد آج ہزاروں فلسطینیوں نے مسجد اقصیٰ میں باجماعت نماز جمعہ ادا کی۔ پابندی کے خاتمے کے بعد بڑی تعداد میں نمازی قبلہ اول پہنچے اور روح پرور اجتماع دیکھنے میں آیا۔
    رپورٹس کے مطابق گزشتہ دنوں سکیورٹی خدشات کو وجہ بنا کر اسرائیلی حکام نے مسجد اقصیٰ میں داخلے پر مختلف پابندیاں عائد کر رکھی تھیں، جس کے باعث متعدد فلسطینیوں کو نماز کی ادائیگی سے روکا گیا تھا۔ تاہم پابندی ہٹنے کے بعد آج صورتحال میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی اور نمازیوں کی بڑی تعداد مسجد اقصیٰ میں جمع ہوئی۔
    نماز جمعہ کے موقع پر مسجد اقصیٰ اور اس کے اطراف میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے، جبکہ فلسطینی شہریوں نے پرامن انداز میں عبادات ادا کیں۔ اس موقع پر لوگوں نے نہ صرف نماز ادا کی بلکہ قبلہ اول سے اپنی عقیدت کا اظہار بھی کیا۔
    ‎مقامی ذرائع کے مطابق مختلف علاقوں سے آنے والے فلسطینیوں نے مسجد اقصیٰ تک رسائی حاصل کرنے کے لیے طویل سفر طے کیا۔ کئی افراد صبح سویرے ہی مسجد کے دروازوں پر پہنچ گئے تھے تاکہ وہ اس مقدس مقام پر نماز جمعہ کی سعادت حاصل کر سکیں۔
    ہے، اور یہاں عبادت کی آزادی ایک حساس اور اہم معاملہ تصور کیا جاتا ہے۔ پابندیوں کے خاتمے کے بعد ہزاروں افراد کی شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ فلسطینی عوام اس مقام سے گہری مذہبی وابستگی رکھتے ہیں۔

  • 
اسلام آباد ہائی الرٹ، امریکی و ایرانی وفود کی آمد متوقع

    
اسلام آباد ہائی الرٹ، امریکی و ایرانی وفود کی آمد متوقع

    ‎اسلام آباد میں امریکی اور ایرانی وفود کی متوقع آمد کے پیش نظر سیکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے، جبکہ دارالحکومت میں غیر یقینی اور انتظار کی کیفیت برقرار ہے۔ حکام کے مطابق وفود کی آمد کسی بھی وقت متوقع ہے، تاہم ابھی تک باضابطہ طور پر کسی وفد کی آمد کی تصدیق نہیں کی گئی۔
    ‎بی بی سی کی ٹیم جب ڈی چوک کے علاقے میں، ایوانِ صدر اور پارلیمنٹ کے سامنے مرکزی چوراہے کے قریب رپورٹنگ کر رہی تھی تو پولیس نے میڈیا ٹیموں کو پیچھے ہٹنے کی ہدایت دی۔ اسلام آباد پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر یہ اقدامات کیے جا رہے ہیں اور وفود کی آمد کے حوالے سے حساس معلومات شیئر نہیں کی جا سکتیں۔
    ‎ریڈ زون، جہاں اہم سرکاری عمارتیں اور غیر ملکی سفارت خانے واقع ہیں، کو خاردار تار لگا کر مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ شہر بھر میں چیک پوسٹس کی تعداد بڑھا دی گئی ہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک معمول سے کم دیکھنے میں آ رہی ہے۔ پولیس، فوج اور نیم فوجی دستے سیکیورٹی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
    ‎اس کے ساتھ ساتھ عالمی میڈیا کی توجہ بھی اسلام آباد پر مرکوز ہے اور متعدد بین الاقوامی صحافی شہر پہنچ چکے ہیں تاکہ ممکنہ مذاکرات کی کوریج کی جا سکے۔
    ‎دلچسپ امر یہ ہے کہ گزشتہ روز پاکستان میں ایران کے سفیر کی جانب سے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں وفد کی آمد کا عندیہ دیا گیا تھا، تاہم وہ پوسٹ کچھ ہی دیر بعد حذف کر دی گئی، جس کے بعد مزید قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں۔
    ‎ابھی تک پاکستان کی جانب سے مذاکرات کا کوئی باضابطہ شیڈول جاری نہیں کیا گیا، تاہم وائٹ ہاؤس پہلے ہی عندیہ دے چکا ہے کہ ممکنہ بات چیت ہفتے کی صبح ہو سکتی ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال انتہائی حساس ہے اور اگر یہ مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

  • اسرائیلی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان میں ایمبولنسز اور فائر بریگیڈ کی گاڑیوں پر حملے

    اسرائیلی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان میں ایمبولنسز اور فائر بریگیڈ کی گاڑیوں پر حملے

    ‎لبنان میں اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جہاں تازہ فضائی حملوں میں طبی عملے اور امدادی گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ لبنانی حکام کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں نے راس العین کے علاقے میں ایمبولینسز اور فائر بریگیڈ کی گاڑیوں پر بمباری کی، جس سے امدادی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے باعث نہ صرف انسانی جانوں کو خطرہ لاحق ہوا ہے بلکہ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے میں بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کے مطالبات کو مسلسل مسترد کیے جانے کے باعث خطے میں انسانی بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
    ‎دوسری جانب عالمی سطح پر بھی ان حملوں پر ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ آئرلینڈ کے وزیر خارجہ یوسف رگی نے اپنے لبنانی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور اسرائیلی کارروائیوں کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ لبنان پر حملے ناقابل قبول ہیں اور عالمی برادری کو فوری طور پر مداخلت کرتے ہوئے انہیں رکوانا چاہیے۔
    ‎آئرش وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ طبی عملے اور امدادی ٹیموں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، اور اس طرح کی کارروائیاں کسی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے فوری جنگ بندی اور انسانی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
    ‎ادھر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے بھی بغیر نام لیے امریکا کو خبردار کیا کہ وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے اتحادی، جن میں لبنان بھی شامل ہے، کسی بھی ممکنہ جنگ بندی عمل کا لازمی حصہ ہوں گے اور انہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
    ‎یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ لبنان ایران کے ساتھ ہونے والے کسی جنگ بندی معاہدے کا حصہ نہیں ہے۔ ایران کی جانب سے پیش کی گئی 10 نکاتی تجاویز کو بھی مسترد کیا جا چکا ہے، جبکہ نئی تجاویز پر ایران اور پاکستان کے ساتھ مشاورت جاری ہے، تاہم ان کی تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں۔

  • 
مودی حکومت کا یوٹرن، مشرق وسطیٰ بحران پر پہلی بار ردعمل

    
مودی حکومت کا یوٹرن، مشرق وسطیٰ بحران پر پہلی بار ردعمل

    میں جاری کشیدگی پر اپنا ردعمل دے دیا ہے۔ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تنقید کے بعد بھارتی وزارت خارجہ نے پہلی بار لبنان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا، تاہم منافقت دکھاتے ہوئے بیان میں اسرائیل کا نام لینے سے گریز کیا گیا۔
    بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ لبنان میں بڑے پیمانے پر ہونے والی ہلاکتیں نہایت پریشان کن ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی قوانین، قومی خودمختاری اور ریاستی سلامتی کا احترام ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
    ‎ترجمان کے مطابق بھارت موجودہ صورتحال کو انتہائی تشویشناک سمجھتا ہے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ بھارت اقوام متحدہ کے امن مشن میں فعال کردار ادا کرتا ہے اور لبنان کے امن و استحکام میں اس کی گہری دلچسپی موجود ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں امن برقرار رکھنا عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
    ‎یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لبنان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر دنیا بھر میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں اسرائیلی افواج کی جانب سے لبنان پر شدید فضائی حملے کیے گئے، حالانکہ اس سے قبل ایران کے ساتھ جنگ بندی کا اعلان کیا جا چکا تھا۔
    ‎لبنان کی سول ڈیفنس اتھارٹی کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 254 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 1165 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی ان حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور سفارتی حل پر زور دیا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق بھارت کا یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نئی دہلی پر عالمی دباؤ بڑھ رہا تھا، جس کے باعث اسے اس حساس معاملے پر اپنی پوزیشن واضح کرنا پڑی۔ تاہم اسرائیل کا نام نہ لینا اس بات کی علامت ہے کہ بھارت ابھی بھی منافقانہ سفارتی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے۔

  • گوجر خان،اویس ملنگی کے والد کے الزامات حقائق کے منافی ہیں، پولیس ذرائع

    گوجر خان،اویس ملنگی کے والد کے الزامات حقائق کے منافی ہیں، پولیس ذرائع

    گوجرخان (قمرشہزاد) تھانہ گوجرخان پولیس پر ملزم اویس عرف ملنگی کی مبینہ گرفتاری اور بعد ازاں لاش ملنے کے الزامات کی وائرل ویڈیو کا معاملہ ۔ پولیس ذرائع نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کو حقائق مسخ کرنے کی ناکام کوشش قرار دیتے ہوئے تمام الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

    پولیس ذرائع کے مطابق اویس عرف ملنگی کوئی عام شہری نہیں بلکہ ایک ضلعی ہسٹری شیٹر تھا، جس کے خلاف 2009 سے 2026 تک تھانہ گوجرخان، مندرہ، کلر سیداں، تھانہ ریس کورس، تھانہ سول لائن، تھانہ ایئرپورٹ، تھانہ رتا امرال، تھانہ نیو ٹاؤن، اور راولپنڈی کے دیگر تھانوں میں سنگین نوعیت کے درجنوں مقدمات درج ہیں۔ ملزم بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے دفتر میں بیواؤں کی امدادی رقوم لوٹنے کی حالیہ واردات میں گوجرخان پولیس کو مطلوب تھا۔ اس مقدمے میں گرفتار ہمراہی ملزم حیدر جو فی الوقت اڈیالہ جیل میں ہے اس نے بھی دورانِ تفتیش اویس ملنگی کے اس واردات میں ملوث ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے ہوشربا انکشافات کیے تھے۔ پولیس ذرائع نے دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ گوجرخان پولیس نے ملزم کو نہ تو گرفتار کیا اور نہ ہی اس کے ٹھکانے پر کوئی ریڈ کیا، الزامات کا مقصد محض پولیس پر دباؤ ڈالنا اور سنگین کیس کا رخ تبدیل کرنا ہے ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے پولیس کا مورال ڈاؤن نہیں کیا جا سکتا۔ جبکہ دوسری طرف دلچسپ امر یہ ہے کہ ملزم اویس ملنگی کی اپنی سوشل میڈیا پر کچھ ویڈیوز بھی منظرِ عام پر آئی ہیں جن میں وہ نہ صرف شہریوں کے نام لے کر انہیں ہراساں کر رہا ہے بلکہ فخریہ طور پر اعتراف کر رہا ہے کہ اس پر اقدامِ قتل، اغوا اور مخالفین کا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ تشدد کرنے کے متعدد پرچے درج ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ریکارڈ یافتہ مجرم کی لاش دوسرے ضلع سے ملنے کے واقعے کو پولیس کے کھاتے میں ڈالنا قانون سے بچنے کی ایک ناکام کوشش ہے معاملے کی شفاف تحقیقات جاری ہیں۔

  • امریکی نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان روانگی کے لئے تیار

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان روانگی کے لئے تیار

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے پاکستان کے دورے کی تیاریاں جاری ہیں، جہاں وہ ایران سے ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے اہم سفارتی بات چیت کریں گے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے میں کشیدگی کم کرنے اور عالمی معیشت کو مستحکم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
    ‎امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ مذاکرات کا خواہاں ہے اور اس سلسلے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی واضح ہدایات کے تحت کام کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا خطے میں امن کے قیام کے لیے سنجیدہ ہے اور پاکستان اس عمل میں ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
    ‎سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان اس وقت ایک نہایت حساس ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہے، جہاں اسے ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کے لیے ثالثی کرنی ہے۔ بعض ماہرین اس مشن کو انتہائی مشکل قرار دے رہے ہیں، تاہم پاکستان کی حالیہ سفارتی کوششوں کو مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔
    ‎آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف نے حالیہ ہفتوں میں بھرپور سفارتی سرگرمیاں انجام دی ہیں تاکہ خطے میں ممکنہ جنگ کو روکا جا سکے۔ خاص طور پر پاکستان کی مغربی سرحدوں، ایران اور افغانستان کے ساتھ، کشیدگی میں اضافہ خطے کے استحکام کے لیے خطرہ بن سکتا تھا۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق اگر پاکستان اس نازک صورتحال میں کامیاب ثالثی کر لیتا ہے تو یہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک بڑی سفارتی کامیابی ہوگی۔ اس سے عالمی معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔
    ‎یہ دورہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان کو ایک بار پھر عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی کردار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں پیچیدہ تنازعات کے حل کے لیے اس کی صلاحیتوں پر اعتماد کیا جا رہا ہے۔

  • بیوہ خواتین کی امدادی رقم لوٹنے والا خطرناک گینگ بے نقاب سرغنہ گرفتار

    بیوہ خواتین کی امدادی رقم لوٹنے والا خطرناک گینگ بے نقاب سرغنہ گرفتار

    گوجرخان (قمرشہزاد) گوجرخان پولیس نے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ایک بار پھر اپنی برتری ثابت کر دی۔ اے ایس پی سید دانیال حسن کی زیرِ نگرانی اور ایس ایچ او تھانہ گوجرخان مرزا طیب ظہیر بیگ کی قیادت میں پولیس ٹیم نے سرور شہید کالج کے قریب بینظیر انکم سپورٹ آفس کے باہر دن دیہاڑے ہونے والی سنگین ڈکیتی کی واردات کی گھتیاں سلجھا دیں۔ اے ایس آئی ثاقب اور ان کی ٹیم نے جدید سائنٹیفک ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ مہارت کا استعمال کرتے ہوئے محض چند روز میں اصل ملزمان کا گھیرا تنگ کیا اور شرقی علاقے کمانیدریال سے حیدر نامی ملزم کو دبوچ لیا۔

    دورانِ تفتیش گرفتار ملزم حیدر نے ہوشربا سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں، جس کے بعد اس کے ہمراہی ساتھیوں اویس اور دیگر سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے پولیس نے جال بچھا دیا ہے۔ ایس ایچ او مرزا طیب ظہیر بیگ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ملزم کے انکشافات کی روشنی میں مزید سنسنی خیز گرفتاریاں متوقع ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ گرفتار ملزم اور اس کے ساتھی ضلعی سطح پر سنگین جرائم میں ریکارڈ یافتہ ہیں اور ضلع راولپنڈی کے متعدد تھانوں میں ان کے خلاف مقدمات درج ہیں۔ بیوہ اور بے سہارا خواتین کے حق پر ڈاکہ ڈالنے والے اس گروہ کی گرفتاری پر عوامی سماجی حلقوں نے اے ایس پی سید دانیال حسن اور ایس ایچ او مرزا طیب ظہیر بیگ اور ٹیم کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ان درندہ صفت عناصر کو نشانِ عبرت بنایا جائے تاکہ مستقبل میں کسی کو ایسی جسارت کی ہمت نہ ہو سکے۔ ملزم کو شناخت پریڈ کے لیے اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ لوٹی گئی رقم کی برآمدگی کے لیے تحرک جاری ہے۔

  • پاکستان کی شاندار سفارتکاری،مرکزی مسلم لیگ کا یوم تشکر،شہروں میں ریلیاں

    پاکستان کی شاندار سفارتکاری،مرکزی مسلم لیگ کا یوم تشکر،شہروں میں ریلیاں

    مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام امریکا،ایران جنگ بندی کروانے میں پاکستان کے کردار پر یوم تشکر منایا گیا، لاہور سمیت متعدد شہروں میں ریلیاں نکالی گئیں، خطبات جمعہ میں علماء کرام نے خطے میں قیام امن کے لئے پاکستان کے کردار کو موضوع بنایا، جنگ بندی مذاکرات کی کامیابی کے لئے خصوصی دعائیں کی گئیں

    مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام یوم تشکر کے سلسلہ میں لاہور، قصور،ننکانہ،بہاولنگر،ڈیرہ اسماعیل خان ،پاکپتن،موڑ کھنڈا،چیچہ وطنی،لالیاں ،چنیوٹ سمیت دیگر شہروں میں ریلیوں میں ہزاروں افراد شریک ہوئے،ریلیوں کے شرکاء نے ہاتھوں میں قومی پرچم اٹھا رکھے تھے اور پاکستان کے حق میں نعرے لگاتے رہے، شرکاء نے حکومتِ پاکستان اور پاک فوج کی حالیہ سفارتی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے زبردست خراجِ تحسین پیش کیا،مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام لاہور میں مال روڈ پر یوم تشکر کی ریلی نکالی گئی،ریلی کی قیادت جنرل سیکرٹری لاہور چوہدری حمید الحسن گجر نے کی، ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ پاکستان کی شاندار سفارتکاری کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی راہ ہموار ہو رہی ہے،پاکستان کی اس شاندار سفارتی کامیابی نے پوری قوم کے دلوں کو سکون اور فخر سے بھر دیا ہے۔ ہم ریاستِ پاکستان، حکومت اور پاک فوج کو اس عظیم کامیابی پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ جامع مسجد القادسیہ میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب میں مرکزی مسلم لیگ کے نائب صدر حافظ عبدالرؤف کاکہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو عزت عطا فرمائی ہے،حالات کو دیکھیں،اس خطے میں سب سے محفوظ ملک آج پاکستان ہے، اللہ نے پاکستان کو دفاع عطا کیا،یہ اللہ کا احسان ہے ،مذاکرات کی کامیابی کے لئے دعا گو ہیں، پاکستان آج دنیا کے فیصلے کر رہا ہے، اسلام آباد کی طرف سب کی نظریں ہیں، پاکستان پر معاشی پابندیاں لگوانے ،تنہا کرنے والوں کے خواب ٹوٹ چکے، مرکزی مسلم لیگ قصور کی جانب سے ریلی میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ریلی کی قیادت جنرل سیکرٹری رانا محمد اشفاق نے کی، مرکزی مسلم لیگ پاکپتن کے زیر اہتمام ریلی کا اہتمام کیا گیا جس کی قیادت جنرل سیکرٹری پاکستان مرکزی مسلم لیگ پاکپتن نے کی،مرکزِ شہداء کالج روڈ سے کمرشل کالج چوک بہاولنگر تک اظہارِ تشکر ریلی کا انعقاد کیا گیا، ریلی کی قیادت مرکزی مسلم لیگ بہاولنگ کے صدر چوہدری کاشف جاوید نے کی، مرکزی مسلم لیگ پی پی 135 موڑ کھنڈا کے زیر اہتمام تشکر ریلی کا انعقاد کیا گیا، ریلی میں علاقے بھر سے مختلف مذہبی و سیاسی جماعتوں کے نمائندگان اور عوام الناس نے بڑی تعداد میں شرکت کی، اظہار تشکر ریلیوں سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ یہ 10 مئی کے بعدپاکستان کی ایک اور بڑی کامیابی ہے ،ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدہ حالات کے باعث دنیا ایک بڑی جنگ کی طرف بڑھ رہی تھی، تاہم پاکستان نے اس صورتحال میں اہم اور مثبت کردار ادا کیا، پاکستان کی بروقت سفارتی کوششوں نے خطے میں امن کے قیام میں اہم کردار ادا کیا، جو قابلِ تحسین ہے۔