Baaghi TV

Blog

  • سویڈن میں طالبان رجیم کیخلاف افغان مہاجرین کا شدید احتجاج

    سویڈن میں طالبان رجیم کیخلاف افغان مہاجرین کا شدید احتجاج

    سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں سینکڑوں افغان مہاجرین طالبان رجیم کی پالیسیوں اور خواتین پر مظالم کیخلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔

    سٹاک ہوم میں سینکڑوں افغان مہاجرین طالبان رجیم کی پالیسیوں اور خواتین پر مظالم کیخلاف سڑکوں پر نکل آئے، پلے کارڈز اٹھائے مظاہرین کا طالبان رجیم کیخلاف شدید نعر ے بازی، عالمی برادری سے فوری ایکشن کا مطالبہ کیا مظاہرین نے موقف اپنایا کہ طالبان رجیم سے سیاسی یا معاشی تعلقات رکھنا بےگناہ اور معصوم افغان مقتولین سے غداری ہے، یورپی سرزمین پر افغان طالبان جیسے انتہا پسند اور دہشت گرد غاصبوں کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے، سویڈش حکومت اور یورپی یونین افغان طالبان رہنماؤں کے یورپ داخلے اور ویزوں کے اجراء پر فوری اور مکمل پابندی عائد کرے۔

    عالمی تنظیم ورلڈ لبرٹی کانگریس نے افغان رجیم کی ہرات میں مظاہرین پر فائرنگ اور تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں خواتین اور صحافیوں کیخلاف جاری کریک ڈاؤن طالبان رجیم کا انسانی حقوق سے انکار اور بدترین "جینڈر اپارتھائیڈ” کا ثبوت ہے، دنیا بھر میں مظاہروں کی بڑھتی ہوئی تعداد یہ دکھاتی ہے کہ افغان عوام اب طالبان رجیم کے جابرانہ اقتدارکو مزید قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

  • کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کےممبرکورکمیٹی انجم زمان اعوان کا لاتعلقی کا اعلان

    کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کےممبرکورکمیٹی انجم زمان اعوان کا لاتعلقی کا اعلان

    کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کوایک اوربڑا جھٹکا، ممبرکورکمیٹی انجم زمان اعوان نے لاتعلقی کا اعلان کر دیا

    بیرونی اشاروں پر افراتفری اور قتل وغارت پھیلانے والی انتشاری کمیٹی سے ارکان لاتعلقی کا اعلان کر رہے ہیں.کورممبرانجم زمان اعوان نے انتشار کو مسترد کر کے نوجوانوں کو مثبت سیاست کی جانب واپس آنے کی اپیل کر دی،کورممبر کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی انجم زمان اعوان نے اپنے ویڈیو پیغام منظر عام پر آگیا، جس میں کہا گیا کہ
    نوجوانوں کوبتانا چاہتا ہوں کہ علیحدگی اورخودمختاری کے جن نعروں پراکسایا جا رہا ہے ان کے پیچھے پاکستان دشمن قوتیں ہیں۔کچھ عناصر نوجوانوں کو ورغلا رہےہیں،ان عناصر کے پیچھے پاکستان دشمن ایجنسیاں اور پس پردہ ڈیل ہیں۔ہماری پرامن تحریک کا رخ بدل کر نوجوانوں کو قانون شکنی پر مجبور کیاگیا۔قانون شکنی سے نوجوانوں کے مستقبل کو نقصان پہنچا۔ کالعدم ایکشن کمیٹی کی تباہ کن سیاست سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کرتا ہوں۔ کسی ایسے گروہ یا تنظیم کا حصہ نہ بنیں جس کے اندر پاکستان دشمنی کا ایجنڈا موجود ہو۔ماہرین کے مطابق انجم زمان سے قبل امجد علی خان ایڈووکیٹ بھی کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے اظہار لاتعلقی کر چکےہیں۔

    انجم زمان کےپیغام سے شرپسند ٹولے کا انتشاری ایجنڈا کھل کر سامنے آگیا ہے۔ انجم زمان نے پاک فوج اور پاکستان کیخلاف بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے اتنشاری کمیٹی سے خود کو الگ کرلیا ہے

  • لندن کا معروف ریسٹورنٹ گروپ ماروش   انتظامی بحران کا شکار

    لندن کا معروف ریسٹورنٹ گروپ ماروش انتظامی بحران کا شکار

    لندن: برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں عرب اور لبنانی ثقافت کی پہچان سمجھے جانے والے معروف لبنانی ریسٹورنٹ گروپ ماروش کے بارے میں اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ کمپنی انتظامی نگرانی ے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ تاہم ریسٹورنٹ انتظامیہ نے ان خبروں کے باوجود اپنے صارفین کو یقین دہانی کرائی ہے کہ کاروبار معمول کے مطابق جاری ہے اور مستقبل میں بھی خدمات فراہم کرنے کا عزم برقرار ہے۔

    رپورٹس کے مطابق لبنانی نژاد میاں بیوی معروف اور ہدیٰ ابوزکی نے 1981 میں ماروش کی بنیاد رکھی تھی۔ یہ جوڑا لبنان کی خانہ جنگی کے دوران لندن منتقل ہوا تھا اور اس نے برطانوی عوام کو مستند لبنانی کھانوں اور ثقافت سے روشناس کرانے کے لیے ایج ویئر روڈ پر پہلا ریسٹورنٹ قائم کیا۔چند ہی برسوں میں ماروش لندن کے عرب کمیونٹی مراکز میں شمار ہونے لگا اور اس نے برطانوی اور عرب صارفین کی بڑی تعداد کو اپنی جانب متوجہ کیا۔ ایج ویئر روڈ پر قائم اس کا مرکزی ریسٹورنٹ اپنی پرجوش فضا، رات گئے تک سروس، لبنانی موسیقی اور روایتی تفریحی پروگراموں کی وجہ سے خاص شہرت رکھتا تھا۔

    میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ لندن گزٹ میں شائع ہونے والے ایک نوٹس کے بعد کمپنی انتظامی عمل میں داخل ہو چکی ہے، تاہم ماروش انتظامیہ نے اس حوالے سے براہِ راست کوئی وضاحت نہیں کی۔ ریسٹورنٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’’ماروش بدستور کھلا ہے اور معمول کے مطابق اپنے صارفین کی خدمت کر رہا ہے۔ ہم 1981 سے لندن کا حصہ ہیں اور آنے والے کئی برسوں تک اپنے مہمانوں کی میزبانی جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔‘‘

    دوسری جانب مالی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنی گزشتہ چند برسوں سے مالی دباؤ کا سامنا کر رہی تھی۔ مارچ 2024 کو ختم ہونے والے مالی سال کے دوران ماروش کو 34 لاکھ پاؤنڈ سے زائد خالص نقصان برداشت کرنا پڑا، جبکہ آڈیٹرز نے بھی کمپنی کے مستقبل میں کاروبار جاری رکھنے کی صلاحیت کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا تھا۔

    ماہرین کے مطابق برطانیہ کی مہمان نوازی اور ریسٹورنٹ انڈسٹری اس وقت بڑھتی ہوئی آپریٹنگ لاگت، افرادی قوت کی کمی اور صارفین کے بدلتے ہوئے اخراجاتی رجحانات جیسے چیلنجز سے دوچار ہے، جس کے باعث متعدد کاروبار مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔تاحال منتظمین کی جانب سے کمپنی کی مالی مشکلات کی وجوہات یا ماروش برانڈ کے مستقبل کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم ریسٹورنٹ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے صارفین کو بہترین لبنانی کھانوں اور مہمان نوازی کی روایت فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے

  • پنجاب حکومت کا خواتین کے معاشی استحکام کے لیے’سحر‘ منصوبہ

    پنجاب حکومت کا خواتین کے معاشی استحکام کے لیے’سحر‘ منصوبہ

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے کی خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنانے کے لیے ’اسکل اینہانسمنٹ تھرو ہوم ریچ پروگرام‘ (سحر) کا آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت پنجاب بھر کی 5 ہزار 365 خواتین کو گھر بیٹھے مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق فنی اور پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جائے گی۔

    وویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے تحت شروع کیے گئے اس منصوبے پر 97 کروڑ روپے سے زائد لاگت آئے گی، جبکہ اس کا مقصد ہنرمند لیبر فورس میں خواتین کے تناسب میں اضافہ اور انہیں روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنا ہے پروگرام کے تحت دور دراز، نیم شہری اور شہری علاقوں کی خواتین کو بیوٹیفکیشن سروسز، ہاسپٹیلٹی اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تربیت دی جائے گی۔

    پنجاب ڈویلپمنٹ کونسل فار پلاننگ کے ذیلی ادارے آئی تھم کے اشتراک سےایک ہزار 260 خواتین کے لیے ہاسپٹیلٹی کورسز کا انعقاد کیا جا رہا ہے،جن میں کلنری آرٹس، بیکنگ گیسٹ ریلیشنز، فرنٹ ڈیسک مینجمنٹ اور ایئر لائن مینجمنٹ کی تربیت شامل ہےلاہور،فیصل آباد،راولپنڈی، ملتان اور گوجرانوالہ میں ہاسپٹیلٹی ٹریننگ کورس کےپہلے بیچ کی تربیت مکمل ہو چکی ہے۔

    اسی طرح نیل بار کے تعاون سے 4 اضلاع میں 2 ہزار 65 خواتین کے لیے بیوٹیفکیشن کورسز کا اہتمام کیا گیا ہے، جن میں ہیر اسٹائلنگ، سکن کیئر، میک اپ اور نیل آرٹ کی تربیت دی جا رہی ہے،پروگرام کے تحت 2 ہزار 40 خواتین کو پنجاب اسکلز ڈویلپمنٹ فنڈ کے اشتراک سے 6 ماہ پر مشتمل ڈیجیٹل اسکلز ٹریننگ دی جائے گی تربیت حاصل کرنے والی خواتین کو لیپ ٹاپ، انٹرنیٹ ڈیوائس، ڈیٹا پیکج اور ماہانہ وظیفہ بھی فراہم کیا جائے گاکورس میں دراز اور شوپی فائی سمیت ای کامرس، انگلش لینگویج، پراڈکٹ ریسرچ اور فنانشل لٹریسی کی تعلیم بھی شامل ہے۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب کی عورت معاشی طور پر مضبوط ہوگی تو نہ صرف صوبہ بلکہ پورا ملک ترقی کرے گا صوبے کی خواتین آبادی کو ایک قابلِ قدر اثاثہ بنایا جا رہا ہے اور پروگرام کا مقصد انہیں ترقی اور خود انحصاری کے مواقع فراہم کرنا ہے بیوہ، طلاق یافتہ اور اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والی خواتین کو پروگرام میں ترجیح دی جائے گی خواتین کے لیے پہلی مرتبہ گھر کی دہلیز پر ووکیشنل تربیت کے خاطر خواہ نتائج سامنے آئیں گے اور تربیت مکمل کرنے والی خواتین آسانی سے روزگار حاصل کر کے معاشرے کا فعال اور مفید حصہ بن سکیں گی حکومت پنجاب ’سحر‘ پروگرام کے تحت تربیت یافتہ خواتین کے لیے جاب پلیسمنٹ کے مواقع بھی فراہم کرے گی، جبکہ اس اقدام کا ایک اہم مقصد صوبے میں صنفی مساوات کے فروغ کو یقینی بنانا ہے۔

  • کینیڈا میں  درختوں کو  زندہ مخلوق تسلیم کرکے بنیادی حقوق دینے کا تاریخی فیصلہ

    کینیڈا میں درختوں کو زندہ مخلوق تسلیم کرکے بنیادی حقوق دینے کا تاریخی فیصلہ

    کینیڈا کے صوبہ کیوبیک کے ایک چھوٹے سے قصبے نے درختوں کو باقاعدہ طور پر زندہ مخلوق تسلیم کرتے ہوئے انہیں بنیادی حقوق دینے کا تاریخی فیصلہ کرلیا ہے۔

    کینیڈا کے صوبہ کیوبیک کے قصبے ٹیراس-ووڈروئل (Terrasse-Vaudreuil) نے 9 جون 2026 کو ایک تاریخی قرارداد منظور کی ہے، جس کے تحت درختوں کو باقاعدہ طور پر زندہ مخلوق تسلیم کرتے ہوئے انہیں اپنے بنیادی حقوق دیئے گئے ہیں،اس چھوٹے سے قصبے نے بین الاقوامی ماحولیاتی مہم "یونیورسل ڈیکلریشن آف دی رائٹس آف دی ٹری” (Universal Declaration of the Rights of the Tree) کی باقاعدہ توثیق کی ہے کیوبیک اور کینیڈا میں اس طرح کا اعلان کرنے والا یہ پہلا قصبہ ہے-

    قصبے Terrasse-Vaudreuil کی میونسپل کونسل نے ایک قرارداد منظور کی ہے جس کے تحت درختوں کے ’حقِ زندگی، قدرتی نشوونما، جسمانی سالمیت اور دوبارہ افزائش‘ کو تسلیم کیا گیا ہے، اس اقدام کے ساتھ یہ کینیڈا کی پہلی بلدیہ بن گئی ہے جس نے درختوں کے حقوق کے عالمی اعلامیے کی حمایت بھی کی ہے،قرارداد کے بعد مقامی انتظامیہ درختوں کے تحفظ سے متعلق اپنے قواعد و ضوابط کا ازسرنو جائزہ لے گی اور اگر کسی درخت کو کاٹنا ناگزیر ہوا تو اس کے متبادل شجرکاری کو یقینی بنایا جائے گا۔

    اس تاریخی دستاویز میں واضح کیا گیا ہے کہ انسانوں کو بقائے باہمی اور یکجہتی کے اصولوں کے تحت درختوں کی حفاظت کرنی چاہیے کیونکہ کرہ ارض پر زندگی کا انصار انہی پر ہے، اس اقدام کی تحریک کیوبیک کے فلمساز آندرے ڈیسروچرز (Andre Desrochers) کی دستاویزی فلم سے حاصل کی گئی،اس عالمی پٹیشن پر اب تک دنیا بھر سے 87,000 سے زائد دستخط ہو چکے ہیں،یہ فیصلہ ماحولیاتی تحفظ اور قدرتی حقوق (Rights of Nature) کے عالمی قانونی تحریک کا ایک نمایاں حصہ بن چکا ہے۔

    میئر مشیل بوردو کے مطابق درخت انسانی زندگی، ماحولیاتی تحفظ، فضائی آلودگی میں کمی، پانی کے بہتر انتظام اور حیاتیاتی تنوع کے لیے ناگزیر ہیں، اس لیے ان کے تحفظ کو قانونی اور انتظامی سطح پر مزید مضبوط بنایا جائے گا،ماحولیاتی ماہرین نے اس فیصلے کو فطرت کے حقوق کے عالمی تصور کی جانب ایک اہم پیشرفت قرار دیا ہے۔

  • گلگت بلتستان اسمبلی کے نو منتخب ارکان نے حلف اٹھا لیا

    گلگت بلتستان اسمبلی کے نو منتخب ارکان نے حلف اٹھا لیا

    گلگت بلتستان اسمبلی کے 30 نو منتخب ارکان نے آج اپنی رکنیت کا حلف اٹھالیا، جس کے ساتھ ہی 2026 کے عام انتخابات کے بعد نئی اسمبلی کی آئینی مدت کا باقاعدہ آغاز ہوگیا ہے۔

    اسپیکر گلگت بلتستان اسمبلی نذیر احمد ایڈووکیٹ نے نو منتخب ارکان سے حلف لیا پیپلز پارٹی کے 13، ن لیگ کے 9 ارکان نے حلف اٹھایا، جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے 6 اور ایم ڈبلیو ایم کے ایک رکن نے حلف اٹھایا پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد رکن بھی حلف اٹھانے والوں میں شامل ہیں اب اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور قائدِ ایوان کا انتخاب عمل میں لایا جائے گا-

    اسپیکر کے انتخاب کے بعد وزیراعلیٰ کا انتخاب ہوگا، جو اطلاعات کے مطابق پیپلز پارٹی کے امجد حسین ایڈووکیٹ بلامقابلہ منتخب ہوں گے، جبکہ اسپیکر کے لیے بھی پیپلز پارٹی کے عمران ندیم پہلے ہی بلامقابلہ منتخب ہو چکے ہیں اسپیکر گلگت اسمبلی نے نومنتخب ارکان کو مبارکباد پیش کی ، بعد ازاں جی بی اسمبلی کا اجلاس دن آج 3 بجے دن تک ملتوی کر دیا گیا، اجلاس کے دوبارہ آغاز پر نئے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب کیا جائے گا-

    واضح رہے کہ گلگت کے تین حلقوں کے انتخابی نتائج کا نوٹیفکیشن عدالتی احکامات کے باعث تاحال جاری نہیں کیا جا سکا، جس کے باعث ان نشستوں پر نمائندگی کا مرحلہ مکمل نہیں ہو سکا۔

  • لاہور ،اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں بارش کی پیشگوئی

    لاہور ،اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں بارش کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے-

    محکمہ موسمیات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بادلوں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں اور شہر میں وقفے وقفے سے بارش ہونے کا امکان ہےخیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے، جبکہ راولپنڈی، مری، لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور فیصل آباد سمیت پنجاب کے متعدد شہروں میں بھی بارش کی پیش گوئی کی گئی ہےکشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جس سے موسم خوشگوار ہونے کی توقع ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق بلوچستان کے شمال مشرقی اضلاع میں چند مقامات پر بارش ہوسکتی ہے، تاہم صوبے کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم رہنے کا امکان ہے سندھ کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور خشک رہے گا، جہاں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کی توقع ہےملک کے مختلف علاقوں میں متوقع آندھی اور بارش کے باعث درجہ حرارت میں کمی واقع ہوسکتی ہے، جس سے حالیہ گرمی کی شدت میں کچھ حد تک کمی آئے گی۔

  • بھارت کی عالمی ہزیمت مسلسل جاری ، امریکا نے بھارت کو پس پشت ڈال دیا

    بھارت کی عالمی ہزیمت مسلسل جاری ، امریکا نے بھارت کو پس پشت ڈال دیا

    نام نہاد "وشو گرو” کے دعوے کرنے والے بھارت کو عالمی سطح پر مسلسل سفارتی چیلنجز اور بڑھتی ہوئی تنہائی کا سامنا ہے، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں اپنی بالادستی اور "نیٹ سیکیورٹی پرووائیڈر” بننے کا بھارتی خواب شدید دھچکوں سے دوچار ہو چکا ہے۔

    بھارت کی خارجہ اور سیکیورٹی پالیسیوں کو حالیہ برسوں میں متعدد محاذوں پر مشکلات کا سامنا رہا ہے، جس کے باعث عالمی منظرنامے میں اس کی پوزیشن کمزور ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق جنوبی ایشیا میں سیکیورٹی کے ضامن کے طور پر خود کو پیش کرنے کی بھارتی کوششیں مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکیں۔بھارتی ذرائع ابلاغ اور جریدوں میں شائع ہونے والے تجزیوں کے مطابق انڈو پیسفک سے لے کر وسیع بحرالکاہل خطے تک بھارت کو تزویراتی غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے، جبکہ مختلف علاقائی اور عالمی معاملات میں اس کا کردار پہلے کی نسبت محدود ہوتا جا رہا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کی خارجہ ترجیحات میں تبدیلی اور خطے میں نئی حکمت عملیوں کے باعث بھارت اور امریکا کے درمیان نام نہاد اسٹریٹجک شراکت داری کے حوالے سے بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق واشنگٹن اب اپنے مفادات کے تحت مختلف علاقائی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو نئے انداز میں ترتیب دے رہا ہے، جس سے بھارت کی توقعات متاثر ہوئی ہیں۔دفاعی و تزویراتی امور کے ماہرین کے مطابق حالیہ علاقائی کشیدگی اور پاکستان کے ساتھ تنازعات کے تناظر میں بھارت کے "نیٹ سیکیورٹی پرووائیڈر” ہونے کے دعوؤں کی حقیقت بھی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ زمینی حقائق نے ثابت کیا ہے کہ بھارت کو نہ صرف سفارتی بلکہ سیکیورٹی محاذ پر بھی سنگین چیلنجز درپیش ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگر بھارت نے اپنی خارجہ پالیسی اور علاقائی حکمت عملی پر نظرثانی نہ کی تو اسے مستقبل میں مزید سفارتی دباؤ، تزویراتی مشکلات اور عالمی تنہائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

  • فلپائن :اسکول میں فائرنگ،3 افراد ہلاک 5 زخمی،نویں جماعت کا طالبعلم گرفتار

    فلپائن :اسکول میں فائرنگ،3 افراد ہلاک 5 زخمی،نویں جماعت کا طالبعلم گرفتار

    فلپائن میں پیر کے روز ایک اسکول میں فائرنگ کے واقعے میں کم از کم 3 افراد ہلاک جبکہ 5 زخمی ہو گئے ہیں۔

    ترک خبر رساں ایجنسی انادولو کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ شہر تاکلوبان کے سان ہوزے نیشنل ہائی اسکول میں پیش آیا ہے، جس کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے فلپائن کی پولیس نے بتایا ہے کہ اس واقعے میں مبینہ طور پر دو افراد ملوث تھے جن میں سے ایک مبینہ طور پر اسکول ہی کا 15 سالہ نویں جماعت کا طالب علم ہے جسے واقعے کے فوراً بعد گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ دوسرا مشتبہ شخص اب بھی فرار ہے اور اس کی تلاش جاری ہے۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے کیونکہ تفتیش جاری ہے اور واقعے کی مکمل صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کی جا رہی ہے حملے کی اصل وجہ بھی ابھی واضح نہیں ہو سکی،متاثرین اور ملزمان کے درمیان تعلق کے بارے میں بھی فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس پہلو کی بھی تفتیش کی جا رہی ہے دوسرے مشتبہ شخص کی گرفتاری کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ اسے جلد از جلد گرفتار کیا جا سکے اور واقعے کی مکمل حقیقت سامنے آ سکے۔

  • ایران جنگ سے متعلق رپورٹنگ،صدر ٹرمپ نیویارک ٹائمز پر برس پڑے

    ایران جنگ سے متعلق رپورٹنگ،صدر ٹرمپ نیویارک ٹائمز پر برس پڑے

    ایران کے خلاف جنگ اور اس کے نتائج سے متعلق شائع ہونے والی ایک رپورٹ پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معروف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے ’بدعنوان‘ اور ’ناکام‘ ادارہ قرار دیا ہے

    امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا جس میں مختلف تجزیہ کاروں کی آراء شامل تھیں رپورٹ میں یہ سوال اٹھایا گیا تھا کہ تقریباً چار ماہ جاری رہنے والی جنگ کے بعد خطے میں عملی طور پر کیا تبدیلی آئی اور آیا ایران سے متعلق امریکا اور اسرائیل کے بنیادی خدشات واقعی ختم ہوئے ہیں یا نہیں۔

    ٹرمپ نے اخبار کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کارروائیوں میں امریکا نے اپنے مقاصد حاصل کیے ہیں اور ایران کی فوجی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے، انہوں نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کو عسکری میدان میں شکست دی ہے،بعض میڈیا ادارے حقائق کو نظر انداز کرکے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، نیویارک ٹائمز مسلسل ایسی رپورٹس شائع کرتا ہے جو ان کی حکومت اور پالیسیوں کو منفی انداز میں پیش کرتی ہیں۔

    دوسری جانب نیویارک ٹائمز کی مذکورہ رپورٹ میں شامل بعض تجزیہ کاروں کا مؤقف تھا کہ جنگ کے باوجود مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال میں بنیادی تبدیلی نہیں آئی اور خطے میں کشیدگی کے کئی اسباب اب بھی موجود ہیں،سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ اور امریکی میڈیا کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں۔ اپنے سیاسی کیریئر کے دوران وہ متعدد بار بڑے امریکی میڈیا اداروں پر جانبداری اور غلط رپورٹنگ کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔