Baaghi TV

Blog

  • امریکا اسرائیل حملوں میں ایران میں شہادتیں 3 ہزار سے تجاوز

    امریکا اسرائیل حملوں میں ایران میں شہادتیں 3 ہزار سے تجاوز

    ایران کے فرانزک میڈیسن آرگنائزیشن کے سربراہ عباس مسجدی آرانی نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں ایران میں شہید ہونے والوں کی تعداد 3 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، جس سے صورتحال کی سنگینی مزید واضح ہو گئی ہے۔
    ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ہلاکتوں کی بڑی تعداد کے باعث لاشوں کی شناخت ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ ان کے مطابق تقریباً 40 فیصد لاشوں کی ابتدائی طور پر شناخت ممکن نہیں ہو سکی، جس کے لیے جدید فرانزک طریقوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
    ‎عباس مسجدی آرانی کا کہنا تھا کہ فرانزک ٹیمیں عدلیہ کے ساتھ مل کر متاثرین کی شناخت، ڈی این اے ٹیسٹنگ اور دیگر ضروری کارروائیوں پر مسلسل کام کر رہی ہیں تاکہ لواحقین کو معلومات فراہم کی جا سکیں۔
    ‎ماہرین کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں نہ صرف انسانی المیہ ہیں بلکہ اس سے امدادی اور انتظامی نظام پر بھی شدید دباؤ پڑ رہا ہے۔
    ‎دوسری جانب بین الاقوامی سطح پر بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور متاثرین کی شناخت و امداد کے لیے فوری اقدامات پر زور دیا جا رہا ہے۔
    ‎یہ پیش رفت خطے میں جاری کشیدگی کے سنگین اثرات کو ظاہر کرتی ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جنگ کے انسانی نقصانات کس قدر وسیع ہو سکتے ہیں۔

  • اطالوی وزیراعظم کی جنگ بندی کی خلاف ورزی کی شدید مذمت

    اطالوی وزیراعظم کی جنگ بندی کی خلاف ورزی کی شدید مذمت

    ‎اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی نے اطالوی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اٹلی اور یورپی یونین کے لیے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کی بحالی انتہائی اہم مفاد ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس اہم سمندری گزرگاہ کی بندش نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔
    ‎جارجیا میلونی کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کی کسی بھی خلاف ورزی کی شدید مذمت کی جانی چاہیے کیونکہ خطہ ایک نہایت نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ ان کے مطابق اس وقت امن کا ایک کمزور موقع موجود ہے جسے سنجیدگی سے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ مزید کشیدگی سے بچا جا سکے۔
    ‎انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مشرق وسطیٰ کا بحران دوبارہ شدت اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات یورپ پر بھی پڑیں گے، خاص طور پر معیشت اور توانائی کے شعبے متاثر ہو سکتے ہیں۔
    ‎اطالوی وزیراعظم نے اس امکان کا بھی ذکر کیا کہ اگر صورتحال مزید خراب ہوئی تو یورپی یونین کو اپنے اقتصادی فریم ورک، اسٹیبلٹی اینڈ گروتھ پیکٹ، کی عارضی معطلی پر غور کرنا پڑ سکتا ہے تاکہ ہنگامی حالات سے نمٹا جا سکے۔
    ‎ماہرین کے مطابق میلونی کا بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یورپ خطے کی صورتحال کو سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے اور کسی بھی ممکنہ بحران کے اثرات کے لیے تیار رہنا چاہتا ہے۔

  • امریکا جلد اسرائیل کو لبنان میں کارروائیاں روکنے کا کہہ سکتا ہے

    امریکا جلد اسرائیل کو لبنان میں کارروائیاں روکنے کا کہہ سکتا ہے

    ‎لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں میں تیزی کے بعد یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکا جلد اسرائیل کو وہاں آپریشنز روکنے کا مشورہ دے سکتا ہے، کیونکہ موجودہ صورتحال خطے میں جاری امن مذاکرات کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق بدھ کے روز لبنان میں اسرائیلی حملوں میں اضافہ غیر متوقع نہیں تھا، کیونکہ امریکی قیادت مسلسل یہ مؤقف اپنائے ہوئے ہے کہ لبنان جنگ بندی معاہدے کا حصہ نہیں ہے۔
    ‎تاہم پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں لبنان کو بھی جنگ بندی میں شامل قرار دیا تھا، جس پر ایران نے اسرائیل پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ لبنان میں جاری لڑائی کسی بھی وقت مذاکراتی عمل کو متاثر کر سکتی ہے اور خطے کو دوبارہ بڑے پیمانے پر جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہے، جو عالمی طاقتوں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
    ‎اسی تناظر میں یہ امکان بڑھ رہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک ایسے مرحلے پر پہنچ سکتے ہیں جہاں وہ اسرائیل کو مزید کارروائیوں سے روکنے کے لیے دباؤ ڈالیں، خاص طور پر اگر کشیدگی مزید بڑھتی ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے بھی عندیہ دیا ہے کہ لبنان میں اس کی فوجی مہم طویل نہیں ہوگی، جس کے باعث حالیہ دنوں میں حملوں کی رفتار میں اضافہ دیکھا گیا ہے تاکہ اپنے مقاصد جلد حاصل کیے جا سکیں۔
    ‎ماہرین کے مطابق آنے والے دن خطے کے لیے انتہائی اہم ہیں اور کسی بھی فیصلے سے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

  • ایل پی جی کی قیمت میں بڑی کمی، ریلیف کی امید

    ایل پی جی کی قیمت میں بڑی کمی، ریلیف کی امید

    ‎مہنگی ایل پی جی سے پریشان عوام کے لیے بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے، ملک بھر میں ایل پی جی کی فی کلو قیمت میں 20 روپے کی نمایاں کمی کر دی گئی ہے جس کے بعد صارفین کو فوری ریلیف ملنا شروع ہو گیا ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق اس کمی کے بعد کراچی میں ایل پی جی کی قیمت 440 روپے فی کلو تک آ گئی ہے، جو حالیہ مہنگائی کے دوران ایک اہم ریلیف قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق قیمتوں میں یہ کمی سپلائی میں بہتری کا نتیجہ ہے۔
    ‎ایف پی سی سی آئی کی ایل پی جی اسٹینڈنگ کمیٹی کے کنوینر علی حیدر نے بتایا کہ ایران میں جنگ بندی اور عید و نوروز کی تعطیلات کے بعد سرحدیں کھلنے سے ایل پی جی کی ترسیل میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق بلوچستان کے سرحدی علاقوں تافتان، 250 بارڈر اور مند کے راستے تقریباً 7 ہزار ٹن ایل پی جی پاکستان پہنچ چکی ہے۔
    ‎انہوں نے مزید بتایا کہ پورٹ قاسم پر بھی ایل پی جی سے بھرا ایک جہاز لنگر انداز ہو چکا ہے، جس سے مارکیٹ میں سپلائی مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں استعمال ہونے والی 65 فیصد ایل پی جی درآمدی ہے، جس کا 90 فیصد حصہ ایران سے آتا ہے۔
    ‎علی حیدر کا کہنا تھا کہ سپلائی میں مسلسل بہتری کے باعث رواں ہفتے قیمتوں میں مزید 50 روپے تک کمی کا امکان بھی موجود ہے، جو عوام کے لیے مزید ریلیف کا باعث بن سکتی ہے۔
    ‎واضح رہے کہ اوگرا نے ایل پی جی کی سرکاری قیمت 304 روپے فی کلو مقرر کی تھی، تاہم مارکیٹ میں منافع خور عناصر اسے 450 سے 470 روپے تک فروخت کر رہے تھے۔ اب سپلائی بحال ہونے سے قیمتوں میں کمی کا رجحان شروع ہو گیا ہے اور امید ہے کہ قیمتیں مزید نیچے آئیں گی۔

  • جنگ بندی میں پاکستان کا کردار،مرکزی مسلم لیگ کا جمعہ کو یوم تشکر کا اعلان

    جنگ بندی میں پاکستان کا کردار،مرکزی مسلم لیگ کا جمعہ کو یوم تشکر کا اعلان

    مرکزی مسلم لیگ نے امریکہ،ایران جنگ بندی میں پاکستان کے کردار کو تاریخی قرار دیتے ہوئے جمعہ کویوم تشکر منانے کا اعلان کر دیا ،ترجمان مرکزی مسلم لیگ ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی کا کہنا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ پاکستان کو عالمِ اسلام کے اہم معاملات میں نمایاں مقام حاصل ہو رہا ہے،بالخصوص مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال میں امن کے قیام اور خونریزی کے خاتمے کے لیے پاکستان کو ایک اہم اور ذمہ دارانہ کردار سونپا گیا ہے، جو کہ پوری قوم کے لیے باعث فخر ہے۔

    ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی کا کہنا تھا کہ اس عظیم نعمت پر پوری قوم کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے، مرکزی مسلم لیگ کے کارکنان شکرانے کے نوافل ادا کریں اور ملک و ملت کے استحکام، امن اور ترقی کے لیے خصوصی دعائیں کریں، مرکزی مسلم لیگ جمعہ کو باقاعدہ طور پر یومِ تشکر کے طور پر منائے گی، علمائے کرام خطباتِ جمعہ میں پاکستان کے عالمی کردار، امتِ مسلمہ کے لیے اس کی خدمات اور اس کی اہمیت کو اجاگر کریں، یہ وقت قومی اتحاد، یکجہتی اور اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی اختیار کرنے کا ہے تاکہ پاکستان مستقبل میں بھی امن و استحکام کے لیے اپنا مثبت کردار جاری رکھ سکے.

  • فرانسیسی صدر کا وزیراعظم شہباز شریف کو فون،جنگ بندی کروانے پر مبارکباد

    فرانسیسی صدر کا وزیراعظم شہباز شریف کو فون،جنگ بندی کروانے پر مبارکباد

    آج دوپہر وزیراعظم محمد شہباز شریف کو فرانس کے صدر عزت مآب ایمانوئل میکرون کی جانب سے ٹیلیفون کال موصول ہوئی۔

    گرمجوش اور خوشگوار گفتگو کے دوران صدر میکرون نے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کرانے اور دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں پاکستان کی ثالثی کی کوششوں پر وزیراعظم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے اسلام آباد میں ہونے والے آئندہ امن مذاکرات کی کامیابی کے لیے بھی اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔صدر میکرون کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کی حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔دونوں رہنماؤں نے لبنان میں جاری جارحیت پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور زور دیا کہ تشدد اور خونریزی کا فوری خاتمہ ضروری ہے تاکہ پورے خطے میں امن بحال کیا جا سکے۔دونوں رہنماؤں نے باہمی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔

  • کرسچن میرج ایکٹ میں بنیادی تبدیلیوں کےلیے بل تیار

    کرسچن میرج ایکٹ میں بنیادی تبدیلیوں کےلیے بل تیار

    لاہور:کرسچن میرج ایکٹ میں 153 سال بعد بنیادی تبدیلیوں کےلیے بل تیار کرلیا گیا۔

    بل چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے اقلیتی امور فیلبوس کرسٹوفر کی جانب سے جمع کروایا گیا،بل میں شادی کے لیے دلہا اور دلہن دونوں کا مسیحی ہونا لازم قرار دیا گیا ہے جب کہ موجودہ قانون میں کسی ایک فریق کا مسیحی ہوناکافی قراردیا گیا تھا بل میں شادی کیلئے لڑکے اور لڑکی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کرنے کی تجویز ہے، اس سے قبل قانون میں لڑکے کی عمر 16 اور لڑکی کی 13 سال مقرر تھی۔

    بل کے مطابق مسیحی شادیوں کی رجسٹریشن یونین کونسل اور نادرا کے ریکارڈ میں لازمی شامل کرنے اور رجسٹرڈ گرجا گھروں کو مسیحی طریقہ کار کے مطابق نکاح پڑھانے کی اجازت دینے کی تجویز دی گئی ہے اس کے علاوہ موجودہ بل میں نکاح کی تقریب کے وقت اور دن پر عائد پابندیاں بھی ختم کرنے کی تجویز کی گئی ہے کیونکہ موجودہ قانون کے تحت شام 6 بجے کے بعد نکاح کی اجازت نہیں تھی۔

  • مذاکرات کے موقع پر اپوزیشن کا جلسہ منسوخ کرنا قابل تعریف اقدام ہے، مفتی منیب الرحمن

    مذاکرات کے موقع پر اپوزیشن کا جلسہ منسوخ کرنا قابل تعریف اقدام ہے، مفتی منیب الرحمن

    سابق چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمن نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں متوقع مذاکرات کے موقع پر اپوزیشن کا جلسہ منسوخ کرنا قابل تعریف اقدام ہے-

    مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ اپوزیشن کے مشترکہ رویے کی تحسین کرتے ہیں ایران امریکا جنگ بندی مثبت پیشرفت ہے اسلام آباد میں متوقع مذاکرات کے موقع پر اپوزیشن کا جلسہ منسوخ کرنا قابل تعریف اقدام ہے، یہ قدم قومی مفاد میں ہے باہمی تعاون کو فروغ دینا ضروری ہے حکومت اور اپوزیشن مل کر متفقہ لائحہ عمل طے کریں تو بہتر نتائج حاصل ہو سکتے ہیں-

    انہوں نے کہا کہ اس پیشرفت سے پاکستان کو مشکلات سے نکلنے اور معیشت بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے،مثبت اقدامات سے قومی تشخص مضبوط ہوگا پاکستان کو ترکی، سعودی عرب اور امریکا کے ساتھ تعاون بڑھانا چاہیے، جنگ بندی کو پٹڑی سے اتارنے کی کوششیں عالمی معیشت کے لیے نقصان دہ ہوں گی۔

    دوسری جانب قومی پیغام امن کمیٹی نے ملک بھر کے تمام مکاتب فکر کے علما و مشائخ، ذاکرین، واعظین اور خطبا سے اپیل کی ہے کہ کل بروز جمعۃ المبارک 10 اپریل 2026 کو یومِ تشکر و یومِ دعا کے طور پر منایا جائےحکومت پاکستان کی جانب سے بھی اس دن کو یومِ تشکر و دعا کے طور پر منانے کا اعلان کیا گیا ہے اس حوالے سے علما سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے خطباتِ جمعہ میں خصوصی طور پر شکرانے اور دعا کا اہتمام کریں۔

    چیئرمین پاکستان علما کونسل و کوآرڈینیٹر قومی پیغام امن کمیٹی حافظ محمد طاہر محمود اشرفی سمیت مفتی عبد الرحیم، سید ضیااللہ شاہ بخاری، علامہ عارف واحدی، حافظ طارق، علامہ توقیر عباس، ڈاکٹر آصف میر، مفتی محمد کریم خان، مفتی یوسف کشمیری، پیر نقیب الرحمان، علامہ محمد حسین اکبر اور مولانا افضل حیدری نے مشترکہ بیان میں کہا کہ یہ دن اللہ رب العزت کے حضور شکر ادا کرنے کا ہے۔

    علمائے کرام نے کہا کہ پاکستان کی قیادت کی کوششوں اور سفارتی جدوجہد کے نتیجے میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی ممکن ہوئی جبکہ عرب اسلامی ممالک اور ایران کے درمیان تصادم بھی رک گیا، یہ پیشرفت نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے اہم ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ جمعۃ المبارک کے اجتماعات میں خصوصی دعا کی جائے کہ یہ جنگ بندی مستقل امن میں تبدیل ہو اور مسلم امہ کے درمیان اتحاد و یکجہتی کو فروغ ملے علما نے اس موقع پر عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ ملک و ملت کی سلامتی، استحکام اور عالمی امن کے لیے دعا کریں، پاکستان ہمیشہ خطے میں امن، استحکام اور بین الاقوامی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

  • 2 کروڑ روپے کا فراڈ ،مفرور شریک ملزم سابق بینکر  گرفتار

    2 کروڑ روپے کا فراڈ ،مفرور شریک ملزم سابق بینکر گرفتار

    کراچی:2 کروڑ روپے کے فراڈ میں مفرور شریک ملزم سابق بینکر کو گرفتار کرلیا گیا۔

    ترجمان ایف آئی اے کے مطابق 20 ملین روپے خورد برد کیس میں مفرور شریک ملزم کو ایک بڑی کارروائی میں گرفتار کرلیا گیا ، ملزم ایف آئی آر نمبر 26/21 میں مطلوب تھا، مرکزی ملزم سابق بینکر پہلے ہی ایف آئی اے کی تحویل میں ہے ملزمان نے کسٹمر سے ٹرم ڈپازٹ کے نام پر 20 ملین روپے کا چیک حاصل کیا اور چیک کو بدنیتی سے استعمال کرتے ہوئے ڈمی اکاؤنٹ کے حق میں پے آرڈر تیار کیا گیا۔

    ترجمان کے مطابق رقم دوسرے بینک میں قائم ڈمی اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی بعد ازاں پوری رقم نکال لی گئی، شریک ملزم سابق بینکر نے اس فراڈ میں اہم کردار ادا کیا، جس کے بعد ملزم گرفتاری سے بچنے کے لیے مفرور تھا،ملزم کو اولڈ سبزی منڈی سے گرفتار کیا گیا ہے، جس سے مزید تفتیش جاری ہے۔

  • قابل فخر بیٹیاں (بیگم رعنا لیاقت علی)،تحریر  : ماریہ خان

    قابل فخر بیٹیاں (بیگم رعنا لیاقت علی)،تحریر : ماریہ خان

    ‎ ‎بیگم رعنا لیاقت علی صاحبہ 13فروری 1905ء میں پیدا ہوئیں ، 1947 سے 1951ء تک پاکستان کی خاتون اول اور پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کی بیگم تھیں ،تحریک پاکستان کی رکن اور سندھ کی پہلی گورنر خاتون تھیں۔وہ اپنے شوہر کے ہمراہ تحریک پاکستان کی صف اول کی خواتین میں شامل تھیں۔بیگم رعنا ان خواتین سیاستدانوں اور ملک گیر معزز خواتین شخصیات میں شامل تھیں،جنھوں نے 1940ء میں اپنے کیرئیر کا آغاز کیا اور پاکستان میں اہم واقعات کا مشاہدہ کیا،وہ تحریک پاکستان کی اہم اور سرکردہ خاتون شخصیت میں سے ایک تھیں،اور انھوں نے محمد علی جناح کے ساتھ کام کیا ،اور پاکستان موومنٹ کمپنی کی ذمدار رکن کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔انھوں نے جناح کی پاکستان موومنٹ کمپنی میں معاشی مشیر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں اور بعد جب ان کے شوہر لیاقت علی خان پاکستان کے پہلے وزیر اعظم بنے تو پاکستان کی خاتون اول بھی بنئیں۔اس حیثیت سے انھوں نے نئے قائم ملک پاکستان میں خواتین کی ترقی کے لئیے پروگرام شروع کئیے ۔خاتون اول کی حیثیت سے انھوں نے 14اگست 1949ء سے 29اکتوبر1951ء انکی مدت منصب رہا ۔انکا پیدائشی نام شیلا تھا،انکی تعلیم لکھنوء یونیورسٹی سے ہوئی۔مذہب اسلام تھا اور شہرئیت برطانوی ہند اور پھر پاکستان کے قیام کے بعد یہاں مقیم ہوئیں۔لکھنوء یونیورسٹی سے انھوں نے ماسٹر آف سائنس کیا ۔اور پیشہ کے لیحاظ سے ماہر معشیات،سفارت کار،استاد جامعہ،سیاستدان اور فوجی افسر  پاکستان میڈیکل کور میں تھیں ۔انکی مادری زبان اردو تھی۔بیگم رعنا لیاقت صاحبہ کے حالات زندگی کچھ یوں تھے ،کہ لکھنوء برطانوی ہندوستان میں 1905ء کو کمونی عیسائی خاندان میں پیدا ہوئیں،آپکا پیدائیشی نام شیلا آئرین پنت تھا۔آپ کو الموڑا کی بیٹی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ۔ان کے والد ڈینیل پنت متحدہ صوبوں کے سیکٹریٹ میں خدمات انجام دیتے تھے۔کمونی برہمن پنت خاندان نے تقریبا 1871ء میں عیسائیت مزہیب قبول کیا تھا ۔بیگم رعنا نے ابتدائی تعلیم نینی تال کے ایک زنانہ ہائی سکول میں حاصل کی ۔لکھنوء یونیورسٹی سے ایم اے معاشیات اور عمرانیات کیا ۔کچھ عرصہ استاد رہئیں۔1933ء میں لیاقت علی خان سے شادی ہوئی ۔

    پاکستان بننے سے قبل آپ نے عورتوں کی ایک تنظیم ” آل پاکستان ویمنز ایسوسی ایشن ” قائم کی ۔پاکستان کے بعد ایمپلائمنٹ ایکسچینج اور اغوا شدہ لڑکیوں کی تلاش اور شادی بیاہ کے محکمے ان کے حوالے کئیے ۔ اقوام متحدہ کے اجلاس منعقدہ 1952ء میں پاکستان کے مندوب کی حیثیت سے شریک ہوئیں ،1954ء میں ہالینڈ اور بعد ازاں اٹلی میں سفیر اور سندھ کی گورنر بھی رہیں ۔انکی سوانح عمری پر کچھ روشنی ڈالتے چلیں تو رعنا لیاقت علی خان "دی بیگم ” کی شریک مصنفہ دیپا اگروال بتاتی ہیں۔کہ وہ ایک آزاد خیال خاتون تھیں اور ان میں زبردست اعتماد تھا ۔86 سال کی اپنی زندگی میں انھون نے 43سال انڈیا میں جبکہ اتنا ہی عرصہ پاکستان میں گزارا ۔انھوں نے نہ صرف آپنی آنکھوں کے سامنے تاریخ رقم ہوتے دیکھی بلکہ اسکا حصہ بھی بنئیں ۔قائد اعظم سے لے کر جنرل ضیاء الحق تک سبھی کے سامنے وہ اپنی بات کہنے سے کبھی نہ ہچکچائیں ۔ ایم اے کی اپنی کلاس میں وہ اکیلی لڑکی تھیں ۔اور لڑکے انھیں تنگ کرنے کے لیے انکی سائیکل کی ہوا نکال دیتے تھے ۔جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر پشپیش  پنت کا ننیھال بھی اسی جگہ تھا ۔جہاں آیرین  روتھ پنت کا خاندان رہا کرتا تھا ۔پروفیسر پشپیش پنت بتاتے ہیں  کہ میں تقریبا 60 سال پہلے آٹھ یا دس برس کی عمر میں اپنی ننھیال والے مکان میں رہا کرتا تھا ۔لوگ ان کے بارے میں طرح طرح کی باتیں کیا کرتے تھے کہ انکی بہن پاکستان کے پہلے وزیر اعظم سے بیاہی گئی تھیں اور ان لوگوں نے اپنا مزہب تبدیل کر لیا ۔انکا کہنا تھا کہ رعنا کے دادا ایک اعلی ذات کے برہمن تھے اور وہاں کے مشہور وید یعنی حکیم تھے اور جب انھوں نے عیسائی مذہب قبول کیا تو پورے علاقے میں ہلچل مچ گئی تھی کیونکہ اکثر نیچی ذات کہے جانے والے لوگ ہی مذہب تبدیل کیا کرتے تھے ۔ اس کے بعد جب رعنا نے ایک مسلمان سے شادی کر لی تو لوگ اور باتیں کرنے لگے ۔اس دور میں الموڑے کے دقیانوسی معاشرے میں ماڈرن کہی جانے والی پنت بہنیں نہ صرف پورے شہر میں موضوع بحث ہوا کرتی تھیں بلکہ کچھ لوگ انھیں رشک کی نگاہ سے بھی دیکھا کرتے تھے ۔مشہور ناول نگار کی بیٹی ایرا پانڈے لکھتی ہیں میرے نانا کے برابر والا گھر ڈینیل پنت کا تھا جن کا خاندان مسیحی مذہب قبول کر چکا تھا ۔ لیکن ایک زمانے میں وہ ہماری ماں کے رشتہ دار ہوا کرتے تھے ۔ ہمارے نانا نے ان کی دنیا کو ہماری دنیا سے الگ کرنے کے لئیے ہمارے گھروں کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر دی اور ہمیں سخت ہدائیت تھی کہ ہم دوسری جانب دیکھنے کی بھی کوشش نہ کریں ۔میری ماں شوانی نے لکھا تھا ۔۔
    ‎” ان کے گھر کے باورچی خانے میں پکنے والے ذائقے دار گوشت کی پاگل کر دینے والی مہک ہماری بے رونق برہمن رسوئی میں پہنچ کر ہماری دال اور آلو کی سبزی اور چاول کو شرمندہ کر دیتی تھی ”

    ‎”برلن وال ” کے اس پار کے بچوں میں ہینری پنت میرے خاص دوست تھے اور انکی بہنیں اولگا اور موریل جب اپنی جارجیٹ کی ساڑھی میں الموڑہ کے بازار میں چہل قدمی کرتی تھیں تو ہم لوگ رشک سے مر ہی جاتے تھے ۔ آئرین پنت یعنی رعنا کی تعلیم لکھنوء کے لال باغ سکول اور پھر وہیں کے مشہور آئی ٹی کالج میں ہوئی۔ متعدد اہم مصنف جیسے قرۃالعین حیدر ، عصمت چغتائی ،عطیہ حسین اس کالج سے تعلیم حاصل کر کے نکلی ہیں ۔آئرین کی بچپن کی دوست مائلز اپنی کتاب ” اے ڈائنو مو ان سلک” میں لکھتی ہیں وہ جہاں بھی ہوتی تھیں کالج میں لڑکے بلیک بورڈ پر انکی تصویر بنایا کرتے تھے ۔ لیکن ان پر اسکا کوئی اثر نہیں ہوتا تھا ۔ لیاقت علی خان صاحب سے ملاقت کے بارے میں دیپا اگروال بتاتی ہیں  کہ ان دنوں ریاست بہار میں سیلاب آیا ہوا تھا اور لکھنوء یونیورسٹی کے طالب علموں نے فیصلہ کیا وہ ایک پروگرام کر کے وہاں کے لیے فنڈ جمع کریں گے ۔آئرین پنت جو لکھنوء یونیورسٹی سے ایم اے کر رہی تھیں شو کے ٹکٹ فروخت کرنے پارلیمنٹ پہنچیں اور وہاں انھوں نے پہلا دروازہ کھٹکھٹایا وہ لیاقت علی خان صاحب نے کھولا ۔لیاقت ٹکٹ خریدنے میں جھجک رہے تھے ۔اور بڑی مشکل سے انھوں نے ایک ٹکٹ خریدا ۔دیپا اگروال بتاتی ہیں کہ آئرین نے کہا کہ کم از کم دو ٹکٹ تو خریدیں اور شو دیکھنے کے لیے کسی کو آپنے ساتھ لے کر آئیں ۔جواب میں لیاقت علی خان نے کہا ۔۔کہ میں کسی کو نہیں جانتا جسکو اپنے ساتھ لاؤں اس پر آئرین بولیں میں آپکے لیے ساتھی کا انتظام کرتی ہوں اور اگر کوئی نہیں ملا تو میں ہی آپکے ساتھ بیٹھ کر شو دیکھ لوں گی اور لیاقت انکی یہ درخواست رد نہیں کر پاۓ ۔ لیاقت علی اپنے دوست مرتضی رضا کے ساتھ شو دیکھنے پہنچے لیکن کافی تاخیر کے ساتھ ،بعد میں آئرین اندر پرستھ کالج میں لیکچرار ہو گئیں جب انھیں خبر ملی کہ لیاقت علی کو لیجیسولیٹیو اسمبلی کا سربراہ منتخب کیا گیا ہے تو انھوں نے اسے خط لکھ کر مبارکباد دی ۔جواب میں لیاقت علی خان نے لکھا کہ جان کر خوشی ہوئی ،آپ دلی میں ہیں جو میرے شہر کرنال کے بلکل قریب ہے ۔اس بار جب میں لکھنوء جاتے ہوۓ دلی سے گزروں گا تو کیا آپ میرے ساتھ چاۓ پینا پسند کریں گی ! آئرین نے انکی دعوت قبول کی اور یہیں سے انکی ملاقاتوں کو سلسلہ شروع ہوا ۔اور 16 اپریل 1933ء کو بات شادی تک پہنچ گئی ۔

    ‎لیاقت علی ان سے دس سال بڑے تھے ۔اور پہلے سے شادی شدہ اور ایک بچے کے باپ تھے ۔لیاقت علی کی شادی انکی کزن جہاں آرا سے ہو چکی تھی ۔اور انکے بیٹے کا نام ولایت علی خان تھا ۔بہر حال انکی شادی ہوئی اور جامعہ مسجد کے امام نے انکا نکاح پڑھا ۔آئرین نے اسلام قبول کیا اور انکا نام گل رعنا رکھا گیا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ لیاقت علی اس وقت سیاسی افق کے ابھرتے ستارے تھے ۔اور محمد علی جناح کے بہت نزدیک بھی تھے ۔لیاقت علی کو فوٹو گرافی کا شوق تھا انھوں نے موسیقی بھی سیکھی تھی پیانو اور طبلہ بجاتے تھے ۔اور گاتے بھی اچھا تھے ۔انکی پارٹیوں میں نہ صرف غزلوں کا دور چلتا تھا بلکہ انگریزی گانے بھی سننے کو ملتے تھے ۔دونوں میاں بیوی برج کھیلنے کے شوقین تھے پانچ فٹ لمبی رعنا کو نہ تو زیور پہننے کا شوق تھاگ اور نہ کپڑوں کا ۔انھیں ایک پرفیوم پسند تھا "جواۓ” جبکہ لیاقت علی کو امرود بہت پسند تھے ۔اور وہ کہا کرتے تھے کہ اس سے خون صاف ہوتا ہے ۔جانے سے پہلے جہاں جناح نے اورنگزیب والا بنگلہ رام کرشن ڈالمیہ کو فروخت کیا تھا ۔وہیں لیاقت علی نے اپنا بنگلہ پاکستان کو عطیہ کر دیا تھا اسے آج بھی پاکستان ہاؤس کہا جاتا ہے اور وہاں آج بھی انڈیا میں تعینات پاکستان کے سفیر رہتے ہیں ۔ دیپ اگروال بتاتی ہیں کہ ۔لیاقت علی نے اپنے گھر کی ایک ایک چیز پاکستان کو دے دی ۔اور وہ صرف ذاتی استعمال کی چیزیں لے کر پاکستان آۓ تھے ۔اس سامان میں ایک سوٹ کیس ،سیگریٹ لائٹروں سے بھرا ہوا تھا ۔اور وجہ یہ تھی کہ انھیں سیگرٹ لائیٹر جمع کرنے کا شوق تھا ۔اگست 1947ء میں لیاقت علی اور انکی بیگم رعنا لیاقت علی اور دو بیٹوں اشرف اور اکبر نے دلی کے ہوائی اڈے سے کراچی پرواز کی ۔لیاقت علی پاکستان کے پہلے وزیر اعظم بنے اور رعنا پہلی خاتون اول قرار پائیں۔لیاقت نے انھیں اپنی کابینہ میں اقلیتوں اور خواتین کی بہبود سے متعلق وزارت دی۔ابھی چار سال ہی گزرے تھے کہ راولپنڈی کے ایک جلسے میں خطاب کے دوران لیاقت علی کو قتل کر دیا گیا ۔انکی موت کے بعد بہت سے لوگوں کا خیال تھا ،کہ رعنا اب واپس انڈیا چلی جائیں گی ۔لیکن انھوں نے پاکستان میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا ۔کتاب "دی بیگم ” کی مشترک مصنفہ تہمینہ عزیز ایوب بتاتی ہیں کہ ابتدا میں وہ بہت پریشان تھیں اور گھبرائی بھی ، کہ اب میں کیا کروں گی ! کیونکہ لیاقت انکےلئیے کوئی پیسہ یا جائیداد چھوڑ کر نہیں گئے تھے ۔ان کی اکاؤنٹ میں محض 300 رپے تھے ۔اور انکا بڑا مسلہ بچوں کی پرورش اور تعلیم تھا ،کچھ لوگوں نے انکی مدد بھی کی ۔بیگم رعنا لیاقت علی خان بطور پاکستان کی سفیر :حکومت پاکستان نے انھیں دو ہزار ماہانہ وظیفہ دینا شروع کر دیا ۔تین سال بعد انھیں ہالینڈ میں پاکستان کے سفیر کے طور پر بھیج دیا گیا ۔جس سے انھیں کچھ آسرا ہوا ۔1949ء میں ہی آل پاکستان وومن ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھ دی گئی تھی ۔اور بیرون ملک ہوتے ہوۓ بھی وہ اس تنظیم سے وابستہ رہیں ۔ہالینڈ کے بعد انھیں اٹلی میں پاکستان کا سفیر مقرر کر دیا گیا ۔تہمینہ ایوب بتاتی ہیں کہ :وہ بہت تعلیم یافتہ تھیں اور مختلف موضوعات پر انکی اچھی گرفت تھی ۔رعنا لیاقت علی نے اپنے سفارت کاری کے فرائض بخوبی انجام دئیے ۔ہالینڈ نے انھیں اپنے سب سے بڑے اعزاز ” اورینج ایوارڈ ” سے بھی نوازا ۔اسوقت ہالینڈ کی رانی سے انکی اچھی دوستی ہو گئی اور رانی نے انھیں ایک عالیشان گھر کی پیش کش کرتے ہوۓ کہا تم انتہائی سستے دام میں اپنی ایمبیسی کے لئیے اسے خرید لو۔یہ گھر شہر کے درمیان میں اور شاہی محل سے صرف ایک کلو میٹر دور تھا ۔وہ بلڈنگ آج بھی پاکستان کے پاس ہے ۔جہاں ہالیند میں پاکستان کا سفارتی عملہ رہتا ہے ۔بیگم رعنا سوئزرلینڈ کی سفیر بھی بنیں ۔اور انڈیا کی سابق خارجہ سیکٹری جگت مہتہ کے فلیٹ میں ٹھہریں ۔جو اس وقت سوئزر لینڈ میں انڈیا کے جونئیر سفیر ہوا کرتے تھے ۔بعد میں جگت مہتہ نے اپنی کتاب ” نیگوشی ایٹنگ فار انڈیا ” ریزالونگ پرابلم تھرو ڈپلو میسی ” میں لکھا کہ وہ ہمارے چھوٹے سے فلیٹ میں اپنے دو بچوں کے ساتھ رہیں ۔حالانکہ وہاں برطانوی سفیر نے جو پاکستان کے سفیر کی ذمداری بھی سنبھالتے تھے انھیں اپنے گھر رہنے کی دعوت بھی دی تھی ۔انھوں نے لکھا کہ وہ آتے ہیں بغیر تکلف کے میرے باورچی خانے میں گئیں اور تو اور ایک دفعہ میرے دو چھوٹے بچوں کو نہلایا بھی تھا ۔ ڈپلومیسی کی تاریخ میں انڈیا اور پاکستان کے سفیروں کے درمیان اس طرح کی دوستی کی شاید ہی کوئی مثال ملتی ہو ۔

    ‎” امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر جمشید مارکر کہتے ہیں کہ رعنا لیاقت علی جب کسی کمرے میں داخل ہوتی تھیں تو وہ کمرہ خود ہی روشن ہو اٹھتا تھا ”
    ‎سن 1947ء کے پاکستان کو اپنا گھر بنانے والی رعنا لیاقت علی خان تین بار انڈیا آئیں لیکن ایک بار بھی الموڑہ واپس نہیں گئیں ۔لیکن الموڑہ کو بھلا بھی نہیں پائیں ۔دیپا اگروال کہتی ہیں کہ وہ الموڑہ کے روائیتی کھانے بہت پسند کرتی تھیں اور ایک بار اپنے بھائی نارمن کو انکی سالگرہ پر خط میں لکھا تھا ” آئی مس الموڑہ ”

    ‎رعنا کا ایوب جنرل سے ٹکراؤ :
    ‎ڈپلو میسی کے شعبے میں کافی کامیاب ہونے کے بوجود پاکستان کے صدر ایوب خان کے ساتھ انکے تعلقات کبھی بہتر نہیں ہوۓ ۔اور ایوب خان نے انھیں تنگ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔تہمینہ عزیزلکھتی ہیں کہ ایوب خان چاہتے تھے کہ وہ فاطمہ جناح کے خلاف انتخابی مہم میں حصہ لیں لیکن رعنا نے صاف انکار کر دیا انکا کہنا تھا کہ پاکستانی سفیر ہیں ۔جب جنرل ضیاء الحق نے بھٹو کوپھانسی پر لٹکایا تو انھوں نے فوجی حکومت کے خلاف احتجاج کی قیادت کی جنرل ضیاء الحق کے اسلامی قوانین کی پرزور مخالفت کی ۔بیگم رعنا لیاقت علی 13جون 1990ء کو حرکت قلب بند ہونے کے سبب کراچی میں انتقال کر گئیں اور مزار قائد کے احاطے لیاقت علی خان کے پہلو میں مدفون ہیں ۔ بیگم رعنا لیاقت علی کو سب سے بڑے شہری اعزاز نشان امتیاز سے نوازا گیا ۔ انھیں مادر پاکستان کا خطاب بھی ملا ۔