Baaghi TV

Blog

  • ‎سپریم کورٹ نے اسکول میں بچی سے زیادتی کے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کر دی

    ‎سپریم کورٹ نے اسکول میں بچی سے زیادتی کے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کر دی

    ‎سپریم کورٹ نے اسکول میں 10 سالہ طالبہ سے زیادتی کے مقدمے میں سزا یافتہ مجرم کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا، تاہم تین لاکھ روپے جرمانہ، چھ ماہ اضافی قید اور متاثرہ بچی کو ایک لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم برقرار رکھا ہے۔
    ‎جسٹس صلاح الدین پنہور کی جانب سے جاری کیے گئے تحریری فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ تعلیمی اداروں اور ان کے اطراف طالبات کا تحفظ ریاست کی بنیادی آئینی ذمہ داری ہے۔ عدالت نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو بچوں اور خواتین کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔
    ‎سپریم کورٹ نے تمام صوبائی انسپکٹر جنرلز اور آئی جی اسلام آباد کو حکم دیا کہ اسکولوں، کالجوں اور جامعات کے باہر پولیس گشت میں اضافہ کیا جائے اور طالبات کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
    ‎عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ خواتین اور بچوں کو ہراساں کرنے یا ان کے خلاف جرائم کی شکایات موصول ہونے پر پولیس کسی قسم کی تاخیر کے بغیر قانونی کارروائی کرے تاکہ متاثرین کو بروقت انصاف فراہم کیا جا سکے۔
    ‎فیصلے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو سندھ میڈیکل لیگل ایکٹ 2023 کی طرز پر جدید میڈیکل لیگل سروسز قائم کرنے کی بھی ہدایت دی گئی، تاکہ جنسی جرائم کے مقدمات میں شواہد کو محفوظ بنانے اور متاثرین کو فوری طبی سہولیات فراہم کرنے کا نظام مزید بہتر بنایا جا سکے۔
    ‎عدالتی فیصلے کے مطابق یہ واقعہ شیخوپورہ کے ایک اسکول میں پیش آیا تھا، جہاں اسکول کے سویپر نے 10 سالہ طالبہ کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ میڈیکل رپورٹ میں بچی کے جسم پر تشدد کے نشانات اور زیادتی کی تصدیق ہوئی تھی۔
    ‎سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ فرانزک لیبارٹری کی رپورٹ میں سیمن نہ ملنا اس مقدمے کو ختم کرنے کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ ایف آئی آر درج ہونے میں تین دن کی تاخیر سے ملزم کو شک کا فائدہ نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ ہر مقدمے کے حالات مختلف ہوتے ہیں۔
    ‎فیصلے میں عدالت نے نشاندہی کی کہ واقعے کے بعد اسکول انتظامیہ نے معاملہ چھپانے کی کوشش کی، متاثرہ بچی کو اسکول کے اندر ہی طبی امداد دی گئی اور بروقت اطلاع نہیں دی گئی۔ عدالت نے قرار دیا کہ انتظامیہ کی خاموشی یا غفلت کا نقصان متاثرہ بچی اور اس کی بیوہ والدہ کو نہیں پہنچایا جا سکتا۔
    ‎سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ ملزم کا یہ دعویٰ کہ اسے اسکول گیٹ پر ہونے والے جھگڑے کی وجہ سے جھوٹے مقدمے میں پھنسایا گیا، شواہد کی روشنی میں ثابت نہیں ہو سکا۔

  • ‎کراچی میں مبینہ خودکش حملے کی منصوبہ بندی ناکام، کالعدم ٹی ٹی پی کا مشتبہ دہشت گرد گرفتار

    ‎کراچی میں مبینہ خودکش حملے کی منصوبہ بندی ناکام، کالعدم ٹی ٹی پی کا مشتبہ دہشت گرد گرفتار

    ‎کراچی میں محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے مبینہ طور پر وابستہ ایک مشتبہ خودکش دہشت گرد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حکام کے مطابق گرفتار ملزم شہر میں بڑے دہشت گرد حملے کی منصوبہ بندی میں ملوث تھا۔
    ‎سی ٹی ڈی کے ترجمان کے مطابق گرفتار ملزم کی شناخت سلمان کے نام سے ہوئی ہے، جو مبینہ طور پر مطلوب دہشت گرد زعفران کا قریبی ساتھی رہا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ ملزم اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ سائٹ ایریا میں کام کرنے والے غیر ملکی شہریوں پر فائرنگ کے واقعے میں بھی ملوث رہا، جس میں متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔
    ‎حکام کے مطابق ملزم کے قبضے سے ایک خودکش جیکٹ، حساس مقامات کی تصاویر اور مختلف علاقوں کے نقشے برآمد کیے گئے ہیں۔ سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ دہشت گرد زعفران پہلے ہی ایک مقابلے میں ہلاک ہو چکا ہے، جبکہ اس کی گرفتاری پر ایک کروڑ روپے انعام مقرر تھا۔
    ‎ترجمان نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق گرفتار ملزم کو دیگر ساتھیوں کے ساتھ کراچی میں ایک بڑے خودکش حملے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، جبکہ اس کے مزید مبینہ خودکش حملہ آور ساتھی بھی شہر پہنچنے والے تھے۔
    ‎سی ٹی ڈی کے مطابق ملزم کے ایک ساتھی کی ہلاکت 2025 میں کوئٹہ میں فرنٹیئر کور پر ہونے والے خودکش حملے کے دوران ہوئی تھی، جبکہ ایک اور ساتھی گزشتہ سال ڈیرہ اسماعیل خان پولیس ٹریننگ سینٹر پر حملے میں مارا گیا تھا۔
    ‎تحقیقاتی حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم نے مبینہ طور پر افغانستان میں خودکش حملوں کی تربیت حاصل کی۔ سی ٹی ڈی کے مطابق وہ مولوی مخلص یار کی ہدایت پر اپنے ساتھی ادریس عرف اسد اللہ کے ساتھ کراچی آیا تھا، جہاں مبینہ طور پر ٹارگٹ کلنگ کے بعد خودکش حملے کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔
    ‎ترجمان نے مزید بتایا کہ ملزم کے دیگر مبینہ ساتھیوں، سہولت کاروں اور ٹارگٹ کلرز کی گرفتاری کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں، جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ حکام کے مطابق تحقیقات جاری ہیں اور مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔

  • ‎خاتون سے مبینہ زیادتی کی کوشش، جعلی عامل گرفتار

    ‎خاتون سے مبینہ زیادتی کی کوشش، جعلی عامل گرفتار

    ‎پولیس نے ایک خاتون کے ساتھ مبینہ طور پر زیادتی کی کوشش کے الزام میں خود کو عامل ظاہر کرنے والے ایک شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق ملزم کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
    ‎پولیس کے مطابق مقدمہ متاثرہ خاتون کے بھائی کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں ملزم پر خاتون کے ساتھ مبینہ طور پر زیادتی کی کوشش کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
    ‎پولیس کا کہنا ہے کہ اطلاع ملنے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا گیا، جبکہ شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں تاکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا سکے۔
    ‎حکام کے مطابق تفتیشی ٹیم متاثرہ خاندان کے بیانات، جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والے شواہد اور دیگر متعلقہ معلومات کی روشنی میں تحقیقات کو آگے بڑھا رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد قانون کے مطابق مزید کارروائی کی جائے گی۔
    ‎پولیس نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ ایسے افراد سے محتاط رہیں جو روحانی علاج یا عامل ہونے کے نام پر لوگوں کو دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہیں، اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دیں۔

  • ‎وزیراعظم شہباز شریف سے سوئٹزرلینڈ کے نائب صدر و وزیر خارجہ کی ملاقات

    ‎وزیراعظم شہباز شریف سے سوئٹزرلینڈ کے نائب صدر و وزیر خارجہ کی ملاقات

    ‎سوئٹزرلینڈ کے نائب صدر اور وزیر خارجہ اِگنازیو کاسِس نے برگن اسٹاک میں جاری امریکا اور ایران کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف سے اہم ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی امن اور اقتصادی تعاون سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
    ‎ملاقات کے دوران سوئس وزیر خارجہ نے ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت تک پہنچنے والے مذاکراتی عمل میں پاکستان کے مؤثر سفارتی کردار اور ثالثی کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے مذاکرات کے آئندہ مراحل میں بھی سوئٹزرلینڈ کی جانب سے ہر ممکن تعاون اور معاونت کی خواہش کا اظہار کیا۔
    ‎وزیراعظم شہباز شریف نے سوئس حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر مؤثر عمل درآمد نہ صرف خطے میں پائیدار امن کے قیام میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ عالمی معیشت اور بین الاقوامی استحکام کے لیے بھی مثبت نتائج پیدا کرے گا۔
    ‎وزیراعظم نے پاکستان میں سوئس سرمایہ کاری کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات مزید مضبوط بنانے کی وسیع گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سوئس کمپنیاں پاکستان میں اپنی سرمایہ کاری میں اضافہ کریں گی، خصوصاً صنعت، ٹیکنالوجی اور دیگر اہم شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ ملے گا۔
    ‎شہباز شریف نے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سائبر سکیورٹی کے شعبوں میں پاکستان کے تربیت یافتہ اور باصلاحیت ماہرین کی خدمات سوئٹزرلینڈ کو فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی نوجوان آئی ٹی کے شعبے میں عالمی معیار کی صلاحیتوں کے حامل ہیں اور دونوں ممالک اس شعبے میں قریبی تعاون سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
    ‎ملاقات میں ادویہ سازی، سیاحت، موسمیاتی تبدیلی، قدرتی آفات سے نمٹنے اور خطرات میں کمی جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
    ‎وزیراعظم نے اس موقع پر سوئس نائب صدر اور وزیر خارجہ اِگنازیو کاسِس کو باہمی سہولت کے مطابق پاکستان کے سرکاری دورے کی دعوت بھی دی، جسے دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

  • ‎ٹرمپ کے بیان پر ایرانی وفد کا احتجاج، امریکا ایران مذاکرات میں تعطل

    ‎ٹرمپ کے بیان پر ایرانی وفد کا احتجاج، امریکا ایران مذاکرات میں تعطل

    ‎سوئٹزرلینڈ میں جاری امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے مرحلے کو اس وقت غیر متوقع دھچکا لگا جب ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ سخت مؤقف اور بیانات پر احتجاج کرتے ہوئے ایرانی وفد مذاکراتی میز چھوڑ کر چلا گیا۔
    ‎رپورٹس کے مطابق مذاکرات کے اگلے دور کا آغاز مقررہ وقت پر نہ ہو سکا، جس سے سفارتی عمل میں عارضی تعطل پیدا ہوگیا۔ ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کے حالیہ بیانات کو ایرانی وفد نے اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے شدید احتجاج کیا اور مذاکراتی عمل سے وقتی طور پر علیحدگی اختیار کر لی۔
    ‎ذرائع کے مطابق اس پیش رفت کے بعد مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم دونوں فریقوں کے درمیان بعض اہم نکات پر اختلافات برقرار ہیں، جس کے باعث آئندہ مرحلے کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
    ‎اس دوران پاکستانی وفد نے مذاکراتی عمل کو دوبارہ پٹری پر لانے کے لیے متحرک سفارتی کردار ادا کیا۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی نمائندوں نے امریکی اور ایرانی وفود سے الگ الگ ملاقاتیں کیں اور دونوں فریقوں کے درمیان فاصلے کم کرنے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کیا۔
    ‎سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان مسلسل اس کوشش میں ہے کہ مذاکراتی عمل متاثر نہ ہو اور دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری رہے، کیونکہ اس کے مثبت نتائج نہ صرف امریکا اور ایران بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے امن و استحکام کے لیے اہم ہو سکتے ہیں۔
    ‎اب تک نہ تو امریکی حکام اور نہ ہی ایرانی حکام کی جانب سے مذاکراتی میز چھوڑنے کے دعوے پر باضابطہ بیان جاری کیا گیا ہے، تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ رابطے برقرار ہیں اور مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کی کوششیں جاری ہیں۔

  • واٹس ایپ اینڈرائیڈ صارفین کے لیے دو نئے مفید فیچرز متعارف کرانے کی تیاری

    واٹس ایپ اینڈرائیڈ صارفین کے لیے دو نئے مفید فیچرز متعارف کرانے کی تیاری

    واٹس ایپ اپنے اینڈرائیڈ صارفین کے لیے دو نئے اور کارآمد فیچرز متعارف کرانے کی تیاری کر رہا ہے، جن کا مقصد صارفین کے لیے چیٹنگ کو مزید آسان اور بیک اپ مینجمنٹ کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔ یہ دونوں فیچرز اس وقت واٹس ایپ کے بیٹا ورژن میں آزمائشی مرحلے سے گزر رہے ہیں۔
    ‎واٹس ایپ سے متعلق معلومات فراہم کرنے والی ویب سائٹ WABetaInfo کے مطابق کمپنی Tracking Portal اور Managing Chat Backups نامی دو نئے فیچرز پر کام کر رہی ہے۔
    ‎ٹریکنگ پورٹل فیچر کے ذریعے صارفین آسانی سے معلوم کر سکیں گے کہ ان کے کون سے کانٹیکٹس اس وقت واٹس ایپ پر آن لائن ہیں۔ اس مقصد کے لیے آن لائن صارف کی پروفائل تصویر کے ساتھ ایک چھوٹا سبز رنگ کا ڈاٹ دکھائی دے گا، جو اس بات کی نشاندہی کرے گا کہ متعلقہ شخص اس وقت ایپ استعمال کر رہا ہے۔
    ‎اس فیچر کی بدولت صارفین کو کسی بھی چیٹ کو کھولنے کی ضرورت نہیں پڑے گی، کیونکہ آن لائن ہونے کی معلومات براہ راست چیٹ انفارمیشن اسکرین پر ہی نظر آ جائے گی۔ البتہ واٹس ایپ نے صارفین کی پرائیویسی کو بھی مدنظر رکھا ہے، اس لیے اگر کوئی شخص اپنا آن لائن اسٹیٹس چھپانا چاہے تو وہ پرائیویسی سیٹنگز کے ذریعے ایسا کر سکے گا۔
    ‎یہ سبز ڈاٹ فیس بک اور انسٹاگرام میں پہلے سے موجود آن لائن انڈیکیٹر سے ملتا جلتا ہوگا، جس کے ذریعے صارفین فوری طور پر جان سکیں گے کہ کون چیٹ کے لیے دستیاب ہے۔
    ‎دوسرا نیا فیچر Managing Chat Backups ہے، جس کے ذریعے صارفین اپنے پرانے چیٹ بیک اپس کو زیادہ آسانی سے منظم کر سکیں گے۔ اس میں بیک اپ فائلز دیکھنے، غیر ضروری بیک اپس حذف کرنے اور ضرورت پڑنے پر ان کی نقل تیار کرنے کی سہولت بھی شامل ہوگی۔
    ‎اس فیچر کی مدد سے صارفین اپنے موبائل فون اور کلاؤڈ اسٹوریج میں غیر ضروری ڈیٹا ختم کر کے اضافی اسٹوریج اسپیس بھی حاصل کر سکیں گے۔ رپورٹ کے مطابق جب یہ فیچر متعارف کرایا جائے گا تو اس میں گوگل ڈرائیو اسٹوریج تک فوری رسائی کے لیے ایک شارٹ کٹ بھی شامل ہوگا۔
    ‎فی الحال دونوں فیچرز ابتدائی آزمائشی مرحلے میں ہیں اور ابھی عام صارفین یا بیشتر بیٹا صارفین کے لیے بھی دستیاب نہیں۔ تاہم توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ آنے والی اپ ڈیٹس میں انہیں مرحلہ وار تمام اینڈرائیڈ صارفین کے لیے جاری کر دیا جائے گا۔

  • ‎غزہ میں اسرائیلی حملوں میں الجزیرہ کے کیمرہ مین احمد وشاح سمیت 10 فلسطینی شہید

    ‎غزہ میں اسرائیلی حملوں میں الجزیرہ کے کیمرہ مین احمد وشاح سمیت 10 فلسطینی شہید

    ‎غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جہاں ہفتے کی صبح سے مختلف علاقوں میں ہونے والی کارروائیوں میں الجزیرہ کے کیمرہ مین احمد وشاح سمیت کم از کم 10 فلسطینی شہید ہو گئے۔ حملوں میں متعدد شہری زخمی بھی ہوئے جبکہ رہائشی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا۔
    ‎الجزیرہ کے مطابق احمد وشاح غزہ کے وسطی علاقے بوریج پناہ گزین کیمپ میں ایک رہائشی گھر پر ہونے والے فضائی حملے میں شہید ہوئے۔ اس حملے میں ان کے ساتھ مزید دو افراد بھی جان کی بازی ہار گئے۔ احمد وشاح الجزیرہ مبشر کے لیے خدمات انجام دے رہے تھے اور غزہ کی صورتحال کو دنیا تک پہنچانے میں مصروف تھے۔
    ‎یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب صرف دو ماہ قبل احمد وشاح کے بھائی اور ساتھی صحافی محمد وشاح بھی ایک الگ اسرائیلی حملے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ دونوں بھائی غزہ میں صحافتی ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے۔
    ‎الجزیرہ نے اپنے کیمرہ مین کی ہلاکت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحافیوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ادارے نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور بین الاقوامی قانونی اداروں سے مطالبہ کیا کہ صحافیوں پر حملوں کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ دار افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
    ‎دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ احمد وشاح حماس کے عسکری ونگ سے وابستہ تھے اور کارروائی کا مقصد حماس کے ایک رہنما کو نشانہ بنانا تھا، جو مبینہ طور پر غزہ میں مالی وسائل کی منتقلی میں ملوث تھا۔ تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
    ‎الجزیرہ کے مطابق اکتوبر 2023 سے جاری جنگ کے دوران احمد وشاح ادارے کے بارہویں میڈیا کارکن ہیں جو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دیتے ہوئے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ میڈیا ادارے نے ایک بار پھر صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے عالمی سطح پر مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
    ‎بوریج کیمپ کے علاوہ غزہ کے دیگر علاقوں میں بھی فضائی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ان حملوں میں ایک ہی خاندان کے چار افراد، جن میں دو بچے بھی شامل تھے، جان کی بازی ہار گئے۔ مسلسل جاری حملوں کے باعث غزہ میں انسانی بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے اور امدادی ادارے شہریوں کی حفاظت کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

  • ‎ایڈنبرا میں مبینہ اسلاموفوبک حملہ، پانچ افراد زخمی

    ‎ایڈنبرا میں مبینہ اسلاموفوبک حملہ، پانچ افراد زخمی

    ‎اسکاٹ لینڈ کے دارالحکومت ایڈنبرا میں پاکستانیوں کی بڑی آبادی والے علاقوں لیتھ واک اور ٹیلفورڈ روڈ میں ایک مبینہ اسلاموفوبک اور نسلی تعصب پر مبنی حملے میں پانچ افراد زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد پاکستانی اور مسلم کمیونٹی میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے جبکہ علاقے میں خوف کی فضا قائم ہے۔
    ‎اطلاعات کے مطابق ہفتہ کی شب تقریباً آٹھ بجے ایک شخص نے بلاجواز متعدد افراد پر حملہ کر دیا۔ پولیس کے مطابق حملے میں 22 سے 29 سال کی عمر کے پانچ افراد زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ تمام زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
    ‎عینی شاہدین کے مطابق ملزم نے ایک پیزا شاپ کے باہر بھی ہنگامہ آرائی کی، دروازے کو ٹھوکریں ماریں اور زبردستی اندر داخل ہونے کی کوشش کی۔ بعد ازاں اس نے قریبی پیٹرول اسٹیشن پر بھی حملہ کیا۔
    ‎پولیس کا ابتدائی مؤقف ہے کہ واقعہ بظاہر مذہبی اور نسلی نفرت سے جڑا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ حکام کے مطابق ملزم کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا، جبکہ گرفتاری کے وقت وہ مسلسل یہ دعویٰ کر رہا تھا کہ وہ "اپنے ملک کی حفاظت کر رہا ہے۔” پولیس اس واقعے کو نفرت انگیز جرم کے زاویے سے بھی تفتیش کر رہی ہے۔
    ‎اسکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر جان سوینی نے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسکاٹ لینڈ میں مذہبی یا نسلی تعصب کی کوئی گنجائش نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو بلاامتیاز محفوظ ماحول فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور نفرت پر مبنی جرائم کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
    ‎واقعے کے بعد مقامی پاکستانی اور مسلم رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ حملے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں، متاثرہ افراد کو انصاف فراہم کیا جائے اور کمیونٹی کے تحفظ کے لیے مزید مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

  • پاکستان کو ایران امریکا مذاکرات کی سربراہی کی پیشکش

    پاکستان کو ایران امریکا مذاکرات کی سربراہی کی پیشکش

    ‎پاکستان کو ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات کی سربراہی کی پیشکش کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جسے خطے میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق سوئٹزرلینڈ کے علاقے برگن اسٹاک میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں موجود پاکستانی وفد سے ایران اور امریکا کے اعلیٰ سطحی وفود نے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کے دوران دونوں ممالک کی جانب سے پاکستان کو مذاکراتی عمل کی سربراہی کی پیشکش کی گئی۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ اس پیشکش کا مقصد ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات کو مزید مؤثر انداز میں آگے بڑھانا اور باہمی اعتماد کو مضبوط بنانا ہے۔ تاہم اس حوالے سے پاکستان، ایران یا امریکا کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔
    ‎ایرانی وفد کی نمائندگی اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کی، جبکہ پاکستانی وفد میں وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی شریک تھے۔
    ‎ملاقات کے دوران پاکستانی اور ایرانی قیادت نے ایک دوسرے کا پرتپاک استقبال کیا اور گرمجوشی سے مصافحہ و معانقہ کیا۔ اس سے قبل امریکی وفد نے بھی پاکستانی وفد سے ملاقات کی، جس میں مذاکراتی عمل، علاقائی صورتحال اور امن و استحکام سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق اگر پاکستان کو باضابطہ طور پر مذاکرات کی سربراہی سونپی جاتی ہے تو یہ عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی حیثیت اور اعتماد میں ایک اہم اضافہ ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے حالیہ عرصے میں خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے فروغ کے لیے فعال سفارتی کردار ادا کیا ہے، جسے مختلف ممالک کی جانب سے سراہا جا رہا ہے۔

  • ‎شہباز شریف نے ایران امریکا مذاکرات میں ٹرمپ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو سراہا

    ‎شہباز شریف نے ایران امریکا مذاکرات میں ٹرمپ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو سراہا

    ‎وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا آغاز عالمی امن کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے، جبکہ انہوں نے اس عمل کو ممکن بنانے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو بھی سراہا۔
    ‎سوئٹزرلینڈ کے علاقے برگن اسٹاک میں لیک لوزن سمٹ کے کانفرنس ہال میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ صورتحال دنیا میں امن اور استحکام کے لیے ایک اہم موقع فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر تمام متعلقہ ممالک مشترکہ کوششیں کریں تو عالمی سطح پر اتحاد، تعاون اور پائیدار امن کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
    ‎شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات کی حمایت کی ہے۔ ان کے مطابق ایران اور امریکا کو مذاکرات کی میز پر لانے میں پاکستان نے مثبت کردار ادا کیا، جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھی اس عمل کو آگے بڑھانے میں اہم ذمہ داری ادا کی۔
    ‎وزیراعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مدبرانہ قیادت کے باعث مذاکرات کا انعقاد ممکن ہوا، جو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے قیام کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔
    ‎کانفرنس ہال پہنچنے پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی وفد کے سربراہ محمد باقر قالیباف کا خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر مختلف ممالک کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے، جہاں سفارتی رابطوں اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے یہ مذاکرات نہ صرف امریکا اور ایران کے تعلقات بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے مستقبل کے لیے اہم سمجھے جا رہے ہیں۔ اگر بات چیت مثبت انداز میں آگے بڑھتی ہے تو اس سے خطے میں امن، اقتصادی استحکام اور بین الاقوامی تعاون کے نئے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔