ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمی نیا نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل ایران کے خلاف جنگ میں اپنے اعلانیہ اور خفیہ مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے، جس کے بعد انہیں ایران کی 10 نکاتی تجویز پر مبنی جنگ بندی پر رضامند ہونا پڑا۔
جمعرات کو جاری بیان میں اکرمی نیا نے کہا کہ دشمن نے جنگ کا آغاز بڑے مقاصد کے ساتھ کیا تھا جن میں اسلامی جمہوریہ کے نظام کو کمزور کرنا، حکومت کی تبدیلی اور ملک کو تقسیم کرنے جیسے اہداف شامل تھے، تاہم وہ ان میں سے کسی بھی مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کے آپریشنل اور اسٹریٹجک جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ دشمن کو ہر سطح پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، چاہے وہ میکرو سطح ہو یا میدان جنگ کے اہداف۔ ان کے مطابق ایران نے نہ صرف اپنے دفاع کو مضبوط رکھا بلکہ دشمن کی کمزوریوں کو بھی بے نقاب کیا۔
ایرانی ترجمان کا کہنا تھا کہ دشمن کی ایک بڑی حکمت عملی زمینی جنگ کو مسلط کرنا اور تنازع کو قریبی لڑائی میں تبدیل کرنا تھا، مگر ایرانی افواج کی مؤثر دفاعی حکمت عملی اور تیاری کے باعث یہ کوشش بھی ناکام رہی۔
یاد رہے کہ ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے پاکستان کی ثالثی میں دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان مزید مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران جنگ کے نتائج کو اپنی کامیابی کے طور پر پیش کر رہا ہے، تاہم حتمی صورتحال کا انحصار آنے والے مذاکرات پر ہوگا۔
Blog
-

ایران کا دعویٰ، امریکا نے ہماری شرائط مانیں، دشمن ناکام
-

پاکستان کی کامیاب سفارتکاری مشرقِ وسطیٰ میں امن کی نئی امید۔ تجزیہ: شہزاد قریشی
یورپی یونین کی حمایت اور عالمی کوششیں کیا سیز فائر مستقل امن بن سکے گا؟
جنگ سے وقفہ یا امن کی شروعات؟ مشرقِ وسطیٰ ایک فیصلہ کن موڑ پر
تجزیہ شہزاد قریشی
مشرقِ وسطیٰ: جنگ سے وقفہ یا امن کی ابتدا؟ مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ حالیہ کشیدگی کے بعد دو ہفتوں کی سیز فائر نے جہاں وقتی سکون فراہم کیا ہے، وہیں ایک اہم سوال بھی جنم لیا ہے: کیا یہ جنگ بندی محض ایک وقفہ ہے یا واقعی خطے کو مستقل امن کی طرف لے جانے کی سنجیدہ کوشش؟ یہ سیز فائر، جس میں پاکستان نے کلیدی ثالثی کا کردار ادا کیا، بظاہر ایک بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر سامنے آئی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ خطرناک حد تک بڑھ چکا تھا، پاکستان کی مداخلت نے نہ صرف جنگ کو وقتی طور پر روکا بلکہ مذاکرات کی راہ بھی ہموار کی۔ اس پیش رفت نے پاکستان کو عالمی سفارتی منظرنامے میں ایک اہم کھلاڑی کے طور پر اجاگر کیا ہے۔ تاہم، اس سیز فائر کی نوعیت کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔ یہ جنگ بندی بنیادی مسائل کا حل نہیں بلکہ ایک مہلت ہے—ایک ایسا وقفہ جس میں فریقین کو اپنے مؤقف پر نظرثانی اور بات چیت کا موقع ملتا ہے۔ ایران کا جوہری پروگرام، امریکی پابندیاں، اور خطے میں طاقت کے توازن جیسے مسائل بدستور موجود ہیں۔ جب تک ان بنیادی تنازعات کا حل نہیں نکلتا، کسی بھی سیز فائر کو مستقل امن کی ضمانت نہیں کہا جا سکتا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ عالمی سطح پر اعتماد کا فقدان ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ اقوام متحدہ اور یورپی یونین جیسے ادارے اگرچہ امن کے لیے سرگرم ہیں، لیکن خطے کے ممالک کے درمیان بداعتمادی اور مفادات کا ٹکراؤ کسی بھی پیش رفت کو نازک بنا دیتا ہے۔ خلیجی ممالک بھی اس سیز فائر کو مکمل اطمینان سے نہیں دیکھ رہے، جو اس کی پائیداری پر سوالیہ نشان ہے۔ پاکستان کا کردار یہاں محض ایک ثالث تک محدود نہیں بلکہ ایک ذمہ دار عالمی قوت کے طور پر ابھرتا دکھائی دیتا ہے۔ اگر آئندہ مذاکرات واقعی اسلام آباد میں ہوتے ہیں، تو یہ نہ صرف پاکستان کے لیے ایک سفارتی کامیابی ہوگی بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک مثبت قدم ثابت ہو سکتا ہے۔حقیقت پسندانہ تجزیہ یہی بتاتا ہے کہ یہ سیز فائر فی الحال ایک عارضی وقفہ ہے، نہ کہ حتمی حل۔ تاہم اسے کم اہم بھی نہیں سمجھنا چاہیے۔ تاریخ میں کئی بڑے امن معاہدے ایسے ہی چھوٹے وقفوں سے شروع ہوئے ہیں۔ اصل امتحان اب شروع ہوتا ہے—کیا فریقین اس موقع کو ضائع کریں گے یا اسے مستقل امن کی بنیاد بنائیں گے؟
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ: یہ سیز فائر امن نہیں، بلکہ امن کا ایک نادر موقع ہے۔ اگر سنجیدگی، تدبر اور مستقل مزاجی کا مظاہرہ کیا گیا تو یہی وقفہ تاریخ کا رخ موڑ سکتا ہے، ورنہ یہ محض ایک اور عارضی خاموشی ثابت ہوگا، جس کے بعد شور پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ واپس آئے گا۔
-

وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی ملاقات، امن کیلئے ثالثی جاری رکھنے کا عزم
اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے درمیان اہم ملاقات ہوئی جس میں خطے میں پائیدار امن کے لیے پاکستان کے ثالثی کردار کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ملاقات میں پاکستان کی سفارتی کوششوں اور فریقین کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ہونے والی حالیہ پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے خطے میں کشیدگی میں کمی پر اطمینان کا اظہار کیا اور تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی کو برقرار رکھتے ہوئے صبر و تحمل کا مظاہرہ جاری رکھیں۔
ملاقات کے دوران اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا مثبت اور فعال کردار ادا کرتا رہے گا اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں جاری رکھے گا۔
وزیراعظم نے اس عمل میں شامل تمام ممالک کے تعاون اور سنجیدگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ امن کے لیے مشترکہ کوششیں ہی دیرپا استحکام کی ضمانت بن سکتی ہیں۔
اعلامیے کے مطابق ملاقات میں امن کے عمل کی کامیابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا گیا جبکہ وزیراعظم نے آئندہ آنے والے عالمی وفود کو پاکستان کے دورے کی باضابطہ دعوت کا اعادہ بھی کیا۔
دوسری جانب عالمی سطح پر بھی پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا جا رہا ہے اور مختلف عالمی رہنماؤں کی جانب سے اس کردار کو مثبت قرار دیا گیا ہے۔ -

لاہور ایئرپورٹ پر روٹ ٹو مکہ آپریشن کی تیاریاں شروع
لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پہلی بار روٹ ٹو مکہ آپریشن شروع کرنے کی تیاریاں تیز کر دی گئی ہیں، اس حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں سعودی اور پاکستانی حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں سعودی حکومت کے ڈائریکٹر آپریشنز حج فواز سعود الشفیری اور سعودی سفارتخانے کے سیکریٹری نے شرکت کی، جبکہ پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی، ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس، کسٹمز، ایف آئی اے، اے این ایف، وزارت خارجہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندے بھی موجود تھے۔
اجلاس کے دوران حجاج کرام کو ہر مرحلے پر بہترین سہولیات فراہم کرنے اور مختلف اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ اور ہم آہنگی کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔
انفراسٹرکچر سے متعلق امور کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا، جن میں خصوصی کاؤنٹرز اور ہولڈنگ ایریاز کا قیام، مناسب نشستوں کی فراہمی، جدید کیو مینجمنٹ سسٹم اور واضح سائن ایج شامل ہیں تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔
حکام نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مسافروں کے بہاؤ کو ہموار بنایا جائے، رش کم کیا جائے اور سروس کے معیار کو بہتر بنایا جائے تاکہ حجاج کرام کو آسان اور آرام دہ سفر فراہم کیا جا سکے۔
اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ لاہور ایئرپورٹ سے روٹ ٹو مکہ آپریشن کو کامیاب، منظم اور مسافر دوست بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات جلد مکمل کیے جائیں گے۔ -

جنگ بندی کے بعد اسرائیل کی دوبارہ کارروائی کا عندیہ
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے سیکیورٹی کابینہ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے مؤقف میں اب بھی واضح فرق موجود ہے، جس کے باعث صورتحال غیر یقینی ہے اور اسرائیل فی الحال "انتظار اور دیکھو” کی پالیسی اختیار کرے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے کہا کہ واشنگٹن نے اس بات کا عزم ظاہر کیا ہے کہ ایران کی افزودہ یورینیم کو یا تو مذاکرات کے ذریعے ختم کیا جائے گا یا پھر ضرورت پڑنے پر دوبارہ فوجی کارروائی کی جائے گی۔
اجلاس میں شریک حکام نے اس بات کا بھی عندیہ دیا کہ جنگ بندی ختم ہونے کے بعد اسرائیل دوبارہ فوجی آپریشن شروع کر سکتا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھنے کا خدشہ ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو مشرق وسطیٰ ایک بار پھر بڑے تصادم کی طرف جا سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں جنگ بندی عارضی دکھائی دیتی ہے اور مستقبل کا انحصار امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات پر ہوگا۔ -

ہیکنگ دعویٰ، اسرائیلی جنرل کی خفیہ ملاقاتوں کا انکشاف
ایرانی حمایت یافتہ ہیکر گروپ "ہندلہ” کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے اپریل 2026 میں اسرائیلی فوج کے سابق چیف آف اسٹاف ہرزی ہالیوی کے موبائل فون کو ہیک کر کے حساس معلومات حاصل کر لیں۔
غیر مصدقہ رپورٹس کے مطابق اس مبینہ ہیکنگ کے دوران ذاتی اور پیشہ ورانہ نوعیت کا ڈیٹا لیک کیا گیا، جس میں تصاویر اور ویڈیوز بھی شامل ہیں۔ ان مواد میں مبینہ طور پر قطر اور اردن میں ہونے والی خفیہ ملاقاتوں کی جھلک بھی دکھائی گئی ہے۔
ہیکر گروپ کا دعویٰ ہے کہ لیک ہونے والی ویڈیوز میں ہرزی ہالیوی کو قطر میں امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ملاقات کرتے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ اردن میں بھی اعلیٰ حکام کے ساتھ ملاقاتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق ہندلہ گروپ 2023 کے بعد منظر عام پر آیا اور اسے ایران سے منسلک سائبر گروپ سمجھا جاتا ہے، جو خاص طور پر اسرائیلی شخصیات کو نشانہ بنانے کے لیے "ہیک اینڈ لیک” حکمت عملی استعمال کرتا ہے۔
تاہم سیکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی معلومات کو احتیاط سے دیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ اکثر ایسے دعوے پروپیگنڈا یا نفسیاتی جنگ کا حصہ بھی ہو سکتے ہیں، اور ان کی آزادانہ تصدیق ضروری ہوتی ہے۔
تاحال اسرائیلی حکام کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ -

ایران کی مدد کرنے والے ممالک پر 50 فیصد ٹیرف: ٹرمپ کی دھمکی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ جو بھی ملک ایران کو فوجی سازوسامان فراہم کرے گا، اس پر امریکا 50 فیصد ٹیرف عائد کرے گا، جس سے عالمی سطح پر ایک نئی معاشی کشیدگی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
واشنگٹن میں جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی عسکری مدد خطے کے امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، اس لیے ایسے اقدامات کی حوصلہ شکنی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کی دفاعی صلاحیت کو بڑھنے سے روکنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ امریکا معاشی دباؤ کو ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کرے گا تاکہ ایران کو ملنے والی بیرونی مدد کو محدود کیا جا سکے۔ ٹرمپ کے مطابق یہ پالیسی نہ صرف ایران بلکہ اس کے ساتھ تعاون کرنے والے ممالک کے لیے بھی سخت پیغام ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ واشنگٹن اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایسی حکمت عملی اختیار کر رہا ہے جس سے خطے میں استحکام کو یقینی بنایا جا سکے اور کشیدگی میں کمی لائی جا سکے۔
ماہرین کے مطابق اس اعلان کے بعد وہ ممالک جو ایران کے ساتھ دفاعی تعاون رکھتے ہیں، انہیں معاشی خطرات اور ممکنہ تجارتی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی تجارت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار ہے اور مختلف ممالک کے درمیان سفارتی اور عسکری تناؤ بڑھ رہا ہے۔ -

موبائل ایپ سے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ گم ہونے کی اطلاع کیسے دیں؟
حکومت کی جانب سے شہریوں کی سہولت کے لیے جدید اقدامات کے تحت اب شناختی کارڈ اور پاسپورٹ گم ہونے کی اطلاع موبائل ایپ کے ذریعے دینا ممکن ہو گیا ہے۔ اس نئے طریقہ کار سے شہریوں کو دفاتر کے چکر لگانے سے نجات ملے گی اور فوری طور پر اپنی دستاویزات کے حوالے سے اطلاع دے سکیں گے۔
رپورٹس کے مطابق شہری اب متعلقہ سرکاری موبائل ایپس کے ذریعے چند آسان مراحل میں اپنی گمشدہ دستاویزات کی رپورٹ درج کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے سب سے پہلے متعلقہ ایپ کو ڈاؤن لوڈ کر کے اس میں رجسٹریشن کرنا ہوگی، جس کے بعد لاگ اِن کر کے “Lost Document” یا اسی نوعیت کے آپشن کا انتخاب کرنا ہوگا۔
اس کے بعد صارف کو اپنی ذاتی معلومات جیسے شناختی کارڈ نمبر، نام اور دیگر ضروری تفصیلات درج کرنا ہوں گی۔ مزید برآں گم ہونے کی تاریخ، مقام اور مختصر وضاحت بھی فراہم کرنا ہوگی تاکہ متعلقہ ادارے فوری کارروائی کر سکیں۔
حکام کے مطابق درخواست جمع کروانے کے بعد صارف کو ایک ٹریکنگ نمبر فراہم کیا جائے گا جس کے ذریعے وہ اپنی درخواست کی صورتحال کو آن لائن چیک کر سکے گا۔ اس سہولت سے نہ صرف وقت کی بچت ہوگی بلکہ جعلسازی اور غلط استعمال کو روکنے میں بھی مدد ملے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ڈیجیٹل نظام سے شہریوں کو فوری ریلیف ملے گا اور سرکاری اداروں کی کارکردگی میں بھی بہتری آئے گی۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ دستاویزات گم ہونے کی صورت میں فوری طور پر رپورٹ درج کروائیں تاکہ کسی بھی ممکنہ نقصان سے بچا جا سکے۔ -

تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ، ایشیائی مارکیٹس میں ملا جلا رجحان
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد عالمی اور علاقائی اسٹاک مارکیٹس میں ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت بڑھ کر 98 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جو حالیہ کشیدگی اور سپلائی خدشات کا نتیجہ قرار دی جا رہی ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مثبت رجحان دیکھنے میں آیا، جہاں 100 انڈیکس بڑھ کر ایک لاکھ 66 ہزار 518 پوائنٹس کی سطح تک پہنچ گیا۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کا مظہر ہے۔
دوسری جانب ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں ملا جلا رجحان رہا۔ جنوبی کوریا کے کاسپی انڈیکس میں 1.61 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ جاپان کے نکئی اور ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ انڈیکس میں بھی 0.53 فیصد کی کمی دیکھی گئی۔
بھارت کی اسٹاک مارکیٹ میں بھی منفی رجحان سامنے آیا جہاں انڈیکس ڈیڑھ فیصد سے زائد گر گیا، جسے سرمایہ کاروں کی محتاط پالیسی سے جوڑا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اضافہ عالمی معیشت پر دباؤ ڈال سکتا ہے، جبکہ مختلف ممالک کی اسٹاک مارکیٹس میں اتار چڑھاؤ اسی غیر یقینی صورتحال کی عکاسی کر رہا ہے۔ -

یورپی ممالک کا لبنان میں بھی جنگ بندی یقینی بنانے کا مطالبہ
برطانیہ سمیت یورپ کے متعدد ممالک نے ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے لبنان میں بھی اس پر عملدرآمد یقینی بنانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
غیر ملکی خبررساں اداروں کے مطابق برطانیہ، فرانس، اٹلی، جرمنی، کینیڈا، ڈنمارک، نیدرلینڈز، اسپین، یورپی کمیشن، یورپی کونسل اور جاپان کے رہنماؤں نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں خطے میں امن کے قیام پر زور دیا گیا ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی ایک مثبت پیش رفت ہے جس کا خیر مقدم کیا جاتا ہے، جبکہ پاکستان اور دیگر شراکت داروں کی سفارتی کوششوں کو بھی سراہا گیا ہے۔
رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ جاری مذاکرات کا مقصد جنگ کا جلد اور مستقل خاتمہ ہونا چاہیے، جو صرف سفارتی ذرائع سے ہی ممکن ہے۔ اعلامیے میں بامعنی معاہدے کے لیے فوری پیش رفت کی حوصلہ افزائی بھی کی گئی۔
اعلامیے کے مطابق یہ پیش رفت نہ صرف ایران کے شہریوں کے تحفظ کے لیے اہم ہے بلکہ خطے میں سیکیورٹی کو بہتر بنانے اور ممکنہ عالمی توانائی بحران کو روکنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
یورپی رہنماؤں نے واضح کیا کہ وہ ان سفارتی کوششوں کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور اس سلسلے میں امریکا اور دیگر ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔
اعلامیے میں خاص طور پر لبنان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ وہاں بھی جنگ بندی پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ خطے میں مزید کشیدگی کو روکا جا سکے۔