Baaghi TV

Blog

  • ایران جنگ بندی پر متحدہ عرب امارات کا سخت مؤقف

    ایران جنگ بندی پر متحدہ عرب امارات کا سخت مؤقف

    ابوظہبی: متحدہ عرب امارات نے ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی کے حوالے سے محتاط اور سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاہدے پر مزید وضاحت چاہتا ہے تاکہ تہران کی جانب سے مکمل پابندی اور آبنائے ہرمز کی “بلا مشروط بحالی” کو یقینی بنایا جا سکے۔

    وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ امارات یہ بھی چاہتا ہے کہ جنگ کے دوران ملک کو پہنچنے والے نقصانات پر ایران کو جوابدہ ٹھہرایا جائے۔متحدہ عرب امارات نے اپنے بعض خلیجی اتحادیوں کے برعکس ایران اور امریکا کے درمیان عارضی جنگ بندی کا خیر مقدم کرنے سے گریز کیا اور واضح کیا کہ صرف وقتی وقفہ کافی نہیں بلکہ ایک جامع اور پائیدار حکمت عملی کی ضرورت ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام، خطے میں پراکسی گروپس کی حمایت اور آبنائے ہرمز کی بندش جیسے معاملات کو بھی اس حکمت عملی کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔

    صدر امارات کے مشیر انور قرقاش نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ امارات کے مؤقف پر کسی کو حیران نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا “رسمی مروّت کا دور گزر چکا ہے، اب صاف گوئی ناگزیر ہو چکی ہے۔ آنے والے مرحلے میں ہمیں ایک مضبوط اور واضح اجتماعی مؤقف اپنانا ہوگا جو خطے میں استحکام اور سلامتی کو فروغ دے۔”

    واضح رہے کہ حالیہ جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات ایران کے حملوں کا بڑا نشانہ بنا، جہاں تقریباً نصف میزائل اور ڈرون حملے امارات کی جانب کیے گئے جن میں سے زیادہ تر کو فضائی دفاعی نظام نے ناکام بنا دیا۔
    جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی ایران کی جانب سے اماراتی شہروں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے، جنہیں ایرانی میڈیا نے ایران کی آئل ریفائنریوں پر پہلے کیے گئے حملوں کا ردعمل قرار دیا ہے۔

  • بیروت پر اسرائیلی حملے، حزب اللہ سربراہ کے قریبی ساتھی کی  شہادت کا دعویٰ

    بیروت پر اسرائیلی حملے، حزب اللہ سربراہ کے قریبی ساتھی کی شہادت کا دعویٰ

    بیروت: اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی تازہ فضائی کارروائی میں ایران کے حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ کے سربراہ کے قریبی ساتھی کو شہید کر دیا گیا ہے، جبکہ لبنان بھر میں شدید بمباری کے نتیجے میں سینکڑوں افراد جان کی بازی ہار گئے۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق حملے میں علی یوسف حارشی نامی شخص مارا گیا، جو حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم کے قریبی مشیر اور ذاتی معاون تھے۔ اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ حارشی نہ صرف نعیم قاسم کے دفتر کے انتظامی امور سنبھالتے تھے بلکہ سیکیورٹی معاملات میں بھی مرکزی کردار ادا کرتے تھے۔آئی ڈی ایف کے بیان کے مطابق رات گئے بیروت میں کیے گئے حملے میں حرشی کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی فوج نے مزید دعویٰ کیا کہ اس نے دریائے لیتانی کے شمال اور جنوب کے درمیان حزب اللہ کے جنگجوؤں کی نقل و حرکت کے لیے استعمال ہونے والے دو اہم راستوں کو بھی نشانہ بنایا۔

    اسرائیلی حکام کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران جنوبی لبنان میں اسلحے کے تقریباً 10 ذخائر، راکٹ لانچرز اور کمانڈ سینٹرز کو بھی تباہ کیا گیا۔دوسری جانب لبنان میں جاری اسرائیلی بمباری نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز ملک بھر میں ہونے والے حملوں میں کم از کم 254 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں بڑی تعداد عام شہریوں کی ہے۔دارالحکومت بیروت کے رہائشی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں صرف ایک دن میں 91 افراد کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔ شہری علاقوں پر حملوں کے باعث عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے اور انسانی بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

  • پاکستان اور چین بزنس تعلقات  کیلیے ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں،وزیراعظم

    پاکستان اور چین بزنس تعلقات کیلیے ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سے سروس لانگ مارچ ٹائرز پرائیویٹ لمیٹڈ کے چیئرمین جن یانگ شینگ (Jin Yongsheng) کی سربراہی میں 4 رکنی وفد کی ملاقات ہوئی.

    ملاقات میں وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان اور چین کے بزنس ٹو بزنس تعلقات میں مزید وسعت کے لیے ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں. حکومت پاکستان ایک پائیدار، شفاف اور اور سہولیات پر مبنی سرمایہ کاری نظام پر یقین رکھتی ہے. خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے ذریعے سرمایہ کاروں کو تمام تر سہولیات کی فراہمی کے لئے کوشاں ہیں. سروس لانگ مارچ جیسے جوائنٹ وینچرز دونوں ممالک کی اقتصادی ترقی ، ملازمت کے نئے مواقع ، ٹیکنالوجی کی اشتراک اور برآمدات میں اضافے کے لئے انتہائی ضروری ہیں.چیئرمین سروس لانگ مارچ جناب جن یانگ شینگ نے پاکستان میں سرمایہ کار دوست نظام اور حکومتی معاشی پالیسیوں کی تعریف کی. وزیراعظم کو سروس لانگ مارچ ٹائرز کی نئی سرمایہ کاری کے منصوبوں پر بریفنگ دی گئی.

    اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ سروس لانگ مارچ برآمدات پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے ؛ سال 2024-2025 میں کمپنی کا ایکسپورٹ ریونیو 54 ملین امریکی ڈالرز رہا. وفاقی سرمایہ کاری بورڈ سروس لانگ مارچ ٹائرز کو مختلف شعبوں میں سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے کوشاں ہے. نوری آباد ،سندھ میں سروس لانگ مارچ ٹائرز کے سول ڈویلپمنٹ زون (Sole development zone)کے قیام کے حوالےسے وفاقی سرمایہ کاری بورڈ نے تمام ضروری سہولیات مہیا کیں. ملاقات میں وفاقی وزیر سرمایہ کاری بورڈ قیصر احمد شیخ ، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی ، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

  • یہ ہے مودی کا بھارت،18 سالہ لڑکی نے دو بچوں کی ماں سے کی شادی

    یہ ہے مودی کا بھارت،18 سالہ لڑکی نے دو بچوں کی ماں سے کی شادی

    18 سالہ لڑکی نے دو بچوں کی ماں سے بیاہ رچا لیا، سوشل میڈیا سے شروع ہونے والی کہانی نے سب کو حیران کر دیا

    بہار (بھارت) کے ایک علاقے میں پیش آنے والی ایک انوکھی محبت کی کہانی نے لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا، جہاں 18 سالہ لڑکی نے 32 سالہ دو بچوں کی ماں سے شادی کر لی۔ یہ غیر معمولی واقعہ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے اور ہر طرف موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق، ضلع بکسر کے باگین تھانہ علاقے کی رہائشی 18 سالہ روبی نے 32 سالہ سندھیا کے ساتھ شادی کی، جو پہلے سے دو بچوں کی ماں ہیں۔ دونوں کے درمیان محبت کا آغاز سوشل میڈیا پر ریلز بنانے کے دوران ہوا، جو وقت کے ساتھ گہری محبت میں تبدیل ہو گیا۔ذرائع کے مطابق، دونوں نے پہلی بار 4 اپریل کو وندھیاچل مندر میں شادی کی، جبکہ 6 اپریل کو رام ریکھا گھاٹ کے ایک پرانے شادی منڈپ میں روایتی ہندو رسومات کے تحت دوبارہ شادی کی تقریب منعقد کی گئی۔ اس منفرد شادی کی خبر جیسے ہی پھیلی، سینکڑوں افراد موقع پر جمع ہوگئے اور اس منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔

    اس رشتے کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ روبی نے خود کو ’شوہر‘ کے کردار میں قبول کیا ہے جبکہ سندھیا ’بیوی‘ کے طور پر اس رشتے میں شامل ہوئی ہیں۔دونوں خواتین کا کہنا ہے کہ ان کے اس فیصلے پر خاندان والے سخت ناراض ہیں اور انہیں دھمکیوں کا سامنا بھی ہے، تاہم انہوں نے معاشرتی دباؤ کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک ساتھ زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا ہے۔مقامی سطح پر اس واقعے پر ملے جلے ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ کچھ لوگ اسے محبت کی آزادی کی مثال قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر اسے سماجی اقدار کے خلاف سمجھتے ہیں۔

  • پاکستان کے امن اقدامات کی حمایت،وزیراعظم شہباز شریف برطانیہ اور اتحادی ممالک کے مشکور

    پاکستان کے امن اقدامات کی حمایت،وزیراعظم شہباز شریف برطانیہ اور اتحادی ممالک کے مشکور

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے برطانیہ کے وزیراعظم کیئر سٹارمر کا شکریہ ادا کیا ہے جنہوں نے پاکستان کے امن اقدامات کی حمایت کی۔

    وزیرِ اعظم نے ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ پاکستان اپنے دوستوں اور شراکت داروں، بشمول برطانیہ، کے ساتھ مل کر خطے اور دنیا میں مستقل امن کے قیام کے لیے پرعزم ہے-

    برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان 2 ہفتوں کی جنگ بندی خوش آئند ہے اور اب مقصد جنگ کا پائیدار خاتمہ ہونا چاہیےبرطانیہ اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے کام کرے گا۔

    بدھ 8 اپریل 2026 کو جاری مشترکہ بیان میں برطانیہ سمیت فرانس، اٹلی، جرمنی، کینیڈا، ڈنمارک، نیدرلینڈز، اسپین، یورپی کمیشن، یورپی کونسل اور جاپان نے اس 2 ہفتوں کی جنگ بندی کا خیرمقدم کیا اور پاکستان سمیت تمام شراکت داروں کی کوششوں کو سراہا۔

    بیان میں کہا گیا کہ اب مذاکرات کے ذریعے جنگ کا جلد اور پائیدار خاتمہ ضروری ہے، اور یہ صرف سفارتی ذرائع سے ممکن ہے، جنگ بندی ایران کے شہریوں کے تحفظ، خطے میں سیکورٹی کی بحالی اور عالمی توانائی بحران کے خطرات کو کم کرنے کے لیے اہم ہے، تمام فریقین پر زور دیا گیا کہ جنگ بندی پر عمل درآمد کریں، جس میں لبنان بھی شامل ہے، اور خطے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے بین الاقوامی شراکت دار تعاون جاری رکھیں گے۔

  • پاکستان کی سفارتی کوشش،ممکنہ تباہی ٹل گئی، حافظ مسعود اظہر

    پاکستان کی سفارتی کوشش،ممکنہ تباہی ٹل گئی، حافظ مسعود اظہر

    پاکستان اسلامی دنیا کا شاہین وشہبازہے اور قائدانہ کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ عالمی سطح پر تیزی سے بدلتے ہوئے حالات و واقعات نے یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ پاکستان نہ صرف اسلامی دنیا کا مضبوط اور ذمہ دار ملک ہے بلکہ امن و استحکام کے قیام میں ایک قائدانہ کردار بھی ادا کر رہا ہے۔عالمی سطح حالیہ کشیدہ صورتحال میں پاکستان نے جس دانشمندی اور بردباری کا مظاہرہ کیا، وہ قابل تحسین ہے۔

    ان خیالات کا اظہار پاکستان اسلامک کونسل کے چئیرمین اور جامعہ سعیدیہ سلفیہ کے پرنسپل ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر نے کیا ۔ انھوں نے کہا کہ کور کمانڈر کانفرنس میں ایران کی جانب سے سعودی عرب کی سویلین اور توانائی تنصیبات پر حملوں کو غیر ضروری قرار دینا درحقیقت پوری قوم کے جذبات کی ترجمانی ہے ۔ اس لئے کہ سعودی عرب پاکستان کا سچا اور مخلص دوست ہے ۔ وزیراعظم شہباز شریف اورفیلڈ مارشل جنرل سید حافظ عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مؤثر سفارتی کوششیں کیں، جس کے نتیجے میں ممکنہ بڑی تباہی کا خطرہ ٹل گیا ہے ۔ پاکستان کی یہ کاوشیں خطے میں امن کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہیں۔ پاکستان نے تنازع کو کم کرنے میں بھی مثبت کردار ادا کیا ہے اور سعودی عرب کے ساتھ اپنی دیرینہ دوستی کا عملی ثبوت بھی دیا ہے ۔ پاکستان نے واضح پیغام دے دیا ہے کہ سعودی عرب کی خودمختاری اور سا لمیت پر حملہ ناقابل قبول ہے۔ اس طرح کی کارروائیاں نہ صرف خطے کے امن کو خطرے میں ڈالتی ہیں بلکہ عالمی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔ سعودی عرب نے ایران کی طرف سے بار بار کی جانے والی جارحیت کے جواب میں جس صبر و تحمل اور ذمہ داری کا ثبوت دیا وہ عالمی برادری کے لیے ایک مثبت مثال ہے جسے پوری دنیا نے سراہا ہے۔ پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ صرف ایک ایٹمی طاقت ہی نہیں بلکہ ایک ذمہ دار اور امن پسند ریاست بھی ہے، جو مشکل ترین حالات میں بھی امت مسلمہ کی رہنمائی اور عالمی امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

  • اسلام آباد مذاکرات:ایرانی سفیر نے وفد کی پاکستان آمد سے متعلق بیان ڈیلیٹ کردیا

    اسلام آباد مذاکرات:ایرانی سفیر نے وفد کی پاکستان آمد سے متعلق بیان ڈیلیٹ کردیا

    پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم کی سوشل میڈیا پوسٹ ڈیلیٹ کر دی گئی جس میں ایرانی وفد کی پاکستان آمد کے حوالے سے اطلاع دی گئی تھی۔

    رضا امیری مقدم کی جانب سے آج صبح ایکس اکاؤنٹ پر پوسٹ شائع کی گئی تھی جس میں ایران کے وفد کی پاکستان آمد کا اعلان کیا گیا تھا تاہم اب یہ پوسٹ ایکس پر دستیاب نہیں ہے ،پوسٹ میں کہا گیا تھا کہ ایرانی وفد آج رات اسلام آباد پہنچے گا تاکہ امریکی مذاکرات کاروں کے ساتھ جنگ بندی کے معاملے پر بات چیت کی جا سکے،یرانی وفد آج رات اسلام آباد کے لیے روانہ ہوگا تاکہ ایران کے 10 نکاتی امن منصوبے کے تحت مذاکرات کیے جائیں۔

    انہوں نے پوسٹ میں لکھا تھا کہ ایرانی وفد کا یہ دورہ اس باوجود ہو رہا ہے کہ ایرانی عوام میں اسرائیلی حکومت کی جانب سے اس سفارتی اقدام کو ناکام بنانے کی کوششوں کے حوالے سے شک و شبہات پائے جا رہے ہیں ایران اس امن منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سنجیدہ ہے اور پاکستانی قیادت کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے اور مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

    اب تک پوسٹ ہٹانے کی وجہ یا اس حوالے سے کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی۔

  • وزیر داخلہ محسن نقوی سے امریکی سفیر کی ملاقات

    وزیر داخلہ محسن نقوی سے امریکی سفیر کی ملاقات

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے امریکی سفیر نیٹلی بیکر کی ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے پاکستان کے مضبوط سفارتی کردار کی تعریف کی اور انتظامات کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی گئی-

    ملاقات میں مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال میں پر بات چیت کی گئی جبکہ جنگ بندی کا خیر مقدم بھی کیا گیا اسلام آباد میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے مذاکرات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ انتظامات کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی گئی،محسن نقوی نے کہا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، اسٹیفو ٹکوف اور کرشنرر ہمارے خصوصی مہمان ہوں گے، تمام غیر ملکی مہمانوں کو ہر لحاظ سے فول پروف سیکیورٹی کی فراہمی کا جامع پلان مرتب کیا ہے۔

  • ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد پر ووٹنگ  کا اعلان

    ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد پر ووٹنگ کا اعلان

    ڈیموکریٹک رہنما چک شومر نے کہا ہے کہ امریکی سینیٹ ایران کے خلاف امریکی صدر کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد پر ووٹنگ کرے گی تاکہ ایران میں جاری جنگ کو روکا جا سکے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مزید حملوں کے لیے کانگریس کی منظوری لینا لازم ہو۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سینیٹر چک شومر کا کہنا ہے کہ خاص طور پر اس خطرناک لمحے میں کانگریس کو اپنی اتھارٹی دوبارہ واضح کرنی ہوگی، انہوں نے ٹرمپ کے بیانات کو غیر متوازن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ ایران کی حکومت کو کمزور کرنے یا اس کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے میں ناکام رہی ہے، جبکہ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

    واضح رہے کہ امریکا اور ایران نے پاکستان کی ثالثی میں دو ہفتے کی جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے، جس کا اعلان بدھ کی رات صدر ٹرمپ نے کیا تھایہ اہم پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جب ایران کے لیے صدر ٹرمپ کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے میں محض دو گھنٹے باقی تھے، اس ڈیڈ لائن میں ایران کو وارننگ دی گئی تھی کہ اگر اس نے بند کی گئی آبنائے ہرمز کو نہ کھولا تو شدید تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    ایران نے کہا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پرامن ہےٹرمپ انتظامیہ نے جنگ کو فیصلہ کن فتح کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی، حالانکہ امریکا کے اعلیٰ جنرل نے کہا کہ امریکی فوج لڑائی دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے وائٹ ہاؤس کا موقف ہے کہ ٹرمپ کے اقدامات قانونی ہیں اور بطور کمانڈر ان چیف ملک کے تحفظ کے لیے محدود فوجی کارروائی کرنے کے ان کے حقوق میں شامل ہیں۔

    سینیٹ اور ہاؤس میں ڈیموکریٹس نے گزشتہ مہینوں میں کئی بار کوشش کی کہ جنگی اختیارات کی قرارداد پاس ہو تاکہ ٹرمپ کو فوجی کارروائی سے پہلے قانون سازوں کی اجازت لینا لازم ہو، مگر وہ ناکام رہے۔

  • اسحاق ڈار کا ازبک ہم منصب سے رابطہ، مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام پر تبادلہ خیال

    اسحاق ڈار کا ازبک ہم منصب سے رابطہ، مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام پر تبادلہ خیال

    نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ازبکستان کے وزیر خارجہ بختیار سعیدوف سے مشرق وسطیٰ اور وسیع خطے کی تازہ ترین صورتحال پر بات چیت کی۔

    ازبک وزیر خارجہ نے پاکستان کی قیادت کو سراہا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی تمام اقدامات، خصوصاً ابتدائی دو ہفتوں کی جنگ بندی ممکن بنانے میں کیے گئے کردار کے لیے ازبکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا،دونوں رہنماؤں نے امید ظاہر کی کہ یہ مسلسل کوششیں اور رابطے خطے اور اس سے باہر دیرپا امن اور استحکام کے فروغ میں مددگار ثابت ہوں گے۔

    دوسری جانب کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے کہا ہے کہ انہوں نے حالیہ دنوں میں پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے متعدد بار رابطہ کیا، جس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں انیتا آنند نے بتایا کہ اسحاق ڈار نے انہیں آگاہ کیا کہ رواں ہفتے مزید مذاکرات متوقع ہیں انہوں نے پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششوں، خصوصاً 2 ہفتوں کی جنگ بندی ممکن بنانے میں کردار، کو سراہا،انہوں نے کہا کہ کینیڈا ان مذاکرات کی حمایت کے لیے تیار ہے اور تمام فریقین پر زور دیا کہ جنگ بندی کو برقرار رکھا جائے اور اسے لبنان تک توسیع دی جائے۔

    بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ مذاکرات کے عمل کے دوران قریبی رابطہ برقرار رکھا جائے گا تاکہ خطے میں پائیدار امن کی کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔