Baaghi TV

Blog

  • یتیمی کا نوحہ اور آج کا دن،تحریر: بینا علی

    یتیمی کا نوحہ اور آج کا دن،تحریر: بینا علی

    آج فادرز ڈے ہے ابو…
    وہ دن جب ساری دنیا کے باپ اپنی بیٹیوں کی ہنسی میں جیتے ہیں۔ اور میں؟ میں آپ کی یادوں سے لپٹ کر رو رہی ہوں۔ "کتابِ زندگی کا وہ اداس ترین صفحہ جسے پلٹتے ہوئے آنکھیں بھیگ جاتی ہیں اور دل اتنا بوجھل ہو جاتا ہے کہ سانس لینا بھی اذیت لگتا ہے۔ ابو شہرِ محبتاں سے ہجرت اور یتیمی کے 5 سال یہ دو سانحے ایک ہی دن میرے مقدر میں لکھ دیے گئے۔بچھڑ جانے والوں پر صبر کرنایہ صبر نہیں بلکہ پل پل مرنا ہے۔ آپ کے بنا 5 سال نہیں گزرے 5 صدیاں بیت گئیں ہیں۔ ہر دن ایک صدی جیسا بھاری، ہر رات قیامت جیسی لمبی۔ ایسا لگتا ہے جیسے میں نے دکھوں کے ساتھ ایک نہیں کئی عمریں گزار دی ہوں۔ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی جیسے کچھ بھی نہیں ہے۔
    "ماں کی جمع مائیں ہوتی ہے، مگر باپ کی جمع نہیں ہوتی۔”

    میں نے باپ کے سارے نام سوچے والد، ابا، باپ، ابو لیکن کسی ایک لفظ کی بھی جمع نہیں مل سکی! کیونکہ زندگی میں ماں کے رشتے پر بہت سے رشتے جڑے ہوتے ہیں خالہ، پھوپھو، ساس سب ماں جیسی ہو سکتی ہیں۔

    لیکن باپ ہمیشہ ایک ہی رہتا ہے۔اسی لیے اس کی کمی کا خلاء کبھی پر نہیں ہوتا۔ آج شبِ غم نے دکھوں کی سیاہ چادر اوڑھ رکھی ہے۔ ہر طرف نوحہ ہے، بین ہے، ماتم ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے کربلا کا کوئی منظر میرے سینے میں دہرایا جا رہا ہو۔ زخم ہیں کہ بھرنے کا نام نہیں لیتے۔ زندگی کی رونقیں آپ کے ساتھ ہی دفن ہو گئیں ابو اب تو سانسیں بھی اداس ہیں اور میں بھی۔ لمحے، پل، منٹ، گھنٹے، دن، مہینے اور یتیمی کے یہ 5 سال اللہ! کیسی کٹھن مسافت تھی۔ کانٹوں پر ننگے پاؤں چلنے جیسی۔ 5 برس سے میرا وجود زمین و آسمان کے درمیان معلق ہے۔ نہ جینے میں ہوں نہ مرنے میں۔ قدموں کے نیچے سے زمین آپ کے ساتھ ہی کھسک گئی تھی۔ دل شکستہ ہے روح زخمی ہے یوں لگتا ہے جیسے میں خود اپنے آپ پر بوجھ ہوں۔
    ابو 5 سال پہلے تک ہنسی کا مطلب ہنسی تھا، عید کا مطلب عید تھا۔ کیوں؟ کیونکہ "باپ” کا سایۂ شفقت سر پر تاج کی طرح سجا تھا۔ "باپ” لفظ نہیں، ایک پوری کائنات ہے۔ اس میں محبت کی گرمی ہے، شفقت کی ٹھنڈک ہے، لاڈ کی نرمی ہے، ایثار کا سمندر ہے اور بے لوث حفاظت کا آہنی حصار ہے۔ آپ میرا مان تھے، میرا غرور تھے۔ میرا پہلا لفظ، میرا پہلا ہیرو، میری پہلی محبت، میری دھڑکن۔ وہ مضبوط دیوار تھے جو زمانے کے ہر طوفان کے آگے ڈھال بن جاتی تھی۔
    مگر جب بیٹی کا باپ چلا جاتا ہے نا ابوتو دنیا کی ساری روشنیاں بجھ جاتی ہیں۔ رنگوں سے خوشبو اڑ جاتی ہے۔ ہونٹ ہنستے ہیں تو آنکھیں رو پڑتی ہیں۔ ہر خوشی کے پیچھے ایک گہری اداسی چھپی ہوتی ہے۔ ابو! کاش آپ نہ جاتے کاش یہ سب ایک بھیانک خواب ہوتا اور میں چیخ مار کر جاگ جاتی۔ مگر یہ خواب نہیں یہ تلخ حقیقت ہر روز میرا دم گھونٹ دیتی ہے۔
    فادرز ڈے پر سب اپنے ابو کو تحفہ دیتے ہیں۔ میرا تحفہ کہاں جائے ابو؟

    اے میرے رب! میرے والدِ محترم اور والدہ محترمہ کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے۔ وہاں نور ہی نور کر دے۔ ان کی روحوں کو ٹھنڈک عطا فرما۔ انہیں جنت الفردوس کے اعلیٰ ترین محلوں میں جگہ دے۔ آمین۔
    اے اللہ! جس جس کا باپ زندہ ہے، اس کا سایہ سلامت رکھنا۔ اسے کبھی یتیمی کے اس عذاب سے نہ گزارنا۔ حتیٰ کہ دشمن کو بھی نہیں کیونکہ قسم ہے اس رب کی جس کے قبضے میں میری جان ہے اتنی اذیت میں دشمن کے لیے بھی نہیں برداشت کر سکتی ۔تمام پڑھنے والوں کے ہاتھ جوڑ کر درخواست ہے ایک بار سورۃ فاتحہ اور 3 بار درودِ پاک پڑھ کر میرے امی ابو کو بخش دیں۔ شاید آپ کی دعا سے ان کی قبر روشن ہو جائے۔ جزاک اللہ خیرا کثیرا۔

  • غیرت یا جہالت ،تحریر: بینا علی

    غیرت یا جہالت ،تحریر: بینا علی

    گوجرانوالہ میں دو دن پہلے بہت دکھ بھرا واقعہ ہوا۔حافظ آباد کے کالیکی منڈی کا لڑکا عبدالوحید گوجرانوالہ کی فائزہ سے محبت کر بیٹھا۔ دونوں نے ساتھ رہنے کا وعدہ کیا۔ جب گھر والے نہ مانے تو دونوں نے چپکے سے کورٹ میں نکاح کر لیا۔ وحید فائزہ کو اپنے گھر لے آیا۔ یہ عید الفطر سے پہلے کی بات ہے۔فائزہ بہن سے فون پر رو کر کہتی تھی کہ ابا کو مناؤ۔ باپ مان گیا۔ عید الاضحیٰ سے پہلے اس نے پیغام بھیجا: "گھر آ جاؤ، عید کے بعد سامان کے ساتھ رخصت کروں گا۔”فائزہ ڈر رہی تھی مگر وحید نے کہا: "میں ساتھ چلوں گا۔” دونوں گوجرانوالہ چلے گئے۔ کچھ دن بعد باپ نے پہلے داماد کو پھر بیٹی کو اس کے بعد بچانے آئے نوکر کو گولی مار دی۔ تینوں مر گئے۔عبدالوحید اور فائزہ کی کہانی بس تین مہینے کی تھی۔ دو عیدیں ساتھ گزاریں اور سب ختم۔
    اب ذرا سوچیے:
    حضرت خدیجہؓ بہت نیک اور پاکباز خاتون تھیں۔ ہمارے نبی کی پہلی بیوی۔ انہوں نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نکاح کا پیغام بھیجا تھا۔ یہ آج سے 1400 سال پہلے کی بات ہے۔ جب ایک عورت خود رشتہ بھیج سکتی ہے جب اولاد اپنی پسند بتا دے اور وہ شرعی طور پر ٹھیک ہو، تو اس میں کوئی برائی نہیں۔ ماں باپ کو چاہیے کہ اولاد کی پسند کو اپنی پسند بنا لیں۔ اس سے جھگڑے ہی ختم ہو جائیں گے۔

    اور اگر اولاد سے کوئی غلطی ہو بھی جائے تو ماں باپ کا کام ہے کہ پیار سے سمجھائیں، غلطی سدھارنے میں مدد کریں۔ غلطی پر غلطی نہ کریں۔ مارنا، قتل کرنا تو سب سے بڑی غلطی ہے۔دعا زہرا کا کیس آپ کے سامنے ہے۔ اس کے باپ نے دنیا کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی بیٹی کا ساتھ دیا۔ اس نے اپنی بیٹی کو دوبارہ اس معاشرے میں جینے کے قابل بنایا۔ باپ ایسے ہوتے ہیں۔ سہارا بنتے ہیں، قاتل نہیں بنتے۔کاش فائزہ کے باپ نے بھی دعا زہرا کے باپ جیسا دل بڑا کیا ہوتا۔ کاش وہ حضرت خدیجہؓ والا 1400 سال پرانا سبق یاد رکھتا کہ عورت کی پسند کی بھی عزت ہوتی ہے۔
    اللہ پاک وحید، فائزہ اور اس بے قصور نوکر کو جنت دے۔ اور ہر ماں باپ کو اولاد کا دکھ سمجھنے والا دل دے۔ آمین

  • ایوان میں ام الخبائث کی سفارش ،تحریر: بینا علی

    ایوان میں ام الخبائث کی سفارش ،تحریر: بینا علی

    ہائے افسوس! صد افسوس!اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سینیٹ میں غیر ملکی شراب درآمد کرنے کی پالیسی نرم کرنے کی سفارشات پیش کی گئیں۔
    روح تڑپتی ہے آنکھیں خون کے آنسو روتی ہیں۔ یہ امر واقعی لمحہ فکریہ ہے ۔
    اقبال نے کیا خوب کہا تھا
    وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
    یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود
    اے ایوانوں میں بیٹھے لوگو! اے قوم کے فیصلے کرنے والو!
    تمہارے ہاتھ کانپتے کیوں نہیں؟ تمہارے قلم لرزتے کیوں نہیں؟ خدارا یہ ظلم نہ کرو!
    اللہ اور اس کے رسول کے فیصلوں کے سامنے یہ کھلی سرکشی، یہ بغاوت یہ گستاخی اللہ کی قسم! عذاب کو دعوت ہے۔
    شراب کے بارے میں قرآن و حدیث میں بہت سخت وعیدیں آئی ہیں۔
    شراب کی حرمت بتدریج نازل ہوئی۔ آخری اور قطعی حکم سورۃ المائدہ میں آیا:
    يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَيْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ
    ترجمہ: اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور پانسے ناپاک ہی ہیں شیطانی کام تو ان سے بچتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ۔
    حوالہ: پارہ 7 سورۃ المائدہ آیت 90
    احادیثِ مبارکہ مستند حوالوں کے ساتھ
    رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "شراب تمام برائیوں کی ماں ہے اور یہ سب سے زیادہ شرمناک برائی ہے۔”
    حوالہ: سنن ابن ماجہ کتاب الأشربہ باب 30 حدیث 3371
    مزید فرمایا: "جو چیز بڑی مقدار میں نشہ دے وہ حرام ہے وہ چھوٹی مقدار میں بھی حرام ہے۔”
    حوالہ: سنن ابن ماجہ، حدیث 3392
    حضور ﷺ نے شراب کے بارے میں 10 لوگوں پر لعنت فرمائی:
    شراب بنانے والا
    بنوانے والا
    پینے والا
    اٹھانے والا
    جس کے پاس اٹھا کر لائی جائے
    پلانے والا
    بیچنے والا
    اس کی قیمت کھانے والا
    خریدنے والا
    جس کے لیے خریدی جائے۔
    حوالہ: جامع ترمذی، کتاب البیوع، حدیث 1299
    ذرا تصور کریں مدینے کی ان گلیوں کا جب شراب کی حرمت کی آیت نازل ہوئی تو اعلان سنتے ہی مدینہ کی گلیوں میں شراب بہا دی گئی۔ جس کے ہاتھ میں جو برتن تھا جس کے منہ میں جو گھونٹ تھا سب نے فوراً پھینک دیا۔ مدینہ کی گلیاں شراب سے بہہ پڑیں۔ کسی نے یہ نہیں کہا کہ "جو خریدی ہوئی ہے وہ ختم کر لیں” یا "آہستہ آہستہ چھوڑیں گے”۔ حکم آتے ہی مکمل اطاعت کی۔ کیوں؟ کیونکہ ان کے دل میں اللہ کا خوف تھا! کیونکہ وہ جانتے تھے کہ رب کا حکم معیشت سے بڑا ہے، مصلحت سے بڑا ہے جان سے بڑا ہے!
    اور آج ہم. ہم "ریونیو” کے لیے اپنی آخرت بیچنے کو تیار ہیں؟ ہم "ٹورازم” کے لیے اپنی نسلوں کو جہنم کا ایندھن بنانے کو تیار ہیں؟
    تف ہے ایسی معیشت پر! لعنت ہے ایسے ٹورازم پر جو اللہ کے غضب کو دعوت دیں۔ اس قلم کی سیاہی سوکھنے سے پہلے اس دستخط کی روشنائی پھیلنے سے پہلے سوچ لو!
    قبر کا گڑھا تمہارا منتظر ہے۔ وہاں نہ سینیٹ ہوگی نہ ایوان نہ پروٹوکول ہوگا نہ کرسی۔ صرف تم ہو گے اور تمہارے اعمال۔
    اور حوضِ کوثر پر جب میرے آقا تمہارا دامن پکڑ کر پوچھیں گے: "میری امت کے بچوں کو شراب کے حوالے کر کے آئے ہو؟اس وقت کون سا منہ لے کر جاؤ گے؟
    یا اللہ! یا رب العالمین!
    اگر ان کے دلوں میں ذرہ برابر بھی ایمان ہے تو انہیں ہدایت دے دے۔ اور اگر یہ تیرے حکم سے جنگ پر تلے ہیں، تو انہیں اس کرسی، اس ایوان، اس عہدے سے یوں محروم کر دے جیسے سوکھی ٹہنی درخت سے گرتی ہے۔
    یا اللہ! اس پاکستان کو جسے ہم نے تیرے نام پر لیا تھا شراب کی لعنت سے، بے حیائی کی نحوست سے، تیرے غضب سے محفوظ فرما۔ ہمیں صحابہ والا ایمان عطا فرما کہ تیرا حکم آئے تو ہماری زبانیں، ہمارے ہاتھ، ہمارے قدم سب پکار اٹھیں: "سمعنا و اطعنا غفرانک ربنا و الیک المصیر”۔

  • پاکستان میں تیار کردہ فٹبال خلا تک پہنچ گیا،ناسا کا جدی فٹبال کیساتھ سائنسی تجربہ

    پاکستان میں تیار کردہ فٹبال خلا تک پہنچ گیا،ناسا کا جدی فٹبال کیساتھ سائنسی تجربہ

    امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کے خلابازوں نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) پر فیفا ورلڈکپ کی جدید فٹبال کے ساتھ ایک سائنسی تجربہ کیا۔

    یہ تجربہ اسٹیشن کے اندر خاص طور پر کپولا (Cupola) ماڈیول میں کیا گیا جہاں فٹبال کو بغیر وزن کے ماحول میں تیرتے ہوئے دیکھا گیا خلابازوں نے مشہور برانڈ ایڈیڈاز کی ڈیزائن کردہ ٹریونڈا (Trionda) بال کا استعمال کیا تاکہ یہ مطالعہ کیا جا سکے کہ فٹبال مائیکرو گریویٹی میں کیسے برتاؤ کرتا ہے اس تجربے کا مقصد یہ سمجھنا تھا کہ فٹبال کا بیلنس اور وزن کھیل کے دوران اس کی حرکت کو کیسے متاثر کرتا ہے۔

    ناسا کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ وہ اس سے قبل یہ تجربہ 2019 میں بھی کرچکے ہیں، تجربے سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ توازن میں فرق کس طرح فٹبال کی حرکت کو بدل سکتا ہے،فیفا کے مطابق ٹریونڈا نام ایک ہسپانوی لفظ سے آیا ہے جس کا مطلب ‘تین لہریں’ ہیں جو 3 ممالک امریکا، کینیڈا اور میکسیکو میں منعقد ہونے والے پہلے ورلڈ کپ کی عکاسی کرتی ہے۔

  • وزیر اعظم شہباز شریف سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی ملاقات

    وزیر اعظم شہباز شریف سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی ملاقات

    برگن اسٹاک: وزیر اعظم شہباز شریف سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی ملاقات ہوئی۔

    وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران مذاکرات کے لیے سوئٹرزلینڈ میں موجود ہیں جہاں ان کی ملاقات امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ہوئی ہےامریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ وفد میں جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف بھی موجود تھے جنہوں نے وزیراعظم پاکستان سے ملاقات کی۔

    ذرائع کاکہنا ہے کہ امریکی وفد سے ملاقات کے بعد وزیراعظم شہبازشریف ایرانی وفد سےبھی ملیں گے، ایرانی وفد کی سربراہی باقرقالیباف کریںگے،ساتھ وزیرخارجہ عراقچی اوردیگر حکام بھی ہوں گے۔

    واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں ہیں،وزیراعظم شہباز شریف نے برگن اسٹاک پہنچنے پر مقامی صحافیوں سے جرمن زبان میں بات کرتے ہوئے خیرسگالی کا اظہار کیا، جبکہ ان کا یہ دورہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر پیش رفت کے لیے ہونے والے اہم سفارتی رابطوں کے سلسلے میں ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی آمد کے موقع پر موجود صحافیوں نے ان کا استقبال کیا، جس پر وزیراعظم نے جرمن زبان میں ان سے مخاطب ہو کر شکریہ ادا کیا اس مختصر گفتگو کو سفارتی حلقوں میں خیرسگالی کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی سوئٹزرلینڈ پہنچے ہیں، جہاں دونوں رہنما امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفار تی عمل سے متعلق اعلیٰ سطحی مذاکرات میں شریک ہوں گے۔

    وزیراعظم شہباز شریف سوئٹزرلینڈ اس لیے گئے ہیں کہ وہ امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ (ایم او یو) پر عملدرآمد کے لیے ہونے والے مذاکرات میں پاکستان کی نمائندگی کریں۔ یہ مذاکرات 17 جون کو طے پانے والے معاہدے کے بعد پہلا اہم سفارتی مرحلہ قرار دیے جا رہے ہیں ان مذاکرات میں امریکا، ایران اور قطر کے اعلیٰ سطحی وفود بھی شریک ہوں گےپاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کیا تھا، اور اب اسلام آباد اس عمل کو آگے بڑھانے کے لیے سفارتی رابطوں میں مصروف ہے۔

  • ایران،امریکہ مفاہمت: پاکستان سفارت کاری کا سب سے بڑا فاتح؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    ایران،امریکہ مفاہمت: پاکستان سفارت کاری کا سب سے بڑا فاتح؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    علاقائی امن میں کردار کے بعد کیا عالمی طاقتیں پاکستان کی معیشت کو سہارا دیں گی؟

    پاکستان نے پل کا کردار نبھایا، اب دنیا معاشی استحکام میں ساتھ دے

    تجزیہ شہزاد قریشی

    ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ مفاہمت یا ڈیل کو اگر خطے کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس کا سب سے بڑا سفارتی فائدہ پاکستان کو حاصل ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان کو اکثر صرف سکیورٹی اور داخلی چیلنجز کے حوالے سے دیکھا جاتا تھا، لیکن اس بحران کے دوران پاکستان نے خود کو ایک ذمہ دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر منوانے کی کوشش کی۔ متعدد بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان رابطوں اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا۔ اگر یہ سفارتی پیش رفت مستقل استحکام کی طرف بڑھتی ہے تو عالمی طاقتوں، خصوصاً امریکہ، یورپی ممالک اور خلیجی شراکت داروں کو پاکستان کی معیشت کے استحکام میں بھی مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے جو مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کو آپس میں جوڑتا ہے۔ علاقائی امن کے بغیر نہ عالمی تجارت محفوظ رہ سکتی ہے اور نہ ہی توانائی کی ترسیل۔ پاکستان نے اگر سفارت کاری کے ذریعے ایک مشکل تنازع میں پل کا کردار ادا کیا ہے تو اس کے بدلے میں عالمی برادری کو پاکستان میں سرمایہ کاری، تجارت، توانائی منصوبوں، ٹیکنالوجی منتقلی اور مالی تعاون کے مواقع بڑھانے چاہئیں۔ ایک مضبوط اور معاشی طور پر مستحکم پاکستان نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم حقیقت پسندانہ نقطۂ نظر یہ بھی ہے کہ صرف سفارتی کامیابی سے معاشی ترقی خود بخود نہیں آتی۔ پاکستان کو داخلی اصلاحات، بہتر طرزِ حکمرانی، تعلیم، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری دوست ماحول پیدا کرنے پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ عالمی حمایت تبھی دیرپا نتائج دے سکتی ہے جب اندرونی معاشی بنیادیں بھی مضبوط ہوں۔

  • ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا پارلیمنٹ کے قریب تھالیاں بجا کر احتجاج

    ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا پارلیمنٹ کے قریب تھالیاں بجا کر احتجاج

    بھارت کی سوشل میڈیا پر مقبول ہونے والی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے سینکڑوں حامیوں اور طلبہ نے بھارتی پارلیمنٹ ہاؤس کے قریب احتجاج کرتے ہوئے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق مظاہرین نے امتحانی بے ضابطگیوں اور بار بار پرچہ لیک ہونے کے واقعات کے خلاف آواز بلند کی اور تھالیاں بجا کہ انوکھے انداز سے شدید احتجاج کیا، احتجاج کے دوران شرکا نے اسٹیل کی تھالیاں اور چمچ بجا کر حکومت کے خلاف اپنا غصہ ظاہر کیا،اس مظاہرے نے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت پر دباؤ میں مزید اضافہ کر دیا ہے،کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھجیت دپکےنے حامیوں سے احتجاج میں تھالیاں اور چمچ لانے کی اپیل کی تھی۔

    احتجاج کے پیش نظر علاقے میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے پولیس نے مظاہرے کی نگرانی کے لیے کیمرے اور ڈرونز استعمال کیے جبکہ پارلیمنٹ کے اطراف اضافی نفری تعینات کی گئی،مظاہرین کی جانب سے تھالیاں بجانے کو وزیر اعظم مودی کے اُس اقدام پر طنز قرار دیا جا رہا ہے جب انہوں نے 2020 میں کووڈ۔19 وبا کے دوران عوام سے فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے گھروں کی بالکونیوں اور چھتوں پر برتن بجانے کی اپیل کی تھی۔

    ابھیشیک دپکے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دھرمیندر پردھان نامی وائرس کو ختم کرنا ضروری ہے اگر وزیرِ تعلیم مستعفی ہو جائیں تو پارٹی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے پارٹی کے ایک حامی دیپک کمار نے کہا کہ یہ تو صرف آغاز ہے اگر دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ نہ دیا یا اس معاملے پر کوئی مؤثر کارروائی نہ کی گئی تو یہ احتجاج یہیں ختم نہیں ہوگا۔

    یہ احتجاج گزشتہ ماہ قومی سطح کے میڈیکل داخلہ امتحان کے پرچے کے مبینہ لیک ہونے کے بعد شروع ہونے والے تنازع سے جڑا ہوا ہے الزام ہے کہ امتحانی پرچہ سوشل میڈیا ایپ ٹیلیگرام کے ذریعے پھیلایا گیا تھا واقعے کے بعد حکام نے امتحان ملتوی کر دیا تھا جبکہ ٹیلیگرام پر عارضی پابندی بھی عائد کی گئی حکومت کا کہنا ہے کہ معاملے کی تحقیقا ت جار ی ہیں اور امتحان اتوار کو منعقد کیا جائے گا۔

  • اسرائیلی رکن پارلیمنٹ کا غزہ کے مسلمانوں کے مکمل خاتمے کا مشورہ

    اسرائیلی رکن پارلیمنٹ کا غزہ کے مسلمانوں کے مکمل خاتمے کا مشورہ

    اسرائیلی رکن پارلیمنٹ موشے فیگلن نے مبینہ طور پر ہٹلر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح ہٹلر نے یہودیوں کے خاتمے کا عزم ظاہر کیا تھا، اسی طرح غزہ کے حوالے سے ایک متنازع مؤقف پیش کیا گیا۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ وائرل ہو رہی ہےجس میں سابق اسرائیلی کنیسٹ رکن موشے فیگلن سے منسوب ایک انتہائی متنازع بیان سامنے آیا ہے، جس میں مبینہ طور پر ہٹلر کا حوالہ دیتے ہوئے غزہ سے متعلق سخت الفاظ شامل ہیں، تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

    وائرل پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ موشے فیگلن نے مبینہ طور پر ہٹلر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح ہٹلر نے یہودیوں کے خاتمے کا عزم ظاہر کیا تھا، اسی طرح غزہ کے حوالے سے ایک متنازع مؤقف پیش کیا گیا،موشے فیگلن نے کہا کہ ’ہم اس سرزمین میں اس وقت تک نہیں رہ سکتے جب تک غزہ میں ایک بھی مسلمان موجود ہے انہیں ختم کر دینا چاہیے۔

    یہ بیان وائرل ہونے کے بعد مختلف حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے، تاہم اب تک کسی معتبر بین الاقوامی خبر رساں ادارے یا سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی،دوسری جانب موشے فیگلن کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت یا تردید سامنے نہیں آئی ہے۔

  • کرپشن کے الزامات لگانے والے پہلے اپنے ماضی کو دیکھیں،عظمی بخاری

    کرپشن کے الزامات لگانے والے پہلے اپنے ماضی کو دیکھیں،عظمی بخاری

    پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے پنجاب اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئےکہا کہ سیاسی اختلافات کو جھوٹے الزامات اور سوشل میڈیا مہمات کے بجائے حقائق کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔

    پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں بجٹ پر بحث کے دوران عظمیٰ بخاری نے پی ٹی آئی ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے بیانات اور الزامات کی تصدیق کر کے بات کرنی چاہیے، جبکہ حکومت پر تنقید پالیسیوں کی بنیاد پر ہونی چاہیے، یہ افسوس کی بات ہے کہ بعض لوگ بغیر تصدیق کے باتیں پھیلاتے ہیں اور انہیں پوچھنے والا کوئی نہیں ہوتا انہوں نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کرپشن کے الزامات لگانے والے پہلے اپنے ماضی کو دیکھیں۔

    انہوں نے کہا کہ سیاسی کارکنوں کو بھی دباؤ کا سامنا ہوتا ہے، تاہم مثبت سیاست میں پالیسیوں پر تنقید کی گنجائش موجود ہے اگر حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی جائے تو اسے خوش دلی سے سنا جا سکتا ہے، لیکن سوشل میڈیا پر بنائی گئی غیر مصدقہ باتوں کو اسمبلی میں لا کر پیش کرنا درست نہیں منتخب نمائندوں کو ان لوگوں کو جواب دینا پڑتا ہے جو نہ اسمبلی کے رکن ہیں اور نہ جمہوری عمل پر یقین رکھتے ہیں،بعض سیاسی کارکنوں کو سوشل میڈیا پر اپنی پوزیشن واضح کرنے اور وضاحتیں دینے پر مجبور ہونا پڑتا ہے اگر سیاسی کارکن مثبت انداز میں سیا ست کریں اور عوامی مسائل پر بات کریں تو بہتر ہوگا،الزامات لگانے سے پہلے حقائق کی جانچ ضروری ہے۔

    کسانوں کے مسائل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے ماضی کی حکومتوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ سابق دور میں بھی سیلاب جیسے بحران آئے، تاہم اس وقت کیے گئے بعض اقدامات اور بیانات کو عوام آج بھی یاد رکھتے ہیں،موجودہ حکومت کسانوں اور دیگر شعبوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور بجٹ میں عوامی ریلیف کو ترجیح دی گئی ہے۔

  • لندن میں وائٹ سٹی کی عمارت میں آتشزدگی، 3 افراد ہلاک

    لندن میں وائٹ سٹی کی عمارت میں آتشزدگی، 3 افراد ہلاک

    برطانوی دارالحکومت لندن کے علاقے وائٹ سٹی میں ایک عمارت میں خوفناک آگ لگنے کے واقعے میں 3 افراد ہلاک ہو گئے ہیں-

    برطانوی میڈیا کے مطابق آگ لگنے کے بعد عمارت میں شدید دھواں بھر گیا، جس کے باعث امدادی کارروائیاں انتہائی مشکل صورتحال میں کی گئیں فائر بریگیڈ حکام نے بتایا کہ عملے نے عمارت سے کئی افراد کو نکالا جنہیں ابتدائی طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے جبکہ ان کے اہلخانہ کو اطلاع دے دی گئی ہے، پولیس نے واقعے کی باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ آگ لگنے کی وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔

    فائر بریگیڈ کا کہنا ہے کہ آگ پر قابو پانے کے بعد کولنگ آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے تاہم عمارت کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ عمارت کا ایک بڑا حصہ شدید متاثر ہوا ہے، ابتدائی طور پر آگ لگنے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی لندن پولیس اور فائر حکام نے مشترکہ طور پر اس واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مکمل تحقیقات کے بعد ہی اصل حقائق سامنے آ سکیں گے۔