Baaghi TV

Blog

  • ایرانی عوام پلوں اور بجلی گھروں پر انسانی زنجیر بنا کر ڈٹ گئے

    ایرانی عوام پلوں اور بجلی گھروں پر انسانی زنجیر بنا کر ڈٹ گئے

    ‎ایران میں حالیہ کشیدگی کے دوران عوام نے غیر معمولی ردعمل دیتے ہوئے ملک کے اہم انفراسٹرکچر کے تحفظ کے لیے سڑکوں پر نکلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مختلف شہروں میں شہریوں نے پلوں اور بجلی پیدا کرنے والے مراکز کے گرد انسانی زنجیر بنا کر اپنے عزم کا اظہار کیا۔
    ‎رپورٹس کے مطابق ایرانی عوام نے قومی پرچم ہاتھوں میں تھام کر حساس مقامات پر جمع ہو کر واضح پیغام دیا کہ وہ دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
    ‎مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ کسی بھی ممکنہ حملے کے باوجود اپنے ملک کے دفاع کے لیے تیار ہیں اور اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر ان مقامات پر موجود ہیں۔ ان کے مطابق وہ جنگی دھمکیوں کے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں اور ہر قیمت پر اپنے وطن کا دفاع کریں گے۔
    ‎ان مظاہروں میں ہر عمر اور ہر طبقے کے افراد شریک ہیں، جن میں بچے، بزرگ، نوجوان، طلبہ و طالبات اور خواتین بھی شامل ہیں۔ اس وسیع شرکت نے اس بات کو ظاہر کیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ایرانی عوام متحد ہو کر سامنے آ رہے ہیں۔
    ‎ماہرین کے مطابق عوام کا اس طرح حساس تنصیبات کے گرد جمع ہونا ایک غیر معمولی قدم ہے، جو نہ صرف داخلی سطح پر عزم کی علامت ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک مضبوط پیغام دیتا ہے۔
    ‎تاہم ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ ایسے مقامات پر شہریوں کی موجودگی خطرناک ہو سکتی ہے، اس لیے حالات کو بہتر بنانے کے لیے فوری سفارتی اقدامات ناگزیر ہیں۔

  • ایپل کا پہلا فولڈ ایبل آئی فون ستمبر 2026 میں متوقع

    ایپل کا پہلا فولڈ ایبل آئی فون ستمبر 2026 میں متوقع

    ‎ایپل کی جانب سے پہلے فولڈ ایبل آئی فون پر کافی عرصے سے کام جاری ہے اور اب ایک نئی لیک میں اس کے حوالے سے اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کمپنی اس جدید ڈیوائس کو ستمبر 2026 میں آئی فون 18 پرو سیریز کے ساتھ متعارف کرانے کی تیاری کر رہی ہے۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ ایپل اس فولڈ ایبل فون کو “الٹرا” ماڈل کے طور پر پیش کرے گا، جو کمپنی کا سب سے مہنگا اور جدید اسمارٹ فون ہوگا۔ اس ڈیوائس کا مقصد نہ صرف مارکیٹ میں نئی جدت لانا ہے بلکہ صارفین کو ایسا تجربہ دینا بھی ہے جو پہلے کبھی کسی آئی فون میں دیکھنے کو نہیں ملا۔
    ‎یہ فون کتاب کی طرح فولڈ ہونے والے ڈیزائن کے ساتھ آئے گا۔ اس کا بیرونی ڈسپلے 5.5 انچ کا ہوگا جبکہ فون کو کھولنے پر اندر 7.8 انچ کی بڑی اسکرین سامنے آئے گی، جو اسے ایک چھوٹے ٹیبلیٹ جیسا بنا دے گی۔ یہی وجہ ہے کہ اس ڈیوائس کو ویڈیوز دیکھنے، گیمنگ اور ایک ساتھ کئی کام کرنے کے لیے بہترین قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایپل اس فون کے لیے نہایت باریک مگر مضبوط گلاس اور لیکوئیڈ میٹل استعمال کرنے کی آزمائش کر رہا ہے تاکہ ڈیوائس زیادہ پائیدار ہو۔ اس کے علاوہ کچھ لیکس کے مطابق اس میں 3 ڈی پرنٹڈ پرزہ جات بھی شامل کیے جا سکتے ہیں، جو اسے مزید مضبوط اور لچکدار بنائیں گے۔
    ‎ڈیزائن کے لحاظ سے یہ فون حیرت انگیز حد تک پتلا ہوگا۔ کھلنے کے بعد اس کی موٹائی تقریباً 4.5 سے 4.8 ملی میٹر ہوگی جبکہ فولڈ ہونے پر یہ تقریباً 9.6 ملی میٹر تک ہو جائے گا۔
    ‎مزید یہ کہ اس میں جدید A20 پرو چپ دیے جانے کا امکان ہے جبکہ بیٹری کی گنجائش 5500 ایم اے ایچ ہو سکتی ہے۔ کیمرہ ڈیزائن سادہ مگر منفرد ہوگا جس میں دو کیمرے، مائیکروفون اور فلیش شامل ہوں گے، اور مجموعی شکل آئی پیڈ پرو جیسی محسوس ہوگی۔
    ‎ماہرین کے مطابق یہ نیا فولڈ ایبل آئی فون اسمارٹ فون کے استعمال کے انداز کو مکمل طور پر بدل سکتا ہے اور صارفین کو ایک بالکل نیا تجربہ فراہم کرے گا۔

  • قطر کی پاکستان کی ثالثی کی حمایت، خطے میں کشیدگی پر تشویش

    قطر کی پاکستان کی ثالثی کی حمایت، خطے میں کشیدگی پر تشویش

    ‎قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا ہے کہ قطر، پاکستان کی قیادت میں جاری ثالثی کی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے تاہم قطر خود امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست ثالثی میں شامل نہیں۔ انہوں نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر جنگ جاری رہی تو حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں۔
    ‎ماجد الانصاری نے کہا کہ کسی بھی فریق کی جانب سے شہری آبادی یا توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے اور اس سے خطے کے امن کو شدید خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق جاری کشیدگی کا کوئی فوجی حل نہیں اور اگر جنگ طول پکڑتی ہے تو اس کا کوئی فاتح نہیں ہوگا بلکہ تمام فریقین کو نقصان اٹھانا پڑے گا۔
    ‎ترجمان نے آبنائے ہرمز کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک عالمی تجارتی گزرگاہ ہے جسے تمام ممالک کو آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت سب سے بڑی ترجیح اس اہم سمندری راستے کو دوبارہ کھولنا ہے کیونکہ اس کی بندش سے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی معیشت متاثر ہو رہی ہے۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ قطر کے متعدد بحری جہاز اور تیل بردار جہاز تاحال آبنائے ہرمز عبور نہیں کر سکے، جس سے سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق اس صورتحال کے حل کے لیے مختلف تجاویز زیر غور ہیں۔
    ‎ماجد الانصاری نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی بھی ممکنہ امن معاہدے کی کامیابی کے لیے بین الاقوامی نگرانی ضروری ہوگی اور خطے کے تمام ممالک کو اس عمل کا حصہ بننا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنگ بندی کے کسی بھی منصوبے کو آبنائے ہرمز سے متعلق شراکت دار ممالک کی منظوری حاصل ہونی چاہیے اور کسی قسم کی یکطرفہ شرائط یا دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
    ‎قطری ترجمان کے مطابق موجودہ صورتحال نہایت حساس ہے اور فوری سفارتی اقدامات کے بغیر خطہ مزید عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔

  • چین اور روس نے آبنائے ہرمز سے متعلق قرارداد ویٹو کردی

    چین اور روس نے آبنائے ہرمز سے متعلق قرارداد ویٹو کردی

    ‎اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں آبنائے ہرمز کو کھولنے سے متعلق بحرین کی پیش کردہ قرارداد کو چین اور روس نے ویٹو کر دیا، جس کے بعد عالمی سطح پر اس اہم سمندری گزرگاہ سے متعلق صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
    ‎غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق سلامتی کونسل کے اجلاس میں اس قرارداد پر ووٹنگ ہوئی جس میں 11 ارکان نے حمایت میں ووٹ دیا جبکہ 2 ارکان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ تاہم چین اور روس کے ویٹو کے باعث قرارداد منظور نہ ہو سکی۔
    ‎رپورٹس کے مطابق فرانس، چین اور روس نے قرارداد کے مسودے پر اعتراضات اٹھائے، جبکہ دیگر غیر مستقل ارکان کے درمیان بھی اس معاملے پر اختلافات دیکھنے میں آئے۔ اس صورتحال نے عالمی سفارتی کوششوں کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔
    ‎ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی اس حوالے سے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز جیسے حساس معاملے پر اس نوعیت کی ووٹنگ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات کے بجائے سفارتی حل پر توجہ دینا زیادہ ضروری ہے۔
    ‎یاد رہے کہ آبنائے ہرمز 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد سے بند ہے، جس کے باعث عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل شدید متاثر ہو رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس گزرگاہ کی بندش عالمی معیشت کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہے کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین اور روس کے ویٹو نے ایک بار پھر عالمی طاقتوں کے درمیان اختلافات کو واضح کر دیا ہے، جبکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کی ضرورت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔

  • ‎امریکی نائب صدر کا بیان، ایران سے جنگ بندی پر جواب کا انتظار

    ‎امریکی نائب صدر کا بیان، ایران سے جنگ بندی پر جواب کا انتظار

    ‎امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری کارروائی میں امریکا اپنے فوجی مقاصد حاصل کر چکا ہے اور اب واشنگٹن کو امید ہے کہ ایران صدر ٹرمپ کی مقرر کردہ ڈیڈلائن تک جنگ بندی کے حوالے سے جواب دے گا۔
    ‎نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف کیے گئے اقدامات اپنے اہداف حاصل کر چکے ہیں، اور اب توجہ سفارتی عمل کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران کی جانب سے مثبت پیش رفت سامنے آئے گی۔
    ‎انہوں نے کہا کہ ایران عالمی سطح پر معاشی دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم اگر ایران اس راستے پر چلتا ہے تو امریکا اس سے زیادہ سخت معاشی ردعمل دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق امریکا اور اس کے اتحادی ہر قسم کے چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
    ‎جے ڈی وینس نے ایرانی مذاکرات کاروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہ پہلے مذاکرات میں تیزی دکھا سکے اور نہ ہی اب صورتحال مختلف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فی الوقت سفارتی رابطے ثالثوں کے ذریعے جاری ہیں اور پیغامات کی ترسیل میں بھی وقت لگ رہا ہے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کو توقع ہے کہ ایران آج رات آٹھ بجے سے پہلے جنگ بندی کے حوالے سے اپنا جواب دے گا۔ نائب صدر نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ ایران کی جانب سے مثبت ردعمل آئے تاکہ مزید کشیدگی سے بچا جا سکے۔
    ‎تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران کی جانب سے مثبت جواب نہ ملا تو امریکا اور اس کے اتحادی اپنے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا۔
    ‎ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال نہایت حساس ہے اور ایران کے ممکنہ جواب پر خطے کے مستقبل کا انحصار ہو سکتا ہے۔

  • بھارت میں بہو سے گردہ یا 30 لاکھ جہیز کا مطالبہ

    ‎بھارت کی ریاست اترپردیش کے شہر کانپور میں ایک حیران کن اور افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے جہاں سسرال والوں نے بہو سے اپنے شوہر کے لیے گردہ یا 30 لاکھ روپے بطور جہیز دینے کا مطالبہ کر دیا۔ اس غیر معمولی اور سنگین مطالبے نے معاشرے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
    ‎بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق متاثرہ خاتون نے پولیس کو بتایا کہ اس کی شادی 22 جون 2025 کو لکھنؤ کے رہائشی نشانت کمار سے ہوئی تھی۔ شادی کے وقت خاتون کے اہل خانہ نے 8 لاکھ روپے نقد، زیورات اور ایک گاڑی بطور جہیز دی، مگر اس کے باوجود سسرال والوں کے مطالبات ختم نہ ہوئے۔
    ‎خاتون کے مطابق شادی سے قبل اسے یہ نہیں بتایا گیا کہ اس کے شوہر کے دونوں گردے ناکارہ ہو چکے ہیں۔ شادی کے بعد جب اسے حقیقت کا علم ہوا تو صورتحال مزید خراب ہوگئی۔ اس نے بتایا کہ اس کا شوہر روزانہ کئی اقسام کی ادویات استعمال کرتا تھا اور گھر کا ماحول بھی اس کے لیے سازگار نہیں تھا۔
    ‎مزید انکشاف کرتے ہوئے خاتون نے کہا کہ اس کے شوہر کے کسی دوسری عورت کے ساتھ تعلقات بھی تھے، جن سے سسرال والے باخبر تھے۔ اس کے علاوہ سسرال والوں کا رویہ سخت اور مداخلت پر مبنی تھا، جس سے اس کی زندگی مزید مشکلات کا شکار ہوگئی۔
    ‎پولیس کے مطابق سسرال والوں نے خاتون پر دباؤ ڈالا کہ وہ شوہر کے علاج کے لیے اپنا گردہ عطیہ کرے یا پھر 30 لاکھ روپے کا بندوبست کرے۔ ان مطالبات سے تنگ آ کر خاتون اپنا سسرال چھوڑ کر واپس اپنے گھر چلی گئی۔
    ‎خاتون نے یہ بھی الزام لگایا کہ سسرال والوں نے اس کے زیورات اور دیگر قیمتی تحائف بھی واپس نہیں کیے۔ پولیس نے خاتون کی شکایت پر شوہر نشانت کمار اور اس کے اہل خانہ کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے اور تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
    ‎یہ واقعہ ایک بار پھر بھارت میں جہیز جیسے سنگین سماجی مسئلے کو اجاگر کرتا ہے، جہاں لالچ اور ظلم کی انتہا انسانی اقدار کو پامال کر رہی ہے۔

  • پاسداران انقلاب کی امریکا اور اتحادیوں کو سخت دھمکی

    پاسداران انقلاب کی امریکا اور اتحادیوں کو سخت دھمکی

    ‎ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے ایک سخت بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تحمل کا وقت ختم ہو چکا ہے اور اگر امریکا نے مزید کشیدگی بڑھائی یا سرخ لکیر عبور کی تو اس کا ردعمل خطے سے باہر تک پھیل سکتا ہے۔
    ‎ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق امریکا اور اس کے اتحادیوں کے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ برسوں تک خطے کے تیل اور گیس کے وسائل سے محروم ہو سکتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ ایران نے اب تک خطے میں ہمسائیگی کے احترام میں صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا، تاہم اب صورتحال بدل رہی ہے۔
    ‎بیان میں امریکا کے علاقائی شراکت داروں کو بھی خبردار کیا گیا کہ وہ حالات کی سنگینی کو سمجھیں کیونکہ ایران کے مطابق خطے میں موجود اہم اثاثے اس کی رسائی میں ہیں۔ پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ وہ کسی بھی ممکنہ جارحیت کا بھرپور اور وسیع ردعمل دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
    ‎ایرانی بیان میں امریکی قیادت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ امریکی رہنما خطے میں اپنے مفادات کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور انہیں اپنے اقدامات کے نتائج کا ادراک نہیں۔
    ‎ماہرین کے مطابق اس قسم کے بیانات مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، جہاں پہلے ہی ایران، امریکا اور ان کے اتحادیوں کے درمیان تناؤ عروج پر ہے۔ ایسے حالات میں سفارتی کوششوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے تاکہ کسی بڑے تصادم سے بچا جا سکے۔
    ‎عالمی برادری کی جانب سے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور فریقین پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور تنازع کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔

  • ایران نے امریکا سے براہ راست سفارت کاری معطل کردی

    ایران نے امریکا سے براہ راست سفارت کاری معطل کردی

    ‎وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ دھمکیوں کے بعد امریکا کے ساتھ براہ راست سفارتی رابطے معطل کر دیے ہیں، جس سے خطے میں جاری امن مذاکرات کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔
    ‎ایرانی حکام کے مطابق یہ فیصلہ امریکا کے سخت مؤقف کے جواب میں کیا گیا ہے تاکہ واضح پیغام دیا جا سکے کہ ایران دباؤ کے تحت کسی قسم کی بات چیت کے لیے تیار نہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران اس اقدام کے ذریعے اپنی ناپسندیدگی اور مزاحمت ظاہر کرنا چاہتا ہے۔
    ‎رپورٹ کے مطابق اس پیش رفت نے پہلے سے جاری سفارتی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکا کی جانب سے ایران کو دی گئی ڈیڈلائن قریب آ رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ براہ راست رابطوں کی معطلی سے مذاکراتی عمل متاثر ہوگا اور کسی ممکنہ جنگ بندی یا معاہدے کے امکانات کمزور پڑ سکتے ہیں۔
    ‎ایرانی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ جب تک امریکا اپنے مؤقف میں نرمی نہیں دکھاتا اور دباؤ کی پالیسی ترک نہیں کرتا، اس وقت تک براہ راست مذاکرات بحال ہونے کا امکان کم ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے کیونکہ براہ راست سفارت کاری ہی تنازعات کے حل کا مؤثر ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔ اگر مذاکرات کا عمل بحال نہ ہوا تو خطہ ایک بڑے تصادم کی طرف جا سکتا ہے۔
    ‎دوسری جانب عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور مختلف ممالک کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔

  • ایران کا سعودی تنصیبات پرغیر ذمہ دارانہ اور جارحانہ حملہ

    ایران کا سعودی تنصیبات پرغیر ذمہ دارانہ اور جارحانہ حملہ

    آج کے حملے سے پہلے کسی ملک بشمول اسرائیل نے سعودیہ عرب پر حملہ کرنے کے جرات نہیں کی۔ ایران کا سعودی شہر الجبیل کی پیٹرولیم تنصیبات پر حملہ نہ صرف سعودیہ عرب بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات پہ حملہ ہے

    ایران کا سعودیہ عرب کے شہر الجبيل آئل ریفائنری اورپیٹروکیمیکل تنصیبات پرحملہ کسی صورت بھی امریکی تنصیبات پر جوابی حملے کے ساتھ تشبیہ نہیں دیا جاسکتا ۔ سعودیہ عرب نے ہمیشہ اس امر کی یقین دہانی کرائی ہے کہ اس کی سرزمین پر موجود امریکی بیسز ایک معاہدے کے تحت قائم ہیں اور ان بیسز کو کبھی بھی ایران کے خلاف جارحانہ استعمال کی اجازت نہیں دی گئی۔ اگر کوئی ملک سعودیہ عرب کی معاشی اہمیت کی حامل تنصیبات پر حملہ کرے گا تو یقیناً اس کے منفی اثرات سعودیہ عرب کے مجموعی تحفظ و استحکام پر پڑنے کا خدشہ ہے۔ سعودی عرب پر کوئی بھی وار حرمین شریفین کے تحفظ کے لئے ایک براہ راست خطرہ ہے، جو بطور محافظ حرمین شریفین پاکستان کو قطعی طور پر قابل قبول نہیں۔

    پاکستان مشرق وسطی میں جاری کشیدگی کی ابتدا سے ہی ایران کو باور کرانے کی کوشش کرتا آ رہا ہے کہ پڑوسی ممالک خصوصا سعودیہ عرب پر حملے کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔ پاکستان کے اس اصرار کے باوجود ایران سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے، اس کے برعکس سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک انتہائی صبر وتحمل کامظاہرہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو دفاعی اقدامات تک محدود رکھے ہوئے ہیں۔ ایران کا یہ حملہ کشیدگی کو کم کرنے کے لئیے کی جانے والی مفاہمتی کاوشوں پر ایک کاری ضرب ہے۔ یہ حملہ ایک ایسے نازک وقت پر کیا گیا ہے جب جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں ایک حساس جانب گامزن ہیں۔ یہ حملہ ان سفارتی کاوشوں کو بڑی حد تک compromise کرتا ہے

    پاکستان اور سعودیہ عرب کے مابین باہمی دفاعی معاہدہ اور اس کے مضمرات سے مکمل آگاہ ہونے کے باوجود ایران کا یہ حملہ ایرانی اور عرب ممالک کے عوام کیلئے مشکلات پیدا کرنے اور مسلم اُمّہ مفادات سےمتصادم ہے، یہاں یہ امر بھی واضح ہے کہ پاکستان اور سعودیہ عرب کے مابین دیرینہ اور تاریخی تعلقات فرقہ واریت اور کسی لسانی تفریق سے بالاتر ہیں۔ حرمین شریفین پاکستان میں بسنے والے تمام مسلمانوں کے لئیے معظم اور مقدس ہے ، پاکستان سعودیہ عرب پہ ہونے والے ان حملوں کی نہ صرف بھرپور مذمت کرتا ہے بلکہ فریقین کی طرف سے صبر وتحمل کا خواہشمند ہے، اسلامی تعلیمات کی روشنی میں یہ واضح ہے کہ دو مسلمان فریقین میں سے ایک فریق زیادتی کررہا ہو تو دوسرے فریق کے ساتھ کھڑے ہونے کو ترجیح دی جاتی ہے اس طرح کے جارحانہ اور غیر ذمہ درانہ اقدامات پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کی عوام معاشی استحکام کے لیے خطرناک ہیں اور توانائی کی تنصیبات پر اس طرح کے حملے عام شہریوں کی روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کر سکتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ نہ صرف ان حملوں کی مذمت کی جائے بلکہ انکو ہر صورت روکا جائے۔

  • وزیراعظم کی سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کی یقین دہانی

    وزیراعظم کی سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کی یقین دہانی

    ‎وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ پاکستان کی حکومت اور عوام ہر مشکل گھڑی میں اپنے سعودی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ یہ بات دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والے ٹیلیفونک رابطے کے دوران سامنے آئی، جس میں خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
    ‎اعلامیے کے مطابق وزیراعظم نے حالیہ حملوں کے تناظر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کیا اور واضح کیا کہ پاکستان ہر سطح پر سعودی عرب کی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے الجبیل میں آئل فسیلٹی پر ہونے والے حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیا۔
    ‎شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ ویسے ہی کھڑا رہے گا جیسے سعودی قیادت نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے سعودی قیادت کے حالیہ کشیدگی کے دوران تحمل اور دانشمندی پر مبنی رویے کو بھی سراہا اور اسے امن کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا۔
    ‎وزیراعظم نے اس موقع پر یہ بھی بتایا کہ پاکستان دیگر ممالک کے ساتھ مل کر خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے قیام کے لیے فعال سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے سعودی ولی عہد کو پاکستان کی جاری سفارتی کوششوں سے بھی آگاہ کیا جن کا مقصد تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا ہے۔
    ‎دوسری جانب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی کاوشوں کو سراہا اور دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
    ‎ماہرین کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان یہ قریبی رابطہ موجودہ صورتحال میں نہایت اہم ہے، جو نہ صرف باہمی تعلقات کو مضبوط بناتا ہے بلکہ خطے میں امن کی کوششوں کو بھی تقویت دیتا ہے۔