اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں فروری کی سطح پر واپس لائی جائیں اور عوام کے سامنے معاشی اعداد و شمار درست انداز میں پیش کیے جائیں۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ جب عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمتوں میں صرف 3 فیصد اضافہ ہوا تو حکومت نے ملک میں قیمتوں میں 20 فیصد تک اضافہ کر دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسی طرح جب بین الاقوامی سطح پر قیمتوں میں 17 فیصد اضافہ ہوا تھا تو اس وقت بھی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55 فیصد تک اضافہ کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو عوام کے ساتھ سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور معاشی حقائق اور اعداد و شمار درست انداز میں پیش کرنے چاہییں تاکہ عوام کو اصل صورتحال سے آگاہ رکھا جا سکے۔
بیرسٹر گوہر نے مطالبہ کیا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد ملک میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کی جائیں اور انہیں فروری کی سطح پر واپس لایا جائے تاکہ مہنگائی سے متاثرہ عوام کو ریلیف مل سکے۔
امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایک مثبت پیش رفت ہے اور اس سے خطے میں امن و استحکام کو فروغ ملے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے پر مکمل عملدرآمد ہونا چاہیے تاکہ اس کے ثمرات خطے کے تمام ممالک تک پہنچ سکیں۔
بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ امریکا سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ معاہدے پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنائے گا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ماضی میں غزہ سے متعلق امن معاہدے کے باوجود حملے جاری رہے، اس لیے موجودہ معاہدے پر مسلسل نگرانی اور عملدرآمد نہایت ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر گہری نظر رکھنی چاہیے اور ایسے اقدامات کی حمایت کرنی چاہیے جو امن، استحکام اور علاقائی تعاون کو فروغ دیں۔
Blog
-

پیٹرول کی قیمتیں فروری کی سطح پر لائی جائیں، بیرسٹر گوہر
-

ٹیلی کام ترمیمی بل پر تنازع، ٹاور لگانے سے روکنے پر 5 کروڑ جرمانے کی تجویز پر اعتراضات
اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل 2026 میں ٹیلی کام کمپنیوں کو موبائل ٹاورز اور فائبر آپٹک نیٹ ورک کی تنصیب سے روکنے والوں پر 5 کروڑ روپے تک جرمانے کی تجویز نے سیاسی اور عوامی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مجوزہ قانون پر شہریوں کے جائیداد کے حقوق، حکومتی اختیارات اور ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی توسیع کے حوالے سے کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
بل کے مسودے کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو ملک بھر میں فائبر آپٹک نیٹ ورک، موبائل ٹاورز، فائیو جی سروسز اور دیگر ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی تنصیب کے لیے وسیع اختیارات دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
مجوزہ قانون کے تحت اگر کوئی گھر کا مالک، دکاندار، زمیندار، کرایہ دار یا کوئی ادارہ ٹیلی کام کمپنیوں کو اپنی حدود میں فائبر آپٹک بچھانے یا مواصلاتی تنصیبات لگانے سے روکتا ہے تو اس پر 5 کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
قانونی اور سماجی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس تجویز سے نجی جائیداد کے آئینی تحفظ کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق شہریوں کو اپنی مرضی کے خلاف زمین یا عمارت پر ٹیلی کام تنصیبات کی اجازت دینے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا، اس لیے قانون میں بنیادی حقوق کے تحفظ کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے۔
یہ معاملہ سینیٹر پلوشہ خان کی سربراہی میں قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کے اجلاس میں بھی زیر بحث آیا، جہاں سینیٹر افنان اللہ، سینیٹر سعدیہ عباسی اور دیگر ارکان نے بل کی مختلف شقوں پر سوالات اور تحفظات کا اظہار کیا۔
سینیٹر افنان اللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا مقصد ملک بھر میں فائبر نیٹ ورک کو وسعت دینا ہے، تاہم آئین پاکستان نجی جائیداد کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے اور کسی بھی شخص کی ملکیت کو اس کی رضامندی کے بغیر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ ٹیلی کام کمپنیوں کو "رائٹ آف وے” دینا اپنی جگہ اہم ہے، لیکن شہریوں کے بنیادی اور آئینی حقوق کا تحفظ بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
سینیٹر افنان اللہ کے مطابق قائمہ کمیٹی نے اس بل پر تفصیلی غور کیا ہے اور ارکان کی جانب سے سامنے آنے والے تحفظات کے باعث بل کو مزید ترامیم، مشاورت اور قانونی جائزے کے لیے دوبارہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ اس لیے یہ تجویز ابھی قانون نہیں بنی اور اس پر مزید غور کیا جائے گا۔ -

گوجرخان معمولی بارش سے ندی میں تبدیل
بلدیہ کے کروڑوں کے فنڈز نالوں کی صفائی کے ٹھیکے کاغذی نکلے
شہری حلقوں کا بلدیہ گوجرخان کو سفید ہاتھی قرار دیتے ہوئے ترقیاتی فنڈز اور ٹیکسوں کی رقم کے فوری آڈٹ کا مطالبہ
صرف فوٹو سیشن اور ٹاوٹ کلچر نہیں چلے گا سی او، انجینئرز اور ٹھیکیداروں کا کڑا احتساب کر کے بندربانٹ کا حساب لیا جائے: عوامی حلقوں کا شدید احتجاج
گوجرخان (قمرشہزاد مغل) گوجرخان شہر کا سیوریج سسٹم مکمل طور پر بیٹھ گیا، معمولی سی بارش نے بلدیہ کی کارکردگی کا پول کھولتے ہوئے شہر کے تجارتی مراکز اور گلیوں کو ندی نالوں میں تبدیل کر دیا۔ بازاروں کی حالتِ زار دیکھ کر ایسا گمان ہوتا ہے جیسے دکانیں کسی دریا کے آمنے سامنے بنی ہوں۔ اس سنگین صورتحال پر شہری حلقوں کی جانب سے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے بلدیہ گوجرخان کی انتظامیہ کے خلاف چارج شیٹ جاری کر دی گئی ہے۔ عوامی حلقوں نے تیکھے سوالات اٹھاتے ہوئے پوچھا ہے کہ بلدیہ گوجرخان کو ملنے والے کروڑوں روپے کے فنڈز اور عوام کے خون پسینے کی کمائی سے اکٹھے ہونے والے ٹیکس آخر کہاں استعمال ہو رہے ہیں؟ سابق چیف افسر کے دور میں نالوں کی صفائی کے نام پر دیے جانے والے مہنگے ٹھیکے زمین پر کہیں نظر نہیں آ رہے، جس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ٹھیکے مبینہ طور پر صرف مخصوص جیبیں بھرنے کے لیے دیے گئے تھے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بلدیہ کے چیف افسر، انجینئرز اور سب انجینئرز آخر کس کام کی بھاری تنخواہیں اور مراعات لے رہے ہیں؟ کیا ان افسران کا کام صرف ائیرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھنا ہے؟ شہر کی کوئی ایک گلی، محلہ، بازار یا سروس روڈ ایسی نہیں بچی جو ہلکی سی بارش کے بعد جوہڑ کا منظر پیش نہ کر رہی ہو۔ بلدیہ گوجرخان اب ایک سفید ہاتھی بن چکی ہے جس کا کام صرف فنڈز کو ہڑپ کرنا رہ گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، عوامی حلقوں نے موجودہ صورتحال کو فنڈز کی بندربانٹ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ بلدیہ کے ترقیاتی فنڈز کا فوری طور پر اعلیٰ سطحی آڈٹ کرایا جائے تاکہ عوام کو معلوم ہو سکے کہ کس دور میں کس نے کتنا لوٹا اور کس کو نوازا گیا۔ شہریوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ اب محض فوٹو سیشن اور ٹاوٹ کلچر کی سیاست نہیں چلے گی، جہاں ہر آنے والا افسر چند مخصوص کارندوں کو ساتھ ملا کر صرف تصویریں کھنچواتا ہے جبکہ عملی کام صفر ہوتا ہے۔ عوامی حلقوں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ غافل افسران، سب انجینئرز اور کام چور ٹھیکیداروں کا کڑا محاسبہ کیا جائے اور عوامی ٹیکس کے ایک ایک پیسے کا حساب لیا جائے۔ -

اٹلی سے بازیاب 7 نایاب پاکستانی نوادرات وطن واپس پہنچ گئے
اٹلی سے بازیاب 7 نایاب پاکستانی نوادرات وطن واپس پہنچ گئے، جنہیں پاکستان کے قونصل خانے میلان کے ذریعے محفوظ طریقے سے پاکستان منتقل کیا گیا۔
روم میں پاکستانی سفارتخانے کے مطابق یہ تاریخی نوادرات اپریل 2025 میں پاکستان کے قونصل خانے میلان کے سپرد کیے گئے تھے، جنہیں اب باقاعدہ طور پر وطن واپس لایا گیا ہے۔ سفارتخانے کا کہنا ہے کہ یہ اقدام پاکستان کے ثقافتی ورثے کے تحفظ اور قومی تاریخی اثاثوں کی بازیابی کی کوششوں کا اہم حصہ ہے۔سفارتی ذرائع کے مطابق اٹلی اس سے قبل بھی پاکستان کے تاریخی ورثے کی واپسی میں تعاون کر چکا ہے۔ اکتوبر 2025 میں اٹلی نے 90 پاکستانی تاریخی نوادرات پاکستان کے حوالے کیے تھے، جنہیں 2007 میں اٹلی کے کارابینیری ادارے نے ضبط کیا تھا۔
اٹلی میں پاکستان کے سفیر علی جاوید نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان اور اٹلی کے درمیان آثارِ قدیمہ کی تحقیق، ثقافتی ورثے کے تحفظ اور پیشہ ورانہ تربیت کے شعبوں میں تعاون مزید مضبوط ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک تاریخی ورثے کے تحفظ اور غیر قانونی طور پر منتقل کیے جانے والے نوادرات کی بازیابی کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق تاریخی نوادرات کی واپسی نہ صرف پاکستان کے ثقافتی ورثے کے تحفظ میں معاون ثابت ہوگی بلکہ بین الاقوامی سطح پر ثقافتی تعاون کے فروغ کی بھی عکاسی کرتی ہے
-

نکاح کرنے پر مفتی عبدالقوی کا مومنہ اقبال کو سلیوٹ
متنازع مذہبی شخصیت مفتی عبدالقوی نے اداکارہ مومنہ اقبال اور مسلم لیگ (ن) کے رکنِ صوبائی اسمبلی ثاقب چدھڑ کے درمیان جاری تنازع پر اپنا ردِعمل دیتے ہوئے دلچسپ تبصرہ کیا ہے، جو سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بن گیا۔
مفتی عبدالقوی نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں بطور مہمان شرکت کی، جہاں میزبان کی جانب سے ان سے مومنہ اقبال اور ثاقب چدھڑ کے درمیان جاری تنازع کے حوالے سے سوال کیا گیا۔سوال کے جواب میں مفتی عبدالقوی نے کہا کہ اگر مومنہ اقبال نے حمزہ حبیب سے نکاح کا فیصلہ کیا ہے تو وہ انہیں سلام پیش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’میں مومنہ اقبال کو سلیوٹ کرتا ہوں، آپ نے بالکل درست فیصلہ کیا ہے۔‘‘گفتگو کے دوران مفتی عبدالقوی نے ثاقب چدھڑ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب ان کے پاس پہلے ہی دو بیویاں موجود ہیں تو انہیں تیسری شادی کے بارے میں سوچنے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے مزاحیہ انداز میں مزید کہا کہ ’’اگر آپ میری طرح ذہین ہوتے تو بات نکاح تک پہنچتی۔‘‘
واضح رہے کہ مفتی عبدالقوی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مومنہ اقبال اور ثاقب چدھڑ سے متعلق خبروں اور سوشل میڈیا پر جاری بحث نے خاصی توجہ حاصل کر رکھی ہے۔ مفتی عبدالقوی کے ریمارکس کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے بھی مختلف ردِعمل سامنے آ رہے ہیں۔
-

حزب اللہ حملے میں اسرائیلی فوج کے ٹینک بٹالین کمانڈر سمیت 4 فوجی ہلاک
حزب اللہ مزاحمت کاروں کے حملے میں اسرائیلی فوج کے ٹینک بٹالین کمانڈر سمیت 4 فوجی ہلاک ہوگئے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق گزشتہ 24 گھٹوں میں حزب اللہ کے حملوں میں 4 اسرائیلی فوجی مارے گئے اور 5 زخمی ہوئے ہیں،رپورٹ کے مطابق حزب اللہ مزاحمت کاروں کے ساتھ جھڑپ میں مارے جانے والے 4 فوجیوں میں ایک 32 سالہ افسر لیفٹیننٹ Dor Gedalia Ben Simhon بھی شامل ہیں جو اسرائیلی فوج کے ٹینک بٹالین کے کمانڈر ہیں.اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ دوسرے واقعے میں حزب اللہ کی جانب سے کیے گئے ایک ڈرون حملے میں 5 اسرائیلی فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج کی جانب سے جنوبی لبنان کے علاقوں میں حملے جاری ہیں اور گزشتہ 24 گھنٹوں میں ہونے والے حملوں میں 16 افراد شہید ہوگئے۔
-

پاکستان کی سفارتی کامیابی پر قومی اسمبلی میں متفقہ قرار داد منظور
اسلام آباد: قومی اسمبلی نے پاکستان کی سفارتی کامیابی پر متفقہ قرارداد منظور کرتے ہوئے سول و عسکری قیادت کوخراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ قرارداد وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان میں پیش کی، جسے تمام ارکان کی حمایت سے منظور کر لیا گیا۔
قرارداد میں امریکا اور ایران کے درمیان امن و استحکام کے تاریخی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے عالمی امن کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔ ایوان نے جنگ بندی اور امن فریم ورک معاہدے کو خطے اور دنیا میں استحکام کے لیے مثبت قدم قرار دیا۔قومی اسمبلی نے وزیراعظم شہباز شریف، اسحاق ڈار، محسن نقوی اور عاصم منیر کی سفارتی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے عالمی سطح پر ایک قابلِ اعتماد اور غیر جانبدار ثالث کے طور پر اپنی شناخت مضبوط کی ہے۔قرارداد میں مذاکراتی عمل میں شامل پوری پاکستانی ٹیم کی خدمات کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا گیا جبکہ امریکا اور ایران کی قیادت کو تاریخی امن معاہدے کی تکمیل پر مبارکباد دی گئی۔ایوان نے اس معاہدے کو علاقائی امن، معاشی استحکام اور توانائی کے تحفظ کے لیے خوش آئند قرار دیتے ہوئے پاکستان کی امن کوششوں کی بھرپور حمایت کا اظہار کیا۔ قرارداد میں کہا گیا کہ پاکستان کی کامیاب سفارتکاری عالمی سطح پر ملک کے مثبت، تعمیری اور ذمہ دار کردار کا مظہر ہے
سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کو تاریخی سفارتی کامیابی پر مبارکباد پیش کرتے ہیں، اسلام آبادمفاہمتی یادداشت پر دستخط پاکستان کے لیے سفارتی سنگ میل ہے، وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان کا عالمی وقار بلند ہوا، گزشتہ روز پوری پاکستانی قوم کے لیے باعثِ فخر تھا،تاریخی سفارتی کامیابی میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی خدمات قابل ستائش ہیں،تاریخی سفارتی کامیابی میں اسحاق ڈاراور محسن نقوی کی خدمات بھی قابلِ ستائش ہے،وزارت خارجہ اور وزیراعظم کی ٹیم کی کاوشیں بھی لائقِ تحسین ہیں،پاکستان کو ایسی سفارتی کامیابی پہلے کبھی حاصل نہیں ہوئی،
-

افغانستان کی جانب سے کے پی اوربلوچستان میں داعش کیمپس کو ڈرونز سےنشانہ بنانےکا پروپیگنڈا
وزارت اطلاعات ونشریات نے کہا ہے کہ افغان حکومت کی جانب سے کے پی اوربلوچستان میں مبینہ داعش کیمپس کو ڈرونز سےنشانہ بنانےکا پروپیگنڈا سامنے آیا ہے۔
وزارت اطلاعات کے مطابق افغان طالبان حکومت اپنے پروپیگنڈا ذرائع اور سرکاری بیانات کے ذریعے دعویٰ کررہی ہے اور یہ دعویٰ ہمیشہ کی طرح غلط ہے۔وزارت کے مطابق داعش سمیت درجنوں دہشتگرد تنظیموں کےکیمپس افغان حکومت کے زیرِکنٹرول علاقوں میں ہیں، ان کیمپس سے دہشتگرد تنظیموں کو چلایا اور معاونت فراہم کی جاتی ہے، اپنی سرپرستی میں دہشتگردی کو چھپانے کے لیے طالبان حکومت جھوٹے گمراہ کن بیانات دیتی ہے۔وزارت اطلاعات کے مطابق طالبان حکومت کا ایک کم درجےکا ڈرون شِنکو خیبر کےقریب پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوا، اسےفوری شناخت کرکے پاک فضائیہ کے چوکنا فضائی دفاعی نظام نے کامیابی سے ناکارہ بنا دیا، سچ ہمیشہ جھوٹ پر غالب آتا ہے۔
-

تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ کیا جائے،راجہ پرویز اشرف
پیپلز پارٹی نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کا مطالبہ کردیا ہے
قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ سرکاری ملازمین، پنشنرز اور زراعت سے منسلک لوگ بجٹ سےفوری متاثر ہوتے ہیں، سرکاری ملازمین، پنشنرز اور زراعت سے منسلک طبقہ دباؤکا شکار رہتا ہے،کاروباری طبقے کی بھی دشواریاں ہوتی ہیں، کاروباری طبقہ مہنگائی کے تناسب سے اپنی چیزوں کی ریٹ بڑھا دیتا ہے اور آخر میں کنزیومر پر اثرات آتے ہیں، حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ کیا جو بہت کم ہے، ہم نے تنخواہوں اور پنشن میں 100 فیصد تک اضافہ کیا تھا، حکومت سے گزارش ہے کہ تنخواہوں میں اضافے کو 7 سےبڑھا کر 10 فیصد کیا جائے۔
راجہ پرویز اشرف کا مزید کہنا تھا کہ کشمیر کے حالات پر دل خون کے آنسو روتا ہے. جب ہم کشمیر گئے تھے ان لوگوں نے کھل کر بات کی اور ان کے تمام مطالبات مان لیے گئے اور 80 فیصد معاملات طے ہو گئے تھے لیکن ان کو 12 نشستوں کے معاملے پر 9 تاریخ کی احتجاج کی کال واپس لینے کی ڈیمانڈ کی گئی تھی،25کروڑ عوام ملک سے محبت کرتے ہیں بہتر ہے معیشت کے بجائے ہم ملک کو ایک ایسا ماحول دیں جہاں ہر طبقہ خوشی خوشی کام کرے۔ ہمیں امیروں کی بھی ضرورت ہے، پوری دنیا امیروں کو بلاتی ہے،ایران امریکا جنگ سے پوری دنیا کو نقصان ہو رہا تھا، حکومت کے اخراجات زیادہ اور آمدن کم ہے، وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل نے مشکل معرکہ سر کر لیا
-

انمول عرف پنکی کے دو ساتھیوں کا جسمانی ریمانڈ منظور
کراچی: جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی میں ملزمہ انمول عرف پنکی کے دو ساتھیوں کی گرفتاری کا معاملہ سامنے آ گیا۔
پولیس نے ملزمان عاقب اور غلام عباس کو عدالت میں پیش کیا۔ عدالت نے دونوں ملزمان کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔مقدمے میں مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی مفرور ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ ملزمہ کو مقدمے میں عدم گرفتار کیوں ظاہر کیا گیا۔فتیشی افسر کے مطابق ملزمہ کو ابھی تک مقدمے میں باقاعدہ گرفتار نہیں کیا گیا۔ عدالت کی اجازت کے بعد ملزمہ انمول عرف پنکی کو مقدمے میں گرفتار کیا جائے گا۔
ملزمان کے سی آر او اور تفتیش کے لیے دس روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔عدالت نے آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ طلب کر لی۔