Baaghi TV

Blog

  • امریکا کی ڈیڈلائن قریب، ٹرمپ کی دوبارہ ایران کو تباہ کرنے کی دھمکی

    امریکا کی ڈیڈلائن قریب، ٹرمپ کی دوبارہ ایران کو تباہ کرنے کی دھمکی

    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی گئی ڈیڈلائن ختم ہونے میں محض چند گھنٹے باقی رہ گئے ہیں، جس کے باعث خطے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر پاکستان اور مصر نے جنگ بندی کے لیے اپنی سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں تاکہ ممکنہ تصادم کو روکا جا سکے۔
    ‎امریکی صدر نے ایک بار پھر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے مطالبات تسلیم نہ کیے تو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ دباؤ کے تحت کسی قسم کی لچک دکھانے کے لیے تیار نہیں اور اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
    ‎غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطے جاری ہیں، جن میں پاکستان ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے، تاہم اب تک کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ قطر نے بھی ثالثی کے عمل میں حصہ لیتے ہوئے ایران کا پیغام امریکا اور دیگر ممالک تک پہنچایا ہے۔ اس پیغام میں خبردار کیا گیا کہ اگر ایران کے بجلی گھروں کو نشانہ بنایا گیا تو اس کے شدید نتائج برآمد ہوں گے اور پورا خطہ متاثر ہو سکتا ہے۔
    ‎ایرانی ذرائع نے مزید عندیہ دیا ہے کہ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو ایران کے اتحادی اہم بحری گزرگاہ باب المندب کو بھی بند کر سکتے ہیں، جس سے عالمی تجارت شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال نہایت نازک ہے اور کسی بھی غلط قدم سے خطے میں بڑے پیمانے پر جنگ چھڑنے کا خدشہ ہے۔ ایسے میں پاکستان اور دیگر ممالک کی جانب سے ثالثی کی کوششیں انتہائی اہمیت اختیار کر گئی ہیں تاکہ تنازع کو سفارتی طریقے سے حل کیا جا سکے۔

  • امریکا ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے:یو اے ای نے آبنائے ہرمز کی آزادی کی ضمانت مانگ لی

    امریکا ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے:یو اے ای نے آبنائے ہرمز کی آزادی کی ضمانت مانگ لی

    ‎متحدہ عرب امارات نے مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں ایک واضح اور سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کی مکمل آزادی کی ضمانت کا مطالبہ کر دیا ہے۔ اماراتی صدر کے مشیر انور قرقاش نے کہا ہے کہ اس اہم عالمی گزرگاہ کو کسی بھی ملک کے زیر اثر یا یرغمال نہیں بننے دیا جائے گا۔
    ‎تفصیلات کے مطابق انور قرقاش نے امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی قسم کے معاہدے میں عالمی تجارتی راستوں کی آزادی کو بنیادی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک اہم تجارتی شاہراہ ہے، جہاں سے تیل اور دیگر اہم وسائل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔
    ‎انہوں نے واضح کیا کہ اگر اس گزرگاہ کی آزادی متاثر ہوئی تو اس کے عالمی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ کسی بھی معاہدے میں اس کی مکمل حفاظت اور آزادی کو یقینی بنایا جائے۔
    ‎انور قرقاش نے صرف جنگ بندی پر مبنی کسی بھی ممکنہ سمجھوتے کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ عارضی اقدامات مسائل کا حل نہیں ہوتے۔ ان کے مطابق ایک پائیدار اور جامع معاہدہ ضروری ہے جس میں ایران کے ایٹمی پروگرام، بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں جیسے حساس معاملات کو مستقل طور پر حل کیا جائے۔
    ‎انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بنیادی تنازعات کو نظر انداز کر کے کوئی معاہدہ کیا گیا تو خطے میں عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے اور مشرقِ وسطیٰ پہلے سے زیادہ خطرناک صورتحال کا شکار ہو سکتا ہے۔
    ‎اماراتی مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ خلیجی ممالک اب خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے زیادہ واضح اور مضبوط ضمانتیں چاہتے ہیں، خاص طور پر ایسے معاملات میں جو عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل سے جڑے ہوئے ہیں۔

  • منی پور میں ہلاکتوں کے بعد شدید جھڑپیں، احتجاج شدت اختیار کر گیا

    منی پور میں ہلاکتوں کے بعد شدید جھڑپیں، احتجاج شدت اختیار کر گیا

    ‎بھارتی ریاست منی پور میں ایک بار پھر حالات کشیدہ ہو گئے ہیں جہاں دو بچوں کی ہلاکت کے بعد عوامی غم و غصہ شدت اختیار کر گیا۔ واقعے کے بعد شہری سڑکوں پر نکل آئے اور شدید احتجاج کیا، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پرتشدد شکل اختیار کر لی۔
    ‎بھارتی میڈیا کے مطابق یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب ایک راکٹ لانچر حملے میں دو معصوم بچوں کی جان چلی گئی۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد مقامی آبادی مشتعل ہو گئی اور مظاہرین نے سیکیورٹی فورسز کے خلاف احتجاج شروع کر دیا۔
    ‎رپورٹس کے مطابق احتجاج کے دوران مظاہرین بھارتی فورس سی آر پی ایف کے کیمپ میں داخل ہو گئے، جس کے بعد حالات مزید بگڑ گئے۔ میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ تاہم زخمیوں کی حتمی تعداد کے حوالے سے متضاد اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔
    ‎ادھر مشتعل ہجوم نے اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوئے بھارتی فوج کے ایک آئل ٹینکر کو بھی نذر آتش کر دیا، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
    ‎منی پور میں اس سے قبل بھی نسلی اور سیکیورٹی مسائل کے باعث کشیدگی دیکھی جاتی رہی ہے، تاہم حالیہ واقعہ نے ایک بار پھر امن و امان کی صورتحال کو شدید متاثر کیا ہے۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات نہ صرف مقامی سطح پر عدم استحکام کو بڑھاتے ہیں بلکہ پورے خطے کے لیے خطرے کی گھنٹی بھی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔

  • ‎کور کمانڈرز کانفرنس میں ایران کے سعودی عرب پر حملوں کی مذمت

    ‎کور کمانڈرز کانفرنس میں ایران کے سعودی عرب پر حملوں کی مذمت

    ‎پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 274 ویں کور کمانڈرز کانفرنس میں ایران کی جانب سے سعودی عرب پر حالیہ حملوں کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ کانفرنس کی صدارت فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کی، جس میں ملکی سلامتی اور خطے کی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔
    ‎آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق اجلاس کے آغاز میں مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور وطن کے دفاع میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔ فورم نے شہدا کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی خدمات کو ناقابل فراموش قرار دیا۔
    ‎کانفرنس میں سعودی عرب کے پیٹروکیمیکل اور صنعتی تنصیبات پر ہونے والے حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ فورم کا کہنا تھا کہ اس طرح کے حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی کو بڑھاتے ہیں بلکہ تنازعات کے پرامن حل کے لیے جاری مخلصانہ سفارتی کوششوں کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔
    ‎کور کمانڈرز نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب نے حالیہ اشتعال انگیزیوں کے باوجود تحمل اور ذمہ دارانہ رویہ اپنایا ہے، جو کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔ ان کے مطابق سعودی عرب کا یہ طرز عمل ثالثی اور سفارتی حل کے لیے سازگار ماحول پیدا کر رہا ہے۔
    ‎فورم نے واضح کیا کہ اس نوعیت کے حملے غیر ضروری کشیدگی کو جنم دیتے ہیں اور جاری امن عمل کو متاثر کرتے ہیں۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ بلاجواز جارحیت نہ صرف علاقائی استحکام کے لیے خطرہ ہے بلکہ اس سے عالمی سطح پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    راولپنڈی میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیر صدارت 274ویں کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ملکی سیکیورٹی، علاقائی صورتحال اور انسداد دہشتگردی کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق اجلاس کے آغاز میں مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مادر وطن کے دفاع میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی اور ان کی لازوال قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
    ‎فورم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شہداء کی قربانیاں پاکستان کی سلامتی کی بنیاد ہیں اور ان کے مشن کو ہر صورت جاری رکھا جائے گا۔ آرمی چیف نے مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت، آپریشنل تیاری اور انٹیلی جنس بنیادوں پر جاری انسداد دہشتگردی کارروائیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔
    ‎کانفرنس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ حکومت، افواج پاکستان اور عوام کے درمیان ہم آہنگی سے نہ صرف سیکیورٹی کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں بلکہ معاشی استحکام بھی مضبوط ہو رہا ہے۔ فورم نے واضح کیا کہ بھارت اور دیگر بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشتگرد نیٹ ورکس اور ان کے سہولت کاروں کا بلا امتیاز خاتمہ کیا جائے گا۔
    ‎شرکاء نے آپریشن “غضب لِلحق” کی رفتار برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنا یقینی بنایا جائے گا۔
    ‎کور کمانڈرز کانفرنس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی غور کیا گیا اور سعودی عرب کی صنعتی تنصیبات پر حملوں کی شدید مذمت کی گئی۔ فورم نے کہا کہ ایسے حملے خطے میں کشیدگی کو بڑھاتے ہیں اور امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں، جبکہ سعودی عرب کے صبر و تحمل کو سراہا گیا۔
    ‎فورم نے بھارت کی جانب سے پھیلائے جانے والے جھوٹے بیانیے اور پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات عالمی سطح پر بے نقاب ہو چکے ہیں۔ ساتھ ہی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔

  • ‎ایران کے اسرائیل پر مزید میزائل حملے، آئی ڈی ایف

    ‎ایران کے اسرائیل پر مزید میزائل حملے، آئی ڈی ایف

    ‎اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے ایک بار پھر اسرائیل پر مزید میزائل داغے گئے ہیں، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔
    ‎اسرائیلی ڈیفینس فورسز کے مطابق ایران کی جانب سے کیے گئے تازہ حملوں کے بعد ملک کے مختلف علاقوں میں سائرن بجائے گئے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات جاری کی گئیں۔ آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ ان کے فضائی دفاعی نظام متحرک ہیں اور آنے والے میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
    ‎حکام کے مطابق صورتحال مسلسل نگرانی میں ہے اور دفاعی نظام مکمل طور پر فعال ہے تاکہ کسی بھی بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔ تاہم فوری طور پر نقصانات یا جانی نقصان کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی یہ کشیدگی پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ حالیہ دنوں میں دونوں جانب سے حملوں اور جوابی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ صورتحال کسی بڑے تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
    ‎عالمی برادری کی جانب سے دونوں ممالک پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور تنازع کو سفارتی ذرائع سے حل کریں تاکہ خطے میں امن برقرار رکھا جا سکے۔

  • پاکستان کی سعودی عرب پر میزائل و ڈرون حملوں کی شدید مذمت

    پاکستان کی سعودی عرب پر میزائل و ڈرون حملوں کی شدید مذمت

    ‎پاکستان نے سعودی عرب پر ہونے والے میزائل اور ڈرون حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ان واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانا نہایت خطرناک اور قابل مذمت اقدام ہے۔
    ‎بیان کے مطابق ایسے حملے نہ صرف اہم انفرااسٹرکچر کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔ ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی اور جارحیت کے خلاف ہے اور ایسے اقدامات کی بھرپور مذمت کرتا ہے۔
    ‎دفتر خارجہ نے اس مشکل وقت میں سعودی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے برادر ملک کے ساتھ کھڑا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ حملے سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں، جنہیں کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
    ‎پاکستان نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس قسم کے حملوں کا نوٹس لے اور خطے میں امن برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ ترجمان کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
    ‎بیان میں پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کی سلامتی اور دفاع کے لیے غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان ہمیشہ اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور آئندہ بھی ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔
    ‎ماہرین کے مطابق اس قسم کے حملے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ تمام فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں اور مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں۔

  • ایران کے قریب کارگو جہاز پر حملہ، عملہ محفوظ

    ایران کے قریب کارگو جہاز پر حملہ، عملہ محفوظ

    ‎ایران کے قریب خلیجی سمندری علاقے میں ایک کارگو جہاز کو نشانہ بنانے کا واقعہ پیش آیا ہے، تاہم خوش قسمتی سے جہاز کا تمام عملہ محفوظ رہا۔ یہ اطلاع برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے جاری کی ہے، جس کے مطابق حملہ ایران کے جزیرۂ کیش کے جنوب میں پیش آیا۔
    ‎حکام کے مطابق جہاز کو ایک نامعلوم پروجیکٹائل کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں جہاز کے ان حصوں کو نقصان پہنچا جو پانی کی سطح سے اوپر موجود تھے۔ واقعے کے فوراً بعد جہاز کے عملے نے صورتحال پر قابو پایا اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
    ‎جزیرۂ کیش ایران کے صوبہ ہرمزگان میں واقع ایک اہم ساحلی مقام ہے، جو خلیج فارس کے حساس ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس علاقے میں عالمی تجارت کے اہم بحری راستے موجود ہیں، جس کی وجہ سے یہاں پیش آنے والے کسی بھی واقعے کو عالمی سطح پر تشویش کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
    ‎برطانوی میری ٹائم ادارے کے مطابق واقعے کی نوعیت اور ذمہ داران کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ فی الحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حملہ کس جانب سے کیا گیا۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سمندری راستے بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو رہے ہیں۔ اس طرح کے واقعات نہ صرف علاقائی سیکیورٹی بلکہ عالمی تجارت پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
    ‎بین الاقوامی سطح پر اس واقعے کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور مختلف ممالک کی جانب سے سمندری تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔

  • عدالت کا عمران خان سے وکیل کی ملاقات کا حکم

    عدالت کا عمران خان سے وکیل کی ملاقات کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم عمران خان سے ان کے وکیل سلمان صفدر کی ملاقات کروانے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے اڈیالہ جیل حکام کو ہدایت کی ہے کہ بدھ کے روز دوپہر دو بجے یہ ملاقات یقینی بنائی جائے۔
    یہ کیس عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف دائر اپیلوں سے متعلق ہے، جس کی سماعت چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل سلمان صفدر عدالت میں پیش ہوئے اور اپنے مؤقف میں کہا کہ کافی عرصے سے ان کی اپنے موکل سے ملاقات نہیں کروائی جا رہی۔
    ‎عدالت نے اس معاملے پر فوری نوٹس لیتے ہوئے جیل حکام کو ملاقات کی اجازت دینے کا حکم جاری کیا۔ چیف جسٹس نے وکیل سے استفسار کیا کہ وہ کس وقت ملاقات کرنا چاہتے ہیں، جس پر سلمان صفدر نے دوپہر دو بجے کا وقت تجویز کیا، جسے عدالت نے منظور کر لیا۔
    ‎دوران سماعت یہ بھی بتایا گیا کہ تین ماہ سے زائد عرصے سے نہ تو عمران خان کی اپنے وکلا سے ملاقات کروائی گئی ہے اور نہ ہی ان کی بہنوں کو ملاقات کی اجازت دی گئی۔ اس صورتحال پر عدالت نے وکیل کی درخواست کو تسلیم کرتے ہوئے فوری ملاقات کا حکم دیا۔
    ‎سلمان صفدر نے بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست پر جلد فیصلہ سنانے کی استدعا بھی کی، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جیسے ہی اپیل پر دلائل کا آغاز ہوگا، عدالت سات روز کے اندر فیصلہ سنا دے گی۔
    ‎نیب کے اسپیشل پراسیکیوٹر نے کیس کی سماعت جلد مقرر کرنے کی درخواست کی، تاہم عدالت نے مصروفیات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیس کی مزید سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی۔
    ‎عدالت کے اس حکم کو کیس میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے آئندہ کارروائی میں تیزی آنے کا امکان ہے۔

  • 
بلوچستان میں بارشوں کی تباہ کاریاں، 12 افراد جاں بحق

    
بلوچستان میں بارشوں کی تباہ کاریاں، 12 افراد جاں بحق

    
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں حالیہ بارشوں کے باعث تباہ کاریاں جاری ہیں، جہاں مختلف حادثات میں اب تک 12 افراد جاں بحق جبکہ 15 زخمی ہو چکے ہیں۔
    رپورٹس کے مطابق 19 مارچ سے شروع ہونے والی بارشوں نے کئی علاقوں کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے اور معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
    ‎محکمہ پی ڈی ایم اے بلوچستان کے مطابق ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ادارہ ہائی الرٹ ہے اور متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ بارشوں کے باعث 65 مویشی ہلاک ہو گئے جبکہ 160 گھروں کو نقصان پہنچا ہے، جس سے کئی خاندان بے گھر ہو گئے ہیں۔
    ‎پی ڈی ایم اے کے مطابق شمال مشرقی بلوچستان میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید بارشوں کا امکان ہے، جس کے پیش نظر متعلقہ اداروں کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ایسے شدید موسمی واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے لیے بہتر منصوبہ بندی اور بروقت اقدامات ناگزیر ہیں۔

  • ٹرمپ کی امریکی پائلٹ کی گمشدگی رپورٹ کرنیوالے صحافی کو جیل بھیجنے کی دھمکی

    ٹرمپ کی امریکی پائلٹ کی گمشدگی رپورٹ کرنیوالے صحافی کو جیل بھیجنے کی دھمکی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ وہ اس شخص کو تلاش کر رہے ہیں جس نے ایران میں پھنسے دوسرے پائلٹ کی خبر لیک کی، لیک ہونے والی معلومات سے ریسکیو آپریشن متاثر ہوا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا کو بریفنگ کے دوران بتایا کہ امریکی حکام اس شخص یا ادارے کی تلاش میں ہیں جس نے ایران میں پھنسے دوسرے پائلٹ کی معلومات لیک کیں صدر کے مطابق یہ معلومات منظرِ عام پر آنے سے ریسکیو آپریشن مزید مشکل ہو گیا اور اس سے پہلے ایران کو دوسرے پائلٹ کے بارے میں علم نہیں تھا۔

    ٹرمپ نے کہا کہ جس میڈیا ادارے نے یہ رپورٹ شائع کی، امریکی حکام اس سے لیک کرنے والے کی شناخت طلب کریں گے اور اگر تعاون نہ کیا گیا تو قانونی کارروائی کی جائے گی ہم بھرپور کوشش کر رہے ہیں کہ خبر لیک کرنے والے کو ڈھونڈیں ہمیں یقین ہے کہ ہم اسے تلاش کر لیں گے کیونکہ ہم اس میڈیا کمپنی کے پاس جائیں گے اور کہیں گے یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے، معلومات دو یا جیل جاؤ۔

    پریس بریفنگ آغاز میں صدر ٹرمپ نے ایران میں گرنے والے امریکی لڑاکا طیارے کے بعد کیے گئے بڑے ریسکیو آپریشن کی تفصیلات بھی جاری کیں۔

    اُنھوں نے بتایا کہ ایک امریکی ایف-15 طیارہ ایران میں ایک آپریشن کے دوران گر کر تباہ ہوگیا، تاہم اس میں سوار دونوں اہلکار بروقت ایجیکٹ کرنے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک پائلٹ محفوظ رہا جبکہ دوسرا زخمی ہوگیا تھا، جسے ایرانی فورسز اور مقامی افراد تلاش کر رہے تھے زخمی پائلٹ ایک بلند مقام تک پہنچنے میں کامیاب ہوگیا، جہاں اس نے خود اپنے زخموں کا علاج کیا اور ایک خصوصی کمیونیکیشن ڈیوائس (بیپر طرز) کے ذریعے امریکی فوج سے رابطہ قائم کیا۔

    ٹرمپ کے مطابق پائلٹ کی تلاش اور بازیابی کے لیے تقریباً 200 امریکی فوجیوں کو تعینات کیا گیا اور ایک تاریخی ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا، جس میں 4 بمبار طیاروں، 13 ریسکیو ایئرکرافٹ سمیت مجموعی طور پر تقریباً 150 طیاروں نے حصہ لیا۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی فورسز سات مختلف مقامات پر پھیل گئیں تاکہ ایرانی فورسز کو الجھایا جا سکے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس دوران نچلی پرواز کرنے والے کئی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں پر شدید فائرنگ ہوئی، حتیٰ کہ امریکی ہیلی کاپٹروں کو بھی متعدد گولیاں لگیں، تاہم فوری مرمت کے ذریعے انہیں دوبارہ قابلِ پرواز بنا دیا گیا۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ کچھ کمپنیوں کو ایسی مرمت میں کئی دن لگ جاتے، مگر امریکی فوج نے یہ کام محض 10 منٹ میں انجام دیا۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ شدید موسمی اور زمینی حالات، خصوصاً ریت کی وجہ سے دو پرانے طیارے پرواز نہ کرسکے، جس کے بعد امریکی فورسز نے کم وزن طیاروں کے ذریعے وہاں پہنچ کر ان طیاروں کو بھی تباہ کر دیا تاکہ کوئی اور انہیں استعمال یا جانچ نہ سکے۔

    ٹرمپ کے مطابق ایرانی حکام نے زخمی پائلٹ کو پکڑنے پر انعام کا بھی اعلان کیا تھا، تاہم امریکی فوج نے تمام خطرات کے باوجود کارروائی کرتے ہوئے 48 گھنٹوں کے اندر پائلٹ کو بحفاظت ریسکیو کر لیا۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس پورے آپریشن میں کوئی بھی امریکی اہلکار زخمی نہیں ہوا اور تمام طیارے شدید نقصان کے باوجود بحفاظت واپس لوٹ آئے۔ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے فوج کو واضح ہدایت دی تھی کہ کسی بھی صورت میں اپنے اہلکاروں کو واپس لایا جائے، کیونکہ امریکی فوج کسی کو پیچھے نہیں چھوڑتی۔

    اپنے خطاب میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی فوج نے وسیع پیمانے پر کارروائیوں کے دوران ہزاروں اہداف کو نشانہ بنایا اور اس آپریشن میں غیر معمولی مہارت اور صلاحیت کا مظاہرہ کیا گیا۔