Baaghi TV

Blog

  • مچھر کچھ لوگوں کو زیادہ کیوں کاٹتے ہیں؟ نئی تحقیق میں  حیران کن انکشاف

    مچھر کچھ لوگوں کو زیادہ کیوں کاٹتے ہیں؟ نئی تحقیق میں حیران کن انکشاف

    حالیہ سائنسی تحقیقات سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ مچھر انسانوں کو منتخب کرنے کے لیے ایک منظم اور حساس حیاتیاتی نظام استعمال کرتے ہیں۔ تحقیقات کے بڑھتے ہوئے شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ مچھر پہلے سے زیادہ ’چناؤ کرنے والے‘ ہوتے ہیں وہ انسانوں کو تلاش کرنے کے لیے بو، جسمانی کیمسٹری، حرارت اور بصری اشاروں کا استعمال کرتے ہیں تاکہ اپنا اگلا شکار منتخب کر سکیں۔

    اکثر یہ منظر عام ہوتا ہے کہ کچھ افراد مچھروں کے حملوں کا زیادہ شکار بنتے ہیں جبکہ دوسرے تقریباً محفوظ رہتے ہیں سائنسدانوں کے مطابق یہ محض اتفاق نہیں بلکہ انسانی جسم کی مخصوص بو، سانس کے ذریعے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO₂) اور جلد کی کیمیائی ساخت وہ بنیادی عوامل ہیں جو مچھروں کو اپنے شکار کے انتخاب میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔

    مچھر اپنے شکار کو تلاش کرنے کے لیے سانس کے ذریعے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو کئی میٹر کی دوری سے سونگھ لیتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ لمبے قد کے حامل افراد، حاملہ خواتین، یا وہ لوگ جو زیادہ گہری سانس لیتے ہیں (جیسے ورزش کے بعد)، مچھروں کو زیادہ متوجہ کرتے ہیں انسانی جلد پر قدرتی طور پر بیکٹیریا کی ایک بڑی تعداد موجود ہوتی ہے جو پسینے کو مختلف کیمیکلز (جیسے لیکٹک ایسڈ اور یورک ایسڈ) میں تبدیل کرتی ہے ہر انسان کے جسم میں ان کیمیکلز کی مقدار مختلف ہوتی ہے، اور جن لوگوں کے جسم سے ان کی بو زیادہ آتی ہے، مچھر ان کا زیادہ رخ کرتے ہیں-

    سائنسی تحقیقی رپورٹس کے مطابق، مچھروں کی ترجیح میں خون کی اقسام بھی شامل ہوتی ہیں ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ O بلڈ گروپ کے حامل افراد مچھروں کا سب سے زیادہ نشانہ بنتے ہیں، جبکہ اس کے بعد بلڈ گروپ A والے افراد کو زیادہ کاٹا جاتا ہے مچھر جسمانی حرارت (گرمی) کے بھی بہت حساس ہوتے ہیں زیادہ درجہ حرارت، مشقت یا ورزش کے دوران نکلنے والا پسینہ مچھروں کو فوری طور پر راغب کرتا ہے لیکن سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ اصل میں جسم کی قدرتی بو اس سے کہیں زیادہ اہم کردار ادا کرتی ہےمختلف مطالعات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ الکحل کا استعمال کرنے والوں کا جسمانی درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے، جس سے وہ مچھروں کے لیے زیادہ پرکشش ہدف بن جاتے ہیں-

    Rockefeller University کی تحقیق میں یہ بھی پایا گیا کہ جن افراد کی جلد پر قدرتی طور پر موجود کاربوکسلک ایسڈز زیادہ ہوتے ہیں، وہ مچھروں کو زیادہ متوجہ کرتے ہیں ہر انسان سانس کے ساتھ کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتا ہے جسے مادہ مچھر بہت دور سے بھی محسوس کر سکتے ہیں وہ افراد جو زیادہ CO₂ خارج کرتے ہیں جیسے بڑے جسم والے بالغ افراد، حاملہ خواتین، یا وہ لوگ جنہوں نے حال ہی میں ورزش کی ہو انہیں زیادہ مچھر کاٹتے ہیں کیونکہ وہ آسانی سے پہچانے جاتے ہیں۔ جسم کی گرمی اور نمی بھی مچھروں کو قریب آ کر شکار تک پہنچنے میں مدد دیتی ہے۔

    مچھر ان لوگوں کو زیادہ آسانی سے دیکھ لیتے ہیں جو گہرے رنگ کے کپڑے پہنتے ہیں، جیسے کالا، نیوی بلیو اور سرخ، خاص طور پر جب وہ پہلے ہی CO₂ محسوس کر چکے ہوں۔ اس کے مقابلے میں ہلکے رنگ جیسے سفید اور سبز کم پرکشش ہوتے ہیں۔

    مچھر کے کاٹنے سے بچاؤ کے مؤثر طریقے
    ماہرین صحت کے مطابق مچھر کے کاٹنے سے بچاؤ کے لیے درج ذیل اقدامات مؤثر ہیں:

    DEET، picaridin یا قدرتی تیل پر مشتمل ریپیلنٹس کا استعمال،صبح اور شام کے اوقات میں مکمل بازو اور ٹانگیں ڈھانپنے والے کپڑے پہننا، ہلکے رنگوں کا انتخاب، کھڑا پانی ختم کرنا جہاں مچھر افزائش پاتے ہیں،کھڑکیوں پر جالیاں اور پنکھوں کا استعمال

    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مچھر جلد ختم ہونے والے نہیں ہیں۔ تاہم یہ سمجھنا کہ کچھ لوگ ’مچھر میگنیٹ‘ کیوں ہوتے ہیں، مستقبل میں بہتر ریپیلنٹس اور بیماریوں جیسے ڈینگی، ملیریا، ویسٹ نائل وائرس اور زیکا سے بچاؤ کے نئے طریقوں کی ترقی میں مدد دے سکتا ہے۔

  • فیلڈ مارشل سید عاصم مُنیر کی خدمات نے پاکستان کا سر فخر سے بلند کر دیا،بلاول

    فیلڈ مارشل سید عاصم مُنیر کی خدمات نے پاکستان کا سر فخر سے بلند کر دیا،بلاول

    پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج دنیا جب امن کی طرف بڑھ رہی ہے تو پاکستان کو ترقی کی طرف بڑھنا ہوگا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم مُنیر کی خدمات نے پاکستان کا سر فخر سے بلند کر دیا،

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ ہمارا خطہ مکمل طور پر پرسکون نہیں ہوا۔ امریکہ اور ایران کے معاہدے کےباوجود ایسے عناصر موجود ہیں جو بدامنی پھیلا رہے ہیں۔ بیرونی قوتیں دہشتگردی کو سپورٹ کرکے پاکستان کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ وفاق نے صوبوں سے مل کر فیصلہ کیا ہے کہ مل کر حالات کا مقابلہ کیا جائے گا۔ آئین صوبوں کو اختیار دیتا ہے کہ وہ وفاق کو گرانٹ دے۔ مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لیے ہم نے اصولی فیصلہ کیا ہے۔2010کے سیلاب میں پٹرولیم لیوی متعارف کرائی گئی ،پٹرولیم لیوی سیلاب زدگان کی مدد کے لئے لاگو کی گئی ،2010سےآج تک صوبوں کو پٹرولیم لیوی سے حصہ نہیں دیا جارہا،18 ویں ترمیم کے خاتمے کے حوالے سے بہت سی افواہیں گردش کر رہی تھیں،بینظیر انکم سپورٹ کے خاتمے کے حوالے سے بھی باتیں ہوئیں ،میں وزیر اعظم، نائب وزیر اعظم اور وزیر خزانہ کا شکر گزار ہوں،ہم نے سیاسی اتفاق رائے سے جمہوری حل نکالا ،حکومت کے ساتھ طے کیا کہ قومی دفاع کیلئے اپنا حصہ ڈالیں گے ،قومی مفاد میں سب کو متحد ہو کر کام کرنا پڑے گا پھر سب مسئلے حل ہو جائیں گے

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کو اور صوبائی حکومتوں کو ملکر کام کرنا چاہئے،ایسا منصوبہ سامنے آنا چاہئے جو لانگ ٹرم ہو تا کہ ملک میں ترقی لے کر آئیں، پاکستان کی معیشت ترقی کرے،جس طرح بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ٹارگٹ کیا گیا یہ افسوسناک اور شرمناک ہے،بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو عالمی دنیا مانتی ہے، آئی ایم ایف ،ورلڈ بینک مانتے ہیں کہ یہ ادارہ کام کر رہا ہے اور کامیاب منصوبہ ہے،یہ اس منصوبے کا فنڈ کم کرنے یا ختم کرنے کی بات نہیں کرتے،پاکستان میں غربت کا مقابلہ کرنا ہے تو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم نہیں بلکہ بڑھانا چاہئے،بینظیر انکم سپورٹ پروگرام نے لاکھوں گھرانوں کی مدد کی ہے، ماؤں، بچوں کو سہارا دیا،

  • پنکی گینگ سے تعلق رکھنے والے 2 ملزمان گرفتار، آئس اور کوکین برآمد

    پنکی گینگ سے تعلق رکھنے والے 2 ملزمان گرفتار، آئس اور کوکین برآمد

    کراچی میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مبینہ طور پر پنکی گینگ کے لیے کام کرنے والے 2 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

    ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق بوٹ بیسن کے قریب خفیہ اطلاع پر کارروائی کی گئی، جس کے دوران 2 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔ گرفتار ملزمان کے قبضے سے آئس اور کوکین بھی برآمد ہوئی ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق گرفتار ملزمان پنکی گینگ کے لیے کام کرتے تھے، جبکہ ان سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ گینگ کے دیگر ارکان اور سرگرمیوں سے متعلق معلومات حاصل کی جا سکیں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل تفتیشی ٹیم کو انمول عرف پنکی کے موبائل فون سے بڑی مقدار میں ڈیجیٹل مواد ملا تھا، جس میں 75 ہزار تصاویر، 100 جی بی ڈیٹا، رقوم کی وصولی سے متعلق سیکڑوں اسکرین شاٹس، 13 ہزار سے زائد رابطہ نمبرز اور 42 ہزار کال لاگز شامل تھے۔پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان سے ہونے والی تفتیش کی روشنی میں گینگ کے نیٹ ورک اور ممکنہ سہولت کاروں تک پہنچنے کے لیے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے۔

  • کراچی میں مبینہ پین بم معاملے کا ڈراپ سین ہو گیا

    کراچی میں مبینہ پین بم معاملے کا ڈراپ سین ہو گیا

    کراچی: ماڈل کالونی میں مبینہ پین بم دھماکے کے واقعے کا ڈراپ سین ہو گیا، جبکہ محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی تحقیقات میں واقعے کے اصل حقائق سامنے آ گئے ہیں۔

    تحقیقاتی ذرائع کے مطابق زخمی نوجوان کو کوئی پین بم یا مشتبہ دھماکا خیز شے نہیں ملی تھی بلکہ اس نے ابتدائی بیان میں غلط معلومات فراہم کی تھیں۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ نوجوان اپنے کزن کی سالگرہ کی تقریب کے لیے پٹاخہ خرید کر لایا تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نوجوان پٹاخہ چلانے کی کوشش کر رہا تھا کہ وہ اس کے ہاتھ میں ہی پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہو گیا۔ پٹاخہ سالگرہ کی تقریب میں استعمال کے لیے خریدا گیا تھا۔سی ٹی ڈی کو واقعے کی ایک ویڈیو بھی حاصل ہوئی ہے جو زخمی شخص کے کزن کے موبائل فون سے لی گئی۔ ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ نوجوان کے ہاتھ میں موجود پٹاخہ پھٹتا ہے جس سے وہ زخمی ہو جاتا ہے۔

    یاد رہے کہ چند روز قبل کراچی کے علاقے ماڈل کالونی میں سڑک کنارے ملنے والی ایک مبینہ مشتبہ شے کے پھٹنے سے ایک شہری کے زخمی ہونے کی اطلاع سامنے آئی تھی۔ زخمی شہری نے ابتدائی بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ اسے سڑک پر ایک مشکوک شے ملی تھی اور جیسے ہی اس نے اسے اٹھا کر دیکھنے کی کوشش کی تو وہ پھٹ گئی۔تاہم سی ٹی ڈی کی تحقیقات اور دستیاب شواہد کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ واقعہ کسی پین بم یا مشتبہ دھماکا خیز مواد کا نہیں بلکہ پٹاخہ ہاتھ میں پھٹنے کا تھا۔

  • محرم الحرام ، امن وامان یقینی بنانے کیلئے علما ، انتظامیہ ،میڈیا اپنا کردار ادا کرے،قدرت اللہ

    محرم الحرام ، امن وامان یقینی بنانے کیلئے علما ، انتظامیہ ،میڈیا اپنا کردار ادا کرے،قدرت اللہ

    لاہور ( )قرآن پبلشرز ایسوسی ایشن کے صدر قدرت اللہ ، چئیرمین سید احسن محمود شاہ اور سرپرست اعلیٰ حفیظ البرکات شاہ نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ محرم الحرام میں امن وامان یقینی بنانے کیلئے علما ، انتظامیہ اور میڈیا اپنا کردار ادا کرے ۔محرم اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہی نہیں بلکہ یہ امام حسین علیہ السلام کی یاد کو تازہ کرنے کا مہینہ بھی ہے اس مہینے کی حرمت کا تقاضا ہے کہ ہم امام حسین اور ااہل بیت علیھم السلام کی محبتوں کو اپنے دلوں میں زندہ کریں اور پاکستان کو صحیح معنوں میں اسلامی فلاحی ریاست بنانے کا عہد کریں ۔ محرم کی حرمت کا ایک تقاضہ یہ بھی ہے کہ ہم اس مہینے کو مسنون طریقے کے مطابق گزاریں ۔ انھوں نے کہا ہے کہ اسلام امن ، محبت اور رواداری کا دین ہے۔ امن محبت اور روداری اسلام کاحسن ہے۔ اسلام امن ، محبت اور روداری کے ذریعے سے ہی دنیا میں پھیلا ہے ۔ دنیا امن کیلئے ترس رہی ہے جبکہ امن وامان صرف اسلام کی تعلیمات کے ذریعے سے ہی ممکن ہے ،لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ ہم خود سب سے پہلے حقیقی معنوں میں مسلمان بن جائیں۔انھوں نے کہا کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کا پیغام اور ہمارے نبی ﷺ کی تعلیمات بہت اعلیٰ، خوبصورت اور سراپا امن ہیں جبکہ کچھ شدت پسند اسلام کا چہرہ مسخ کررہے ہیں حالانکہ اسلام نے مسلمان کی عزت کو حرم کعبہ سے بھی زیادہ حرمت والا قرار دیا ہے اسی طرح ہمارے نبی ﷺ نے چار مہینوں کو بھی حرمت والا قراردیا ہے جن میں ایک مہینہ محرم کا ہے ۔ حرمت والے مہینے کا آغاز ہونے والا ہے لہذا ہمیں رسول مقبول ﷺ کے ان فرامین سے رہنمائی لینے کی ضرورت ہے جو انھوں نے محرم کی حرمت اور فضلیت کے بارے میں بیان فرمائے ہیں ۔ محرم کا اصل حق یہ ہے کہ ہم اپنے مسلمان بھائیوں کیلئے اپنے دل صاف کریں، دلوں سے کدورتیں ، نفرتیں ، دشمنیاں اور تعصب دور کریں ، اپنے کلمہ گو بھائیوں کیلئے ریشم کی طرح نرم وملائم بن جائیں اور محرم الحرام کے ان ایام کو محبت وپیار سے گزاریں اسلئے کہ اسلام سراپا خیر وبرکت ہے اور رحمت کا دین ہے ۔

  • 2026-27 کا بجٹ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں مختلف نوعیت کا ہے، مراد علی شاہ

    2026-27 کا بجٹ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں مختلف نوعیت کا ہے، مراد علی شاہ

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 164 کے تحت صوبائی حکومتیں وفاق کو گرانٹ فراہم کر سکتی ہیں، جس کے تحت چاروں صوبوں نے قومی دفاع اور قومی یکجہتی کے پیش نظر وفاق کو گرانٹ دینے پر اتفاق کیا –

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبائی وزرا ناصر حسین شاہ، مکیش کمار چاولہ اور جام خان شورو کے ہمراہ پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ مالی سال 2026-27 کا بجٹ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں مختلف نوعیت کا ہے، کیونکہ ملکی اور عالمی صورتحال کے باعث وفاقی حکومت نے صوبوں سے مشاورت کی ابتدا میں این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کے حصے میں کمی کی تجویز زیر غور آئی، تاہم صوبوں نے اپنے آئینی حقوق کا دفاع کیا بعد ازاں وفاق، چاروں صوبائی حکومتوں اور اتحادی سیاسی جماعتوں نے آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے مسئلے کا حل نکالا۔

    وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق آئین کے آرٹیکل 164 کے تحت صوبائی حکومتیں وفاق کو گرانٹ فراہم کر سکتی ہیں، جس کے تحت چاروں صوبوں نے قومی دفاع اور قومی یکجہتی کے پیش نظر وفاق کو گرانٹ دینے پر اتفاق کیا مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کر دیا گیا ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت مسلسل 18واں صوبائی بجٹ پیش کر رہی ہے، صوبے میں سرمایہ کاری، ترقیاتی منصوبے اور معاشی سرگرمیوں کا فروغ ہمیشہ حکومت کی ترجیحات میں شامل رہا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ ایف بی آر کی وصولیوں کا ہدف 15.264 ٹریلین روپے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ 13.35 ٹریلین روپے کی وصولیوں تک صوبوں کو ان کا مقررہ حصہ ملے گا اس سے زائد وصول ہونے والی رقم صوبوں کو منتقل کی جائے گی اور صوبے یہ رقم وفاق کو گرانٹ کی صورت میں فراہم کریں گے حکومت کو توقع ہے کہ ایف بی آر مقررہ ہدف حاصل کر لے گا، جبکہ نیشنل اسٹریٹجک انیشی ایٹو کے لیے درکار فنڈز کی فراہمی کے باعث وفاق ایف بی آر پر اہداف کے حصول کے لیے دباؤ برقرار رکھے گا۔

    مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ سندھ ریونیو بورڈ کی محصولات میں رواں سال 23 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے گزشتہ سال مختلف ترقیاتی اور فلاحی منصوبوں پر خطیر رقم خرچ کی گئی، جبکہ عوام کو ٹرانسپورٹ، ایندھن اور بجلی کے شعبوں میں ریلیف فراہم کیا گیاسندھ حکومت نے کسانوں کی بھی بھرپور معاونت کی اور صوبے میں گندم کی پیداوار 1.4 ملین ٹن تک پہنچ گئی۔

  • وراثت میں خواتین کا حق ریاست کا نہیں اللہ کا مقرر کردہ ہے،عدالت

    وراثت میں خواتین کا حق ریاست کا نہیں اللہ کا مقرر کردہ ہے،عدالت

    وفاقی آئینی عدالت نے اپنے ایک فیصلے میں کہا ہے کہ وراثت میں خواتین کا حق ریاست کا نہیں اللہ کا مقرر کردہ ہے

    وفاقی آئینی عدالت نے بی بی آمنہ کیس کی سماعت کی جس دوران عدالت نے بلوچستان ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔،عدالت نے اپنے فیصلے میں بی بی آمنہ کے والدین کی تمام جائیدادیں سول کورٹ میں پیش کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ سول کورٹ آئین اور قانون کے مطابق تمام جائیدادوں میں ورثا کے حصص کا تعین کرے، وفاقی آئینی عدالت نے خواتین کے وراثتی حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ کوئی علاقائی روایت یا خاندانی نظام خواتین سے وراثت کا حق نہیں چھین سکتا، خواتین کو وراثت سے محروم کرنا نہ صرف ملکی قانون بلکہ اللہ کے احکامات کے بھی خلاف ہے۔

    واضح رہے کہ درخواست گزار بی بی آمنہ نے بھائیوں کی جانب سے مکمل وراثتی حصہ نہ دیے جانے کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کے مؤثر رابطوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے، شازیہ مری

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کے مؤثر رابطوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے، شازیہ مری

    اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کی مرکزی ترجمان شازیہ مری نے ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے معاہدے کو خطے میں امن، استحکام اور سفارتی پیش رفت کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ہمیشہ سے مذاکرات، سفارتکاری اور پرامن بقائے باہمی کا حامی رہا ہے۔

    اپنے بیان میں شازیہ مری نے کہا کہ صدرِ پاکستان، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت نے قومی سلامتی اور سفارتی محاذ پر پاکستان کے مؤقف کو مؤثر انداز میں عالمی سطح پر اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے مؤثر رابطوں اور سفارتی کاوشوں کو بین الاقوامی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔شازیہ مری کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے قومی قیادت کے ساتھ مل کر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ جنگ کے بجائے امن، استحکام اور باہمی احترام کی پالیسی اپنائی ہے اور عالمی برادری کو بھی تنازعات کے حل کے لیے سفارتکاری اور مذاکرات کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی متوازن اور ذمہ دار خارجہ پالیسی کو دنیا بھر میں پذیرائی حاصل ہو رہی ہے، جبکہ بھارتی عصبیت، جنگی جنون اور ہٹ دھرمی جنوبی ایشیا کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو خطے میں کشیدگی بڑھانے کے بجائے امن اور مذاکرات کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔

    شازیہ مری نے مزید کہا کہ پاکستان نے ہر مشکل وقت میں ایک ذمہ دار ریاست ہونے کا عملی ثبوت دیا ہے اور امن ہی ترقی، خوشحالی اور علاقائی تعاون کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور سیاسی قیادت قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر یکجہت ہیں جبکہ قومی مفادات پر پوری قوم ایک صفحے پر کھڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی امن، اقتصادی تعاون اور مشترکہ ترقی کے وژن پر یقین رکھتا ہے اور سفارتکاری ہی پائیدار امن کا واحد راستہ ہے، جبکہ طاقت کا استعمال مسائل کا مستقل حل نہیں۔ شازیہ مری نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کی ہے۔انہوں نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھارتی جارحیت کے خلاف عالمی سطح پر متحرک سفارتکاری کے ذریعے پاکستان کے مؤقف کو مؤثر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کیا۔ شازیہ مری کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی خطے میں امن، جمہوریت اور عوامی خوشحالی کی سیاست پر یقین رکھتی ہے اور دنیا کو نفرت، انتہا پسندی اور جنگی بیانیے کے بجائے مفاہمت، تعاون اور باہمی احترام کو فروغ دینا ہوگا۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جنوبی ایشیا کے عوام امن، ترقی اور خوشحالی کے مستحق ہیں اور تمام تنازعات کا حل مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

  • ایران کو بیلسٹک میزائل رکھنے سے منع کرنا نا انصافی ہوگی،صدر ٹرمپ

    ایران کو بیلسٹک میزائل رکھنے سے منع کرنا نا انصافی ہوگی،صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو بیلسٹک میزائل رکھنے سے منع کرنا نا انصافی ہوگی۔

    صدرٹرمپ نے پیرس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ کہہ رہا ہوں کہ اگر خطے کے دیگر ممالک جیسے سعودی عرب اور قطر کے پاس بیلسٹک میزائل ہیں تو ایران کے پاس بھی یہ میزائل مناسب تعداد میں ہونے چاہئیں اگر سعودی عرب، قطر اور دیگر علاقائی ممالک کے پاس بیلسٹک میزائل موجود ہیں تو ”متناسب سطح پر“ ایران کے پاس بھی ایسی صلاحیت ہونا قابل قبول ہے امریکہ اپنی فوجی موجودگی خلیجی خطے میں فوری طور پر ختم نہیں کرے گا بلکہ امریکی افواج ”کچھ عرصے“ تک وہاں تعینات رہیں گی، انہوں نے واضح کیا کہ تہران کے ساتھ معاہدے کے باوجود خطے کی صورتحال اور سکیورٹی معاملات کے پیش نظر امریکی فوج کی موجودگی برقرار رکھی جائے گی۔

    دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران مثبت اور تعمیری رویہ اختیار کرتا ہے تو اسے تقریباً 300 ارب ڈالر کے منجمد فنڈز تک رسائی دی جا سکتی ہےجبکہ اسرائیلی قیادت ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر اطمینان کا اظہار کر رہی ہے اور مذاکرات کے نتائج سے خوش ہے-

    اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی عمل میں حتمی معاہدے کے لیے 60 روزہ مدت کوئی سخت یا حتمی ڈیڈ لائن نہیں ہے ، امر یکی فوج کچھ عرصے تک خلیج میں موجود رہے گی،تاکہ خطے کے امن و استحکام کو برقرار رکھا جا سکے، مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد اور مثبت طرز عمل ضروری ہے۔

    امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے اربوں ڈالر کے اثاثے اور فنڈز مختلف پابندیوں کے باعث منجمد ہیں،اور وقت آنے پر یہ واپس کریں گے، اگر تہران مثبت رویہ اپناتا ہے اور بین الاقوامی توقعات کے مطابق اقدا مات کرتا ہے تو ان فنڈز تک رسائی کے حوالے سے پیشرفت ہو سکتی ہے ایران اس بات پر آمادہ ہے کہ وہ نہ جوہری ہتھیار تیار کرے گا اور نہ ہی انہیں حاصل کرنے کی کو شش کرے گا جوہری پروگرام اور ذخائر سے متعلق تکنیکی سطح کے مذاکرات بھی جلد شروع ہونے کی توقع ہے اسرائیلی قیادت ایران کے ساتھ ممکنہ معاہد ے پر اطمینان کا اظہار کر رہی ہے اور مذاکرات کے نتائج سے خوش ہے۔

  • افغانستان میں انخلا کے دوران  چھوڑا گیا امریکی فوجی سازوسامان ہم واپس لے سکتے ہیں، ٹرمپ

    افغانستان میں انخلا کے دوران چھوڑا گیا امریکی فوجی سازوسامان ہم واپس لے سکتے ہیں، ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ افغانستان سے امریکی انخلا کے دوران چھوڑا گیا فوجی سازوسامان اب کچھ پرانا ہو چکا ہے، تاہم امریکا اسے واپس حاصل کرسکتا ہے۔

    فاکس نیوز اور دیگر ذرائع ابلاغ کے مطابق، جی 7 اجلاس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے افغانستان سے امریکی انخلا کو انتہائی افسوسناک قرار دیا صدر ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ اس تمام امریکی سازوسامان کی واپسی چاہتے ہیں، جس کی مالیت کا تخمینہ اربوں ڈالرز لگایا گیا ہے کہا کہ سابق امریکی انتظامیہ نے اربوں ڈالر مالیت کا فوجی سامان افغانستان میں چھوڑ دیا تھا –

    ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ انخلا کرتے تو اسے وقار اور منصوبہ بندی کے ساتھ انجام دیتے اور تمام فوجی سازوسامان واپس لے جاتے ان کی حکومت افغانستان سے انخلا کے دوران ایک ایک چیز واپس لانے کا ارادہ رکھتی تھی اور فوجی کیمپوں کے خیمے تک اتارنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی مستقبل میں افغانستان کو دی جا نے والی کسی بھی مالی امداد کو وہاں موجود امریکی فوجی سازوسامان کی واپسی سے مشروط کیا جا سکتا ہے، اگرچہ یہ سامان قدرے پرانا ہو چکا ہے، لیکن اس کی واپسی اب بھی علامتی اور عملی طور پر اہمیت رکھتی ہے-

    امریکی صدر کے حالیہ بیان کو پاکستان کے اس مؤقف کی تائید بھی قرار دیا جا رہا ہے جس میں اسلام آباد بارہا کہہ چکا ہے کہ 2021 میں امریکی انخلا کے بعد افغانستان میں رہ جانے والے جدید ہتھیار دہشتگرد تنظیموں، خصوصاً تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، کے ہاتھ لگے اور پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں استعمال ہوئے ،پاکستانی دفتر خارجہ اس سے قبل بھی واضح کر چکا ہے کہ افغانستان میں موجود جدید امریکی اسلحہ اور فوجی سازوسامان پاکستان اور اس کے شہریوں کی سلامتی کے لیے ایک سنجیدہ تشویش کا باعث ہے۔