Baaghi TV

Blog

  • صدر  ٹرمپ نے  فرانسیسی صدر کی موجودگی میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے

    صدر ٹرمپ نے فرانسیسی صدر کی موجودگی میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے

    فرانس کے محلِ ورسائی میں عشائیے کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی موجودگی میں ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کردیے۔

    وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے صدر ٹرمپ کو میز پر مفاہمتی یادداشت کے دستاویز پیش کیے اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا خاتمہ اور مستقل امن کی جا نب پیش رفت ہے،معاہدے میں جنگی کارروائیوں کے خاتمے، آبنائے ہرمز کو عارضی طور پر بحری آمدورفت کے لیے کھولنے، ایران کے جوہری پروگرا م پر مذاکرات اور 60 روز کے اندر ایک حتمی معاہدے تک پہنچنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔

    تقریب کے دوران صدر میکرون نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے امن کے قیام کی جانب اہم قدم قرار دیاامریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ مفاہمتی یادداشت ابتدائی فریم ورک ہے اور آئندہ 60 دنوں میں تفصیلی مذاکرات کے ذریعے ایک حتمی اور ممکنہ طور پر اقوام متحدہ کی توثیق یافتہ معاہدے کی کوشش کی جائے گی۔

    دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اعلان کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے متن پر باضابطہ دستخط ہو چکے ہیں اور معاہد ے پر عملدرآمد کے طریقہ کار کو حتمی شکل دینے کے لیے فوری مذاکرات شروع کیے جائیں گےمعاہدے کے تحت آئندہ 60 روز کے دوران دوسرا فریق خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ نہیں کرے گا اور نہ ہی ایران پر نئی پابندیاں عائد کرے گا ایران پر عائد تیل کی پابندیاں ختم ہونی چاہئیں اور ایران کو فوری طور پر تیل کی فروخت شروع کرنے کے قابل ہونا چاہیے جبکہ یہ صورتِ حال کم از کم 60 دن تک برقرار رہنی چاہیے۔

  • ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کو ٹاور لگانے سے روکنے پر 5 کروڑ روپے جرمانہ، قومی اسمبلی سے بل منظور

    ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کو ٹاور لگانے سے روکنے پر 5 کروڑ روپے جرمانہ، قومی اسمبلی سے بل منظور

    اسلام آباد: لائسنس یافتہ موبائل فون اور ٹیلی کمیونی کیشن کمپنیاں جہاں چاہے آپٹیکل فائبر بچھاسکیں گی۔

    قومی اسمبلی نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن تنظیم نو ترمیمی بل منظور سینیٹ میں پیش کرلیا ہے جس کے بعد یہ بل سینیٹ میں پیش کیا جائے گا،نجی جائیداد کے مالکان اور سرکاری ادارے ٹیلی کمیونیکیشن انفرا اسٹرکچر کے لیے جگہ دینے کے پابند ہوں گے،

    بل میں تجویز کیا گیا ہے کہ موبائل فون یا ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کو آپٹیکل فائبر بچھانے یا ٹاور نصب کرنے کے لیے جگہ فراہم نہ کرنے والے نجی گھر کے مالک، کرائے دار یا عوامی و نجی ادارے پر 5 کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا،بل کے تحت ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورک کی توسیع اور جدید مواصلاتی سہولیات کی فراہمی کے لیے کمپنیوں کو انفرااسٹرکچر قائم کرنے میں آسانی فراہم کی جائے گی۔

  • ٹرمپ اور نیتن یاہو  کے درمیان  فون کالز پہلے کے مقابلے میں زیادہ تلخ اور کشیدہ ہو گئی،امریکی میڈیا

    ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان فون کالز پہلے کے مقابلے میں زیادہ تلخ اور کشیدہ ہو گئی،امریکی میڈیا

    امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان حالیہ مہینوں میں ہونے والی فون کالز پہلے کے مقابلے میں زیادہ تلخ اور کشیدہ ہو گئی ہیں۔

    امریکی اخبار کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایک حالیہ گفتگو کے دوران نیتن یاہو پر زور دیا کہ وہ لبنان میں عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والی فضائی کارروائیاں کم کریں اور بمباری کا سلسلہ روکنے پر غور کریں،امریکی صدر نے اپنے قریبی مشیروں کے سامنے بھی اسرائیلی وزیر اعظم کے رویے پر ناراضی کا اظہار کیا۔

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو ہر مسئلے کا حل فوجی کارروائی اور بمباری میں تلاش کرتے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے رپورٹ میں ایک سینئر امریکی عہدیدار کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ اسرائیلی قیادت کی جانب سے مسلسل نئی فوجی کارروائیوں کے مطالبات سے تنگ آ چکے ہیں اور وہ خطے میں کشیدگی کے بجائے سیاسی اور سفارتی حل کو ترجیح دینا چاہتے ہیں۔

    وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ایک اور فون کال کے دوران ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ اور اس کے معاشی اثرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر جنگ کے باعث امریکی معیشت کو نقصان پہنچا تو ان کا موازنہ سابق امریکی صدر ہربرٹ ہوور سے کیا جا سکتا ہے، جنہیں 1930 کی دہائی کے عظیم معاشی بحران کے دوران شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے سخت لہجے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تم میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں، جس سے دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتی ہوئی ناراضی کی جھلک ملتی ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو یہ اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے درمیان بعض اہم علاقائی معاملات پر اختلافات بڑھ رہے ہیں، خاص طور پر ایران، لبنان اور مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال کے حوالے سے اختلاف واضح ہیں۔

  • ایران مثبت رویہ اختیارکرے گا تو 300 ارب ڈالر کے فنڈ تک رسائی حاصل کرسکتا ہے، ٹرمپ

    ایران مثبت رویہ اختیارکرے گا تو 300 ارب ڈالر کے فنڈ تک رسائی حاصل کرسکتا ہے، ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران مثبت اور تعمیری رویہ اختیار کرتا ہے تو اسے تقریباً 300 ارب ڈالر کے منجمد فنڈز تک رسائی دی جا سکتی ہےجبکہ اسرائیلی قیادت ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر اطمینان کا اظہار کر رہی ہے اور مذاکرات کے نتائج سے خوش ہے-

    اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی عمل میں حتمی معاہدے کے لیے 60 روزہ مدت کوئی سخت یا حتمی ڈیڈ لائن نہیں ہے ، امر یکی فوج کچھ عرصے تک خلیج میں موجود رہے گی،تاکہ خطے کے امن و استحکام کو برقرار رکھا جا سکے، مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد اور مثبت طرز عمل ضروری ہے۔

    امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے اربوں ڈالر کے اثاثے اور فنڈز مختلف پابندیوں کے باعث منجمد ہیں،اور وقت آنے پر یہ واپس کریں گے، اگر تہران مثبت رویہ اپناتا ہے اور بین الاقوامی توقعات کے مطابق اقدا مات کرتا ہے تو ان فنڈز تک رسائی کے حوالے سے پیش رفت ہو سکتی ہے ایران اس بات پر آمادہ ہے کہ وہ نہ جوہری ہتھیار تیار کرے گا اور نہ ہی انہیں حاصل کرنے کی کو شش کرے گا جوہری پروگرام اور ذخائر سے متعلق تکنیکی سطح کے مذاکرات بھی جلد شروع ہونے کی توقع ہے اسرائیلی قیادت ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر اطمینان کا اظہار کر رہی ہے اور مذاکرات کے نتائج سے خوش ہے۔

    صدر ٹرمپ نے پاکستان اور قطر کے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ دونوں ممالک نے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے اور فریقین کے درمیان رابطے قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے پاکستان اور قطر نے سفارتی کوششوں کے ذریعے مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں مدد فراہم کی۔

  • سپریم کورٹ ملازمین کے یوٹیلیٹی الاؤنس میں 100 فیصد اضافہ،چیف جسٹس نے منظوری دیدی

    سپریم کورٹ ملازمین کے یوٹیلیٹی الاؤنس میں 100 فیصد اضافہ،چیف جسٹس نے منظوری دیدی

    سپریم کورٹ ملازمین کے یوٹیلیٹی الاؤنس میں 100 فیصد اضافہ کر دیا گیا جس کی چیف جسٹس آف پاکستان نے یوٹیلیٹی الاؤنس منظوری دے دی،یوٹیلیٹی الاؤنس میں اضافے کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔

    تفصیلات کے مطابق گریڈ 1 سے 6 تک کا الاؤنس 6 ہزار سے بڑھا کر 12 ہزار روپے اور گریڈ 7 سے 10 تک کا الاؤنس 8 ہزار سے بڑھا کر 16 ہزار روپے مقرر کر دیا گیا،گریڈ 11 سے 15 تک کے ملازمین کا الاؤنس 10 ہزار سے بڑھ کر 20 ہزار روپے، گریڈ 16 کے افسران کا الاؤنس 12 ہزار سے بڑھا کر 24 ہزار روپے اور گریڈ 17 کے افسران کا یوٹیلیٹی الاؤنس 15 ہزار سے بڑھا کر 30 ہزار روپے مقرر کر دیا گیا۔

    گریڈ 18 کے افسران کا الاؤنس 18 ہزار سے بڑھ کر 36 ہزار روپے اور گریڈ 19 کے افسران کا الاؤنس 21 ہزار سے بڑھا کر 42 ہزار روپے کر دیا گیا گریڈ 20 کے افسران کا یوٹیلیٹی الاؤنس 24 ہزار سے بڑھا کر 48 ہزار روپے جبکہ گریڈ 21 اور اس سے اوپر کے افسران کا الاؤنس 30 ہزار سے بڑھا کر 60 ہزار روپے کر دیا گیا یوٹیلیٹی الاؤنس میں گیس اور بجلی کے اخراجات شامل ہیں، اضافی اخراجات مالیاتی سال 2027-2026 کے منظور شدہ بجٹ سے پورے کیے جائیں گے۔

  • شدید گرمی میں لوڈ شیڈنگ نے لوگوں کی زندگیاں اجیرن بنا دیں،نوٹس کی اپیل

    شدید گرمی میں لوڈ شیڈنگ نے لوگوں کی زندگیاں اجیرن بنا دیں،نوٹس کی اپیل

    قصور
    شدید گرمی اور لوڈ شیڈنگ نے قصور کے دیہی علاقوں میں عوام کی زندگی اجیرن بنا دی

    قصور میں شدید گرمی کی حالیہ لہر اور طویل دورانیے کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نے ضلع قصور کے بیشتر علاقوں، خصوصاً دیہی علاقوں کے مکینوں کی زندگی کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کے باوجود کئی کئی گھنٹے بجلی کی بندش معمول بن چکی ہے، جس کے باعث گھروں، کاروبار اور زرعی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

    متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں کے مطابق بجلی کی غیر اعلانیہ بندش کے باعث پنکھے اور ٹیوب ویل بند رہنے سے نہ صرف پینے کے پانی کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے بلکہ بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو شدید پریشانی کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ دیہی علاقوں میں رات کے اوقات میں بھی بجلی کی طویل بندش سے شہریوں کی نیندیں حرام ہو گئی ہیں۔

    مقامی افراد کا کہنا ہے کہ شدید حبس اور گرمی میں بار بار بجلی کی بندش ناقابل برداشت ہو چکی ہے جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ کسانوں نے شکایت کی ہے کہ بجلی نہ ہونے کے باعث زرعی ٹیوب ویل اور دیگر آلات کی بندش سے فصلوں کو پانی کی فراہمی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

    شہریوں نے متعلقہ حکام اور بجلی تقسیم کار کمپنی سے مطالبہ کیا ہے کہ غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا فوری نوٹس لیا جائے اور شدید گرمی کے پیش نظر بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو مذید مشکلات سے بچایا جا سکے

  • ایران کی عسکری کامیابیوں کو عالمی سطح پر دوست اور مخالف دونوں تسلیم کر چکے ہیں،قالیباف

    ایران کی عسکری کامیابیوں کو عالمی سطح پر دوست اور مخالف دونوں تسلیم کر چکے ہیں،قالیباف

    ایران کے پارلیمانی اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران کی عسکری کامیابیوں کو عالمی سطح پر دوست اور مخالف دونوں تسلیم کر چکے ہیں، اور یہی کامیابیاں موجودہ سفارتی عمل کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کر رہی ہیں۔

    ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات ایک مضبوط اور بااعتماد پوزیشن سے کر رہا ہے اور حالیہ عسکری کامیابیوں نے تہران کے مؤقف کو مزید مضبوط بنایا ہےموجودہ مذاکرات اور ماضی کے ادوار میں ہونے والی بات چیت کے درمیان بنیادی فرق یہ ہے کہ آج ایران میدانِ جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کی پشت پناہی کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ایران کی عسکری کامیابیوں کو عالمی سطح پر دوست اور مخالف دونوں تسلیم کر چکے ہیں، اور یہی کامیابیاں موجودہ سفارتی عمل کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کر رہی ہیں کسی بھی جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابی اس وقت تک مکمل فائدہ نہیں دیتی جب تک اسے قانونی اور سیاسی معاہدوں کی شکل میں محفوظ نہ کیا جائے۔

    انہوں نے زور دیا کہ ایران کی حالیہ کامیابیوں کو ایسے سیاسی اور قانونی نتائج میں تبدیل کرنا ضروری ہے جو ملک کے طویل المدتی مفادات کا تحفظ کر سکیں اگر جنگ میں حاصل ہونے والی فتوحات کو باضابطہ دستاویزات اور معاہدوں میں شامل نہ کیا جائے تو وقت گزرنے کے ساتھ ان کامیابیوں کے فوائد ضائع ہو سکتے ہیں ایران کی قیادت اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ موجودہ کامیابیاں ملک کے سیاسی، سفارتی اور قومی مفادات کے لیے دیرپا ثمرات پیدا کریں۔

  • ملک کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

    ملک کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کر دی،اسلام آباد اور راولپنڈی میں آج مزید بارش کا امکان ہے آج رات خیبر پختونخوا، کشمیر،جنوبی پنجاب،بالائی سندھ اور شمال مشرقی بلوچستان میں بھی تیز ہواؤں اورگرج چمک کے ساتھ بارش اور ژالہ باری کی توقع ہے۔

    محکمہ موسمیات نے خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں آج گرم اور مرطوب موسم کے ساتھ بارشوں کی پیشگوئی کی ہے پشاور میں آج موسم گرم رہے گا جبکہ مطلع ابر آلود رہنے کا امکا ن ہے پشاور، مردان، صوابی، نوشہرہ اور چارسدہ میں تیز بارش متوقع ہے جس سے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے جبکہ پی ڈی ایم اے نے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور خراب موسم کے باعث احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے –

    محکمہ موسمیات کے مطابق سوات، چترال، کوہستان، مالاکنڈ اور باجوڑ میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے جبکہ شانگلہ، بٹگرام، بونیر، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور اور کرم کے مختلف مقامات پر بھی بارش متوقع ہےپی ڈی ایم اے کے مطابق چترال، دیر، سوات، شانگلہ اور کوہستان کے حساس علاقوں میں بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود ہے ادارے نے مقامی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے شہریوں سے غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی اپیل کی ہے۔

    پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ تیز ہوائیں، ژالہ باری اور آسمانی بجلی فصلوں، بجلی کی تنصیبات اور کمزور تعمیرات کو نقصان پہنچا سکتی ہیں کسانوں اور شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور موسمی صورتحال سے متعلق سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

    دوسری جانب بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں موسم خشک اور گرم رہنے کی توقع ہے محکمہ موسمیات کے مطابق صوبے کے شمال مشرقی اضلاع میں مطلع جزوی طور پر ابر آلود رہے گا ژوب، شیرانی، زیارت، کوہلو، نصیر آباد، قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ، ہرنائی، سبی، بارکھان، خضدار اور ڈیرہ بگٹی میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہےشہری خراب موسم کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں، ندی نالوں اور پہاڑی علاقوں میں غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مقامی انتظامیہ سے رابطہ کریں۔

  • امریکا اور ایران کے مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط کر دیے، آج سےمعاہدہ نافذ العمل ہوگیا

    امریکا اور ایران کے مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط کر دیے، آج سےمعاہدہ نافذ العمل ہوگیا

    امریکا اور ایران کے صدور نے جنگ ختم کرنے کیلئے مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط کر دیے، جس کے بعد معاہدہ نافذ العمل ہو گیا ہے۔

    اس بارے میں وائٹ ہاؤس اور ایران نے تصدیق کر دی ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے ہیں،امریکی ویب سائٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے صدور نے مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط کیے ہیں، معاہدے پر دستخط پہلے جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں ہونا تھے تاہم ایک ثالث ملک کے سفارتکار اور ایک دوسرے ذریعے نے گزشتہ روز بتایا کہ فریقین کے درمیان اس عمل کو پہلے مکمل کرنے اور جلد عملدرآمد شروع کرنے پر بات چیت جاری تھی۔

    سفارتی ذریعے کے مطابق اس پیشرفت کا مقصد آبنائے ہرمز کو جلد از جلد کھولنا تھا کیونکہ دونوں فریق اس معاملے پر پہلے ہی متفق تھے، اس عمل میں ایک وجہ وائٹ ہاؤس پر معاہدے کے متن کو جاری کرنے کیلئے بڑھتا ہوا سیاسی دباؤ بھی ہو سکتا ہے۔

    دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اعلان کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے متن پر باضابطہ دستخط ہو چکے ہیں اور معاہدے پر عملدرآمد کے طریقہ کار کو حتمی شکل دینے کے لیے فوری مذاکرات شروع کیے جائیں گے ایران کی دفاعی صلاحیتوں اور میزائل پروگرام پر کسی بھی فریق کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوں گے،ایران کے میزائل صرف فائر کرنے کے لیے ہیں، مذاکرات کے لیے نہیں۔

    ترجمان نے واضح کیا کہ ایرانی جوہری مواد ملک سے باہر نہیں بھیجا جائے گا، تاہم افزودہ یورینیم کو کم افزودہ کرنے کا آپشن موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فارسی اور انگریزی زبان میں موجود دستاویزات ایک دوسرے سے مطابقت رکھتی ہیں اور دوسرے فریق نے بھی اس یادداشت پر دستخط کیے ہیں معاہدے کے تحت آئندہ 60 روز کے دوران دوسرا فریق خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ نہیں کرے گا اور نہ ہی ایران پر نئی پابندیاں عائد کرے گا۔ بقائی نے زور دیا کہ ایران پر عائد تیل کی پابندیاں ختم ہونی چاہئیں اور ایران کو فوری طور پر تیل کی فروخت شروع کرنے کے قابل ہونا چاہیے، جبکہ یہ صورتِ حال کم از کم 60 دن تک برقرار رہنی چاہیے۔

    اسماعیل بقائی کے مطابق امریکا ایران کے منجمد فنڈز تک رسائی میں حائل تمام رکاوٹیں ختم کرنے کا پابند ہوگا، آبنائے ہرمز کا معاملہ ایران اور عمان کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جبکہ اسرائیل کی جانب سے لبنان پر کسی بھی حملے کو معاہدے کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا 60 روزہ مدت کا آغاز آج سے ہو رہا ہے۔

    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ پر الیکٹرانک دستخط ہو چکے ہیں، جس کے ذریعے دونوں ممالک نے جاری تنازع کے سفارتی حل پر اتفاق کیا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انہوں نے اس معاہدے کی ثالث کے طور پر توثیق کی ہےدونوں فریق تنازع کے پرامن اور سفارتی حل کے لیے پُرعزم ہیں جبکہ معاہدہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا ابتدائی اقدامات کے تحت ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے گا جبکہ امریکا ایران پر عائد بحری ناکہ بندی ختم کر دے گا،یہ پیش رفت خطے میں امن، استحکام اور کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

    شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے سفارتی عزم اور مذاکراتی عمل پر اعتماد نے ایک ایسے تنازع کے خاتمے میں مدد دی جو خطے اور دنیا کے لیے تباہ کن نتائج کا سبب بن سکتا تھا،انہوں نے امریکی مذاکراتی ٹیم کی خدمات کو بھی سراہا اور کہا کہ ان کی مسلسل کاوشوں نے معاہدے کو ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

    وزیراعظم نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی دوراندیشی اور امن کے لیے عزم کو بھی خراج تحسین پیش کیا، انہوں نے کہا کہ ایرانی مذاکراتی ٹیم کے صبر، ثابت قدمی اور تعمیری مذاکراتی انداز نے اس معاہدے کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا بیان میں قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کی قیادت کے کردار کو بھی سراہا گیا، ان ممالک کی سفارتی معاونت اور تعمیری تعاون مذاکراتی عمل کی کامیابی کے لیے نہایت اہم ثابت ہوا۔

    شہباز شریف نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی انتھک کوششیں، غیر معمولی لگن اور علاقائی امن و استحکام کے لیے خدمات اس پیش رفت میں فیصلہ کن ثابت ہوئیں وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ پورے خطے میں امن، باہمی اعتماد، اقتصادی تعاون اور مشترکہ خوشحالی کے ایک نئے دور کی بنیاد رکھے گی انہوں نے دعا کی کہ یہ معاہدہ مستقبل میں مستقل استحکام اور علاقائی ترقی کا ذریعہ ثابت ہو۔

    ایرانی صدر نےدستخط شدہ معاہدے کی کاپی میڈیا کے ساتھ شیئر کر دی

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے امریکا کے ساتھ ہونے والے جنگ بندی معاہدے کی کاپی میڈیا کے ساتھ شیئر کر دی جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بھی دستخط موجود ہیں یہ پہلا موقع ہے کہ بین الاقوامی سطح پر دو ملکوں کے درمیان ہونے والا معاہدہ الیکٹرانک دستخط کے ذریعے ہوا ہے۔

    واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدے کی تقریب جعمہ کو سوئزرلینڈ میں طے ہے جس میں امریکی، ایرانی وفود سمیت ثالثی کا اہم کردار ادا کرنے والے پاکستان سمیت سعودی عرب، قطر، ترکیہ اور مصر کے قائدین بھی شریک ہوں گے، معاہدے پر ایرانی اور امریکی دونوں صدور کی دستخط کے بعد سوئزرلینڈ میں ہونے والی طے شدہ ملاقات کے حوالے سے فیصلہ چند گھنٹوں میں متوقع ہے۔

  • پہاڑی علاقوں میں سفری حادثات کی وجوہات،تحریر: بینا علی

    پہاڑی علاقوں میں سفری حادثات کی وجوہات،تحریر: بینا علی

    پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے قدرتی حسن سے مالا مال کیا ہے۔ یہاں کے دلفریب پہاڑی علاقے سیاحوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیتے ہیں۔ لیکن آئے دن ان جگہوں پر حادثات دل گرفتہ کر دیتے ہیں۔ اس کے بہت سے اسباب ہو سکتے ہیں۔ گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹ نہ ہونا، ڈرائیور کا پرخطر راستوں سے ناواقف ہونا، سڑکوں کے کنارے حفاظتی بیرئیر نہ ہونا، اوور لوڈنگ اور بے احتیاطی ان حادثات کی بڑی وجوہات ہیں۔

    ان بنیادی اسباب کے علاوہ بھی کئی ایسے عوامل ہیں جو پہاڑی سفر کو جان لیوا بنا دیتے ہیں۔ اگر ہم ان کا بغور جائزہ لیں تو اندازہ ہو گا کہ یہ حادثات محض اتفاق نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی غفلت کا نتیجہ ہیں۔ پہاڑی راستے عام شاہراہوں سے مختلف ہوتے ہیں۔ یہاں مسلسل چڑھائی اور اترائی کی وجہ سے انجن، بریک، گیئر اور ریڈی ایٹر پر شدید دباؤ پڑتا ہے۔ بدقسمتی سے سیاحتی مقامات پر چلنے والی اکثر بسیں، کوسٹرز اور جیپیں تکنیکی طور پر ناکارہ ہوتی ہیں۔ ان کے پاس فٹنس سرٹیفکیٹ نہیں ہوتا۔ پرانے ٹائر پھٹ جاتے ہیں بریک فیل ہو جاتے ہیں اور گاڑی بے قابو ہو کر کھائی میں جا گرتی ہے۔

    پہاڑی علاقوں میں ڈرائیونگ ایک الگ مہارت ہے۔ میدانی علاقے کا کامیاب ڈرائیور پہاڑوں پر ناکام ہو سکتا ہے۔ بہت سے ڈرائیوروں کو علم ہی نہیں ہوتا ۔ تنگ، بل کھاتے اور اندھے موڑ کاٹنے کا طریقہ، رات کے وقت ڈرائیونگ اور اچانک لینڈ سلائیڈنگ کی صورت میں ردعمل دینے کی تربیت نہ ہونے سے حادثات جنم لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ نیند پوری نہ ہونا، تھکاوٹ اور دورانِ ڈرائیونگ موبائل فون کا استعمال بھی قاتل ثابت ہوتا ہے۔

    پاکستان کے اکثر پہاڑی علاقوں کی سڑکیں تنگ، کچی اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ بارش کے بعد ان پر لینڈ سلائیڈنگ سے بڑے بڑے پتھر اور ملبہ آ جاتا ہے۔ سب سے بڑا نقص یہ ہے کہ ہزاروں فٹ گہری کھائیوں کے ساتھ مضبوط حفاظتی دیواریں یا کرش بیرئیر موجود نہیں ہیں۔ کئی جگہوں پر تو صرف خانہ پری کے لیے اینٹیں جوڑ دی گئی ہیں۔ ذرا سا ٹائر سلپ ہوا، اور گاڑی سیدھی کھائی میں۔ خطرناک موڑوں پر آئینے، رفتار کم کرنے کے سائن بورڈ اور رات کے لیے ریفلیکٹرز کی بھی شدید کمی ہے۔ حال ہی میں اوور لوڈنگ کی وجہ سے پہاڑی علاقے میں حادثے میں سات نوجوانوں کے جنازے اٹھے جس نے ماحول کو بہت سوگوار بنا دیا۔زیادہ منافع کی ہوس میں ٹرانسپورٹرز گاڑیوں میں مقررہ حد سے زیادہ مسافر بٹھاتے ہیں۔ چھتوں پر سامان کے انبار لگا دیے جاتے ہیں۔ اس اضافی وزن سے گاڑی کا توازن بگڑ جاتا یے اور اترائی پر بریک گاڑی کو روک نہیں پاتے۔ دوسری طرف کچھ نوجوان سیاح تیز رفتاری، ون ویلنگ اور خطرناک انداز میں اوور ٹیکنگ کرتے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ پہاڑی سڑکیں معافی نہیں دیتیں۔ پہاڑوں کا موسم لمحوں میں بدلتا ہے۔ صاف آسمان پر اچانک کالے بادل چھا جاتے ہیں۔ شدید دھند کی وجہ سے دس فٹ دور کی چیز بھی نظر نہیں آتی۔ موسلادھار بارش سے سڑک پر پھسلن اور کیچڑ ہو جاتا ہے۔ برفباری میں بغیر سنو چین کے گاڑی چلانا ناممکن ہے۔ اچانک پہاڑ سے گرنے والے پتھر بھی چلتی گاڑیوں کو کچل دیتے ہیں۔ فوگ لائٹس، اور ہیٹر کے بغیر ان حالات میں سفر کرنا موت کو دعوت دینا ہے۔ پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے چیکنگ کا نظام نہایت کمزور ہے۔ بغیر لائسنس، جعلی لائسنس اور کم عمر ڈرائیور دھڑلے سے گاڑیاں چلاتے ہیں۔ سیاحتی سیزن میں فٹنس سرٹیفکیٹ چیک کیے بغیر گاڑیوں کو جانے دیا جاتا ہے۔ اوور لوڈنگ پر جرمانے برائے نام ہیں۔ عوام بھی خود شعور کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ وہ سستی کے چکر میں کھٹارا گاڑیوں میں بیٹھ جاتے ہیں اور سیٹ بیلٹ باندھنے کو غیر ضروری سمجھتے ہیں۔

    مختصر یہ کہ پہاڑی علاقوں کے حادثات کے پیچھے انسانی غلطی، مشینی خرابی اور انتظامی کوتاہی کا گٹھ جوڑ ہے۔ جب تک گاڑی، ڈرائیور، سڑک اور قانون، ان چاروں ستونوں کو مضبوط نہیں کیا جائے گا، تب تک یہ خوبصورت وادیاں ہمارے لیے نوحہ بنی رہیں گی۔