Baaghi TV

Blog

  • ایران میں فوجی تنصیب پر مبینہ حملے کے الزام میں ایک اور شخص کو پھانسی

    ایران میں فوجی تنصیب پر مبینہ حملے کے الزام میں ایک اور شخص کو پھانسی

    ایران میں فوجی تنصیب پر مبینہ حملے کے الزام میں ایک اور شخص کو پھانسی دے دی گئی ہے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے اسلامک اسٹوڈنٹس نیوز ایجنسی کے مطابق عدلیہ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ علی فہیم نامی شخص کو اس وقت پھانسی دی گئی جب سپریم کورٹ نے اس کی سزائے موت کو برقرار رکھا۔

    دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں بشمول ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ان پھانسیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں غیر انسانی قرار دیا کہا کہ کئی ملزمان کے اعترافی بیانات مبینہ طور پر تشدد کے ذریعے حاصل کیے گئے۔

    امریکا و اسرائیل کے ایران پر حملے:تہران یونیورسٹی سمیت اہم تنصیبات تباہ

    دریں اثنا ایران نے ہفتے کے روز دو افراد کو پھانسی دی تھی جن کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ وہ حزبِ اختلاف کے گروپ پیپلز مجاہدین آرگنائزیشن آف ایران (پی ایم او آئی) سے روابط اور مسلح حملے کرنے کے مرتکب تھے ٕٕٕگروپ کا کہنا تھا کہ ہفتے کے روز پھانسی پانے والے دونوں افراد جنوری 2024 میں گرفتار ہوئے تھے اور دسمبر 2025 میں ان کی سزائے موت برقرار رکھی گئی تھی۔

    دمشق میں اماراتی سفارت خانے پر حملہ،شامی وزارت داخلہ کی شدید الفاظ میں مذمت

    واضح رہے کہ جنوری میں شروع ہونے والی بدامنی ابتدا میں معاشی مشکلات کے خلاف احتجاج کے طور پر سامنے آئی تھی، تاہم بعد ازاں یہ ایک ملک گیر تحریک میں تبدیل ہو گئی جس میں حکومت کے خاتمے کے مطالبات بھی شامل تھے،حکام کی جانب سے ان مظاہروں کے خلاف سخت کارروائی کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں 1979 کے انقلاب کے بعد ملک میں سب سے زیادہ پرتشدد جھڑپیں دیکھنے میں آئیں اور ہزاروں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

  • پاکستانی سیاست میں پھر پس پردہ "جوڑتوڑ”.تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستانی سیاست میں پھر پس پردہ "جوڑتوڑ”.تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کی موجودہ سیاست ایک بار پھر “پسِ پردہ جوڑ توڑ” کے مرحلے میں داخل ہوتی نظر آتی ہے، جہاں حتمی فیصلوں سے زیادہ افواہیں اور ابتدائی رابطے گردش کر رہے ہیں۔

    اس وقت چوہدری پرویز الہٰی کے حوالے سے جو خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ وہ پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں اور ممکنہ طور پر گورنر بنائے جا سکتے ہیں ابھی تک کسی مستند ذریعے سے تصدیق شدہ نہیں ہیں۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ چوہدری پرویز الہٰی ہمیشہ ایک لچکدار اور موقع کے مطابق فیصلے کرنے والے سیاستدان رہے ہیں، اس لیے ان کے بارے میں ایسی قیاس آرائیاں نئی بات نہیں۔ تاہم، موجودہ حالات میں ان خبروں کو زیادہ تر سیاسی فضا کا حصہ اور ممکنہ مستقبل کی صف بندیوں کا اشارہ سمجھنا زیادہ مناسب ہے، نہ کہ کوئی حتمی پیش رفت۔

    اگر فرض کیا جائے کہ یہ خبریں درست ثابت ہو جاتی ہیں اور وہ واقعی پیپلز پارٹی میں شامل ہو جاتے ہیں، تو اس کا سب سے بڑا اثر پنجاب کی سیاست پر پڑ سکتا ہے۔ گجرات اور وسطی پنجاب میں ان کا اثر و رسوخ اب بھی موجود ہے، اور پیپلز پارٹی کو ایک ایسا چہرہ مل سکتا ہے جو اسے پنجاب میں دوبارہ جگہ بنانے میں مدد دے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ رجحان ایک بار پھر اس بات کو مضبوط کرے گا کہ پاکستان کی سیاست میں نظریات سے زیادہ “الیکٹیبلز” یعنی جیتنے والے امیدوار اہم ہوتے ہیں۔

    جہاں تک پاکستان مسلم لیگ (ن) کا تعلق ہے، تو فی الحال اس کی پوزیشن خاصی مستحکم ہے، خصوصاً پنجاب میں جہاں مریم نواز شریف وزیراعلیٰ کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ ان کے پاس نہ صرف حکومتی اختیارات ہیں بلکہ انتظامی مشینری اور ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے اپنی سیاسی بنیاد مضبوط کرنے کا موقع بھی موجود ہے۔ اس لیے صرف ایک یا دو بڑی سیاسی شخصیات کی ممکنہ وفاداری کی تبدیلی سے فوری طور پر (ن) لیگ کی حکومت کو کوئی بڑا خطرہ لاحق نہیں ہوتا۔ البتہ اگر بڑے پیمانے پر الیکٹیبلز کا رخ بدلتا ہے تو آئندہ انتخابات میں اس کے اثرات ضرور ظاہر ہو سکتے ہیں۔

    مریم نواز شریف کے مستقبل کو اگر دیکھا جائے تو وہ اس وقت اپنے سیاسی کیریئر کے ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے انہیں پہلی بار براہِ راست گورننس کا تجربہ مل رہا ہے، جو ان کے لیے ایک موقع بھی ہے اور امتحان بھی۔ اگر وہ عوامی مسائل، خصوصاً مہنگائی اور گورننس کے معاملات میں بہتر کارکردگی دکھانے میں کامیاب رہتی ہیں تو ان کی سیاسی پوزیشن نہ صرف پنجاب بلکہ قومی سطح پر بھی مضبوط ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر کارکردگی توقعات پر پوری نہ اتری تو سیاسی مخالفین کے لیے انہیں تنقید کا نشانہ بنانا آسان ہو جائے گا۔

    مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اس وقت پاکستان کی سیاست کسی بڑے فوری بدلاؤ کے بجائے ایک تدریجی صف بندی کے مرحلے میں ہے۔ پرویز الہٰی سے متعلق خبریں ابھی قیاس آرائی کے دائرے میں ہیں، اور جب تک کوئی واضح اور باضابطہ اعلان سامنے نہیں آتا، انہیں حتمی حقیقت نہیں سمجھنا چاہیے۔ تاہم یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ آنے والے مہینوں میں سیاسی اتحادوں، وفاداریوں اور طاقت کے توازن میں تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں، جو بالآخر آئندہ انتخابات کی سمت کا تعین کریں گی۔

  • اسلام آباد معاہدہ ، ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ختم کرنے کی کوششیں تیز

    اسلام آباد معاہدہ ، ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ختم کرنے کی کوششیں تیز

    عالمی خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے، جسے "اسلام آباد معاہدہ” کا نام دیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق اس مجوزہ معاہدے میں دو مرحلوں پر مشتمل حکمت عملی شامل ہے، جس کے تحت پہلے مرحلے میں فوری جنگ بندی کی جائے گی، جبکہ دوسرے مرحلے میں ایک حتمی اور جامع معاہدہ طے پائے گا۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ حتمی معاہدے میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے حصول سے دستبرداری کی یقین دہانی شامل ہوگی، جبکہ اس کے بدلے میں ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی بحالی کی پیشکش کی جائے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اس اہم سفارتی عمل میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان کے فیلڈ مارشل، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے گزشتہ رات بھر امریکی نائب صدرجے ڈی وینس، خصوصی ایلچی سٹیو اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے مسلسل رابطے میں رہے۔

    تاہم دو پاکستانی ذرائع کے مطابق ایران کی جانب سے تاحال اس معاہدے پر حتمی رضامندی ظاہر نہیں کی گئی، حالانکہ سفارتی اور عسکری سطح پر رابطوں میں تیزی لائی گئی ہے۔ماہرین کے مطابق اگر "اسلام آباد معاہدہ” کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کی جانب ایک بڑا قدم ہوگا بلکہ عالمی معیشت پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

    دوسری جانب برطانوی خبر ایجنسی کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان نے جامع جنگ بندی کا فریم ورک امریکا اور ایران کے ساتھ شیئر کر دیا،جنگ بندی تجویز سے واقف ذرائع نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ پاکستان کی جانب سے شیئر فریم ورک 2 مراحل پر مشتمل ہے، پہلے مرحلے میں فوری جنگ بندی جبکہ بعد میں جامع معاہدہ شامل ہے۔ امریکا اور ایران کو جارحیت کے خاتمے اور فوری جنگ بندی کا منصوبہ موصول ہو گیا،رائٹرز کا کہنا ہے کہ ایران جنگ سے متعلق تمام عناصر پر آج اتفاق ہونا ضروری ہے۔ ابتدائی مفاہمت کو ایک یادداشت مفاہمت کے طور پر تشکیل دیا جائے گا۔ ایران جنگ بندی منصوبہ آج سے نافذ العمل ہو سکتا ہے،

    خبر ایجنسی کے مطابق پاکستان، چین اور امریکا کے وقتی جنگ بندی کی تجاویز پر ایران کی جانب سے جواب موصول نہیں ہوا۔،سینئر ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایران کو پاکستان کی تجویز موصول ہوئی ہے، جائزہ لیا جا رہا ہے،انہوں نے کہا کہ ایران کسی فیصلے کے لیے کسی قسم کی ڈیڈ لائن یا دباؤ قبول نہیں کرے گا۔

    دوسری جانب آبنائے ہرمز نہ کھولنے پر دھمکیوں اور گالیوں کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے پرانی ڈیڈ لائن میں 24 گھنٹے کی توسیع کردی، معاہدے کے لیے ڈیڈ لائن کا وقت منگل رات 8 بجے ایسٹرن ٹائم جاری کردیا۔ جو ایران میں بدھ کی صبح 3:30 اور پاکستانی وقت کے مطابق بدھ کی صبح 5 بجے ہے۔

  • امریکا و اسرائیل کے ایران پر حملے:تہران یونیورسٹی سمیت اہم تنصیبات تباہ

    امریکا و اسرائیل کے ایران پر حملے:تہران یونیورسٹی سمیت اہم تنصیبات تباہ

    امریکا اوراسرائیل کے ایران پر شدید حملے جاری ،تعلیمی اداروں، مساجد اوررہائشی علاقوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق تہران کے مشرقی، جنوبی اور مغربی علاقوں میں شدید فضائی حملے کیے گئے حملوں میں معروف ادارے شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی، تہران یونیورسٹی کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں عمارتوں، مسجد اور قریبی گیس اسٹیشن کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

    ذرائع کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں کے دوران یہ چوتھی بڑی یونیورسٹی ہے جسے نشانہ بنایا گیا، جبکہ جنگ کے آغاز سے اب تک درجنوں مساجد، اسکولوں اور تعلیمی اداروں پر حملے رپورٹ ہو چکے ہیں حالیہ حملوں میں 6 بچے شہید ہوئے، جبکہ مختلف شہروں میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 24 تک پہنچ گئی ہے مجموعی طور پر ایران پر حملوں میں اب تک 2 ہزار سے زائد افراد شہید ہونے کی اطلاعات ہیں۔

    دارالحکومت کے مشرقی علاقے میں بمباری میں 3 رہائشی عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں، جبکہ 50 سے زائد عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا امدادی ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، تہران کے علاوہ بُشہیر، خرج، شیراز اور اصفہان میں بھی حملوں کی اطلاعات ہیں، جہا ں انفرااسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا، بندر لینگے میں 6 افراد، قم میں 5 افراد جبکہ بہارستان میں کم از کم 13 افراد شہید ہوئے، جن میں 6 بچے بھی شامل ہیں۔

    دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی انٹیلیجنس تنظیم کے سربراہ میجر جنرل مجید خادمی امریکی اور اسرائیلی حملے میں شہید ہوگئے ہیں۔

    ایرانی خبر رساں ادارے فارس نے پاسدارانِ انقلاب کے جاری کردہ بیان کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ میجر جنرل مجید خادمی امریکی اور اسرائیلی حملے میں شہید ہوگئے ہیں ، میجر جنرل مجید خادمی گزشتہ تقریباً پانچ دہائیوں سے ایران کے انٹیلیجنس اور سکیورٹی نظام میں اہم کردار ادا کر رہے تھے اور انہیں ملک کی سکیورٹی اسٹرکچر کی ایک کلیدی شخصیت سمجھا جاتا تھا۔

    امریکا و اسرائیل کے حملے، ایران کے انٹیلی جنس چیف مجید خادمی شہید

    پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ مجید خادمی کی خدمات ایران کی داخلی سلامتی اور انٹیلیجنس آپریشنز کے حوالے سے نہایت اہم تھیں، اور ان کی موت ملک کے لیے ایک بڑا نقصان ہے، مرحوم کی نمازِ جنازہ اور تدفین کے حوالے سے تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

    پاکستان کی معاشی کامیابیوں اور "کرپٹو ڈپلومیسی” کے دشمن بھی معترف

  • امریکا و اسرائیل کے حملے، ایران کے انٹیلی جنس چیف مجید خادمی شہید

    امریکا و اسرائیل کے حملے، ایران کے انٹیلی جنس چیف مجید خادمی شہید

    امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں ایران کے انٹیلی جنس چیف میجر جنرل مجید خادمی شہید ہوگئے ہیں، ایرانی میڈیا نے اس کی تصدیق کردی۔

    ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق مجید خادمی کو 2025ء میں ایران کا انٹیلی جنس چیف تعینات کیا گیا تھا۔ پاسداران انقلاب نے بھی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ میجر جنرل مجید خادمی آج صبح امریکی و اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے۔

    ترجمان پاسداران انقلاب گارڈز کے مطابق ایرانی فضائی دفاعی نظام نے گزشتہ شام خارگ جزیرے کے قریب ایک امریکی لوکس ڈرون مار گرایا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ڈرون کو زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جبکہ جاری جنگ کے دوران مار گرائے گئے ڈرونز کی مجموعی تعداد 163 ہو گئی ہے۔ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق تہران پر ہونے والے حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں 6 بچے بھی شہید ہوگئے، جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

  • مجتبیٰ خامنہ ای کے ’’وار روم‘‘ دورے کی ویڈیو وائرل،حقیقت کیا؟

    مجتبیٰ خامنہ ای کے ’’وار روم‘‘ دورے کی ویڈیو وائرل،حقیقت کیا؟

    ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی ’’وار روم‘‘ دورے کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔

    سوشل میڈیا پر وائرل ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای ایک جدید ملٹری آپریشنز روم میں داخل ہو رہے ہیں، وائرل ویڈیو میں مجتبیٰ خامنہ ای کو ایک جدید ملٹری کمانڈ سینٹر میں دکھایا گیا، جس میں اسرائیل کے ڈیمونا نیوکلیئر ریسرچ سینٹر کے نقشے اور کوآرڈینیٹس نمایاں ہیں۔

    تاہم فیکٹ چیکنگ کے بعد یہ دعویٰ درست ثابت نہیں ہوا اوپن سورس تجزیے، بشمول “گروک” کی رپورٹ، کے مطابق اس ویڈیو میں اے آئی سے بنائے گئے مناظر کی واضح نشانیاں موجود ہیں، جبکہ اس کی کسی مستند ذریعے سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

    امریکا ایران جنگ ختم کرنے کا منصوبہ،پلان پر آج ہی رضامندی ضروری

    جی بی ایکس پریس‘‘ کی جانب سے شیئر کی گئی، جس میں اسے’’بریکنگ نیوز‘‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران نے پہلی بار مجتبیٰ خامنہ ای کی ملٹری کمانڈ سینٹر میں موجودگی کی ویڈیو جاری کی ہے، تاہم ایران کے سرکاری خبر رساں اداروں جیسے اسلامک ریپبلک نیو ایجنسی، اسلامک ریپبلک آف ایر ان براڈ کاسٹنگ، تسنیم نیوایجنسی سے حوالے سے کوئی خبر نشر نہیں کی۔

    اوپن سورس معلومات کے مطابق، 2026 میں اپنے والد علی خامنہ ای کے بعد قیادت سنبھالنے کی خبروں کے باوجود مجتبیٰ خامنہ ای کی کوئی مستند عوامی ویڈیو یا منظر عام پر نہیں آیا، اور ان کی جانب سے صرف تحریری بیانات ہی جاری کیے گئے ہیں۔

    کھیل معاشرتی مسائل کے حل کے لیے مثبت ماحول فراہم کرتے ہیں،شہباز شریف

  • پاکستان کی معاشی کامیابیوں اور "کرپٹو ڈپلومیسی” کے دشمن بھی معترف

    پاکستان کی معاشی کامیابیوں اور "کرپٹو ڈپلومیسی” کے دشمن بھی معترف

    بااثر قیادت کی دور اندیشی اور مضبوط ویژن کے تحت پاکستان دنیا بھر میں معاشی، سفارتی کامیابیاں حاصل کر رہا ہے

    بھارتی میڈیا پر پاکستان کی ڈیجیٹل صلاحیت، سفارتی کامیابیوں اور بہترین حکمت عملی کے بھرپور چرچے دیکھنے کو مل رہے ہیں، بھارتی میڈیا پر موثر پاکستانی ڈپلومیسی کی ستائش عالمی محاذ پر پاکستان کی سفارتی برتری کا اعتراف ہے ،ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حالیہ مہینوں میں پاکستانی قیادت کی تعریف نے دوطرفہ تعلقات کے ذاتی پہلو کو مزید اجاگر کیا ،زیکری وٹکوف سے روابط نے واشنگٹن میں پاکستان کے اثر و رسوخ میں اضافہ کیا ہے، پاکستان کی اس سفارتی رسائی کے پیچھے بلال بن ثاقب کا کلیدی کردار رہا ہے جو 2025 میں تیزی سے پالیسی سازی کے نظام میں ابھرے ہیں،بلال بن ثاقب نے 2025 کے دوران عالمی کرپٹو شخصیات سے روابط استوار کیے جن میں بائننس کے بانی چانگ پینگ ژاؤ، کیتھی ووڈ اور مائیکل سیلر شامل ہیں،

    بھارتی میڈیا این ڈی ٹی وی کے مطابق؛ بلال بن ثاقب ٹرمپ کے کرپٹو منصوبے ورلڈ لبرٹی فنانشل کے مشیر بنے، جو ایک بڑی کامیابی ثابت ہوئی ،پاکستان نے اسی کرپٹو ڈپلومیسی کے ذریعے وائٹ ہاؤس کے ساتھ اعتماد سازی کو فروغ دیا ہے،

    باصلاحیت افرادی قوت، ڈیجیٹل معیشت کی صلاحیت پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے

  • امریکا ایران جنگ ختم کرنے کا منصوبہ،پلان پر آج ہی رضامندی ضروری

    امریکا ایران جنگ ختم کرنے کا منصوبہ،پلان پر آج ہی رضامندی ضروری

    امریکا اور ایران کو جنگ ختم کرنے کا منصوبہ مل گیا۔ برطانوی خبر ایجنسی رائٹرز کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ختم کرنے کے پلان پر آج ہی رضا مندی ضروری ہے۔

    سینئر ایرانی عہدیدار نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ ایران کو پاکستان کی جانب سے جنگ بندی تجاویز کا مسودہ مل گیا ہے، پاکستان کی جانب سے ملنے والے مسودے کا جائزہ لے رہے ہیں، فیصلے کیلئے ایران کسی ڈیڈ لائن یا دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔ایرانی عہدیدار کا کہنا ہے کہ تہران عارضی جنگ بندی کیلئے آبنائے ہرمز نہیں کھولے گا، ہمیں لگتا ہے امریکا مستقل جنگ بندی کیلئے تیار نہیں ہے۔

    رپورٹ کے مطابق حتمی معاہدے کی تجویز میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیاروں سے دستبرداری شامل ہے، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ختم کرنے کے پلان پر آج ہی رضامندی ضروری ہے، مجوزہ منصوبے میں پہلے جنگ بندی اور پھر حتمی معاہدہ شامل ہے۔رائٹرز کا کہنا ہے کہ منصوبے پر اتفاق ہوگیا تو 20 دن میں حتمی معاہدہ طے پانے کی راہ ہموار ہوگی، فوری طور پر جنگ بندی ہوگی اور آبنائے ہرمز کو کھول دیا جائے گا۔

    علاوہ ازیں امریکی صدر نے ایک بار پھر ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ منگل تک ایران نے کچھ نہ کیا تو ان کے پاس کوئی بجلی گھر اور کوئی پل نہیں رہے گا، کوئی علاقہ محفوظ نہیں رہے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نے وال اسٹریٹ جرنل سے گفتگو اور اے بی سی نیوز کو انٹرویو میں کہا کہ معاہدہ نہ ہوا تو پورے ایران کو تباہ کرسکتے ہیں، مشرق وسطیٰ کا تنازع ہفتوں میں نہیں، دنوں میں ختم ہونا چاہئے، ایران میں زمینی کارروائی ضروری نہیں لیکن خارج از امکان بھی نہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج فوجی قیادت کے ہمراہ پریس کانفرنس کریں گے، اہم اعلان متوقع ہے۔

    دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب نے واضح کیا ہے کہ زمینی کارروائی ہوئی یا کوئی بھی جارحیت، ہم تیار ہیں، فیصلہ کن جواب دیں گے،ترجمان ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دھمکی آمیز بیان پر ردعمل دیدیا، ابراہیم ذوالفقاری نے کہا کہ امریکی ریسکیو آپریشن کے دوران کئی طیاروں کو نشانہ بنایا، ٹرمپ کو احساس ہوگیا ہوگا کہ وہ جنگ کی دلدل میں دھنس چکے ہیں،ان کا کہنا ہے کہ میڈیا کے بیانات سے ٹرمپ اور ان کی فوج کے اسکینڈل ٹھیک نہیں ہوں گے، امریکا، اسرائیل کو جارحیت کا فیصلہ کن جواب ملے گا۔

    پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے ٹرمپ کو پیغام دیا ہے کہ ٹھنڈے ہوجاؤ، تاریخ کا مطالعہ کرو، اپنا نقصان وقار کے ساتھ تسلیم کرو، بہانے مت بناؤ۔ایرانی سفیر نے سوشل میڈیا پر تباہ شدہ امریکی طیاروں کی تصویر شیئر کردی۔ لکھا کہ یہ تو بس شروعات ہے۔ایرانی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے غیرمناسب رویے پر ان کا مواخذہ ہونا چاہیے، امریکی صدر کو اعلیٰ عہدے کیلئے نااہل قرار دینا چاہیے، تمام ذمہ داری کانگریس، کابینہ اور ٹرمپ کو منتخب کرنیوالوں پر عائد ہوتی ہے، 25 ویں آئینی ترمیم نافذ نہ کرنا کابینہ کی سنگین غلطی ہے۔

    علاوہ ازیں ٹرمپ کا پائلٹ بچاؤ مشن امریکا کو بہت مہنگا پڑا، امریکی صدر کا کامیابی کا دعویٰ مگر نقصان بہت زیادہ، ایک فوجی کو بچانے کیلئے 4 مروادیئے، ایک سی 130 طیارہ، دو بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز اور کئی ڈرونز تباہ ہوئے۔نیویارک ٹائمز تہلکہ خیز مشن کی تفصیلات سامنے لے آیا، ٹرمپ کا ایران کی فضاؤں پر مکمل غلبے کا بھی کھوکھلا دعویٰ، مسلسل بمباری کرکے ایرانی فوج کو دور رکھا گیا۔آپریشن میں سیکڑوں اہلکاروں، درجنوں طیاروں نے حصہ لیا، امریکی فوج نے واپسی سے پہلے ناکارہ طیاروں کو تباہ کیا، بڑے نقصانات کے باوجود ٹرمپ نے آپریشن کامیاب قرار دیا۔

  • بلوچستان میں کارروائی ،افغان دہشتگرد حبیب اللہ گرفتار

    بلوچستان میں کارروائی ،افغان دہشتگرد حبیب اللہ گرفتار

    گرفتارافغان دہشتگرد نےٹی ٹی اےکیساتھ مل کر پاکستان میں سکیورٹی اہلکاروں پرحملوں کا اعتراف کیا ہے

    گرفتار دہشتگرد کا بھائی شیر افغان بھی ٹی ٹی پی سے وابستہ اورپکتیکا کا رہائشی ہے ،دہشتگرد گروپ کی قیادت “مسلم” نامی شخص کر رہا تھا،گرفتارافغان دہشتگرد نے پاک افغان جھڑپوں کے دوران سیکیورٹی فورسز کےاہلکاروں کو نشانہ بنایا ،گرفتار افغان دہشتگردحبیب اللہ پہلے بھی ایک ماہ قید میں رہا،کئی دہائیوں سے ایک سازش کے تحت پاکستان میں عدم استحکام پھیلانے کی کوشش کی گئی ،پاکستان اپنےشہریوں کے تحفظ کیلئےافغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں پرحملہ کررہا ہے ،افغانستان کے عوام کے ساتھ ہماری کوئی دشمنی نہیں ہے ،پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کو بھرپور جواب دیں گے ، پاکستان نےمتعدد بارافغانستان کی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال ہونےکے ٹھوس ثبوت فراہم کیے،

    حکومتِ پاکستان نے بارہا افغان طالبان رجیم کو اپنی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال ہونےسےروکنےکامطالبہ کیا ،حبیب اللہ اس سے قبل بھی گرفتار ہوا مگر جذبہ خیر سگالی کے تحت عام شہری سمجھ کر چھوڑ دیا گیا مگرفتاردہشتگرد کوکُچلاک کےعلاقے سےدوبارہ گرفتارکیا گیاجس سےسرحدپاردہشتگردی کےروابط بے نقاب ہوئے ،ٹی ٹی اے اور ٹی ٹی پی مل کر بلوچستان میں دہشتگردی کی کارروائیاں کررہے ہیں،اس گروپ کے دوسرے دہشتگردوں کے گرد بھی گھیرا مزید تنگ کردیا گیا ہے

  • پائلٹ کے لئے امریکا کا ایران میں انتہائی خفیہ،خطرناک ریسکیو آپریشن،تحریر:میجر(ر) ہارون الرشید

    پائلٹ کے لئے امریکا کا ایران میں انتہائی خفیہ،خطرناک ریسکیو آپریشن،تحریر:میجر(ر) ہارون الرشید

    امریکی لڑاکا طیارے کے دوسرے پائلٹ کو ایران کے اندر ایک خفیہ اور انتہائی خطرناک ریسکیو آپریشن کے دوران بحفاظت نکال لیا گیا

    میجر(ر) ہارون الرشید

    میڈیا رپورٹس کے مطابق McDonnell Douglas F-15E Strike Eagle طیارہ ایران کے جنوب مغربی علاقے میں مار گرایا گیا تھا جس کے بعد دونوں عملے کے ارکان نے پیراشوٹ کے ذریعے ایجیکٹ کر لیا تھا۔ United States Air Force نے فوری طور پر Combat Search and Rescue (CSAR) آپریشن شروع کیا۔

    ریسکیو آپریشن کیسے ہوا
    رپورٹس کے مطابق:
    طیارہ گرنے کے بعد دونوں امریکی اہلکاروں نے اپنی ایمرجنسی کمیونیکیشن ڈیوائس کے ذریعے امریکی افواج سے رابطہ قائم کیا۔
    Axios

    پہلا پائلٹ چند گھنٹوں کے اندر امریکی ریسکیو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے نکال لیا گیا۔
    Military.com

    دوسرا اہلکار، جو ویپن سسٹمز آفیسر تھا، پہاڑی علاقے میں چھپ کر ایرانی فورسز سے بچتا رہا۔
    امریکی اسپیشل فورسز اور فضائیہ نے تقریباً 36 گھنٹے تک تلاش جاری رکھی۔
    The Guardian

    آخری ریسکیو مشن
    امریکی اسپیشل آپریشنز کمانڈوز کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ایران کے اندر اتارا گیا۔
    علاقے میں ایرانی فورسز کی موجودگی کے باعث امریکی جنگی طیاروں نے فضائی نگرانی اور کور فراہم کیا

    شدید خطرات کے باوجود کمانڈوز نے پائلٹ کو تلاش کر کے اسے ہیلی کاپٹر کے ذریعے محفوظ مقام پر منتقل کیا۔

    ریسکیو ٹیم اور زخمی اہلکار کو بعد ازاں خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے منتقل کر دیا گیا۔
    The Jerusalem Post

    امریکی ردعمل
    امریکی صدر Donald Trump نے اس کارروائی کو امریکی فوج کی تاریخ کے جرات مندانہ ترین ریسکیو آپریشنز میں سے ایک قرار دیا ہے۔
    The Jerusalem Post