Baaghi TV

Blog

  • 
ایران نے روس سے 20 جدید ہیلی کاپٹرز خریدنے کا معاہدہ کر لیا

    
ایران نے روس سے 20 جدید ہیلی کاپٹرز خریدنے کا معاہدہ کر لیا

    ‎تہران: ایرانی انجمن ہلال احمر اور ایک روسی کمپنی کے درمیان 20 جدید ہیلی کاپٹرز کی خریداری کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔ اس معاہدے کا مقصد ایران کی فضائی ریسکیو صلاحیتوں اور لاجسٹک نظام کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
    ‎ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق معاہدے پر دستخط روسی کمپنی کے ہیڈکوارٹر میں ہوئے، جہاں ایرانی انجمن ہلال احمر کے صدر پیر حسین کولیوند اور روسی ہیلی کاپٹرز کمپنی کے ڈائریکٹر جنرل نکولائے کولیسوف نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔
    ‎ماسکو میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پیر حسین کولیوند نے کہا کہ روس سے 20 ہیلی کاپٹرز کی براہ راست خریداری کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس منصوبے کا بنیادی مقصد ملک کے فضائی ریسکیو بیڑے کو جدید بنانا، ہنگامی امدادی کارروائیوں کی استعداد بڑھانا اور لاجسٹک نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
    ‎انہوں نے اس معاہدے کو ایرانی ہلال احمر کی تاریخ کا ایک اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں چار جدید ہیلی کاپٹرز کی خریداری کا معاہدہ مکمل ہو چکا ہے۔ توقع ہے کہ یہ ہیلی کاپٹرز مارچ 2027 میں نوروز سے قبل ایران کے حوالے کر دیے جائیں گے۔
    ‎پیر حسین کولیوند کے مطابق خریدے جانے والے تمام ہیلی کاپٹرز جدید ٹیکنالوجی، نائٹ ویژن سسٹمز اور جدید حفاظتی آلات سے لیس ہوں گے، جس کے باعث وہ رات کے وقت بھی مؤثر انداز میں پرواز کر سکیں گے۔ ان ہیلی کاپٹرز کو آگ بجھانے، طبی امداد، قدرتی آفات میں ریسکیو آپریشنز اور دیگر ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
    ‎ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جدید فضائی بیڑے کی شمولیت سے ہلال احمر کی امدادی کارروائیوں کی رفتار اور استعداد میں نمایاں اضافہ ہوگا، جبکہ دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں بروقت امداد پہنچانا بھی پہلے کے مقابلے میں زیادہ آسان ہو جائے گا۔

  • 
چکوال واقعہ: وزیراعلیٰ پنجاب کو آج تحقیقاتی رپورٹ پیش کی جائے گی، مریم اورنگزیب

    
چکوال واقعہ: وزیراعلیٰ پنجاب کو آج تحقیقاتی رپورٹ پیش کی جائے گی، مریم اورنگزیب

    ‎لاہور: پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ چکوال میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کی تحقیقات کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر فوری طور پر تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جس کی رپورٹ آج وزیراعلیٰ کو پیش کی جائے گی۔
    ‎مریم اورنگزیب کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے شفاف تحقیقات کا حکم دیا تھا تاکہ تمام حقائق سامنے لائے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقاتی کمیٹی اپنی رپورٹ مکمل کر چکی ہے، جسے آج وزیراعلیٰ پنجاب کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ اس معاملے پر متعلقہ حکام پہلے ہی ابتدائی تفصیلات سے آگاہ کر چکے ہیں، جبکہ سہیل چٹھہ جلد ایک تفصیلی پریس کانفرنس کے ذریعے واقعے کے مختلف پہلوؤں پر باضابطہ مؤقف بھی پیش کریں گے۔
    ‎سینئر وزیر پنجاب کا کہنا تھا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق علاقے میں ڈکیتی کی واردات ہو رہی تھی، جس کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کارروائی کی۔ تاہم اس آپریشن کے دوران افسوسناک طور پر 9 سالہ بچی ہانیہ عدیل جان کی بازی ہار گئی۔
    ‎انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت اس افسوسناک واقعے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے اور وزیراعلیٰ مریم نواز نے آغاز ہی سے واضح ہدایات دی ہیں کہ تحقیقات مکمل شفافیت کے ساتھ کی جائیں اور حقائق کی روشنی میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے۔
    ‎مریم اورنگزیب نے مزید کہا کہ حکومت واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے اور تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد اگر کسی قسم کی غفلت یا ذمہ داری ثابت ہوئی تو قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
    ‎یاد رہے کہ چکوال میں پیش آنے والے اس واقعے کے بعد مختلف حلقوں کی جانب سے غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جبکہ حال ہی میں سامنے آنے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی تفتیش کا حصہ بن چکی ہے۔

  • 
ٹیکساس میں چھوٹا طیارہ ہائی وے پر گر کر تباہ، ایک شخص ہلاک

    
ٹیکساس میں چھوٹا طیارہ ہائی وے پر گر کر تباہ، ایک شخص ہلاک

    ‎امریکا کی ریاست ٹیکساس کے شہر لاریڈو میں ایک چھوٹا جیٹ طیارہ ہائی وے پر گر کر تباہ ہو گیا، جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک ہو گیا جبکہ کئی افراد زخمی ہوئے۔ حادثے کے فوراً بعد وہاں سے گزرنے والے شہریوں نے غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے زخمی مسافروں کو بچانے کے لیے فوری امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔
    ‎غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق حادثے کے وقت طیارے میں مجموعی طور پر چھ افراد سوار تھے۔ طیارہ گرنے کے بعد ہائی وے پر سفر کرنے والے متعدد افراد نے اپنی گاڑیاں سڑک کنارے روک دیں اور بغیر کسی تاخیر کے امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔
    ‎عینی شاہدین کے مطابق شہریوں نے طیارے کے کاک پٹ کی کھڑکی توڑ کر اندر پھنسے مسافروں کو باہر نکالنے کی کوشش کی۔ ان کی فوری کارروائی کے باعث کئی افراد کو بروقت ریسکیو کیا جا سکا، جس سے مزید جانی نقصان سے بچنے میں مدد ملی۔
    ‎رپورٹ کے مطابق ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حادثے میں ہلاک ہونے والا شخص طیارے میں سوار تھا یا زمین پر موجود تھا۔ مقامی پولیس نے بھی اس حوالے سے کوئی حتمی بیان جاری نہیں کیا۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ طیارے میں سوار افراد کی شناخت اور ان کی طبی حالت کے بارے میں مزید تفصیلات فی الحال جاری نہیں کی گئی ہیں۔ زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
    ‎حادثے کے بعد ہائی وے کے متاثرہ حصے کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا جبکہ امدادی ٹیموں، فائر فائٹرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے موقع پر پہنچ کر ریسکیو اور تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ متعلقہ حکام طیارہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے مکمل تحقیقات کر رہے ہیں۔

  • 
وزیراعظم اور بلاول کی ملاقات، بجٹ پر اتفاق، قومی اسمبلی میں کل خطاب کریں گے

    
وزیراعظم اور بلاول کی ملاقات، بجٹ پر اتفاق، قومی اسمبلی میں کل خطاب کریں گے

    ‎اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے درمیان اہم ملاقات میں وفاقی بجٹ، ملکی سیاسی صورتحال، ترقیاتی منصوبوں اور بین الصوبائی تعاون سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ملاقات کے بعد بجٹ کے حوالے سے دونوں اتحادی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے قائم ہو گیا، جبکہ بلاول بھٹو زرداری کل قومی اسمبلی میں بجٹ پر خطاب کریں گے۔
    ‎ملاقات میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں عالمی امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سفارتی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے خطے میں امن کے فروغ کے لیے مثبت کردار ادا کیا ہے۔
    ‎دونوں رہنماؤں نے وفاقی حکومت کی جانب سے سندھ میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ بھی لیا اور ان منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر وفاق اور صوبوں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کو قومی ترقی کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوامی فلاح کے منصوبوں میں باہمی تعاون مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
    ‎ملاقات میں وفاقی بجٹ سے متعلق بھی تفصیلی مشاورت کی گئی۔ ذرائع کے مطابق اتحادی جماعتوں نے بجٹ کی منظوری اور آئندہ پارلیمانی حکمت عملی پر اتفاق کیا۔ اس موقع پر اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ قومی اہمیت کے منصوبوں کی بروقت تکمیل اور عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے وفاقی اور صوبائی ادارے مل کر کام کریں گے۔
    ‎بلاول بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان میں حکومت سازی کے معاملے پر وزیراعظم شہباز شریف کی حمایت کا شکریہ ادا کیا، جبکہ وزیراعظم نے بھی گلگت بلتستان میں حکومت سازی کو پاکستان پیپلز پارٹی کا حق قرار دیا۔
    ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد چیمہ، سینیٹر شیری رحمان اور رکن قومی اسمبلی سید نوید قمر بھی شریک تھے۔

  • 
بلوچستان بجٹ 2026: ایک ہزار 89 ارب روپے کا بجٹ پیش

    
بلوچستان بجٹ 2026: ایک ہزار 89 ارب روپے کا بجٹ پیش

    ‎کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کا بجٹ اجلاس جاری ہے، جہاں صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے مالی سال 2026-27 کا بجٹ ایوان میں پیش کر دیا۔ بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں، جاری اسکیموں اور غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے مختلف شعبوں میں فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔
    ‎بجٹ تقریر کے دوران وزیر خزانہ نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کے لیے بلوچستان حکومت کے مجموعی اخراجات کا تخمینہ ایک ہزار 89 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے 797 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ سرکاری اداروں، انتظامی امور اور دیگر ضروری اخراجات پورے کیے جا سکیں۔
    ‎میر شعیب نوشیروانی نے ایوان کو آگاہ کیا کہ نئے مالی سال میں نئی ترقیاتی اسکیموں کے لیے 106 ارب روپے رکھے گئے ہیں، جبکہ پہلے سے جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے مزید 100 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس طرح مجموعی طور پر ترقیاتی منصوبوں پر 206 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔
    ‎وزیر خزانہ نے بتایا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے بلوچستان کو ترقیاتی گرانٹس کی مد میں 45 ارب روپے ملنے کی توقع ہے، جو مختلف ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح کے پروگراموں پر خرچ کیے جائیں گے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کا مقصد دستیاب وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت، پانی، سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولیات کے منصوبوں کو آگے بڑھانا ہے تاکہ عوام کو بہتر خدمات فراہم کی جا سکیں۔
    ‎بلوچستان اسمبلی میں بجٹ پیش کیے جانے کے بعد آئندہ چند روز میں مختلف محکموں کے بجٹ، ترقیاتی پروگرام اور مالی تجاویز پر ارکان اسمبلی کی جانب سے تفصیلی بحث متوقع ہے، جس کے بعد بجٹ کی منظوری کا عمل مکمل کیا جائے گا۔

  • قومی اسمبلی اجلاس،حکومتی و اپوزیشن اراکین میں تلخ کلامی،گالم گلوچ

    قومی اسمبلی اجلاس،حکومتی و اپوزیشن اراکین میں تلخ کلامی،گالم گلوچ

    قومی اسمبلی اجلاس میں حکومتی اور اپوزیشن اراکین کے درمیان شدید تلخ کلامی دیکھنے میں آئی، جہاں وفاقی وزیر رانا تنویر حسین اور تحریک انصاف کے ارکان کے درمیان جملوں کا تبادلہ گالم گلوچ تک جا پہنچا۔ اس دوران اسپیکر قومی اسمبلی مسلسل مداخلت کرتے ہوئے صورتحال کو قابو میں لانے کی کوشش کرتے رہے۔

    اجلاس کے دوران اپوزیشن کی تنقید کے جواب میں رانا تنویر حسین نے تحریک انصاف کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو ان کے مقابلے میں الیکشن لڑوایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ "مکافاتِ عمل” ہے، جبکہ حکومتی ارکان بھی عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر ایوان میں آئے ہیں۔ رانا تنویر کے ریمارکس پر اپوزیشن ارکان نے سخت ردعمل دیا جس سے ایوان کا ماحول مزید کشیدہ ہوگیا۔بعد ازاں رانا تنویر حسین نے اپنے الفاظ پر تحریک انصاف کے ارکان سے معذرت کرلی، جسے چیئرمین پی ٹی آئی نے قبول کرتے ہوئے کہا کہ وہ معذرت کو تسلیم کرتے ہیں۔

    دوسری جانب اجلاس کے دوران وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور اپوزیشن ارکان کے درمیان بھی تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ اگر ایوان میں بحث جاری ہے تو شور شرابے کا آغاز اپوزیشن نے کیا، اور اگر حکومتی رکن کی تقریر کے دوران ہنگامہ آرائی کی جائے گی تو حکومت بھی جواب دے گی۔وزیر مملکت کے ریمارکس کے بعد ایوان میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ اس موقع پر رکن اسمبلی عامر مگسی نے اسپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ معاملہ حد سے بڑھ رہا ہے اور اسے فوری طور پر روکا جائے۔ایوان میں ہنگامہ آرائی اور شور شرابے کے باعث اپوزیشن رکن زین قریشی اپنا خطاب مکمل نہ کر سکے، جبکہ اسپیکر نے بارہا ارکان کو تحمل اور پارلیمانی آداب کا مظاہرہ کرنے کی ہدایت کی۔

  • قومی لباس ہماری پہچان ،تحریر:عمارہ کنول چودھری

    قومی لباس ہماری پہچان ،تحریر:عمارہ کنول چودھری

    کسی بھی قوم کی پہچان اس کی زبان، ثقافت اور لباس سے ہوتی ہے۔ یہی عناصر اس کے تشخص کو زندہ رکھتے اور آنے والی نسلوں تک منتقل کرتے ہیں۔ بطور بانیٔ تحریک میرا مقصد یہی ہے کہ ہم اپنی قوم کو اس کی اصل شناخت سے جوڑیں اور زبان و قومی لباس کے فروغ کو اپنی اجتماعی ذمہ داری بنائیں۔
    زبان صرف اظہارِ خیال کا ذریعہ نہیں بلکہ تہذیب و تاریخ کی امین ہوتی ہے۔ جب کوئی قوم اپنی زبان سے دور ہوتی ہے تو وہ اپنی جڑوں سے کٹنے لگتی ہے۔ ہماری تحریک اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ قومی زبان کو تعلیم، ابلاغ اور روزمرہ زندگی میں نمایاں مقام دیا جائے تاکہ نوجوان نسل اپنی ثقافت پر فخر محسوس کرے۔ ہمیں چاہیے کہ گھروں، تعلیمی اداروں اور سماجی تقریبات میں اپنی زبان کو ترجیح دیں اور اسے ترقی کے سفر میں ساتھ لے کر چلیں۔

    اسی طرح قومی لباس ہماری روایت، سادگی اور اقدار کی علامت ہے۔ بدلتے ہوئے رحجانات کے دور میں اپنی روایتی پوشاک کو نظرانداز کرنا دراصل اپنی پہچان کو کمزور کرنا ہے۔ ہمارا پیغام یہ نہیں کہ ہم جدیدیت سے منہ موڑ لیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم اپنی روایات کو جدید تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کریں۔ قومی لباس کو فخر اور وقار کے ساتھ اپنانا ہماری ثقافتی بقا کی ضمانت ہے۔
    ہماری تحریک کا عزم ہے کہ تقریبات ،سماجی ذرائع ابلاغ ،ثقافتی میلوں اور آگاہی مہمات کے ذریعے عوام میں شعور بیدار کیا جائے۔ ہم نوجوانوں کو اس کارِ خیر میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہیں تاکہ زبان و ثقافت کا چراغ روشن رہے۔
    آئیے عہد کریں کہ ہم اپنی قوم کی زبان اور قومی لباس کے فروغ میں بھرپور کردار ادا کریں گے۔ کیونکہ جو قوم اپنی پہچان کو سنبھال کر رکھتی ہے، وہی دنیا میں عزت و وقار کے ساتھ زندہ رہتی ہے۔
    تحریک صرف قومی زبان کے نفاذ کا مطالبہ نہیں کرتی بلکہ عملی طور پر فروغِ اردو کے لیے اقدامات کر رہی ہے، جس کے تحت تحریک کے زیر اہتمام تربیتی نشستوں اور کارگاہوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ لکھاریوں کے لیے ایک روزہ تربیتی نشست ( رموزِ اوقاف) دس روزہ ( اصنافِ ادب )تیس روزہ ، شاعرات کے لیے ( علمِ عروض) خواتین اہلِ قلم کے لیے چالیس روزہ (تزئین کارگاہ) اور اس نوعیت کی دیگر سرگرمیوں کا اہتمام کیا جاتا ہے تا کہ اردو زبان کو فروغ دیا جائے۔

    تحریک میں موجود طالبات کی مدد اور آسانی کے لیے تعلیمی، علمی ،ادبی مواد کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جاتا ہے اور رومن رسم الخط کے متعلق آگاہی دی جاتی ہے کیونکہ قومی زبان دنیا بھر میں ہماری شناخت ہے، اور جو قومیں اپنی زبان کو عزت دیتی ہیں، دُنیا ان کو عِزت دیتی ہے۔

  • 
میسی کی شاندار ہیٹ ٹرک، ارجنٹینا نے الجزائر کو 3-0 سے شکست دے دی

    
میسی کی شاندار ہیٹ ٹرک، ارجنٹینا نے الجزائر کو 3-0 سے شکست دے دی

    ‎فٹبال ورلڈ کپ کے ایک اہم گروپ میچ میں ارجنٹینا نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے الجزائر کو صفر کے مقابلے میں تین گول سے شکست دے دی۔ اس کامیابی کے ہیرو عالمی شہرت یافتہ اسٹار فٹبالر لیونل میسی رہے، جنہوں نے اپنی ٹیم کے لیے یادگار ہیٹ ٹرک اسکور کر کے کئی اہم ریکارڈ بھی اپنے نام کر لیے۔
    ‎میچ کے آغاز سے ہی ارجنٹینا نے جارحانہ انداز اپنایا اور الجزائر کی دفاعی لائن پر مسلسل دباؤ برقرار رکھا۔ لیونل میسی نے کھیل کے 17ویں منٹ میں پہلا گول کر کے اپنی ٹیم کو برتری دلائی۔ پہلے ہاف میں الجزائر نے مقابلہ کرنے کی کوشش کی، تاہم ارجنٹائن کے مضبوط دفاع نے اسے کوئی واضح موقع نہیں دیا۔
    ‎دوسرے ہاف میں بھی میسی کا جادو برقرار رہا۔ انہوں نے 60ویں منٹ میں دوسرا اور 76ویں منٹ میں تیسرا گول کر کے اپنی ہیٹ ٹرک مکمل کی۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ لیونل میسی نے فٹبال ورلڈ کپ کی تاریخ میں ہیٹ ٹرک اسکور کی ہے، جس کے بعد شائقین نے ان کی شاندار کارکردگی کو بھرپور انداز میں سراہا۔
    ‎اس میچ کے ساتھ لیونل میسی نے ورلڈ کپ میں اپنے گولوں کی تعداد 16 کر دی، جو انہوں نے مجموعی طور پر 27 میچز میں اسکور کیے ہیں۔ اس کارکردگی کے بعد انہوں نے جرمنی کے سابق عظیم اسٹرائیکر میروسلاو کلوزے کے ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ گول کرنے کے ریکارڈ کی بھی برابری کر لی۔
    ‎میسی نے ایک اور منفرد اعزاز بھی اپنے نام کیا۔ وہ 38 سال اور 357 دن کی عمر میں ورلڈ کپ میں ہیٹ ٹرک کرنے والے تاریخ کے معمر ترین کھلاڑی بن گئے، جو ان کے شاندار کیریئر میں ایک اور اہم سنگ میل تصور کیا جا رہا ہے۔
    ‎دوسری جانب الجزائر کی ٹیم پورے میچ میں کوئی گول کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی اور اسے 3-0 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کامیابی کے بعد ارجنٹینا نے اپنے گروپ میں اہم تین پوائنٹس حاصل کر لیے اور اگلے مرحلے کے لیے اپنی پوزیشن مزید مضبوط بنا لی۔

  • 
پاکستان نے بھارتی طیاروں پر فضائی پابندی میں مزید توسیع کر دی

    
پاکستان نے بھارتی طیاروں پر فضائی پابندی میں مزید توسیع کر دی

    ‎اسلام آباد: پاکستان نے بھارتی رجسٹرڈ طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود کی بندش میں مزید توسیع کر دی ہے۔ پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق بھارتی سول اور فوجی طیاروں پر عائد پابندی اب 24 جولائی کی صبح تک برقرار رہے گی۔
    ‎پی اے اے کے مطابق نئی پابندی کا اطلاق 16 جون شام 5 بج کر 50 منٹ سے شروع ہو چکا ہے اور یہ 24 جولائی صبح 4 بج کر 59 منٹ تک مؤثر رہے گی۔ اس مدت کے دوران بھارت میں رجسٹرڈ تمام سول اور فوجی طیاروں کو پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
    ‎اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ فضائی حدود کی بندش کا اطلاق بھارتی رجسٹرڈ تمام پروازوں پر یکساں طور پر ہوگا۔ اس فیصلے کے تحت بھارتی ایئرلائنز اور دیگر متعلقہ پروازوں کو متبادل فضائی راستے اختیار کرنا ہوں گے۔
    ‎پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدہ تعلقات کے تناظر میں فضائی پابندیوں میں یہ توسیع ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ اس سے قبل بھی پاکستان مختلف اوقات میں سکیورٹی اور سفارتی صورتحال کے پیش نظر بھارتی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند رکھنے کے فیصلے کرتا رہا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق اس پابندی کے باعث بھارتی فضائی کمپنیوں کو طویل فضائی راستے اختیار کرنے پڑ سکتے ہیں، جس سے پروازوں کے دورانیے اور آپریشنل اخراجات میں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔
    ‎پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کا کہنا ہے کہ فضائی حدود سے متعلق تمام متعلقہ اداروں اور ایئرلائنز کو اس فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا ہے، جبکہ نوٹیفکیشن کے مطابق پابندی مقررہ مدت تک نافذ العمل رہے گی۔

  • آیت اللہ خامنہ ای، رهبرِ سترگِ انقلاب ،تحریر :  پارس کیانی

    آیت اللہ خامنہ ای، رهبرِ سترگِ انقلاب ،تحریر : پارس کیانی

    یکم مارچ 2026ء کا دن معاصر تاریخ کے ان المناک اور فیصلہ کن ایام میں شمار کیا جائے گا جب ایرانی قیادت کا ایک عہد اپنے اختتام کو پہنچا اور رہبرِ انقلاب آیت اللہ خامنہ ای جنگی حالات میں شہادت کے منصب پر فائز ہوئے۔ اس خبر نے ایران ہی نہیں بلکہ پورے عالمِ اسلام میں ایک گہرا ارتعاش پیدا کیا۔

    دُنیا کی بڑی خبر ایجنسیوں اور ذرائعِ ابلاغ کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ‌ ای کی شہادت 28 فروری 2026ء (ہفتہ) کو ہوئی تھی، جبکہ 1 مارچ 2026ء (اتوار) کو ایران کے سرکاری میڈیا نے باضابطہ طور پر اُن کی شہادت کی تصدیق کر کے اعلان کیا۔ یعنی واقعہ خود 28 فروری کو پیش آیا، اور اس کی سرکاری تصدیق 1 مارچ کو نشر ہوئی۔
    ایک ایسی شخصیت، جو چار دہائیوں سے زیادہ عرصے تک ریاستِ ایران کی فکری، مذہبی اور سیاسی سمت کا تعین کرتی رہی، اچانک تاریخ کا حصہ بن گئی، مگر اپنے پیچھے نظریے، مزاحمت اور استقلال کی ایک طویل داستان چھوڑ گئی۔

    سید علی حسینی خامنہ ای 19 اپریل 1939ء کو مشہد کے ایک دیندار اور علمی خانوادے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد آیت اللہ سید جواد خامنہ ای اپنے وقت کے جید عالمِ دین تھے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے دینی علوم کی تحصیل کے لیے مشہد اور قم کے علمی مراکز کا رخ کیا، جہاں فقہ، اصول، تفسیر اور اسلامی فلسفہ میں مہارت حاصل کی۔ نوجوانی ہی سے ان کے مزاج میں سنجیدگی، مطالعہ کا شوق اور فکری استقلال نمایاں تھا۔ شاہی حکومت کے خلاف انقلابی تحریک میں شمولیت کے سبب انہیں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں، مگر یہ آزمائشیں ان کے عزم کو مضمحل نہ کر سکیں بلکہ ان کے اندر ایک ایسے قائد کی تشکیل کرتی رہیں جو نظریے پر سمجھوتا کرنا نہیں جانتا تھا۔

    1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعد وہ نو تشکیل شدہ ریاست کے اہم ذمہ داران میں شمار ہوئے۔ 1981ء میں ایک قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہوئے، مگر صحت یابی کے بعد دوبارہ قومی خدمت میں مصروف ہو گئے۔ اسی سال وہ ایران کے صدر منتخب ہوئے اور 1989ء تک اس منصب پر فائز رہے۔ امام خمینیؒ کے وصال کے بعد انہیں سپریم لیڈر منتخب کیا گیا اور یوں ریاست کے سب سے اعلیٰ منصب کی ذمہ داری ان کے سپرد ہوئی۔ اس منصب پر ان کی حیثیت محض ایک سیاسی سربراہ کی نہ تھی بلکہ وہ نظریاتی رہنما اور مذہبی مرجع کی صورت میں بھی جانے جاتے تھے۔

    ان کی قیادت کے دور میں ایران نے عالمی پابندیوں، سفارتی دباؤ اور علاقائی کشیدگی کا سامنا کیا، مگر ساتھ ہی سائنسی ترقی، دفاعی خود کفالت اور تعلیمی میدان میں نمایاں پیش رفت بھی کی۔ ان کی تقاریر میں قومی خودمختاری، استکبار کے خلاف مزاحمت، اور اسلامی تشخص کے تحفظ پر مسلسل زور دیا جاتا رہا۔ ان کے حامی انہیں رہبرِ معظم، قائدِ انقلاب اور ولیِ امرِ مسلمین جیسے القابات سے یاد کرتے تھے، جو ان کی شخصیت سے وابستہ عقیدت کا اظہار ہیں۔

    ذاتی زندگی میں سادگی، عبادت گزاری، مطالعے سے گہرا شغف اور نوجوان نسل سے خصوصی مکالمہ ان کے نمایاں اوصاف تھے۔ وہ ادب اور تاریخ کے مطالعے کو فکری بیداری کا ذریعہ سمجھتے تھے اور اپنے خطابات میں فکری استدلال اور دینی حوالوں کا حسین امتزاج پیش کرتے تھے۔ ان کی سیاسی بصیرت اور طویل المدتی حکمتِ عملی نے انہیں خطے کی سب سے بااثر شخصیات میں شامل رکھا۔

    28 فروری 2026ء کو جب وہ جنگی کشیدگی کے نازک مرحلے میں قومی فرائض سرانجام دے رہے تھے، اسی دوران پیش آنے والے سانحے نے انہیں شہادت کے رتبے پر فائز کر دیا۔ ایران میں سرکاری سوگ کا اعلان کیا گیا، مساجد اور میدان عوام سے بھر گئے، اور ایک قوم نے اپنے رہنما کو اشکبار آنکھوں کے ساتھ رخصت کیا۔ ان کی شہادت کو ان کے پیروکار قومی وقار، نظریاتی استقامت اور مزاحمتی سیاست کی علامت قرار دے رہے ہیں۔

    تاریخ ہمیشہ شخصیات کو ان کے اثرات کی بنیاد پر یاد رکھتی ہے۔ سید علی خامنہ ای کی زندگی جدوجہد، قیادت اور نظریاتی وابستگی کی ایک مسلسل داستان تھی۔ ان کے فیصلوں سے اختلاف یا اتفاق اپنی جگہ، مگر یہ امر مسلم ہے کہ انہوں نے اپنے عہد کی سیاست پر گہرا اثر چھوڑا اور ایران کی شناخت کو ایک مخصوص فکری قالب میں ڈھالنے کی کوشش کی۔ آج جب ان کا نام لیا جاتا ہے تو ایک ایسے رہنما کی تصویر ابھرتی ہے جس نے مشکلات کے طوفان میں بھی استقلال کا چراغ روشن رکھا اور اپنے ماننے والوں کے نزدیک اسی راہ میں جان کا نذرانہ پیش کیا۔شہید علی خامنہ ای کو تاریخ مزاحمت کی مضبوط روایت کے طور پر ہمیشہ یاد رکھے گی۔