Baaghi TV

Blog

  • وزیرا عظم و عسکری قیادت کی کوششوں کے باعث تیل کی فراہمی متاثر نہیں ہوئی،رانا ثنا اللہ

    وزیرا عظم و عسکری قیادت کی کوششوں کے باعث تیل کی فراہمی متاثر نہیں ہوئی،رانا ثنا اللہ

    وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں حکومت کے خلاف احتجاج کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں بنتی، وزیرا عظم و عسکری قیادت کی کوششوں کے باعث تیل کی فراہمی متاثر نہیں ہوئی-

    فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بعض عناصر اپنے سیاسی مفادات کے حصول کے لیے احتجاج کی راہ اختیار کرنا چاہتے ہیں، پیٹر و لیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کا نتیجہ ہے، جس میں حکومت کا براہِ راست کوئی کردار نہیں۔

    رانا ثنااللہ نے کہاکہ ابتدا میں توقع تھی کہ یہ جنگ چند ہفتوں میں ختم ہو جائے گی، تاہم اب بھی بعض لوگ ذاتی اور گروہی مفادات کے لیے ملک میں بے چینی پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں، جن کے لیے کوئی گنجائش نہیں،پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ معاہدوں پر عمل کررہا ہے، اور وزیرا عظم و عسکری قیادت کی کوششوں کے باعث تیل کی فراہمی متاثر نہیں ہوئی۔

    ان کے مطابق عالمی برادری اس وقت جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کی طرف دیکھ رہی ہے، لہٰذا سب کو ملک کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے وزیراعظم نے حال ہی میں پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 80 روپے کمی کی، تاہم بعض ناگزیر حالات کے باعث قیمتوں میں اضافہ بھی کرنا پڑا،حکومت کے خلاف احتجاج کا جواز نہیں بنتا، اور اگر احتجاج کرنا ہے تو اسے اسرائیل اور نیتن یاہو کے خلاف ہونا چاہیے۔

  • آبنائے ہرمز ،اسرائیلی جہاز کو نشانہ بنایاایران، انسانی ہمدردی پر  بحری آمدورفت کی اجازت

    آبنائے ہرمز ،اسرائیلی جہاز کو نشانہ بنایاایران، انسانی ہمدردی پر بحری آمدورفت کی اجازت

    پاسداران انقلاب نےآبنائے ہرمز میں صیہونی ریاست سے تعلق رکھنے والے جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے،

    ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے آبنائے ہرمز میں صیہونی ریاست سے تعلق رکھنے والے جہاز کو ڈرون سے نشانہ بنایا ہے جس کے بعد جہاز میں آگ لگ گئی۔ایرانی میڈیا کے مطابق ایران نے اسرائیل سے منسلک ایک تجارتی جہاز کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا ہے۔ایرانی سرکاری میڈیا رپورٹس کے مطابق حملے کے نتیجے میں جہاز میں آگ بھڑک اٹھی، جبکہ اس اہم سمندری گزرگاہ میں پہلے ہی جنگی صورتحال کے باعث آمد و رفت شدید متاثر ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی تجارت خصوصاً تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم راستہ سمجھا جاتا ہے، اور اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔تاحال اسرائیل کی جانب سے اس واقعے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

    دوسری جانب ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ “ضروری اشیاء” لے جانے والے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے گا۔ ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ فیصلہ تجارتی امور کے نائب سربراہ ہومان فتحی کی جانب سے جاری ایک ہدایت نامے میں کیا گیا۔ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ خوراک، بنیادی اجناس اور مویشیوں کی خوراک جیسی اشیاء لے جانے والے جہازوں کو خصوصی اجازت دی جائے گی۔ یہ سہولت خاص طور پر ان جہازوں کے لیے ہوگی جو ایرانی بندرگاہوں کی طرف جا رہے ہیں یا پہلے ہی اس خطے میں موجود ہیں۔
    ایرانی حکام نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ جاری کردہ پروٹوکول کے مطابق ان جہازوں کی آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کریں۔ ساتھ ہی ان جہازوں کی فہرست بھی ہم آہنگی کے لیے متعلقہ حکام کو فراہم کی جائے گی۔تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ ایران کن اشیاء کو “ضروری” قرار دے گا اور آیا وہ ان ممالک کے جہازوں پر پابندی برقرار رکھے گا جنہیں وہ مخالف سمجھتا ہے۔

  • عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتیں مستحکم

    عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتیں مستحکم

    عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمت آج مستحکم رہی-

    بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج ہفتے کے روز سونے کی فی اونس قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی اور سونا 4676 ڈالر کی سطح پر مستحکم ہے اسی طرح عالمی مارکیٹ میں فی اونس چاندی بھی 73.10 ڈالر کی قیمت پر برقرار رہی۔

    مقامی صرافہ بازاروں میں آج 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت بھی 4 لاکھ 90 ہزار 362 روپے اور فی 10 گرام 4 لاکھ 20 ہزار 406 روپے پر برقرار ہے، اسی طرح چاندی بھی 7794 روپے فی تولہ اور 6682 روپے فی 10 گرام کی سطح پر مستحکم ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سونے کی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمت میں اضافہ ہوا تھا۔

  • ایران میں امریکی پائلٹ کی تلاش، ماہرین نے صورتحال کو “بلی چوہے کا کھیل” قرار دے دیا

    ایران میں امریکی پائلٹ کی تلاش، ماہرین نے صورتحال کو “بلی چوہے کا کھیل” قرار دے دیا

    ایران میں امریکی فضائیہ کے ایک جنگی طیارے کے تباہ ہونے کے بعد لاپتہ پائلٹ کی تلاش کے لیے جاری آپریشن انتہائی حساس اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔

    سابق برطانوی فضائیہ کے پائلٹ جان پیٹرز نے موجودہ صورتحال کو “بلی اور چوہے کا کھیل” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک پیچیدہ اور سیاسی طور پر نہایت اہم مرحلہ ہے۔اسکائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے جان پیٹرز کا کہنا تھا کہ امریکی افواج اپنے ساتھی پائلٹ کو تلاش کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہیں، جس میں خصوصی یونٹس شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ “امریکی فورسز اپنے ساتھی کو نکالنے کے لیے مکمل حکمت عملی کے ساتھ کام کریں گی، جبکہ ایرانی فورسز بھی علاقے کو گھیرنے کی کوشش کریں گی کیونکہ یہ اب ایک سیاسی کھیل بن چکا ہے، جو انہیں بڑا فائدہ دے سکتا ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ امریکی ریسکیو صلاحیتیں “غیر معمولی حد تک مضبوط” ہیں اور اس آپریشن کے لیے وسیع وسائل استعمال کیے جائیں گے۔

    رپورٹس کے مطابق تباہ ہونے والے جنگی طیارے ایف 15 میں سوار دو رکنی عملے میں سے ایک پائلٹ کو بچا لیا گیا ہے جبکہ دوسرا تاحال لاپتہ ہے۔جان پیٹرز کا کہنا تھا کہ “میری تمام تر ہمدردیاں اس وقت اس فضائی عملے کے ساتھ ہیں۔ وہ بخوبی جانتے ہوں گے کہ انہیں کیا کرنا ہے اور امید ہے کہ وہ اپنی تربیت کو بروئے کار لاتے ہوئے محفوظ نکال لیے جائیں گے۔”

    بین الاقوامی تجزیہ کار ڈیانا منگنے کے مطابق یہ واقعہ فضائی جنگ کے خطرات کو واضح کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایرانی حکام نے مبینہ طور پر لاپتہ پائلٹ کی گرفتاری پر 60 ہزار ڈالر انعام کا اعلان کیا ہے،امریکی خصوصی فورسز کے علاقے میں موجود ہونے کی اطلاعات ہیں،ریسکیو آپریشن انتہائی خطرناک نوعیت اختیار کر چکا ہے

    ایرانی فضائی دفاع کے کمانڈر نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی فورسز نے کئی جدید جنگی طیارے تباہ کیے،درجنوں کروز میزائل مار گرائے،160 سے زائد ڈرونز تباہ کیے

    جان پیٹرز، 1991 کی خلیجی جنگ کے دوران انکا طیارہ عراق میں مار گرایا گیا تھا، نے اپنے تجربے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ میزائل لگنے کے بعد طیارہ زمین کے قریب گھوم گیا،طیارے کے گرد شعلوں کا ایک بڑا دائرہ بن گیا،زمین پر اترتے ہی 20 کے قریب عراقی فوجیوں نے فائرنگ کی اور انہیں گرفتار کر لیا،ان کی گرفتاری کے بعد تشدد زدہ تصاویر عالمی میڈیا پر نشر ہوئیں، جو جنگی قیدیوں کے خطرات کو ظاہر کرتی ہیں۔

    یہ واقعہ امریکی دعوؤں کے برعکس سامنے آیا ہے، جن میں کہا گیا تھا کہ ایران کی فضائی دفاعی صلاحیت مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے اور امریکی افواج کو مکمل فضائی برتری حاصل ہے۔تاہم ایف-15 طیارے کا گرنا اس دعوے پر سوالیہ نشان بن گیا ہے

    ادھر سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ مسلح ایرانی افراد امریکی ہیلی کاپٹروں پر فائرنگ کر رہے ہیں، جو لاپتہ پائلٹ کی تلاش میں مصروف تھے۔ماہرین کے مطابق یہ صورتحال ریسکیو آپریشن کو مزید پیچیدہ اور خطرناک بنا رہی ہے، جہاں ہر لمحہ فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

    ایران میں گرنے والے امریکی طیارے کے پائلٹ کی تلاش پر 66 ہزار ڈالرز انعام کی پیشکش
    ان اطلاعات کے بعد کہ ایک امریکی لڑاکا طیارہ ایران میں مار گرایا گیا تھا، ایرانی آؤٹ لیٹس نے دعویٰ کیا ہے کہ عملے کے دو ارکان میں سے ایک نے اجیکٹ کیا ہے اور ہو سکتا ہے کہ وہ ملک کے جنوب میں اُترا ہو۔امریکی حکام نے بی بی سی کے امریکی نیوز پارٹنر سی بی ایس کو بتایا ہے کہ طیارے کے پائلٹ کو بچا لیا گیا ہے، تاہم عملے کا ایک رُکن لاپتہ ہے۔ایرانی حکومت سے وابستہ ایرانی چینلز نے شہریوں کو انعامات کی پیشکش کرتے ہوئے پر زور دیا ہے کہ وہ ’پائلٹ کو زندہ پکڑ لیں۔‘ایرانی چینلز کے مطابق پائلٹ کو زندہ پکڑنے پر 66 ہزار امریکی ڈالرز انعام کی پیشکش کی گئی ہے۔بعض ایسی ویڈیوز بھی گردش کر رہی ہیں جس میں دو جنوبی صوبوں میں مسلح شہری امریکی عملے کے رکن کو تلاش کر رہے ہیں۔جنوبی صوبہ خوزستان کی ایک غیر تصدیق شدہ ویڈیو میں، متعدد افراد کو آتشیں اسلحہ اور اسلامی جمہوریہ کا جھنڈا اٹھائے ہوئے پائلٹ کو تلاش کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس میں ایک شخص یہ کہہ رہا ہے، ’ان شاء اللہ، ہم اسے تلاش کر لیں گے،

  • سعودی عرب میں امریکی ایمبیسی پر حملہ اسرائیل نے کیا تھا ،ایران

    سعودی عرب میں امریکی ایمبیسی پر حملہ اسرائیل نے کیا تھا ،ایران

    ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے کہا ہے کہ 3 مارچ کو ریاض میں امریکی سفارت خانے پر ہونے والا ڈرون حملہ اسرائیل نے کیا تھا۔

    الجزیرہ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے ریاض میں امریکی سفارت خانے پر ہونے والے ڈرون حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے کا ایرانی مسلح افواج سے کوئی تعلق نہیں، یہ کارروائی اسرائیل نے خطے میں اپنی حکمت عملی کے تحت انجام دی۔

    آئی آر جی سی نے وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے کا ایرانی افواج سے قطعی کوئی تعلق نہیں اور خطے میں اسرا ئیلی حکمت عملی کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کارروائی یقینی طور پر صہیونی عناصر نے کی، مسلم ممالک کو صہیونی حکومت کی خطے میں فتنہ انگیزی سے ہوشیار رہنا چاہیے اور پڑوسی ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ امریکی-صہیونی اتحاد کی تخریبی کوششوں کے خلاف چوکنا رہیں، جس کا مقصد خطے کو غیر مستحکم کرنا اور تباہی کی طرف دھکیلنا ہے۔

    یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ حملہ سعودی حکام کے بیان سے کہیں زیادہ تباہ کن تھا سعودی وزارتِ دفاع نے واقعے کو محدود نوعیت کی آگ اور معمولی نقصان قرار دیا تھا، تاہم امریکی اخبار کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ حقیقت میں لگنے والی آگ کئی گھنٹوں تک بھڑکتی رہی اور اس سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی تھی، رات کے وقت کیے گئے اس حملے میں ایرانی ڈرونز نے سفارت خانے کے محفوظ حصے کو نشانہ بنایا تھا، جہاں دن کے اوقات میں سیکڑوں افراد کام میں مصروف ہوتے ہیں۔

  • چاند کے سفر کے دوران خلا سے لی گئی زمین کی دلکش تصاویر وائرل

    چاند کے سفر کے دوران خلا سے لی گئی زمین کی دلکش تصاویر وائرل

    امریکی خلائی ادارے ناسا نے آرٹیمس II مشن کے دوران خلا بازوں کی جانب سے کھینچی گئی زمین کی پہلی دلکش تصاویر جاری کر دی ہیں-

    ناسا کے تاریخی مشن ’آرٹیمس ٹو‘ نے خلا میں اپنے سفر کے تیسرے روز ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ اورین اسپیس کرافٹ پر سوار چار رکنی عملہ اب زمین کے مقابلے میں چاند کے زیادہ قریب پہنچ چکا ہے، جو کہ گہرے خلا کی تسخیر کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔

    مشن کے تیسرے روز عملے نے مختلف اہم سرگرمیاں سرانجام دیں اس اہم سنگ میل پر خلابازوں کے تاثرات نہایت پُر جوش تھے، خاص طور پر جب انہوں نے جہاز کے ’ڈاکنگ ہیچ‘ سے چاند کا پہلا قریبی نظارہ کیا اور اسے ایک ”خوبصورت منظر“ قرار دیتے ہوئے پوری دنیا کے ساتھ اپنی خوشی شیئر کی۔

    ناسا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر یہ ویڈیو اس خوشی کے پیغام کے ساتھ شیئر کی لکھا کہ ہم اس وقت ڈاکنگ ہیچ سے چاند کو دیکھ سکتے ہیں، یہ ایک نہایت خوبصورت نظارہ ہے۔

    ناسا کی جانب سے جاری کردہ اس ویڈیو میں سفر کی دلچسپ جھلکیاں دکھائی گئی ہیں، جس میں عملے کے ارکان کو زیرو گریوٹی میں تیرتے ہوئے اور اپنے معمول کے کام انجام دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے،ویڈیو میں خلابازوں کو نہ صرف جہاز کے اندرونی نظام کی مانیٹرنگ کرتے دکھایا گیا ہے بلکہ وہ چاند کے گرد چکر لگانے یعنی ’لونر فلائی بائی‘ کے لیے ضروری حساب کتاب اور تکنیکی تیاریوں میں بھی مصروف نظر آتے ہیں-

    ویڈیو میں شئیر کی گئیں تصاویر آرٹیمس II کے کمانڈر ریڈ وائزمین نے اورائن کیپسول میں موجود اپنے ذاتی کمپیوٹنگ ڈیوائس، یعنی ایک کیمرہ سے لیس ٹیبلیٹ کے ذریعے کھینچیں۔ تصاویر میں خلا سے نظر آنے والی زمین کا ایسا حسین منظر دکھایا گیا ہے جو دیکھنے والوں کو حیران کر دیتا ہے۔

    nasa

    ناسا کے مطابق ایک تصویر میں سورج کے غروب ہونے کے وقت زمین کے کناروں پر روشنی کی خوبصورت جھلک دیکھی جا سکتی ہے، جبکہ مختلف مقامات پر شمالی روشنیاں (Auroras) بھی نمایاں ہیں اسی کے ساتھ زوڈیاکل لائٹ کی روشنی بھی ایک خاص انداز میں نظر آتی ہے، جو خلا سے زمین کی دلکشی کو مزید بڑھا دیتی ہے۔

    nasa

    ایک اور تصویر، جو چند منٹ بعد لی گئی، زمین کے رات کے منظر کو اجاگر کرتی ہے، جہاں مختلف شہروں کی روشنیاں ستاروں کی طرح چمکتی دکھائی دیتی ہیں، جبکہ سورج کی روشنی سیارے کے کنارے پر واضح دیکھی جا سکتی ہے۔

    nasa

    اورائن خلائی جہاز کی کھڑکی سے لی گئی ایک تصویر کو ناسا نے ’’خلا بازوں کی آنکھوں سے دیکھی گئی نیلی زمین‘‘ قرار دیا ہے، جو انسان اور اس کے سیارے کے درمیان گہرے تعلق کی عکاسی کرتی ہے۔

    earth

    مشن اسپیشلسٹ کرسٹینا کوچ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ زمین کو ایک ہی منظر میں دیکھنا ایک ناقابلِ بیان تجربہ ہے۔ ان کے مطابق دن کی روشنی میں چمکتی زمین اور رات میں چاندنی کی روشنی میں اس کا نظارہ بے حد دلکش ہے، اور اب وہ چاند کے اسی طرح کے مناظر دیکھنے کے لیے مزید پرجوش ہیں۔

    اسی دوران کمانڈر ریڈ وائزمین نے بتایا کہ ایک لمحہ ایسا بھی آیا جب خلائی جہاز کو اس زاویے پر موڑا گیا کہ پوری زمین ایک ساتھ نظر آنے لگی، جس میں افریقہ اور یورپ واضح دکھائی دے رہے تھے اور شمالی روشنیاں بھی جھلک رہی تھیں۔ انہوں نے اسے اپنی زندگی کا سب سے حیران کن لمحہ قرار دیا۔

    کینیڈین خلائی ایجنسی کے خلا باز جیریمی ہینسن نے بھی کہا کہ اس قدر خوبصورت مناظر دیکھ کر عملہ کھانے تک بھول گیا اور سب کی نظریں کھڑکی سے باہر جمی رہیں۔

    ناسا کے مطابق خلا باز مسلسل تصاویر لینے میں مصروف رہے، یہاں تک کہ انہوں نے اپنا پہلا مشترکہ خلائی کھانا بھی کچھ دیر کے لیے مؤخر کردیا تاکہ اس نادر منظر کو محفوظ کیا جا سکے-

    اس تاریخی مشن کا آغاز یکم اپریل 2026 کو فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے ہوا تھا، جب ناسا کے طاقتور ترین راکٹ ’اسپیس لانچ سسٹم‘ نے چار خلابازوں، ریڈ وائز مین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور کینیڈا کے جیریمی ہینسن کو لے کر فضاؤں کو چیرا تھا۔

    ’آرٹیمس ٹو‘ دراصل 1972 کے اپولو مشن کے بعد پہلا انسانی مشن ہے جو انسانوں کو زمین کے مدار سے باہر لے کر گیا ہے۔ اس 10 روزہ سفر کا بنیادی مقصد اورین جہاز کے لائف سپورٹ سسٹم کی مکمل جانچ کرنا ہے تاکہ مستقبل کے مشن میں انسانوں کو چاند کی سطح پر اتارنے اور وہاں مستقل قیام کے خواب کو حقیقت کا روپ دیا جا سکے۔

  • جدید جنگی جہاز ’پی این ایس خیبر‘ پاک بحریہ کے بیڑے میں شامل

    جدید جنگی جہاز ’پی این ایس خیبر‘ پاک بحریہ کے بیڑے میں شامل

    سربراہ پاک بحریہ ایڈمرل نوید اشرف نے کہا ہے کہ پاک بحریہ دشمن کی اہم تنصیبات اور بحری اثاثوں کو نشانہ بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے اور اس مقصد کے لیے اسے جدید ترین پلیٹ فارمز اور مخصوص ٹیکنالوجیز سے لیس کیا جا رہا ہے۔

    پاک فوج کے محکمہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ایڈمرل نوید اشرف نے دوسرے پی این ملجم کلاس کارویٹ، ‘پی این ایس خیبر’ کی پاک بحریہ کے بیڑے میں شمولیت کی پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایک مضبوط، متوازن اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس بحریہ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اسے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ناگزیر قرار دیا۔نیول چیف نے اپنے خطاب میں تزویراتی انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ ‘معرکہ حق’ کے دوران پاک بحریہ بھارتی طیارہ بردار جہاز کو غرق کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار تھی، جس کے خوف نے بھارتی بحریہ کو اپنی محفوظ پناہ گاہوں تک محدود رہنے پر مجبور کر دیا۔انہوں نے واضح کیا کہ معرکہ حق کے دوران بحری آپریشنز کی مہارت اور طرزِ عمل دشمن کے لیے یہ واضح پیغام ہے کہ پاکستان کے بحری مفادات کو چیلنج کرنے کی کسی بھی کوشش کا بھرپور اور عبرت ناک جواب دیا جائے گا۔ ایڈمرل نوید اشرف کا کہنا تھا کہ اہم بحری تجارتی اور توانائی کی گزرگاہوں پر پاکستان کا محلِ وقوع تقاضا کرتا ہے کہ ہماری بحری قوت ہر چیلنج سے نمٹنے کے لیے تیار رہے۔ایڈمرل نوید اشرف نے مزید کہا کہ ‘پی این ایس خیبر’ جیسے جدید جنگی جہاز اور مستقبل میں شامل ہونے والی ‘ہنگور کلاس’ آبدوزیں پاک بحریہ کی آپریشنل استعداد اور تزویراتی رسائی کو مزید وسعت دیں گی۔

    دوسری جانب وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاک بحریہ کے بیڑے میں جدید جنگی جہاز پی این ایس خیبر کی شمولیت پر دلی مسرت اور فخر کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ اہم پیش رفت پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور بحری سرحدوں کے مؤثر تحفظ کی جانب ایک سنگِ میل ہے،پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع نہایت اہمیت کا حامل ہے، جہاں سے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے بڑے بحری راستے گزرتے ہیں،ایک مضبوط، متوازن اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس بحریہ ناگزیر ہے تاکہ قومی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور سمندری مواصلاتی راستے محفوظ رہیں، "معرکۂ حق” کے دوران پاک بحریہ کی پیشہ ورانہ مہارت اور حکمتِ عملی نے دشمن کو پسپا ہونے پر مجبور کیا، پاکستان اپنی خودمختاری اور بحری مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا،جدید جنگی پلیٹ فارمز، بشمول پی این ایس خیبر اور آنے والی ہنگور کلاس آبدوزیں، پاک بحریہ کی آپریشنل صلاحیت، دفاعی طاقت اور اسٹریٹجک رسائی میں نمایاں اضافہ کریں گی،حکومت پاک بحریہ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے پرعزم ہے،

  • اسحاق ڈار کا ایرانی وزیر خارجہ کے بیان کا خیر مقدم

    اسحاق ڈار کا ایرانی وزیر خارجہ کے بیان کا خیر مقدم

    اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے حالیہ بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اپنے بیان میں اسحاق ڈار نے کہا کہ وہ اپنے "بھائی” عباس عراقچی کی جانب سے پاکستان سے متعلق وضاحت کو سراہتے ہیں۔ انہوں نے اس بیان کو دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور سفارتی تعاون کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔

    اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے بیان میں واضح کیا تھا کہ ایران نے کبھی بھی مذاکرات کے لیے اسلام آباد جانے سے انکار نہیں کیا۔ انہوں نے جنگ بندی کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اس پر شکریہ بھی ادا کیا۔عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران اس بات پر زور دیتا ہے کہ جنگ کا خاتمہ جامع اور مستقل بنیادوں پر ہونا چاہیے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکی میڈیا ایران کے مؤقف کو غلط انداز میں پیش کر رہا ہے، جس سے حقائق مسخ ہو رہے ہیں۔

  • مرکزی مسلم لیگ کا اجلاس،مزمل اقبال ہاشمی مرکزی ترجمان مقرر

    مرکزی مسلم لیگ کا اجلاس،مزمل اقبال ہاشمی مرکزی ترجمان مقرر

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو کی زیر صدارت اجلاس میں تقررو تبادلوں‌کا اعلان کر دیا گیا، مزمل اقبال ہاشمی مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان جبکہ تابش قیوم مسلم یوتھ لیگ کے صدر مقرر کر دیئے گئے

    مرکزی مسلم لیگ کے اجلاس میں سیکرٹری جنرل سیف اللہ قصوری، نائب صدور حافظ طلحہ سعید، حافظ عبدالرؤف، جوائنٹ سیکرٹری محمد یعقوب شیخ، ڈپٹی سیکرٹری جنرل خالد نیک گجر سمیت دیگر نے شرکت کی، اجلاس میں ملکی سیاسی و معاشی صورتحال،مشرق وسطیٰ جنگ بارے غورو خوض کیا گیا، اجلاس میں پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کی کوششوں کو سراہا گیا، اجلاس میں پارٹی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا، اجلاس میں متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان مزمل اقبال ہاشمی ہوں گے جبکہ تابش قیوم مسلم یوتھ لیگ کے صدر ہوں‌گے،عقیل لغاری کو صدر مرکزی مسلم لیگ بلوچستان، اجمل چانڈیہ کو صدر مرکزی مسلم لیگ جنوبی پنجاب، عمران بھٹی کو صدر مرکزی مسلم لیگ وسطی پنجاب مقرر کیا گیا،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ انٹرا پارٹی انتخابات کا دوسرا مرحلہ الیکشن کمیشن مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے جاری شیڈول کے مطابق ہی مکمل کیا جائے گا.

  • عباس عراقچی کا ٹویٹ، مخالفین کے جھوٹے پروپیگنڈے کی بھرپور تردید

    عباس عراقچی کا ٹویٹ، مخالفین کے جھوٹے پروپیگنڈے کی بھرپور تردید

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے ایکس (ٹویٹر) ہینڈل پر جاری کردہ بیان میں واضح طور پر کہا ہے کہ ایران نے اسلام آباد میں ہونے والے کسی بھی مذاکرات کا حصہ بننے سے کبھی انکار نہیں کیا۔ انہوں نے ایرانی انکار کے حوالے سے مغربی میڈیا کی من گھڑت کہانیوں کی دوٹوک الفاظ میں مذمت کی ہے۔

    ان کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا اعتراف اور شکریہ، عالمی امن اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے حوالے سے پاکستان کی ساکھ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ بیان مغربی اور بھارتی میڈیا کے ساتھ ساتھ پاکستان میں موجود ان کے آلہ کاروں کی جانب سے چلائی جانے والی ڈس انفارمیشن مہم کا خاتمہ کرتا ہے۔ الحمدللہ، ایک مخلص امن ثالث کے طور پر پاکستان کا قد برقرار ہے اور مخالفین کا مذموم پروپیگنڈا ایک بار پھر بے نقاب ہو گیا ہے۔ پاکستان تمام اہم اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ تعمیری روابط کے ذریعے علاقائی امن کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا تاکہ مایوس اور دشمن ریاستوں اور غیر ریاستی عناصر کو ناکام بنایا جا سکے۔