چھانگا مانگا کے علاقے ویرسنگھ والا میں افسوسناک حادثے کے دوران چار کمسن بچے تالاب میں ڈوب کر جاں بحق ہوگئے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور کارروائی کے بعد چاروں بچوں کی لاشیں تالاب سے نکال لیں۔ جاں بحق بچوں کی عمریں 9 سے 11 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔
علاقہ مکینوں کے مطابق بچے ٹوبہ ٹیک سنگھ سے گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے اپنے ننھیال آئے ہوئے تھے۔ واقعے کے وقت ان کے والدین قریبی جنگل میں لکڑیاں لینے گئے ہوئے تھے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ایک بچہ کھیلتے ہوئے اچانک تالاب میں گر گیا۔ اسے بچانے کی کوشش میں دیگر تین بچے بھی پانی میں اتر گئے، تاہم تالاب کی گہرائی 8 سے 10 فٹ ہونے کے باعث چاروں بچے ڈوب گئے۔
ریسکیو حکام کے مطابق واقعے کے بعد لاشوں کو ضروری کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ حادثے سے علاقے میں سوگ کی فضا چھا گئی ہے۔
Blog
-

چھانگا مانگا میں تالاب میں ڈوب کر 4 بچے جاں بحق
-

ریاست ہمشہ پہلے ماں بن کے ڈیل کرتی ہے بعد میں باپ بنتی ہے۔سکیورٹی ذرائع
سکیورٹی ذرائع نےکہا ہےکہ پاکستان امریکا ایران کے معاملے پر ایک ایسے ایشو کو ڈیل کر رہا ہے جو بہت پیچیدہ ہے۔
اعلیٰ سکیورٹی حکام نے صحافیوں سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا اس میں کردار ثالث کا ہے، فیلڈ مارشل کا اس معاملے میں ایک ہی انٹرسٹ ہے، وہ ہے امن اور استحکام،سکیورٹی ذرائع نے بتایا اگر یہ جنگ نہ رکتی تو اس کے سنگین نتائج ہوتے، ہم ہیڈلائن ڈپلومیسی میں دلچسپی نہیں رکھتے، پاکستان نے ثالثی کے تمام تقاضے پورے کیے ہیں ، دنیا کو آہستہ آہستہ اس کا ادراک ہو رہا ہےکہ پاکستان نےکیا کیا ہے۔عظیم لڑائی وہ ہوتی ہے جہاں آپ بغیر لڑے جنگ جیتیں، ابھی بھی اس معاملے میں بگاڑ پیدا کرنے والے موجود ہیں، اسرائیل کا انٹرنیشنل میڈیا پر اثر و رسوخ ہے، قطر، سعودی عرب، ترکیے، مصر اور یو اے ای کو بھی اس کا کریڈٹ جاتا ہے، ان سب ممالک نے پاکستان کی امن کی خواہش پر لبیک کہا۔ پاکستان کے ایران، سعودی عرب امریکا سب ممالک کے ساتھ الگ الگ تعلقات ہیں، افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔
سکیورٹی ذرائع نے بتایاکہ ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کے بھارت کے دورے سے ہمیں فرق نہیں پڑتا، کون کس سے مل رہا ہے اس سے ہمیں فرق نہیں پڑتا، ہم اتنے تنگ نظریےکے ساتھ چیزوں کو نہیں دیکھتے، ہمارے ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق 15 جون 2026 تک 32092 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیےگئے، دہشتگردی کی 2170 کارروائیاں ہوئیں، 64 فیصد خیبرپختونخواہ اور 34 فیصد بلوچستان میں ہوئیں، 1861 دہشتگردوں کو ہلاک کیاگیا، 640 پاک فوج، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور شہری شہید ہوئے، 862 دہشتگرد غضب للحق آپریشن افغانستان میں مارےگئے باقی 999 پاکستان میں ہلاک ہوئے۔
سیکورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کا پہلا نشان حیدر کشمیر سے ہے، ہمارا ایشو دہشتگرد رجیم سے ہے وہاں کی عوام سے نہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بی جے پی نے بھی پیسا لگایا، مقبوضہ کشمیر میں نقل و حرکت اور اظہار رائے کی آزادی نہیں ہے، سوال کیا کہ کیا وہ وہاں کے مسلمانوں کو خرید سکتے ہیں؟ کیا وہاں سے پاکستان کیلئے لوگوں کے جذبات سامنے نہیں آئے، بھارت مقبوضہ کشمیرکا ملٹری کے ذریعے بھی کچھ نہ کرسکا اس لیے آزاد کشمیر میں آگ لگائی ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق آزاد کشمیر میں حقوق کی تحریک سے آغاز کیا گیا، ہماری ڈیفالٹ آپشن ہمیشہ بات چیت ہوتی ہے، اصل کہانی کیا ہے یہ سامنے آنے میں وقت لگا، ہمیں پتا تھا جے اے اے سی کا ایجنڈا کیا ہے، یہ کدھر سے آرہے ہیں، بی وائے سی کو جب دہشتگرد تنظیم کہا گیا تب بھی بہت شور مچا تھا، پھر بی وائے سی بھی کھل کر سامنے آگئی۔آزاد کشمیر حکومت نے لوگوں کو کہا ہے اپنی دکانیں کھولیں لیکن جے اے اے سی نے عوام کو کہا ہے جو دکانیں کھولے گا ہم آگ لگا دیں گے۔ آزاد کشمیر حکومت پولیٹیکل پراسیس فالو کررہی تھی، آزاد کشمیر میں بیٹھ کر ریاست مخالف نعرے لگائے جا رہے ہیں، ریاست پیار محبت سے ڈیل کررہی ہے، ریاست ہمشہ پہلے ماں بن کے ڈیل کرتی ہے بعد میں باپ بنتی ہے۔ ہر لمحے جے اے اے سی مزید کھل کر سامنے آرہی ہے، ان کو آئینی، قانونی طریقے سے ڈیل کیا جائے گا۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق ہمارے اندرونی چیلنجز میں دہشتگردی بھی ہے، اب جنگ جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ہوچکی ہے، اس تناظر میں بجٹ کم ہے، ملٹری اور سیاسی لیڈر شپ کو بھی اس کا احساس ہے۔ فوج میں 40 فیصد کےقریب جوان کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔
سیکورٹی ذرائع نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ کسی بھی ملاقات کی تردید کردی، بتایا گیا کہ 9 مئی کرنے اور کروانے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے، جو روپوش ہیں تو قانون اپنا راستہ لےگا
-

پنجاب اسمبلی میں بجٹ پیش، اپوزیشن کا شدید احتجاج، حکومت نے ترقی، ہنر اور سکیورٹی منصوبوں کا اعلان
لاہور: پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس ایک گھنٹہ 40 منٹ کی تاخیر سے اسپیکر ملک محمد احمد خان کی صدارت میں شروع ہوا، جس میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف بھی شریک تھیں۔ اجلاس کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک، نعت رسول مقبول ﷺ اور قومی ترانے سے کیا گیا۔
اجلاس کے آغاز کے ساتھ ہی اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا اور "شرم کرو، حیا کرو، خان کو رہا کرو” اور "جعلی بجٹ نامنظور” کے نعرے لگائے۔ اپوزیشن ارکان بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے مطالبے پر مبنی پلے کارڈز اٹھائے ایوان میں داخل ہوئے اور وزیر خزانہ کی تقریر کے دوران اسپیکر ڈائس اور وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے سامنے جمع ہو کر مسلسل نعرے بازی کرتے رہے، جس سے ایوان میں ہنگامہ آرائی کا ماحول پیدا ہوگیا۔
وزیر خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمان نے بجٹ تقریر میں ایران۔امریکا امن معاہدے پر پوری قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے قائد نواز شریف، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا، معرکۂ حق میں کامیابی کو دنیا تسلیم کر رہی ہے، جبکہ ایران۔امریکا کشیدگی نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کفایت شعاری کی بہترین مثال قائم کی۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ترقیاتی منصوبے بلا تعطل جاری رہے، مالی نظم و ضبط کے تحت وزرا کی تنخواہوں میں بھی کمی کی گئی، جبکہ ہر ضلع اور تحصیل ترقی کے سفر میں شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب نے دفاعی ضروریات کے لیے وفاق کو 546 ارب روپے فراہم کیے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ 2025 میں شدید بارشوں اور سیلاب سے پنجاب کے 27 اضلاع متاثر ہوئے، تاہم وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر فوری ریلیف آپریشن شروع کیا گیا اور متاثرہ خاندانوں کو خوراک، ادویات، صاف پانی، عارضی رہائش اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی گئیں۔
انہوں نے بتایا کہ چیف منسٹر اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت 2 ارب 30 کروڑ روپے سے جدید تربیتی پروگرام شروع کیے گئے، جن سے اب تک 5 ہزار نوجوان مستفید ہوئے ہیں، جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے 26 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
سی ایم اسکلڈ پنجاب پروگرام کے لیے ایک ارب 44 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں، جس کے ذریعے اب تک 2 ہزار 200 افراد کو بیرون ملک روزگار کے مواقع فراہم کیے جا چکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ "اسکلز فار گلوبل نیڈز” پروگرام کے لیے 51 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جس کے تحت 2 لاکھ 40 ہزار افراد کو عالمی معیار کی تربیت دی جائے گی۔ پرواز کارڈ کے ذریعے نوجوانوں کو بین الاقوامی روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے، جبکہ تعمیرات، صحت اور آٹوموٹیو سمیت 12 عالمی معیار کے تربیتی پروگرام شروع کیے جائیں گے۔ حکومت کو توقع ہے کہ اس منصوبے سے سالانہ ترسیلات زر میں 466 ملین ڈالر کا اضافہ ہوگا۔
فرنٹیئر ٹیک اسکلز اینڈ انوویٹ پنجاب پروگرام کے لیے 12 ارب 30 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت جدید ایل ایم ایس پلیٹ فارم، انکیوبیٹرز، 60 لاکھ افراد کی ٹیکنالوجی تربیت، 15 لاکھ فرنٹیئر ٹیک گریجویٹس کی تیاری اور 1200 اسٹارٹ اپس کی معاونت کی جائے گی، جبکہ خواتین کی کم از کم 40 فیصد شرکت یقینی بنائی جائے گی۔
ایکسیلیریٹ پنجاب ٹیک اسکلز پروگرام کے لیے 19 ارب 70 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں، جس کے تحت بوٹ کیمپس، آئی ٹی انٹرن شپ اور میکر اسپیسز سے 70 ہزار 500 سے زائد نوجوان فائدہ اٹھائیں گے۔ بین الاقوامی آئی ٹی سرٹیفکیشنز کے ذریعے نوجوانوں کی متوقع ماہانہ آمدن ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ لاہور میں 99 کروڑ روپے کی لاگت سے سینٹر آف ایکسیلنس فار ایڈوانسڈ آٹوموٹیو ٹیکنالوجیز قائم کیا جائے گا، جہاں ہر سال 400 افراد کو عالمی معیار کی فنی تربیت فراہم کی جائے گی۔
سکیورٹی کے شعبے میں انہوں نے کہا کہ اسمارٹ سیف سٹیز پروگرام کے تحت جدید ڈیجیٹل نگرانی کا نظام تحصیل سطح تک توسیع دی جائے گی، جبکہ ریجنل ڈیٹا سینٹرز اور جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز بھی قائم کیے جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے مجموعی طور پر 47 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ جرائم کی روک تھام اور شہریوں کے تحفظ کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ اسمارٹ سیف سٹیز منصوبے سے پنجاب کے 19 اضلاع اور متعدد تحصیلیں مستفید ہوں گی۔ کچے کے علاقوں میں پولیس نظام مضبوط بنانے کے لیے 2 ارب 20 کروڑ روپے سے نئے پولیس اسٹیشنز، پوسٹس اور پکٹس تعمیر کی جائیں گی، جبکہ 28 اضلاع میں 14 ارب 21 کروڑ روپے کی لاگت سے جدید کرائم سین یونٹس قائم کیے جائیں گے، جہاں بین الاقوامی معیار کے مطابق شواہد اکٹھے اور محفوظ کیے جائیں گے تاکہ تفتیشی نظام مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ -

عقیدہ درست انسان چست شیطان سست،تحریر: ظفر اقبال ظفر
مسلمان ماؤں کا یہ اصول ہے کہ وہ سونے سے پہلے اپنے بچوں کو قرآن کی سورتیں سنایا کرتی ہیں والدین بچوں کو خدا کے متعلق تسکین بخش کلمات دہرایا کرتے وہ خدا کے افضل ترین جہانوں میں اپنی اولاد کے لیے جگہ بنایا کرتے ہیں۔خدا کے محبوب ترین بندوں کی محبت و عقیدت سے بچوں کے دل سجایا کرتے تاکہ جیسے جیسے بچے بڑے ہوتے جائیں ان کے اندررکھی مقدس عبادتیں محبتیں عقیدتیں بھی بڑی ہوتی جائیں والدین بچوں کو اس حقیقت سے آشنا کرواتے ہیں کہ دنیاوی پریشانیوں کا شاہی علاج حقیقی مذہبی عقیدہ ہے۔
اس حقیقی مذہبی عقیدے کی تربیت میں ڈھلی رُوح پر دنیا کی ہر مصیبتیں تکلیفیں پریشانیاں امتحان غالب نہیں آتے اور بندہ خدا کے بارے میں صاحب یقین رہتا ہے۔میری امی جان گہرا،پائیداراور ابدی یقین خدا تعالیٰ کی ذات پر رکھتے ہوئے کہتی ہیں کہ اگر ہم خدا سے محبت کریں اس کے اور اس کے پیغمبر ﷺ کے احکامات کی تعمیل کریں تو اول و آخر سب ٹھیک ٹھاک رہے گا انہوں نے اس عقیدے کے ساتھ حالات زندگی سازگار بنائے رکھے کشمکش اور دل برگشتگی کے تمام سالوں کے دروان کبھی پریشان و مایوس نہیں ہوئیں خدا کے حضور سجدہ شکراور دعائیں بجا لا کر مصائب کو اپنی ایمانی قوت سے کمزور کیا۔
جو لوگ مذہب اسلام سے انسانی اہمیت کا باب تلاش کرکے نظریہ بنا تے ہیں وہ فرقوں گروہوں جماعتوں کے اختلافات میں دلچسپی لینے کی بجائے مذہب جو کچھ انسانیت کے لیے کرتا ہے اس میں گہری دلچسپی لیتے ہیں کیونکہ یہ ناصرف حسین خوش باش عزت و کامیابی سے مکمل زندگی بسر کرنے میں مدد دیتا ہے بلکہ رُوحانی قدروں میں بھی اضافہ کرکے حسین تر اور مطمئن تر کیفیات سے مالا مال کرتا ہے۔ دین اسلام زمین پہ اترنے سے پہلے عالم ارواح میں پیغمبروں کے چشموں سے رضا الٰہی کا آب حیات پی کر آیا ہے جو مجھے زندگی بسر کرنے میں نیا ولولہ، نیا جوش، یقین،امید،جرت، دیتے ہوئے پریشانی خوف ڈر تناؤ اور تشویش دُور کرتا ہے اپنی راہنمائی میں میری زندگی کا مقصد اور راہیں متعین کرتے ہوئے خوشی،مسرت، صحت، تندرستی سے مالا مال کرتا ہے اور ہر قبول کرنے والے کو زندگی کے گرد باداورریتلے صحراؤں کے درمیان امن و تسکین کا نخلستان تخلیق کرنے میں مدد دیتا ہے۔
پہلے لوگ سائنس اور مذہب کی آویزش کے متعلق باتیں کیاکرتے تھے لیکن اب نہیں کرتے کیونکہ جدیدسائنسی تحقیقی ترقی اور ماہرین علم امراض النفس وہی سکھا رہے ہیں جو ہمارے نبی کریم ﷺ اپنی اُمت کو بتا چکے ہیں اب توعلمی وسائنسی ترقی پانے والے غیر مسلم بھی تصدیق کرنے لگے ہیں کہ نماز اور مستحکم دینی عقیدہ پریشانیوں،تشویشوں،ڈروں،سمیت اعصابی کشمکشوں کو دُور کرنے میں مدد دیتا ہے جو شخص حقیقی معنوں میں دین اسلام کا پابند ہوتا ہے وہ اعصابی اور زہنی امراض کا شکار نہیں ہوتا۔اگر مذہب سچا نہیں ہے تو دنیا بے معنی ہے اور اگر مذہب سچا ہے مگر ماننے والا سچا نہیں ہے تو آخرت بے معنی ہے۔ سچے دین کا سچاماننے والاہی دنیا و آخرت میں فائدہ اُٹھاتا ہے۔ نوے سالہ ایک خاموش متین اور مطمئن شخص سے پوچھا گیا کہ آپ کبھی پریشان نہیں ہوئے؟اس نے جواب دیا۔نہیں،میرا عقیدہ ہے کہ خدائے حقیقی قادر مطلق ہے جب خداہر چیز پرمختار ہے تو آخر میں ہر چیز کا نتیجہ بہترین ہی ظاہر ہوگا پھر مجھے پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے؟
زمانہ جہالت میں انسانی جانوں کو جھوٹے خداؤں پر وار دیا جاتا تھا پھر سچے خدا نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے انسانوں تک اُس حقیقی دین کی دعوت پہنچائی جو انسانوں کو نوازنے پر مبنی ہے جس نے فراوانی کے ساتھ خوشحال زندگی کی نوید سناتے ہوئے بتایا کہ مذہب انسانوں کے لیے ہوتا ہے ناکہ انسان مذہب کے لیے۔مذہب کے نا م پر انسانوں کو سولی پہ چڑھانے والوں کا راستہ روکا گیاجھوٹے خداؤں کے پیروکاروں نے گناہوں کی بجائے خوف کا زیادہ استعمال کیاجبکہ خوف کا غلط پہلو گناہ ہی ہے ان خوفزدہ گنہگاروں کوحسین تر،مکمل تر،خوش تر،بلند تر اسلامی زندگی کے علم سے آشنا کرکے زندگیاں بدل دی گئیں۔چند نظریات کو زہنی طور پر قبول کرکے کسی خاص اصول کو اختیار کرنے سے مذہبی پابندی نہیں ہوتی سچا مذہبی بننے کے لیے ایک مخصوص رُوح کا مالک ہونا اور ایک مخصوص زندگی اختیار کرنا ضروری ہے اسی خصوصیت کی بنا پر آدمی کی عمر کے ساتھ ساتھ اس کا خدا پر یقین بھی بڑھتا چلا جاتا ہے۔
میں نے جب یقین کے پیالے کو دعا کے ہاتھوں سے خدا کی جانب کیا تو وہ مراد سے بھر گیا اور میں المناک گمراہی پر شرمندہ بھی ہوا کہ میں اپنی ساری کٹھن اور جگر گذار لڑائیاں تنہا ہی سر کرنے میں لگا رہا میں نے دُعا کے ذریعے ہر بات خدا تک کیوں نہیں پہنچائی۔ہماری زندگی کے تاریک لمحات صرف وقتی و عارضی ہوتے ہیں جنہیں دُعا کے ذریعے سہانے اور تابناک مستقبل میں بدلا جا سکتا ہے تلخ حالات کی ذر میں زندگی کے خاتمے تک پہنچنے والی سوچ کو دُعا جینے کی سمت پر ڈال دیتی ہے۔دنیا کے ہر مسلے کا حل مذہبی نقطہ نظرسے مل جاتا ہے۔لوگ اس لیے رُوحانی و جسمانی طور پر بیمار ہوئے کیونکہ وہ اس چیز سے محروم ہوچکے تھے جو ہر زمانے کے زندہ مذہب نے اپنے پیروکاروں کو دی ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اس وقت تک کوئی بھی صحت یاب نہ ہوسکا جب تک اس نے دوبارہ مذہب سے رجوع نہ کیا۔ایمان خدائی قوتوں میں سے ایک قوت ہے جن کے سہارے انسان زندہ رہتا ہے اور اس کی عدم موجودگی کا نتیجہ شکست اور انحطاط ہوتا ہے۔
ذکر و ازکار زندگی بخش قوت سے فیض یاب کرتے ہیں وہ ہزاروں مصیبت زدہ رُوحیں جو پاگل خانوں میں چلا رہی ہیں امن و سکون کی زندگی بسر کر سکتی تھیں اگر انہوں نے اپنی زہنی جنگیں تنہا لڑنے کی بجائے اعلیٰ،بلند و برتر خدائی طاقت سے مدد مانگی ہوتی۔ابدی و غیر فانی عظیم رُوحانی حقیقتوں اور سچائیوں کو یاد کرنے سے اعصاب کو سکون جسم کو آرام اور تناظر وسیع ہوتا ہے اپنی قوتوں کو نئی قدریں متعین کرنے میں مدد ملتی ہے
-

امریکا ایران معاہدے کے بعد ایرانی ریال کی قدر میں نمایاں اضافہ
امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کے بعد ایرانی ریال کی قدر میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے، جبکہ مقامی مارکیٹ میں اس کی طلب بھی غیر معمولی حد تک بڑھ گئی ہے۔
ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے مطابق ایک ہی روز میں ایک کروڑ ایرانی ریال کی مالیت میں تقریباً 1,500 پاکستانی روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد مارکیٹ میں ایک کروڑ ایرانی ریال کی قیمت 4,000 روپے تک پہنچ گئی۔
ایسوسی ایشن کے مطابق معاہدے کے اعلان کے پہلے ہی روز تقریباً 25 ارب روپے مالیت کے ایرانی ریال کی خرید و فروخت ریکارڈ کی گئی، جو سرمایہ کاروں کے بڑھتے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔
چیئرمین ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن ملک بوستان کا کہنا ہے کہ آج بھی ایرانی ریال کی طلب میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ معاہدے کے بعد مارکیٹ میں ایرانی کرنسی کی سرگرمیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ -

پسینے میں نہائی ہوئی نیند،تحریر: بینا علی
یہ ایک باپ کی لکھی ہوئی تحریر کے چند الفاظ جس نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ جو لوگ ہماری تپش کو محسوس نہیں کر سکتے، وہ ہماری مشکلات کو کیا سمجھیں گے؟
بیٹی بار بار پوچھ رہی تھی: بابا بجلی کب آئے گی؟
میں ہر بار یہی کہتا: بیٹا بس ابھی آ جائے گی۔
لیکن بجلی نہیں آئی۔ اور میری بیٹی انتظار کرتے کرتے سو گئی۔سخت گرمی تھی۔ پسینے سے وہ ایسی بھیگی ہوئی تھی جیسے ابھی نہائی ہو۔
یہ صرف ایک باپ کے جذبات نہیں ہر غریب گھر کی کہانی ہے۔ یہاں لوگوں کو گھنٹوں لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔گرمی میں بہت مجبور ہو کر رہنا پڑتا ہے۔اور جن لوگوں کے ہاتھ میں ہمارے فیصلے ہیں وہ گھروں سے نکلتے ہیں تو اے سی والی گاڑیوں میں جاتے ہیں۔ ان کی میٹنگیں بھی ایسے بڑے ہوٹلوں میں ہوتی ہیں جہاں ہر طرف ٹھنڈک ہوتی ہے۔ ان کے بجلی کے بل تو معاف ہوتے ہیں۔ ان کے شاندار گھروں اور بڑے بڑے بنگلوں میں بھی اے سی کی سہولت ہر وقت موجود ہوتی ہے۔ جن کے عالیشان محلات میں بجلی جاتیہی نہیں ۔انہوں نے تو کبھی گرمی کی تپش محسوس ہی نہیں کی۔تو وہ عوام کے درد کو کیسے سمجھیں گے؟ وہ اس بچی کی تکلیف کو کیسے محسوس کریں گے؟ وہ ایک باپ کی بے بسی کو کیسے جانیں گے؟کاش! ایک دن کے لیے ہی سہی یہ بڑے لوگ اپنے اے سی بند کر کے ہمارے گھروں میں آ کر بیٹھیں۔ ایک رات یہ اپنی بیٹیوں کو اس گرمی میں سوتا دیکھیں۔ تب انہیں پتہ چلے کہ بجلی جانا صرف "لوڈشیڈنگ” نہیں ہوتا۔ یہ ایک باپ کا مان ٹوٹنا ہوتا ہے۔ یہ ایک معصوم بچے کے خوابوں کا پگھلنا ہوتا ہے۔
یہ بجلی نہیں گئی ہمارا سکون چلا گیا۔ بچوں کا بچپن جل گیا۔
کاش! کوئی تو ہماری تکلیف کو سمجھے۔ -

عید کے کپڑوں سے کفن تک،تحریر: بینا علی
گزشتہ ہفتے سے روز ایک سانحہ ہوتا ہے جو دل جھنجھوڑ دیتا ہے۔ثوبیہ شاہد نو سال کی معصوم بچی۔ثوبیہ اپنے ماں باپ کے ساتھ آسٹریلیا میں رہتی تھی۔ عید کی خوشیاں منانے اپنے بزرگوں سے ملنے اور یادیں سمیٹنے برسوں بعد پاکستان آئی تھی۔ چکوال میں دادا، دادی کی آغوش رشتوں کی محبت اور عید کی رونقیں اس کی منتظر تھیں۔مگر وہ واپس نہ جا سکی۔آج سی ٹی ڈی کی فائرنگ میں ننھی ثوبیہ کی جان چلی گئی، جبکہ اس کے والد اور بھائی زخمی ہو گئے۔ بتایا گیا کہ انہیں "2025 ماڈل گاڑی میں دہشتگرد” سمجھ لیا گیا۔سوال صرف اتنا ہے: اگر شک تھا تو تصدیق کیوں نہ کی گئی؟ گولی چلانے سے پہلے حقیقت جاننے کی کوشش کیوں نہ کی گئی؟ قانون اور ریاستی اداروں کا کام شہریوں کی حفاظت ہے ان کے دلوں میں خوف پیدا کرنا نہیں۔
ثوبیہ ساتویں جماعت کی طالبہ تھی۔ اس کے خواب ابھی پوری طرح آنکھوں میں سجے بھی نہ تھے کہ زندگی نے اس سے منہ موڑ لیا۔ اس کی ہنسی اب کبھی گھر کے صحن میں نہیں گونجے گی اس کے عید کے نئے کپڑے اب کبھی نہ پہنے جائیں گے اور دادا دادی کی نظریں اب ہمیشہ اس دروازے کو تکتی رہیں گی جس سے وہ دوبارہ اندر نہیں آئے گی۔
اس کی چوڑیوں کی کھنک، اس کی شرارتیں، اس کے سوال اور اس کی مسکراہٹیں اب صرف یادوں کا حصہ ہیں۔ ہر عید، ہر سالگرہ اور ہر خوشی کے موقع پر اس کے ماں باپ کے دل میں ایک خاموش کسک جاگے گی کہ ان کی بیٹی ان کے ساتھ نہیں۔اگر ایک بیرونِ ملک سے آنے والے خاندان کو محض شک کی بنیاد پر دہشتگرد سمجھ لیا جائے تو پھر عام شہری خود کو محفوظ کیسے محسوس کرے؟کوئی انکوائری، کوئی رپورٹ اور کوئی وضاحت ثوبیہ کو واپس نہیں لا سکتی۔ کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ مدھم تو ہو جاتے ہیں مگر کبھی مکمل نہیں بھرتے۔ یہ سانحہ بھی ان ہی زخموں میں سے ایک ہے۔اللہ تعالیٰ ننھی ثوبیہ کی مغفرت فرمائے، اس کے درجات بلند کرے اور اس کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
-

ماؤں کے مشترکہ درد ،تحریر: بینا علی
آسمان پہ دھواں زمین پر بکھرتا درد بن گیا ہے ہر ماں کے لیے جس کی گود اجڑ گئی ہے۔
دارالحکومت مظفرآباد میں پاکستانی فوج کا ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہو گیا۔ حادثے کے بعد پورا آسمان دھوئیں کے کالے بادلوں میں ڈوب گیا۔ مقامی شہریوں کے مطابق وہ سیاہ بادل پورے شہر سے نظر آ رہے تھے سوشل میڈیا پر جو تصاویر اور ویڈیوز سامنے آئیں ان میں دھوئیں کا وہ ہولناک ستون دیکھ کر ہر ماں کا دل اداس ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ISPR کے مطابق یہ حادثہ تکنیکی خرابی کے باعث پیش آیا۔ حادثے کے نتیجے میں ہیلی کاپٹر میں سوار تمام جوان شہید ہو گئے۔ یہ ہیلی کاپٹر حادثے کے وقت نیلم سٹیڈیم سے پرواز بھرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
وہ ویڈیو ہے جو میں نے دیکھی.
ایک ماں ایک عام کشمیری ماں اپنی مقامی زبان میں بار بار بس یہی پکار رہی تھی:
(ہائے پتہ نہیں کناں ماواں دے بچے سڑ گئے) ہائے پتہ نہیں کن ماؤں کے بچے جل گئے!وہ بین کر کے رو رہی تھی ایسے جیسے اس کے اپنے جگر کے ٹکڑے آگ میں جل رہے ہوں۔
مائیں صرف مائیں ہوتی ہیں..
ان کا دل صرف اپنی اولاد کے لیے نہیں دھڑکتا۔ دوسری ماں کی گود اجڑے تو ان کا کلیجہ بھی اس درد کو محسوس کرتا ہے ۔مظفرآباد میں کتنی ماؤں کی گودیں اجڑ گئیں؟ کتنی بہنوں کے دوپٹے سفید ہو گئے؟ کتنے باپوں کے سہارے ٹوٹ گئے؟
یہ وردی والے بھی کسی کے بیٹے ہیں۔ یہ بھی کسی کے لعل ہیں۔ ان کے جنازے پر سیاست مت کرو، ان کے خون پر تقریں مت کرو بس دعا کرو کہ رب ہر ماں کی گود سلامت رکھے۔
گھروں کو صبر دے، اور وطن کی ماؤں کو کبھی ایسا دن نہ دکھائے۔ آمین۔
کیونکہ گود ماں کی ہی اجڑتی ہے۔
حکومتِ وقت اس طرح غائب ہے جس طرح گدھے کے سر سے سینگ۔خدارا نفر توں کی خون کی سیاست بند کریں جلتی پہ تیل نہ چھڑکیں اور مذاکرات کا راستہ ہموار کریں۔ -

سوشل میڈیا سے 6 لاکھ سے 12 لاکھ روپے تک آمدن پر پانچ فیصد ٹیکس لاگو ہوگا
اسلام آباد:سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات نے چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت فنانس بل 2026 کا شق وار جائزہ جاری رکھتے ہوئے ٹیکس اصلاحات، صنعتی شعبے کے مسائل، ڈیجیٹل معیشت، محصولات میں اضافے اور دستاویز بندی سے متعلق متعدد اہم تجاویز پر غور کیا۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقدہ اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال، سینیٹر عبدالقادر، سینیٹر طلحہ محمود، سینیٹر شازیب درانی، سینیٹر انوشہ رحمان احمد خان، سینیٹر فیصل واوڈا، سینیٹر سید فیصل علی سبزواری، سینیٹر دلاور خان سمیت پاکستان اسٹیل ملز، ٹیلی کام، بڑی صنعتوں اور آٹو سیکٹر کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران اسٹیل، مینوفیکچرنگ اور آٹو سیکٹر کے نمائندوں نے صنعت کو درپیش چیلنجز، بجلی کے بڑھتے اخراجات، ریفنڈز اور ٹیکس نظام سے متعلق مسائل پر کمیٹی کو آگاہ کیا۔ ایف بی آر نے بتایا کہ ماہانہ تقریباً 55 ارب روپے کے ریفنڈز جاری کیے جا رہے ہیں جبکہ صنعتی شعبے کی نگرانی اور دستاویز بندی کے لیے جدید ڈیجیٹل مانیٹرنگ نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔کمیٹی نے سپر ٹیکس اور دیگر ٹیکس اصلاحات پر بھی غور کیا۔ ایف بی آر حکام نے بتایا کہ ٹیکس استثنیٰ کی حد 50 کروڑ روپے سے بڑھا کر ایک ارب روپے کرنے سے قومی خزانے کو تقریباً 250 ارب روپے کا نقصان ہو سکتا ہے۔
اہم پیش رفت میں کمیٹی نے ٹیکس سال 2026 سے لائف انشورنس پالیسیوں کے منافع والے حصے پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز منظور کر لی، تاہم اصل سرمایہ، وفات یا معذوری کی صورت میں حاصل ہونے والی رقم اور سات سال بعد میچور ہونے والی پالیسیوں کو ٹیکس استثنیٰ حاصل رہے گا۔ کمیٹی نے وراثتی جائیداد کی تقسیم اور والدین کے انتقال کے بعد جائیداد کے تصفیے پر سیلز ٹیکس استثنیٰ برقرار رکھنے کی بھی منظوری دی۔ڈیجیٹل معیشت سے متعلق بحث میں کمیٹی نے سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی آمدن پر پانچ فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کی تجویز منظور کر لی۔ مجوزہ نظام کے تحت سالانہ 6 لاکھ روپے تک آمدن ٹیکس سے مستثنیٰ ہوگی جبکہ 6 لاکھ سے 12 لاکھ روپے تک آمدن پر پانچ فیصد ٹیکس لاگو ہوگا۔اجلاس میں معیشت کی دستاویز بندی اور ٹیکس نیٹ کے دائرہ کار میں اضافے پر بھی زور دیا گیا۔ ایف بی آر نے بتایا کہ تقریباً 8 ہزار 697 ایسے افراد کی نشاندہی کی گئی ہے جن کے بینک اکاؤنٹس میں لگ بھگ 750 ارب روپے کے ڈپازٹس موجود ہیں لیکن انہوں نے انکم ٹیکس ادا نہیں کیا۔کمیٹی نے فنانس بل 2026 پر غور آئندہ اجلاسوں میں بھی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا اور بجٹ تجاویز کو حتمی شکل دینے سے قبل مختلف شعبوں کے اسٹیک ہولڈرز سے مزید مشاورت پر زور دیا۔
-

ابوظہبی میں دن کی روشنی میں محرم 1448 ہجری کے چاند کی نایاب تصویر محفوظ
ابوظہبی میں قائم بین الاقوامی فلکیاتی مرکز نے نئے اسلامی سال 1448 ہجری کے آغاز پر محرم الحرام کے چاند کی ایک نایاب تصویر جاری کی ہے، جو دن کی تیز روشنی میں محفوظ کی گئی۔
تفصیلات کے مطابق یہ تصویر پیر کی صبح اماراتی وقت کے مطابق 11 بجے الختم فلکیاتی رصد گاہ سے لی گئی، جہاں ماہرین نے نئے ہلال کا کامیاب مشاہدہ کیا۔ یہ تصویر نئے اسلامی مہینے کے آغاز کے چند گھنٹوں بعد حاصل کی گئی، جسے فلکیاتی لحاظ سے ایک اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین فلکیات کے مطابق تصویر لیے جانے کے وقت چاند سورج سے صرف 5.4 ڈگری کے فاصلے پر تھا، جبکہ اس کی عمر تقریباً 5 گھنٹے 35 منٹ تھی۔
فلکیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ دن کے وقت اتنے کم عمر چاند کی تصویر لینا انتہائی مشکل اور غیر معمولی کارنامہ ہے، کیونکہ سورج کی تیز روشنی اور آسمان کی چمک کے باعث اتنا باریک ہلال عام طور پر نہ انسانی آنکھ سے دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی عام کیمروں سے ریکارڈ کیا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ محرم الحرام کے چاند کی رویت سے نئے ہجری سال کا آغاز ہوتا ہے۔ محرم اسلامی کیلنڈر کے چار مقدس مہینوں میں شامل ہے، اسی وجہ سے اس کے چاند کی رویت مذہبی اور ثقافتی اعتبار سے خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔