Baaghi TV

Blog

  • 
یمن کا ’اسپائیڈر مین‘ آتش فشاں گڑھے میں گر کر جاں بحق

    
یمن کا ’اسپائیڈر مین‘ آتش فشاں گڑھے میں گر کر جاں بحق

    ‎یمن کے معروف مہم جو اور سوشل میڈیا شخصیت الققع بن عنتر ایک المناک حادثے میں جان کی بازی ہار گئے۔ 30 سالہ الققع بن عنتر، جو اپنے خطرناک کارناموں اور بلند پہاڑوں پر بغیر حفاظتی سامان کے چڑھائی کی وجہ سے "یمن کے اسپائیڈر مین” کے نام سے مشہور تھے، ایک آتش فشاں کے گہرے گڑھے میں گرنے کے باعث زندگی کی بازی ہار گئے۔
    ‎مقامی حکام کے مطابق حادثہ یمن کے صوبہ الضالع میں واقع حرضۃ دمت آتش فشاں کے مقام پر پیش آیا۔ الققع بن عنتر تقریباً 120 میٹر گہرے آتش فشانی گڑھے کے کنارے مہم جوئی کر رہے تھے کہ اچانک توازن کھو بیٹھے اور گہرائی میں جا گرے۔
    ‎الققع بن عنتر سوشل میڈیا پر اپنی جرات مندانہ ویڈیوز کے باعث بے حد مقبول تھے۔ وہ اکثر بلند و بالا چٹانوں، دشوار گزار پہاڑوں اور خطرناک مقامات پر چڑھائی کرتے ہوئے اپنی ویڈیوز شیئر کرتے تھے۔ ان کے لاکھوں مداح ان کی مہم جوئی اور بے خوف انداز کو سراہتے تھے، جس کی وجہ سے انہیں "یمن کا اسپائیڈر مین” کہا جاتا تھا۔
    ‎حادثے کی اطلاع ملتے ہی سول ڈیفنس اور ریسکیو ٹیموں نے امدادی کارروائی شروع کر دی، تاہم آتش فشاں کے دشوار گزار مقام، محدود رسائی اور گڑھے کے اندر خطرناک حالات نے آپریشن کو انتہائی پیچیدہ بنا دیا۔ ریسکیو اہلکاروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور کئی گھنٹوں تک کوششیں جاری رہیں۔
    ‎مقامی میڈیا کے مطابق امدادی کارروائی تقریباً 24 گھنٹے تک جاری رہی۔ ریسکیو ٹیموں نے خصوصی آلات، طاقتور روشنیوں اور پانی سے نکالنے والے جدید سازوسامان کی مدد سے گڑھے تک رسائی حاصل کی۔ طویل جدوجہد کے بعد الققع بن عنتر کی لاش نکال لی گئی۔
    ‎ان کی وفات کی خبر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر مداحوں اور ساتھی مہم جوؤں نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ متعدد صارفین نے انہیں ایک نڈر، باصلاحیت اور حوصلہ مند شخصیت قرار دیتے ہوئے خراج عقیدت پیش کیا۔

  • 
برازیل میں بنجی جمپنگ حادثہ، 21 سالہ خاتون جاں بحق

    
برازیل میں بنجی جمپنگ حادثہ، 21 سالہ خاتون جاں بحق

    ‎برازیل کے شہر ساؤ پالو میں ایک افسوسناک حادثے کے دوران 21 سالہ خاتون ماریا ایڈواردا فریٹاس بنجی جمپنگ کرتے ہوئے 40 میٹر بلند پل سے گر کر جاں بحق ہو گئیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثہ حفاظتی اقدامات میں مبینہ غفلت کے باعث پیش آیا، جس کے بعد مقامی حکام نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
    ‎بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب ماریا ایڈواردا فریٹاس ایک ایڈونچر سرگرمی میں حصہ لے رہی تھیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ عملے نے خاتون کو بنجی جمپ کے لیے تیار کیا اور پل کے کنارے تک لے گئے، تاہم مبینہ طور پر حفاظتی رسی ان کی بیلٹ کے ساتھ منسلک کرنا بھول گئے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق تین کارکنوں نے خاتون کو "سپرمین اسٹائل” میں پکڑ کر پل کے کنارے پہنچایا اور جمپ کے لیے چھوڑ دیا۔ چند ہی لمحوں بعد خاتون کی چیخ و پکار سے معلوم ہوا کہ حفاظتی رسی نہیں باندھی گئی تھی۔ اس وقت تک وہ نیچے کھائی میں گر چکی تھیں۔
    ‎واقعے کے فوراً بعد امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں، تاہم شدید زخموں کے باعث خاتون جانبر نہ ہو سکیں۔ ایمرجنسی سروسز نے موقع پر ہی ان کی موت کی تصدیق کر دی۔
    ‎پولیس نے حادثے کی تحقیقات شروع کرتے ہوئے ابتدائی طور پر چھ افراد کو حراست میں لیا۔ بعد ازاں 27، 32 اور 42 سال عمر کے تین افراد کو باضابطہ طور پر گرفتار کر لیا گیا۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد سے پوچھ گچھ جاری ہے اور واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
    ‎تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ یہ معلوم کیا جا رہا ہے کہ آیا حادثہ انسانی غفلت، حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزی یا انتظامی کوتاہی کا نتیجہ تھا۔ اگر ذمہ داروں کے خلاف شواہد ملے تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
    ‎اس افسوسناک واقعے نے ایڈونچر اسپورٹس اور تفریحی سرگرمیوں میں حفاظتی اقدامات کی اہمیت کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بنجی جمپنگ جیسے خطرناک کھیلوں میں معمولی سی غفلت بھی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے، اس لیے حفاظتی اصولوں پر مکمل عملدرآمد ناگزیر ہے۔

  • 
ٹرمپ اور نیتن یاہو میں اختلافات نمایاں، ایران معاہدہ نئی کشیدگی کا سبب

    
ٹرمپ اور نیتن یاہو میں اختلافات نمایاں، ایران معاہدہ نئی کشیدگی کا سبب

    ‎امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کے تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کے درمیان پالیسی اختلافات کھل کر سامنے آنے لگے ہیں۔ اسرائیل کے سب سے زیادہ فروخت ہونے والے روزنامے یدیعوت احرونوت نے اپنی سرخی میں لفظ "محاذ آرائی” استعمال کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کی نشاندہی کی ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق امریکا نے ایران کے ساتھ ہونے والی مفاہمتی پیش رفت کے بارے میں اسرائیل کو آگاہ تو کیا، تاہم معاہدے کی تیاری اور مذاکراتی عمل میں اسرائیلی قیادت سے باقاعدہ مشاورت نہیں کی گئی۔ یہی معاملہ دونوں اتحادی ممالک کے درمیان تناؤ کا باعث بن رہا ہے۔
    ‎امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کو "بہت مشکل اور پیچیدہ شخصیت” قرار دیا۔ مبصرین کے مطابق یہ بیان دونوں رہنماؤں کے تعلقات میں موجود فاصلے کو ظاہر کرتا ہے۔
    ‎سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اس وقت امریکا میں بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ اور آئندہ کانگریسی انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں جاری مہنگی اور غیر مقبول جنگ کے خاتمے کے خواہاں ہیں۔ ان کے نزدیک ایران کے ساتھ معاہدہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امریکی عوام کو ایک مثبت سیاسی پیغام دینے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
    ‎دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کو داخلی سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ اسرائیل میں متوقع انتخابات کے پیش نظر نیتن یاہو اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مختلف سرویز کے مطابق آئندہ انتخابات میں ان کی جماعت کو سخت چیلنجز درپیش ہو سکتے ہیں۔
    ‎مبصرین کے مطابق نیتن یاہو اپنی سیاسی حکمت عملی میں قومی سلامتی اور جنگی حالات کو اہم حیثیت دے رہے ہیں۔ وہ خود کو ایک ایسے رہنما کے طور پر پیش کر رہے ہیں جو اسرائیل کی سلامتی کے تحفظ کے لیے سخت فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
    ‎سیاسی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر نیتن یاہو اقتدار سے محروم ہوتے ہیں تو انہیں بدعنوانی سے متعلق جاری مقدمات میں قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اگرچہ وہ ان تمام الزامات کو مسلسل مسترد کرتے آئے ہیں۔

  • 
واٹس ایپ میں میسجز شیڈول کرنے کا فیچر متعارف کرانے کی تیاری

    
واٹس ایپ میں میسجز شیڈول کرنے کا فیچر متعارف کرانے کی تیاری

    ‎دنیا بھر میں اربوں صارفین کی پسندیدہ میسجنگ ایپ واٹس ایپ ایک ایسے نئے فیچر پر کام کر رہی ہے جس کا صارفین کافی عرصے سے انتظار کر رہے تھے۔ رپورٹس کے مطابق واٹس ایپ جلد اپنے پلیٹ فارم میں میسجز شیڈول کرنے کا فیچر متعارف کرا سکتی ہے، جس کی مدد سے صارفین اپنے پیغامات کو پہلے سے طے شدہ وقت پر خودکار طور پر بھیج سکیں گے۔
    ‎میٹا کی زیر ملکیت واٹس ایپ کو ٹیلیگرام، سگنل اور دیگر میسجنگ پلیٹ فارمز سے سخت مقابلے کا سامنا ہے، اسی لیے کمپنی مسلسل نئے فیچرز متعارف کرا رہی ہے تاکہ صارفین کو بہتر اور جدید سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
    ‎واٹس ایپ سے متعلق معلومات فراہم کرنے والی ویب سائٹ WABetaInfo کے مطابق یہ نیا فیچر آئی فون (iOS) کے بیٹا ورژن میں دیکھا گیا ہے۔ اس فیچر کے ذریعے صارفین پہلے اپنا پیغام تحریر کریں گے، پھر اس کے لیے مخصوص تاریخ اور وقت مقرر کریں گے، جس کے بعد پیغام خودکار طور پر مقررہ وقت پر ارسال ہو جائے گا۔
    ‎اس وقت جی میل، ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور متعدد دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز میں پیغامات یا پوسٹس شیڈول کرنے کی سہولت موجود ہے، تاہم واٹس ایپ میں اب تک ایسا کوئی فیچر شامل نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ صارفین طویل عرصے سے اس سہولت کا مطالبہ کر رہے تھے۔
    ‎رپورٹ کے مطابق شیڈول کیے گئے پیغامات کو چیٹ انفارمیشن سیکشن سے دیکھا جا سکے گا، جہاں صارفین انہیں بھیجے جانے سے پہلے منسوخ یا حذف بھی کر سکیں گے۔ یہ سہولت خاص طور پر کاروباری افراد، طلبہ اور ایسے صارفین کے لیے مفید ثابت ہوگی جو مختلف اوقات میں اہم پیغامات بھیجنے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔
    ‎فی الحال یہ فیچر آزمائشی مرحلے میں ہے اور صرف بیٹا ورژن استعمال کرنے والے محدود صارفین کے لیے دستیاب ہے۔ واٹس ایپ کی جانب سے ابھی تک یہ اعلان نہیں کیا گیا کہ اسے عام صارفین کے لیے کب جاری کیا جائے گا، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ کامیاب آزمائش کے بعد یہ فیچر مستقبل کی اپ ڈیٹس میں تمام صارفین کو فراہم کر دیا جائے گا۔
    ‎واٹس ایپ کی جانب سے مسلسل نئی سہولیات متعارف کرانے کا مقصد صارفین کے تجربے کو مزید بہتر بنانا اور دیگر میسجنگ ایپس کے مقابلے میں اپنی برتری برقرار رکھنا ہے۔

  • 
ایران کو محدود یورینیئم افزودگی کی اجازت ہوگی، ٹرمپ

    
ایران کو محدود یورینیئم افزودگی کی اجازت ہوگی، ٹرمپ

    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ طے پانے والے نئے معاہدے کے تحت تہران کو صرف محدود سطح پر یورینیئم افزودہ کرنے کی اجازت دی جائے گی، تاہم یہ سرگرمی مکمل طور پر پرامن مقاصد تک محدود ہوگی اور اسے کسی صورت فوجی استعمال کے لیے بروئے کار نہیں لایا جا سکے گا۔
    ‎امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے معاہدے کی بعض اہم تفصیلات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایران کو انتہائی محدود پیمانے پر یورینیئم افزودگی کی اجازت ہوگی۔ ان کے مطابق معاہدے کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام پرامن نوعیت کا رہے اور اسے ہتھیاروں کی تیاری کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے۔
    ‎انٹرویو کے دوران جب ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ آیا یورینیئم افزودگی کی مجوزہ حد سابق صدر باراک اوباما کے دور میں ہونے والے جوہری معاہدے میں مقرر کردہ 3.67 فیصد سطح کے برابر ہوگی یا نہیں، تو انہوں نے کوئی مخصوص شرح بتانے سے گریز کیا۔ البتہ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران صرف سویلین اور پرامن مقاصد کے لیے یورینیئم افزودہ کر سکے گا۔
    ‎صدر ٹرمپ نے معاہدے کے مکمل ہونے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیش رفت خطے میں استحکام اور کشیدگی میں کمی کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کا مقصد جنگ کے امکانات کو کم کرنا اور سفارتی حل کو فروغ دینا ہے۔
    ‎دوسری جانب معاہدے کے اعلان سے قبل ایک امریکی عہدیدار نے دعویٰ کیا تھا کہ نئے معاہدے کے تحت ایران کے جوہری پروگرام کو مؤثر طور پر محدود کر دیا جائے گا اور انتہائی افزودہ یورینیئم کے ذخائر کو ختم کیا جائے گا۔ تاہم اس حوالے سے اب تک کوئی باضابطہ تفصیلات یا آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
    ‎معاہدے پر عالمی سطح پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ کئی ممالک اور عالمی رہنماؤں نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے، جبکہ بعض حلقوں میں معاہدے کی شرائط اور اس کے عملی نفاذ سے متعلق سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔

  • 
برطانوی وزیراعظم سے منسلک املاک پر حملہ، دو افراد قصوروار

    
برطانوی وزیراعظم سے منسلک املاک پر حملہ، دو افراد قصوروار

    ‎برطانیہ میں وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر سے منسلک گاڑی اور جائیدادوں پر آتشزدگی کے حملوں کے مقدمے میں دو افراد کو مجرم قرار دے دیا گیا ہے۔ لندن کی اولڈ بیلی عدالت نے یوکرینی شہری 22 سالہ رومن لاورینووچ اور رومانیہ سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ اسٹینسلاف کارپیوک کو حملوں کی سازش اور املاک کو نقصان پہنچانے کا قصوروار قرار دیا۔
    ‎عدالتی کارروائی کے دوران استغاثہ نے مؤقف اختیار کیا کہ دونوں ملزمان نے ایک روسی زبان بولنے والے ٹیلیگرام رابطے "ایل منی” کی ہدایات پر حملے کیے۔ پراسیکیوٹرز کے مطابق حملوں کی مکمل منصوبہ بندی اور ہدایات اسی پراسرار شخص کی جانب سے دی گئی تھیں، جس نے مبینہ طور پر کرپٹو کرنسی میں ادائیگی کا وعدہ بھی کیا تھا۔
    ‎مقدمے کے مطابق مئی 2025 میں شمالی لندن کے علاقے کینٹش ٹاؤن میں ایک ٹویوٹا راو فور گاڑی کو آگ لگا دی گئی تھی، جو ماضی میں وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر کی ملکیت رہی تھی۔ اس کے بعد ایک ایسے فلیٹ کے دروازے پر بھی آگ لگائی گئی جہاں وزیراعظم پہلے رہائش پذیر رہ چکے تھے، جبکہ ان کے حلقہ انتخاب میں واقع ایک اور گھر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
    ‎عدالت کو بتایا گیا کہ حملوں کے وقت وزیراعظم کی قریبی رشتہ دار جوڈتھ الیگزینڈر اس گھر میں مقیم تھیں۔ انہوں نے بیان دیا کہ دھماکوں جیسی آوازیں سن کر ان کی آنکھ کھلی اور انہوں نے گھر میں دھواں پھیلتے دیکھا، جبکہ اس وقت ان کا خاندان گھر کے اندر موجود تھا۔
    ‎رومن لاورینووچ نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے "ایل منی” نامی شخص کی جانب سے دھمکیاں دی جا رہی تھیں اور اسے حملوں کی ویڈیو بنانے اور میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں۔ دوسری جانب اسٹینسلاف کارپیوک نے دعویٰ کیا کہ حملوں کے وقت وہ لندن کے ایک پب میں موجود تھا۔
    ‎پولیس نے حملوں کے ایک ہفتے کے اندر دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔ انسداد دہشت گردی پولیس کی سربراہ کمانڈر ہیلن فلاناگن نے کہا کہ تاحال ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے یہ ظاہر ہو کہ "ایل منی” کسی ریاستی ادارے سے منسلک تھا، تاہم حملوں کا مقصد برطانیہ میں خوف، بے چینی اور عدم استحکام پیدا کرنا تھا۔

  • 
امریکا ایران امن معاہدہ، عاصم منیر کیلئے نوبل امن انعام کا مطالبہ ٹاپ ٹرینڈ

    
امریکا ایران امن معاہدہ، عاصم منیر کیلئے نوبل امن انعام کا مطالبہ ٹاپ ٹرینڈ

    ‎امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کے بعد پاکستان کے سفارتی کردار کو سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں میں بھرپور توجہ حاصل ہو رہی ہے۔ اس پیش رفت کے تناظر میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حق میں مختلف ہیش ٹیگز ٹاپ ٹرینڈز میں شامل ہو گئے ہیں، جہاں متعدد صارفین نے ان کے لیے نوبل امن انعام دینے کا مطالبہ بھی کیا۔
    ‎رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے خاتمے اور امن معاہدے کے قیام میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کو نمایاں قرار دیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے خطے میں امن کے فروغ کے لیے مؤثر کردار ادا کیا، جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔
    ‎ایکس پر متعدد صارفین نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملٹری ڈپلومیسی کو سراہتے ہوئے انہیں عالمی امن کے فروغ میں اہم کردار ادا کرنے والی شخصیت قرار دیا۔ بعض صارفین نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اگر اس معاہدے نے ایک ممکنہ بڑے تنازع کو روکنے میں مدد دی ہے تو اس کا اعتراف عالمی سطح پر بھی ہونا چاہیے۔
    ‎صارفین کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مشترکہ کاوشوں کو بھی سراہا جا رہا ہے۔ کئی پوسٹس میں کہا گیا کہ پاکستان نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ خطے میں امن، استحکام اور سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے۔
    ‎اس حوالے سے بعض بھارتی تجزیہ کاروں اور سوشل میڈیا صارفین کی آراء بھی زیر بحث رہیں۔ مختلف تبصروں میں پاکستان کے سفارتی کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ حالیہ پیش رفت نے عالمی سطح پر پاکستان کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔
    ‎سفارتی ماہرین کے مطابق اگرچہ امن معاہدوں کی کامیابی کا اصل پیمانہ ان پر عملدرآمد اور دیرپا نتائج ہوتے ہیں، تاہم ایسے مواقع پر ثالثی اور مذاکراتی کوششیں بین الاقوامی تعلقات میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور جنگ کے امکانات کو محدود کرنے کے لیے سفارت کاری ہمیشہ ایک مؤثر راستہ سمجھی جاتی ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ پیش رفت نے پاکستان کو ایک مرتبہ پھر عالمی سفارتی مباحث کا حصہ بنا دیا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر جاری بحث اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عوامی سطح پر بھی اس معاملے کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔

  • مرکزی مسلم لیگ پنجاب کے صدر چوہدری محمد سرور کے صاحبزادے کی نماز جنازہ ادا

    مرکزی مسلم لیگ پنجاب کے صدر چوہدری محمد سرور کے صاحبزادے کی نماز جنازہ ادا

    مرکزی مسلم لیگ پنجاب کے صدر چوہدری محمد سرور کے صاحبزادے حسین ہاشم کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی، نماز جنازہ جامع مسجد القادسیہ چوبرجی میں سیکرٹری جنرل مرکزی مسلم لیگ سیف اللہ قصوری نے پڑھائی،نماز جنازہ میں مرکزی مسلم لیگ کی قیادت،کارکنان کثیر تعداد میں شریک ہوئے

    مرکزی مسلم لیگ پنجاب کے صدر چوہدری محمد سرور کے صاحبزادے حسین ہاشم گزشتہ ہفتے ٹریفک حادثے میں زخمی ہوئے تھے حادثے کے باعث جگر پر شدید چوٹ آئی،وہ ایک ہفتے تک زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہے تاہم گزشتہ روز انکی موت ہوگئی، حسین ہاشم کی نماز جنازہ میں مرکزی مسلم لیگ کے صدرخالد مسعود سندھو، نائب صدر حافظ طلحہ سعید،محمد یعقوب شیخ،خالد نیک گجر،ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی،علامہ ناصر مدنی،شیخ نعیم بادشاہ سمیت مرکزی مسلم لیگ کے کارکنان نے شرکت کی، نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد مرحوم کی میانی صاحب قبرستان میں تدفین کر دی گئی،مرکزی مسلم لیگ کے رہنماؤں نے چوہدری محمد سرور سے صاحبزادے کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور مرحوم کی لئے دعائے مغفرت،لواحقین کے لئے صبرجمیل کی دعا کی ہے.

  • 
شرجیل میمن کی خالد مقبول پر کڑی تنقید، کراچی کسی جماعت کی جاگیر نہیں

    
شرجیل میمن کی خالد مقبول پر کڑی تنقید، کراچی کسی جماعت کی جاگیر نہیں

    ‎سندھ کے سینئر صوبائی وزیر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل انعام میمن نے ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں بلکہ پورے پاکستان کا معاشی مرکز اور سندھ کا دارالحکومت ہے۔
    ‎اپنے بیان میں شرجیل میمن نے کہا کہ کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس سیاسی قوت نے شہر میں امن قائم کرنے میں کردار ادا کیا اور کس دور میں شہر بھتہ خوری، لسانی کشیدگی اور بوری بند لاشوں جیسے المناک واقعات کی زد میں رہا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایم کیو ایم کی سیاست کے آغاز سے قبل کراچی ایک پُرامن اور متحرک شہر تھا جہاں دہشت گردی اور تشدد کا موجودہ طرزِ سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
    ‎صوبائی وزیر نے کہا کہ ماضی کے تلخ تجربات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا اور کراچی کے شہری بخوبی واقف ہیں کہ شہر نے کن ادوار میں بدامنی، خوف اور عدم استحکام کا سامنا کیا۔ ان کے مطابق شہری مسائل کو صرف سیاسی نعروں یا جذباتی بیانات سے حل نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کے لیے عملی اقدامات اور سنجیدہ منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے۔
    ‎شرجیل میمن نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت کراچی کی ترقی اور عوامی فلاح کے لیے مسلسل کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ شہر میں اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے جن میں پبلک ٹرانسپورٹ، سڑکوں کی تعمیر و مرمت، انفراسٹرکچر کی بہتری اور شہری سہولتوں کی فراہمی شامل ہیں۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت نے کراچی میں جدید ٹرانسپورٹ نظام متعارف کرانے، سڑکوں کے جال کو بہتر بنانے اور شہری سہولتوں میں اضافے کے لیے متعدد منصوبے شروع کیے ہیں، جن کے نتائج عوام کو بتدریج نظر آ رہے ہیں۔
    ‎شرجیل میمن کے مطابق کراچی میں ہونے والی مثبت تبدیلیاں اور ترقیاتی کام پیپلز پارٹی کی پالیسیوں اور عملی اقدامات کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت شہری مسائل کے حل اور عوامی خدمات کی فراہمی کے لیے اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہے اور مستقبل میں بھی ترقیاتی منصوبوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
    ‎سیاسی مبصرین کے مطابق کراچی کی سیاست میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان بیانات کا تبادلہ ایک بار پھر سیاسی درجہ حرارت میں اضافے کا باعث بن رہا ہے، جبکہ دونوں جماعتیں شہر کی نمائندگی اور ترقیاتی کارکردگی کے حوالے سے اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔

  • 
سندھ کو مالی مشکلات کا سامنا، تنخواہوں میں اضافے پر غور جاری: مراد علی شاہ

    
سندھ کو مالی مشکلات کا سامنا، تنخواہوں میں اضافے پر غور جاری: مراد علی شاہ

    ‎وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کو اس وقت شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے، جس کے باعث سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کے حوالے سے محتاط فیصلے کرنا ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت اپنی مالی گنجائش کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ تنخواہوں میں کتنا اضافہ ممکن ہے۔
    ‎کراچی میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے صوبائی حکومت کی گزشتہ چھ ماہ کی کارکردگی، وفاق کے ساتھ تعلقات، ترقیاتی منصوبوں اور سیاسی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ مالی مشکلات کے باوجود سندھ حکومت نے ریکارڈ مدت میں چھ بڑے میگا پراجیکٹس مکمل کیے ہیں، جو عالمی مالیاتی اداروں کے تعاون سے پایہ تکمیل تک پہنچے۔
    ‎مراد علی شاہ نے ماضی کے وفاقی وعدوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سندھ کے عوام اب اپنے حقوق سے بخوبی آگاہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں کراچی اور سندھ کے لیے بڑے بڑے اعلانات کیے گئے لیکن عملی طور پر ان پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ ان کے بقول ایک سابق وفاقی رہنما نے 1100 ارب روپے کے منصوبوں کا اعلان کیا تھا لیکن ان وعدوں کا کوئی عملی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
    ‎وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ موجودہ وفاقی بجٹ میں سندھ کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 64 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے حیدرآباد۔سکھر موٹروے منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس اہم شاہراہ کی تعمیر آئندہ سال جنوری میں شروع ہونے کی توقع ہے اور اسے تقریباً ساڑھے تین سال میں مکمل کر لیا جائے گا۔
    ‎پانی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے انکشاف کیا کہ سندھ کو اپنے حصے کے پانی میں 41 فیصد کمی کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر وفاقی حکومت کو باضابطہ احتجاجی خط بھی ارسال کیا جا چکا ہے تاکہ صوبے کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
    ‎سیاسی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پر تنقید کی اور کہا کہ بلدیاتی انتخابات کا بائیکاٹ ان کا اپنا فیصلہ تھا۔ اگر انہیں اپنی عوامی حمایت پر اعتماد تھا تو انہیں انتخابی میدان میں مقابلہ کرنا چاہیے تھا۔
    ‎وزیراعلیٰ سندھ نے اپنے عہدے سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ہٹانے کی افواہیں گزشتہ کئی برسوں سے سننے میں آ رہی ہیں، تاہم ان کی تمام تر توجہ عوامی خدمت اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل پر مرکوز ہے۔