وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے سینئر صحافی اور معروف اینکر پرسن مبشر لقمان کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔
لندن میں زیرِ علاج مبشر لقمان کی عیادت کے لیے پاکستانی ہائی کمیشن کے پریس منسٹر علی نواز ملک اور پریس اتاشی عرفان قاضی نے سینٹرل لندن کے ایک اسپتال کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کی جانب سے پھولوں کا گلدستہ پیش کیا اور ان کی نیک خواہشات اور دعائیں پہنچائیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے مبشر لقمان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ وہ جلد مکمل صحت کے ساتھ اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کی طرف واپس آئیں۔ انہوں نے مبشر لقمان کی صحافتی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کی صحت کے حوالے سے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
دورانِ ملاقات پاکستانی ہائی کمیشن کے نمائندوں نے مبشر لقمان کی خیریت دریافت کی اور ان کے اہل خانہ کے لیے بھی نیک خواہشات کا پیغام دیا۔ اس موقع پر اسپتال انتظامیہ سے بھی ان کی صحت سے متعلق معلومات حاصل کی گئیں۔
صحافتی اور سماجی حلقوں کی جانب سے بھی مبشر لقمان کی جلد صحت یابی کے لیے دعاؤں اور نیک تمناؤں کا سلسلہ جاری ہے۔
Blog
-

عطا تارڑ کی سینئر صحافی مبشر لقمان کی جلد صحت یابی کے لیے نیک تمنائیں
-

وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے تحفظات، بلاول بھٹو نے خطاب مؤخر کر دیا
وفاقی بجٹ 2026-27 کے معاملے پر حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان اختلافات ایک بار پھر سامنے آ گئے ہیں۔ حکومتی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی نے بجٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے وضاحت طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کی بجٹ ٹیم نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو وفاقی بجٹ کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی بریفنگ دی، جس میں بجٹ سے متعلق متعدد تحفظات سامنے آئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بریفنگ میں بتایا گیا کہ موجودہ بجٹ ان تجاویز اور مسودے سے مختلف ہے جو پہلے پیپلز پارٹی کے ساتھ شیئر کیا گیا تھا۔
ان تحفظات کے بعد بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں آج ہونے والا اپنا خطاب مؤخر کر دیا۔ ذرائع کے مطابق وہ وفاقی حکومت سے وضاحت حاصل کرنے کے بعد ہی ایوان میں اپنا مؤقف پیش کریں گے۔
پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ بجٹ کے بعض نکات پر اتحادی جماعت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، جس کے باعث موجودہ صورت حال پیدا ہوئی۔ پارٹی قیادت اب حکومت کے ساتھ براہ راست رابطہ کر کے اپنے تحفظات سے آگاہ کرے گی اور بجٹ سے متعلق وضاحت طلب کرے گی۔
دوسری جانب وفاقی بجٹ کو مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید کا سامنا بھی ہے۔ پاکستان کسان اتحاد پہلے ہی بجٹ کو مسترد کر چکا ہے اور حکومت کو 30 جون تک کھاد اور ڈیزل پر سبسڈی دینے کا الٹی میٹم دے چکا ہے۔
پاکستان کسان اتحاد کے چیئرمین خالد حسین باٹھ نے بجٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وزیر خزانہ نے اپنی بجٹ تقریر میں کسانوں اور زرعی شعبے کو مناسب اہمیت نہیں دی۔ ان کے مطابق زراعت ملکی معیشت کی بنیاد ہے اور اس شعبے کو نظر انداز کرنا معاشی ترقی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق پیپلز پارٹی کے تحفظات حکومتی اتحاد کے لیے ایک اہم امتحان بن سکتے ہیں، تاہم دونوں جماعتوں کے درمیان جاری مشاورت سے معاملات حل ہونے کی توقع بھی ظاہر کی جا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں حکومت اور اتحادی جماعت کے درمیان ہونے والے رابطے بجٹ کی سیاسی صورتحال پر اہم اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ -

لکی مروت میں فائرنگ، 4 افراد جاں بحق
خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت کے علاقے جبار خیل میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے 4 افراد جاں بحق ہو گئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
پولیس کے مطابق نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے چار افراد کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس اور امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور لاشوں کو تحویل میں لے کر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقتولین کی شناخت اور واقعے کے محرکات جاننے کے لیے تفتیش جاری ہے۔ ابتدائی طور پر حملہ آوروں کے بارے میں کوئی حتمی معلومات سامنے نہیں آ سکیں، تاہم مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
واقعے کے بعد سیکیورٹی اداروں نے علاقے میں سرچ آپریشن اور شواہد جمع کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے تاکہ ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کیا جا سکے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
مقامی ذرائع کے مطابق فائرنگ کے واقعے سے علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، جبکہ شہریوں نے سیکیورٹی اقدامات مزید مؤثر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ -

ہانیہ احمد کیس: آسٹریلوی وزیراعظم کا شفاف تحقیقات کا مطالبہ
پاکستان میں چھٹیاں گزارنے کے دوران جاں بحق ہونے والی 9 سالہ آسٹریلوی نژاد بچی ہانیہ احمد کے واقعے پر آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز نے مکمل، آزادانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر دیا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق کینبرا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے آسٹریلوی وزیراعظم نے کہا کہ اس افسوسناک واقعے کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ متاثرہ خاندان اور عوام کے سامنے حقائق واضح ہو سکیں۔ انہوں نے زور دیا کہ تحقیقات غیر جانبدار، شفاف اور قابلِ اعتماد ہونی چاہئیں۔
انتھونی البانیز کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا توقع کرتا ہے کہ پاکستانی حکام اس معاملے کی مکمل تحقیقات کریں گے اور واقعے کی اصل وجوہات سامنے لائی جائیں گی۔ انہوں نے متاثرہ خاندان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آسٹریلوی حکومت ہر ممکن معاونت فراہم کر رہی ہے۔
آسٹریلوی وزیراعظم نے تصدیق کی کہ حکومت کی جانب سے متاثرہ خاندان کو قونصلر معاونت بھی دی جا رہی ہے تاکہ انہیں قانونی اور انتظامی امور میں سہولت فراہم کی جا سکے۔
یاد رہے کہ چکوال میں پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے میں 9 سالہ ہانیہ احمد مبینہ طور پر سی سی ڈی اہلکار کی فائرنگ کا نشانہ بن کر جاں بحق ہو گئی تھیں، جبکہ ان کے والد اور بھائی بھی زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد ملک بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔
ہانیہ احمد کے والد کی مدعیت میں درج مقدمے میں ابتدا میں دفعہ 322 شامل کی گئی تھی، جو غفلت یا لاپرواہی کے نتیجے میں موت واقع ہونے سے متعلق ہے، تاہم بعد ازاں متاثرہ خاندان کے اصرار پر مقدمے میں دفعہ 302 بھی شامل کر لی گئی، جو قتل کی دفعہ ہے۔
دوسری جانب سی سی ڈی پنجاب کے سربراہ سہیل ظفر چٹھہ متاثرہ خاندان سے ملاقات کے لیے ان کے گھر پہنچے اور واقعے پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے ادارے کی جانب سے غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے آپریشنل ایس او پیز کو مزید مؤثر اور سخت بنایا جائے گا۔
یہ واقعہ نہ صرف پاکستان بلکہ آسٹریلیا میں بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جبکہ دونوں ممالک میں عوام کی جانب سے انصاف اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ تحقیقات کے ذریعے ذمہ دار عناصر کا تعین ہوگا اور حانیہ کو انصاف ملے گا۔ -

حانیہ عد یل کے جاں بحق ہونے کے بعد سی سی ڈی سربراہ کا غلطی کا اعتراف
چکوال میں 10 جون کی رات پیش آنے والے افسوسناک واقعے نے مقامی پولیس اور کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ مسلسل چار گھنٹوں تک جاری رہنے والی ڈکیتی کی وارداتوں کے بعد ایک مبینہ پولیس فائرنگ میں 9 سالہ حانیہ عدیل جان کی بازی ہار گئی، جبکہ اس کے والد اور بھائی زخمی ہو گئے۔
رپورٹس کے مطابق دو مسلح ڈاکوؤں نے رات کے دوران شہر کے مختلف علاقوں میں کم از کم پانچ وارداتیں کیں۔ پہلی واردات کالج روڈ پر واقع ایک دکان پر ہوئی جہاں سیف سٹی کیمروں کی موجودگی کے باوجود ملزمان فرار ہونے میں کامیاب رہے۔ بعد ازاں ڈاکو مختلف مقامات پر کارروائیاں کرتے رہے اور آخری واقعہ سی سی ڈی تھانے کے قریب پیش آیا۔
ذرائع کے مطابق اسی دوران سی سی ڈی اہلکار کی فائرنگ سے گاڑی میں موجود 9 سالہ حانیہ عدیل گولی لگنے سے جاں بحق ہو گئی۔ واقعے میں اس کا والد عدیل احمد اور بھائی بھی زخمی ہوئے، جو تاحال زیر علاج ہیں۔
حانیہ کی ہلاکت کے مقدمے میں ابتدا میں دفعہ 322 شامل کی گئی تھی، جو غفلت یا لاپرواہی سے موت واقع ہونے سے متعلق ہے، تاہم بعد ازاں متاثرہ خاندان کے مطالبے پر مقدمے میں دفعہ 302 بھی شامل کر لی گئی، جو قتل کی دفعات میں شمار ہوتی ہے۔
واقعے کے بعد سی سی ڈی پنجاب کے سربراہ سہیل ظفر چٹھہ متاثرہ خاندان کے گھر پہنچے اور اہل خانہ سے تعزیت کی۔ انہوں نے ابتدائی طور پر ادارے کی جانب سے غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے آپریشنل ایس او پیز مزید سخت کیے جائیں گے۔
متاثرہ خاندان اور شہریوں کا کہنا ہے کہ اصل سوال صرف ایک اہلکار کی غلطی کا نہیں بلکہ پورے نظام کی کارکردگی کا ہے۔ ان کے مطابق اگر کروڑوں روپے مالیت کا سیف سٹی منصوبہ فعال تھا تو ڈاکو چار گھنٹے تک مختلف وارداتیں کیسے کرتے رہے؟ شہری یہ بھی سوال اٹھا رہے ہیں کہ کسی واضح تصدیق کے بغیر فائرنگ کی اجازت کس بنیاد پر دی گئی۔
چکوال کے شہریوں نے امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حانیہ عدیل کے کیس میں شفاف تحقیقات اور انصاف کی فراہمی نہ صرف متاثرہ خاندان بلکہ عوام کے اعتماد کی بحالی کے لیے بھی ضروری ہے۔ -

ناصر مدنی صاحب! آپ نے منبر پر بیٹھ کر مجھ پر تہمت لگائی: مومنہ اقبال
پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ مومنہ اقبال نے اسلامی اسکالر ناصر مدنی کی جانب سے اپنے بارے میں کیے گئے تبصروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان پر لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتی ہیں اور انہیں معاف نہیں کریں گی۔
مومنہ اقبال نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شیئر کی گئی اسٹوری میں ناصر مدنی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے منبر پر بیٹھ کر ان پر لگائی گئی تہمت کو مزید ہوا دی ہے۔ اداکارہ کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف عائد کیے گئے الزامات حقیقت پر مبنی نہیں اور ان کی سچائی سے صرف وہ خود اور اللہ تعالیٰ واقف ہیں۔
انہوں نے اپنے پیغام میں لکھا کہ وہ دنیا اور آخرت دونوں کی عدالتوں میں سرخرو ہوں گی، تاہم ان کے بقول ناصر مدنی کو اللہ کی عدالت میں جواب دینا ہوگا۔ مومنہ اقبال نے کہا کہ کسی شخص پر بغیر ثبوت الزام لگانا اور اس کی عزت و وقار کو نقصان پہنچانا اسلام کی تعلیمات کے خلاف اور ایک بڑا گناہ ہے۔
اداکارہ نے مزید کہا کہ وہ اس معاملے میں ناصر مدنی کو معاف نہیں کریں گی۔ انہوں نے اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے سورۃ النور کی ایک آیت کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ہر بات کا حساب ہوگا اور انصاف ضرور ملے گا۔
مومنہ اقبال کا یہ ردعمل سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گیا، جہاں صارفین کی جانب سے مختلف آراء کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ بعض افراد نے اداکارہ کے مؤقف کی حمایت کی جبکہ بعض نے معاملے کی مکمل حقیقت سامنے آنے کا انتظار کرنے پر زور دیا۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مومنہ اقبال پہلے ہی ایک قانونی تنازع کے حوالے سے خبروں میں موجود ہیں۔ تاہم اداکارہ نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی ساکھ اور عزت کے دفاع کے لیے ہر ممکن قانونی اور اخلاقی راستہ اختیار کریں گی۔ -

محرم الحرام کا چاند نظر نہ آیا، یوم عاشور 26 جون کو ہوگا
محرم الحرام 1448 ہجری کا چاند ملک بھر میں نظر نہیں آیا، جس کے بعد مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ یکم محرم الحرام 17 جون بروز بدھ جبکہ یوم عاشور 26 جون کو منایا جائے گا۔
مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد کی زیر صدارت لاہور کی تاریخی بادشاہی مسجد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کے ارکان کے علاوہ محکمہ موسمیات اور متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ ملک بھر سے موصول ہونے والی شہادتوں اور سائنسی معلومات کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ محرم الحرام کا چاند کہیں بھی نظر نہیں آیا۔
اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر آزاد نے باضابطہ اعلان کیا کہ یکم محرم الحرام 1448 ہجری 17 جون کو ہوگی جبکہ 10 محرم الحرام یعنی یوم عاشور 26 جون بروز جمعہ منایا جائے گا۔
اس سے قبل محکمہ موسمیات اور ماہرین فلکیات نے بھی پیش گوئی کی تھی کہ 15 جون کو چاند نظر آنے کے امکانات انتہائی کم ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق نئے چاند کی پیدائش صبح 7 بج کر 54 منٹ پر ہوئی تھی اور غروب آفتاب کے وقت اس کی عمر تقریباً 11 گھنٹے 45 منٹ تھی، جو رویت کے لیے ناکافی سمجھی جاتی ہے۔
محکمہ موسمیات نے بتایا تھا کہ لاہور میں چاند دیکھنے کا وقت شام 7 بج کر 12 منٹ سے 7 بج کر 52 منٹ تک تھا، تاہم مطلوبہ فلکیاتی شرائط پوری نہ ہونے کے باعث چاند کی رویت ممکن نہ ہو سکی۔
دوسری جانب وزارت مذہبی امور کی جانب سے مختلف شہروں میں زونل رویت ہلال کمیٹیوں کے اجلاس بھی منعقد کیے گئے۔ اسلام آباد میں زونل کمیٹی کا اجلاس کوہسار بلاک میں ہوا جبکہ پشاور سمیت دیگر شہروں میں بھی چاند دیکھنے کے لیے اجلاس منعقد کیے گئے۔
محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے اور اس کی دسویں تاریخ یوم عاشور کے طور پر منائی جاتی ہے، جو اسلامی تاریخ میں خصوصی اہمیت کی حامل ہے۔ اس موقع پر ملک بھر میں مجالس، جلوسوں اور دیگر مذہبی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ -

روس کے یوکرین پر بڑے حملے، 9 افراد ہلاک
روس نے یوکرین کے مختلف شہروں پر ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے بڑے پیمانے پر حملے کیے ہیں، جن کے نتیجے میں کم از کم 9 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ یوکرینی حکام کے مطابق حملوں میں رہائشی عمارتوں، بنیادی ڈھانچے اور بجلی کی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
یوکرین کے دارالحکومت کیف میں روسی حملوں کے نتیجے میں 4 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 23 افراد زخمی ہوئے۔ حملوں کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں ہنگامی امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں اور زخمیوں کو اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
شمال مشرقی شہر خارکیف میں صورتحال مزید سنگین رہی، جہاں آگ بجھانے اور امدادی کارروائیوں میں مصروف ریاستی ایمرجنسی سروس کے 5 اہلکار ہلاک ہو گئے۔ حکام کے مطابق یہ اہلکار حملوں کے بعد متاثرہ علاقوں میں شہریوں کی مدد کر رہے تھے جب وہ نشانہ بنے۔
یوکرینی فوج کا کہنا ہے کہ روس نے گزشتہ رات 70 میزائل اور 611 ڈرونز داغے۔ فوج کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے 50 میزائل اور 582 ڈرونز کو تباہ کر دیا، تاہم باقی حملوں سے مختلف علاقوں میں جانی و مالی نقصان ہوا۔
حملوں کے نتیجے میں کئی بلند و بالا رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچا جبکہ متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی۔ مقامی حکام نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور حفاظتی مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کی ہے۔
یورپی کمیشن کی صدر اُرسولا وان ڈر لیین نے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ رات یوکرین پر ہونے والے حملوں میں مزید بے گناہ شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل تاریخی مقام "کیف پیچرسک لاورا” کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
اُرسولا وان ڈر لیین نے کہا کہ جی 7 ممالک کے رہنما موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں اور روس پر مزید دباؤ بڑھانے کے اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق عالمی برادری کی کوشش ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو مذاکرات کی میز پر لایا جائے اور جاری خونریزی کا خاتمہ کیا جا سکے۔
روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کو تین سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، تاہم حالیہ حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تنازع اب بھی شدت اختیار کیے ہوئے ہے اور امن کی کوششوں کو سنگین چیلنجز درپیش ہیں۔ -

یمن کا ’اسپائیڈر مین‘ آتش فشاں گڑھے میں گر کر جاں بحق
یمن کے معروف مہم جو اور سوشل میڈیا شخصیت الققع بن عنتر ایک المناک حادثے میں جان کی بازی ہار گئے۔ 30 سالہ الققع بن عنتر، جو اپنے خطرناک کارناموں اور بلند پہاڑوں پر بغیر حفاظتی سامان کے چڑھائی کی وجہ سے "یمن کے اسپائیڈر مین” کے نام سے مشہور تھے، ایک آتش فشاں کے گہرے گڑھے میں گرنے کے باعث زندگی کی بازی ہار گئے۔
مقامی حکام کے مطابق حادثہ یمن کے صوبہ الضالع میں واقع حرضۃ دمت آتش فشاں کے مقام پر پیش آیا۔ الققع بن عنتر تقریباً 120 میٹر گہرے آتش فشانی گڑھے کے کنارے مہم جوئی کر رہے تھے کہ اچانک توازن کھو بیٹھے اور گہرائی میں جا گرے۔
الققع بن عنتر سوشل میڈیا پر اپنی جرات مندانہ ویڈیوز کے باعث بے حد مقبول تھے۔ وہ اکثر بلند و بالا چٹانوں، دشوار گزار پہاڑوں اور خطرناک مقامات پر چڑھائی کرتے ہوئے اپنی ویڈیوز شیئر کرتے تھے۔ ان کے لاکھوں مداح ان کی مہم جوئی اور بے خوف انداز کو سراہتے تھے، جس کی وجہ سے انہیں "یمن کا اسپائیڈر مین” کہا جاتا تھا۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی سول ڈیفنس اور ریسکیو ٹیموں نے امدادی کارروائی شروع کر دی، تاہم آتش فشاں کے دشوار گزار مقام، محدود رسائی اور گڑھے کے اندر خطرناک حالات نے آپریشن کو انتہائی پیچیدہ بنا دیا۔ ریسکیو اہلکاروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور کئی گھنٹوں تک کوششیں جاری رہیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق امدادی کارروائی تقریباً 24 گھنٹے تک جاری رہی۔ ریسکیو ٹیموں نے خصوصی آلات، طاقتور روشنیوں اور پانی سے نکالنے والے جدید سازوسامان کی مدد سے گڑھے تک رسائی حاصل کی۔ طویل جدوجہد کے بعد الققع بن عنتر کی لاش نکال لی گئی۔
ان کی وفات کی خبر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر مداحوں اور ساتھی مہم جوؤں نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ متعدد صارفین نے انہیں ایک نڈر، باصلاحیت اور حوصلہ مند شخصیت قرار دیتے ہوئے خراج عقیدت پیش کیا۔ -

برازیل میں بنجی جمپنگ حادثہ، 21 سالہ خاتون جاں بحق
برازیل کے شہر ساؤ پالو میں ایک افسوسناک حادثے کے دوران 21 سالہ خاتون ماریا ایڈواردا فریٹاس بنجی جمپنگ کرتے ہوئے 40 میٹر بلند پل سے گر کر جاں بحق ہو گئیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثہ حفاظتی اقدامات میں مبینہ غفلت کے باعث پیش آیا، جس کے بعد مقامی حکام نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب ماریا ایڈواردا فریٹاس ایک ایڈونچر سرگرمی میں حصہ لے رہی تھیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ عملے نے خاتون کو بنجی جمپ کے لیے تیار کیا اور پل کے کنارے تک لے گئے، تاہم مبینہ طور پر حفاظتی رسی ان کی بیلٹ کے ساتھ منسلک کرنا بھول گئے۔
رپورٹس کے مطابق تین کارکنوں نے خاتون کو "سپرمین اسٹائل” میں پکڑ کر پل کے کنارے پہنچایا اور جمپ کے لیے چھوڑ دیا۔ چند ہی لمحوں بعد خاتون کی چیخ و پکار سے معلوم ہوا کہ حفاظتی رسی نہیں باندھی گئی تھی۔ اس وقت تک وہ نیچے کھائی میں گر چکی تھیں۔
واقعے کے فوراً بعد امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں، تاہم شدید زخموں کے باعث خاتون جانبر نہ ہو سکیں۔ ایمرجنسی سروسز نے موقع پر ہی ان کی موت کی تصدیق کر دی۔
پولیس نے حادثے کی تحقیقات شروع کرتے ہوئے ابتدائی طور پر چھ افراد کو حراست میں لیا۔ بعد ازاں 27، 32 اور 42 سال عمر کے تین افراد کو باضابطہ طور پر گرفتار کر لیا گیا۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد سے پوچھ گچھ جاری ہے اور واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ یہ معلوم کیا جا رہا ہے کہ آیا حادثہ انسانی غفلت، حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزی یا انتظامی کوتاہی کا نتیجہ تھا۔ اگر ذمہ داروں کے خلاف شواہد ملے تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس افسوسناک واقعے نے ایڈونچر اسپورٹس اور تفریحی سرگرمیوں میں حفاظتی اقدامات کی اہمیت کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بنجی جمپنگ جیسے خطرناک کھیلوں میں معمولی سی غفلت بھی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے، اس لیے حفاظتی اصولوں پر مکمل عملدرآمد ناگزیر ہے۔