Baaghi TV

Blog

  • ایران جنگ، امریکی  طیارے گرنے کی تفصیلات سامنے آگئیں

    ایران جنگ، امریکی طیارے گرنے کی تفصیلات سامنے آگئیں

    28 فروری سے 3 اپریل 2026 تک جاری رہنے والے مبینہ فوجی آپریشن کے دوران امریکی فضائیہ کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ مختلف اوپن سورس انٹیلیجنس رپورٹس، کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، متعدد جدید طیارے اور فوجی اثاثے تباہ یا شدید متاثر ہوئے۔

    رپورٹس کے مطابق جدید اسٹیلتھ لڑاکا طیارہ F-35 Lightning II ایرانی فضائی دفاعی نظام کی زد میں آ کر نقصان کا شکار ہوا۔ اس طیارے کی فی یونٹ لاگت تقریباً 110 ملین ڈالر بتائی جاتی ہے۔اسی طرح F-15E Strike Eagle کے چار طیارے تباہ ہوئے، جن میں سے تین کویت کے اوپر جبکہ ایک ایران کے اندر مار گرایا گیا۔ اس طیارے کی ابتدائی لاگت 1998 میں 270 ملین ڈالر تھی جو اب اندازاً 700 ملین ڈالر تک جا پہنچی ہے۔مزید برآں، قریبی فضائی مدد فراہم کرنے والا A-10 Thunderbolt II بھی ایرانی میزائل سسٹم کا نشانہ بنا، جس کی مالیت تقریباً 18.8 ملین ڈالر ہے۔اہم فضائی نگرانی طیارہ E-3 Sentry AWACS کو سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر تباہ کر دیا گیا، جس کی لاگت تقریباً 40 ملین ڈالر بتائی جاتی ہے۔

    ہیلی کاپٹروں کے حوالے سے بھی نقصانات رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں ایک HH-60M Black Hawk عراق میں تباہ جبکہ دو HH-60W Jolly Green II ایران کے اوپر پرواز کے دوران نقصان کا شکار ہوئے۔ایندھن کی فراہمی کے لیے استعمال ہونے والے KC-135 Stratotanker طیاروں میں سے کم از کم دو مکمل طور پر تباہ جبکہ پانچ کو شدید نقصان پہنچا۔

    ڈرونز کے محاذ پر بھی امریکی فوج کو بڑا دھچکا لگا، جہاں 17 MQ-9 Reaper یو سی اے ویز تباہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ایک MQ-9 ریپر کی قیمت تقریباً 30 ملین ڈالر بتائی جاتی ہے۔

  • رومبور: ایس ایچ او عبد الوکیل کا تبادلہ، ایک سالہ شاندار خدمات پر پروقار خراجِ تحسین

    رومبور: ایس ایچ او عبد الوکیل کا تبادلہ، ایک سالہ شاندار خدمات پر پروقار خراجِ تحسین

    ایس ایچ او تھانہ رومبور عبد الوکیل کا تبادلہ، ایک سالہ کارکردگی پر شاندار خراجِ تحسین
    رومبور ( فتح اللہ) چترال کی مشہور و معروف سیاحتی مقام وادی کالاش کے علاقے رومبور میں تعینات ایس ایچ او تھانہ رومبور عبد الوکیل کا تبادلہ تھانہ ارکاری کر دیا گیا ہے۔ وہ تقریباً ایک سال تک رومبور میں خدمات انجام دیتے رہے، جہاں انہوں نے بطور پولیس افسر اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھائیں۔تبادلے کے موقع پر مقامی پولیس اور علاقہ عمائدین کی جانب سے ایک پروقار الوداعی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔ مقررین نے اپنے خطاب میں ایس ایچ او عبد الوکیل کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کے دور میں خصوصاً منشیات کے خلاف مؤثر اقدامات کیے گئے، ایس ایج او صاحب کی ایک سالہ دورانیے میں علاقے میں امن و امان کی صورتحال بھی بہتر ہوئی۔
    تقریب کے دوران مقامی روایات کے مطابق انہیں شومن کا ہار پہنا کر عزت افزائی کی گئی۔ اس موقع پر مولانا محمد اسحاق، برزنگی کالاش سمیت دیگر معززین بھی موجود تھے۔ویلج کونسل رومبور کے چیئرمین سلطان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عبد الوکیل ایک فرض شناس، دیانتدار اور عوام دوست پولیس افسر کے طور پر اپنی پہچان بنانے میں کامیاب رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ان کا تبادلہ علاقے کے لیے باعثِ افسوس ہے، تاہم سرکاری ملازمت میں تبادلے ایک معمول کا حصہ ہوتے ہیں۔تقریب کے اختتام پر شرکاء نے ایس ایچ او عبد الوکیل کے لیے نئی ذمہ داریوں میں کامیابی کی دعا کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ آئندہ بھی اسی پیشہ ورانہ لگن کے ساتھ اپنی خدمات انجام دیتے رہیں گے۔

  • ایران کے افزودہ یورینیئم پر قبضے کی ٹرمپ کی تجویز، ماہرین نے خطرناک قرار دے دیا

    ایران کے افزودہ یورینیئم پر قبضے کی ٹرمپ کی تجویز، ماہرین نے خطرناک قرار دے دیا

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے پاس موجود 400 کلوگرام سے زائد افزودہ یورینیئم اپنے قبضے میں لینے کا امکان ظاہر کیا ہے، تاہم دفاعی ماہرین نے اس نوعیت کے کسی بھی فوجی مشن کو انتہائی خطرناک اور پیچیدہ قرار دے دیا ہے۔

    امریکی صدر کے بیان کے مطابق ایران کا تقریباً 60 فیصد تک افزودہ یورینیئم گہرائی میں زیرِ زمین محفوظ ہے، جس تک رسائی حاصل کرنا نہایت مشکل عمل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اس حوالے سے مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے، تاہم اس منصوبے کی عملی صورت حال چیلنجز سے بھرپور ہے۔

    عالمی میڈیا رپورٹس اور تحقیق کاروں کے مطابق 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے وقت ایران کے پاس تقریباً 440 کلوگرام یورینیئم 60 فیصد تک افزودہ حالت میں موجود تھا، جسے باآسانی 90 فیصد تک بڑھا کر ہتھیاروں کے معیار تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ایران کے پاس تقریباً 1000 کلوگرام یورینیئم 20 فیصد جبکہ 8500 کلوگرام 3.6 فیصد تک افزودہ شکل میں موجود ہے۔ماہرین کے مطابق ایران کا زیادہ تر اعلیٰ درجے کا افزودہ یورینیئم ممکنہ طور پر اصفہان میں محفوظ ہے، جو ایران کی اہم زیرِ زمین جوہری تنصیبات میں شامل ہے۔ اس مقام کو گزشتہ برس امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں نشانہ بھی بنایا جا چکا ہے۔

    دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران نے اپنی جوہری تنصیبات کو مزید مضبوط اور محفوظ بنا لیا ہے۔ خاص طور پر اصفہان میں سرنگوں کے داخلی راستے مٹی سے بند کیے جا چکے ہیں، جس کے باعث کسی بھی بیرونی فوجی کارروائی کو عملی جامہ پہنانا نہایت دشوار ہو گیا ہے۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اس طرح کا کوئی آپریشن شروع کرتا ہے تو اسے نہ صرف بھاری مشینری کے استعمال کی ضرورت پڑے گی بلکہ ممکنہ ایرانی جوابی حملوں کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

  • امریکا اور ایران کے مابین ثالثی بارے جھوٹی خبریں،ترجمان دفتر خارجہ کی تردید

    امریکا اور ایران کے مابین ثالثی بارے جھوٹی خبریں،ترجمان دفتر خارجہ کی تردید

    ترجمان دفتر خارجہ نے امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر زیر گردش جھوٹی خبروں کی سختی سے تردید کردی۔

    ترجمان دفترخارجہ طاہر اندرابی نےکہاکہ خطے میں کشیدگی اورپاکستان کی ثالثی کی کوششوں سے متعلق رپورٹس کو نوٹ کیا، ان رپورٹس میں نام نہاد سرکاری ذرائع کا حوالہ دیا گیا،انہوں نے بتایاکہ وزارت خارجہ میں ہونے والی بریفنگ کو غلط انداز میں پیش کیاگیا، ایسے مواد کا حوالہ دیا گیا جو نہ زیربحث آئے اور نہ ہی ان کی طرف اشارہ کیاگیا،ترجمان دفترخارجہ نے سوشل میڈیا پرزیرگردش جھوٹی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ بے بنیاد اور من گھڑت خبروں کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔ یہ الزامات بےبنیاد اور محض تصور کی پیداوارہیں،انہیں سرکاری ذرائع سےمنسوب کرناغلط ہے،انہوں نے علاقائی حساسیت اور نازک وقت میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا، ساتھ ہی کہاکہ میڈیاپلیٹ فارم مکمل تحقیق سےکام لیں اور قیاس آرائی سےگریز کریں اور درست اوربروقت معلومات کےلیےصرف سرکاری بیانات پرانحصارکریں۔

  • ایسٹر 2026: ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت ڈیرہ غازی خان میں مسیحی برادری کے لیے خصوصی صفائی انتظامات مکمل

    ایسٹر 2026: ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت ڈیرہ غازی خان میں مسیحی برادری کے لیے خصوصی صفائی انتظامات مکمل

    ڈیرہ غازی خان میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے ویژن “ستھرا پنجاب” پروگرام کے تحت ایسٹر 2026 کے موقع پر مسیحی برادری کے لیے خصوصی صفائی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ڈپٹی کمشنر عثمان خالد کی واضح اور سخت ہدایات کی روشنی میں متعلقہ ادارے متحرک ہیں تاکہ شہر بھر میں صاف، ستھرا اور خوشگوار ماحول فراہم کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں ڈائیوو ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے افسران اور ورکرز فیلڈ میں سرگرم عمل ہیں۔بالخصوص سینٹ اینتھونی یونائیٹڈ چرچ اور اس سے ملحقہ راستوں کی صفائی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، جبکہ چرچ آنے جانے والے راستوں کو بھی مکمل طور پر صاف رکھا جا رہا ہے تاکہ عبادت کے لیے آنے والے افراد کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ریجنل منیجر ڈائیوو ویسٹ مینجمنٹ منصور ناگرہ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے ویژن کے مطابق ایسٹر کے موقع پر صفائی کے بہترین انتظامات کو یقینی بنایا جا رہا ہے اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹیمیں دن رات کام کر رہی ہیں تاکہ شہر کو صاف ستھرا رکھا جا سکے۔ڈویژنل کوآرڈی نیٹر عبداللہ عباسی نے کہا کہ مسیحی برادری کے مذہبی تہوار کے پیش نظر خصوصی صفائی پلان ترتیب دیا گیا ہے، جس کے تحت چرچ کے اطراف اور اہم شاہراہوں کی صفائی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔شہریوں نے ڈائیوو ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انتظامیہ کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا اور اسے ایک مثبت قدم قرار دیا۔

  • پاکستان  کامتحدہ عرب امارات کو 2 ارب ڈالر کے ڈپازٹس سودسمیت واپس کرنے کا فیصلہ

    پاکستان کامتحدہ عرب امارات کو 2 ارب ڈالر کے ڈپازٹس سودسمیت واپس کرنے کا فیصلہ

    حکومت رواں ماہ کے دوران 3.5 ارب ڈالر کے 2 بڑے بیرونی قرضے واپس کرنے کی تیار ی کررہی ہے۔

    حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے 2 ارب ڈالر کے ڈپازٹس 17 اپریل کو 6 فیصد سود کے ساتھ واپس کیے جائیں گے، اس کے علاوہ 8 اپریل 2026 کو یورو بانڈ کی مدت پوری ہونے پر 1.3 ارب ڈالر بھی ادا کیے جائیں گے،مجموعی طور پر پاکستان کو اصل رقم اور منافع سمیت 3.5 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کرنا ہوں گی جب کہ متحدہ عرب امارات کے مزید 1 ارب ڈالر کے ڈپازٹس جولائی 2026 میں واجب الادا ہونگے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق پاکستان ممکنہ طور پر 3 ارب ڈالر کی پوری رقم ایک ساتھ واپس کرنے کو ترجیح دے سکتا ہے، حکومت نے متحدہ عرب امارات کو اس رقم کی مدت بڑھانے کیلئے قائل کرنے کی کوشش کی مگر بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال کے پیش نظر اب واپسی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

    ذرائع کے مطابق اسلام آباد دوست ممالک سے عبوری مالی معاونت (بریج فنانسنگ) حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاہم ابھی تک کوئی حتمی پیش رفت نہیں ہوئی، وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں وفاقی حکومت کے ایک وزیر نے جمعہ کی شام دی نیوز کو تصدیق کی کہ حکومت متحدہ عرب امارات کے ڈپازٹس مقررہ تاریخ پر واپس کرنے کیلئے تیار ہے.یاد رہے کہ دی نیوز انٹرنیشنل نے فروری 2026 میں رپورٹ کیا تھا کہ متحدہ عرب امارات نے اصولی طور پر 2 ارب ڈالر کے ڈپازٹس میں2 ماہ کی توسیع کی منظوری دیدی تھی جس کی نئی تاریخ 17 اپریل 2026 تھی تاہم اب حکومت نے سود سمیت اس رقم کی واپسی کا فیصلہ کیا ہے۔

    اس سے قبل متحدہ عرب امارات نے 2 ارب ڈالر کو صرف ایک ماہ کیلئے رول اوور کیا تھا جس میں ایک ارب ڈالر کی مدت 16 فروری اور باقی ایک ارب ڈالر کی 22 فروری کو ختم ہوئی تھی، پاکستانی حکومت نے پہلے 2 سال کیلئے توسیع کی درخواست دی تھی اور بعد میں مزید مہلت کیلئے نئی درخواست بھی دی تھی

  • سیالکوٹ: پٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے خلاف شدید احتجاج، “پٹرول بم” مسترد

    سیالکوٹ: پٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے خلاف شدید احتجاج، “پٹرول بم” مسترد

    سیالکوٹ بیورو چیف مدثر رتو کے مطابق، سیالکوٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے خلاف پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے زیرِ اہتمام حاجی پورہ کے علاقے میں ایک بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے انجینئر اعجاز نصر، جنرل سیکرٹری پاکستان مرکزی مسلم لیگ سیالکوٹ نے حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ دراصل عوام پر “پٹرول بم” گرانے کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبی عوام سے مزید ریلیف چھین لیا گیا ہے، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔انہوں نے کہا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے نہ صرف ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھیں گے بلکہ اشیائے ضروریہ بھی مزید مہنگی ہو جائیں گی، جس کا براہِ راست اثر غریب اور متوسط طبقے پر پڑے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر قیمتوں میں کمی کرے اور عوام کو ریلیف فراہم کرے۔مظاہرے میں شریک شہریوں نے بھی حکومت کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ پٹرول کی قیمت میں 137.24 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 184.49 روپے فی لیٹر اضافہ سراسر ظلم ہے۔ ان کے مطابق پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پسے ہوئے عوام کے لیے یہ اضافہ ناقابلِ برداشت ہے۔شرکاء نے مزید کہا کہ عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافے کا جواز بنا کر حکمران عوام کا استحصال کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مشکل وقت میں حکومت کو عوام کو ریلیف دینا چاہیے تھا، لیکن موجودہ حکومت اس میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔
    مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی جائے اور عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے، جبکہ مرکزی مسلم لیگ نے اعلان کیا کہ وہ ہر مشکل وقت میں عوام کے ساتھ کھڑی رہے گی۔

  • پیٹرول کی قیمتوں میں ردوبدل مگر مہنگائی کا طوفان مذید بڑھ گیا

    پیٹرول کی قیمتوں میں ردوبدل مگر مہنگائی کا طوفان مذید بڑھ گیا

    قصور
    پیٹرول کی قیمتوں میں ردوبدل، مہنگائی کا طوفان برقرار ، شہریوں کے سوالات بڑھ گئے
    تفصیلات کے مطابق حالیہ دنوں میں پیٹرول کی قیمت 321 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 458 روپے تک پہنچائے جانے کے بعد حکومت کی جانب سے بظاہر ریلیف دیتے ہوئے 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا گیا تاہم اس عارضی کمی کے باوجود مہنگائی کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا
    قصور میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے فوری بعد ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں کئی گنا اضافہ کر دیا جبکہ نان، روٹی اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی بے تحاشا بڑھ گئیں ہیں
    شہریوں کا کہنا ہے کہ جب پیٹرول مہنگا ہوتا ہے تو ہر چیز مہنگی کر دی جاتی ہے لیکن جب قیمتیں کم ہوتی ہیں تو اشیاء کی قیمتیں اپنی جگہ برقرار رہتی ہیں
    شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا حکومت صرف پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ اور کمی تک ہی محدود ہے یا پھر وہ مارکیٹ میں دیگر اشیاء کی قیمتوں کو بھی کنٹرول کر سکتی ہے؟
    عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ کرایوں میں کمی کے حوالے سے کوئی عملی اقدام نظر نہیں آ رہا جس کے باعث عام آدمی کو ریلیف نہیں مل پا رہا
    ماہرین کے مطابق قیمتوں میں استحکام کے لیے موثر مانیٹرنگ سسٹم اور سخت حکومتی عملدرآمد ناگزیر ہے بصورت دیگر وقتی ریلیف کا فائدہ عوام تک منتقل نہیں ہو پاتا
    شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت نہ صرف پیٹرول کی قیمتوں کو متوازن رکھے بلکہ ٹرانسپورٹ کرایوں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی سختی سے عملدرآمد کروائے تاکہ حقیقی معنوں میں عوام کو ریلیف مل سکے

  • 
جنوبی لبنان میں حملہ، اسرائیل کا حزب اللہ کے 15 ارکان کو مارنے کا دعویٰ

    
جنوبی لبنان میں حملہ، اسرائیل کا حزب اللہ کے 15 ارکان کو مارنے کا دعویٰ

    
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں ایک کارروائی کے دوران حزب اللہ کے 15 ارکان کو نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا گیا۔
    غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج کے ترجمان آویچی ادرائی نے بتایا کہ اسرائیل کی 146 ویں ڈویژن نے ایک گروپ کی نشاندہی کی جو مبینہ طور پر اسرائیل کی جانب اینٹی ٹینک میزائل حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔
    ‎انہوں نے کہا کہ اس کے بعد فضائی کارروائی کی گئی جس میں مذکورہ افراد کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی فوج کے مطابق کارروائی کے بعد علاقے سے متعدد ہتھیار بھی برآمد کیے گئے جن میں رائفلیں اور دستی بم شامل ہیں۔
    ‎دوسری جانب حزب اللہ کی جانب سے اس دعوے یا ہلاکتوں کی تاحال تصدیق سامنے نہیں آئی۔
    ‎یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایک روز قبل حزب اللہ نے اسرائیل پر 50 سے زائد راکٹ داغنے کا دعویٰ کیا تھا، جو یہودی تہوار پاس اوور کی ابتدائی تقریبات کے دوران کیے گئے۔
    ‎اس حملے کے نتیجے میں اسرائیل کے مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بج اٹھے اور شہریوں کی بڑی تعداد حفاظتی پناہ گاہوں میں منتقل ہو گئی تھی۔
    ‎خطے میں جاری کشیدگی کے باعث صورتحال مسلسل نازک ہوتی جا رہی ہے اور دونوں جانب سے کارروائیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔

  • وزیراعظم کا پیٹرول کی قیمت 80 روپے کم کر کے 378 روپے فی لیٹر کرنے کا اعلان

    وزیراعظم کا پیٹرول کی قیمت 80 روپے کم کر کے 378 روپے فی لیٹر کرنے کا اعلان

    
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت نے قومی وسائل سے 129 ارب روپے خرچ کر کے مہنگائی کے طوفان کو عوام تک پہنچنے سے روکا اور گزشتہ تین ہفتوں کے دوران تیل کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ عوام پر منتقل نہیں کیا۔
    اپنے خطاب میں وزیراعظم نے بتایا کہ فیلڈ مارشل، وفاقی وزرا اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کی موجودگی میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، اور حکومت اس وقت تک اپنی ذمہ داریاں ادا کرتی رہے گی جب تک معاشی مشکلات میں کمی نہیں آتی۔
    ‎انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے جس کے اثرات پاکستان سمیت دنیا بھر میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس صورتحال میں عام آدمی، کسان اور کم آمدنی والے طبقات شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
    ‎وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت نے محدود وسائل کے باوجود عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی بھرپور کوشش کی اور اسی مقصد کے تحت پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کو وقتی طور پر برداشت کیا گیا۔
    ‎انہوں نے اعلان کیا کہ موٹرسائیکل سواروں کے لیے فی لیٹر 100 روپے سبسڈی دی جائے گی جبکہ ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے لیے بھی خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ مہنگائی کے اثرات کم کیے جا سکیں۔
    ‎شہباز شریف نے یہ بھی بتایا کہ پیٹرول پر لیوی میں 80 روپے فی لیٹر کمی کی گئی ہے جس کے بعد پیٹرول کی قیمت کم ہو کر 378 روپے فی لیٹر ہو جائے گی۔
    ‎وزیراعظم نے کہا کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔