Baaghi TV

Blog

  • پاکستان کی سفارتی کامیابی پر وزیراعظم کا اعلیٰ قیادت کے کردار کا اعتراف: سینیٹر شیری رحمان

    پاکستان کی سفارتی کامیابی پر وزیراعظم کا اعلیٰ قیادت کے کردار کا اعتراف: سینیٹر شیری رحمان

    ‎سینیٹ کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر اور سینیٹر شیری رحمان نے ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کے تناظر میں پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہتے ہوئے اسے ملک کے لیے قابلِ فخر کامیابی قرار دیا۔
    ‎شیری رحمان نے پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف، صدر آصف علی زرداری، فیلڈ مارشل عاصم منیر، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور دیگر قیادت کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کیا۔
    ‎انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا جا رہا ہے اور امید ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر جلد باضابطہ دستخط بھی ہو جائیں گے۔ ان کے مطابق اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی کوششوں کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم سفارتی اقدامات کی بدولت امن کا عمل آگے بڑھتا رہا۔
    ‎شیری رحمان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بیک ڈور اور سائیڈ چینل سفارت کاری کے ذریعے ایک ایسا ماحول پیدا کیا جس نے مذاکرات کو کامیاب بنانے میں مدد دی۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے کھلنے سے عالمی توانائی منڈیوں میں استحکام آئے گا اور تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ دنیا بھر کے عوام کو پہنچ سکتا ہے۔
    ‎بجٹ پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 18 کھرب روپے سے زائد حجم کے بجٹ میں متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کو مزید ریلیف ملنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پٹرولیم لیوی میں مسلسل اضافہ عوام اور صوبوں دونوں کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے، کیونکہ لیوی سے حاصل ہونے والی رقم صوبوں کو منتقل نہیں کی جاتی۔
    ‎انہوں نے زور دیا کہ صحت، تعلیم اور سماجی شعبوں کی ذمہ داری زیادہ تر صوبوں پر عائد ہوتی ہے، اس لیے صوبوں کے مالی وسائل میں کمی ترقیاتی اور فلاحی منصوبوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ انہوں نے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے، تجارت اور سروسز سیکٹر کو مؤثر انداز میں ٹیکس نظام میں شامل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
    ‎شیری رحمان نے خواتین کے سینیٹری پیڈز اور مانع حمل مصنوعات پر سیلز ٹیکس ختم کرنے کے حکومتی فیصلے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی، بے روزگاری اور زرعی شعبے کے مسائل پر بھی فوری توجہ دینا ناگزیر ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ پاکستان ماضی میں کپاس، گندم اور چینی برآمد کرتا تھا لیکن آج ان اشیا کی درآمد پر انحصار بڑھ رہا ہے، جو تشویش کا باعث ہے۔ ان کے مطابق آئندہ بجٹ کی تیاری کے لیے تمام متعلقہ فریقوں سے پہلے ہی مشاورت کا عمل شروع کیا جانا چاہیے تاکہ بہتر اور متوازن معاشی پالیسی تشکیل دی جا سکے۔

  • 
محرم میں حساس اضلاع میں جزوی موبائل سروس بند کرنے کی سفارش

    
محرم میں حساس اضلاع میں جزوی موبائل سروس بند کرنے کی سفارش

    ‎خیبر پختونخوا پولیس نے محرم الحرام کے دوران امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے جامع سیکیورٹی پلان تیار کر لیا ہے اور 9 اور 10 محرم کو حساس علاقوں میں جزوی طور پر موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس معطل کرنے کی سفارش کر دی ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ داخلہ خیبر پختونخوا کو باقاعدہ مراسلہ بھی ارسال کر دیا گیا ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق آئی جی خیبر پختونخوا کی ہدایت پر تیار کی گئی سیکیورٹی رپورٹ میں صوبے کے مختلف اضلاع میں ممکنہ سیکیورٹی خدشات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ میں پشاور، کوہاٹ، ہنگو، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، بنوں، لکی مروت اور ضلع کرم کو حساس ترین قرار دیا گیا ہے۔
    ‎اس کے علاوہ مزید چھ اضلاع کو بھی حساس قرار دیا گیا ہے جہاں محرم الحرام کے دوران مجالس اور ماتمی جلوسوں کی سیکیورٹی کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے جائیں گے۔ حکام کے مطابق مجموعی طور پر 14 اضلاع میں 43 ہزار سے زائد پولیس افسران اور اہلکار سیکیورٹی فرائض انجام دیں گے۔
    ‎سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے حساس ترین علاقوں میں فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) کی اضافی نفری تعینات کی جائے گی جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں پاک فوج کی معاونت بھی حاصل ہوگی۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مکمل رابطہ اور تعاون برقرار رکھا جائے گا۔
    ‎رپورٹ کے مطابق محرم کے جلوسوں اور مجالس کی نگرانی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کیا جائے گا۔ حساس اضلاع میں جلوسوں کے راستوں کی ہیلی کاپٹروں اور ڈرونز کے ذریعے فضائی نگرانی کی جائے گی جبکہ غیر مجاز فضائی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے اینٹی ڈرون سسٹم بھی فعال رکھا جائے گا۔
    ‎پولیس حکام نے تمام ریجنل پولیس افسران (آر پی اوز) اور ضلعی پولیس افسران (ڈی پی اوز) کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ ماتمی کمیٹیوں، علمائے کرام اور مقامی انتظامیہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہیں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔
    ‎حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد محرم الحرام کے دوران عزاداروں کو محفوظ ماحول فراہم کرنا اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچاؤ کو یقینی بنانا ہے۔ موبائل اور انٹرنیٹ سروس کی جزوی معطلی کا حتمی فیصلہ محکمہ داخلہ اور متعلقہ وفاقی اداروں کی منظوری کے بعد کیا جائے گا۔

  • 
لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے کیلئے مفاہمت طے پا گئی، ایران

    
لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے کیلئے مفاہمت طے پا گئی، ایران

    ‎ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی کوششوں میں اہم پیشرفت ہوئی ہے اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر جنگ کے خاتمے کے لیے مفاہمتی یادداشت طے پا گئی ہے۔
    ‎ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ حالیہ جنگ کے دوران ایرانی عوام نے غیر معمولی استقامت اور اتحاد کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے بھاری قربانیاں دے کر اپنے دفاع کو یقینی بنایا اور ملک کبھی ان شخصیات اور رہنماؤں کی قربانیوں کو فراموش نہیں کرے گا جو اس دوران شہید ہوئیں۔
    ‎ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے لبنان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے بیروت اور دیگر علاقوں میں کی جانے والی کارروائیوں کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق حالیہ حملوں میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، جس سے شہری آبادی متاثر ہوئی۔
    ‎اسماعیل بقائی نے امریکا اور اسرائیل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران ان کارروائیوں سے ہونے والے نقصانات کو کبھی فراموش نہیں کرے گا۔ انہوں نے عالمی اداروں کے کردار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی تنظیمیں امریکی اور اسرائیلی اقدامات کی مذمت کرنے میں ناکام رہیں۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے کے لیے تیار کی گئی مفاہمتی یادداشت میں جنگ بندی اور کشیدگی کے خاتمے کے نکات شامل ہیں۔ ان کے مطابق لبنان میں امن کا قیام اس مفاہمتی عمل کا بنیادی اور لازمی حصہ ہے اور اس کے بغیر خطے میں پائیدار استحکام کا حصول ممکن نہیں۔
    ‎بقائی کا کہنا تھا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں اور مختلف فریقین کے درمیان رابطے برقرار ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حالیہ پیشرفت مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور سیاسی حل کی راہ ہموار کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
    ‎سیاسی مبصرین کے مطابق ایران کی جانب سے اس نوعیت کے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں سفارتی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے اور مختلف ممالک جنگ کے خاتمے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

  • معصوم خدیجہ کی ہوپ،تحریر:غنی محمود قصوری

    معصوم خدیجہ کی ہوپ،تحریر:غنی محمود قصوری

    یہ دنیا امید پر قائم ہے
    کسی کو امیر ہونے کی امید ہے تو کسی کو محض دو وقت کی روٹی کی امید ہی کافی ہوتی ہے اور کوئی بیچارا محض سانسیں بحال رکھنے کی امید پر ہی قائم ہوتا ہے کہ کسی تک زندگی کی ڈور چلتی رہے
    یعنی ہر بندہ Hope Line پر چل رہا ہے
    ویسے تو دنیا میں بیشمار خطرناک بیماریاں ہیں تاہم ایک خطرناک ترین بیماری تھیلیسیمیا بھی ہے جو بچوں کو پیدائش سے لے کر موت تک سانسوں کی بحالی کیلئے Hope Line کے راستے پر چلتے رہنے پر کاربند رکھتی ہے
    اس مرض کا بچہ پیدائش سے موت تک اس بیماری سے نکل ہی نہیں سکتا
    دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی موذی مرض تھیلیسیمیا کے ہزاروں بچے موجود ہیں جن کی جینے کی امید یعنی Hope Line کیلئے ایک خدمت انسانیت کا ادارہ
    ہوپ لائن ویلفئیر فاؤنڈیشن کے نام سے پاکستان ضلع قصور کے شہر کنگن پور میں بنا ہوا ہے جو تھیلیسیمیا کے سینکڑوں بچوں کا مفت علاج معالجہ کرتا ہے

    ویسے تو ہر ذی روح نے ایک نا ایک دن مرنا ہی ہوتا ہے مگر تھیلیسیمیا کے مریض یہ بچے وہ ہوتے ہیں جن کی عمریں بہت کم یعنی 10 سے 14 سال تک ہوتی ہیں کیونکہ بار بار خون لگنے سے ان کے جسم کے اعضاء ناکارہ ہو جاتے ہیں اور یہ بہت جلد وفات پا جاتے ہیں

    یہ مرض کیسے بنتی ہے اور اس سے بچاؤ کا کیا طریقہ کار ہے ان شاءاللہ پھر کبھی لکھوں گا ،مگر آج میں ہوپ لائن کی ایک مریضہ بچی خدیجہ کی خوشی کا ذکر کرنے لگا ہوں کہ جسے اپنے جینے کی ہلکی سی Hope یعنی امید ہوئی تو وہ کیسے خوش ہوئی.اس ادارے کے سربراہ سردار منیر حسین اور پروفیسر عبدالستار سے بات ہو رہی تھی، تو انہوں نے بتایا کہ آج ایک تھیلیسیمیا کی مریض چھوٹی سی بیٹی خدیجہ نے اپنی ہیموگلوبن رپورٹ (HB) چیک کروانے کے بعد خوشی سے اپنے والد محترم کو پیغام بھیجا کہ الحمدللہ پاپا میری ہیموگلوبن پوری ہو گئی ہے
    اس بچے کے والد نے وہ پیغام ہمارے ساتھ شیئر کیا جو چند الفاظ پر مشتمل تھا جو دراصل برسوں کی آزمائش، تکلیف، انتظار اور امید کی ایک مکمل داستان تھے
    ننھی بیٹی خدیجہ نے لکھا تھا
    بابا الحمدللہ سات ماہ گزرنے کے باوجود بغیر خون لگے میری ہیموگلوبن (HB) 11.4 ہے جو کہ پہلے 9.0 سے بھی کم ہو جایا کرتی تھی
    اللہ اللہ اتنی خوشی اس بچی کی صرف ایک ہیموگلوبن پوری ہونے پر ،ذرا تصور کریں اس بیٹی کی کیا حالت ہوتی ہو گی جب اس کی HB پوری نہیں ہوتی ہو گی اور اس کے جسم کا ایک ایک حصہ دکھ رہا ہو گا
    وہ بیچاری دوسرے بچوں میں کھیلنے کی بجائے اپنے درد سے کھیل رہی ہو گی
    آپ تصور کریں کہ بے بسی سے اس کے ماں باپ کیا کرتے ہونگے؟
    سوچیں کہ کبھی کسی تھیلیسیمیا کے مریض بچے یا اس کے والدین کی ایسی خوشی کے بارے میں سنا تھا؟
    وہ والدین جو برسوں اپنے بچوں کو ہر ہفتے یا پندرہ دن بعد خون لگوانے کے لئے ہسپتالوں کے چکر لگواتے رہتے ہیں، جو ہر رپورٹ، ہر سوئی چبنے اور ہر نئی آزمائش کے ساتھ اندر ہی اندر گھلتے رہتے ہیں
    جنہیں بارہا یہ سننے کو ملا کہ ان کا بچہ بس چند برسوں کا مہمان ہے
    ان والدین کے دلوں پر کیا گزرتی ہوگی؟
    بعض والدین تو یہ کہتے تھے کہ ہم اپنے بچوں کو دیکھ دیکھ کر جینے کے بجائے روز مر رہے ہوتے ہیں اور ہر لمحہ یہ خوف ساتھ رہتا ہے کہ نہ جانے آنے والا کل کیا لے کر آئے گا؟

    ایسے میں اگر کسی گھر میں امید کی ایک کرن روشن ہو جائے تو اس خوشی کا اندازہ صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جنہوں نے یہ کٹھن سفر طے کیا ہو
    ہوپ لائن کے سربراہ نے بتایا کہ یہ ہماری پیاری بیٹی خدیجہ کی کہانی ہے جس کا خون کا گروپ او نیگیٹو ہے جو کہ ملتا بھی بہت کم ہے

    انہوں نے بتایا کہ جب اس کے والد روزگار کے سلسلے میں بیرونِ ملک روانہ ہوئے تو اپنی بیٹی کو ہمارے سپرد کر گئے
    اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں توفیق دی کہ ہم اس کی دیکھ بھال اور رہنمائی میں اپنا کردار ادا کر سکیں
    انہوں نے بتایا کہ بعد ازاں ہم خدیجہ کو پشاور لے گئے جہاں علاج کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آج سات ماہ گزر چکے ہیں اور اسے خون لگانے کی ضرورت پیش نہیں آئی
    چند روز قبل خدیجہ اپنی والدہ کے ساتھ سندس فاؤنڈیشن میں ہیموگلوبن رپورٹ چیک کروانے گئی تو وہاں موجود عملہ اور ڈاکٹر صاحبان بھی اس کی کیفیت سن کر خوش ہوئے
    ڈاکٹر صاحبہ نے بڑی توجہ سے اس کی بات سنی اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ اس حوالے سے مذید معلومات حاصل کی جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو فائدہ پہنچ سکے
    ہوپ لائن فاؤنڈیشن نے بتایا کہ ہم پشاور اس لئے جاتے ہیں کہ اگر کہیں کوئی ایسا مؤثر علاج، طریقہ کار یا طبی رہنمائی موجود ہے جو تھیلیسیمیا کے مریض بچوں کی زندگی میں آسانی لا سکتی ہے تو اس کی حقیقت کو سمجھنا ہم پر لازم ہے اور لازم ہے کہ اس کے نتائج کا جائزہ لیا جائے اور پھر اس معلومات کو زیادہ سے زیادہ ضرورت مند خاندانوں تک پہنچایا جائے
    انہوں نے بتایا نیز کہ ہمارا مقصد کسی فرد، ڈاکٹر یا ادارے کی تشہیر نہیں بلکہ بچوں اور والدین کے لئے امید، آسانی اور بہتری کے امکانات تلاش کرنا ہے اور ہم اپنے تمام دوست احباب کے بھی تہہ دل سے شکر گزار ہیں جو مسلسل بچوں اور ان کے والدین کی مالی خدمت اور رہنمائی کیساتھ حوصلہ افزائی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں اور ساتھ ان بچوں کو خون اور ادویات بھی مہیا کرتے ہیں

    اللہ تعالیٰ ہوپ لائن کے تمام معاونین، محبین، مخیر حضرات اور خدمتِ انسانیت کے جذبے سے سرشار افراد کو بہترین جزائے خیر عطا فرمائے اور تمام بیمار بچوں کو صحتِ کاملہ، لمبی زندگی اور خوشیوں بھرا مستقبل نصیب فرمائے
    آمین ثم آمین

    پاکستان میں بہت سے ادارے تھیلیسیمیا کے بچوں کی زندگیوں کی خاطر امید کی ایک کرن ہیں جو عوامی تعاون سے چل رہے ہیں اگر ایسا کوئی ادارہ آپ کے قریب ہے تو اس ادارے کی ہوپ بن کر تھیلیسیمیا کے مریض بچوں کی ہوپ بن کر جئیں کیونکہ ہو سکتا یہ مریض بچے ہم سے پہلے رب کے حضور پہنچ کر ہماری بخشش کی ہوپ بن جائیں
    ہوپ لائن ویلفئیر فاؤنڈیشن کنگن پور ضلع قصور کیساتھ مالی تعاون کرنے کیلئے اس جاز کیش اکاؤنٹ نمبر
    03041472158
    بنام محمد زبیر پر تعاون کیا جا سکتا ہے نیز بلمشافہ ملنے اور بچوں کے تاثرات دیکھنے کیلئے ہوپ لائن ویلفئیر فاؤنڈیشن نزد گرڈ اسٹیشن کنگن پور تحصیل چونیاں ضلع قصور میں وزٹ کیا جا سکتا ہے
    مہنگائی کے اس دور میں خصوصاً موجودہ گورنمنٹ کی مہنگائی کی بدولت بھی ہمارے خیراتی اداروں کا پہلے کی طرح چلتے رہنا مملکت پاکستان کی عوام کو ایک عظیم قوم ظاہر کرتا ہے جو اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کے جینے کی بھی،ہوپ، ہیں
    وگرنہ آج تو اپنے گھر کا نظام چلانا ہی بہت مشکل ہو گیا ہے
    اللہ تعالیٰ ہم سب کی جان و مال اور اعمال میں برکت عطا فرمائے آمین

  • 
پاکستان کو فیفا آسیان کپ میں شرکت کی تاریخی دعوت

    
پاکستان کو فیفا آسیان کپ میں شرکت کی تاریخی دعوت

    ‎پاکستانی فٹبال کے لیے ایک اہم اور تاریخی خوشخبری سامنے آئی ہے، جہاں فیفا کی جانب سے قومی فٹبال ٹیم کو فیفا آسیان کپ 2026 میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی گئی ہے۔ پاکستان فٹبال فیڈریشن (پی ایف ایف) نے بھی قومی ٹیم کی اس بین الاقوامی ٹورنامنٹ میں شرکت کی تصدیق کر دی ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق فیفا آسیان کپ 21 ستمبر سے 6 اکتوبر 2026 تک انڈونیشیا میں منعقد ہوگا۔ اس ایونٹ میں پاکستان ڈویژن ون کا حصہ ہوگا، جہاں اسے خطے کی مضبوط ٹیموں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پاکستان کے گروپ میں روایتی حریف بھارت کے علاوہ میزبان انڈونیشیا، ملائشیا، فلپائن، سنگاپور اور تھائی لینڈ جیسی ٹیمیں شامل ہوں گی۔
    ‎فٹبال حلقوں کے مطابق یہ پاکستان کے لیے ایک غیر معمولی موقع ہے کیونکہ قومی ٹیم پہلی مرتبہ ورلڈ کپ یا ایشین کوالیفائرز سے ہٹ کر فیفا کے زیر اہتمام کسی بڑے اور باقاعدہ بین الاقوامی ٹورنامنٹ میں شرکت کرے گی۔ اس ایونٹ میں شمولیت سے پاکستانی کھلاڑیوں کو اعلیٰ معیار کی ٹیموں کے خلاف کھیلنے اور قیمتی بین الاقوامی تجربہ حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اس ٹورنامنٹ میں شامل کیے جانے کے پیچھے پاکستان فٹبال فیڈریشن کی سفارتی کوششوں اور فیفا حکام کے ساتھ مضبوط روابط نے اہم کردار ادا کیا۔ خاص طور پر پی ایف ایف کے صدر محسن گیلانی کی کاوشوں کو اس کامیابی میں نمایاں قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎فٹبال ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ایونٹ میں شرکت پاکستان کے لیے عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو منوانے کا بہترین موقع ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر قومی ٹیم بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہے تو اس سے نہ صرف کھلاڑیوں کا اعتماد بڑھے گا بلکہ پاکستان میں فٹبال کے فروغ کے لیے بھی نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔
    ‎شائقین فٹبال اس اعلان کو پاکستانی فٹبال کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دے رہے ہیں اور امید ظاہر کر رہے ہیں کہ قومی ٹیم اس بڑے پلیٹ فارم پر عمدہ کھیل پیش کر کے ملک کا نام روشن کرے گی۔
    ‎یہ دعوت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان میں فٹبال دوبارہ منظم انداز میں ترقی کی جانب گامزن ہے اور بین الاقوامی سطح پر اپنی موجودگی مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

  • وزیر اعلیٰ پنجاب کی   محرم الحرام کے دوران بہترین سے بھی بہتر کارکردگی  کی ہدایت

    وزیر اعلیٰ پنجاب کی محرم الحرام کے دوران بہترین سے بھی بہتر کارکردگی کی ہدایت

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ہدایت کی ہے کہ محرم الحرام کے دوران گزشتہ انتظامات کو پیچھے چھوڑ کر بہترین سے بھی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فول پروف سیکیورٹی اور عزاداروں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں-

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت لاہور میں محرم الحرام کے دوران سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ اجلاس ہوا،مریم نواز نے کہا کہ ہمیں ہر روز پہلے سے بہتر کارکردگی دکھانے کی کوشش کرنی چاہیے یہ احساس نہیں آنا چاہیے کہ ہم نے بہت اچھا کام کر لیا ہے اور اب یہی کافی ہے جس طرح گزشتہ عید کے مقابلے میں اس عید پر بہتر انتظامات کیے گئے، اسی طرح گزشتہ محرم الحرام کے مقابلے میں کل سے شروع ہونے والا محرم بھی مزید بہتر ہونا چاہیے حساس مقامات پر خصوصی نگرانی انتہائی اہم ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے انتظامی امور میں نیا معیار قائم کر دیا، عیدالاضحیٰ کے بہترین انتظامات پر ضلعی انتظامیہ اور فیلڈ ٹیمیں شاباش کی مستحق ہیں، کامیابی پر اکتفا نہیں بلکہ مسلسل بہتری ہماری پالیسی ہےانہوں نے نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر صوبہ بھر میں صفائی اور سیکیورٹی کے شاندار انتظامات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ تمام متعلقہ اداروں، کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور ضلعی انتظامیہ نے انتہائی محنت اور لگن سے کام کرتے ہوئے ایک مؤثر کردار ادا کیا ہے۔

    انہوں نے آر پی اوز، ڈی پی اوز، سیکرٹری ہوم اور دیگر متعلقہ حکام کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ لوکل گورنمنٹ کی ٹیم اور پنجاب بھر کی سترہ فیلڈ فارمیشنز نے عید کے دنوں میں مثالی خدمات انجام دیں، جس کے باعث قربانی کے بعد صفائی آپریشن بروقت اور مؤثر انداز میں مکمل ہوا جبکہ عیدگاہوں اور مساجد کی صفائی کے انتظامات بھی انتہائی قابلِ ستائش رہے۔

    مریم نواز شریف نے واضح کیا کہ تمام اداروں نے ایک مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت کام کیا ہے اور انتظامی امور کے لیے ایک جامع اور مؤثر بلو پرنٹ تیار کیا گیا ہے کیونکہ پہلی بار معاملات کو رسمی انداز کے بجائے گہرائی، سنجیدگی اور عملی بنیادوں پر دیکھا جا رہا ہے اور ہر پہلو کا تفصیلی جائزہ لے کر انتظامی امور میں شفافیت اور کارکردگی پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے کامیابی پر اکتفا کرنا ہماری پالیسی نہیں بلکہ ہمارا ہدف ہر آنے والے مرحلے کو پچھلے انتظامات سے بہتر بنانا ہے، اس لیے محرم الحرام کے دوران امن و امان اور عوامی تحفظ کو اولین ترجیح بناتے ہوئے سیکیورٹی انتظامات کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ کارکردگی کی ایک نئی مثال قائم کی جاسکے۔

    انہوں نے ہدایت کی کہ حساس اور اہم علاقوں میں خصوصی سیکیورٹی انتظامات یقینی بنائے جائیں اور ضرورت پڑنے پر اضافی نفری کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کیا جائے جبکہ مجالس اور جلوسوں کی مؤثر نگرانی کا سلسلہ مسلسل جاری رہنا چاہیے اور محرم الحرام کے حوالے سے علمائے کرام اور مذہبی قیادت کے جذبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ تمام علمائے کرام اور رائے ساز شخصیات انتظامیہ سے بھرپور تعاون کر رہی ہیں اور علاقائی حالات کے پیشِ نظر امن و امان برقرار رکھنا ہماری سب سے بڑی ترجیح ہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ محرم میں عزاداروں کو ہر ممکن سہولت اور تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ انہیں یہ احساس ہو کہ حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے انہوں نے شدید گرمی کے پیشِ نظر تمام افسران کو فیلڈ میں متحرک رہنے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ جلوسوں کے راستوں پر ٹھنڈے پانی اور شربت کی سبیلیں یقینی بنائی جائیں اور حکومتِ پنجاب کی جانب سے مفت پانی اور شربت کی فراہمی کو مسلسل جاری رکھا جائے،اس کے علاوہ جلوسوں کے روٹس پر پانی کا چھڑکاؤ، صفائی کے انتظا ما ت، واضح سائن ایج کی تنصیب اور راستوں سے تمام رکاوٹیں اور تعمیراتی ملبہ فوری ہٹانے کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔

    مریم نواز شریف نے خاص طور پر تاکید کی کہ صوبے میں کسی بھی مقام پر کھلا مین ہول یا خطرناک جگہ نظر نہیں آنی چاہیے اور تمام کھلے مین ہولز اور سیوریج پوائنٹس کو فوری طور پر محفوظ بنایا جائے انہوں نے ریسکیو، میڈیکل اور ایمرجنسی سروسز کو چوبیس گھنٹے الرٹ رکھنے اور فیلڈ ہسپتالوں سمیت طبی کیمپوں کی مؤثر تعیناتی یقینی بنانے کی ہدایت کی ، محرم کے دوران قائم کیے جانے والے تمام معلوماتی اور سیکیورٹی کیمپوں کا ڈیزائن اور شناخت یکساں ہونی چاہیے کیونکہ شہریوں کی سہولت، تحفظ اور فلاح و بہبود پنجاب حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔

  • چین کا امریکا اور ایران کے مابین معاہدے کا خیرمقدم،پاکستان کے ثالثی کردار  کی تعریف

    چین کا امریکا اور ایران کے مابین معاہدے کا خیرمقدم،پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف

    چین نے امریکا اور ایران کے درمیان معاہدےکا خیرمقدم کرتے ہوئے اس پیشرفت میں پاکستان کے ثالثی کردار کو سراہا ہے۔

    چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے پیر کو معمول کی پریس بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا کہ چین امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کو مثبت پیش رفت سمجھتا ہے،پاکستان کی جانب سے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتتے ہوئے چینی ترجمان نے امید ظاہر کی ہے کہ دونوں ممالک طے شدہ شیڈول کے مطابق معاہدے پر دستخط کریں گے۔

    لن جیان نے کہا کہ چین امید کرتا ہے کہ تمام متعلقہ فریق امن کے راستے پر کاربند رہیں گے اور اپنے اختلافات کو مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے حل کریں گے،انہوں نے مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے میں امن و استحکام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ چین علاقائی تنازعات کے حل کے لیے سفارتی اور سیاسی ذرائع کی حمایت جاری رکھے گا، چین عالمی برادری کے ساتھ مل کر مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے میں امن و استحکام کی جلد بحالی کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔

    چینی ترجمان نے کہا کہ چین ہمیشہ سے سیاسی مکالمے اور پرامن مذاکرات کو تنازعات کے حل اور کشیدگی میں کمی کا مؤثر ترین ذریعہ قرار دیتا آیا ہے،امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمت نہ صرف علاقائی کشیدگی میں کمی کا باعث بن سکتی ہے بلکہ وسیع تر استحکام اور امن کے لیے بھی سازگار ماحول پیدا کرے گی۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان یہ پیش رفت خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم تصور کی جا رہی ہے، جبکہ پاکستان کے سفارتی کردار کو بین الاقوامی سطح پر پذیرائی ملنا اس کی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

  • کینیڈا میں علی ظفر کا تاریخی کنسرٹ، 45 ہزار سے زائد شائقین شریک

    کینیڈا میں علی ظفر کا تاریخی کنسرٹ، 45 ہزار سے زائد شائقین شریک

    علی ظفر نے کینیڈا کے شہر مسی ساگا میں منعقد ہونے والے ایک لائیو کنسرٹ میں 45 ہزار سے زائد شائقین کی شرکت کے ساتھ ایک تاریخی ریکارڈ قائم کر دیا ہے، جو کہ کسی بھی پاکستانی گلوکار کا بیرونِ ملک سب سے بڑا اوپن ایئر کنسرٹ مانا جا رہا ہے۔

    کینیڈا کے شہر مسی ساگا کے مشہور مقام سیلبریشن اسکوائر میں ہونے والے اوپن ائیر کانسرٹ میں تقریباً 45 ہزار افراد نے شرکت کی جسے منتظمین نے اس مقام کی تاریخ کا سب سے بڑا میوزیکل اجتماع قرار دیا ہے منتظمین کے مطابق شائقین کی بڑی تعداد کی وجہ سے مجمع صرف سیلیبریشن اسکوائر تک محدود نہیں رہا بلکہ اطراف کی سڑکوں اور قریبی سینٹر کے احاطے تک پھیل گیا۔

    یہ کانسرٹ علی ظفر کے روشنی ٹور 2026 کے شمالی امریکا مرحلے کا اختتامی شو تھا، مفت اوپن ائیر پروگرام میں پاکستان، بھارت، بنگلا دیش اور جنوبی ایشیائی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شرکت کی، بچوں، نوجوانوں، خاندانوں اور بزرگوں پر مشتمل متنوع مجمع نے پورے کانسرٹ کے دوران بھرپور جوش و خروش کا مظاہرہ کیا۔

    علی ظفر نے اپنے مشہور اور سدا بہار گیت پیش کرکے شائقین کو جھومنے پر مجبور کر دیا کانسرٹ کا یادگار ترین لمحہ اس وقت آیا جب علی ظفر نے اپنا مقبول گانا جھوم پیش کیا اور ہزاروں مداحوں نے اپنے موبائل فونز کی لائٹس روشن کردیں جس سے پورا مقام روشنیوں کے سمندر میں تبدیل ہو گیا اس کنسرٹ میں شریک ہجوم کا جوش و خروش سوشل میڈیا پر بھی موضوعِ بحث بنا، اور اسے پاکستانی میوزک انڈسٹری کی تاریخ کا ایک بڑا سنگِ میل قرار دیا گیا ہے کانسرٹ کے اختتام پر ہزاروں مداح علی ظفر کے ساتھ گاتے رہے اور منتظمین سمیت متعدد شرکاء نے اس شام کو مسی ساگا کی ثقافتی تاریخ کے یادگار ترین پروگراموں میں سے ایک قرار دیا۔

  • سونے اور چاندی کی  قیمت میں اچانک بڑا اضافہ

    سونے اور چاندی کی قیمت میں اچانک بڑا اضافہ

    سونے کی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمت میں آج اچانک بڑا اضافہ ریکارڈ ہوگیا۔

    بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج پیر کے روز فی اونس سونے کی قیمت مسلسل تیسرے دن بھی 108ڈالر کے بڑے اضافے سے 4ہزار 327ڈالر کی سطح پر آ گئی جس کے بعد مقامی صرافہ بازاروں میں بھی کاروباری ہفتے کے پہلے روز فی تولہ سونے کی قیمت مزید 10ہزار 800روپے کے بڑے اضافے سے 4لاکھ 55ہزار 136روپے کی سطح پر آگئی اور فی 10 گرام سونے کی قیمت 9ہزار 720روپے کے اضافے سے 3لاکھ 89ہزار 600روپے کی سطح پر آگئی۔

    اسی طرح عالمی مارکیٹ میں فی اونس چاندی کی قیمت 2ڈالر 30سینٹس کے اضافے سے 70ڈالر 30سینٹس کی سطح پر آگئی، جس کے نتیجے میں مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی فی تولہ چاندی کی قیمت 230روپے کے اضافے سے 7ہزار 509روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 197روپے کے اضافے سے 6ہزار 396روپے کی سطح پر آگئی۔

  • انمول  پنکی   کیخلاف منشیات برآمدگی کا کیس میں عبوری چالان جمع

    انمول پنکی کیخلاف منشیات برآمدگی کا کیس میں عبوری چالان جمع

    پولیس نے انمول عرف پنکی کے خلاف منشیات برآمدگی کا کیس میں عبوری چالان جمع کرادیا۔

    کراچی کے جوڈیشل مجسٹریٹ نے جنوبی نے انمول عرف پنکی اور دیگرکےخلاف منشیات برآمدگی کیس کی سماعت کی جہاں تفتیشی افسر نے عبوری چالان عدالت میں جمع کرادیا عبوری چالان کے مطابق کیس میں 3 خواتین سمیت 5 ملزمان کو مفرور قرار دیا گیا اور عبوری چالان میں 16 گواہان کے نام بھی شامل ہیں، مقدمے میں انمول عرف پنکی، ذیشان الرحمٰن، سہیل الرحمٰن، محمد سمیر گرفتار ہیں، مفرور ملزمان میں بیسل امیکا عرف عینا، حمیرا، صابرہ بی بی میں شا مل ہیں۔

    عبوری چالان کے مطابق پولیس نے ملزمہ کو اُسکے گارڈن والے فلیٹ سے 11 مئی کو گرفتار کیا تھا، ملزمہ کیخلاف سال 2018 سے 2026 تک کراچی اور لاہور میں مقدمات درج ہوچکے ہیں، مفرور ہونے کی وجہ سے انمول کے بینک اکاؤنٹ، شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک ہوچکے ہیں گرفتاری کے وقت تیار شدہ 1240 گرام کوکین جبکہ پندرہ کیپسول کوکین جسکا وزن 3 سو گرام ہے برآمد ہوئے، ملزمہ سے منشیات کی تیاری میں استعمال ہونے والا سامان اور نقدی بھی برآمد ہوئی-

    عبوری چالان کے مطابق ملزمہ 16 سال سےمنشیات کی تیاری میں ملوث ہے، ملزمہ نے سابق شوہر سے کوکین بنانا سیکھا اور ملزمہ نے طلاق کے بعد اپنا کام شروع کیا ملزمہ کراچی کے پوش علاقے میں کوکین فروخت کرتی ہے، ملزمہ تعلیمی ادارے اور پارٹیز میں کارندوں کے ذریعےکوکین فروخت کرتی ہے جب کہ ملزمہ کراچی اور لاہور میں جگہیں بدل کرقیام کرتی تھی ملزمہ کےموبائل فون فارنزک سےکراچی سے تین رائیڈرز اعزاز، حمزہ اور عاقب کے نام سامنے آئے جب کہ ملزمہ منشیات کی آن لائن فروخت کرتی تھی۔

    پراسیکیوشن نے پولیس تفتیش پر ایک مرتبہ پھر اعتراض کردیا، ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر نے تجویز دی کہ ملزمہ کی منقولہ و غیر منقولہ پراسیکیوشن نے پولیس تفتیش پر ایک مرتبہ پھر اعتراض کردیا، ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر نے تجویز دی کہ ملزمہ کی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد کی معلومات حاصل کی جائیں۔

    عارف سیتائی ایڈووکیٹ نے کہا کہ ملزمہ کے بینک اکاؤنٹس اور جائیداد کیلئے متعلقہ بینکوں اور اداروں کوخطوط لکھے جائیں، انمول عرف پنکی کے زیر استعمال گاڑیوں کی تفصیلات حاصل کی جائیں، ایف آئی اے، اسٹیٹ بینک اور دیگر اداروں سے معلومات حاصل کی جائیں۔

    ڈپٹی ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزمہ کے ساتھیوں اور رشتہ داروں کی جائیداد کی معلومات بھی حاصل کی جائیں، معلومات کیلئے اسٹیٹ بینک (ایف ایم یو)۔ایف آئی اے، ایف بی آر۔ایکسائز اور اے این ایف سے بھی معلومات لی جائیں۔