Baaghi TV

Blog

  • پیٹرولیم مصنوعات پر بھاری لیوی اور قیمتوں میں معمولی کمی کیخلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    پیٹرولیم مصنوعات پر بھاری لیوی اور قیمتوں میں معمولی کمی کیخلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    پیٹرولیم مصنوعات پر بھاری لیوی اور پیٹرول کی قیمتوں میں معمولی کمی کے خلاف لاہورہائیکورٹ میں متفرق درخواست دائر کردی گئی۔

    درخواست جوڈیشل ایکٹوزم پینل کے سربراہ اظہرصدیق نےدائرکی ، درخواست میں وفاقی حکومت اور متعلقہ وزارتوں کو فریق بنایا گیا ، موقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومت پیٹرول پر 125 اورڈیزل پر 100 فی لیٹرلیوی ٹیکس وصول کررہی ہے،ڈیزل اورپیٹرول مہنگا ہونے سےکسان اور مزدور طبقہ براہ راست متاثر ہوا ہے بین الاقوامی مارکیٹ کے برعکس حکومت کی جانب سے عوام کو ریلیف دینے کے بجائے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں انتہائی معمولی کمی کی گئی جو کہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے۔

    درخواست گزار کے مطابق حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی کمی کی گئی، حکومت کے پاس پیٹرولیم کی قیمتوں میں کمی یا اضافے کا کوئی میکنزم نہیں ہے، لہذا عدالت ست استدعا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر بھاری لیوی کی وصولی کو روکاجائے، عدالت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور کمی پرمیکنزم طے کرنے کا حکم دے۔

  • پنجاب حکومت  5131 ارب روپے کا بجٹ کل پیش کرے گی

    پنجاب حکومت 5131 ارب روپے کا بجٹ کل پیش کرے گی

    پنجاب حکومت کل 5131 ارب روپے کا بجٹ پیش کرے گی-

    پنجاب کے مجموعی اخراجات کا تخمینہ 3569 ارب 60 کروڑ روپے ہوگا بجٹ میں تنخواہوں کیلئے 650ارب،پنشن کیلئے 505 ارب 80 کروڑمختص ہیں، سرکار ی ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ وفاقی حکومت کے فیصلے کے مطابق ہوگا،سماجی تحفظ کیلئے 25 ارب،ستھرا پنجاب پروگرام کیلئے 150 ارب،آپریشنل اخراجا ت کیلئے 580 ارب 20 کروڑ رکھنے کی سفارشات کی گئی ہے، دیگر پروگرام سرمایہ کاری کیلئے 221 ارب 90 کروڑ رکھے جائیں گے۔

    بیرونی معاونت سے جاری منصوبوں کیلئے 54 ارب رکھنے کی سفارشات،دیگر ترقیاتی و سرمایہ جاتی اخراجات کیلئے 570 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے،صحت کےلیے 680 ارب روپےکےمجموعی حجم کا تخمینہ،مفت ادویات کے لیے 100 ارب روپے کے اخراجات کا تخمینہ،تعلیم کے لیے پنجا ب حکومت 900 ارب روپے سے زائد کے بجٹ مختص کرنے کی تجویز ہے-

    طلبا کے لیے لیپ ٹاپ ، الیکٹرک سکوٹیز اور سائیکل کی اسکیمیں شامل ہے، طلبہ کے لیے ہونہار اسکالرشپ منصوبہ کے لیے 20 ارب روپے سے زائد کا تخمینہ،یونیورسٹی گرانٹس کی مد میں 18 ارب روپے کا تخمینہ ہے پرواز کارڈ کے لیےپنجاب حکومت 7 ارب روپے کا تخمینہ ہے،رمضان پیکج کے لیے 35 ارب روپے کا بجٹ مختص کرنے کا تخمینہ ہے،سبسڈی کی مد میں 80 ارب روپےسےزائدکا،کسان کارڈ کے لیے 10 ارب روپے ہمت کارڈ اور اقلیتی کارڈ کے لیے 3 ارب روپے کا تخمینہ ہے-

  • برازیل میں 2 ہیلی کاپٹر فضا میں ٹکرا گئے ، امریکی گلوکار سمیت 6 افراد ہلاک

    برازیل میں 2 ہیلی کاپٹر فضا میں ٹکرا گئے ، امریکی گلوکار سمیت 6 افراد ہلاک

    برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں ہیلی کاپٹر حادثے میں مشہور امریکی گلوکار اوولیور ٹری سمیت 6 افراد ہلاک ہو گئے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق دو ہیلی کاپٹرز فضا میں آپس میں ٹکرائے جس سے دونوں ہیلی کاپٹرز میں موجود 6 افراد ہلاک ہو گئے، جن میں امریکی گلوکار، نغمہ نگار اولیور ٹری نکل، ارجنٹائن کے یوٹیوبر گیسپی اور چار دیگر شامل ہیں ایک ہیلی کاپٹر الیکٹرک کار پارکنگ پر گرا جس سے وہاں پر موجود 20 گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا، حکام نے حادثے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق حکام نے مسافروں کے مینی فیسٹ اور برازیلین سول پولیس کی رپورٹوں سے چھ متاثرین کی شناخت کی: اولیور ٹری نکل 32 سالہ امریکی الیکٹرو پاپ گلوکار اور انٹرنیٹ شخصیت گاسپر پریم ڈیاز ("گاسپی”) 23 سالہ مقبول ارجنٹائنی یوٹیوبر اور مواد کے تخلیق کار، لوکاس اے ویگنیٹو اور اسکرین رائٹر۔ برازیلی میوزک پروڈیوسر اور الیگزینڈر سوزا پائلٹ شامل ہیں-

  • ایران امریکا امن معاہدے کی جنیوا میں میزبانی پاکستان کرے گا،شہباز شریف کا اعلان

    ایران امریکا امن معاہدے کی جنیوا میں میزبانی پاکستان کرے گا،شہباز شریف کا اعلان

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ جنگ کی طویل رات کے بعد امن کا سورج طلوع ہوگیا، امریکا اور ایران نے تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں ختم کرنے کا اعلان کردیا، معاہدے پر دستخط 19 جون کو جنیوا میں ہوں گے۔

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آج دُنیا نے امن کا ایک تاریخی سنگ میل عبور کیا ہے، تین ماہ سولہ دن کی بے پناہ کوششوں کے بعد امریکا نے ایران اور لبنان میں کاروائیوں کے مستقل خاتمے کا اعلان کیا ہے ،جنگ کی طویل رات کے بعد امن کا سورج طلوع ہوگیا، امریکا اور ایران نے تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ان کا کہنا ہے کہ معاہدے پر دستخط کی تقریب 19 جون کو جنیوا میں ہوگی، میزبان پاکستان ہوگا، پاکستانی عوام اور پوری عالمی برادری کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔وزیراعظم نے کہا کہ نواز شریف، صدر زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کا بھی شکر گزار ہوں، بھرپور معاونت پر عبدالعلیم خان کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔پورے پاکستانی قوم کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں

    وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان میں دہشت گردی کے پیچھے براہِ راست بھارت کے ملوث ہونے کو بے نقاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بیرونی سازشوں کے خاتمے کے لیے سرحدی باڑ اور سخت ریاستی اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے اور سیکیورٹی پر اٹھنے والا ہر روپیہ پرامن مستقبل کے لیے بہترین سرمایہ کاری ہے۔

  • امت مسلمہ  اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کرے تو مسئلہ فلسطین بھی حل ہو سکتا ہے،خواجہ‌آصف

    امت مسلمہ اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کرے تو مسئلہ فلسطین بھی حل ہو سکتا ہے،خواجہ‌آصف

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہےکہ جینیوا میں امریکا اور ایران کےد رمیان معاہدے کی تقریب کی میزبانی پاکستان کرے گا۔

    قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ جنگ کی تاریک رات کے بعد امن کا سورج طلوع ہوگیا ہے، امریکا اور ایران نے تمام محاذوں پر فوجی کارروائی کے مستقل خاتمے کا اعلان کردیا ہے، فریقین نے مشکلات حالات میں صبر، تحمل اور دانشمندی کا دامن نہیں چھوڑا، امریکا اور ایران کے درمیان جینیوا میں ہونے والی امن معاہدے کی تقریب کی میزبانی پاکستان کرے گا۔

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اکستانی قیادت، بالخصوص وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایک نہایت نازک مسئلے کو دانشمندی اور حکمت عملی کے ساتھ حل کیا ہے-

    قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئےوزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان اس وقت تاریخ ساز لمحات سے گزر رہا ہے اور حالیہ پیش رفت کے نتیجے میں دنیا بھر میں پاکستان کے عزت و وقار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے پاکستانی قیادت، بالخصوص وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایک نہایت نازک مسئلے کو دانشمندی اور حکمت عملی کے ساتھ حل کیا ہے اس حوالے سے معاہدے پر جمعہ کے روز دستخط کیے جائیں گےپاکستان کو حالیہ عرصے میں ایسا اعزاز پہلے کبھی حاصل نہیں ہوا۔

    خواجہ آصف نے ایرانی قیادت اور عوام کو بھی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ سخت اور مشکل حالات میں ایرانی قیادت نے اپنی قوم کی بہترین انداز میں رہنما ئی کی اگر امت مسلمہ اسی طرح اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کرے تو وہ وقت دور نہیں جب مسئلہ فلسطین بھی حل ہو سکتا ہے اگر گزشتہ دہائیوں میں اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان اسی نوعیت کا مضبوط تعاون موجود ہوتا تو پاکستان کئی مزید بین الاقوامی کامیابیاں حاصل کر چکا ہوتا۔

    انہوں نے کہا کہ گزشتہ 3 سال کی کوششوں کا اللہ تعالیٰ نے آج بڑا ثمر عطا کیا ہے، پاکستان نے ایک سال قبل ایک اور جنگ بھی لڑی جس میں مسلح افواج نے قوم کا سر فخر سے بلند کیا ملک اس وقت دہشتگردی کے خلاف ایک بڑی جنگ لڑ رہا ہے جو دراصل 25 کروڑ عوام کی مشترکہ جنگ ہے، قومی اتحاد کے ذریعے ہی اس چیلنج پر قابو پایا جا سکتا ہے پاکستان معاشی محاذ پر بھی آگے بڑھ رہا ہے اور انشا اللہ مستقبل میں مزید کامیابیاں حاصل ہوں گی، انہوں نے سیاسی اختلافات کے باوجود قومی مفاد کو مقدم رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

    وزیر دفاع نے امریکی قیادت کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ خطے میں امن کے لیے ان کا کردار قابلِ تعریف ہے، انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ دہائیوں سے جاری ناانصافیوں کے خاتمے کی امید پیدا ہوئی ہے انہوں نے خلیجی ممالک سے بھی اپیل کی کہ وہ اس موقع پر امت مسلمہ کے اتحاد میں کردار ادا کریں، ان کا موقف تھا کہ ہمیں فلسطین اور کشمیر کے مسائل کے حل کے لیے بھی متحد ہو کر آواز بلند کرنی چاہیے۔

  • مردان،پاک فضائیہ کا تربیتی طیارہ تباہ،دوپائلٹ شہید

    مردان،پاک فضائیہ کا تربیتی طیارہ تباہ،دوپائلٹ شہید

    مردان: پاک فضائیہ کا ایک تربیتی طیارہ معمول کی تربیتی پرواز کے دوران مردان کے قریب حادثے کا شکار ہوگیا، جس کے نتیجے میں پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے دو افسران شہید ہوگئے۔

    پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق حادثہ معمول کی تربیتی پرواز کے دوران پیش آیا۔ حادثے میں پاک فضائیہ کے فلائٹ لیفٹیننٹ محمد قاسم عبداللہ اور پاک بحریہ کے لیفٹیننٹ طہٰ عباسی شہید ہوگئے۔آئی ایس پی آر نے بتایا کہ حادثے کے فوری بعد متعلقہ اداروں نے ضروری کارروائی کا آغاز کردیا، جبکہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات بھی شروع کردی گئی ہیں۔

    ادھر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، سروسز چیفس اور مسلح افواج کے افسران و جوانوں نے اس المناک حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ عسکری قیادت نے شہداء کی پیشہ ورانہ خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق پوری قوم شہید افسران کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

    پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف نے پاک بحریہ کے لیفٹیننٹ طحہٰ عباسی اور پاک فضائیہ کے فلائٹ لیفٹیننٹ محمد قاسم عبداللہ کے المناک نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے جنہوں نے آج مردان کے قریب معمول کی تربیت کے دوران ڈیوٹی کے دوران شہادت قبول کی۔نیول چیف نے جوان افسران کو مٹی کے بہادر بیٹے قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈیوٹی کے دوران ان کی عظیم قربانی ہماری مسلح افواج کی اعلیٰ روایات کی عکاسی کرتی ہے۔چیف آف دی نیول اسٹاف نے شہدا کے سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار بھی کیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے مردان کے قریب پاک فضائیہ کے تربیتی طیارے کے حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حادثے میں شہید ہونے والے پاک فضائیہ کے فلائٹ لیفٹیننٹ محمد قاسم عبداللہ اور پاک بحریہ کے لیفٹیننٹ طحہٰ عباسی کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔وزیراعظم نے اپنے بیان میں شہدا کے بلند درجات اور اہل خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ وہ فلائٹ لیفٹیننٹ محمد قاسم عبداللہ اور لیفٹیننٹ طحہٰ عباسی کےاہلخانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں، اللہ تعالیٰ شہدا کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور لواحقین کو یہ صدمہ برداشت کرنے کا حوصلہ دے وطن کے دفاع کے لیے پاک افواج کی پیشہ ورانہ مہارت، عزم اور خدمات بے مثال ہیں، جبکہ قوم اپنے بہادر سپوتوں کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔

    صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے مردان کے قریب پاک فضائیہ کے تربیتی طیارے کے حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شہید ہونے والے فلائٹ لیفٹیننٹ محمد قاسم عبداللہ اور لیفٹیننٹ طحہٰ عباسی کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ صدر مملکت نے اپنے بیان میں دونوں شہدا کے درجاتِ بلندی کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ قوم وطن کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے بہادر سپوتوں کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی شہدا کے اہلِخانہ کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی اور غمزدہ خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیاصدر مملکت نے کہا کہ وطن کے تحفظ اور سلامتی کے لیے مسلح افواج کے جوانوں کی قربانیاں قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں اور پوری قوم اپنے شہدا کو سلام پیش کرتی ہے۔

  • شرح سود کا تعین، اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اہم اجلاس آج ہوگا

    شرح سود کا تعین، اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اہم اجلاس آج ہوگا

    آئندہ ڈیڑھ ماہ کے لیے شرح سود کا تعین کرنے کیلئے اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اہم اجلاس آج ہوگا،جبکہ آج ہونے والا مانیٹری پالیسی جائزہ مالی سال 2025-26 کا آخری جائزہ ہوگا۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس میں ملکی معاشی اشاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، خاص طور پر افراط زر پر موجود دباؤ اور اس سے متعلق عوامل کو بھی زیر غور لایا جائےگا مانیٹری پالیسی کمیٹی اپنےجائزے کے دوران مہنگائی کی صورتحال کا تجزیہ کرے گی،مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث افراط زر پر پڑنے والے دباؤ کو بھی اہمیت دی جائے گی، کیونکہ گزشتہ مانیٹری پالیسی جائزے میں انہی خدشات کی بنیاد پر شرح سود میں اضافہ کیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ 27 اپریل کو ہونے والے مانیٹری پالیسی جائزے میں شرح سود 100 بیسس پوائنٹس بڑھا کر 11.50 فیصد مقرر کی گئی تھی اس فیصلے کی وجہ مہنگائی کے ممکنہ دباؤ اور بیرونی عوامل کو قرار دیا گیا تھا۔

  • امریکا مذاکرات شروع ہونے سے پہلےایران کے 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے جاری کرے گا، ایرانی میڈیا

    امریکا مذاکرات شروع ہونے سے پہلےایران کے 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے جاری کرے گا، ایرانی میڈیا

    تہران: امریکا کے ساتھ 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہونے کے بعد ایرانی میڈیا مہر نیوز ایجنسی نے پیر کو رپورٹ کیا کہ واشنگٹن ایران کے منجمد اثاثوں میں سے 12 ارب ڈالر مذاکرات کے آغاز سے قبل جاری کر سکتا ہے۔

    مہر نیوز ایجنسی نے ایک ایسی دستاویز شائع کی ہے جس میں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مفاہمت کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں تاہم اس دستاویز کی تاحال کسی بھی فریق نے باضابطہ تصدیق نہیں کی۔

    رپورٹ کے مطابق مجوزہ معاہدے میں یہ شق شامل ہے کہ مفاہمتی یادداشت طے پانے کے بعد شروع ہونے والے 60 روزہ مذاکراتی دور کے دوران ایران کے 24 ارب ڈالر مالیت کے منجمد اثاثے مرحلہ وار جاری کیے جائیں گے اس رقم کا نصف، یعنی 12 ارب ڈالر، مذاکرات کے باقاعدہ آغاز سے پہلے ایران کو فراہم کیا جائے گا تاکہ اعتماد سازی کے عمل کو فروغ دیا جا سکے۔

    ذرائع کے مطابق مجوزہ مفاہمت میں پابندیوں میں نرمی، اقتصادی تعاون اور جوہری پروگرام سے متعلق معاملات پر بھی بات چیت شامل ہو سکتی ہے تاہم ابھی تک ایران یا امریکا کی جانب سے اس دستاویز کی صداقت یا اس میں شامل نکات کی سرکاری توثیق نہیں کی گئی۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی اور اقتصادی تعلقات میں بہتری کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے-

    دوسری جانب اتوار کو جاری ہونے والے ایک مشترکہ اعلامیے کے مطابق برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی نے کہا ہے کہ وہ ایران پر عائد پابندیاں اٹھانے کے لیے تیار ہیں ان ملکوں نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کا خیرمقدم بھی کیا۔

    مشترکہ اعلامیے کے مطابق ’ہم ایران کی جانب سے اپنے ایٹمی پروگرام پر واضح اور قابل تصدیق اقدامات کے جواب میں متعلقہ پابندیاں اٹھانے کے لیے تیار ہیں ہم اس موقعے سے فائدہ اٹھانے، اس تسلسل کو برقرار رکھنے اور ایک طویل مدتی سفارتی تصفیہ حاصل کرنے کے لیے امریکہ، ایران اور علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر بھرپور کام کریں گے ہم اس مقصد کے لیے امریکہ، ایران اور آئی اے ای اے (بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی) کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اتوار کو بتایا کہ ان کا چند دنوں میں سوئٹزرلینڈ میں ایران امن معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کا ارادہ ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ جائیں، جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اس تقریب میں شریک ہوں گے، جس کے بارے میں ثالث پاکستان نے کہا ہے کہ 19 جون کو جنیوا میں منعقد ہوگی تو وینس نے فاکس نیوز کو بتایا ’میرا یقینی طور پر وہاں جانے کا ارادہ ہےلیکن یہ ممکن ہے کہ صدر خود وہاں موجود ہوں۔

  • ایران معاہدہ بچانا ہے توسرائیل کی فوجی اور انٹیلی جنس معاونت روک دیں،ٹرمپ کے سابق مشیر کا مشورہ

    ایران معاہدہ بچانا ہے توسرائیل کی فوجی اور انٹیلی جنس معاونت روک دیں،ٹرمپ کے سابق مشیر کا مشورہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق مشیر اور نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے سابق سربراہ جو کینٹ نے کہا ہے کہ اگر واشنگٹن ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو کامیاب بنانا چاہتا ہے تو اسے اسرائیل کو فراہم کی جانے والی فوجی اور انٹیلی جنس معاونت روک دینی چاہیے۔

    جو کینٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے جنگ بندی معاہدے کا خیرمقدم کیا اور د عویٰ کیا کہ اسرائیل نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کو ناکام بنانے کی متعدد کوششیں کیں اور اگر امریکا نے کوئی عملی اقدام نہ کیا تو مستقبل میں بھی ایسی کوششیں جاری رہ سکتی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ امریکا کو خلیجی ممالک میں موجود اپنی فوجی تنصیبات اور اڈوں پر تعینات اہلکاروں کو بھی خاموشی سے واپس بلانے پر غور کرنا چاہیے کیونکہ یہ اڈے ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی کی زد میں آ سکتے ہیں،اگر امریکی فوجی اہداف ایران کی پہنچ سے دور ہوں گے تو ایرانی سخت گیر عناصر کے لیے امریکا کو دوبارہ جنگ میں دھکیلنا مشکل ہو جائے گا واشنگٹن کو ایسے تمام عوامل ختم کرنے چاہئیں جو امریکا کو دوبارہ ایران یا اسرائیل کے ساتھ کسی نئے تنازع میں الجھا سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ جو کینٹ نے ایران جنگ کے معاملے پر اختلافات کے باعث ٹرمپ انتظامیہ سے استعفیٰ دیا تھا ان کا حالیہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور ممکنہ سیاسی معاہدے سے متعلق سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

  • اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہوتے تو اسرائیل کا وجود شدید خطرے میں پڑ سکتا تھا،ٹرمپ

    اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہوتے تو اسرائیل کا وجود شدید خطرے میں پڑ سکتا تھا،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ نئے معاہدے کے تحت ایران کو صرف کم سطح پر یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت ہوگی، جسے کسی بھی صورت فوجی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے سے متعلق اہم تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو صرف غیر فوجی مقاصد کے لیے یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت دی جائے گی اور یہ پابندی مستقل نوعیت کی ہوگی۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ حد سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور کے جوہری معاہدے میں مقرر کردہ 3.67 فیصد افزودگی کے برابر ہوگی تو انہوں نے واضح شرح بتانے کے بجائے کہا کہ ایران صرف پرامن مقاصد کے لیے افزودگی کر سکے گا اگر ایرانی حکومت مستقبل میں حکومت مخالف مظاہرین کے خلا ف سخت کارروائی کرتی ہے یا انہیں قتل کرتی ہے تو ایسی صورت میں ایران کو مکمل پابندیوں میں نرمی حاصل نہیں ہو سکے گی تاہم ذرائع کے مطا بق یہ شرط مجوزہ مفاہمتی یادداشت کا باضابطہ حصہ نہیں ہے۔

    صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو پر بھی سخت تنقید کی، انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو ایک بہت مشکل آدمی ہیں اور انہیں امریکا کا شکر گزار ہونا چاہیے اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہوتے تو اسرائیل کا وجود شدید خطرے میں پڑ سکتا تھا۔

    امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ لبنان میں اسرائیلی حملوں نے ایران کے ساتھ جاری سفارتی عمل کو نقصان پہنچایا اور معاہدے کے حتمی مراحل میں رکاوٹیں پیدا کیں ایران کے خلاف امریکی میزائل اور فضائی حملوں نے تہران پر دباؤ بڑھایا اور اسی وجہ سے ایران مذاکرات پر آمادہ ہوا۔

    ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے ساتھ جوہری پروگرام کے حوالے سے حتمی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکا دوبارہ فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کر سکتا ہے ایرا ن مزید حملوں سے بچنا چاہتا تھا اور یہی وجہ ہے کہ مذاکرات میں پیش رفت ممکن ہوئی۔