Baaghi TV

Blog

  • 
کویت میں آئل ریفائنریوں اور تنصیبات پر حملے

    
کویت میں آئل ریفائنریوں اور تنصیبات پر حملے

    
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے جہاں کویت، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں اہم توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔
    رپورٹس کے مطابق کویت کی مینا الاحمدی آئل ریفائنری پر دو ہفتوں کے دوران تیسری بار ڈرون حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں ریفائنری کے مختلف یونٹس میں آگ بھڑک اٹھی۔ یہ ریفائنری خطے کی بڑی تنصیبات میں شمار ہوتی ہے اور کویت کی مقامی مارکیٹ کے لیے بھی انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔
    ‎کویتی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے ڈی سیلینیشن پلانٹ اور بجلی گھر کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس سے بنیادی سہولیات متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
    ‎اسی دوران متحدہ عرب امارات کے شہر فجیرہ میں قائم آئل پورٹ پر بھی میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے باعث پورٹ کی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہیں۔
    ‎اماراتی حکام کے مطابق حبشان گیس فیسلٹی پر ایک ناکارہ ڈرون کا ملبہ گرنے سے آگ بھڑک اٹھی، جس پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات کیے گئے۔
    ‎دوسری جانب سعودی عرب کی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران 6 ڈرونز کو مار گرایا گیا، جو ممکنہ طور پر اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔
    ‎ان واقعات کے بعد خطے میں سیکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے اور عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی پر بھی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

  • قرضوں پر چلتی معیشت اور مہنگا ہوتا ایندھن: ایک عالمی اور پاکستانی المیہ۔تجزیہ شہزاد قریشی

    قرضوں پر چلتی معیشت اور مہنگا ہوتا ایندھن: ایک عالمی اور پاکستانی المیہ۔تجزیہ شہزاد قریشی

    دنیا اس وقت ایک ایسے معاشی دباؤ سے گزر رہی ہے جہاں پٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں عام آدمی سے لے کر حکومتوں تک سب کے لیے چیلنج بن چکی ہیں۔ عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ محض ایک وقتی مسئلہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے کئی بڑی وجوہات کارفرما ہیں، جن میں سپلائی چین کی رکاوٹیں، عالمی سیاسی کشیدگیاں اور خصوصاً روس-یوکرین جنگ شامل ہیں۔ تاہم یہ حقیقت بھی واضح ہے کہ ان عالمی اثرات کا بوجھ ہر ملک یکساں طور پر برداشت نہیں کرتا۔
    یہاں اصل فرق ان ممالک کے درمیان نظر آتا ہے جنہوں نے دہائیوں تک اپنے وسائل پر توجہ دی اور ان ممالک کے درمیان جو مسلسل قرضوں کے سہارے اپنی معیشت چلاتے رہے۔ ترقی یافتہ اور مستحکم معیشتوں والے ممالک نے نہ صرف اپنی مقامی صنعت کو فروغ دیا بلکہ توانائی کے متبادل ذرائع جیسے شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے پر بھی سرمایہ کاری کی۔ ان کے ٹیکس نظام مضبوط ہیں، کرنسی مستحکم ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ درآمدی ایندھن پر کم انحصار کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہوتا ہے تو ان ممالک میں نہ حکومتیں بوکھلاہٹ کا شکار ہوتی ہیں اور نہ ہی عوام شدید احتجاج پر مجبور ہوتے ہیں۔
    اس کے برعکس پاکستان سمیت کئی ترقی پذیر ممالک کی معیشت ایک مختلف کہانی بیان کرتی ہے۔ یہاں نظامِ حکومت بڑی حد تک قرضوں پر کھڑا ہے، اور یہ سلسلہ کوئی نیا نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط ہے۔ بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے بار بار International Monetary Fund جیسے اداروں کا دروازہ کھٹکھٹانا ایک معمول بن چکا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیوں ان ممالک نے اپنے وسائل پر توجہ نہیں دی؟
    حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ وسائل کی کمی کا نہیں بلکہ ان کے مؤثر استعمال کا ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے، معدنی وسائل سے مالا مال ہے اور اس کے پاس ایک بڑی نوجوان آبادی موجود ہے۔ مگر بدقسمتی سے ناقص منصوبہ بندی، پالیسیوں کے تسلسل کا فقدان، سیاسی عدم استحکام اور کرپشن جیسے عوامل نے ان وسائل کو طاقت میں بدلنے نہیں دیا۔ ہر آنے والی حکومت قلیل مدتی فائدے کے لیے فیصلے کرتی رہی، جبکہ طویل مدتی اصلاحات کو نظرانداز کیا جاتا رہا۔
    ایک اور بڑا مسئلہ درآمدی معیشت کا ہے۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے بیرونی دنیا پر انحصار کرتا ہے۔ جب عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہوتا ہے تو اس کا براہ راست اثر ملکی معیشت پر پڑتا ہے۔ ڈالر مہنگا ہوتا ہے، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھتی ہیں، بجلی مہنگی ہو جاتی ہے اور یوں مہنگائی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔
    سیاسی عدم استحکام بھی اس مسئلے کو مزید گھمبیر بنا دیتا ہے۔ بار بار حکومتوں کی تبدیلی سے پالیسیوں میں تسلسل نہیں رہتا، اور ادارے مضبوط ہونے کے بجائے کمزور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک طاقتور اشرافیہ کا کردار بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، جو ٹیکس نظام سے فائدہ اٹھاتی ہے مگر اس میں اپنا حصہ ڈالنے سے گریز کرتی ہے۔
    اصل سوال یہی ہے کہ قرضوں کا یہ سلسلہ کیوں نہیں رکا؟ اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ قرض لینا ایک آسان راستہ ہے۔ یہ وقتی طور پر مسائل کو حل کر دیتا ہے مگر طویل مدت میں معیشت کو ایک ایسے جال میں پھنسا دیتا ہے جسے “ڈیٹ ٹریپ” کہا جاتا ہے۔ اس کے برعکس اپنے وسائل کو ترقی دینا ایک مشکل، وقت طلب مگر پائیدار حل ہے، جس کے لیے مضبوط قیادت، مستقل مزاجی اور شفاف نظام کی ضرورت ہوتی ہے۔
    اگر عالمی تجربات کو دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ جن ممالک نے برآمدات بڑھائیں، توانائی میں خودکفالت حاصل کی، ٹیکس نظام کو بہتر بنایا اور پالیسیوں میں تسلسل برقرار رکھا، وہی آج معاشی طور پر مضبوط ہیں۔ ویتنام اور بنگلہ دیش جیسے ممالک اس کی واضح مثال ہیں۔
    آخر میں یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ آج پٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں دراصل ایک علامت ہیں، بیماری نہیں۔ اصل بیماری وہ کمزور معاشی ڈھانچہ ہے جو دہائیوں کی غلط پالیسیوں، قرضوں پر انحصار اور وسائل کو نظرانداز کرنے کا نتیجہ ہے۔ جب تک پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک اس بنیادی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے وسائل پر توجہ نہیں دیتے، اس وقت تک ہر عالمی بحران ان کے لیے ایک نیا طوفان لے کر آتا رہے گا۔

  • امریکی فوج میں اعلیٰ افسران کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا

    امریکی فوج میں اعلیٰ افسران کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا

    واشنگٹن: امریکی محکمہ دفاع میں بڑی تبدیلیاں سامنے آئی ہیں جہاں وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے فوج کے اعلیٰ ترین افسران کے خلاف سخت اقدامات کرتے ہوئے کئی اہم شخصیات کو عہدوں سے ہٹا دیا۔

    امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق آرمی چیف آف اسٹاف جنرل رینڈی جارج کو فوری طور پر عہدہ چھوڑنے کا حکم دیا گیا، جس کے بعد انہوں نے بطور 41ویں چیف آف اسٹاف اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوشی اختیار کرلی۔ محکمہ دفاع کے ترجمان شان پارنیل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جنرل جارج کی دہائیوں پر محیط خدمات کو سراہا جاتا ہے۔

    ذرائع کے مطابق وزیر دفاع کافی عرصے سے جنرل جارج کو ہٹانے پر غور کر رہے تھے۔رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ وزیر دفاع نے دیگر دو اعلیٰ فوجی افسران کو بھی برطرف کیا ہے جن میں چیف آف چیپلین میجر جنرل William Green اور آرمی ٹرانسفارمیشن اینڈ ٹریننگ کمانڈ کے سربراہ David Hodne شامل ہیں۔

    یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری جنگ میں مصروف ہیں۔ صدر ٹرمپ نے حالیہ خطاب میں کہا کہ جنگ جلد ختم ہونے کی توقع ہے، تاہم اس سے قبل مزید حملوں کا امکان موجود ہے۔

  • ایران کا ایک اور امریکی ایف 35 لڑاکا طیارہ گرانے کا دعویٰ

    ایران کا ایک اور امریکی ایف 35 لڑاکا طیارہ گرانے کا دعویٰ

    ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایک اور امریکی ایف 35 لڑاکا طیارہ مار گرایا ہے، تاہم اس حوالے سے امریکی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی تصدیق یا ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) سے منسلک خبر رساں ادارے فارس نیوز کے مطابق اس طیارے کو وسطی ایران کی فضاؤں میں پرواز کے دوران نشانہ بنایا گیا، جو مکمل طور پر تباہ ہو کر زمین پر جا گرا،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طیارے کو شدید نقصان پہنچنے کے باعث پائلٹ کے بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔دوسری جانب مہر نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ طیارے کے تباہ ہونے کے دوران ہونے والے شدید دھماکے کے باعث امکان کم ہے کہ پائلٹ خود کو بچانے میں کامیاب ہوا ہو۔

    ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس دعوے پر فوری ردعمل نہیں دیا، تاہم اس سے قبل ایران کے اسی نوعیت کے ایک اور دعوے کو مسترد کیا جا چکا ہے۔دفاعی ماہرین کے مطابق اس قسم کے دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ضروری ہے، جبکہ موجودہ صورتِ حال میں حقائق کی مکمل وضاحت سامنے آنا ابھی باقی ہے۔

    دوسری جانب امریکی انٹیلی جنس کے حالیہ جائزے کے مطابق ایران اب بھی نمایاں میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کا حامل ہے، باوجود اس کے کہ گزشتہ 5 ہفتوں کے دوران امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایرانی فوجی اہداف پر مسلسل حملے کیے گئے،سی این این کی رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کے تقریباً نصف میزائل لانچرز اب بھی محفوظ ہیں جبکہ ہزاروں یک طرفہ حملہ آور ڈرونز بھی اس کے ذخیرے میں موجود ہیں، جو خطے میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں،امریکی انٹیلی جنس کا کہنا ہے کہ کچھ میزائل لانچرز زیرِ زمین ہونے یا حملوں کے باعث ناقابل رسائی ضرور ہو سکتے ہیں، تاہم وہ مکمل طور پر تباہ نہیں ہوئے،رپورٹس کے مطابق ایران کی تقریباً 50 فیصد ڈرون صلاحیت بدستور موجود ہے، جبکہ ساحلی دفاع کے لیے استعمال ہونے والے کروز میزائلوں کی بڑی تعداد بھی محفوظ ہے۔

    ذرائع نے بتایا ہے کہ امریکا نے اپنی فضائی کارروائیوں میں زیادہ تر ساحلی فوجی تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا، جس کے باعث یہ میزائل بدستور فعال ہیں۔،یہ میزائل آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کی اہم صلاحیت رکھتے ہیں، جو عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے۔

  • امریکا میں  اٹارنی جنرل بھی برطرف

    امریکا میں اٹارنی جنرل بھی برطرف

    امریکا میں اہم سرکاری عہدوں پر بڑے پیمانے پر تبدیلیاں سامنے آئی ہیں جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اٹارنی جنرل پام بونڈی کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے پام بونڈی کی جگہ نائب اٹارنی جنرل ٹوڈ بلینچ کو قائم مقام اٹارنی جنرل مقرر کر دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد محکمہ انصاف کی پالیسیوں کو نئے حکومتی وژن کے مطابق ڈھالنا ہے۔

    دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ نے بھی اہم عسکری عہدے پر تبدیلی کرتے ہوئے چیف آف اسٹاف جنرل رینڈی جارج کو عہدے سے ہٹا دیا ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق وزیر دفاع ایک ایسے آرمی چیف آف اسٹاف کی تقرری کے خواہاں ہیں جو فوجی معاملات میں صدر ٹرمپ اور ان کے دفاعی وژن پر مکمل طور پر عملدرآمد یقینی بنا سکے۔

    یاد رہے کہ جنرل رینڈی جارج اس سے قبل سابق وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کے دور میں سینئر ملٹری اسسٹنٹ کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ پہلی خلیجی جنگ، عراق اور افغانستان کی جنگوں میں بھی شریک رہ چکے ہیں، جس کے باعث انہیں ایک تجربہ کار فوجی افسر تصور کیا جاتا ہے۔

  • ڈیرہ بگٹی میں سیکیورٹی فورسز کی کھلی کچہری

    ڈیرہ بگٹی میں سیکیورٹی فورسز کی کھلی کچہری

    بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ایک اہم کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس میں مقامی مشران، معززین علاقہ اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس کھلی کچہری کا مقصد عوامی مسائل کو براہِ راست سننا اور علاقے کی ترقی کے لیے مؤثر حکمت عملی ترتیب دینا تھا۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران علاقے میں جاری اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ شرکاء نے سڑکوں کی تعمیر، تعلیم، صحت اور پینے کے صاف پانی جیسے بنیادی مسائل کی نشاندہی کی اور ان منصوبوں کی ترجیحات کے تعین کے حوالے سے اپنی آراء پیش کیں تاکہ آئندہ ترقیاتی مرحلے میں انہیں شامل کیا جا سکے۔کھلی کچہری میں شہریوں کو درپیش دیگر مسائل بھی زیر بحث آئے، جن میں امن و امان، روزگار کے مواقع اور بنیادی سہولیات کی فراہمی شامل ہیں۔ سیکیورٹی حکام نے عوامی شکایات کو توجہ سے سنا اور ان کے حل کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر فوری اور مؤثر اقدامات اٹھانے کی یقین دہانی کرائی۔

    مقامی مشران نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے براہِ راست رابطے سے نہ صرف عوام کے مسائل اجاگر ہوتے ہیں بلکہ اعتماد کی فضا بھی مضبوط ہوتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکام کی جانب سے کیے گئے وعدوں پر جلد عملدرآمد ہوگا جس سے علاقے میں ترقی اور خوشحالی کا نیا دور شروع ہوگا۔

  • علی ظفر کا ہتکِ عزت کیس جیتنے کے بعد پہلا ردِعمل

    علی ظفر کا ہتکِ عزت کیس جیتنے کے بعد پہلا ردِعمل

    عالمی شہرت یافتہ گلوکار علی ظفر نے گلوکارہ میشا شفیع کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ جیتنے کے بعد اپنی پہلی انسٹاگرام پوسٹ میں اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے جذباتی پیغام جاری کیا ہے۔

    علی ظفر نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ وہ خدا کے بے حد شکر گزار ہیں اور اُن تمام افراد کے بھی ممنون ہیں جنہوں نے اُن کی زندگی کے مشکل ترین دور میں اُن کا اور سچ کا ساتھ دیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ بالآخر انصاف ہو گیا ہے، تاہم انہیں کسی قسم کی فتح کا احساس نہیں بلکہ دل میں صرف عاجزی اور شکرگزاری کے جذبات ہیں۔گلوکار نے مزید کہا کہ وہ کسی کے خلاف منفی جذبات نہیں رکھتے اور ان کے نزدیک یہ باب اب مکمل طور پر بند ہو چکا ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ سب لوگ وقار اور سکون کے ساتھ اپنی زندگی میں آگے بڑھیں۔ علی ظفر نے واضح کیا کہ وہ اس فیصلے کو جشن کے طور پر نہیں دیکھتے بلکہ اسے ایک آزمائش کے اختتام کے طور پر لیتے ہیں۔

    واضح رہےکہ لاہور کی عدالت نے منگل کے روز فیصلہ سناتے ہوئے میشا شفیع کو 50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ کیس کی سماعت کے دوران میشا شفیع عدالت میں پیش نہ ہوئیں اور نہ ہی اپنے الزامات کے حق میں مؤثر شواہد فراہم کر سکیں، جبکہ علی ظفر نے اپنے گواہان عدالت کے سامنے پیش کیے۔

    یاد رہے کہ یہ مقدمہ 2018 میں اس وقت سامنے آیا تھا جب میشا شفیع نے علی ظفر پر ہراسانی کے الزامات عائد کیے تھے، جس کے بعد علی ظفر نے ان کے خلاف ہتکِ عزت کا دعویٰ دائر کیا۔ یہ کیس پاکستان میں ‘می ٹو’ تحریک کے نمایاں مقدمات میں شمار کیا جاتا ہے اور طویل عرصے تک عوامی اور قانونی حلقوں کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔

  • بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائی، دہشتگرد گروہوں کی مالی شہ رگ پر کاری ضرب

    بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائی، دہشتگرد گروہوں کی مالی شہ رگ پر کاری ضرب

    بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے ایک بڑی اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تنظیم بی ایل اے (بلوچ لبریشن آرمی) سمیت دیگر دہشتگرد گروہوں کی مالی معاونت کے اہم ذرائع کو نشانہ بنایا ہے۔

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کے نتیجے میں دہشتگرد نیٹ ورکس کو شدید مالی نقصان پہنچا ہے، جس سے ان کی سرگرمیوں پر بھی اثر پڑنے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق دہشتگرد گروہ طویل عرصے سے بلوچستان کے مختلف دور دراز علاقوں میں منشیات کی بڑے پیمانے پر کاشت کر رہے تھے، جس کے ذریعے وہ سالانہ اربوں روپے کما رہے تھے۔ اس غیر قانونی آمدنی کو دہشتگردی کی کارروائیوں، اسلحہ خریدنے اور نیٹ ورک کو مضبوط بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔مزید انکشاف ہوا ہے کہ ان گروہوں کی جانب سے بلوچ نوجوانوں کو منشیات کا عادی بنانے کی منظم کوششیں بھی کی جا رہی تھیں، تاکہ انہیں ذہنی و جسمانی طور پر کمزور کر کے دہشتگرد سرگرمیوں، خصوصاً خودکش حملوں، میں استعمال کیا جا سکے۔ حکام نے اس پہلو کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عمل نہ صرف امن و امان بلکہ معاشرتی ڈھانچے کے لیے بھی خطرہ تھا۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق منشیات کی کاشت کو جدید طریقوں سے فروغ دیا جا رہا تھا، جس میں سولر پینلز کے ذریعے آبپاشی کا مربوط نظام قائم کیا گیا تھا۔ اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے دشوار گزار علاقوں میں بھی بڑے پیمانے پر فصلیں اگائی جا رہی تھیں، جس سے اس غیر قانونی کاروبار کو مزید وسعت ملی۔حکام کا کہنا ہے کہ اب تک سیکیورٹی فورسز تقریباً 55 ہزار ایکڑ رقبے پر پھیلی منشیات کی فصلوں کو تلف کر چکی ہیں۔ یہ کارروائی بلوچستان کے مختلف اضلاع میں مرحلہ وار جاری رہی اور اب بھی اس کے خلاف آپریشن تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔سیکیورٹی اداروں نے عزم ظاہر کیا ہے کہ ملک دشمن عناصر کے خلاف ایسی کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی اور بلوچستان کو منشیات و دہشتگردی سے پاک بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔

  • بھارت میں توانائی بحران،شہری گھر چھوڑنے لگے،گیس سلنڈر کی پوجا

    بھارت میں توانائی بحران،شہری گھر چھوڑنے لگے،گیس سلنڈر کی پوجا

    نئی دہلی: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، خصوصاً ایران پر امریکی و اسرائیلی حملے کے بعد عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی متاثر ہوئی ہے جس کے اثرات بھارت میں نمایاں طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ بھارت کے مختلف حصوں میں گیس اور پیٹرول کی قلت کی اطلاعات ہیں جس کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    بھارت کے کئی شہروں میں گیس سلنڈرز کے حصول کے لیے طویل قطاریں دیکھنے میں آ رہی ہیں، جبکہ متعدد پٹرول پمپوں پر صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے پولیس تعینات کر دی گئی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہو چکی ہے اور ایندھن کی عدم دستیابی نے معمولات زندگی کو مفلوج کر دیا ہے۔توانائی بحران کے باعث بعض علاقوں میں لوگ شہروں سے دیہات کی جانب نقل مکانی پر مجبور ہو رہے ہیں، جہاں وہ متبادل ذرائع جیسے لکڑی کے استعمال سے گزارا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال کسی حد تک کورونا لاک ڈاؤن کے دوران ہونے والی اندرونی ہجرت کی یاد دلا رہی ہے، جب لاکھوں مزدور شہری علاقوں سے اپنے آبائی علاقوں کی طرف واپس لوٹ گئے تھے۔

    معاشی ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے نے بھارت کی معیشت پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کے لیے یہ نیا بحران مزید مشکلات کا سبب بن رہا ہے۔ گیس اور پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر عالمی سطح پر صورتحال میں بہتری نہ آئی تو بھارت میں توانائی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں مہنگائی، بیروزگاری اور معاشی سست روی میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

  • پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے بعد کرایوں میں اضافہ، ٹرانسپورٹرز کا سخت ردعمل

    پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے بعد کرایوں میں اضافہ، ٹرانسپورٹرز کا سخت ردعمل

    اسلام آباد: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے بعد ملک بھر میں ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، جہاں پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس نے کرایوں میں نمایاں اضافہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    صدر پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس ملک شہزاد کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ ناقابل قبول ہے اور اس کے نتیجے میں ملک میں مہنگائی کا شدید طوفان آئے گا۔ انہوں نے حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ غلط فیصلوں کے باعث لاکھوں افراد بیروزگار ہو رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر فوری طور پر پالیسیوں پر نظرثانی نہ کی گئی تو ملک میں ٹرانسپورٹ کا نظام مکمل طور پر مفلوج ہو سکتا ہے۔

    دوسری جانب پاکستان پبلک ٹرانسپورٹ اونر ایسوسی ایشن نے بھی ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے آج ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق ڈیزل کی قیمتوں میں اس قدر اضافہ ہونے کے باوجود موجودہ تناسب سے کرایوں میں اضافہ ممکن نہیں، اور اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ٹرانسپورٹرز کو کاروبار بند کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔

    واضح رہے کہ حکومت نے گزشتہ رات پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تاریخ کا سب سے بڑا اضافہ کیا ہے۔ وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور وزیر خزانہ نے مشترکہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ پیٹرول کی قیمت میں 137 روپے 24 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 458 روپے 41 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ اسی طرح ڈیزل کی قیمت میں 184 روپے 49 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔